Explained with ayahs 53–54
مکار منافق
اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بےقرار ہیں، آپ کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھر بار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ہیں۔ ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
سورة النُّوْر 81
دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل ایمان سے جو اطاعت مطلوب ہے وہ معروف اور معلوم قسم کی اطاعت ہے جو ہر شبہ سے بالا تر ہو، نہ کہ وہ اطاعت جس کا یقین دلانے کے لیے قسمیں کھانے کی ضرورت پڑے اور پھر بھی یقین نہ آسکے۔ جو لوگ حقیقت میں مطیع فرمان ہوتے ہیں ان کا رویہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہوتا۔ ہر شخص ان کے طرز عمل کو دیکھ کر محسوس کرلیتا ہے کہ یہ اطاعت گزار لوگ ہیں۔ ان کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہوتی کہ اسے رفع کرنے کے لیے قسمیں کھانے کی ضرورت پیش آئے۔
سورة النُّوْر 82
یعنی یہ فریب کاریاں مخلوق کے مقابلے میں تو شاید چل بھی جائیں مگر خدا کے مقابلے میں کیسے چل سکتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
فوز و فلاح کے لئے چار شرطیں
وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ اس آیت میں چار چیزیں بیان کر کے فرمایا ہے کہ جو ان چار چیزوں کے پابند ہیں وہ ہی بامراد اور دین و دنیا میں کامیاب ہیں۔
ایک واقعہ عجیبہ
تفسیر قرطبی میں اس جگہ ایک واقعہ حضرت فاروق اعظم کا نقل کیا جس سے ان چاروں چیزوں کے مفہوم کا فرق اور وضاحت ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم ایک روز مسجد نبوی میں کھڑے تھے اچانک ایک رومی دہقانی آدمی بالکل آپ کے برابر آ کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا انا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ، حضرت فاروق اعظم نے پوچھا…
Read the full tafseer →منافقین کی روش جہاں کے معاملہ میں
سمع وطاعت کا عہد کرنے کے باوجود منافقین جس طرح رسول اللہ ﷺ کی عدالت سے کتراتے تھے اسی طرح جہاد سے بھی کتراتے تھے۔ زبان سے لاف زنی کا تو یہ حال تھا کہ جب جہاد کا ذکر آتا تو بڑی زور دار قسمیں کھا کھا کے حضور ﷺ کو یقین دلاتے کہ جب آپ کا حکم ہوگا ہم جان و مال سے حاضر ہیں لیکن جب وقت آتا تو کترا جاتے۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ قسمیں زیادہ نہ کھائو، قسمیں عمل کا بدل نہیں بن سکتیں۔ اصل شے جو مطلوب ہے وہ اصول کے مطابق اللہ و رسول کی اطاعت ہے۔ اگر یہ چیز موجود نہیں تو خالی خولی قسموں سے تم کتنے دن اپنے کردار پر پردہ ڈالے رکھ سکو گے !
ان اللہ خبیربما تعملون یعنی…
Read the full tafseer →53-1اور وہ یہ ہے کہ جس طرح تم قسمیں جھوٹی کھاتے ہو، تمہاری اطاعت بھی نفاق پر مبنی ہے۔ بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تمہارا معاملہ اطاعت معروف ہونا چاہیئے۔ یعنی معروف میں بغیر کسی قسم کے حلف کے اطاعت، جس طرح مسلمان کرتے ہیں، پس تم بھی ان کی مثل ہوجاؤ۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
40: جب جہاد کا موقع نہ ہوتا تو یہ منافق لوگ منہ بھر بھر کر قسمیں کھاتے تھے کہ اگر حضور اقدس ﷺ نے حکم دیا تو یہ جہاد کے لیے گھروں سے نکل کر کھڑے ہوں گے، لیکن جب وقت آتا تو کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے جہاد سے جان چھڑا لیتے تھے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ تمہاری فرماں برداری کی حقیقت تو سب کو معلوم ہے۔ بارہا تجربہ ہوچکا ہے کہ وقت پڑنے پر تمہاری ساری قسمیں دھری رہ جاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(ومن یطع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفآئزون) (52)
آیت سابقہ میں موضوع سخن یہ تھا کہ اہل ایمان اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں میں مطیع فرمان ہوتے ہیں۔ اب یہاں کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قانونی فیصلوں کے علاوہ بھی اللہ کے احکام ونواہی کی پابندی کرتے ہیں اور یہ اطاعت وہ قانونی گرفت کے خوف سے نہیں کرتے بلکہ اللہ کی گرفت کے خوف سے وہ یہ اطاعت کرتے ہیں۔ تقویٰ خشیت سے ذرا عام لفظ ہے کیونکہ خشیت اور خوف سے ڈر ! آگے بڑھ کر تقویٰ میں چھوٹے اور بڑے معاملات میں احتیاط کا شعور انسان کے اندر پیدا ہوجاتا ہے جبکہ خشیت میں خوف اور ڈر کا پہلو ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے ڈرتا ہے اور اطاعت کرتا ہے…
Read the full tafseer →1 یعنی منافقین بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم کو آپ حکم دیں تو سب گھر بار چھوڑ کر خدا کے راستہ میں نکل جانے کے لیے تیار ہیں ذرا حضور ﷺ اشارہ فرمائیں تو سب مال و دولت اللہ کے راستہ میں لٹا کر الگ ہوجائیں۔ اس پر فرمایا کہ اس قدر منہ بھر کر لمبی چوڑی قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں۔ تمہاری فرمانبرداری کی حقیقت سب معلوم ہوچکی کہ زبان سے دعوے بہت کیا کرتے ہو۔ اور عمل کا وقت آئے تو آہستہ سے کھسک جاتے ہو۔ چاہیے کہ سچے مسلمانوں کے دستور کے موافق حکمبرداری کر کے دکھلاؤ زبانی قسمیں کھانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ فرض کرو تم قسمیں کھا کر بندوں کو اپنی بات کا یقین دلا دو ۔ لیکن اللہ کے…
Read the full tafseer →آیت 53 وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَءِنْ اَمَرْتَہُمْ لَیَخْرُجُنَّ ط ”
منافقین سے جب بھی کسی قربانی کا تقاضا کیا جاتا یا جہاد کے لیے نکلنے کا مرحلہ آتا تو وہ بہانے تراشتے ہوئے قسمیں کھاتے کہ ہمیں فلاں مجبوری ہے ‘ فلاں مسئلہ درپیش ہے ‘ لیکن اگر آپ ﷺ حکم دیں گے تو ہم بہرحال آپ ﷺ کے ساتھ ضرور نکلیں گے۔ جماعتی زندگی میں یہ نمونہ آج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ امیر کی طرف سے ایک واضح حکم آجانے کے بعد بھی کچھ لوگ بہانے بناتے ہیں ‘ اپنی معذوری کا اظہار کرتے ہیں اور مجبوریاں گنوانے کے بعد یوں بھی کہتے ہیں کہ ”ویسے اگر آپ حکم دیں تو ہم حاضر ہیں !“ گویا جو پہلے حکم دیا گیا ہے وہ حکم نہیں…
Read the full tafseer →80 طاعہ معروفہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا سچے دل سے عبد کیا ہو۔ وہ اطاعت کرکے دکھا دیتے ہیں اور انھیں قسمیں کھانے کی کبھی ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔ قسمیں کھانے اور قسمیں کھا کر یقین دلانے اور اپنا اعتماد بحال کرنے کی تو ضرورت ہی تب پیش آتی ہے جب کسی کا اعتماد مجروح ہوچکا ہو۔ اور آئندہ بھی اس کی صحیح صورت یہ نہیں کہ بس پکی قسمیں کھا کر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ عملی طور پر اطاعت کرکے دکھا دیں۔ اس طرح قسمیں کھانے کے بغیر ہی ان کا اعتماد بحال ہوجائے گا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جتنی اور جیسی وہ اطاعت کر رہے ہیں تو وہ پہلے ہی سب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
106۔ (گھر بار سب چھوڑ چھاڑ) اب ذکر انہیں منافقین کا ہے۔
107۔ (اور اس نے مجھے بتا دیا ہے) مطلب یہ ہے کہ زبانی ونمائشی دعو وں سے کچھ بھی نہیں ہونے کا، ضرورت صرف مخلصانہ عمل کی ہے۔ (آیت) ” طاعۃ معروفۃ “۔ یعنی تمہاری فرمانبرداری کی حقیقت خوب معلوم ہوچکی !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51 تا 57
ترجمہ : ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا (عملاً ) مان لینا، یعنی ایسا کہنا ہی مومنین کی شان کے لائق ہے اور ایسے ہی لوگ اس قول کی وجہ سے فلاح پائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ کا خوف رکھے اور اس (کے عذاب) سے ڈرے یَتَّقِہِ یا کے سکون اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی اس کی اطاعت کرے پس ایسے ہی لوگ جنت پاکر بامراد ہوں گے نہایت پختگی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم فرمائیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں، آپ کہہ…
Read the full tafseer →واقسموا باللہ جہد ایمانہم لئن امرتہم لیخرجن اور وہ اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں
کہ اگر آپ ہم کو (جہاد کے لئے یا گھر بار اور مال متاع چھوڑ کر) نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ منافق ‘ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ آپ جہاں ہوں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے اگر آپ (غزوات یا جہاد کے لئے) نکلیں گے تو ہم آپ کے ساتھ نکلیں گے ‘ اگر آپ (کہیں) قیام کریں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹھہر جائیں گے (آپ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے) اگر آپ ﷺ : ہم کو جہاد کا حکم دیں گے تو ہم جہاد کریں گے۔
قل لا تقسموا طاعۃ معروفۃ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ (جھوٹی) قسمیں نہ کھاؤ تمہاری فرماں…
Read the full tafseer →(53) اور حضرت عثمان ؓ قسم کھا رہے ہیں کہ اگر آپ حکم دیں تو سارا مال اللہ کے راستے میں نکال دیں، آپ ان سے فرما دیجیے اطاعت وفرمانبرداری کرو جو تم پر فرض ہے اللہ تعالیٰ کو نیکی وبدی کی پوری خبر ہے۔
Read the full tafseer →وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ۔۔ : ”جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ“ کی دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ فعل محذوف کا مصدر ہے، جو اس فعل کی تاکید کر رہا ہے : ”أَيْ أَقْسَمُوْا باللّٰہِ یَجْھَدُوْنَ أَیْمَانَھُمْ جَھْدًا“ اور ”جَھْدَ اَیْمَانِھِم“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھانے کی زیادہ سے زیادہ جو طاقت رکھتے تھے اس کے ساتھ انھوں نے قسم کھائی۔ یہ ”جَھَدَ نَفْسَہُ“ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے اس نے اپنی جان کی آخری طاقت لگا دی۔ دوسری ترکیب یہ ہے کہ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے : ”أَيْ أَقْسَمُوْا باللّٰہِ مُجْتَھِدِیْنَ فِيْ أَیْمَانِھِمْ“ یعنی انھوں نے قسموں میں اپنی پوری کوشش…
Read the full tafseer →وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَاَیْمَانِھِمْ (وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں) منافقین نے اللہ تعالیٰ کے نام کی پکی قسمیں اٹھائیں ان کو جھد اس لئے کہا گیا کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش ان میں صَرف کردی۔ جھد یمینہ کو جھد نفسہ کیلئے بطور استعارہ استعمال کیا گیا۔ جبکہ وہ اس میں اپنی پوری وسعت و کوشش صرف کر دے اور یہ اسی وقت ہے جب وہ قسم میں مبالغہ کرے اور اس کی پختگی و تاکید میں انتہاء کردے۔
قول ابن عباس ؓ : جس شخص نے اپنی قسم کے ساتھ باللہ ؔ کہا اس نے اپنی قسم کو انتہائی مضبوط کردیا۔ اور اصل کلام اس طرح ہے : اقسم جہد الیمین ای اقسم یجھد الیمین جھدًا فعل کو حذف کر کے مصدر کو مقدم…
Read the full tafseer →1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم اپنے مالوں کو چھوڑدیں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت واقسموا باللہ جہدایمانہم نازل فرمائی۔
2۔ ابن ابی حاتم سے مقاتل (رح) سے آیت واقسموا باللہ جہد ایمانہم لئن امرتہم لیخرجن قل لا تقسموا کہ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قسم نہ کھائیں۔ طاعۃ معروفہ ان کو حکم دیا کہ وہ قسمیں نہ کھائیں اور نبی ﷺ کی معروف اطاعت کریں۔
3۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت طاعۃ معروفۃ سے مراد ہے کہ تحقیق تمہاری اطاعت پہچان لی گئی ہے کہ تم نبی اکرم ﷺ کو جھٹلاتے ہو۔
Read the full tafseer →وَاَقْسَمُوْا [ اور انھوں نے قسم کھائی ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ [ اپنی قسموں کا زور لگاتے ہوئے ] لَىِٕنْ [ بیشک اگر ] اَمَرْتَهُمْ [ آپ ﷺ حکم دیں گے ان کو ] لَيَخْرُجُنَّ ۭ [ تو وہ لوگ لازما نکلیں گے ] قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] لَّا تُقْسِمُوْا ۚ [ تم لوگ قسم مت کھاؤ] طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ ۭ [ (اصل مطلوب) جانی پہچانی اطاعت ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] خَبِيْرٌۢ [ باخبر ہے ] بِمَا [ اس سے جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگو کرتے ہو ]
Read the full tafseer →منافقوں کا جھوٹی قسمیں کھا کر فرمانبر داری کا عہد کرنا
ان آیات میں بھی روئے سخن منافقین کی طرف ہے وہ زور دار طریقہ پر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم تو سراپا اطاعت ہیں آپ کا حکم ماننے کو تیار ہیں اگر آپ کا حکم ہو ہم گھر بار چھوڑ کر نکل جائیں تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں یہ تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ آپ جب بھی جہاد کے لیے باہر نکلنے کا حکم فرمائیں گے تو ہم ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ ان کی تردید میں فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے قسمیں نہ کھاؤ تمہاری فرماں برداری جانی پہچانی ہوئی ہے قسمیں کھانے کے باو جود بھی تم اپنے وعدہ پر پورے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین
قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…
Read the full tafseer →55:۔ ” واقسموا الخ “ منافقین پر زجر ہے مع شکوی منافقین کی غلط بیانی کا یہ حال ہے کہ وہ پیغمبر (علیہ السلام) کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ جب آپ کا حکم ہوگا ہم فورًا جہاد کے لیے دشمن کے مقابلے میں نکلنے کے لیے تیار ہوجائینگے مگر جب جہاد کا وقت آتا ہے تو جھوٹے بہانے بنا کر کنی کترا جاتے ہیں۔ ” قل لا تقسموا الخ “ : اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو حکم دیا جب منافقین قسمیں کھا کر آپ سے وعدہ کریں تو آپ ان سے فرما دیا کریں کہ یہ بےفائدہ قسمیں مت کھاؤ کیونکہ تمہاری اطاعت اور فرمانبرداری مجھے پہلے ہی سے معلوم ہے کہ یہ محض زبانی دعوی ہی ہے۔ اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ربط آیات :
پہلے اللہ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور پھر منافقوں کی مذمت بیان کی کہ جب کسی تنازعہ کے فیصلے کی خاطر انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ ہاں ، اگر انہیں یقین ہو کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا ، تو اطاعت کے انداز میں دوڑ کر آتے ہیں۔ اور اگر ان کی توقع اس کے برخلاف ہو تو دربار نبوی میں آنے سے ٹال مٹول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی ذہنیت کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یا تو ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہوگی ، یا اللہ کی توحید ، نبی کی رسالت یا دین کے متعلق شک ہوگا اور یا پھر انہیں اللہ اور اس کے رسول سے ناانصافی کی توقع ہوگی۔ فرمایا ایسے شخص سے بڑھ…
Read the full tafseer →وَاَقْسَمُوْا بِاللہِ جَہْدَ اَيْمَانِہِمْ لَىِٕنْ اَمَرْتَہُمْ لَيَخْرُجُنَّ 0ۭ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا 0ۚ طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ 0ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 53
قْسَمَ ( حلف)
حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں…
Read the full tafseer →وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ اَمَرْتَھُمْ لَیَخْرُجُنَّ ط قُلْ لاَّ تُقْسِمُوْا ج طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَـۃٌ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (النور : 53)
(اور وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں بڑے زور شور سے کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم دیں گے تو وہ ضرور نکلیں گے، آپ ان سے کہئے کہ قسمیں نہ کھائو، دستور کے مطابق اطاعت اصل چیز ہے (یا تمہاری فرمانبرداری خوب معلوم ہے، اللہ اس سے خوب واقف ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ )
منافقین کی روش جہاد کے معاملے میں
منافقین جس طرح سمع و اطاعت کا عہد کرنے کے باوجود اطاعت سے جی چراتے اور آنحضرت ﷺ کی عدالت میں جانے سے کتراتے تھے، اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : مخلص مسلمانوں کے بعد ایک دفعہ پھر منافقین کا تذکرہ۔
رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقوں کی یہ بھی عادت تھی کہ جب مسلمانوں پر مشکل وقت گزر جاتا تو منافق اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر باتکرار قسمیں اٹھا کر آپ ﷺ اور مسلمانوں کو یقین دلاتے کہ آئندہ کوئی مشکل وقت آیا تو ہم ہر صورت آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اس پر رسول اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ منافقین سے فرمائیں کہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت نہیں تم نیکی کے کاموں میں سمع و اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ جس نیت کے ساتھ کروگے اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔ ان سے یہ بھی فرمائیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے…
Read the full tafseer →منافقین کا طرز عمل :
53: وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَاَیْمَانِھِمْ (وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں) منافقین نے اللہ تعالیٰ کے نام کی پکی قسمیں اٹھائیں ان کو جھد اس لئے کہا گیا کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش ان میں صرف کردی۔ جھد یمینہ کو جھد نفسہ کیلئے بطور استعارہ استعمال کیا گیا۔ جبکہ وہ اس میں اپنی پوری وسعت و کوشش صرف کر دے اور یہ اسی وقت ہے جب وہ قسم میں مبالغہ کرے اور اس کی پختگی و تاکید میں انتہاء کردے۔
قول ابن عباس ؓ : جس شخص نے اپنی قسم کے ساتھ باللہ ؔ کہا اس نے اپنی قسم کو انتہائی مضبوط کردیا۔ اور اصل کلام اس طرح ہے : اقسم جہد الیمین ای اقسم یجھد الیمین جھدًا فعل…
Read the full tafseer →تفسیر۔
53۔ واقسموا بااللہ جھد ایمانھم، ، اپنی قسموں میں خوب کوشش کرنا یاجلدی کرنا اور اللہ کی قسم کے اوپر اور کوئی قسم نہیں، لئن امرتھم لیخرجن، ، چونکہ منافقین رسول اللہ سے کہا کرتے تھے کہ آپ جہاں بھی ہوں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے اگر آپ جہاد یاغزوات کے لیے نکلیں گے ہم آپ کے ساتھ نکلیں گے۔ اگر آپ قیام کریں گے توہم بھی یہی آپ کے ساتھ ٹھہرجائیں گے۔ اگر آپ ہم کو جہاد کا حکم دیں گے توہم جہاد کریں گے۔ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو کہیں قل ، لاتقسموا، ، یعنی تم قسمیں نہ اٹھاؤ یہاں پر کلام پورا ہوگیا، طاعۃ معروفہ، یہ طاعت خواہ قول کے ساتھ ہو یالسان کے ساتھ یہ تمہاری اعتقادی نہیں۔ تمہاری اس اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
53۔ 54:۔ منافقوں کے ذکر میں پکے مسلمانوں کا تذکرہ فرما کر اس آیت میں منافقوں کی ایک اور عادت کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جو منافق لوگ اللہ کے رسول کے فیصلہ سے گھبراتے تھے وہ پھر مسلمانوں میں اپنا اعتبار جمانے کے لیے سخت سخت اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ معاملات کے فیصلے تو درکنار ہم کو لڑائی پر جانے اور جان دے دینے کا حکم ہو تو بھی ہم حاضر ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان سے کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ ‘ تمہاری حکم برداری اور تمہارے عملوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(آیت نمبر (53
اللہ تبارک تعالیٰ ان منافقین کا حال بیان کرتا ہے جو جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں نکلے اور پیچھے گھروں میں بیٹھ رہے ‘ نیز ان کا حال بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں مرض اور ضعف ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں۔ : (لئن امرتھم) ” البتہ اگر آپ انہیں حکم دیں “ تو وہ ضرور نکلیں گے۔ “ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے : (قل لا تقسموا) ” کہہ دیجیے ! نہ قسمیں کھاؤ۔ “ یعنی ہمیں تم سے قسمیں اٹھوانے کی اور تمہارے عذروں کو توضیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں ہمیں آگاہ فرما دیا ہے اور تمہاری اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
قول باری ہے : (واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن امرتھم لیخرجن قل لا تقسموا طاعۃ معروفۃ) (یہ منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ” آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں۔ “ ان سے کہو ” قسمیں نہ کھائو، تمہاری طاعت کا حال معلوم ہے “۔ مجاہد کا قول ہے ۔ یہ تمہاری زبانی طاعت ہے جس کا حال معلوم ہے، یہ عقیدے کی بنیاد پر طاعت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے ان کی جھوٹی قسموں کی خبر دی ہے۔ ایک قول کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ طاعت اور بھلی بات تمہاری ان قسموں سے بہتر ہے۔
Read the full tafseer →112 منافقوں کی ایک عمومی نشانی جھوٹی قسمیں کھانا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے منافقوں کی نفسیات کا ایک عمومی مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ یعنی زور و شور سے قسمیں کھانا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ منافق لوگوں کی نفسیات کا ایک عمومی مظہر ہے کہ وہ قسمیں زیادہ کھاتے ہیں کہ وہ اپنے اندرونی نفاق کی وجہ سے خود اپنے آپ کو بےاعتبارا سمجھتے ہیں ۔ والعیا ذباللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ پیغمبر کے سامنے بڑی زوردار اور کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ آپ ﷺ اگر ہمیں جہاد کیلئے نکلنے کو اور اپنا گھربار چھوڑنے کو کہیں گے تو ہم ضرور بالضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ مگر جب جہاد میں نکلنے کا موقعہ آتا تو یہ لوگ اپنی ایسی کڑی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
اللہ کی اطاعت، بچوں کیلئے آداب اجازت اور کھانے کے آداب
تشریح : یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ آنے کے بعد بھی کفار ‘ مشرکین اور منافقین کی چالوں سے آپ ﷺ اور مسلمانوں کو واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو ان کی چالوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتا دو ان کی اصل حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں۔ اس لیے جو بھی اللہ و رسول کے احکامات سے دور بھاگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کو دھوکہ دے سکتا ہے تو یہ غلط خیال ہے اس کی سزا تو ان کو خوب اچھی طرح بھگتنی پڑے گی کیونکہ رسول نے پیغام دے دیا جو نیک عمل نہ کرے گا سزا پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا اس سے اللہ کے تین وعدے ہیں۔ حکومت ‘ دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
(نفاذ اسلام اہل ایمان کا کام ہے)
اہل ایمان کی شان تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ ورسول کے مطابق فیصلہ قبول کرنے کا کہا جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہمیں منظور ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں یعنی نفاذ اسلام یا اسلامی قانون کی راہ میں صرف لوگوں کی منافقت حائل ہوتی ہے اور اہل ایمان فورا عملی زندگی میں اسلامی قانون اپناتے ہیں اور اسلامی قانون اپنانے اور اختیار کرنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔
(نجات ابدی کی چار شرائط)
کہ یہ اصولی بات ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی یعنی فرائض ادا کیے ” ورسولہ ‘ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع کیا ۔ (آیت) ” ویخش اللہ “ اور گذشتہ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
1 ۔ یعنی بس خاموش رہو۔ معلوم ہے کہ تم کتنے اطاعت گزار ہو۔ ” طاعۃ معروفہ “ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دستور کے مطابق (یعنی جیسے سب لوگ کرتے ہیں) اطاعت کرنا تمہارے لئے زیادہ سزاوار ہے قسمیں کھانے اور خوشامد کی باتیں کرنے سے کیا فائدہ ؟ (شوکانی)
Read the full tafseer →(24:53) اقسموا ماضی جمع مذکر غائب۔ اقسام (افعال) مصدر وہ قسمیں کھاتے ہیں۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع مستعمل ہے) یہاں پھر اشارہ منافقوں کی طرف ہے۔
جھد۔ تاکید پوری کوشش۔ طاقت، مشقت۔ جھد یجھد (فتح) کا مصدر ہے کیونکہ مصدر فعل محذوف کی تاکید میں آیا ہے لہٰذا منصوب ہے۔ جھد الیمین ای بلوغ غایتھا انتہائی شدومد سے۔ جیسے کہتے ہیں جھد نفسہ اپنی طاقت ووسعت کے ساتھ۔ اقسموا باللہ جھد ایمانہم۔ وہ انتہائی زور شور سے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں۔ لیخرجن۔ جواب شرط ہے۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ جمع مذکر غائب وہ ضرور بالضرور نکل پڑیں گے۔ نکلنا سے مراد یا جہاد کے لئے یا گھر بار چھوڑ کر۔
طاعۃ معروفۃ۔ خبر۔ مبتدا محذوف۔ ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 :
دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 :
جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(ف 1) حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ جو منافق لوگ اللہ کے رسول کے فیصلہ سے گھبراتے تھے وہ پھر مسلمانوں میں اپنا اعتبار جمانے کے لیے سخت سخت اللہ کی قسمیں کھاکرکہتے تھے کہ ہم کو لڑائی پر جان اور جان دینے کا حکم ہو تو بھی ہم حاضر ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ، تمہاری حکم برداری اور تمہارے عملوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے پھر فرمایا اے محبوب ان لوگوں سے کہہ دو کہ کہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی حکم برداری کریں کیونکہ اللہ تعایل کے رسول کا کام اللہ کے پیغام کو پہنچادیتا ہے اور امت کے لوگوں کا کام اس کے موافق عمل کرنا ہے جب اللہ کے رسول اپنا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
[53] یہاں ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی دل میں تو ایمان کسی منافق کے بھی نہیں لیکن ان کھلم کھلا حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں نے تو ایمان ظاہری کا پردہ بھی ہٹا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
منافقین کے جذبہ اطاعت کی حقیقت :
(ف 2) ان آیات میں منافقین کی ذہنیت کا آشکارا کیا ہے ارشاد ہے کہ ظاہر میں تو یہ لوگ اسلام کے فضائل و محاسن کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مومن ہیں ، اور اللہ و رسول کے مطیع ومنقاد ہیں ، مگر حقیقت میں یہ مومن نہیں ، ان میں سرکشی اور تمرد کا مادہ ہنوز موجود ہے ، چناچہ جب ان سے کسی معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لو اور اس کے فیصلوں کے سامنے جھک جاؤ ان میں سے بعض لوگ روگردانی کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے معاملہ میں حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ، ہاں اگر انہیں یہ یقین ہوجائے ، کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا ، اور ہمیں کچھ دلایا جائے گا ، تو…
Read the full tafseer →(53) اور وہ منافق بڑی تاکید سے اس بات پر اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر آپ ان کو حکم دیں کہ سب کچھ چوڑ چھاڑ کر جہاد یا ہجرت کے لئے گھروں سے نکل آئو تو فوراً نکل آئیں گے۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قسمیں نہ کھائو تمہاری فرمانبرداری کی حقیقت معلوم ہے فرمانبرداری تو دستور کے موافق ہونی چاہئے بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی پوری خبر رکھتا ہے یعنی بیکار قسمیں کھا کر جھوٹے وعدوں سے کیا فائدہ کہ ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل آئیں گے تمہاری فرمانبرداری کی سب حقیقت معلوم ہے سچے مسلمانوں کی طرح فرمانبرداری کا جو دستور ہے وہ فرماں برداری کرکے دکھائو تم اگر زوردار قسمیں کھاکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
ف 6۔ اس لئے حضور نبوی میں مقدمہ لانا پسند نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →رسول کے ذمہ پیغام پہنچانا ہے ‘ ہدایت پر لگا دینا نہیں :
87۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت کی طرف سے رسول کی ذمہ داری صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ واضح طور پر لوگوں کو اللہ کا دین پہنچا دے چناچہ وہ اس نے پہنچا دیا اب اس کو قبول کرنا نہ کرنا ‘ اس کے مطابق عمل کرنا نہ کرنا تمہاری ذمہ داری ہے اور تم اپنی ذمہ داری نہیں ادا کرتے ہو تو اس کا خمیازہ بھی تم ہی کو بھگتنا ہوگا ۔ ایک بار مزید غور کرو کہ زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری تمام آیات میں ایمان کا لازمی تقاضا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی کو بتایا گیا ہے اور دوسری جگہ اللہ کی اطاعت کا راستہ بھی رسول ہی کی اطاعت کو قرار دیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
Four conditions for success and victory
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّـهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿52﴾
And whoever obeys, Allah and His messenger and has awe of Him and observes Tagwa of Him, then such people are the victorious. [ 52]
In this verse it is declared that those who bind themselves to follow these four things are the ones who are successful and victorious in this world and the Hereafter.
An astonishing incident
An incident of Sayyidna ` Umar ؓ is reported in Tafsir Qurtubi, which explains the difference between these four things and puts…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
81. The verse may also mean that the obedience expected of the believers is of recognized and well known type, which is above every kind of suspicion, and not such as may need swearing of oaths to convince others of its sincerity. Their conduct is manifest and everybody who comes into contact with them feels that they are truly obedient to Allah and His Prophet.
82. That is, you might succeed in deceiving the people, but you cannot deceive Allah, Who is aware of everything, open or hidden, even of your innermost motives and intentions.
Read the full tafseer →