Explained with ayahs 47–52
منافق کی زبان اور، دل
منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة النُّوْر 77
یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ رسول کا فیصلہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کا حکم اللہ کا حکم ہے۔ رسول کی طرف بلایا جانا صرف رسول ہی کی طرف بلایا جانا نہیں بلکہ اللہ اور رسول دونوں کی طرف بلایا جانا ہے۔ نیز اس آیت اور اوپر والی آیت سے یہ بات بلا کسی اشتباہ کے بالکل واضح ہوجاتی ہے اللہ اور رسول کی اطاعت کے بغیر ایمان کا دعویٰ بےمعنی ہے اور اطاعت خدا و رسول کا کوئی مطلب اس کے سوا نہیں ہے کہ مسلمان بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم اس قانون کے آگے جھک جائیں جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا ہے۔ یہ طرز عمل اگر وہ اختیار نہیں کرتے تو ان کا دعویٰ ایمان ایک منافقانہ دعویٰ ہے۔ (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
خلاصہ تفسیر
ہم نے (حق کے) سمجھانے والے دلائل (ہدایت عام کے لئے) نازل فرمائے ہیں اور (ان عام میں سے) جس کو اللہ چاہتا ہے راہ راست کی طرف (خاص) ہدایت فرماتا ہے (کہ وہ الوہیت کے حقوق علمیہ یعنی عقائد صحیحہ اور حقوق عملیہ یعنی اطاعت کو بجا لاتا ہے ورنہ بہت سے محروم ہی رہتے ہیں) اور یہ منافق لوگ (زبان سے) دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے اور (خدا و رسول کا) حکم (دل سے) مانا پھر اس کے بعد (جب عمل کر کے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا وقت آیا تو) ان میں کا ایک گروہ (جو بہت زیادہ شریر ہے خدا و رسول کے حکم سے) سرتابی کرتا ہے (اس وقت سے وہ صورت مراد ہے کہ جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہو…
Read the full tafseer →رسولوں کی عدالت سے کترانے والے منافقین
یہ ان کے نفاق اور عدم ایمان کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ جب ان کے درمیان کو قضیہ پیدا ہوتا ہے اور ان کو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اس کو اللہ اور رسول کے سامنے پیش کریں تاکہ اللہ کا رسول اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرے تو ان میں سے ہر ایک گروہ برابر اعراض کی روش اختیار کرتا ہے۔ اللہ کی طرف دعوت کے معنی ظاہر ہے کہ اللہ کے قانون کے سامنے پیش کرنے کی دعوت کے ہیں جس کا ترجمان اللہ کا رسول ہوتا ہے۔ اللہ کا رسول جو فیصلہ کرے وہی اللہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ و رسول کے ایمان کا مدعی ہے لیکن اپنے معاملات کے فیصلہ کے دوسروں کی طرف رجوع کرتا ہے، رسول کی عدالت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
47-1یہ منافقین کا بیان ہے جو زبان سے اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن دلوں میں کفر وعناد تھا یعنی اعتقاد صحیح سے محروم تھے۔ اس لئے زبان سے اظہار ایمان کے باوجود ان کے ایمان کی نفی کی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
39: منافقین چونکہ دل سے ایمان نہیں لائے تھے، اس لئے ان سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف معاندانہ حرکتیں سرزد ہوتی رہتی تھیں، چنانچہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا، یہودی جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حق کا فیصلہ کریں گے اس لئے اس نے بشر کو پیشکش کی کہ چلو آنحضرت ﷺ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرالیں، بشر کے دل میں چور تھا، اس لئے اس نے آپ سے فیصلہ کرانے کے بجائے ایک یہودی سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی، اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔
جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
3 یعنی اگر ان کا جھگڑا کسی سے ہوگیا اور سمجھتے ہوں کہ ہم ناحق پر ہیں اس وقت اگر دوسرا فریق کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چل کر اس معاملہ کو طے کرا لو تو یہ منافق رضامند نہیں ہوتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حضور ﷺ پر یقیناً بلا رو رعایت حق کے موافق فیصلہ کریں گے۔ جو ان کے مفاد کے خلاف پڑے گا۔ حالانکہ پہلے سے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ہم اللہ و رسول پر ایمان لانے اور ان کا حکم ماننے کو تیار ہیں۔ اب وہ دعویٰ کہاں گیا۔ ہاں فرض کیجئے اگر کسی معاملہ میں حق ان کی جانب ہو تو اس وقت بہت جلدی سے گردن جھکا کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوجائیں اور فیصلہ کا انحصار حضور ﷺ کی ذات مبارک پر کردیں گے۔ کیونکہ سمجھتے…
Read the full tafseer →آیت 48 وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ”
منافقین کے اس رویے ّ کا ذکر سورة النساء میں بھی آیا ہے۔ یہ لوگ فیصلوں کے لیے اپنے تنازعات رسول اللہ ﷺ کے بجائے یہودیوں کے پاس لے جانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ کے فیصلے مبنی بر انصاف ہونے کی وجہ سے عام طور پر ان کے خلاف ہی جاتے تھے۔
Read the full tafseer →76 اس آیت سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اللہ کے رسول کی طرف بلانا دراصل اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلانا ہے۔ رسول کی دعوت اور رسول کی طرف دعوت دراصل اللہ کی دعوت اور اللہ کی طرف دعوت ہے۔ دوسرے یہ کہ رسول کا فیصلہ حقیقتاً اللہ ہی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ جو شخص رسول کی طرف جانے یا اس کا فیصلہ کروانے یا اس کا فیصلہ تسلیم کرنے سے اغراض کرے وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ اس آیت کا حکم آپ کی زندگی تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ آپ کے بعد کوئی بھی اسلامی حکومت جس میں عدالتیں کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور ایسی عدالت کی طرف سے اگر کسی شخص کو بلاوا یا سمن آئے تو…
Read the full tafseer →102۔ (رسول کی خدمت میں حاضری دینے سے) یہ آیت اوپر کی آیت کی تفصیل کررہی ہے۔ یعنی اپنے قضیوں، جھگڑوں کے فیصلہ کے واسطے جب یہ رسول اللہ ﷺ کے حضور میں طلب کیے جاتے ہیں تو یہ لوگ یہ سمجھ کر کہ وہاں تو فیصلہ تمامتر حق و انصاف ہی کے مطابق ہوگا، اور کوئی خیانت، چالاکی چلنے نہ پائے گی، ٹال مٹول کرجاتے ہیں۔ (آیت) ” دعوا الی اللہ “۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی طلبی صرف بارگاہ رسول ہی میں ہوتی تھی مگر چونکہ رسول کے فیصلے عین خدائی ہی فیصلے کے نافذ کرنے والے ہوتے تھے اس لیے دعوا کے ساتھ (آیت) ” الی اللہ “ بڑھا دیا گیا۔ (آیت) ” دعوا الی اللہ “۔ میں دعوت حکم اللہ کی طرف ہے۔ دوربین فقہاء نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →واذا دعوا الی اللہ ورسولہ اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف بلایا جاتا ہے۔ بعض علمائے تفسیر نے اس طرح ترجمہ کیا ہے جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اس صورت میں ورسولہٖ کا عطف اللہ پر عطف تفسیری ہوگا جیسے محاورہ میں بولا جاتا ہے۔ اَعْجَبَنِی وَکَرَمُہٗ
لیحکم بینہم تاکہ اللہ کے رسول (حکم خدا کے مطابق) ان کے درمیان فیصلہ کردیں۔
اذا فریق منہم معرضون۔ تو ان میں کا ایک فریق (جو ناحق پر ہوتا) ہے رسول خدا کی طرف آنے سے) کتراتا ہے۔
Read the full tafseer →(48) اور جب یہ لوگ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلائے جاتے ہیں کہ رسول کتاب خداوندی اور حکم خداوندی کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں سے ایک گروہ کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ سے پہلوتہی کرتا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ واذا دعوا الی اللہ ورسولہ“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت حسن بصری ؒ سے مرسلا روایت کیا ہے کہ جب کسی انسان کا دوسرے شخص سے جھگڑا ہوتا تھا اور وہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں بلایا جاتا تھا اور اگر وہ حق پر ہوتا تھا اور کلی طور پر اسے اس بات کا یقین ہوتا تھا کہ فیصلہ اس کے حق میں ہوگا (تو چلاآتا تھا) اور جس وقت یہ سمجھتا تھا کہ اس نے کسی پر ظلم کیا ہے پھر…
Read the full tafseer →وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ۔۔ : واضح رہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جانے کا معاملہ صرف نبی ﷺ کی زندگی تک ہی نہیں تھا، بلکہ آپ ﷺ کے بعد آپ کی سنت کی طرف جو دعوت دی جاتی ہے وہ اصل میں آپ ہی کی طرف دعوت ہوتی ہے، اس سے منہ موڑنے والے کا حکم بھی وہی ہے جو اس آیت میں منافقین کے گروہ کا بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و اذا دعوا الی اللہ و رسولہ لیحکم بینھم طبری وغیرہ نے کہا : ایک منافق آدمی جس کا نام بشر تھا اس کے اور ایک یہودی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا یہودی نے اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے بلایا۔ منافق چونکہ حق پر نہ تھا اس نے آپ کے پاس آنے سے انکار کیا اور اس نے کہا : نعوذ باللہ محمد ﷺ ہم پر ظلم کرتا ہے ہم کعب بن اشرف (یہودی) کو اپنا حاکم بناتے ہیں تو اس کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کے اور حضرت علی ؓ کے درمیان پانی اور زمین کا پانی اور زمین کا جھگڑا تھا۔ مغیرہ نے انکار کیا کہ حضرت علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے جائیں، مغیرہ نے کہا : وہ مجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اٰمنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتوالی فریق منہم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین۔ کے بارے میں فرمایا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ جنہوں نے ایمان اور اطاعت کو ظاہر کیا اور اس کے باوجود لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اس کی اطاعت سے اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد میں جانے سے بھی روکتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ برحق فیصلہ فرماتے تھے
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور جب اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ حق پر ہوتا تھا…
Read the full tafseer →وَاِذَا [ اور جب ] دُعُوْٓا [ ان کو بلایا جاتا ہے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول کی طرف ] لِيَحْكُمَ [ تاکہ وہ فیصلہ کریں ] بَيْنَهُمْ [ ان کے درمیان ] اِذَا [ تب ہی ] فَرِيْقٌ [ ایک فریق ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مُّعْرِضُوْنَ [ اعراض کرنے والا ہوتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
منافقوں کی دنیا طلبی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انحراف اور قبول حق سے اعراض
یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے واضح آیات کھلی کھلی نشانیاں نازل فرمائی ہیں جو حق اور حقیقت کو واضح کرنے والی ہیں جو عقل و فہم سے کام نہیں لیتا وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور گمراہی کے راستے ہی اختیار کیے ہوئے رہتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت دے دیتا ہے، اس کے بعد چار آیات ہیں ان کو سمجھنے کے لیے منافقین کے بعض واقعات کو سمجھنا چاہیے ایک واقعہ ہم سورة نساء کی آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ ) کی تفسیر کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں وہ بشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–57
ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین
قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
52:۔ ” ویقولون اٰمنا الخ “ : یہ منافقین پر شکویٰ ہے اور منافقین کے حال کا اعادہ ہے کہ زبان سے تو وہ ایمان و اطاعت کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کے کرتوت یہ ہیں کہ پیغمبر خدا ﷺ کی کی عزت و آبرو تک کا لحاظ نہیں کیا اور جھوٹی تہمت لگا دی اس لیے یہ لوگ ہرگز ایمان والے نہیں اور ان کا دعوی ایمان سراسر جھوٹا ہے۔ ” واذا دعوا الخ “ یہ منافقین کی عام عادت کا بیان ہے جب ان کا کسی سے کسی معاملے میں جھگڑا ہوجائے اور فریق ثانی ان سے کہے کہ چلو اللہ اور اس کے رسول (علیہ السلام) کے فیصلے سے کیوں اعراض کرتے ہیں۔ ” وان یکن لھم الحق الخ “ : لیکن اگر انہیں معلوم ہو کہ فیصلہ انہی کے حق میں ہوگا تو دوڑ کرحضور ﷺ کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ربط آیات :
پہلے اللہ نے عصمت وعفت کا نظام بیان فرمایا اور اس سلسلے میں حدود اور احکام نازل فرمائے۔ پھر اللہ کی توحید کے بعض عقلی دلائل بیان فرمائے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ارض وسما کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو ہدایت کے لئے بڑی واضح آیتیں نازل کی ہیں جب کائنات کی ہر چیز تسبیح وتحمید بیان کرتی ہے تو پھر انسانوں کا تو بطریق اولیٰ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے بن جائیں اور اس کی توحید کو تسلیم کرلیں۔ آپ آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی…
Read the full tafseer →وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْہُمْ مُّعْرِضُوْنَ 48
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وَاِذَا دُعُؤٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِـہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْن۔ وَاِنْ یَّـکُنْ لَّـھُمُ الْحَقُّ یَـاْ تُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ۔ (النور : 48، 49)
(جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ روگردانی کرتا ہے۔ اور اگر فیصلہ ان کے حق میں ہونا ہو تو اس کی طرف نہایت فرمانبردانہ آتے ہیں۔ )
نفاق کا ایک پہلو
منافق کبھی زبان سے اسلام کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار نہیں کرتا اور نہ کبھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کے دعویٰ ایمان میں کمزوری ہے بلکہ منافق لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فہم القرآن
ربط کلام : صراط مستقیم پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرئے مومن یہی کچھ کرتے اور مانتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ہر انسان کو حکم ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ صراط مستقیم کو جاننے کی کوشش کرے جو اخلاص کے ساتھ صراط مستقیم جاننے کی کوشش کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی ہدایت اور اس پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے گا۔ لیکن منافق کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ زبانی کلامی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن جب دین کے معاملہ میں آزمائش آجائے یا اسے شریعت کے خلاف چلنے پر مفاد حاصل ہورہا ہو تو وہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرجاتا ہے بالخصوص ایسے لوگوں کو کسی قضیہ…
Read the full tafseer →48: وَاِذَا دُعُوْا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٰ (اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے) رسول اللہ ﷺ کی طرف۔ یہ اس طرح ہے جیسا کہتے ہیں : اعجبنی زیدٌ وکرمہ مراد اس سے کرم زید ہے مجھے زید کی سخاوت پسند ہے۔ لِیَحْکُمَ (تاکہ وہ فیصلہ کریں۔ ) رسول ﷺ : بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ 0 مُّعْرِضُوْنَ (ان کے مابین تو اسی وقت ان کی ایک جماعت منہ موڑنے والی ہے) اچانک ایک گروہ اعراض کرجاتا ہے۔
شان نزول : یہ بشر منافق اور اس کے مخالف یہودی کے متعلق نازل ہوئی جبکہ دونوں کا ایک قطعہ زمین پر جھگڑا ہوا۔ یہودی اس کو رسول ﷺ کی خدمت میں لے جانے کی کوشش کر رہا تھا اور منافق کعب بن اشرف یہودی…
Read the full tafseer →48۔ واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم، ، رسول کی طرف تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں۔ اذافریق منھم معرضون، ، آپ ﷺ کے فیصلے سے اعراض کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ ان کے حکم فیصلہ کو ماننے سے اعراض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
48۔ 52:۔ تفسیر ابن المنذر ‘ عبداللہ حمید اور ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقوں کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت ﷺ جو فیصلہ کرتے اور حکم دیتے ہیں بغیر کسی رو رعایت کے وہ فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ‘ اس لیے جس معاملے میں وہ منافق لوگ حق پر ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری ہوتی ‘ تو ایسے معاملے کو اپنا حق پانے کی خوشی میں دوڑ کر آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آتے تھے اور جس معاملے میں یہ لوگ حق پر نہ ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری نہ ہوتی اور اس قرینہ سے جان لیتے کہ آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
(آیت نمبر (47
اللہ تبارک و تعالیٰ ان ظالموں کی حالت بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں بیماری ضعف ایمان ‘ نفاق شک و ریب اور ضعف علم ہے جو اپنی زبان سے ایمان باللہ اور اطاعت کے التزام کا دعوی ٰ کرتے ہیں مگر وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے اور ان میں سے ایک گروہ اطاعت سے بہت زیادہ روگردانی کرتا ہے۔ فرمایا : ( و ھم معرضون) ( الانفال (23/8:” اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔ “ کیونکہ روگردانی کرنے والے کی کبھی کبھی اس امر کی طرف رجوع کی نیت ہوتی ہے جس سے اس نے روگردانی کی تھی مگر یہ ظالم اس کی طرف التفات اور اس کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس حالت کو آپ ایسے بہت سے لوگوں کے احوال کے مطابق پائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
جس شخص کو حاکم کی عدالت میں طلب کیا جائے اسے وہاں جانا لازم ہے
قول باری ہے : (واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون) جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر ……اپنے کسی حق کے سلسلے میں دعویٰ دائر کردے اور اسے حاکم کی عدالت میں پیش ہونے کے ۔۔۔۔۔۔۔ پر اس کے ساتھ حاکم کی عدالت میں پیش ہونا لازم ہوگا۔ اس لئے کہ قول باری : (فاذادعوا الی اللہ۔ ) کے معنی ” الی حکم اللہ “ کے ہیں یعنی جب انہیں اللہ کے حکم اور فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے، یہ چیز…
Read the full tafseer →107 اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے منہ موڑنا کفر ونفاق ہے ۔ والعیاذ باللہ -: سو اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ " اللہ اور اس کے رسول کے حکم و فیصلے سے کنی کترانے والے منافق ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ رسالت میں حاضری و داد خواہی سے کنی کتراتے ہیں۔ جس سے ایسے لوگوں کے دعوائے ایمان کی قلعی کھل جاتی ہے۔ روایات کے مطابق یہ آیت کریمہ ایک یہودی اور منافق کے باہمی جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئی۔ جس میں یہودی حق پر تھا۔ اس لئے وہ چاہتا تھا کہ ہم یہ معاملہ آنحضرت ﷺ کے پاس لے جائیں۔ کیونکہ اس جھگڑے میں وہ حق پر تھا۔ اور آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لانے کے باوجود اس یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…
Read the full tafseer →6 ۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ صرف نبی ﷺ کی زندگی تک ہی نہ تھا بلکہ آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی سنت کی طرف جو دعوت دی جاتی ہے وہ دراصل آپ ﷺ کی طرف دعوت ہوتی ہے۔ اس سے گریز کرنے والے کا حکم وہی ہے جو اس آیت میں منافقین کے گروہ کا بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
(24:47) یتولی مضارع واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر وہ پیٹھ پھیر لیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 :
دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 :
جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
(ف 3) شان نزول :
جس کا مطلب یہ ہے کہ بشرنامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سید عالم حق وعدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لیے اس نے خواہش کی یہ مقدمہ نبی ﷺ سے فیصل کر ایاجائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور نبی ﷺ عدل و انصاف میں کسی کی رعایت نہیں فرماتے، اس لیے وہ نبی ﷺ کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مصر ہوا اور نبی ﷺ کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
[53] یہاں ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی دل میں تو ایمان کسی منافق کے بھی نہیں لیکن ان کھلم کھلا حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں نے تو ایمان ظاہری کا پردہ بھی ہٹا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
منافقین کے جذبہ اطاعت کی حقیقت :
(ف 2) ان آیات میں منافقین کی ذہنیت کا آشکارا کیا ہے ارشاد ہے کہ ظاہر میں تو یہ لوگ اسلام کے فضائل و محاسن کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مومن ہیں ، اور اللہ و رسول کے مطیع ومنقاد ہیں ، مگر حقیقت میں یہ مومن نہیں ، ان میں سرکشی اور تمرد کا مادہ ہنوز موجود ہے ، چناچہ جب ان سے کسی معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لو اور اس کے فیصلوں کے سامنے جھک جاؤ ان میں سے بعض لوگ روگردانی کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے معاملہ میں حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ، ہاں اگر انہیں یہ یقین ہوجائے ، کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا ، اور ہمیں کچھ دلایا جائے گا ، تو…
Read the full tafseer →(48) اور یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس غر ض سے بلائے جائیں اور طلب کئے جائیں کہ رسول ان کے مابین فیصلہ کردے تب ہی ایک فرقے کے لوگ پہلو تہی کرتے اور منہ موڑ لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یہ بلانا رسول ہی کی طرف ہے، مگر چونکہ آپ کا فیصلہ موافق حق خداوندی ہوتا ہے اس لئے الی اللہ بڑہا دیا۔
Read the full tafseer →ان کی حالت کے پیش نظر ان کی اندرونی حالت وکیفیت کا بیان :
82۔ جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو ان کے قدم آگے کی طرف کو نہیں اٹھتے کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے دل میں جو بیماری ہے وہ قدم اٹھانے ہی نہیں دیتی اور انکو اس بات کا پختہ یقین ہے کہ وہ کسی رو رعایت کی کوئی امید نہیں جو بات ہوگی وہ بالکل صاف صاف اور کھلی ہوگی اور اس طرح کی کھلی اور صاف بات کو وہ ہرگز ہرگز پسند نہیں کرتے ۔ یاد رہے کہ اس وقت جب خود نبی اعظم وآخر ﷺ موجود تھے جب ان کو دعوت دی جاتی تھی تو صرف رسول اللہ ﷺ ہی کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور آپ ﷺ ہی کی فیصلہ صادر کرنا ہوتا تھا پھر یہ اللہ کی طرف دعوت چہ معنی دارد ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا
From the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43.
Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.
Read the full tafseer →77. These words clearly state that the judgment of the Prophet is the judgment of Allah and the command of the Prophet is the command of Allah. Therefore, the invitation to obey the Prophet is an invitation to obey both Allah and His Prophet. Also see (Surah An-Nisa, Ayats 59-61, and the E.Ns thereof).
78. This does not only apply to the cases which came up before the Prophet (peace be upon him) for a decision in his lifetime, but this continues valid even today. Thus, a summon from the court of a judge in an Islamic government, who judges a case in accordance with the Book of Allah and the…
Read the full tafseer →