Explained with ayahs 53–54
مکار منافق
اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بےقرار ہیں، آپ کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھر بار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ہیں۔ ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
سورة النُّوْر 81
دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل ایمان سے جو اطاعت مطلوب ہے وہ معروف اور معلوم قسم کی اطاعت ہے جو ہر شبہ سے بالا تر ہو، نہ کہ وہ اطاعت جس کا یقین دلانے کے لیے قسمیں کھانے کی ضرورت پڑے اور پھر بھی یقین نہ آسکے۔ جو لوگ حقیقت میں مطیع فرمان ہوتے ہیں ان کا رویہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہوتا۔ ہر شخص ان کے طرز عمل کو دیکھ کر محسوس کرلیتا ہے کہ یہ اطاعت گزار لوگ ہیں۔ ان کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہوتی کہ اسے رفع کرنے کے لیے قسمیں کھانے کی ضرورت پیش آئے۔
سورة النُّوْر 82
یعنی یہ فریب کاریاں مخلوق کے مقابلے میں تو شاید چل بھی جائیں مگر خدا کے مقابلے میں کیسے چل سکتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
فوز و فلاح کے لئے چار شرطیں
وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ اس آیت میں چار چیزیں بیان کر کے فرمایا ہے کہ جو ان چار چیزوں کے پابند ہیں وہ ہی بامراد اور دین و دنیا میں کامیاب ہیں۔
ایک واقعہ عجیبہ
تفسیر قرطبی میں اس جگہ ایک واقعہ حضرت فاروق اعظم کا نقل کیا جس سے ان چاروں چیزوں کے مفہوم کا فرق اور وضاحت ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم ایک روز مسجد نبوی میں کھڑے تھے اچانک ایک رومی دہقانی آدمی بالکل آپ کے برابر آ کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا انا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ، حضرت فاروق اعظم نے پوچھا…
Read the full tafseer →طاعۃ معردنۃ میں تالیف کلام
منافقین کو تمدید و نصیحت
یہ منافقین کو تنبیہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اگر اس چیز سے منہ موڑو گے تو یاد رکھو کہ تم رسول کا کچھ نہیں بگاڑو گے بلکہ اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔ تمہارے معاملے میں روسل کے اوپر صرف اتنی ہی ذمہ داری ہے۔ واللہ کی طرف سے اس پر ڈالی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ وہ اللہ کا دین تمہیں واضح طور پر پہنچا دے۔
سو اس نے اپنا یہ فرض بحسن و خوبی ادا کردیا۔ اب یہ ذمہ داری اس پر نہیں ہے کہ وہ تمہیں ایمان و ہدایت کے راستہ پر چلا بھی دے۔ ایمان و ہدایت کی راہ اتخیار کرنے کی ذمہ داری خود متہاری اوپر ہے اور خدا کے ہاں تمہی کو اس کی جواب دہی کرنی ہے کہ…
Read the full tafseer →54-1یعنی تبلیغ و دعوت، جو وہ ادا کر رہا ہے۔
54-2یعنی تبلیغ و دعوت کو قبول کر کے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کرنا۔
54-3اس لئے کہ صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
40: جب جہاد کا موقع نہ ہوتا تو یہ منافق لوگ منہ بھر بھر کر قسمیں کھاتے تھے کہ اگر حضور اقدس ﷺ نے حکم دیا تو یہ جہاد کے لیے گھروں سے نکل کر کھڑے ہوں گے، لیکن جب وقت آتا تو کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے جہاد سے جان چھڑا لیتے تھے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ تمہاری فرماں برداری کی حقیقت تو سب کو معلوم ہے۔ بارہا تجربہ ہوچکا ہے کہ وقت پڑنے پر تمہاری ساری قسمیں دھری رہ جاتی ہیں۔
Read the full tafseer →(واقسموا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الاالبلغ المبین) (52 : 53)
منافقین رسول اللہ ﷺ کے سامنے آکر قسمیں کھاتے تھے کہ اگر آپ ہمیں لڑنے کے لیے حکم دیں تو ہم ضرور نکلیں گے۔ حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس یقین دہانی کو نہایت ہی حقارت رد فرماتا ہے۔
قل لا تقسموا طاعۃ معروفۃ (24 : 53) ” ان سے کہو ‘ قسمیں نہ کھائو ‘ تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے “ ۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ تم کیسی اطاعت کرتے ہو۔ اور اس اطاعت پر قسمیں اٹھانے کی اب ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات ایسے شخص سے کہی جاتی ہے کہ جس کا جھوٹ معلوم ہو اور وہ مشہور جھوٹاہو۔ کہا جاتا ہے جی بس قسم نہ اٹھائو تم تو معروف و مشہور سچے ہو۔ قسم کی ضرورت…
Read the full tafseer →2 یعنی پیغمبر ﷺ پر خدا کی طرف سے تبلیغ کا جو بوجھ رکھا گیا ہے، سو اس نے پوری طرح ادا کردیا۔ اور تم پر جو بوجھ ڈالا گیا وہ تصدیق و قبول حق کا ہے، اور یہ کہ اس کے ارشاد کے موافق چلو۔ اگر تم اپنی ذمہ داری کو محسوس کر کے اس کے احکام کی تعمیل کرو گے تو کامیابی دارین کی راہ پاؤ گے اور دنیا و آخرت میں خوش رہو گے ورنہ پیغمبر کا کچھ نقصان نہیں، تمہاری شرارت و سرکشی کا خمیازہ تم کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ پیغمبر تو اپنا فرض ادا کر کے عند اللہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے۔ آگے اطاعت رسول کے بعض ثمرات بیان فرماتے ہیں جن کا سلسلہ دنیا ہی میں شروع ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 54 قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ج ”
قبل ازیں سورة النساء کے مطالعہ کے دوران وضاحت کی جا چکی ہے کہ منافقین پر تین امور بہت بھاری تھے۔ یعنی حضور ﷺ کی شخصی اطاعت ‘ جہاد و قتال کے لیے نکلنا اور ہجرت۔ چناچہ آیت زیر نظر میں ان تین میں سے پہلے معاملے یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے بارے میں تاکید کی جا رہی ہے۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ط ”
رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی حد تک ہے اور آپ ﷺ سے اسی ذمہ داری کے سلسلے میں پوچھا جائے گا۔ اب جب آپ ﷺ نے تم لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا کر اپنی یہ ذمہ داری…
Read the full tafseer →82 یعنی رسول اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند ہے اور تم اپنی ذمہ داری کے۔ رسول کی ذمہ داری اتنی ہے کہ وہ تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دے اور وہ اس نے پوری کردی۔ اور تمہارے ذمہ یہ بات ہے کہ تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جس میں تم پس و پیش کر رہے ہو۔ اور تیری قسمیں کھا کھا کر ہی آئندہ کے لئے اطاعت کا یقین دلانا چاہ رہے ہو لیکن یاد رکھو کہ اگر اس کے احکام کی تعمیل کرو گے تو اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی عزت و آرام سے رہو گے اور آخرت میں کامیاب رہو گے۔ اور اگر ایسا نہ کرو گے تو ایسا نہ کرو گے تو اس میں رسول کا کچھ نقصان نہیں۔ تمہاری خباثتوں کا خمیازہ تمہیں ہی بھگتنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →108۔ یعنی رسول کے ذمہ تو تبلیغ تھی وہ اسے پوری طرح ادا کرچکے۔ اب آگے اس پر عمل تمہارا کام تھا۔ تم وہ نہیں کرتے سو خود ہی بھگتو گے، رسول کا اس سے کیا ضرر ؟
109۔ (جو عین اطاعت ہے اللہ کی) بندوں کے پاس اور کوئی ذریعہ ہی احکام الہی ومرضیات الہی کے علم کا نہیں بجز وساطت رسول کے۔ صوفیہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہی سے کشف حقائق ہوتا ہے اور وہی حاصل ہے اہتداء کا۔
110۔ (نہ کہ کسی کو ہدایت پر مجبور کردینا) یہ بات بھی بار بار صاف کرنے کی تھی۔ دنیا کو کثرت سے اس باب میں ٹھوکر لگی ہے۔ (آیت) ” تھتدوا “۔ یعنی ہدایت پاکر خود ہی فائدہ میں رہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51 تا 57
ترجمہ : ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا (عملاً ) مان لینا، یعنی ایسا کہنا ہی مومنین کی شان کے لائق ہے اور ایسے ہی لوگ اس قول کی وجہ سے فلاح پائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ کا خوف رکھے اور اس (کے عذاب) سے ڈرے یَتَّقِہِ یا کے سکون اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی اس کی اطاعت کرے پس ایسے ہی لوگ جنت پاکر بامراد ہوں گے نہایت پختگی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم فرمائیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں، آپ کہہ…
Read the full tafseer →قل آپ کہہ دیجئے ‘ خطاب کی تکرار مفید تاکید ہے۔
اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔
فان تولوا فانما علیہ ما حمل وعلیکم ما حملتم اب اگر تم روگردانی کرو گے تو رسول پر وہ (فرض) لازم ہے جس کا بار اس پر ڈالا گیا ہے (یعنی تبلیغ احکام) اور تم پر وہ (فرض) لازم ہے جس کا بار تم پر ڈالا گیا ہے یعنی تعمیل حکم۔
فَاِنَّمَاشرط محذوف ہے کی جزا ہے اصل مطلب یہ ہے کہ اگر تم نہ مانو گے اور روگردانی کرو گے تو خود نقصان اٹھاؤ گے رسول کا کوئی نقصان نہ ہوگا کیونکہ رسول کے ذمے جو فرض عائد کیا گیا ہے۔ اس کو تو انہوں نے ادا کردیا اور تم پر جو فریضہ لازم کیا گیا ہے تم نے اس کو ادا نہیں کیا اس لئے نقصان…
Read the full tafseer →(54) اور آپ حضرت عثمان ؓ سے فرما دیجیے کہ فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اور سنن و احکام میں رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کرو پھر اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تو سمجھ لو کہ رسول کے ذمہ تو وہی تبلیغ کا کام ہے اور تمہارے ذمہ اطاعت اور فرمانبرداری کا کام ہے۔
سو اگر تم نے احکام اللہ میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرلی تو گمراہی سے نکل کر سیدھے راستے پر جا لگو گے اور رسول کے ذمہ احکام خداوندی صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : یعنی صرف اللہ کا نہیں بلکہ اللہ کا بھی اور اس کے ساتھ رسول کا بھی حکم مانو۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کا کہنا ماننا یہی ہے کہ ان کی سنت کی پیروی کی جائے۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا : ”تَوَلَّوْا“ اصل میں ”تَتَوَلَّوْا“ ہے، جو مضارع میں سے مخاطب کا صیغہ ہے، معنی ہے اگر تم پھر جاؤ۔ یہ فعل ماضی سے غائب کا صیغہ نہیں، جس کا معنی ہے اگر وہ پھرجائیں، کیونکہ آگے انھیں مخاطب کیا جا رہا ہے : (فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ) یعنی اگر تم کسی طرح کی بھی حکم عدولی کرو گے تو رسول اللہ ﷺ کا کچھ نقصان نہیں۔…
Read the full tafseer →قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ( کہہ دیجئے ! تم اللہ اور رسول کی طاعت کرو) التفات کی خاطر خطاب سے غائب کی طرف کلام کو موڑ دیا یہ ان کے روندنے کیلئے بلیغ انداز ہے۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَاحُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّاحُمِّلْتُمْ (اگر تم منہ موڑ لو تو رسول پر وہ لازم ہے جس کا بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا بوجھ تم پر ڈالا گیا) مراد یہ ہے کہ اگر تم طاعت سے اعراض کرو گے تو ان کو کچھ نقصان نہ پہنچے گا بلکہ تمہارا اپنا نقصان ہوگا۔ رسول کی ذمہ داری اتنی ہے جتنی اس پر ڈالی گئی اور ادائے رسالت کا ان کو مکلف بنایا گیا۔ جب انہوں نے پیغام کو پہنچا دیا تو…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فانما علیہ ما حمل یعنی وہ تم کو پہنچادیں جو پیغام ان کو دے کر بھیجا گیا ہے آیت وعلیکم ما حملتم اور تم پر لازم ہے کہ تم اس کی اطاعت کرو اور تم عمل کرو جس بات کا وہ تم کو حکم دیں۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن الجیر سے روایت کیا اور انہوں نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا اگر مجھ پر ایک بدکار حاکم ہو اور میں اس کے ساتھ گمراہ لوگوں کو پاؤں تو کیا میں اس کے لیے قتال کروں یا نہیں جبکہ میں نہ اس سے محبت رکھتا ہوں اور نہ اس کی حمایت کرتا ہوں تو انہوں نے فرمایا قتال کرو اور گمراہ لوگوں سے جہاں تم ان کو پاؤ لیکن امام کے ذمہ وہ ہے جو اس پر لازم کیا گیا…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] اَطِيْعُوا [ تم لوگ اطاعت کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَاَطِيْعُوا [ اور اطاعت کرو ] الرَّسُوْلَ ۚ [ ان رسول کی ] فَاِنْ [ پھر اگر ] تَوَلَّوْا [ تم لوگ روگردانی کرتے ہو ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] عَلَيْهِ [ ان پر (ذمہ داری) ہے ] مَا [ اس کی جو ] حُمِّلَ [ ان پر لازم کیا گیا ] وَعَلَيْكُمْ [ اور تم لوگوں پر (ذمہ داری) ہے ] مَّا [ اس کی جو ] حُمِّلْتُمْ ۭ [ تم پر لازم کیا گیا ] وَاِنْ [ اور اگر ] تُطِيْعُوْهُ [ تم لوگ اطاعت کرو گے ان کی ] تَهْتَدُوْا ۭ [ تو ہدایت پاؤ گے ] وَمَا [ اور نہیں ہے ] عَلَي الرَّسُوْلِ [ ان رسول ﷺ پر (کوئی ذمہ داری)] اِلَّا [ مگر ]…
Read the full tafseer →مزید فرمایا کہ اے منافقو ! اگر تم فرمانبر داری سے بچو اور رو گردانی کرو تو اس میں رسول اللہ ﷺ کا کچھ نقصان نہیں آپ ﷺ کے ذمہ جو بار ڈالا گیا ہے (یعنی تبلیغ کا کام) آپ اس کے ذمہ دار ہیں اور تم جانتے ہو کہ آپ نے اسے پورا کردیا اور تم پر جو بار ڈالا گیا تو اس کے ذمہ دار تم ہو یعنی تمہارے ذمہ فرمانبر داری ہے تم فرمانبر داری نہ کرو گے تو اپنا برا کرو گے۔
مزید فرمایا (وَاِِنْ تُطِیعُوْہُ تَہْتَدُوْا) اور اگر تم سچے دل سے اخلاص کے ساتھ اطاعت کرو گے تو راہ حق پا جاؤ گے۔ (وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِِلَّا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ ) اور رسول کے ذمہ اللہ تعالیٰ کا پیغام واضح طور پر پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین
قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…
Read the full tafseer →56:۔ ” قل اطیعوا الخ “ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا آپ ان منافقین سے فرما دیں اگر واقعی تم مخلص ہو تو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول (علیہ السلام) کی دل و جان سے اطاعت کرو۔ ” فان تولوا الخ “ لیکن اگر تم نے خدا اور رسول کی اطاعت سے روگردانی کی تو اس سے تم صرف اپنا ہی نقصان کرو گے اور کسی کا کچھ نہیں بگاڑو گے ” تولوا “ جمع مذکر مخاطب فعل مضارع کا صیغہ ہے ایک تاء بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے۔ ای فان تتولوا محذف احدی التائین (قرطبی ج 12 ص 296) ۔ یرید فان تتولوا فما ضررتموہ وانما ضررتم انفسکم (مدارک ج 3 ص 116) ۔ کیونکہ پیغمبر (علیہ السلام) صرف اس ذمہ داری کے جوابدہ ہیں جو ان کے ذمہ لگائی گئی ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ربط آیات :
پہلے اللہ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور پھر منافقوں کی مذمت بیان کی کہ جب کسی تنازعہ کے فیصلے کی خاطر انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ ہاں ، اگر انہیں یقین ہو کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا ، تو اطاعت کے انداز میں دوڑ کر آتے ہیں۔ اور اگر ان کی توقع اس کے برخلاف ہو تو دربار نبوی میں آنے سے ٹال مٹول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی ذہنیت کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یا تو ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہوگی ، یا اللہ کی توحید ، نبی کی رسالت یا دین کے متعلق شک ہوگا اور یا پھر انہیں اللہ اور اس کے رسول سے ناانصافی کی توقع ہوگی۔ فرمایا ایسے شخص سے بڑھ…
Read the full tafseer →قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ 0ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْہِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ 0ۭ وَاِنْ تُطِيْعُوْہُ تَہْتَدُوْا 0ۭ وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ 54
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں…
Read the full tafseer →قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَاحُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ط وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَھْتَدُوْا ط وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (النور : 54)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، پس اگر تم روگردانی کرو گے تو یاد رکھو کہ رسول پر صرف وہ ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی ہے۔ اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی ہے اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ )
منافقین کو تنبیہ
یہ منافقین کو تنبیہ ہے کہ تم نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : مخلص مسلمانوں کے بعد ایک دفعہ پھر منافقین کا تذکرہ۔
رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقوں کی یہ بھی عادت تھی کہ جب مسلمانوں پر مشکل وقت گزر جاتا تو منافق اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر باتکرار قسمیں اٹھا کر آپ ﷺ اور مسلمانوں کو یقین دلاتے کہ آئندہ کوئی مشکل وقت آیا تو ہم ہر صورت آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اس پر رسول اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ منافقین سے فرمائیں کہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت نہیں تم نیکی کے کاموں میں سمع و اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ جس نیت کے ساتھ کروگے اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔ ان سے یہ بھی فرمائیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے…
Read the full tafseer →انکی طاعت سے اعراض پر آپ کا کچھ نقصان نہ ہوگا :
54: قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ( کہہ دیجئے ! تم اللہ اور رسول کی طاعت کرو) التفات کی خاطر خطاب سے غائب کی طرف کلام کو موڑ دیا یہ ان کے روندنے کیلئے بلیغ انداز ہے۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَاحُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّاحُمِّلْتُمْ (اگر تم منہ موڑ لو تو رسول پر وہ لازم ہے جس کا بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا بوجھ تم پر ڈالا گیا) مراد یہ ہے کہ اگر تم طاعت سے اعراض کرو گے تو ان کو کچھ نقصان نہ پہنچے گا بلکہ تمہارا اپنا نقصان ہوگا۔ رسول کی ذمہ داری اتنی ہے جتنی اس پر ڈالی گئی اور ادائے رسالت کا ان…
Read the full tafseer →54۔ قل اطیعوا اللہ واطیعوالرسول فان تولوا، ، اگر تم اللہ ورسول کی اطاعت سے روگردانی کرو گے، فانما ماحمل، ، جس کا رسول کو مکلف بنایا گیا ہے اور جس کا حکم انہیں دیاگیا یعنی تبلیغ الرسالہ کا۔ وعلیکم ماحملتم اور ت میں جس کا مکلف بنایا گیا یعنی اس کے حکم کو قبول کرنا اور اس کی اطاعت کرنا، وان تطیعوہ تھتدوا وماعلی الرسول الاالبلاغ المبین۔ واضح تبلیغ، ان کے ذمہ کھول کر بیان کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
53۔ 54:۔ منافقوں کے ذکر میں پکے مسلمانوں کا تذکرہ فرما کر اس آیت میں منافقوں کی ایک اور عادت کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جو منافق لوگ اللہ کے رسول کے فیصلہ سے گھبراتے تھے وہ پھر مسلمانوں میں اپنا اعتبار جمانے کے لیے سخت سخت اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ معاملات کے فیصلے تو درکنار ہم کو لڑائی پر جانے اور جان دے دینے کا حکم ہو تو بھی ہم حاضر ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان سے کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ ‘ تمہاری حکم برداری اور تمہارے عملوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(آیت نمبر (53
اللہ تبارک تعالیٰ ان منافقین کا حال بیان کرتا ہے جو جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں نکلے اور پیچھے گھروں میں بیٹھ رہے ‘ نیز ان کا حال بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں مرض اور ضعف ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں۔ : (لئن امرتھم) ” البتہ اگر آپ انہیں حکم دیں “ تو وہ ضرور نکلیں گے۔ “ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل لا تقسموا) ” کہہ دیجیے ! نہ قسمیں کھاؤ۔ “ یعنی ہمیں تم سے قسمیں اٹھوانے کی اور تمہارے عذروں کو توضیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں ہمیں آگاہ فرما دیا ہے اور تمہاری اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
قول باری ہے : (واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن امرتھم لیخرجن قل لا تقسموا طاعۃ معروفۃ) (یہ منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ” آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں۔ “ ان سے کہو ” قسمیں نہ کھائو، تمہاری طاعت کا حال معلوم ہے “۔ مجاہد کا قول ہے ۔ یہ تمہاری زبانی طاعت ہے جس کا حال معلوم ہے، یہ عقیدے کی بنیاد پر طاعت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے ان کی جھوٹی قسموں کی خبر دی ہے۔ ایک قول کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ طاعت اور بھلی بات تمہاری ان قسموں سے بہتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
116 رسول کے ذمے تبلیغِ حق اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رسول کے ذمے بس وہی کچھ ہے جسکی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی "۔ یعنی حق کی تبلیغ جو کہ انہوں نے فرما دی۔ اور اپنی ذمہ داری سے وہ پوری طرح سبکدوش ہوگئے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ سو تم لوگ اگر سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرو گے تو خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا۔ اور اگر تم نے اعراض و روگردانی سے کام لیا تو خود اپنا ہی نقصان کرو گے۔ رسول کا بہرحال اس میں کوئی نقصان نہیں کہ انکے ذمے تبلیغِ حق کا جو کام تھا وہ انہوں نے پورا کرلیا۔ اب اگر تم لوگوں نے رسول کی اطاعت نہ کی تو خدا تعالیٰ کے یہاں جوابدہی تم ہی لوگوں کو کرنی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب
تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
(نفاذ اسلام اہل ایمان کا کام ہے)
اہل ایمان کی شان تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ ورسول کے مطابق فیصلہ قبول کرنے کا کہا جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہمیں منظور ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں یعنی نفاذ اسلام یا اسلامی قانون کی راہ میں صرف لوگوں کی منافقت حائل ہوتی ہے اور اہل ایمان فورا عملی زندگی میں اسلامی قانون اپناتے ہیں اور اسلامی قانون اپنانے اور اختیار کرنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔
(نجات ابدی کی چار شرائط)
کہ یہ اصولی بات ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی یعنی فرائض ادا کیے ” ورسولہ ‘ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع کیا ۔ (آیت) ” ویخش اللہ “ اور گذشتہ اعمال…
Read the full tafseer →2 ۔ صرف اللہ کا نہیں بلکہ اللہ کا بھی اور اس کے ساتھ رسول ﷺ کا بھی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کا کہنا ماننا یہی ہے کہ ان کی سنت کی پیروی کی جائے۔ 3 ۔ یعنی رسول ﷺ کی ذمہ داری تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دینا تھی۔ سوا اس نے یہ پیغام پہنچا دیا۔ اب اس پر عمل کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اگر تم اس سے پیٹھ پھیرتے ہو تو اپنا انجام خود سوچ لو۔ 4 ۔ اس کے بغیر تمہیں ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →(24:54) فانما علیہ ما حمل۔ ای علی الرسول علیہ الصلوۃ والسلام۔ اس کے ذمہ ہے۔ حمل۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب تحمیل مصدر۔ اٹھوایا گیا۔ بوجھ رکھا گیا۔ اس کے ذمہ وہی بوجھ ہے جو اس پر بار کیا گیا۔ یعنی وہ اسی کا ذمہ دار ہے جس کا وہ مکلف کیا گیا جس کا بار اس پر رکھا گیا ۔ ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔
ان یطیعوہ۔ شرط۔ تھتدوا جواب شرط۔ ہ ضمیر کا مرجع الرسول ہے۔ وما علی الرسول۔ میں ما نافیہ ہے۔
البلاغ المبین۔ موصوف وصفت۔ التبلیغ الموضح۔ (خدائی احکام کا ) وضاحت کے ساتھ (مخاطبین تک) پہنچادینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 :
دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 :
جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(ف 1) حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ جو منافق لوگ اللہ کے رسول کے فیصلہ سے گھبراتے تھے وہ پھر مسلمانوں میں اپنا اعتبار جمانے کے لیے سخت سخت اللہ کی قسمیں کھاکرکہتے تھے کہ ہم کو لڑائی پر جان اور جان دینے کا حکم ہو تو بھی ہم حاضر ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ، تمہاری حکم برداری اور تمہارے عملوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے پھر فرمایا اے محبوب ان لوگوں سے کہہ دو کہ کہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی حکم برداری کریں کیونکہ اللہ تعایل کے رسول کا کام اللہ کے پیغام کو پہنچادیتا ہے اور امت کے لوگوں کا کام اس کے موافق عمل کرنا ہے جب اللہ کے رسول اپنا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
[53] یہاں ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی دل میں تو ایمان کسی منافق کے بھی نہیں لیکن ان کھلم کھلا حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں نے تو ایمان ظاہری کا پردہ بھی ہٹا دیا۔
Read the full tafseer →(ف 1) قرآن حکیم نے بار بار اطاعت رسول کو بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ اس اسوہ کامل کی تقلید کرے اور اپنی زندگی کے لئے مشکوۃ نبوت سے کسب انوار کرے ، کیونکہ پیغمبر ہی دنیا میں محاسن اور کمالات کا پیکر ہوتا ہے ، اور اس سے بےنیازی اللہ کے دین سے کفر کی مترادف ہے ، چناچہ (آیت) ” ان تطیعوہ تھتدوا “۔ کہہ کر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دنیا میں اللہ کی فرمانبرداری اور اس کی اطاعت شعاری کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ عظمت رسول کو سمجھو ، اور اس کے مقام رفیع سے واقف ہو ، تاکہ تم ہدایت حاصل کرسکو ۔
Read the full tafseer →(54) اے پیغمبر آپ ان سے فرما دیجئے کہ تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر تم لوگ روگردانی کروگے تو سمجھ لو کہ رسول پر جو بار رکھا گیا ہے وہ صرف اس کا ذمہ دار ہے اور تم پر جو بوجھ رکھا گیا ہے تم اس کے ذمہ دار ہو اور اگر تم نے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کی اور آپ کی اطاعت قبول کرلی تو تم سیدھی راہ پالوگے اور ہدایت یافتہ ہوجائوگے اور بہرحال پیغامبر کی ذمہ داری تو پیغام کو صاف طورپر پہنچا دینا ہے یعنی کام کی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا عہد کرو۔ اور اگر تمہاری یہی کافرانہ اور منافقانہ روش رہی تو رسول کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
ف 6۔ اس لئے حضور نبوی میں مقدمہ لانا پسند نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کے پیروؤں کے لئے غلبہ تمکن کی بشارت :
88۔ دودھ سفید ہوتا ہے ‘ صحیح ہے لیکن ہر سفید چیز کو دودھ نہیں کہا جاسکتا بلاشبہ ایمان والوں کو خلافت دیئے جانے کی پیش گوئی زیر نظر آیت میں دی گئی ہے لیکن اس کا مفہوم یہ سمجھنا کہ جس شخص کو حکومت وفرمانروائی مل گئی وہ ایماندار ہوگیا کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے ۔ لیکن افسوس کہ بعض لوگوں نے اس کا یہی مطلب سمجھا اور انہوں نے ہر اس شخص کو سچا مسلمان سمجھا اور ہر اس ملت کو ملت اسلامی تصور کرلیا جس شخص کو حکومت و بادشاہی دیکھی جھٹ انکو مسلمان فرمانبردار سمجھ لیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے دین کے ہر رکن کی تاویل کی اور ہر کفر کو اسلام اور اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
Four conditions for success and victory
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّـهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿52﴾
And whoever obeys, Allah and His messenger and has awe of Him and observes Tagwa of Him, then such people are the victorious. [ 52]
In this verse it is declared that those who bind themselves to follow these four things are the ones who are successful and victorious in this world and the Hereafter.
An astonishing incident
An incident of Sayyidna ` Umar ؓ is reported in Tafsir Qurtubi, which explains the difference between these four things and puts…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
81. The verse may also mean that the obedience expected of the believers is of recognized and well known type, which is above every kind of suspicion, and not such as may need swearing of oaths to convince others of its sincerity. Their conduct is manifest and everybody who comes into contact with them feels that they are truly obedient to Allah and His Prophet.
82. That is, you might succeed in deceiving the people, but you cannot deceive Allah, Who is aware of everything, open or hidden, even of your innermost motives and intentions.
Read the full tafseer →