عروج اسلام لازم ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے وعدہ فرما رہا ہے کہ آپ کی امت کو زمین کا مالک بنا دے گا، لوگوں کا سردار بنا دے گا، ملک ان کی وجہ سے آباد ہوگا، بندگان رب ان سے دل شاد ہوں گے۔ آج یہ لوگوں سے لرزاں وترساں ہیں کل یہ باامن واطمینان ہوں گے، حکومت ان کی ہوگی، سلطنت ان کے ہاتھوں میں ہوگی۔ الحمد للہ یہی ہوا بھی۔ مکہ، خیبر، بحرین، جزیرہ عرب اور یمن تو خود حضرت محمد ﷺ کی موجودگی میں فتح ہوگیا۔ حجر کے مجوسیوں نے جزیہ دے کر ماتحتی قبول کرلی، شام کے بعض حصوں کا بھی یہی حال ہوا۔ شاہ روم ہرقل نے تحفے تحائف روانہ کئے۔ مصر کے والی نے بھی خدمت اقدس میں تحفے بھیجے، اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
سورة النُّوْر 83
جیسا کہ اس سلسلہ کلام کے آغاز میں ہم اشارہ کرچکے ہیں، اس ارشاد سے مقصود منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو خلافت عطا فرمانے کا جو وعدہ کیا ہے اس کے مخاطب محض مردم شماری کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جو صادق الایمان ہوں، اخلاق اور اعمال کے اعتبار سے صالح ہوں، اللہ کے پسندیدہ دین کا اتباع کرنے والے ہوں، اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو کر خالص اللہ کی بندگی و غلامی کے پابند ہوں۔ ان صفات سے عاری اور محض زبان سے ایمان کے مدعی لوگ نہ اس وعدے کے اہل ہیں اور نہ یہ ان سے کیا ہی گیا ہے۔ لہٰذا وہ اس میں حصہ دار ہونے کی توقع نہ رکھیں۔
بعض لوگ خلافت کو محض حکومت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
خلاصہ تفسیر
(اے مجموعہ امت) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں (یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے نور ہدایت کا کامل اتباع کریں) ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے) زمین میں حکومت عطا فرماوے گا جیسا ان سے پہلے (اہل ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی (مثلاً بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں پر غالب کیا پھر ملک شام میں عمالقہ جیسی بہادر قوم پر ان کو غلبہ عطا فرمایا اور مصر و شام کی حکومت کا ان کو وارث بنایا) اور (مقصود اس حکومت دینے سے یہ ہوگا کہ) جس دین کو (اللہ تعالیٰ نے) ان کے لئے پسند کیا ہے (یعنی اسلام جیسا کہ دوسری آیت میں ہے رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ…
Read the full tafseer →رسول کے پیرئو وں کے لئے غلبہ و تمکن کی بشارت
یہ منافقین کے اس شک پر ضرب لاگئی ہے جو اسلام کے مستقبل سے متعلق اپنے دلوں میں وہ رکھتے تھے اور جس کی طرف اوپر امرادقابوا کے الفاظ سے اشارہ گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ پوری راستبازی کے ساتھ ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کرلیں گے ان سے اللہ کا وعدہ ہوچکا ہے کہ اللہ ان کو اس سرزمین میں اسی طرح اقتدار بخشے گا جس طرح پچھلے رسولوں کی امتوں کو اس نے اقتدار بخشا اور ان دین کو، جس کو اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے، اس ملک میں مستحکم کرے گا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔
یہاں جس وعدے کا حوالہ ہے اس کا ذکر سورة انبیائ، سورة حج اور…
Read the full tafseer →55-1بعض نے اس وعدہ الٰہی کو صحابہ کرام کے ساتھ یا خلفائے راشدین کے ساتھ خاص قرار دیا ہے لیکن اس کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔ قرآن کے الفاظ عام ہیں اور ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ عہد خلافت راشدہ اور عہد خیر القرون میں، اس وعدہ الٰہی کا ظہور ہوا، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زمین میں غلبہ عطا فرمایا۔ اپنے پسندیدہ دین اسلام کو عروج دیا اور مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دیا، پہلے مسلمان کفار عرب سے ڈرتے تھے، پھر اس کے برعکس معاملہ ہوگیا، نبی ﷺ نے بھی جو پیش گوئیاں فرمائی تھیں وہ بھی اس عہد میں پوری ہوئیں۔ مثلا آپ ﷺ نے فرمایا تھا حیرہ سے ایک عورت تن تنہا اکیلی چلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
41: مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام نے کفار کے ظلم و ستم کا سامنا کیا تھا، اور جب وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے تو اس کے بعد بھی کافروں کی طرف ہر وقت حملوں کا خوف لاحق رہتا تھا۔ اس موقع پر ایک صاحب نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا وقت بھی آئے گا کہ ہم ہتھیار کھول کر چین سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی، اور اس میں پیشین گوئی فرمائی گئی کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو زمین پر اقتدار حاصل ہونے والا ہے، چنانچہ اس وعدے کے مطابق آنحضرت ﷺ ہی کے زمانے میں پورا جزیرہ عرب اسلام کے جھنڈے تلے آچکا تھا اور خلافت راشدہ کے دور میں…
Read the full tafseer →(وعد اللہ الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم الفسقون) (55) ” “۔
یہ وعدہ ہے امت محمدیہ کے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیا۔ وعدہ یہ ہے کہ ان کو اس زمین پر اقتدار اعلیٰ دیا جائے گا اور جس دین اسلام کو اللہ نے ان کے لیے پسند کیا ہے اس کو غلبہ نصیب ہوگا۔ ان کی حالت خوف کو حالات امن و سکون سے بدل دے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچ ہوتا ہے اللہ کا وعدہ ہمیشہ واقع ہوتا ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس قسم کے مومن ہیں جن کے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ان کو زمین پر اقتدار دیا جائے گا۔
اس ایمان کی حقیقت جس کے نتیجے میں اللہ کا یہ وعدہ ہے…
Read the full tafseer →3 یہ خطاب فرمایا حضرت ﷺ کے وقت کے لوگوں کو یعنی جو ان میں اعلیٰ درجہ کے نیک اور رسول کے کامل متبع ہیں رسول کے بعد ان کو زمین کی حکومت دے گا اور جو دین اسلام خدا کو پسند ہے ان کے ہاتھوں سے دنیا میں ان کو قائم کرے گا۔ گویا جیسا کہ لفظ استخلاف میں اشارہ ہے وہ لوگ محض دنیاوی بادشاہوں کی طرح نہ ہوں گے۔ بلکہ پیغمبر کے جانشین ہو کر آسمانی بادشاہت کا اعلان کریں گے اور دین حق کی بنیادیں جمائیں گے اور خشکی و تری میں اس کا سکہ بٹھلا دیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کو کفار کا خوف مرعوب نہ کرے گا وہ کامل امن و اطمینان کے ساتھ اپنے پروردگار کی عبادت میں مشغول رہیں گے اور دنیا میں امن وامان کا دور دورہ ہوگا۔ اور ان…
Read the full tafseer →آیت 55 وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ”
یہ وعدہ محض موروثی اور نام کے مسلمانوں کے لیے نہیں ہے ‘ جو اللہ کے احکام کی کلی تعمیل کو اپنا شعار بنانے اور اس کے راستے میں جان و مال کی قربانی دینے کے لیے سنجیدہ نہ ہوں ‘ بلکہ یہ وعدہ تو ان مؤمنین صادقین کے لیے ہے جو ایمان اور عمل صالح کی شرائط پوری کریں۔ یعنی جو ایمان حقیقی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتے ہوں۔
لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْص ”
یعنی اے امت محمد ﷺ ! اگر تم لوگ ایمان حقیقی اور اعمال صالحہ کی دو شرائط پوری کرو گے تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →83 اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو دنیا میں خلیفہ بنا کر بھیجا تھا تاکہ آدم اور اس کی اولاد دنیا میں وہ نظام حیات قائم کرے جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہو اور سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو بھی اور بعد میں وقتاً فوقتاً ان کی اولاد کو بذریعہوحی بتلا بھی دیا تھا۔ اور نظام خلاف کے قائم کرنے کے لئے جو اوصاف درکار تھے وہ سب آدم اور اس کی اولاد کی فطرت میں ودیعت کردیئے گئے تھے۔ ساتھ ہی انسان کو قوت ارادہ و اختیار بھی دیا گیا۔ اور اسی میں حضرت انسان کی آزمائش رکھ دی گئی کہ آیا وہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ اس مقصد خلافت کو پورا کرتا ہے یا نہیں ؟ اور چونکہک ایسے اوصاف ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیئے گئے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →111۔ (مثلا قوم طالوت کو جالوت اور زبردست فلسطینیوں کے مقابلہ میں، یا یوشع بن نون کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو زبردست قوم عمالقہ کے مقابلہ میں) (آیت) ’ منکم خطاب نوع انسانی سے ہے۔ یعنی تم انسانوں میں سے جو طبقہ بھی ایمان ومقتضیات ایامن پر عمل کرے گا۔ (آیت) ” لیستخلفنھم “۔ یہ استخلاف یا حکومت ارض اسی ایمان وعمل صالح کی برکت سے حاصل ہوگی، آیت کی پوری قدر اس وقت ہوگی۔ جب اس کا زمانہ نزول بھی ذہن میں رہے۔ نازل اس وقت ہوئی ہے۔ جب مسلمان تمامتر حالت مغلوبیت میں تھے اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہورہی تھی۔ اس وقت اس دھڑلے سے پیش گوئی کردینا بجز حق تعالیٰ کے اور کسی کا کام ہو نہیں سکتا تھا۔ فقہاء نے کہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51 تا 57
ترجمہ : ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا (عملاً ) مان لینا، یعنی ایسا کہنا ہی مومنین کی شان کے لائق ہے اور ایسے ہی لوگ اس قول کی وجہ سے فلاح پائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ کا خوف رکھے اور اس (کے عذاب) سے ڈرے یَتَّقِہِ یا کے سکون اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی اس کی اطاعت کرے پس ایسے ہی لوگ جنت پاکر بامراد ہوں گے نہایت پختگی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم فرمائیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں، آپ کہہ…
Read the full tafseer →وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنہم فی الارض
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اللہ نے (ان کے متعلق) وعدہ کرلیا ہے کہ زمین پر ان کو خلیفہ (جانشین یعنی حاکم اور بادشاہ) ضرور بنائے گا۔
مؤمنوں سے مراد ہیں وہ مدینہ والے مؤمن جو نزول آیت کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ عام مؤمن مراد نہیں ہیں ‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پختہ وعدہ کرلیا ہے کہ ان نیکوکار مؤمنوں میں سے بعض کو عرب و عجم کی زمین کا مالک بنائے گا اور ان کو واجب الطاعت بادشاہ اور حاکم ضرور کر دے گا۔
یا یہ مطلب ہے کہ ان سب کو زمین پر ایسا تصرف عنایت کرے گا جیسا بادشاہوں کو اپنے غلاموں پر ہوتا ہے۔
کما استخلف الذین من…
Read the full tafseer →(55) اے اصحاب محمد ﷺ تم میں جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو یکے بعد دیگرے زمین پر حکومت عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو یعنی بنی اسرائیل میں سے یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا کو حکومت دی تھی یا یہ کہ ان کو سرزمین مکہ میں اتارے گا جیسا کہ ان سے پہلے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن کے ہلاک کرنے کے بعد اتارا اور جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے اس کو غلبہ دے گا اور مکہ مکرمہ میں جو ان کو اپنے دشمن کا خوف ہے تو ان کے دشمن کے ہلاک کرنے کے بعد اس کو مبدل باامن کر دے گا بشرطیکہ مکہ مکرمہ میں میری عبادت کریں اور میرے ساتھ ان بتوں وغیرہ…
Read the full tafseer →وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ۔۔ : منافقین کی تمام تر زیادتیوں کے باوجود رسول اللہ ﷺ ان سے صرف نظر فرماتے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے ہی ساتھیوں کو اور پناہ دینے والوں کو قتل کرتے ہیں۔ اب ایک طرف پورے عرب کے کفار کی دشمنی تھی، دوسری طرف اسلام کے دعوے دار منافقین کی سازشیں تھیں، نتیجتاً مسلمان سخت پریشان اور خوف زدہ رہتے تھے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا طرز عمل بیان کرنے اور انھیں نصیحت کرنے کے بعد مخلص مومنوں کو کئی بشارتیں دیں۔ اُبیَ بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی مدینہ میں آئے اور انصار نے انھیں جگہ دی تو سارا عرب ایک کمان کے ساتھ ان پر…
Read the full tafseer →وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے وعدہ فرمایا) اس میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے۔ منکمؔ یہ بیان وضاحت کیلئے ایک قول یہ ہے اس سے مراد مہاجرین ہیں اور منؔ تبعیض کیلئے ہے۔ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ (ضرور بضرو ران کو زمین میں خلافت عنایت فرمائیں گے) ارض سے ارض کفار مراد ہے ایک قول ارض مدینہ مراد ہے۔
صحیح قول : یہ ہے کہ یہ عام ہے اس لئے کہ (علیہ السلام) کا ارشاد ہے : لید خلن ھذا الدین علی مادخل علیہ اللیل۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ وہاں تک داخل کرے گا۔ جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے بارء ؓ سے آیت وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور ہم شدید خوف میں تھے۔
مکہ کے مسلمانوں سے خلافت کا وعدہ
2۔ عبدبن حمید وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب مکہ مکرمہ میں تقریبا دس سال تک پوشیدہ طور پر اللہ وحدہ لاشریک اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے رہے اور وہ ڈرتے تھے کہ وہ قتال کا حکم نہیں دیے گئے تھے یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم دیے گئے وہ لوگ مدینہ منورہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قتال کا حکم فرمایا جبکہ خوف میں مبتلا تھے اور صبح شام مسلح رہتے تھے۔ پھر ان کے…
Read the full tafseer →وَعَدَ [ وعدہ کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الَّذِيْنَ [ ان سے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] وَعَمِلُوا [ اور انھوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ [ کہ وہ لازما جانشین بنائے گا ان کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] كَمَا [ جیسے کہ ] اسْتَخْلَفَ [ اس نے جانشین بنایا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ [ ان سے پہلے تھے ] وَلَيُمَكِّنَنَّ [ اور وہ لازما جما دے گا ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] دِيْنَهُمُ الَّذِي [ ان کے اس دین کو جس سے ] ارْتَضٰى [ وہ راضی ہوا ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ [ اور وہ لازما بدلہ دے گا ان کو ] مِّنْۢ بَعْدِ…
Read the full tafseer →ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں سے استخلاف اور تمکین فی الارض کا وعدہ
معالم التنزیل ص 353 ج 3 میں حضرت ابو العالیہ تابعی سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ نزول وحی کی ابتداء کے بعد ہی سے ثابت قدمی کے ساتھ مقیم رہے اور کافروں کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچتی تھیں ان پر بامر الہٰی صبر کرتے رہے صبح شام دشمنوں کی طرف سے خائف رہتے تھے پھر جب مدینہ منورہ کو ہجرت کرنے کا حکم دے دیا گیا تو مدینہ منورہ پہنچ گئے وہاں پہنچے پر بھی دشمنوں سے چھٹکارا نہ ہوا (یہودی بھی دشمن تھے اور منافقین سے بھی خطرہ رہتا تھا) اس لیے ہر شخص ہتھیار بند رہتا تھا۔ اسی اثناء میں ایک شخص کے منہ سے یہ نکل گیا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین
قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…
Read the full tafseer →57:۔ ” وعد اللہ الخ “ یہ مخلصین مومنین کے لیے بشارت دنیوی ہے منافقین کے ذکر کے بعد مخلص مومنوں کو دنیوی حکومت و سلطنت ملنے کی خوشخبری سنائی۔ یہ آیت اصل میں صحابہ کرام ؓ کے بارے میں ہے جو اصل اور حقیقت میں اس آیت کے مخاطب ہیں۔ اس آیت میں ان سے تین وعدے کیے گئے ہیں اول یہ کہ ان کو رزمین عرب میں حکومت و خلافت دی جائے گی۔ دوم یہ کہ جو دین اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پسند کیا ہے اس دین کو ان کے زمانے میں قوت و سطوت اور غلبہ دیا جائے گا۔ اور وہ اس دین پر قائم رہیں گے اور توحید سے شرک کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ سوم یہ کہ کسی اندرونی یا بیرونی طاقت سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور وہ بالکل مامون و محفوظ رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافق قسم کے لوگوں کی مذمت بیان کی کہ جب ان کے تنازعات کے تصفیہ کے لئے ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ پھر اگر انہیں اپنی مطلب براری کی توقع ہو تو آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرمایا یہ بڑے ظالم قسم کے لوگ ہیں۔ ان کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا ہے۔ یا یہ شک میں سرگرداں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے ان پر زیادتی ہوگی۔ دوسری طرف اللہ نے اہل ایمان کے متعلق فرمایا کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو فوراً سمعنا واطعنا کہہ دیتے ہیں ، یعنی ہم نے سن لیا۔ اور اطاعت کے لئے حاضر ہیں۔…
Read the full tafseer →وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ 0۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا 0ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا 0ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ 55
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ترکیب : یستخلفنھم ہو جواب قسم مضمر ای وعدھم واقسم لیستخلفنہم یعبدوننی حال من الذین اواستیناف، لایشرکون حال من الواو ای یعبد وننی غیر مشرکین۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں وہی فلاح پاویں گے وہی کامیاب ہوں گے۔ آخرت کی کامیابی تو متعدد مقامات پر بیان ہوچکی تھی اب یہاں دنیا کی کامیابی بیان فرماتا ہے بقولہ وعداللہ الخ اور اس وعدہ کے بعد پھر ان مسلمانوں کو کہ جن کے لیے خلافت و امامت اور زمین پر حکومت و شوکت کا وعدہ کیا ہے واقیمو الصلوۃ واتوا الزکوۃ الخ کا حکم دیتا ہے کہ زمین پر اقتدار پاکر اور سلطنت و شوکت حاصل کر کے بنی اسرائیل کی طرح خدا اور اس کے رسول…
Read the full tafseer →وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ص وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّ لَنَّھُمْ مِّنْ م بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا ط یَعْبُدُوْنَنِیْ لاَ یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا ط وَمَنْ کَفَرَبَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (النور : 55)
(اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے کہ ان کو ملک میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔ اور ان کے اس دین کو متمکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے سیاسی اقتدار کی ضمانت۔
اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان بندوں کو خوش خبری دی گئی کہ تم ہی کامیاب ہونے والے ہو۔ کامیابی سے مراد صرف آخرت کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی خلافت یعنی سیاسی اقتدار بھی اس میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پہلے بندوں کے ساتھ بھی تھا اور آئندہ آنے والے نیک لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔ نہ صرف تابع فرمان لوگوں کو اقتدار عطا کیا جائے گا بلکہ جس دین کی وجہ سے ان کی مخالفت کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ دین کو عملی طور پر بھی نافذ کرے گا اور مسلمانوں کا خوف دور کرکے انہیں ہر اعتبار سے استحکام اور امن وامان عطا…
Read the full tafseer →آیت تمکین فی الارض :
55: وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے وعدہ فرمایا) اس میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے۔ منکمؔ یہ بیان وضاحت کیلئے ایک قول یہ ہے اس سے مراد مہاجرین ہیں اور منؔ تبعیض کیلئے ہے۔ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ (ضرور بضرو ران کو زمین میں خلافت عنایت فرمائیں گے) ارض سے ارض کفار مراد ہے ایک قول ارض مدینہ مراد ہے۔
صحیح قول : یہ ہے کہ یہ عام ہے اس لئے کہ (علیہ السلام) کا ارشاد ہے : لید خلن ھذا الدین علی مادخل علیہ اللیل۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →55۔ وعداللہ الذین آمنو منکم وعملوالصالحات لیستخلفنھم فی الارض، ابوعالیہ کا بیان ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد آپ مکہ میں دس سال ٹھہرے رہے۔ صحابہ اجمعین بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ اللہ کی طرف سے کفار کی اذیت پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی۔ مسلمان صبح وشام کفار سے خوف زدہ ہوتے پھر مسلمان کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر جہاد کا حکم دیاگیا لیکن مسلمانوں پر یہ خوف جاری رہتا کہ اب ہمیں ہمیشہ جہاد ہی کرنا پڑے گا، کبھی اسلحہ چھوڑنے کا حکم نہیں ہوگا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ کبھی ہمیں امن حاصل ہوگا، اور ہم اپنااسلحہ اپنے اوپر سے اتاریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، وعداللہ الذین امنوا منکم، ،، ،…
Read the full tafseer →55:۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم ‘ اوسط طبرانی وغیرہ میں براء بن العازب اور ابی بن کعب کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعد نبوت کے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں رہے وہ زمانہ ایسے خوف اور ایذا کا تھا کہ دین کا کوئی کام کھلم کھلا نہیں ہوسکتا تھا ‘ یہاں تک مشرکوں نے ایذا پر کمر باندھی کہ آخر ہجرت کا حکم ہوا ‘ ہجرت کے بعد فتح مکہ تک مدینہ میں بھی خوف ہی رہا ‘ مہاجر اور انصار رات دن کمر بستہ اور ہتھیار باندھے رہتے تھے اور اندیشہ کرتے رہتے تھے کہ نہیں معلوم کس طرف سے کون دشمن چڑہائی کر کے آجاتا ہے ‘ اسی زمانہ میں بعض صحابہ نے اکتا کر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت کبھی یہ…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (55
یہ اللہ تعالیٰ کے ان سچے وعدوں میں سے ہے جن کی تاویل و تعبیر کا مشاہدہ کروایا گیا ہے۔ امت محمدیہ میں سے جو لوگ ایمان پر قائم رہتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین کی خلافت عطا کرے گا۔ وہ زمین میں خلفاء ہوں گے اور زمین کی تمام تدبیر ان کے دست تصرف میں ہوگی۔ وہ اس دین کو جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے ‘ یعنی دین اسلام کو جو تمام ادیان پر فائق ہے ‘ مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت کے لئے اس کے فضل و شرف اور اس پر اپنی نعمت کی بنا پر دین اسلام کو پسند فرمایا، یعنی وہ اس دین کو قائم کرنے، اس کے ظاہری و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
خدا کی زمین میں اصل خلیفہ کون ہے ؟
قول باری ہے : (وعداللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض) اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔ اس میں حضور ﷺ کی نبوت کی صحت پر دلالت موجود ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کو ایک متعین گروہ کے ساتھ : الذین امنوا منکم وعملوالصالحات لیستخلننھم فی الارض۔ فرما کر خاص کردیا پھر اس نے اس گروہ یعنی صحابہ کرام کے ساتھ کیے گئے جس وعدے کی حضور ﷺ کے ذریعے خبر دی تھی واقعاتی طور پر وہ حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ اس میں خلفاء اربعہ کی خلافت کی صحت پر بھی دلالت موجود ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
116 رسول کے ذمے تبلیغِ حق اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رسول کے ذمے بس وہی کچھ ہے جسکی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی "۔ یعنی حق کی تبلیغ جو کہ انہوں نے فرما دی۔ اور اپنی ذمہ داری سے وہ پوری طرح سبکدوش ہوگئے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ سو تم لوگ اگر سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرو گے تو خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا۔ اور اگر تم نے اعراض و روگردانی سے کام لیا تو خود اپنا ہی نقصان کرو گے۔ رسول کا بہرحال اس میں کوئی نقصان نہیں کہ انکے ذمے تبلیغِ حق کا جو کام تھا وہ انہوں نے پورا کرلیا۔ اب اگر تم لوگوں نے رسول کی اطاعت نہ کی تو خدا تعالیٰ کے یہاں جوابدہی تم ہی لوگوں کو کرنی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب
تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
(نفاذ اسلام اہل ایمان کا کام ہے)
اہل ایمان کی شان تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ ورسول کے مطابق فیصلہ قبول کرنے کا کہا جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہمیں منظور ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں یعنی نفاذ اسلام یا اسلامی قانون کی راہ میں صرف لوگوں کی منافقت حائل ہوتی ہے اور اہل ایمان فورا عملی زندگی میں اسلامی قانون اپناتے ہیں اور اسلامی قانون اپنانے اور اختیار کرنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔
(نجات ابدی کی چار شرائط)
کہ یہ اصولی بات ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی یعنی فرائض ادا کیے ” ورسولہ ‘ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع کیا ۔ (آیت) ” ویخش اللہ “ اور گذشتہ اعمال…
Read the full tafseer →5 ۔ یعنی اگر تمہیں ہدایت نہ ہو تو گرفت اس کی نہیں بلکہ تمہاری ہوگی۔ 6 ۔ یعنی اسے مضبوط بنیادوں پر قائم کر دیگا۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ خلفائے ثلاثہ کی خلافت برحق تھی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق۔ گو یہ وعدہ تمام امت کو شامل ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت سے لیکر حضرت عثمان کے دور خلافت تک جو فتوحات حاصل ہوئیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی) 7 ۔ یعنی اللہ کی طرف سے اس سچے وعدے کے آجانے کے بعد۔ 8 ۔ یا خدا کی ناشکری کرے۔ کفر کے معنی انکار حق اور ناشکری دونوں ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(24:55) منکم۔ اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ اور ان کے اصحاب سے ہے اور منکم میں من بیان کے لئے ہے بعض کے نزدیک خطاب مہاجرین سے ہے۔ اور من تبعیضیہ ہے۔
وعملوا الصلحت۔ کا عطف امنوا پر ہے یعنی تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے۔
لیستخلفہم۔ مضارع تاکید بہ لام تاکید ونون ثقیلہ ۔ صیغہ واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع اسم موصول الذین ہے لیستخلفن میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے وہ ضرور ان کو خلیفہ بنائے گا۔ وہ ضرور ان کو حکومت عطا کرے گا۔ استخلاف (استفعال) مصدر۔ لیستخلفنہم بمنزلہ وعد کے مفعول کے ہے۔
ولیمکن۔ مضارع تاکید بلام تاکید ونون ثقیلہ صیغہ واحد مذکر غائب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 57 :
وعد (وعدہ کرلیا) استخلف (پہلوں کا جانشین بنایا) ‘ یمکنن ( وہ ضرور جمادے گا) ‘ ارتضی (اس نے پسند کیا) ‘ لاتحسبن ( ہرگز گمان نہ کریں گے) ‘ معجزین ( عاجز کرنے والے۔ بےبس کرنے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 55 تا 57 :
اعلان نبوت کے بعد کفارو مشرکین عرب نے دین اسلام ‘ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کا راستہ روکنے کے لئے ہر وہ کوشش کر ڈالی جس سے اسلام کے اس پودے کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ لیکن نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے ان تمام جار حانہ اور ظالمانہ کو ششوں کا نہایت صبر و استقلال ‘ حلم و تحمل اور برداشت سے ڈٹ کر مقابلہ…
Read the full tafseer →مسلمانوں کے صبر پر اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کا ظہور۔
(ف 1) شان نزول۔ نبی ﷺ نے وحی نازل ہونے سے دس سال تک مکہ مکرمہ میں مع اصحاب کے قیام فرمایا، اور کفار مکہ کی ایذاؤں پر جو رات دن ہوتی رہتی تھیں صبر کیا، پھر بحکم الٰہی مدینہ طیبہ کو ہجرت فرمائی اور انصار کی منازل کو اپنی سکونت سے سرفراز کیا مگر کفار مکہ اس پر بھی بازنہ آئے۔ روزہ مرہ ان کی طرف سے جنگ کے اعلان ہوتے اور طرح طرح کی دھمکیاں دی جاتیں، اصحاب رسول ہر وقت خطرہ میں رہتے تھے ایک روز ایک صحابی نے فرمایا کبھی ایسا بھی زمانہ آئے گا کہ ہمیں امن میسر ہوگا اور ہتھیاروں کے بار سے ہم سبکدوش ہوجائیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
فائدہ : اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
[54] یعنی اسلام۔
[55] اس ارشاد سے مقصود منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خلافت عطا فرمانے کا جو وعدہ کیا ہے اس کے مخاطب محض مردم شماری کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جو صادق الایمان ہوں، اخلاق و اعتبار کے لحاظ سے صالح ہوں، اللہ کے پسندیدہ دین کا اتباع کرنے والے ہوں اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو کر خالص اللہ کی بندگی و غلامی کے پابند ہوں۔ ان صفات سے عاری اور محض زبان سے ایمان کے مدعی لوگ نہ اس وعدے کے اہل ہیں اور نہ ہی ان سے کہا ہی گیا ہے۔
اس جگہ ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ یہ وعدہ خلافت بعد کے مسلمانوں کو تو بالواسطہ پہنچتا ہے لیکن بلاواسطہ اس کے مخاطب وہ لوگ تھے…
Read the full tafseer →استخلاف فی الارض کا وعدہ :
(ف 2) دین کے معنے اسلامی نقطہ نگاہ سے کامیابی کے کامل پروگرام کے ہیں ، اس لئے جو لوگ صحیح معنوں میں مومن ہوں گے اور ان کے اعمال اللہ کے تجویز کردہ پروگرام کے ماتحت ہوں گے ، ان کا دنیا آخرت میں کامیاب ہوتا یقینی اور حتمی ہے ، اس آیت میں قرآن نے اسی اصول کی جانب رہنمائی فرمائی ہے ارشاد ہے کہ مومنین سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں خلیفہ فی الارض یعنی ملک کا حاکم بنایا جائے گا انہیں دنیا کی تمام نعمتوں سے نوازا جائیگا ، اور ان کے سر پر تاج خسروی رکھا جائے گا ، اور ان کیلئے یہ مقدمات میں سے ہیں کہ جب تک اسلام کی پوری پابندی کرتے رہیں ، اس وقت تک دنیا کی قیادت کریں سب سے بلند…
Read the full tafseer →(55) اے امت محمدیہ ﷺ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پوری طرح پابند رہے ان سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں اسی طرح حکمران بنائے گا جس طرح ان لوگوں کو حکمران بنایا تھا اور ان کو حکومت دی تھی جو ان سے پہلے تھے اور جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے اس دین کو ان کے لئے محکم کردے گا اور جما دے گا اور قوت دے گا اور اس وقت ان کو دشمنوں کا جو خوف طبعاً لاحق ہے ان کو اس خوف کے بعد ان کے خوف کو مبدل بہ امن کردے گا درآنحالیکہ وہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں اور جو شخص اس وعدے کو پورا ہونے کے بعد ناشکری اور ناسپاسی کی روش اختیارو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 7۔ یعنی ہدایت کا کامل اتباع کریں۔
1۔ مثلا بنی اسرائیل کو قبطیوں پر غالب کیا، پھر عمالقہ پر غلبہ دیا، اور مصر و شام کی حکومت دی۔
2۔ یعنی دین کے خلاف طریقہ اختیار کرے۔
3۔ اس آیت میں مجموعہ امت سے وعدہ ہے ایمان و عمل صالح پر حکومت دینے کا، جس کا ظہور خود عہد نبوی سے شروع ہو کر خلافت راشدہ تک متصلا ممتد رہا، چناچہ جزیرہ عرب آپ کے زمانہ میں اور دیگر ممالک زمانہ خلافت راشدہ میں فتح ہوگئے، اور بعد میں وقتا فوقتا گو اتصال نہ ہو دوسرے صلحاء ملوک و خلفاء کو حق میں اس وعدہ کا ظہور ہوتا رہا، اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔
Read the full tafseer →جب اکثریت دعوی اسلام کے باوجود مشرک ہوتی تو بدکرداروں کے ساتھ وعدہ ہی کب تھا :
89۔ مذکورہ بالا ارشادات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مسلمانوں کی عزت ‘ شان و شوکت ‘ سربلندی و سرفرازی اور ہر طرح کی برتری و خوبی ان کی صفت ایمان کے ساتھ وابستہ ہے اگر ان کا تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ مستحکم ہے تو یقینا سب کچھ ان کا ہے اور اگر خداونخواستہ اس رابطہ وتعلق میں کمی اور کمزوری پیدا ہوگئی ہے تو پھر سراسر خسران اور ذلت وکواری ہے ۔ ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف عزت کے منتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور ہم ہیں کہ انتہائی ذلت و خواری میں مبتلا ہیں تو معلوم ہوا کہ وہ کمال ایمان سے متصف تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
Commentary
Background of Revelation
Qurtubi has reported on authority of Abul ` Aliyah that the Holy Prophet ﷺ stayed in Makkah for ten years after commencement of revelation and declaration of prophethood, during which time there was a constant fear of the infidels and disbelievers. Then after the Hijrah to Madina also there was a ceaseless danger of attacks from the disbelievers. So, someone asked the Holy Prophet ﷺ "Would a time come to us when we will be able to live in peace without wearing our weaponry?' The Holy Prophet ﷺ replied ` Yes, the time is coming very soon'. On that occasion…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
83. As has been hinted in the beginning of this discourse, this means to warn the hypocrites that the promise of Allah to bestow successorship in the land is not meant for those people who are Muslims only in name, but for those who are true in faith, pious in character, sincere in devotion and who follow Allah’s religion in letter and spirit eschewing every tinge of shirk. Those who lack these qualities and pay mere lip service to Islam are neither worthy of this promise nor its addressees. Therefore they should entertain no hope of having any share in it.
Some people interpret Khilafat…
Read the full tafseer →