Explained with ayahs 47–52
منافق کی زبان اور، دل
منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
سورة النُّوْر 80
یعنی اس طرز عمل کی تین ہی وجہیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی سرے سے ایمان ہی نہ لایا ہو اور منافقانہ طریقے پر محض دھوکا دینے اور مسلم معاشرے میں شرکت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے مسلمان ہوگیا ہو۔ دوسرے یہ کہ ایمان لے آنے کے باوجود اسے اس امر میں ابھی تک شک ہو کہ رسول خدا کا رسول ہے یا نہیں، اور قرآن خدا کی کتاب ہے یا نہیں، آخرت واقعی آنے والی ہے بھی یا یہ محض ایک افسانہ تراشیدہ ہے، بلکہ خدا بھی حقیقت میں موجود ہے یا یہ بھی ایک خیال ہے جو کسی مصلحت سے گھڑ لیا گیا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ خدا کو خدا اور رسول کو رسول مان کر بھی ان سے ظلم کا اندیشہ رکھتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ خدا کی کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
معارف و مسائل
یہ آیات ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہیں۔ طبری وغیرہ نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ منافقین میں سے ایک شخص بشر نامی تھا اس کے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کے متعلق جھگڑا اور خصومت تھی۔ یہودی نے اس کو کہا کہ چلو تمہارے ہی رسول سے ہم فیصلہ کرا لیں مگر بشر منافق ناحق پر تھا یہ جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس مقدمہ گیا تو آپ حق کے موافق فیصلہ کریں گے اور میں ہار جاؤں گا اس نے اس سے انکار کیا اور آنحضرت ﷺ کے بجائے کعب بن اشرف یہودی کے پاس مقدمہ لے جانے کو کہا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور آیت اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ الآیتہ میں جو ان کے دلوں میں کفر یقینی کا مرض یا نبوت میں شک…
Read the full tafseer →مرض کا مفہوم
لفظ مرض جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں، قرآن میں حسد کی تعبیر کے لئے بھی آیا ہے اور نفاق کی تعبیر کے لئے بھی یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے نفاق مراد ہے۔ حسد و نفاق دونوں کا دل کی بیماری کی حالت ہونا واضح ہے۔
ادتیاب کے معنی مبتلائے شک ہونے کے ہیں۔ یہ شک نبی ﷺ کی رسالت کے باب میں بھی ہوسکتا ہے اور اسلام کے مستقبل کے باب میں بھی۔ منافقین کی تذبذب پالیسی کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ ڈرتے تھے کہ مسلمانوں اور ان کے محافظوں میں جو کشمکش اس وقت برپا ہے اس میں آخری بازی معلوم نہیں کس کی رہے تو مصلحت یہی ہے کہ دونوں کے ساتھ تھوڑا تھوڑا تعلق باقی رکھا جائے تاکہ دونوں میں سے جس کی…
Read the full tafseer →50-1جب فیصلہ ان کے خلاف ہونے کا امکان ہوتا ہے تو اس سے اعراض و گریز کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ یا تو ان کے دلوں میں کفر و نفاق کا روگ ہے یا انھیں نبوت محمدی میں شک ہے یا انھیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ ظلم کرے گا، حالانکہ ان کی طرف سے ظلم کا کوئی امکان ہی نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ خود ہی ظالم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
39: منافقین چونکہ دل سے ایمان نہیں لائے تھے، اس لئے ان سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف معاندانہ حرکتیں سرزد ہوتی رہتی تھیں، چنانچہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا، یہودی جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حق کا فیصلہ کریں گے اس لئے اس نے بشر کو پیشکش کی کہ چلو آنحضرت ﷺ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرالیں، بشر کے دل میں چور تھا، اس لئے اس نے آپ سے فیصلہ کرانے کے بجائے ایک یہودی سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی، اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔
جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو…
Read the full tafseer →4 روگ یہ کہ خدا اور رسول کو سچ مانا لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں جیسے بیمار چاہتا ہے چلے اور پاؤں نہیں اٹھتا۔
5 یعنی خدا اور رسول کی بابت کوئی دھوکہ لگا ہوا ہے اور حضور ﷺ کی صداقت یا اللہ کے وعدہ وعید میں کوئی شک و شبہ ہے ؟ یا یہ گمان ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے معاملات کا خلاف انصاف فیصلہ کریں گے ؟ اس لیے ان کی عدالت میں مقدمہ لے جانے سے کتراتے ہیں۔ سو یاد رکھو وہاں تو ظلم و بےانصافی کا احتمال ہی نہیں۔ ہاں خود ان ہی لوگوں نے ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے۔ چاہتے ہیں کہ اپنا حق پورا وصول کرلیں اور دوسروں کا ایک پیسہ نہ دیں۔ اسی لیے ان معاملات کو خدائی عدالت میں لانے سے گھبراتے ہیں جن میں…
Read the full tafseer →بَلْ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ”
چونکہ یہ لوگ حقیقی ایمان سے محروم ہیں ‘ اس لیے اس کھوٹ کا عکس ان کے کرداروں میں نمایاں ہے۔
Read the full tafseer →78 یعنی ان منافقوں کے رسول کے فیصلہ سے اعراض کی تین ہی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ سچے دل سے ایمان نہ لایا ہو بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر مسلمان ہوگیا ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ ایمان کا دعوے کرنے کے باوجود اس شک و شبہ میں مبتلا ہو کر پتہ نہیں یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہے بھی یا نہیں ؟ یا یہ قرآن اللہ کا کلام ہے بھی یا نہیں ؟ یا آخرت کے دن کے قیام اور اس دن جز و سزا کا عقیدہ کچھ حقیقت بھی رکھتا ہے یا نہیں یا یہ سب باتیں محض افسانے اور من گھڑت باتیں ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ اللہ اور رسول کو مان لینے کے بعد یہ اندیشہ رکھتا ہو کہ قرآن کے فلاں حکم نے تو ہمیں ذلیل کرکے رکھ دیا ہے اور مصیبت میں ڈال…
Read the full tafseer →104۔ (اور چونکہ خود برسر ظلم ہوتے ہیں) اس لیے ان مقدمات کو حضور نبوی میں لانے سے پہلو بچاتے ہیں کہ وہاں تو قلعی کھل کررہے گی) (آیت) ’ ’ افی قلوبھم مرض “۔ مرض سے مراد کفر قطعی ہے۔ یعنی آیا یہ انکار نبوت پر جرم میں مبتلا ہیں۔ (آیت) ’ ام ارتابوا “۔ یعنی آیا یہ نبوت و رسالت کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →افی قلوبہم مرض کیا ان کے دلوں میں کوئی بیماری ہے۔ یعنی کفر اور حق تلفی کی طرف میلان قلبی ہے۔
ام ارتابوا یا شک میں پڑگئے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ : کی طرف سے کوئی بات شک آفریں انہوں نے دیکھ لی ہے جس
کی وجہ سے آپ پر ان کا یقین جاتا رہا ہے۔
ام یخافون ان یحیف اللہ علیہم ورسولہ یا ان کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کی
حق تلفی کرے گا۔ (اور غلط فیصلہ کرے گا) ۔
بل اولئک ہم الظلمون۔ بلکہ (مؤخر الذکر دونوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں۔ کھوٹ انہی کے دلوں
کے اندر ہے) وہی ظالم ہیں۔ اپنی جانوں پر بھی ظلم کرتے ہیں کہ دل سے ایمان نہیں لاتے اور اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کو نہیں مانتے اور دوسرے لوگوں پر بھی…
Read the full tafseer →(50) آیا اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں شک ونفاق کا مرض یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول فیصلہ میں ان پر ظلم نہ کرنے لگیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں اور اپنے ایمان میں یہ سچے نہیں بلکہ ان کے اندر نفاق کا مرض ہے۔
Read the full tafseer →اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْٓا۔۔ : ”حَافَ یَحِیْفُ حَیْفًا“ ظلم کرنا، یعنی آخر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی عدالت میں فیصلہ لے جانے سے کیوں کتراتے ہیں ؟ آیا اس لیے کہ ان کے دلوں میں کفر و نفاق کی بیماری ہے، یا اس لیے کہ انھیں پیغمبر کے سچا ہونے میں شک ہے، یا اس لیے کہ انھیں فکر ہے کہ آپ ﷺ کے پاس مقدمہ لے جائیں گے تو ہم پر ظلم کیا جائے گا ؟ ظاہر ہے کہ نہ تو انھیں آپ ﷺ کی نبوت میں شک ہے اور نہ انھیں یہ خوف ہے کہ آپ ﷺ غلط فیصلہ کرکے ان پر ظلم کریں گے (کیونکہ ایسا نہ پہلے کبھی ہوا نہ ہوگا) تو پھر بات یہی رہ جاتی ہے کہ ان کے دلوں ہی میں بیماری ہے، ظالم اور قصور وار یہ خود ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان یکن لھم الحق یاتوا الیہ مذعنین۔ اطاعت کرتے ہوئے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ آپ ﷺ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : اذعن فلان لحکم فلان یذعن اذعانا تسلیم کرنا نقاش نے کہا : مذعنین کا مطلب ہے خضوع کا اظہار کرتے ہوئے (1) مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے جلدی کرتے ہوئے۔ اخفش اور ابن اعرابی نے کہا : اقرار کرتے ہوئے۔ افی قلوبھم مرض مرض سے مراد شک و شبہ ہے۔ امر ارتابوا۔ کیا انہیں آپ کی نبوت اور عدل میں شک پڑگیا ہے، ام یخافون ان یحیف اللہ علیہم ورسوللہ یا انہیں خوف ہے کہ فہصلی میں اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے۔ استفہام کے لفظ سے کلام ذکر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اٰمنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتوالی فریق منہم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین۔ کے بارے میں فرمایا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ جنہوں نے ایمان اور اطاعت کو ظاہر کیا اور اس کے باوجود لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اس کی اطاعت سے اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد میں جانے سے بھی روکتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ برحق فیصلہ فرماتے تھے
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور جب اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ حق پر ہوتا تھا…
Read the full tafseer →اَ [ کیا ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دولوں میں ] مَّرَضٌ [ کوئی مرض ہے ] اَمِ [ یا ] ارْتَابُوْٓا [ وہ شبہ میں پڑگئے ] اَمْ [ یا ] يَخَافُوْنَ [ وہ ڈرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يَّحِيْفَ [ ناانصافی کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلَيْهِمْ [ ان کے خلاف ] وَرَسُوْلُهٗ ۭ [ اور اس کا رسول ] بَلْ [ بلکہ ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] هُمُ الظّٰلِمُوْنَ [ ہی ظلم کرنے والے ہیں ]
ح ی
(ض) حیفا کسی پر زیادتی کرنا۔ ناانصافی کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 50 ۔
Read the full tafseer →(اَفِی قُلُوْبِہِمْ مَرَضٌ) (کیا ان کے دلوں میں مرض ہے) یعنی اس کا یقین ہے کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں اَمِ ارْتَابُوْا (یا انہیں شک ہے) کہ آپ نبی ہیں یا نہیں (اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیف اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَرَسُوْلُہٗ ) (یا وہ یہ خوف کھاتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ان پر ظلم ہوگا) مطلب یہ ہے کہ ان تین باتوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے انہیں یہ بھی یقین ہے کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جو فیصلہ ہوگا اس میں ظلم نہیں ہوگا جب یہ بات ہے تو اعراض کا سبب صرف یہی رہ جاتا ہے کہ خود وہ ظالم ہیں (بَلْ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ) وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین
قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…
Read the full tafseer →53:۔ ” ا فی قلوبھم الخ “: یہ لوگ حکم اسلام کے سامنے کیوں سر نہیں جھکاتے کیا ان کے دلوں میں شک و نفاق کی بیماری ہے اور خدا اور رسول پر ان کا ایمان ہی نہیں یا انہیں اللہ کی توحید اور پیغمبر (علیہ السلام) کی نبوت میں شک ہے یا انہیں خطرہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں اللہ کا رسول (علیہ السلام) ان پر زیادتی کرے گا اور انصاف نہیں کرے گا۔ بل اولئک ھم الظلمون “: یہ بات نہیں یعنی ان کے اعراض کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں اپنے اوپر ظلم کا اندیشہ ہے کیونکہ وہاں تو ظلم و بےانصافی کا احتمال بھی نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود بےانصاف ہیں انہوں نے ظلم و بےانصافی پر کمر باندھ رکھی ہے اور دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ربط آیات :
پہلے اللہ نے عصمت وعفت کا نظام بیان فرمایا اور اس سلسلے میں حدود اور احکام نازل فرمائے۔ پھر اللہ کی توحید کے بعض عقلی دلائل بیان فرمائے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ارض وسما کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو ہدایت کے لئے بڑی واضح آیتیں نازل کی ہیں جب کائنات کی ہر چیز تسبیح وتحمید بیان کرتی ہے تو پھر انسانوں کا تو بطریق اولیٰ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے بن جائیں اور اس کی توحید کو تسلیم کرلیں۔ آپ آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی…
Read the full tafseer →اَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْٓا اَمْ يَخَافُوْنَ اَنْ يَّحِيْفَ اللہُ عَلَيْہِمْ وَرَسُوْلُہٗ 0ۭ بَلْ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ 50ۧ
قلب
قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] .
( ق ل ب ) قلب
الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔
مرض
الْمَرَضُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں…
Read the full tafseer →اَفْیِ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْٓا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْھُمْ وَرَسُوْلُـہٗ بَلْ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (النور : 50)
(کیا ان کے دلوں میں (نفاق کی بیماری ہے یا یہ ابھی شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے، اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ظالم ہیں۔ )
منافقین کے طرزعمل کا تجزیہ
منافقین کے رویئے اور طرز عمل کا تجزیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کی تین ہی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ 1 ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے، یعنی وہ حقیقت میں مومن نہیں، محض دھوکہ دینے اور مسلم معاشرے میں شرکت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فہم القرآن
ربط کلام : منافق کی عادات کا ذکر جاری ہے۔
منافق کی منافقت کا بنیادی سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے فائدے کی خاطر کبھی اسلام اور کبھی کفر کو ترجیح دیتا ہے اگر کسی قضیہ میں فیصلہ اس کے حق میں ہوجائے تو وہ اسلام، اسلام پکارتا ہے اور مسلمانوں کی تعریفیں کرتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے حق میں نہ ہو تو وہ اسلامی نظام کے نقائص بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں منافقت کی بیماری ہوتی ہے اس لیے وہ اسلامی نظام عدل سے خوف کھاتا اور سمجھتا ہے کہ اسے تسلیم کرنے سے میرا نقصان ہوگا۔ یہی حالت نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقوں کی تھی۔ جب انہیں کسی معاملہ میں یہ دعوت دی جاتی کہ آؤ۔ اللہ اور اس کے رسول سے اس…
Read the full tafseer →اعراض کی تین وجوہ :
50: اَفِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْا اَمْ یَخَافُوْنَ (کیا ان کے دلوں میں کوئی بیماری ہے یا وہ شک میں پڑگئے ہیں) یا وہ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَرَسُوْلُہٗ (یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی کرے گا) آپ کے فیصلہ سے اعراض کے معاملہ کو تقسیم کیا اور تین وجوہ بیان فرمائے۔ نمبر 1۔ جبکہ فیصلہ ان کے خلاف جاتاہو۔ کہ اولا تو ان کے دل بیمار ہیں۔ ان میں منافقت بھری ہے۔ نمبر 2۔ یا آپ کے معاملہ نبوت میں شک کرنے والے ہیں۔ نمبر 3۔ یا پھر آپ کی طرف سے حق تلفی کا خدشہ ہے۔ پھر اس تیسری صورت کو باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا : بَلْ اُولٰٓئِکَ…
Read the full tafseer →50۔ افی قلوبھم مرض ام ارتابو، ، وہ شک میں مبتلا ہیں یہ استفہام ذم اور توبیخ کے لیے ہے ۔ یعنی وہ اس طرح ہیں، ام یخافون ان یحیف اللہ علیھم ورسولہ، ، ظلم کا خوف رکھتے ہیں۔ بل اولئک ھم الظالمون۔ بلکہ وہ اپنے اوپر ہی حق سے اعراض کرنے اور ظلم کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
48۔ 52:۔ تفسیر ابن المنذر ‘ عبداللہ حمید اور ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقوں کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت ﷺ جو فیصلہ کرتے اور حکم دیتے ہیں بغیر کسی رو رعایت کے وہ فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ‘ اس لیے جس معاملے میں وہ منافق لوگ حق پر ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری ہوتی ‘ تو ایسے معاملے کو اپنا حق پانے کی خوشی میں دوڑ کر آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آتے تھے اور جس معاملے میں یہ لوگ حق پر نہ ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری نہ ہوتی اور اس قرینہ سے جان لیتے کہ آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
(آیت نمبر (47
اللہ تبارک و تعالیٰ ان ظالموں کی حالت بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں بیماری ضعف ایمان ‘ نفاق شک و ریب اور ضعف علم ہے جو اپنی زبان سے ایمان باللہ اور اطاعت کے التزام کا دعوی ٰ کرتے ہیں مگر وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے اور ان میں سے ایک گروہ اطاعت سے بہت زیادہ روگردانی کرتا ہے۔ فرمایا : ( و ھم معرضون) ( الانفال (23/8:” اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔ “ کیونکہ روگردانی کرنے والے کی کبھی کبھی اس امر کی طرف رجوع کی نیت ہوتی ہے جس سے اس نے روگردانی کی تھی مگر یہ ظالم اس کی طرف التفات اور اس کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس حالت کو آپ ایسے بہت سے لوگوں کے احوال کے مطابق پائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
جس شخص کو حاکم کی عدالت میں طلب کیا جائے اسے وہاں جانا لازم ہے
قول باری ہے : (واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون) جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر ……اپنے کسی حق کے سلسلے میں دعویٰ دائر کردے اور اسے حاکم کی عدالت میں پیش ہونے کے ۔۔۔۔۔۔۔ پر اس کے ساتھ حاکم کی عدالت میں پیش ہونا لازم ہوگا۔ اس لئے کہ قول باری : (فاذادعوا الی اللہ۔ ) کے معنی ” الی حکم اللہ “ کے ہیں یعنی جب انہیں اللہ کے حکم اور فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے، یہ چیز…
Read the full tafseer →109 ایسے لوگ ظالم ہیں ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ ظالم ہیں "۔ سو حق سے منہ موڑنا ظلم اور بےانصافی ہے۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حق میں کہ انہوں نے اس کے بندے ہونے کے باوجود اس کے احکام صدق ترجمان سے منہ موڑا۔ حالانکہ حقِّ عبدیت و بندگی کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ بندہ صدق دل سے اپنے خالق ومالک کے آگے جھک جائے۔ نیز یہ ظلم ہے اس کے رسول صدق و صفا کے حق میں کہ انہوں نے اس کی اطاعت و اتباع سے منہ موڑا جو کہ اس رسول صادق و امین کا حق ہے اس کی امت کے ہر فرد پر کہ وہ سچے دل سے اس کی اطاعت و اتباع کرے۔ نیز یہ ظلم ہے خود انسان کے اپنے حق میں کہ اس طرح اس نے اپنے آپ کو عذاب الیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی آخر یہ اللہ و رسول ﷺ کی عدالت میں فیصلہ لے جانے سے کیوں کتراتے ہیں ؟ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں کفر و نفاق کی بیماری ہے یا انہیں اندیشہ ہے کہ ان کے پاس مقدمہ لے جائینگے تو ہم پر ظلم کا احتمال ہی نہیں ہے) مگر نہ تو ان کو آپ ﷺ کی نبوت میں شک ہے اور نہ ظلم ہی کا خوف ہے جس کی بدولت ان کے پاس مقدمہ لانے سے کترا رہے ہیں بلکہ ظالم (قصور وار) یہ خود ہیں یعنی جس شخص کا ان کے ذمہ حق ہے اس کو دبانا چاہتے ہیں۔ (جامع البیان و فتح) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : دل میں روگ یہ کہ اللہ و رسول ﷺ کو سچ جانا لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں جیسے بیمارچاہتا ہے کہ چلے اور پائوں نہیں…
Read the full tafseer →(24:50) ارتابوا۔ ارتیاب (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب وہ شک میں پڑے ریب مادہ۔ شک سے مراد نبوت و رسالت سے شک۔ ان یحیف اللہ۔ یحیف مضارع معروف (منصوب بوجہ عمل ان ) واحد مذکر غائب کہ وہ ظلم کرے گا۔ حیف مصدر (باب ضرب) الحیف فیصلہ کرنے میں ایک طرف جھک جانا۔ انصاف نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 :
دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 :
جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
(ف 3) شان نزول :
جس کا مطلب یہ ہے کہ بشرنامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سید عالم حق وعدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لیے اس نے خواہش کی یہ مقدمہ نبی ﷺ سے فیصل کر ایاجائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور نبی ﷺ عدل و انصاف میں کسی کی رعایت نہیں فرماتے، اس لیے وہ نبی ﷺ کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مصر ہوا اور نبی ﷺ کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
[53] یہاں ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی دل میں تو ایمان کسی منافق کے بھی نہیں لیکن ان کھلم کھلا حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں نے تو ایمان ظاہری کا پردہ بھی ہٹا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
منافقین کے جذبہ اطاعت کی حقیقت :
(ف 2) ان آیات میں منافقین کی ذہنیت کا آشکارا کیا ہے ارشاد ہے کہ ظاہر میں تو یہ لوگ اسلام کے فضائل و محاسن کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مومن ہیں ، اور اللہ و رسول کے مطیع ومنقاد ہیں ، مگر حقیقت میں یہ مومن نہیں ، ان میں سرکشی اور تمرد کا مادہ ہنوز موجود ہے ، چناچہ جب ان سے کسی معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لو اور اس کے فیصلوں کے سامنے جھک جاؤ ان میں سے بعض لوگ روگردانی کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے معاملہ میں حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ، ہاں اگر انہیں یہ یقین ہوجائے ، کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا ، اور ہمیں کچھ دلایا جائے گا ، تو…
Read the full tafseer →(50) کیا ان لوگوں کے دلوں میں کوئی مرض اور بیماری ہے یا یہ لوگ دھوکے اور شک میں پڑے ہوئے ہیں یا یہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ان پر کوئی بےانصافی اور ظلم نہ کرنے لگے ان اسباب میں سے کوئی سبب نہیں ہے بلکہ وہی لوگ ناانصاف اور ظالم ہوتے ہیں۔ یعنی سبب کیا ہے معاملات میں فیصلے پر کیوں راضی نہیں ہوتے کیا یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی کے حق سے زیادہ دلوائے گا اور ان پر ظلم کرے گا اور ان کے خلاف مدعی کے حق سے زیادہ ڈگری کردے گا۔ اب بطور استدراک فرمایا یہ بات نہیں ہے بلکہ ان کے کترانے کی وجہ یہ ہے کہ ان مقدمات میں خود ہی ظالم ہوتے ہیں اپنا پورا حق وصول کرنا چاہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
ف 6۔ اس لئے حضور نبوی میں مقدمہ لانا پسند نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →سچا مومن کون ہے ؟ وہی جو قول وفعل کی یکسانیت رکھتا ہے :
84۔ اطاعت وفرمانبرداری کا دعوی مومن و منافق دونوں کو ہے اور دنوں زبان کے لحاظ سے ایک جیسا دعوی رکھتے ہیں جیسا کہ پیچھے گزر چکا لیکن مومن وہ ہے جو قولی دعوی کے ساتھ فعلی ثبوت بھی پیش کر دے گویا جو کچھ اس کی زبان نے کہا عمل نے اس کی تصدیق کردی تو وہ سچا مومن کہلایا اور اگر زبان کے دعوی کی عملی تصدیق نہ ہوئی بلکہ عمل نے قول کی نفی کردی تو ایسا شخص منافق قرار پایا ۔ یہ پہچان اسلام کی مقرر کردہ پہچان ہے لیکن منافق نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی بلکہ وہ ہمیشہ اپنی چرب زبانی سے اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے اور یہی اس کی منافقت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
Commentary
These verses were revealed on a special occasion. Tabari and others have related the incident saying that there was a hypocrite by the name Bishr, who had some dispute and enmity with a Jew over a piece of land. The Jew suggested to him to take their dispute before the Holy Prophet ﷺ for the judgment, but Bishr, the hypocrite knew well that he was on the wrong and if the dispute was taken to the Holy Prophet ﷺ he will definitely decide the case on merit, and he will lose the case. So, he did not agree with the suggestion and instead asked the Jew to take it to Ka'b Ibn Ashraf,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
80. That is, there can be only three reasons for such a conduct. First, a person may not have believed at all but may only be posing as a Muslim in order to enjoy the benefits of belonging to the Muslim community. Secondly, he might have believed but may still be having doubts about the reality of the Prophethood, revelations, life-afterdeath, and even the existence of Allah Himself. Thirdly, he may be a believer but might at the same time be apprehending injustice from Allah and His Prophet and considering their commands disadvantageous to him personally in one way or the other. There can be…
Read the full tafseer →