An-Noor 24:49

An-Noor · from ayah 49

24:49

وَاِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَ ۟ؕوَاِنۡ يَّكُنۡ لَّهُمُ الۡحَـقُّ يَاۡتُوۡۤا اِلَيۡهِ مُذۡعِنِيۡنَؕ

اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if the right is theirs, they come to him in prompt obedience.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:49

البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آ جاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہاں اگر ان ہی کو حق پہنچتا ہو تو مطیع وفرماں بردار ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر خود انہیں حق وصول کرنا ہو تو وہ بڑے فرمانبردار بن کر رسول کے پاس چلے آتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر ان میں ڈگری ہو (ان کے حق میں فیصلہ ہو) تو اس کی طرف آئیں مانتے ہوئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر وہ حق والے ہوتے تو وہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مطیع ہو کر تیزی سے چلے آتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر ان کے لیے حق ہو تو مطیع ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور حق ان کی موافقت میں ہو تو بڑے مطیع و منقاء ہو کر چلے آتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر حق ان کو ملنے والا ہو تو اس کی طرف نہایت فرمانبردارانہ آتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر کہیں حق ان کو پہنچتا ہو تو یہ آپ کے پاس گردن جھکائے دوڑے چلے آتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ان کا حق (نکلتا ہوتا) ہے تو (رسول) کی طرف سرتسلیم خم آجاتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر حق ان کے لیے ہو تو وہ آتے ہیں رسول ﷺ کی طرف بڑے اطاعت کیش بن کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر ان کو حق ملتا ہو تو گردن جھکا کر چلے آئیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

However, if the truth be on their side, they come towards the Messenger in all obedience.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if the right is theirs, they would come to him as (if they are) submissive ones.

— Muhammad Taqi Usmani

And if the right is theirs, they would come to him as (if they are) submissive ones.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if the truth is on their side, they come to him willingly with submission.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But if right had been with them they would have come unto him willingly.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if the right is theirs, they come to him in prompt obedience.

— Saheeh International

If right was on their side, they would come quickly.

— Muhammad Sarwar

And if the truth be on their side, they come to him quickly, obedient.

— Muhammad Habib Shakir

And if right had been theirs, they would have come to him readily.

— Abdul Majid Daryabadi

But if the right is on their side, they come to him with all submission.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–52

منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة النُّوْر 77 یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ رسول کا فیصلہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کا حکم اللہ کا حکم ہے۔ رسول کی طرف بلایا جانا صرف رسول ہی کی طرف بلایا جانا نہیں بلکہ اللہ اور رسول دونوں کی طرف بلایا جانا ہے۔ نیز اس آیت اور اوپر والی آیت سے یہ بات بلا کسی اشتباہ کے بالکل واضح ہوجاتی ہے اللہ اور رسول کی اطاعت کے بغیر ایمان کا دعویٰ بےمعنی ہے اور اطاعت خدا و رسول کا کوئی مطلب اس کے سوا نہیں ہے کہ مسلمان بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم اس قانون کے آگے جھک جائیں جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا ہے۔ یہ طرز عمل اگر وہ اختیار نہیں کرتے تو ان کا دعویٰ ایمان ایک منافقانہ دعویٰ ہے۔ (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–49

خلاصہ تفسیر ہم نے (حق کے) سمجھانے والے دلائل (ہدایت عام کے لئے) نازل فرمائے ہیں اور (ان عام میں سے) جس کو اللہ چاہتا ہے راہ راست کی طرف (خاص) ہدایت فرماتا ہے (کہ وہ الوہیت کے حقوق علمیہ یعنی عقائد صحیحہ اور حقوق عملیہ یعنی اطاعت کو بجا لاتا ہے ورنہ بہت سے محروم ہی رہتے ہیں) اور یہ منافق لوگ (زبان سے) دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے اور (خدا و رسول کا) حکم (دل سے) مانا پھر اس کے بعد (جب عمل کر کے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا وقت آیا تو) ان میں کا ایک گروہ (جو بہت زیادہ شریر ہے خدا و رسول کے حکم سے) سرتابی کرتا ہے (اس وقت سے وہ صورت مراد ہے کہ جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی اگر انہیں یہ اندازہ ہوتا کہ پیش نظر قضیہ میں اسلام کے قانون کا فیصلہ ان کے حق میں ہے تب تو نہایت فرمانبردانہ معاملہ پیغمبر ﷺ کی عدالت میں لاتے اور اگر یہ انداز ہوتا کہ اسلام کا قانون ان کے مفاد کے خلاف ہے تو یہود کی عدلاتوں میں لے جاتے۔ ان کی اس روش کو قرآن نے تحاکم الی الطاغوت، سے تعبیر کیا ہے اور اس کو شرک قرار دیا ہے جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49-1کیونکہ انھیں یقین ہوتا ہے کہ عدالت نبوی ﷺ سے جو فیصلہ صادر ہوگا، اس میں کسی کی رو رعایت نہیں ہوگی، اس لئے وہاں اپنا مقدمہ لے جانے سے ہی گریز کرتے ہیں۔ ہاں اگر وہ جانتے ہیں کہ مقدمے میں وہ حق پر ہیں اور ان ہی کے حق میں فیصلہ ہونے کا غالب امکان ہے تو پھر خوشی خوشی وہاں آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–52

39: منافقین چونکہ دل سے ایمان نہیں لائے تھے، اس لئے ان سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف معاندانہ حرکتیں سرزد ہوتی رہتی تھیں، چنانچہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا، یہودی جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حق کا فیصلہ کریں گے اس لئے اس نے بشر کو پیشکش کی کہ چلو آنحضرت ﷺ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرالیں، بشر کے دل میں چور تھا، اس لئے اس نے آپ سے فیصلہ کرانے کے بجائے ایک یہودی سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی، اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 47–50

(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔ جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 48–49

3 یعنی اگر ان کا جھگڑا کسی سے ہوگیا اور سمجھتے ہوں کہ ہم ناحق پر ہیں اس وقت اگر دوسرا فریق کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چل کر اس معاملہ کو طے کرا لو تو یہ منافق رضامند نہیں ہوتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حضور ﷺ پر یقیناً بلا رو رعایت حق کے موافق فیصلہ کریں گے۔ جو ان کے مفاد کے خلاف پڑے گا۔ حالانکہ پہلے سے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ہم اللہ و رسول پر ایمان لانے اور ان کا حکم ماننے کو تیار ہیں۔ اب وہ دعویٰ کہاں گیا۔ ہاں فرض کیجئے اگر کسی معاملہ میں حق ان کی جانب ہو تو اس وقت بہت جلدی سے گردن جھکا کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوجائیں اور فیصلہ کا انحصار حضور ﷺ کی ذات مبارک پر کردیں گے۔ کیونکہ سمجھتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 وَاِنْ یَّکُنْ لَّہُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ” اگر کسی معاملہ یا تنازعہ میں وہ حق بجانب ہوں اور انہیں یقین ہو کہ فیصلہ انہی کے حق میں ہوگا تو اس معاملے کو لے کر بڑے اطاعت شعار بنتے ہوئے پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ وہ حضور ﷺ کے پاس آجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

77 ذھن کے معنی نہایت فرمانبردار بن کر ساتھ ہو لینا یا اشاروں پر چلنا ہے۔ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافق لوگ اللہ اور اس کے بلانے یا اس کے ہاں جانے سے اعراض صرف اس وقت کرتے ہیں جب انھیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کا حق دبا رہے ہیں اور اگر رسول کے پاس گئے تو وہ یقیناً حق کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ لہذا ہمیں اس کے پاس جانے سے نقصان پہنچ جائے گا لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ ہم حق پر ہیں یا دوسرے کی طرف سے ان کا حق نکلتا ہے تو بلا چون و چرا نہایت فرمانبردار بن کر ساتھ ہو لیتے ہیں اس کی وجہ بھی وہی ہے ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول حق کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا۔ ایسے لوگ دراصل رسول کی نہیں اپنے فائدے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

103۔ یعنی جب ان کا حق کسی اور کے ذمہ نکلتا ہوتا ہے اور یہ خود مظلوم ہوتے ہیں تو پھر بےتکلف چلے آتے ہیں اس اطمینان پر کہ وہاں تو حق رسی ہو ہی گی،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان یکن لہم الحق یاتوا الیہ اور ان کا (واقعی) حق ہونا ہے تو رسول ﷺ : کی طرف (دوڑے ہوئے) آتے ہیں۔ مذعنین۔ حکم کے مطیع ہو کر۔ کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(49) اور اتقاق سے ان کے حق میں فیصلہ ہو تو خوشی خوشی تیزی کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں چلے آئیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ۔۔ : ”مُذْعِنِيْنَ“ ”أَیْ مُنْقَادِیْنَ“ مطیع ہونے والے، یعنی جب دیکھتے ہیں کہ شریعت کے مطابق فیصلے میں ان کا فائدہ ہے، تب تو بڑے فرماں بردار بن کر آتے ہیں اور ایمان کے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں ورنہ دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور شریعت کے احکامات میں کیڑے نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شریعت کی اس طرح کی پیروی اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی، کیونکہ یہ شریعت کی پیروی نہیں بلکہ نفس کی پیروی ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان یکن لھم الحق یاتوا الیہ مذعنین۔ اطاعت کرتے ہوئے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ آپ ﷺ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : اذعن فلان لحکم فلان یذعن اذعانا تسلیم کرنا نقاش نے کہا : مذعنین کا مطلب ہے خضوع کا اظہار کرتے ہوئے (1) مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے جلدی کرتے ہوئے۔ اخفش اور ابن اعرابی نے کہا : اقرار کرتے ہوئے۔ افی قلوبھم مرض مرض سے مراد شک و شبہ ہے۔ امر ارتابوا۔ کیا انہیں آپ کی نبوت اور عدل میں شک پڑگیا ہے، ام یخافون ان یحیف اللہ علیہم ورسوللہ یا انہیں خوف ہے کہ فہصلی میں اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے۔ استفہام کے لفظ سے کلام ذکر کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–52

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اٰمنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتوالی فریق منہم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین۔ کے بارے میں فرمایا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ جنہوں نے ایمان اور اطاعت کو ظاہر کیا اور اس کے باوجود لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اس کی اطاعت سے اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد میں جانے سے بھی روکتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ برحق فیصلہ فرماتے تھے 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور جب اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ حق پر ہوتا تھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنْ [ اور اگر ] يَّكُنْ [ ہوتا ہے ] لَّهُمُ [ ان کے لئے ] الْحَقُّ [ حق ] يَاْتُوْٓا [ تو وہ آتے ہیں ] اِلَيْهِ [ اس (فیصلہ) کی طرف ] مُذْعِنِيْنَ [ ماننے والے ہوتے ہوئے ] (س) ذعنا مطیع و فرمانبردار۔ حق ماننا۔ (افعال) اذعانا ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ مذعن اسم الفاعل ہے۔ مطیع ہونے والا۔ ماننے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 49

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–49

منافقوں کی دنیا طلبی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انحراف اور قبول حق سے اعراض یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے واضح آیات کھلی کھلی نشانیاں نازل فرمائی ہیں جو حق اور حقیقت کو واضح کرنے والی ہیں جو عقل و فہم سے کام نہیں لیتا وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور گمراہی کے راستے ہی اختیار کیے ہوئے رہتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت دے دیتا ہے، اس کے بعد چار آیات ہیں ان کو سمجھنے کے لیے منافقین کے بعض واقعات کو سمجھنا چاہیے ایک واقعہ ہم سورة نساء کی آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ ) کی تفسیر کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں وہ بشر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–57

ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–49

52:۔ ” ویقولون اٰمنا الخ “ : یہ منافقین پر شکویٰ ہے اور منافقین کے حال کا اعادہ ہے کہ زبان سے تو وہ ایمان و اطاعت کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کے کرتوت یہ ہیں کہ پیغمبر خدا ﷺ کی کی عزت و آبرو تک کا لحاظ نہیں کیا اور جھوٹی تہمت لگا دی اس لیے یہ لوگ ہرگز ایمان والے نہیں اور ان کا دعوی ایمان سراسر جھوٹا ہے۔ ” واذا دعوا الخ “ یہ منافقین کی عام عادت کا بیان ہے جب ان کا کسی سے کسی معاملے میں جھگڑا ہوجائے اور فریق ثانی ان سے کہے کہ چلو اللہ اور اس کے رسول (علیہ السلام) کے فیصلے سے کیوں اعراض کرتے ہیں۔ ” وان یکن لھم الحق الخ “ : لیکن اگر انہیں معلوم ہو کہ فیصلہ انہی کے حق میں ہوگا تو دوڑ کرحضور ﷺ کے پاس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–50

ربط آیات : پہلے اللہ نے عصمت وعفت کا نظام بیان فرمایا اور اس سلسلے میں حدود اور احکام نازل فرمائے۔ پھر اللہ کی توحید کے بعض عقلی دلائل بیان فرمائے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ارض وسما کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو ہدایت کے لئے بڑی واضح آیتیں نازل کی ہیں جب کائنات کی ہر چیز تسبیح وتحمید بیان کرتی ہے تو پھر انسانوں کا تو بطریق اولیٰ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے بن جائیں اور اس کی توحید کو تسلیم کرلیں۔ آپ آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ يَّكُنْ لَّہُمُ الْحَقُّ يَاْتُوْٓا اِلَيْہِ مُذْعِنِيْنَ۝ 49ۭ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–54

تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَاِذَا دُعُؤٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِـہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْن۔ وَاِنْ یَّـکُنْ لَّـھُمُ الْحَقُّ یَـاْ تُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ۔ (النور : 48، 49) (جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ روگردانی کرتا ہے۔ اور اگر فیصلہ ان کے حق میں ہونا ہو تو اس کی طرف نہایت فرمانبردانہ آتے ہیں۔ ) نفاق کا ایک پہلو منافق کبھی زبان سے اسلام کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار نہیں کرتا اور نہ کبھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کے دعویٰ ایمان میں کمزوری ہے بلکہ منافق لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر مسلمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–50

فہم القرآن ربط کلام : منافق کی عادات کا ذکر جاری ہے۔ منافق کی منافقت کا بنیادی سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے فائدے کی خاطر کبھی اسلام اور کبھی کفر کو ترجیح دیتا ہے اگر کسی قضیہ میں فیصلہ اس کے حق میں ہوجائے تو وہ اسلام، اسلام پکارتا ہے اور مسلمانوں کی تعریفیں کرتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے حق میں نہ ہو تو وہ اسلامی نظام کے نقائص بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں منافقت کی بیماری ہوتی ہے اس لیے وہ اسلامی نظام عدل سے خوف کھاتا اور سمجھتا ہے کہ اسے تسلیم کرنے سے میرا نقصان ہوگا۔ یہی حالت نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقوں کی تھی۔ جب انہیں کسی معاملہ میں یہ دعوت دی جاتی کہ آؤ۔ اللہ اور اس کے رسول سے اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49: وَاِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ (اور اگر واقعی ان کا حق ہوتا) جب ان کا حق دوسرے پر لازم ہوتا۔ یَاْ تُوْا اِلَیْہِ (تو رسول (a) کی طرف آتے۔ ) مُذعِنِیْنَ (دوڑتے ہوئے) ۔ نحو : یہ حال ہے۔ اور اطاعت میں جلدی کرتے ہوئے تاکہ اپنا حق طلب کریں اس لئے نہیں کہ آپ کے فیصلہ پر راضی ہوں۔ قول زجاج : الاذعان تیزی جس میں طاعت ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ آپ تو خالص حق اور نرا عدل قائم فرمائیں گے۔ اس لئے آپ سے فیصلہ کرانے سے اعراض کرتے ہیں کیونکہ انہیں حق قبول کرنا پڑے گا۔ اور آپ ان کے مخالف کا حق ان سے چھین کر حقدار کے حوالے کریں گے۔ اور جب ان کا اپنا حق بنتا ہو اور مخالف ناحق پر ہو تو جلدی سے آپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49۔ وان یکم لھم الحق یاتوالیہ مذعنین۔ اطاعت کرنے والے اور ان کے حکم کی پیروی کرنے والے ۔ یعنی اگر یہ منافقین اپنے معاملے میں حق پر ہیں توبھاگتے ہوئے آپ سے فیصلہ کرواتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہوتا تھا کہ جس طرح یہ امور سے حق سے فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح ہمارے حق میں بھی حق کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–52

48۔ 52:۔ تفسیر ابن المنذر ‘ عبداللہ حمید اور ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقوں کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت ﷺ جو فیصلہ کرتے اور حکم دیتے ہیں بغیر کسی رو رعایت کے وہ فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ‘ اس لیے جس معاملے میں وہ منافق لوگ حق پر ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری ہوتی ‘ تو ایسے معاملے کو اپنا حق پانے کی خوشی میں دوڑ کر آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آتے تھے اور جس معاملے میں یہ لوگ حق پر نہ ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری نہ ہوتی اور اس قرینہ سے جان لیتے کہ آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–50

(آیت نمبر (47 اللہ تبارک و تعالیٰ ان ظالموں کی حالت بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں بیماری ضعف ایمان ‘ نفاق شک و ریب اور ضعف علم ہے جو اپنی زبان سے ایمان باللہ اور اطاعت کے التزام کا دعوی ٰ کرتے ہیں مگر وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے اور ان میں سے ایک گروہ اطاعت سے بہت زیادہ روگردانی کرتا ہے۔ فرمایا : ( و ھم معرضون) ( الانفال (23/8:” اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔ “ کیونکہ روگردانی کرنے والے کی کبھی کبھی اس امر کی طرف رجوع کی نیت ہوتی ہے جس سے اس نے روگردانی کی تھی مگر یہ ظالم اس کی طرف التفات اور اس کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس حالت کو آپ ایسے بہت سے لوگوں کے احوال کے مطابق پائیں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 48–50

جس شخص کو حاکم کی عدالت میں طلب کیا جائے اسے وہاں جانا لازم ہے قول باری ہے : (واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون) جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر ……اپنے کسی حق کے سلسلے میں دعویٰ دائر کردے اور اسے حاکم کی عدالت میں پیش ہونے کے ۔۔۔۔۔۔۔ پر اس کے ساتھ حاکم کی عدالت میں پیش ہونا لازم ہوگا۔ اس لئے کہ قول باری : (فاذادعوا الی اللہ۔ ) کے معنی ” الی حکم اللہ “ کے ہیں یعنی جب انہیں اللہ کے حکم اور فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے، یہ چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

108 دولت ایمان سے محروم لوگوں کے لیے دنیا ہی سب کچھ ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کے نزدیک اصل چیز دنیاوی مفاد ہی ہے اور بس۔ یہ اپنے دنیاوی مفاد اور اغراض نفس کی خاطر ہی جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں کہ یہی کچھ ان لوگوں کا اصل مطلوب و مقصود ہوتا ہے۔ اس کے سوا حق و ہدایت کی طلب و تلاش ان کے یہاں سرے سے ہوتی ہی نہیں یا دوسرے درجے میں ہوتی ہے بلکہ ایسے لوگ دنیائے فانی کیلئے ہی جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یعنی جب یہ دیکھتے ہیں کہ شریعت کے مطابق فیصلہ میں ان کا فائدہ ہے تب تو بڑے اطاعت کیش بن کر آتے ہیں اور ایمان کے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں ورنہ دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور شریعت کے احکام میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شریعت کی اس طرح کی پیروی اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ کیونکہ یہ شریعت کی پیروی نہیں بلکہ نفس پرستی ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:49) مذعنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اذعان (افعال) مصدر جس کے معنی کسی کا مطیع ومنقاد ہوجانے کے ہیں۔ بڑے مطیع و فرمانبردار ہوکر۔ سر تسلیم خم کئے (چلے آتے ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–54

لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 : دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–52

(ف 3) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ بشرنامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سید عالم حق وعدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لیے اس نے خواہش کی یہ مقدمہ نبی ﷺ سے فیصل کر ایاجائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور نبی ﷺ عدل و انصاف میں کسی کی رعایت نہیں فرماتے، اس لیے وہ نبی ﷺ کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مصر ہوا اور نبی ﷺ کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–54

[53] یہاں ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی دل میں تو ایمان کسی منافق کے بھی نہیں لیکن ان کھلم کھلا حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں نے تو ایمان ظاہری کا پردہ بھی ہٹا دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–53

منافقین کے جذبہ اطاعت کی حقیقت : (ف 2) ان آیات میں منافقین کی ذہنیت کا آشکارا کیا ہے ارشاد ہے کہ ظاہر میں تو یہ لوگ اسلام کے فضائل و محاسن کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مومن ہیں ، اور اللہ و رسول کے مطیع ومنقاد ہیں ، مگر حقیقت میں یہ مومن نہیں ، ان میں سرکشی اور تمرد کا مادہ ہنوز موجود ہے ، چناچہ جب ان سے کسی معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لو اور اس کے فیصلوں کے سامنے جھک جاؤ ان میں سے بعض لوگ روگردانی کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے معاملہ میں حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ، ہاں اگر انہیں یہ یقین ہوجائے ، کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا ، اور ہمیں کچھ دلایا جائے گا ، تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) اور اگر ان کا کچھ نکلتا ہو اور ان کا کوئی حق ثابت ہوتا ہو تو رسول کے پاس فرمانبردار بن کر سرتسلیم خم کئے ہوئے چلے آتے ہیں یعنی یہ سمجھ کر کہ مقدمے میں رسول اللہ ﷺ کسی کی رو رعایت یا کسی کا بےجا لحاظ تو کریں گے اس لئے ٹل جاتے اور حاضری سے انکار کرتے ہیں اور فصلہ کرانے سے بچتے ہیں اور اگر ان کا کچھ نکلتا ہے اور کوئی حق ان کو پہنچتا ہے تو نہ صرف حاضر ہوتے ہیں بلکہ یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ ہم تو حضور ﷺ کے فرمانبردار ہیں اور حضور جو حکم فرمائیں گے اور آپ ﷺ جو فیصلہ دیں گے اس کو ہم دل و جان سے قبول کریں گے۔ اب آگے ان کی اس بیماری کو بطور تردید فرماتے ہیں کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سچے مومن اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں : 83۔ گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو منہ سے ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں مگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلوں کی پروا نہیں کرتے تو زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ سچے مومن کون لوگ ہیں ؟ فرمایا یہ وہی لوگ ہیں کہ جب ان کو ” اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ اللہ کا رسول ان کے درمیان فیصلہ کردے تو ان کی بات یہی ہوتی ہے وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور حکم مان لیا اور بلاشبہ وہ عملی طور پر اپنے کئے کا ثبوت پیش کردیتے ہیں فرمایا یہی لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے ہیں “ اور مزید ایک دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–49

مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا From the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43. Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

79. This verse states that a person who willingly accepts only that part of the divine law which serves his advantage, but rejects that which goes against his interests and desires, and prefers the worldly laws instead, is not a believer but a hypocrite. His profession of faith is false for he does not in fact believe in Allah and His Prophet but in his own interests and desires. With this attitude even if he believes in and follows a portion of the divine law, his belief has no value whatever in the sight of Allah.

Read the full tafseer →