Explained with ayahs 47–52
منافق کی زبان اور، دل
منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
سورة النُّوْر 80
یعنی اس طرز عمل کی تین ہی وجہیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی سرے سے ایمان ہی نہ لایا ہو اور منافقانہ طریقے پر محض دھوکا دینے اور مسلم معاشرے میں شرکت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے مسلمان ہوگیا ہو۔ دوسرے یہ کہ ایمان لے آنے کے باوجود اسے اس امر میں ابھی تک شک ہو کہ رسول خدا کا رسول ہے یا نہیں، اور قرآن خدا کی کتاب ہے یا نہیں، آخرت واقعی آنے والی ہے بھی یا یہ محض ایک افسانہ تراشیدہ ہے، بلکہ خدا بھی حقیقت میں موجود ہے یا یہ بھی ایک خیال ہے جو کسی مصلحت سے گھڑ لیا گیا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ خدا کو خدا اور رسول کو رسول مان کر بھی ان سے ظلم کا اندیشہ رکھتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ خدا کی کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
فوز و فلاح کے لئے چار شرطیں
وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ اس آیت میں چار چیزیں بیان کر کے فرمایا ہے کہ جو ان چار چیزوں کے پابند ہیں وہ ہی بامراد اور دین و دنیا میں کامیاب ہیں۔
ایک واقعہ عجیبہ
تفسیر قرطبی میں اس جگہ ایک واقعہ حضرت فاروق اعظم کا نقل کیا جس سے ان چاروں چیزوں کے مفہوم کا فرق اور وضاحت ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم ایک روز مسجد نبوی میں کھڑے تھے اچانک ایک رومی دہقانی آدمی بالکل آپ کے برابر آ کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا انا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ، حضرت فاروق اعظم نے پوچھا…
Read the full tafseer →یتقہ میں تخفیف کی وجہ سے لفظ کی شکل کچھ بدل گئی ہے لیکن اس قسم کی تخفیف عربی میں معروف ہے۔
مغثیث اور تقویٰ سے مراد
خشیۃ اور تقویٰ یہاں دونوں لفظ ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک خشیۃ، یہاں دل کی حالت کی تعبیر کے لئے ہے اور تقویٰ سے مراد حدود الٰہی کی پاسداری ہے۔ یعنی ایک کا تعلق باطن سے ہے۔ دوسرے کا تعلق ظاہر ہے۔
اصلی فائز المرام گروہ
فرمایا کہ اصل فائز المرام ہونے والے وہ لوگ ہیں جو نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں، اپنے تمام ذاتی اغراض و مفادات سے بالاتر ہو اللہ و رسول کی اطاعت کریں اور ان کے دلوں میں اللہ کا خوف اور وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں خدا کے حدود کی پوری پوری پاسداری کریں۔ اس…
Read the full tafseer →52-1یعنی فلاح و کامیابی کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو اپنے تمام معاملات میں اللہ اور رسول کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتے اور انہی کی اطاعت کرتے ہیں اور خشیت الٰہی اور تقوٰی سے متصف ہیں، نہ کہ دوسرے لوگ، جو ان صفات سے محروم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
39: منافقین چونکہ دل سے ایمان نہیں لائے تھے، اس لئے ان سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف معاندانہ حرکتیں سرزد ہوتی رہتی تھیں، چنانچہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا، یہودی جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حق کا فیصلہ کریں گے اس لئے اس نے بشر کو پیشکش کی کہ چلو آنحضرت ﷺ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرالیں، بشر کے دل میں چور تھا، اس لئے اس نے آپ سے فیصلہ کرانے کے بجائے ایک یہودی سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی، اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(ومن یطع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفآئزون) (52)
آیت سابقہ میں موضوع سخن یہ تھا کہ اہل ایمان اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں میں مطیع فرمان ہوتے ہیں۔ اب یہاں کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قانونی فیصلوں کے علاوہ بھی اللہ کے احکام ونواہی کی پابندی کرتے ہیں اور یہ اطاعت وہ قانونی گرفت کے خوف سے نہیں کرتے بلکہ اللہ کی گرفت کے خوف سے وہ یہ اطاعت کرتے ہیں۔ تقویٰ خشیت سے ذرا عام لفظ ہے کیونکہ خشیت اور خوف سے ڈر ! آگے بڑھ کر تقویٰ میں چھوٹے اور بڑے معاملات میں احتیاط کا شعور انسان کے اندر پیدا ہوجاتا ہے جبکہ خشیت میں خوف اور ڈر کا پہلو ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے ڈرتا ہے اور اطاعت کرتا ہے…
Read the full tafseer →7 یعنی جو فی الحال فرمانبردار ہو، گذشتہ تقصیرات پر نادم ہو کر اور خدا سے ڈر کر توبہ کرے اور آئندہ برے راستہ سے بچ کر چلے، اسی کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
آیت 51 اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ط ”
کہ ہم تو فیصلے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے حضور حاضر ہیں۔ آپ ﷺ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں بسر وچشم قبول ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
79 یعنی مومنوں کی نظر منافقوں کی طرح اپنے ذاتی مفادات پر نہیں ہوتی۔ بلکہ اپنا تمام تر مفاد اس بات میں سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل و جان سے اطاعت کی جائے وہ اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ اللہ کا رسول انھیں کوئی حکم دے جسے وہ بجا لائیں۔ ان کی خوشی بھی اسی بات میں ہوتی ہے اور اطمینان بھی اسی بات میں۔ اور جن لوگوں نے اپنی تمام تر اغراض، خواہشات اور مفادات کو اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کے تابع بنادیا۔ تو اللہ بھی ایسے لوگوں کی حمایت و نصرت فرماتا ہے وہ دنیا میں بھی انھیں کامیاب بنائے گا اور آخرت میں بھی ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
106۔ (گھر بار سب چھوڑ چھاڑ) اب ذکر انہیں منافقین کا ہے۔
107۔ (اور اس نے مجھے بتا دیا ہے) مطلب یہ ہے کہ زبانی ونمائشی دعو وں سے کچھ بھی نہیں ہونے کا، ضرورت صرف مخلصانہ عمل کی ہے۔ (آیت) ” طاعۃ معروفۃ “۔ یعنی تمہاری فرمانبرداری کی حقیقت خوب معلوم ہوچکی !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51 تا 57
ترجمہ : ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا (عملاً ) مان لینا، یعنی ایسا کہنا ہی مومنین کی شان کے لائق ہے اور ایسے ہی لوگ اس قول کی وجہ سے فلاح پائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ کا خوف رکھے اور اس (کے عذاب) سے ڈرے یَتَّقِہِ یا کے سکون اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی اس کی اطاعت کرے پس ایسے ہی لوگ جنت پاکر بامراد ہوں گے نہایت پختگی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم فرمائیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں، آپ کہہ…
Read the full tafseer →ومن یطع اللہ ورسولہ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا خواہ
اس فرماں برداری میں اس کو دکھ پہنچے یا خوشی حاصل ہو۔
ویخش اللہ اور اللہ سے ڈرتا رہے گا۔ یعنی اپنے کئے ہوئے گناہوں کی پکڑ کا اور اللہ کے حکم کے خلاف کرنے کا
اس کو ڈر لگا رہے گا۔
ویتقہ اور اللہ (کے عذاب) سے خوف رکھے گا۔ یعنی اللہ کے احکام و حدود کی پابندی کرے گا تعمیل اوامر کرے گا اور
ممنوعات سے بچتا رہے گا۔
فاولئک ہم الفائزون۔ سو ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ دوامی سکھ اور اللہ کی خوشنودی ان کو ملے گی۔
Read the full tafseer →(52) اور اگلی آیت بھی حضرت عثمان بن عفان ؓ کے بارے میں ان کی اس درخواست پر نازل ہوئی، انہوں نے عرض کیا تھا اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ کی رضا ہو تو میں اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خیرات کر دوں، چناچہ اللہ تعالیٰ ان کی تعریف میں فرما رہے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور سابقہ چیزوں پر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور آئندہ اس کی مخالفت سے بچے، ایسے ہی حضرات جنت حاصل کر کے بامراد اور دوزخ سے دور ہوں گے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔۔ : ”وَيَتَّقْهِ“ اصل میں ”یَتَّقِیْہِ“ تھا، آیت کے شروع میں اسم جازم ”مَن“ کی وجہ سے اس کی یاء گرگئی اور لفظ ”یَتَّقِہِ“ ہوگیا، جس میں قاف اور ہاء دونوں پر کسرہ ہے، پھر تخفیف کے لیے قاف کو ساکن کردیا، جیسے ”کَتْفٌ“ کی تاء کو ساکن کیا گیا۔ (ابوالسعود) یعنی صرف باہمی جھگڑے کے لیے ہی نہیں بلکہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کوئی کوتاہی ہوجائے تو اللہ سے ڈرے، اس گناہ سے توبہ کرے اور معافی مانگے اور آئندہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور جو ایسا کریں سو وہی مراد پانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ (جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے) اپنے فرائض میں وَرَسُوْلَہٗ (اور اس کے رسول کی) ان کے طرق میں وَیَخْشَ اللّٰہَ (اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے) اپنے گزشتہ گناہوں کے سلسلہ میں وَیَتَّقْہِ (اور وہ تقویٰ اختیار کرے) زمان مستقبل میں۔ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآپزُوْنَ ( وہی کامیاب ہونے والے ہیں)
نکتہ : کسی بادشاہ نے پوچھا کہ قرآن مجید میں کافیہ آیت کو نسی ہے تو جواباً ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ واقع میں یہ آیت کامیابی کے تمام اسباب کو جمع کرنے والی ہے۔
قراءت : وَیَتَّقِہْ ہاء کے سکون سے پڑھنا ابو عمرو، ابوبکر نے بنسبت وقف درست قرار دیا ہے اور حفص نے قافؔ کے سکون، کسرئہ ہاء سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اٰمنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتوالی فریق منہم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین۔ کے بارے میں فرمایا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ جنہوں نے ایمان اور اطاعت کو ظاہر کیا اور اس کے باوجود لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اس کی اطاعت سے اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد میں جانے سے بھی روکتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ برحق فیصلہ فرماتے تھے
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور جب اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ حق پر ہوتا تھا…
Read the full tafseer →وَمَنْ [ اور جو ] يُّطِعِ [ اطاعت کرتا ہے ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَرَسُوْلَهٗ [ اور اس کے رسول ﷺ کی ] وَيَخْشَ [ اور ڈرتا ہے ] اللّٰهَ [ اللہ ] وَيَتَّقْهِ [ اور تقوی کا زور لگاتے ہوئے ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ [ ہی کامیاب ہونے والے ہیں ]
نوٹ۔ 1: حضرت عمر ؓ ایک روز مسجد نبوی میں کھڑے تھے۔ اچانک ایک رومی دہقانی آدمی آپ کے برابر آکر کھڑا ہوگیا اور اس نے کلمہ پڑھا۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کیا بات ہے تو اس نے کہا میں اللہ کے لئے مسلمان ہوگیا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کیا اس کا کوئی سبب ہے تو اس نے کہاں۔ بات یہ ہے کہ میں نے تورات ، انجیل، زبور اور انبیاء سابقین کی بہت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ایمان والوں کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی طرف بلایا جاتا ہے تو سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا کہہ کر رضا مندی ظاہر کردیتے ہیں اور یہ لوگ کامیاب ہیں
اوپر منافقین کا حال بیان فرمایا کہ وہ صرف زبان سے ایمان اور اطاعت کا اقرار اور اعلان کردیتے ہیں پھر جب ان کے جھگڑوں کے فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو اعراض کرتے ہیں اور بچ کر چلے جاتے ہیں وہ لوگ اپنے ایمان کے اعلان و اقرار میں جھوٹے ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں سچے مومنین کا قول و عمل بتایا اور وہ یہ کہ جب انہیں کسی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ ہر موقعہ پر (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین
قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
54:۔ ” انما کان الخ “ : منافقین کا حال بیان کرنے کے بعد ان کے مقابلے میں مخلص مومنوں کا حال بیان کیا گیا اور انہیں اخروی بشارت دی گئی۔ منافقین کا حال تم نے سن لیا اب مخلصین کا حال بھی سن لو۔ مخلصین کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں کو بلا چون و چرا دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں اور ان کے قبول کرنے میں ذرا تامل اور پس و پیش نہیں کرتے اور آخرت کی فلاح بھی ان ہی لوگوں کے لیے ہے۔ ” ومن یطع اللہ الخ “ اور جو لوگ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اللہ سے ڈریں اور ہر قسم کے شرک سے بچیں وہ لوگ آخرت میں کامیاب و کامران ہوں گے ” یخش اللہ “ یعنی جو گناہ وہ کرچکا ہے ان پر گرفت سے ڈرے ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ربط آیات :
پہلے اللہ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور پھر منافقوں کی مذمت بیان کی کہ جب کسی تنازعہ کے فیصلے کی خاطر انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ ہاں ، اگر انہیں یقین ہو کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا ، تو اطاعت کے انداز میں دوڑ کر آتے ہیں۔ اور اگر ان کی توقع اس کے برخلاف ہو تو دربار نبوی میں آنے سے ٹال مٹول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی ذہنیت کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یا تو ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہوگی ، یا اللہ کی توحید ، نبی کی رسالت یا دین کے متعلق شک ہوگا اور یا پھر انہیں اللہ اور اس کے رسول سے ناانصافی کی توقع ہوگی۔ فرمایا ایسے شخص سے بڑھ…
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَخْشَ اللہَ وَيَتَّقْہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 52
طوع
الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» .
قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں…
Read the full tafseer →وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَیَخْشَ اللّٰہَ وَیَتَّـقْہِ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفَـآئِزُوْنَ ۔ (النور : 52)
(اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور جو اس سے ڈریں گے اور اس کی حدود کی پاسداری کریں گے وہی لوگ ہیں جو فائزالمرام ہوں گے۔ )
مسلمانوں کی کامیابی کی تین شرائط، اطاعت، خشیت، تقویٰ
مسلمانوں کی کامیابی کا پہلا زینہ سمع و اطاعت کا بےپناہ جذبہ ہے۔ جس سے اس بات کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کی زندگی میں حکمرانی کس نظریئے کی ہے اور وہ کون ذات ہے جسے وہ اپنا حاکم حقیقی اور رہنمائے حق سمجھتے ہیں۔ لیکن فوزوفلاح کے حصول کے لیے یہ جذبہ اور یہ دعویٰ اور یہ اقدام کافی نہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : منافقوں کے مقابلہ میں مومنوں کا اخلاص اور کردار۔
منافق کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی طرف بلایا جائے تو وہ اس سے انحراف کے راستے تلاش کرتا ہے اس کے مقابلہ میں مومنوں کو یہ دعوت دی جائے کہ آؤ اپنے قضیہ میں اللہ اور اس کے رسول سے فیصلہ کرواتے ہیں تو مومنوں کی اس کے سوا کوئی بات اور خواہش نہیں ہوتی کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول سے فیصلہ کروانے اور اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور تہہ دل سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی نافرمانی سے اخلاص کے ساتھ بچنے کی کوشش کرے وہ اپنی…
Read the full tafseer →52: وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ (جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے) اپنے فرائض میں وَرَسُوْلَہٗ (اور اس کے رسول کی) ان کے طرق میں وَیَخْشَ اللّٰہَ (اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے) اپنے گزشتہ گناہوں کے سلسلہ میں وَیَتَّقْہِ (اور وہ تقویٰ اختیار کرے) زمان مستقبل میں۔ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآپزُوْنَ ( وہی کامیاب ہونے والے ہیں)
نکتہ : کسی بادشاہ نے پوچھا کہ قرآن مجید میں کافیہ آیت کو نسی ہے تو جواباً ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ واقع میں یہ آیت کامیابی کے تمام اسباب کو جمع کرنے والی ہے۔
قراءت : وَیَتَّقِہْ ہاء کے سکون سے پڑھنا ابو عمرو، ابوبکر نے بنسبت وقف درست قرار دیا ہے اور حفص نے قافؔ کے سکون، کسرئہ…
Read the full tafseer →52۔ ومن یطع اللہ ورسولہ ویخش اللہ، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ خواہ اس فرمانبرداری میں اس کو دکھ پہنچے یاخوشی حاصل ہو۔
نیک اعمال کی بناء پر اور دکھ اور رنج پہنچے گناہ کی وجہ سے۔ ویتقہ، اور اس کے بعد اس سے بچا رہے۔ فاو لئک ھم الفائزون، ، وہ نجات پانے والے ہیں۔ ابوعمرو اور ابوکر نے ھاء سے کے ساکن کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے اس کے کسرہ کی صورت میں یامحذوف ہوجاتی ہے تو اس سے ماقبل والے کو ساکن کردیتے ہیں۔ لم اشتر طعاما، اصل میں اشتری تھا، یاء کو حذف کیا اور یاء دونوں ساکن تھی ، اس لیے راء کو ساکن ہی رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
48۔ 52:۔ تفسیر ابن المنذر ‘ عبداللہ حمید اور ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقوں کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت ﷺ جو فیصلہ کرتے اور حکم دیتے ہیں بغیر کسی رو رعایت کے وہ فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ‘ اس لیے جس معاملے میں وہ منافق لوگ حق پر ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری ہوتی ‘ تو ایسے معاملے کو اپنا حق پانے کی خوشی میں دوڑ کر آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آتے تھے اور جس معاملے میں یہ لوگ حق پر نہ ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری نہ ہوتی اور اس قرینہ سے جان لیتے کہ آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(آیت نمبر (51
اللہ تبارک و تعالیٰ نے احکام شریعت سے رو گردانی کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد ‘ اہل ایمان جو مدح کے مستحق ہیں ‘ کا حال بیا کیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( انما کان قول المومنین) یعنی حقیقی مومن جنہوں نے اپنے اعمال کے ذریعے اپنے ایمان کی تصدیق کی جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے خواہ یہ فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے یا مخالف (ان یقولوا سمعنا واطعنا) ” وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ “ یعنی ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو سنا اور جس نے ہمیں اس فیصلے کی طرف بلایا ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہا اور ہم نے مکمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
مقدمات کے لئے عدالت بلائے تو حاضری واجب ہے
قول باری ہے : (انما کان قول المومنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم ان یقولوا سمعنا واطعنا) ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اس میں اس مضمون کی تاکید ہے جو پہلے گزرچکا ہے، وہ یہ کہ جب حاکم کی طرف سے مقدمات کے سلسلے میں بلاوا آئے تو حاضری دینا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلاوے پر حاضری دینے کو اہل ایمان کی صفت گنوایا ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو بلایا جائے اس پر ابتدائی مرحلے میں اپنے قول کے ذریعے اس بلاوے کا جاب دینا…
Read the full tafseer →111 سچے مسلمانوں کا انعام فوز و فلاح سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے کہ یہ دوزخ سے بچ گئے اور جنت کی سدا بہار نعمتوں سے بہرہ ور و سرفراز ہوگئے۔ اور رضائے خدا وندی کے شرف سے مشرف ہوگئے۔ اور یہی ہے حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی۔ روایات میں ہے کہ اس آیت کریمہ کو سن کر روم کے بعض پادری اسلام میں داخل ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ اس میں تورات اور انجیل کی سب تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ پیش کردیا گیا۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو ایسی سچی اور حقیقی کامیابی ہی کو مسلمان اصل مقصد اور اپنا نصب العین بنانا چاہیئے ۔ { لِمِثْلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
مؤمنین کی پہچان
تشریح : مومن کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو ایمان لے آئے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کو سچا مان لے اور جو اللہ و رسول پر ایمان لے آتا ہے تو پھر وہ اپنے ہر معاملے کا فیصلہ ان کے مقرر کیے گئے احکامات کے مطابق کرتے ہیں تو ظاہر ہے اس طرح وہ فلاح پاتے ہیں اور مزے میں رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ نے فرمایا ہے۔” وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ ( آیت 52 النور)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
(نفاذ اسلام اہل ایمان کا کام ہے)
اہل ایمان کی شان تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ ورسول کے مطابق فیصلہ قبول کرنے کا کہا جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہمیں منظور ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں یعنی نفاذ اسلام یا اسلامی قانون کی راہ میں صرف لوگوں کی منافقت حائل ہوتی ہے اور اہل ایمان فورا عملی زندگی میں اسلامی قانون اپناتے ہیں اور اسلامی قانون اپنانے اور اختیار کرنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔
(نجات ابدی کی چار شرائط)
کہ یہ اصولی بات ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی یعنی فرائض ادا کیے ” ورسولہ ‘ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع کیا ۔ (آیت) ” ویخش اللہ “ اور گذشتہ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
1 ۔ یعنی بس خاموش رہو۔ معلوم ہے کہ تم کتنے اطاعت گزار ہو۔ ” طاعۃ معروفہ “ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دستور کے مطابق (یعنی جیسے سب لوگ کرتے ہیں) اطاعت کرنا تمہارے لئے زیادہ سزاوار ہے قسمیں کھانے اور خوشامد کی باتیں کرنے سے کیا فائدہ ؟ (شوکانی)
Read the full tafseer →(24:52) یطع۔ اطاع یطیع (افعال) اطاعۃ سے۔ مانتا ہے فرمانبرداری کرتا ہے اطاعت کرتا ہے۔ یخش۔ خشی۔ یخشی (باب سمع) خشیۃ سے وہ ڈرتا ہے اور یتق۔ اتقی یتقی اتقاء (افتعال) سے دقی مادہ۔ خود کھاتا ہے ۔ ڈرتا ہے۔ بچتا ہے (نافرمانی سے) ہر سہ مضارع مجزوم بوجہ جملہ شرطیہ ہونے کے من یہاں شرطیہ ہے بصیغہ واحد مذکر غائب ہیں۔ یتقہ میں ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اللہ کے لئے ہے یعنی جو اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 :
دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 :
جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
(ف 3) شان نزول :
جس کا مطلب یہ ہے کہ بشرنامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سید عالم حق وعدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لیے اس نے خواہش کی یہ مقدمہ نبی ﷺ سے فیصل کر ایاجائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور نبی ﷺ عدل و انصاف میں کسی کی رعایت نہیں فرماتے، اس لیے وہ نبی ﷺ کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مصر ہوا اور نبی ﷺ کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
[53] یہاں ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی دل میں تو ایمان کسی منافق کے بھی نہیں لیکن ان کھلم کھلا حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں نے تو ایمان ظاہری کا پردہ بھی ہٹا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
منافقین کے جذبہ اطاعت کی حقیقت :
(ف 2) ان آیات میں منافقین کی ذہنیت کا آشکارا کیا ہے ارشاد ہے کہ ظاہر میں تو یہ لوگ اسلام کے فضائل و محاسن کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مومن ہیں ، اور اللہ و رسول کے مطیع ومنقاد ہیں ، مگر حقیقت میں یہ مومن نہیں ، ان میں سرکشی اور تمرد کا مادہ ہنوز موجود ہے ، چناچہ جب ان سے کسی معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لو اور اس کے فیصلوں کے سامنے جھک جاؤ ان میں سے بعض لوگ روگردانی کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے معاملہ میں حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ، ہاں اگر انہیں یہ یقین ہوجائے ، کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا ، اور ہمیں کچھ دلایا جائے گا ، تو…
Read the full tafseer →(52) اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مانے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کی مخالفت اور ناراضگی سے بچتا رہے پس ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور برے راستے سے بچتے رہنا یہی باتیں دین و دنیا میں کامیابی اور حصول مراد کی ضامن ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
ف 6۔ اس لئے حضور نبوی میں مقدمہ لانا پسند نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری کی مزید وضاحت :
86۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ ان سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ ایمان صرف یہ ہے کہ بلا چون وچرا رسول کے تمام فرامین کی اطاعت کرو اور اگر روگردانی کرو گے تو تم خود اس کے ذمہ دار ہو اس لئے کہ رسول نے تو اپنا فرض تبلیغ و رسالت ادا کردیا اس کا کام صرف اسی قدر تھا کہ اللہ رب العزت کا پیغام تم کو سنا دے اور تمہارے شکوک و شبہات کو دور کردے ۔ زیر نظر آیت میں رسول کی اطاعت کا جو حکم دیا گیا ہے کیونکہ ” علیہ ماحمل “ کے الفاظ خود بول بول کر کہہ رہے ہیں کہ اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے جو کسی بات کی مکلف کی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ مکلف انسان ہی ہو سکتا ہے نہ کہ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
Four conditions for success and victory
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّـهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿52﴾
And whoever obeys, Allah and His messenger and has awe of Him and observes Tagwa of Him, then such people are the victorious. [ 52]
In this verse it is declared that those who bind themselves to follow these four things are the ones who are successful and victorious in this world and the Hereafter.
An astonishing incident
An incident of Sayyidna ` Umar ؓ is reported in Tafsir Qurtubi, which explains the difference between these four things and puts…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
80. That is, there can be only three reasons for such a conduct. First, a person may not have believed at all but may only be posing as a Muslim in order to enjoy the benefits of belonging to the Muslim community. Secondly, he might have believed but may still be having doubts about the reality of the Prophethood, revelations, life-afterdeath, and even the existence of Allah Himself. Thirdly, he may be a believer but might at the same time be apprehending injustice from Allah and His Prophet and considering their commands disadvantageous to him personally in one way or the other. There can be…
Read the full tafseer →