An-Noor 24:51

An-Noor · from ayah 51

24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَی اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ؕ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۟اِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا‌ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The only statement of the [true] believers when they are called to Allah and His Messenger to judge between them is that they say, "We hear and we obey." And those are the successful.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:51

ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلا ئے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وه کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

مومنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (حکم) سن لیا، اور مان لیا۔ اور ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے کہ عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہو گئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایمان والوں کی بات، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے سوا نہیں ہوتی کہ وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مومنوں کی تو بات ہی یہ ہوتی ہے کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اہل ایمان کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب وہ اپنی کسی باہمی نزاع کے فیصلہ کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا اور درحقیقت یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے برعکس سچے مسلمانوں کی شان یہ ہے کہ جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف تاکہ فیصلہ فرمائے ان کے درمیان اللہ کا رسول تو وہ برضا ورغبت یوں کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا اپنے اور اس کے رسول کے حکم کو اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

— مولانا اسحاق مدنی

ایمان والوں کا قول تو یہ ہے جب وہ بلائے جاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ (رسول) ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔ تو ایسے ہی لوگ تو فلاں یاب ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

حقیقی مؤمنین کو تو جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے مابین فیصلہ کریں تو ان کا قول بس یہی ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا اور وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنین کی تو یہ بات ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں گے ہم نے حکم سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As regards the Believers, when they are called towards Allah and His Messenger so that the Messenger may judge between them, they say, "We have heard and obeyed"; such are the people who attain true success,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The only reply of the (true) believers, when they are summoned to Allah and His messenger that he (the messenger) may judge between them, is that they say, :We listen and obey. Such people are the successful.

— Muhammad Taqi Usmani

The only reply of the (true) believers, when they are summoned to Allah and His messenger that he (the messenger) may judge between them, is that they say, :We listen and obey. Such people are the successful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The only saying of the faithful believers, when they are called to Allah and His Messenger, to judge between them, is that they say: "We hear and we obey." And such are the successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The saying of (all true) believers when they appeal unto Allah and His messenger to judge between them is only that they say: We hear and we obey. And such are the successful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The only statement of the [true] believers when they are called to Allah and His Messenger to judge between them is that they say, "We hear and we obey." And those are the successful.

— Saheeh International

When the believers are called to God and His Messenger to be judged, their only words are, "We have listened and obeyed." They will have everlasting happiness.

— Muhammad Sarwar

The response of the believers, when they are invited to Allah and His Apostle that he may judge between them, is only to say: We hear and we obey; and these it is that are the successful.

— Muhammad Habib Shakir

-The only saying of the believers when they were called to Allah and His apostle thathe might judge between them was that they said: We hear and we obey. And these! they are the very ones blissful.

— Abdul Majid Daryabadi

The answer of the Believers, when summoned to Allah and His Messenger, in order that He may judge between them, is no other than this: they say, "We hear and we obey": it is such as these that will attain felicity.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–52

منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 50–52

سورة النُّوْر 80 یعنی اس طرز عمل کی تین ہی وجہیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی سرے سے ایمان ہی نہ لایا ہو اور منافقانہ طریقے پر محض دھوکا دینے اور مسلم معاشرے میں شرکت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے مسلمان ہوگیا ہو۔ دوسرے یہ کہ ایمان لے آنے کے باوجود اسے اس امر میں ابھی تک شک ہو کہ رسول خدا کا رسول ہے یا نہیں، اور قرآن خدا کی کتاب ہے یا نہیں، آخرت واقعی آنے والی ہے بھی یا یہ محض ایک افسانہ تراشیدہ ہے، بلکہ خدا بھی حقیقت میں موجود ہے یا یہ بھی ایک خیال ہے جو کسی مصلحت سے گھڑ لیا گیا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ خدا کو خدا اور رسول کو رسول مان کر بھی ان سے ظلم کا اندیشہ رکھتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ خدا کی کتاب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–51

معارف و مسائل یہ آیات ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہیں۔ طبری وغیرہ نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ منافقین میں سے ایک شخص بشر نامی تھا اس کے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کے متعلق جھگڑا اور خصومت تھی۔ یہودی نے اس کو کہا کہ چلو تمہارے ہی رسول سے ہم فیصلہ کرا لیں مگر بشر منافق ناحق پر تھا یہ جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس مقدمہ گیا تو آپ حق کے موافق فیصلہ کریں گے اور میں ہار جاؤں گا اس نے اس سے انکار کیا اور آنحضرت ﷺ کے بجائے کعب بن اشرف یہودی کے پاس مقدمہ لے جانے کو کہا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور آیت اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ الآیتہ میں جو ان کے دلوں میں کفر یقینی کا مرض یا نبوت میں شک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سچے مسلمان کی شان یہ سچے مسلمانوں کی شان بتائی کہ ان کو جب کسی معاملہ کے فیصلہ کے لئے اللہ و رسول کی طرف بلایا جائے تو ان کی شان یہ ہونی چاہئے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اس کو قبول کریں کہ ہم نے سنا اور مانا فرمایا کہ جو لوگ اس طرح ہر لوث اور ہر طمع و خوف سے بالاتر ہو کر اپنے آپ کو اللہ و رسول کے حوالہ کریں گے درحقیقت دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے حقیقی مفاد کو محفوظ کرنے والے وہی ہیں نہ کہ یہ لوگ جو بیک وقت کفر و اسلام دونوں سے اپنے مفاد کے حد تک دوستی رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ دو کشتیوں کے سوار لازماً ڈوب کے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–52

39: منافقین چونکہ دل سے ایمان نہیں لائے تھے، اس لئے ان سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف معاندانہ حرکتیں سرزد ہوتی رہتی تھیں، چنانچہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا، یہودی جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حق کا فیصلہ کریں گے اس لئے اس نے بشر کو پیشکش کی کہ چلو آنحضرت ﷺ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرالیں، بشر کے دل میں چور تھا، اس لئے اس نے آپ سے فیصلہ کرانے کے بجائے ایک یہودی سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی، اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(انما کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم المفلحون) (51) ” ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ بلاچون و چرا اور بغیر کسی ذرہ بھر انحراف کے وہ سمع و اطاعت کرتے ہیں۔ یہ سمع و اطاعت وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں پورا اعتماد وپرا یقین ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ہی حقیقی فیصلہ ہے اور اس میں مطلق عدل و انصاف ہے۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ خواہشات نفسانیہ پر مبنی ہے۔ یہ سمع و اطاعت وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی اللہ زندگی بخشنے والا ہے ‘ یہی اللہ اس کائنات میں متصرف ہے اور ان کو اس بات پر اطمینان حاصل ہے کہ اللہ لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں وہی بہتر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی سچے مسلمان کا کام یہ ہوتا ہے اور یہ ہونا چاہیے کہ جب کسی معاملہ میں ان کو خدا اور رسول کی طرف بلایا جائے خواہ اس میں بظاہر ان کا نفع ہو یا نقصان۔ ایک منٹ کا توقف نہ کریں۔ فی الفور " سمعاً وطاعۃ " کہہ کر حکم ماننے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اسی میں ان کی اصلی بھلائی اور حقیقی فلاں کا راز مضمر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 51–52

آیت 51 اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ط ” کہ ہم تو فیصلے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے حضور حاضر ہیں۔ آپ ﷺ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں بسر وچشم قبول ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 51–52

79 یعنی مومنوں کی نظر منافقوں کی طرح اپنے ذاتی مفادات پر نہیں ہوتی۔ بلکہ اپنا تمام تر مفاد اس بات میں سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل و جان سے اطاعت کی جائے وہ اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ اللہ کا رسول انھیں کوئی حکم دے جسے وہ بجا لائیں۔ ان کی خوشی بھی اسی بات میں ہوتی ہے اور اطمینان بھی اسی بات میں۔ اور جن لوگوں نے اپنی تمام تر اغراض، خواہشات اور مفادات کو اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کے تابع بنادیا۔ تو اللہ بھی ایسے لوگوں کی حمایت و نصرت فرماتا ہے وہ دنیا میں بھی انھیں کامیاب بنائے گا اور آخرت میں بھی ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

105۔ (اور پھر فورا حضور نبوی میں حاضر بھی ہوجاتے ہیں) یعنی اہل ایمان کے قول پر ان کا عمل گواہ رہتا ہے۔ (آیت) ” الی اللہ “۔ کے معنی کیے گئے ہیں کہ حکم الہی کی طرف۔ معناہ الی حکم اللہ (جصاص) اور فقہاء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حاکم شریعت جب طلب کرے حاضری ضروری ہوجاتی ہے۔ ھذا الایۃ دلیل علی وجوب اجابۃ الدعوی الی الحاکم لان اللہ تعالیٰ ذم من دعی الی رسول اللہ لیحکم بینہ وبین خصمہ فلم یجب بالقبح المذمۃ (ابن العربی) تاکید لما تقدم ذکرہ من وجوب الاجابۃ الی الحاکم اذا دعوا الیہ وجعل ذلک من صفات ال مومنین (جصاص) اور فقہاء نے اسی معنی میں یہ حدیث نبوی بھی نقل کی ہے۔ من دعی الی سلطان فلم یجب فھو ظالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–57

آیت نمبر 51 تا 57 ترجمہ : ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا (عملاً ) مان لینا، یعنی ایسا کہنا ہی مومنین کی شان کے لائق ہے اور ایسے ہی لوگ اس قول کی وجہ سے فلاح پائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ کا خوف رکھے اور اس (کے عذاب) سے ڈرے یَتَّقِہِ یا کے سکون اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی اس کی اطاعت کرے پس ایسے ہی لوگ جنت پاکر بامراد ہوں گے نہایت پختگی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم فرمائیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں، آپ کہہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما کان قول المؤمنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینہم ان یقولوا سمعنا واطعنا واولئک ہم المفلحون۔ مسلمانوں کا قول اس وقت جبکہ ان کو (کسی معاملہ میں) اللہ اور اس کے رسول کی طرف فیصلہ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے ‘ بس یہ ہوتا ہے کہ وہ (خوشی خوشی) کہہ دیتے ہیں ہم نے سن لیا اور اس کو (تہِ دل سے) مان لیا ایسے ہی لوگ (آخرت میں) فلاح پانے والے ہیں۔ اَلْمُؤْمِنِیْنَسے مراد مخلص مؤمن ہیں اولئک یعنی جو لوگ ان اوصاف کے حامل ہیں وہ سب۔ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ وہی بامراد ہوں گے ان کے علاوہ دوسرے فلاح یاب نہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(51) اب اللہ تعالیٰ کامل مومنوں کا ذکر فرماتا ہے جیسا کہ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے ساتھ رسول اکرم ﷺ کے پاس جاؤں گا اور آپ ہمارے درمیان جو فیصلہ فرمائیں گے میں اس پر راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی کہ خالص ایمان والوں کی شان اور ان کا قول تو یہ ہے کہ جس وقت ان کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان خدائی فیصلہ فرمائے تو وہ بخوشی کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے قبول کیا اور جس چیز کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس کو ہم نے مان لیا اور یہی حضرات یعنی حضرت عثمان ؓ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور اس کی ناراضگی سے آخرت میں فلاح پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔۔ : پچھلی آیات میں منافقین کی حالت بیان ہوئی، اب اس آیت میں خالص مومنوں کا بیان اور ان کی تعریف ہے، یعنی سچے مومنوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب کسی تنازع کے فیصلے کے لیے انھیں اللہ اور اس کے رسول (کتاب و سنت) کی طرف بلایا جائے، خواہ اس میں بظاہر ان کا نفع ہو یا نقصان تو وہ ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے، بلکہ فوراً کہتے ہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں کامیاب ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولؔ کا لفظ رفع سے پڑھا جائے گا۔ مگر نصب زیادہ قوی ہے کیونکہ دونوں اسموں میں سے پہلا تعریف میں دوسرے کی نسبت زیادہ مشغول ہونا چاہیے یہاں انؔ یقولوا جو کہ دوسرا اسم ہے وہ زیادہ مشغول ہے۔ قول المؤمنین ؔ کی بجائے۔ اِذَا دُعُوْآ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمْ (جبکہ ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کسی فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے) تاکہ نبی اکرم ﷺ فرمائیں۔ یزید نے لیحکم پڑھا ہے تاکہ ان کا فیصلہ کیا جائے۔ بَیْنَھُمْ (ان کے مابین) اس فیصلہ کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اتارا ہے۔ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا (بس یہ ہوتا ہے کہ وہ کہہ دیتے ہیں) ہم نے آپ کا ارشاد سنا : واَطَعْنَا (اور آپ کا حکم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–52

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اٰمنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتوالی فریق منہم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین۔ کے بارے میں فرمایا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ جنہوں نے ایمان اور اطاعت کو ظاہر کیا اور اس کے باوجود لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اس کی اطاعت سے اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد میں جانے سے بھی روکتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ برحق فیصلہ فرماتے تھے 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور جب اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ حق پر ہوتا تھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] كَانَ [ (یہی) ہوتی ہے ] قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کی بات ] اِذَا [ جب بھی ] دُعُوْٓا [ ان کو بلایا جائے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول کی طرف ] لِيَحْكُمَ [ تاکہ وہ فیصلہ کریں ] بَيْنَهُمْ [ ان کے درمیان ] اَنْ يَّقُوْلُوْا [ کہ وہ لوگ کہیں ] سَمِعْنَا [ ہم نے سنا ] وَاَطَعْنَا ۭ [ اور ہم اطاعت کی ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ ہی فلاح پانے والے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 51) قول المؤمنین کے مضاف قوم کی نصب بتارہی ہے کہ یہ کان کی خبر ہے جبکہ آگے پورا فقرہ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا اس کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–52

ایمان والوں کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی طرف بلایا جاتا ہے تو سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا کہہ کر رضا مندی ظاہر کردیتے ہیں اور یہ لوگ کامیاب ہیں اوپر منافقین کا حال بیان فرمایا کہ وہ صرف زبان سے ایمان اور اطاعت کا اقرار اور اعلان کردیتے ہیں پھر جب ان کے جھگڑوں کے فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو اعراض کرتے ہیں اور بچ کر چلے جاتے ہیں وہ لوگ اپنے ایمان کے اعلان و اقرار میں جھوٹے ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں سچے مومنین کا قول و عمل بتایا اور وہ یہ کہ جب انہیں کسی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ ہر موقعہ پر (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–57

ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–52

54:۔ ” انما کان الخ “ : منافقین کا حال بیان کرنے کے بعد ان کے مقابلے میں مخلص مومنوں کا حال بیان کیا گیا اور انہیں اخروی بشارت دی گئی۔ منافقین کا حال تم نے سن لیا اب مخلصین کا حال بھی سن لو۔ مخلصین کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں کو بلا چون و چرا دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں اور ان کے قبول کرنے میں ذرا تامل اور پس و پیش نہیں کرتے اور آخرت کی فلاح بھی ان ہی لوگوں کے لیے ہے۔ ” ومن یطع اللہ الخ “ اور جو لوگ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اللہ سے ڈریں اور ہر قسم کے شرک سے بچیں وہ لوگ آخرت میں کامیاب و کامران ہوں گے ” یخش اللہ “ یعنی جو گناہ وہ کرچکا ہے ان پر گرفت سے ڈرے ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–54

ربط آیات : پہلے اللہ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور پھر منافقوں کی مذمت بیان کی کہ جب کسی تنازعہ کے فیصلے کی خاطر انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ ہاں ، اگر انہیں یقین ہو کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا ، تو اطاعت کے انداز میں دوڑ کر آتے ہیں۔ اور اگر ان کی توقع اس کے برخلاف ہو تو دربار نبوی میں آنے سے ٹال مٹول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی ذہنیت کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یا تو ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہوگی ، یا اللہ کی توحید ، نبی کی رسالت یا دین کے متعلق شک ہوگا اور یا پھر انہیں اللہ اور اس کے رسول سے ناانصافی کی توقع ہوگی۔ فرمایا ایسے شخص سے بڑھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝ 0ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝ 51 كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–54

تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِـہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّـقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ط وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (النور : 51) (ایمان لانے والوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انھیں اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ) سچے مومنوں کی شان منافقین کے طرز فکر اور طرز عمل پر تنقید کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ ایک تو وہ طرز عمل ہے جو منافقین کا آپ نے دیکھا، لیکن اب ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ جو سچے مومن ہیں ان کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کے مقابلہ میں مومنوں کا اخلاص اور کردار۔ منافق کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی طرف بلایا جائے تو وہ اس سے انحراف کے راستے تلاش کرتا ہے اس کے مقابلہ میں مومنوں کو یہ دعوت دی جائے کہ آؤ اپنے قضیہ میں اللہ اور اس کے رسول سے فیصلہ کرواتے ہیں تو مومنوں کی اس کے سوا کوئی بات اور خواہش نہیں ہوتی کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول سے فیصلہ کروانے اور اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور تہہ دل سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی نافرمانی سے اخلاص کے ساتھ بچنے کی کوشش کرے وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

51: اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ (مسلمانوں کا قول) قول حسن رحمۃ اللہ : نحو : قولؔ کا لفظ رفع سے پڑھا جائے گا۔ مگر نصب زیادہ قوی ہے کیونکہ دونوں اسموں میں سے پہلا تعریف میں دوسرے کی نسبت زیادہ مشغول ہونا چاہیے یہاں انؔ یقولوا جو کہ دوسرا اسم ہے وہ زیادہ مشغول ہے۔ قول المؤمنین ؔ کی بجائے۔ اِذَا دُعُوْآ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمْ (جبکہ ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کسی فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے) تاکہ نبی اکرم ﷺ فرمائیں۔ قراءت : یزید نے لیحکم پڑھا ہے تاکہ ان کا فیصلہ کیا جائے۔ بَیْنَھُمْ (ان کے مابین) اس فیصلہ کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اتارا ہے۔ اَنْ یَّقُوْلُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

51۔ انما کان قول المومنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ، اللہ کی کتاب اور رسول کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ لیحکم بینھم، یہ بطور خبر کے نہیں لیکن یہ شریعت میں ادب کی تعظیم کا لحاظ کرتے ہوئے کہ مناسب یہی ہے کہ مومنین ایسے ہی ہوں، یقولوا، منصوب ہے ان کی وجہ سے، ان یقولواسمعنا واطعنا، ، ہم نے دعا کوسنا اور ہم نے اس کا جواب اطاعت کے ساتھ دیا۔ واولئک ھم المفلحون، ،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–52

48۔ 52:۔ تفسیر ابن المنذر ‘ عبداللہ حمید اور ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقوں کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت ﷺ جو فیصلہ کرتے اور حکم دیتے ہیں بغیر کسی رو رعایت کے وہ فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ‘ اس لیے جس معاملے میں وہ منافق لوگ حق پر ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری ہوتی ‘ تو ایسے معاملے کو اپنا حق پانے کی خوشی میں دوڑ کر آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آتے تھے اور جس معاملے میں یہ لوگ حق پر نہ ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری نہ ہوتی اور اس قرینہ سے جان لیتے کہ آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–52

(آیت نمبر (51 اللہ تبارک و تعالیٰ نے احکام شریعت سے رو گردانی کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد ‘ اہل ایمان جو مدح کے مستحق ہیں ‘ کا حال بیا کیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( انما کان قول المومنین) یعنی حقیقی مومن جنہوں نے اپنے اعمال کے ذریعے اپنے ایمان کی تصدیق کی جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے خواہ یہ فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے یا مخالف (ان یقولوا سمعنا واطعنا) ” وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ “ یعنی ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو سنا اور جس نے ہمیں اس فیصلے کی طرف بلایا ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہا اور ہم نے مکمل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 51–52

مقدمات کے لئے عدالت بلائے تو حاضری واجب ہے قول باری ہے : (انما کان قول المومنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم ان یقولوا سمعنا واطعنا) ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اس میں اس مضمون کی تاکید ہے جو پہلے گزرچکا ہے، وہ یہ کہ جب حاکم کی طرف سے مقدمات کے سلسلے میں بلاوا آئے تو حاضری دینا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلاوے پر حاضری دینے کو اہل ایمان کی صفت گنوایا ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو بلایا جائے اس پر ابتدائی مرحلے میں اپنے قول کے ذریعے اس بلاوے کا جاب دینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

110 سچے مسلمانوں کی صفت وشان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سچے مسلمانوں کی شان سمع و اطاعت کی شان ہوتی ہے۔ اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ منافقوں کے برعکس سچے مسلمانوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب انکو کسی معاملے کے فیصلے کیلئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ صدق دل سے کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا۔ سو ایسے ہی سچے مسلمان فوز و فلاح پانے والے ہیں جو اپنے پختہ ایمان و یقین اور سچے عمل و کردار کی بنا پر دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین -

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–52

مؤمنین کی پہچان تشریح : مومن کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو ایمان لے آئے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کو سچا مان لے اور جو اللہ و رسول پر ایمان لے آتا ہے تو پھر وہ اپنے ہر معاملے کا فیصلہ ان کے مقرر کیے گئے احکامات کے مطابق کرتے ہیں تو ظاہر ہے اس طرح وہ فلاح پاتے ہیں اور مزے میں رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ نے فرمایا ہے۔” وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ ( آیت 52 النور)

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–57

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف (نفاذ اسلام اہل ایمان کا کام ہے) اہل ایمان کی شان تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ ورسول کے مطابق فیصلہ قبول کرنے کا کہا جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہمیں منظور ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں یعنی نفاذ اسلام یا اسلامی قانون کی راہ میں صرف لوگوں کی منافقت حائل ہوتی ہے اور اہل ایمان فورا عملی زندگی میں اسلامی قانون اپناتے ہیں اور اسلامی قانون اپنانے اور اختیار کرنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔ (نجات ابدی کی چار شرائط) کہ یہ اصولی بات ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی یعنی فرائض ادا کیے ” ورسولہ ‘ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کا اتباع کیا ۔ (آیت) ” ویخش اللہ “ اور گذشتہ اعمال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ اللہ و رسول ﷺ کے فیصلے کو نہ صرف قبول کرنا بلکہ فیصلہ کیلئے جب کوئی ان کی طرف بلائے تو اس کے بلاوے پر دل و جان سے لبیک کہنا مومن و بامراد ہونے کے لئے شرط ہے اس بارے میں جو کوتاہی پائی جائیگی وہ ایمان کے کم ہونے کی دلیل ہے۔ اوپر کی آیات میں منافقین کی حالت بیان فرمائی ہے اور اب اس آیت میں مومنین کی حالت کا بیان ہے۔ (شوکانی۔ قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:51) انما کان قول المؤمنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینتہم ان یقولوا سمعنا واطعنا۔ میں قول کان کی خبر ہے بدیں وجہ منصوب ہے ان یقولوا سمعنا واطعنا اسم ہے کان کا۔ ہم نے سن لیا۔ ہم نے مان لیا۔ یہ قول ہے مومنوں کا جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ان کے مابین فیصلہ کے لئے بلایا جائے ۔ لیحکم لام تعلیل کا ہے یحکم مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع رسول ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–54

لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 : دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–52

(ف 3) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ بشرنامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سید عالم حق وعدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لیے اس نے خواہش کی یہ مقدمہ نبی ﷺ سے فیصل کر ایاجائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور نبی ﷺ عدل و انصاف میں کسی کی رعایت نہیں فرماتے، اس لیے وہ نبی ﷺ کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مصر ہوا اور نبی ﷺ کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–54

[53] یہاں ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی دل میں تو ایمان کسی منافق کے بھی نہیں لیکن ان کھلم کھلا حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں نے تو ایمان ظاہری کا پردہ بھی ہٹا دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–53

منافقین کے جذبہ اطاعت کی حقیقت : (ف 2) ان آیات میں منافقین کی ذہنیت کا آشکارا کیا ہے ارشاد ہے کہ ظاہر میں تو یہ لوگ اسلام کے فضائل و محاسن کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مومن ہیں ، اور اللہ و رسول کے مطیع ومنقاد ہیں ، مگر حقیقت میں یہ مومن نہیں ، ان میں سرکشی اور تمرد کا مادہ ہنوز موجود ہے ، چناچہ جب ان سے کسی معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لو اور اس کے فیصلوں کے سامنے جھک جاؤ ان میں سے بعض لوگ روگردانی کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے معاملہ میں حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ، ہاں اگر انہیں یہ یقین ہوجائے ، کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا ، اور ہمیں کچھ دلایا جائے گا ، تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(51) مخلص مسلمانوں کی بات تو بس یہ ہے کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلایاجاتا ہے کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کردے تو وہ انبساط قلب کے ساتھ یہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور قبول کیا اور یہی لوگ حقیقی فلاح پانے والے ہیں۔ یعنی منافقین کی حالت تو معلوم ہوچکی اس کے مقابلے میں ایمان والوں کی یہ حالت ہے کہ جب ان کو فصل خصومات کے سلسلے میں طلب کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول تمہارے مقدمہ کا فیصلہ کرے گا تو یہ اہل ایمان سمعنا واطعنا کہتے ہوئے دوڑتے چلے آتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دین و دنیا میں فلاح پانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وضاحت کے لئے پیغامبر اور منافقین کا تقابل پیش کیا جا رہا ہے : 85۔ ایک پیغامبر کا کام کیا ہے ؟ یہی کہ من وعن پیغام کا پہنچانا اور اس کے مطابق خود عمل کرنا ‘ پیغام سننے والوں کی ذمہ داری کیا ہے ؟ یہی کہ وہ اس کو سن لیں اور اس کے مطابق عمل کریں ، پھر منافق کی پہچان کیا ہوئی ؟ یہی کہ وہ سن لینے اور فرمانبرداری کرنے کا وعدہ کرتا ہے لیکن اس کا عمل اس کے سننے اور فرمانبرداری کرنے کے وعدہ کی تصدیق نہیں کرتا بلکہ وہ ہر سنی ان سنی کردیتا ہے ‘ وہ ایک کان سے سنتا ہے دوسرے سے نکال دیتا ہے ‘ اس کی زبان اور اس کے عمل میں کبھی مطابقت نہیں ہوتی وہ عمل کرنے کی بجائے سننے اور سمجھنے کی قسمیں کھاتا رہتا ہے ، بس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

Commentary These verses were revealed on a special occasion. Tabari and others have related the incident saying that there was a hypocrite by the name Bishr, who had some dispute and enmity with a Jew over a piece of land. The Jew suggested to him to take their dispute before the Holy Prophet ﷺ for the judgment, but Bishr, the hypocrite knew well that he was on the wrong and if the dispute was taken to the Holy Prophet ﷺ he will definitely decide the case on merit, and he will lose the case. So, he did not agree with the suggestion and instead asked the Jew to take it to Ka'b Ibn Ashraf,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–52

80. That is, there can be only three reasons for such a conduct. First, a person may not have believed at all but may only be posing as a Muslim in order to enjoy the benefits of belonging to the Muslim community. Secondly, he might have believed but may still be having doubts about the reality of the Prophethood, revelations, life-afterdeath, and even the existence of Allah Himself. Thirdly, he may be a believer but might at the same time be apprehending injustice from Allah and His Prophet and considering their commands disadvantageous to him personally in one way or the other. There can be…

Read the full tafseer →