Ash-Shu'araa 26:101

Ash-Shu'araa · from ayah 101

26:101

وَلَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ ۟وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ

اور نہ گرم جوش دوست

— Fateh Muhammad Jalandhari

And not a devoted friend.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:101

اور نہ گرم جوش دوست

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نہ کوئی ایسا دوست جو ہمدردی کرسکے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نہ کوئی غم خوار دوست

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ کوئی گرم جوش دوست ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ کوئی دلی دوست۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور نہ کوئی سرگرم دسوت !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ ہی کوئی مخلص دوست جو کہ خالی اظہار ہمدردی ہی کر دے

— مولانا اسحاق مدنی

اور نہ کوئی مخلص دوست ہی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ کوئی مخلص دوست

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور نہ گرم جوش دوست۔

— محترمہ رفعت اعجاز

nor do we have a truly sincere friend.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

nor any true friend.

— Muhammad Taqi Usmani

nor any true friend.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Nor a close friend."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And not a devoted friend.

— Saheeh International

nor a loving friend.

— Muhammad Sarwar

Nor a true friend;

— Muhammad Habib Shakir

Nor any loving friend.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:101

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–104

نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 71 یعنی کوئی ایسا بھی نہیں ہے جو ہمارا غم خوار اور ہمارے لیے کڑھنے والا ہو، چاہے ہم کو چھڑا نہ سکے مگر کم از کم اسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی ہی ہو۔ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ آخرت میں دوستیاں صرف اہل ایمان ہی کی باقی رہ جائیں گی۔ رہے گمراہ لوگ، تو وہ دنیا میں چاہے کیسے ہی جگری دوست رہے ہوں، وہاں پہنچ کر ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں گے، ایک دوسرے کو مجرم ٹھہرائیں گے اور اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے کر ہر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔ اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ۔ (الزخرف۔ آیت 67) " دوست اس روز ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–104

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 99–102

آیت 102-99 پیروئوں کا ماتم اپنی بدبختی پر اوپر والی بات تو پیرو اپنے لیڈروں کو مخطاب کر کے کہیں گے اور یہ باتیں وہ نہایت حسرت واندوہ کے ساتھ خود اپنے آپ کو ملامت اور پانی بدبختی پر ماتم کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہمیں ان مجرموں ہی نے گمراہ کیا۔ اگر یہ نہ گمراہ کرتے تو ہم ہدایت پر ہوتے اور یہ روز بد نہ دیکھتے۔ قرینہ دلیل ہے کہ لفظ مجرمون وہ اپنے لڈیروں کے لئیاستعمال کریں گے۔ فمالنا من شافعین ولا صدیق حمیم یہ اظہار حسرت کے الفاظ ہیں یعنی جن کی شفاعت کی امید پر زندگی بھر ان کی پرستش کی وہ بھی سب ہوا ہوگئے اور جن کا عمر بھر جھنڈا اٹھائے پھرے ان میں سے بھی آج کوئی ہماری حمایت و مدافعت کے لئے نظر نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 100–101

11-1گناہ گار اہل ایمان کی سفارش تو اللہ کی اجازت کے بعد انبیاء صلحاء بالخصوص حضرت نبی کریم ﷺ فرمائیں گے۔ لیکن کافروں اور مشرکوں کے لئے سفارش کرنے کی کسی کو اجازت ہوگی نہ حوصلہ، اور نہ وہاں کوئی دوستی ہی کام آئے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 99–101

20: مجرموں سے یہاں مراد وہ بڑے بڑے سردار ہیں جو کفر پر قائم رہے، اور انہیں دیکھ کر دوسروں نے بھی کفر اختیار کیے رکھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–102

وازلفت ……من المومنین (98) جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 94–101

1 یعنی بت اور بت پرست اور ابلیس کا سارا لشکر، سب کو دوزخ میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔ وہاں پہنچ کر آپس میں جھگڑیں گے۔ ایک دوسرے کو الزام دے گا اور آخرکار اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے کہ واقعی ہم سے بڑی سخت غلطی ہوئی کہ تم کو (یعنی بتوں کو یا دوسری چیزوں کو جنہیں خدائی کے حقوق و اختیار دے رکھے تھے) رب العالمین کے برابر کردیا۔ کیا کہیں یہ غلطی ہم سے ان بڑے شیطانوں نے کرائی، اب ہم اس مصیبت میں گرفتار ہیں نہ کوئی بت کام دیتا ہے نہ شیطان مدد کو پہنچتا ہے۔ وہ خود ہی دوزخ کے کندے بن رہے ہیں۔ کوئی اتنا بھی نہیں کہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کر دے یا کم ازکم اس آڑے وقت میں کوئی دوست دلسوزی و ہمدردی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 99–105

اب آگے انباء الرسل کا تذکرہ پھر اسی زمانی ترتیب سے ہو رہا ہے جس ترتیب سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر رکوع کے آخر میں دو آیات ترجیعی کلمات کے طور پر بار بار دہرائی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 99–102

69 مجرموں اور جہنمیوں کے اس قول اور اس آرزو کا ذکر بھی قرآن میں متعدد بار آیا ہے اور ساتھ ہی اس کا جواب بھی مذکور ہے۔ یعنی ان کو اگر دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہ وہی کام کریں گے جیسے پہلے کرتے رہے ہیں (16: 28 ( کیونکہ انسان کی تو عادت ہی یہ ہے کہ مشکل کے وقت جب جان پر بن جاتی ہے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ ہی کو یاد کرتا ہے اور دوسرے معبودوں کو بھول جاتا ہے۔ لیکن جب اللہ اسے مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو بعد میں وہ پھر اللہ کو بھول جاتا ہے اور اپنے معبودوں کو ہی پکارنے لگ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 97–101

69۔ (جو رہائی دلانا تو خیر دور رہا، کم ازکم ایسا ہی ہوتا کہ خالی ہمدردی ودلسوزی ہی کی بات کرلے) ان الفاظ میں اہل دوزخ کی بےبسی کا پورا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا صدیق اور نہ کوئی سچا دوست ہے۔ شافعین کی جمع اور صدیق کو مفرد ذکر کرنے کی چند وجوہ ہوسکتی ہیں (1) عام طور پر سفارشی تو بہت ہوجاتے ہیں اور سچا دوست کم ہی ملتا ہے۔ (2) جتنی کوشش متعدد سفارشی کرتے ہیں ان سب سے زیادہ لگن کے ساتھ ایک دوست کوشش کرتا ہے۔ (3) صدیق کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ وزن فعول و فعیل کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور متعدد پر بھی۔ (4) صدیق اصل میں جنبین اور صہیل کی طرح مصدر ہے (بطور صفت استعمال کرلیا گیا ہے اور مصدر میں واحد جمع کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ مصادر کی جمع نہیں آتی۔ مترجم) ۔ حمیم۔ قریب قاموس میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 100–101

(100۔ 101) سو اب فرشتوں انبیاء کرام ؑ اور صالحین میں سے نہ کوئی ہمارا سفارشی ہے جو ہمیں چھڑا لے اور نہ کوئی قربت والا مخلص دوست ہے کہ ہمارے مسئلہ میں دل سوزی ہی کرے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا صَدِيْقٍ حَمِيْمٍ : ”صَدِيْقٍ“ جو دوستی میں سچا ہو اور ”حَمِيْمٍ“ جسے دوست کی وجہ سے گرمی آتی ہو، یعنی دلی دوست۔ ”حَمِيْمٍ“ کا معنی رشتہ دار بھی ہے۔ یعنی کفار کا قیامت کے دن کوئی دلی دوست ہوگا نہ رشتے دار، سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، جب کہ مومنوں کے دوست انبیاء، فرشتے اور تمام مومن ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ) [ الزخرف : 67 ] ”سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 100–104

فما لنا من شافعین ہمارے کوئی شفیع نہیں فرشتوں میں سے انبیاء میں سے اور مومنوں میں سے۔ ولا صدیق حیم اور نہ کوئی مشفق دوست ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ کہا کرتے تھے : بھلائیوں کو لازم پکڑو کیونکہ وہ دنیا و آخرت کا سامان ہیں کیا تو جہنمیوں کا قول نہیں سنتا۔ فما لنا من شافعین۔ ولا صدیق حمیم۔ زمحشری نے کہا : شافع کی جمع ذکر کی کیونکہ شفاعت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور صدیق کو واحد ذکر کیا کیونکہ وہ تعداد میں تھوڑے ہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ انسان جب ظالم کے ظلم کا شکارہو تو اس کے شہر کی بڑی جماعت اس کی سفارش کے لیے جاتی ہے مقصد اس پر رحم و شفقت کا اظہارہوتا ہے اگرچہ اکثر کو پہلے اس کی پہچان تک نہ ہو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 99–104

1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فما لنا من شافعین “ سے مراد کہ نہ آسمان والوں میں سے کوئی ہماری سفارش کرنے والا اور آیت ” ولا صدیق حمیم “ اور نہ زمین والوں میں سے کوئی غمخوار دوست ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا صدیق حمیم “ سے مراد ہے کوئی دوست شفقت کرنے والا نہیں ہے جو سفارش کرے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فلو ان لنا کرۃ “ یعنی اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا دنیا کی طرف آیت ” فنکون من المؤمنین “ تو ہم ایمان والے ہوتے یہاں تک کہ ہمارے لیے بھی سفارش حلال ہوجاتی جیسے ان مومنین کے لیے حلال ہوئی واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 93–105

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 100–102

42:۔ کاش ! ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیجا جائے تو ہم اخلاص اور صدق نیت سے ایمان لائیں، توحید کو مانیں اور شرک سے دور بھاگیں اور پھر ہمیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے تو ہم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوں۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ ان دونوں آیتوں کی تفسیر گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–104

ربط آیات اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا صَدِيْقٍ حَمِيْمٍ۝ 101 صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 95–105

ترکیب : اتبعک جملہ حال ہے ضمیر نؤمن سے ارذلون جمع ارذل بمعنی ذلیل ماعلمی ظاہر میں ما استفہامیہ سے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے وعلمی اس کی خبر اور ممکن ہے کہ نافیہ ہو بما کی ب دونوں تقدیر پر علمی سے متعلق ہے دوسری تقدیر پر خبر کو مضمر ماننا پڑے گا بعد ای بعد انجائہ۔ تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا عبرتناک قصہ بیان فرماتا ہے۔ اگرچہ سورة اعراف و سورة ہود میں یہ قصہ مشرحاً بیان ہوچکا ہے لیکن چونکہ اسلوب قرآن مؤرخانہ نہیں کہ جن کے نزدیک مکرر بیان کرنا عیب ہے بلکہ واعظانہ کہ جن کے نزدیک عبرتناک قصوں کو بمقتضائے مقام و حالات قوم مکرر بیان فرمانا عین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 100–102

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَ ۔ وَلاَ صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ ۔ فَلَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَـکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 100 تا 102) (تو نہ اب کوئی ہمارا سفارشی ہے۔ اور نہ کوئی غمخوار دوست۔ پس اگر ہمارے اختیار میں ہوتا دنیا میں واپس جانا تو ہم اہل ایمان میں سے ہوتے۔ ) حسرت کا اظہار یہ اظہارِ حسرت کے الفاظ ہیں، یعنی ہم دنیا میں جن کی شفاعت کی امید لگائے بیٹھے تھے اور جن کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا دامن تھام لینے سے آخرت میں کسی غم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آج ان میں سے کوئی بھی یہاں موجود نہیں، سب ہوا ہوگئے۔ کوئی بھی سفارش کے لیے زبان کھولنے والا نہیں۔ جن کا عمر بھر جھنڈا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–102

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا انتہائی مایوسی کے عالم میں دنیا میں پلٹ جانے کا مطالبہ کرنا : جہنمی جب جہنم میں اپنے بڑوں اور معبودوں کے ساتھ جھگڑا کریں گے تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑائیں گے کہ خواہ مخواہ ہم پر الزام لگاتے ہو تم تو خود گمراہ تھے۔ (الصّٰفٰت : 32) برے مرید، ور کرر اور مقتدی حسرت کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں گے کہ ہائے افسوس ! جن کو ہم سفارشی سمجھتے رہے آج ہمارے لیے سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جن کو ہم اپنا بہی خواہ اور مخلص سمجھتے تھے آج کوئی خیر خواہی اور بھائی چارہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ کاش ! ہمیں ایک بار دنیا میں واپس جانے کا موقع مل جائے تو ہم سب کو چھوڑ کر ایک رب پر ایمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

101: وَلَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ (نہ کوئی گہرا دوست) جیسا کہ ہم دوست آج دیکھ رہے ہیں کیونکہ آخرت میں ایمان والوں کی دوستی ہوگی اہل جہنم میں باہمی عداوت ہوگی جیسا اس ارشاد میں ہے : الْاَخِلَّائُ یومئذ بعضھم لبعض عدوٌ الا المتقین ] الزخرف : 67[ نمبر 2۔ ہمارے لئے کوئی سفارشی نہیں اور نہ گہرا دوست ہے ان شفعاء میں سے جن کو ہم دوست و سفارشی خیال کرتے تھے کیونکہ مشرکین کا اپنے اصنام کے متعلق اعتقادیہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ سفارشی بنیں گے اور ان کی دوستیاں شیاطین الانس سے تھی۔ الحمیمؔ یہ الاحتمام سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی اہتمام ہے حمیم اس شخص کو کہتے ہیں جو اس چیز کو اہمیت دے جس کو تم دیتے ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 101–103

101۔ ولاصدیق حمیم۔ یا کوئی قریبی رشتہ دار جو ہماری سفارش کرے گا، کفار لوگ اس وقت کہیں گے جب مومنین کی سفارش فرشتے انبیاء ، اور دیگر مومنین کریں گے ۔ صدیق وہ دوست جو محبت میں سچاہو دین کی شرط کے ساتھ۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ فرماتے ہیں ن کہ میں نے خود حضرت محمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی جنت کے اندر چلاجائے گا، اور کہے گامیرافلاں دوست کا کیا ہوا ؟ اس وقت اس جنتی کادوست جہنم میں ہوگا۔ اللہ حکم دے گا، اس کے دوست کو دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جاؤ اس کے بعد جو لوگ دوزخ میں رہ جائیں گے وہ کہیں گے ، فمالنا من شافعین ولاصدیق حمیم۔ حسن کا قول ہے کہ اپنے مومن دوستوں کی تعداد زیادہ رکھو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 90–101

(90 تا 101) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کئے جنت کو سنوار کر ان پرہیز گاروں کے روبرو لایا جائے گا اور دوزخ کو گمراہوں کے سامنے کیا جائے گا اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل ہل جاویں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جاویں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے تو بہکنے والے بہکانے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ برابر کرتے تھے ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ اور کہیں گے نہیں بہکایا ہم کو راہ نیک سے مگر انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 99–103

58 نشانی عبرت میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم کی اس سرگزشت اور ان کی اپنی قوم کے ساتھ اس مدلل کلام میں بڑی بھاری نشانی ہے جس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مثلا یہ کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اور یہ ایسی ٹھوس اور واضح حقیقت ہے جو عقل و نقل اور فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ (ابن کثیر، مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو اس قصہ میں عقل و فکر کے دریچوں کو وا کرنے والی بڑی بھاری نشان ہے جو واضح کرتی ہے کہ توحید خداوندی ہی اصل دین ہے جو عقل و فطرت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:101) حمیم : الحمیم کے معنی سخت گرم پانی کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے وسقوا ماء حمیما (47:15) اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ گہرے اور قریبی دوست کو بھی حمیم کہا جاتا ہے کہ اپنے دوست کی حمایت میں بھڑک اٹھتا ہے اور گرم جوشی دکھاتا ہے چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا یسئل حمیم حمیما (70:10) اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں حال نہ ہوگا۔ صدیق حمیم۔ گہرا دوست، گرم جوش دوست۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–101

(ف 2) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کیے ہیں جنت قریب لائی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ سامنے ظاہر کی جائے گی اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل دہل جائیں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن یہ کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جائیں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا۔ جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے توبہکنے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ اے جھوٹے معبودو تم کو ہم عبادت میں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے اور ہم کو کسی نے گمراہ نہیں کیا تھا مگر ان بدکاروں نے پھر اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–102

[18] لیکن ان کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے۔ چناچہ سورة انعام آیت نمبر 28 میں ارشاد ہوا ہے کہ '' اگر یہ واپس بھیج دئیے جائیں تو پھر بھی یہ وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔ اور یقینا یہ جھوٹے ہیں ''۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 92–102

ف 6۔ یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ہوگئی، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہیں گے اس وقت تو ہمارا کوئی غم خوار دوست بھی موجود نہیں : 101۔ ان لوگوں کی حسرت ویاس کی داستان ابھی جاری ہے جو اپنی کہانی اپنی زبانی کر رہے ہیں اور گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرکے خون کے آنسو بہا رہے ہیں اور رو رو کر ہلاک ہوئے جا رہے ہیں ۔ اس جگہ لفظ (حمیم) استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد کسی شخص کا ایسا دوست ہے جو اپنے دوست کو پٹتے اور مار کھاتے دیکھ کر جوش میں آئے اور اسے بچانے کے لئے دوڑے ، یہ ان کا حسرت بھرا کلمہ ہے یا ایسی واہی تباہی کی بات ہے جو وہ بک رہے ہیں بلا اللہ تعالیٰ کے پکڑہوؤں کو بھی کوئی چھڑوا سکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–108

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾ The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89] This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

71 That is, "We have no sympathizer either who could feel for us and console us." The Qur'an says that in the Hereafter only the believers will continue to be friends; as for the disbelievers, they will turn enemies of one another even though they had been sworn friends in the world. Each will hold the other as responsible for the doom and try to get him maximum punishment. "Friends on that Day will become enemies of one another except the righteous (who will continue to be friends)." (Az-Zukhruf: 67) .

Read the full tafseer →