An-Noor 24:47

An-Noor · from ayah 47

24:47

وَیَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ ؕ— وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ۟وَيَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوۡلِ وَاَطَعۡنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ‌ؕ وَمَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But the hypocrites say, "We have believed in Allah and in the Messenger, and we obey"; then a party of them turns away after that. And those are not believers.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:47

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان ﻻئے اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ (منافق) لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے ہیں، اور ہم فرمانبردار ہوگئے ہیں، پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد بھی منہ موڑ لیتا ہے۔ یہ لوگ (حقیقت میں) مومن نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور حکم مانا پھر کچھ ان میں کے اس کے بعد پھر جاتے ہیں اور وہ مسلمان نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ (لوگ) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں پھر اس (قول) کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اپنے اقرار سے) رُوگردانی کرتا ہے، اور یہ لوگ (حقیقت میں) مومن (ہی) نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کہتے ہیں ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے حکم مان لیا، پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد پھرجاتا ہے اور یہ لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ (منافق) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اطاعت قبول کی۔ پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فریق (اطاعت سے) منہ پھیر لیتا ہے حقیقتاً یہ لوگ ایماندار نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر ان میں سے ایک گروہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ درحقیقت مومن نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہنے کو تو یہ منافق لوگ یوں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر اور ہم نے اطاعت قبول کی مگر حال ان کا یہ ہے کہ پھر انہی میں کا ایک گروہ اس کے بعد پھرجاتا ہے راہ حق وصواب سے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایماندر ہیں ہی نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ کہتے (تو) ہیں کہ اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے اور ان کا حکم مانا پھر ان میں کا ایک گروہ اس کے بعد سرتابی کرجاتا ہے اور یہ لوگ (ہرگز) ایمان والے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو) کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ اور رسول ﷺ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فریق پیٹھ پھیر جاتا ہے اور یہ لوگ درحقیقت مؤمن نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ان کا حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ ایمان والے ہی نہیں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

These people say "We have believed in Allah and the Messenger and we have submitted"; but soon after this, some of them turn away (from obedience): such people are not true Believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :We have believed in Allah and in the messenger, and have adopted obedience , then a group from them goes back after all this. Those are no believers.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :We have believed in Allah and in the messenger, and have adopted obedience , then a group from them goes back after all this. Those are no believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They say: "We have believed in Allah and in the Messenger, and we obey," then a party of them turn away thereafter, such are not believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: We believe in Allah and the messenger, and we obey; then after that a faction of them turn away. Such are not believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But the hypocrites say, "We have believed in Allah and in the Messenger, and we obey"; then a party of them turns away after that. And those are not believers.

— Saheeh International

They say, "We have believed in God and the Messenger and we have obeyed them." Then a group of them turn away from their (belief). They are not believers.

— Muhammad Sarwar

And they say: We believe in Allah and in the apostle and we obey; then a party of them turn back after this, and these are not believers.

— Muhammad Habib Shakir

And they say: we have believed in Allah and in the apostle and we have obeyed; then there backslide a party of them thereafter: and these are not believers.

— Abdul Majid Daryabadi

They say, "We believe in Allah and in the messenger, and we obey": but even after that, some of them turn away: they are not (really) Believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–52

منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النُّوْر 76 یعنی اطاعت سے رو گردانی ان کے دعوائے ایمان کی خود تردید کردیتی ہے، اور اس حرکت سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ انہوں نے جھوٹ کہا جب کہا کہ ہم ایمان لائے اور ہم نے اطاعت قبول کی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–49

خلاصہ تفسیر ہم نے (حق کے) سمجھانے والے دلائل (ہدایت عام کے لئے) نازل فرمائے ہیں اور (ان عام میں سے) جس کو اللہ چاہتا ہے راہ راست کی طرف (خاص) ہدایت فرماتا ہے (کہ وہ الوہیت کے حقوق علمیہ یعنی عقائد صحیحہ اور حقوق عملیہ یعنی اطاعت کو بجا لاتا ہے ورنہ بہت سے محروم ہی رہتے ہیں) اور یہ منافق لوگ (زبان سے) دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے اور (خدا و رسول کا) حکم (دل سے) مانا پھر اس کے بعد (جب عمل کر کے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا وقت آیا تو) ان میں کا ایک گروہ (جو بہت زیادہ شریر ہے خدا و رسول کے حکم سے) سرتابی کرتا ہے (اس وقت سے وہ صورت مراد ہے کہ جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منافقین کے رویہ پر تبصرہ تفویض الی اللہ کی عام دعوت کے بعد اب یہ خاص طور پر منافقین کو لیا ہے جن کے فتنے اس دور میں، جیسا کہ فتنہ افک سے معلوم ہوتا ہے، بہت بڑھ گئے تھے۔ فرمایا کہ جہاں تک زبنی اظہار و اعلان کا تعلق ہے یہ بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح اللہ و رسول کے ایمان اور اطاعت کا دعویٰ اور اطاعت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جب اس دعوئے ایمان و اطاعت کے امتحان کا وقت آتا ہے تو یہ بالکل پھسڈی ثابت ہوتے ہیں۔ ومآ اولئک بالمومنین یعنی اس قسم کے مدعیان ایمان اللہ کے نزدیک مومن نہیں ہیں۔ ایمان کا حق صرف کلمہ پڑھ دینے سے پورا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے شرط لازم ہے کہ اللہ و رسول کے احکا مکی بےچون و چرا اطاعت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–48

47-1یہ منافقین کا بیان ہے جو زبان سے اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن دلوں میں کفر وعناد تھا یعنی اعتقاد صحیح سے محروم تھے۔ اس لئے زبان سے اظہار ایمان کے باوجود ان کے ایمان کی نفی کی گئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–52

39: منافقین چونکہ دل سے ایمان نہیں لائے تھے، اس لئے ان سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف معاندانہ حرکتیں سرزد ہوتی رہتی تھیں، چنانچہ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا، یہودی جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حق کا فیصلہ کریں گے اس لئے اس نے بشر کو پیشکش کی کہ چلو آنحضرت ﷺ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرالیں، بشر کے دل میں چور تھا، اس لئے اس نے آپ سے فیصلہ کرانے کے بجائے ایک یہودی سردار کعب بن اشرف سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی، اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 47–50

(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔ جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہ منافقین کا ذکر ہے۔ وہ زبان سے دعوے ایمان و اطاعت کیا کرتے تھے اور جب عمل کا وقت آتا تو پھرجاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں میں شروع سے ایمان وانقیاد موجود ہی نہ تھا۔ جو کچھ زبانی جمع خرچ تھا امتحان و ابتلاء کے وقت اس کی بھی قلعی کھل جاتی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ط ” یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کا اقرار بھی کرتے ہیں ‘ اطاعت کا دم بھی بھرتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کا طرز عمل کچھ اور ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

75 یعنی اپنے عمل سے اپنے قول کی خود ہی تردید کردیتے ہیں۔ ان کے دعوی کے دو جز تھے ایک اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، دوسرے اطاعت کرنا۔ اب چونکہ انہوں نے منہ پھیر کر اطاعت سے انکار کردیا ہے لہذا تو یہ اپنے دعویٰ کے پہلے جز یعنی ایمان لانے کے سلسلہ میں جھوٹے ہوئے۔ اگر سچے دل سے ایمان لائے ہوتے تو کبھی اطاعت سے منہ نہ پھیرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کا بھی عمل اس کے قول یا زبانی دعویٰ کے خلاف ہو۔ حقیقتاً وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

101۔ ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جارہی ہے۔ یعنی دل میں ایمان تو کسی منافق کے بھی نہیں۔ لیکن ان کھلم کھلا عدول حکمی کرجانے والوں نے تو اس ایمان کا ظاہری پردہ بھی ہٹا دیا۔ (آیت) ” من بعد ذلک “۔ یعنی جب اس زبانی دعوی کے عملی ظہور کا وقت آتا ہے۔ ذکر منافقین کا ہے۔ زبان سے تو یہ لوگ بڑے دعوے ایمان و اطاعت کے کیا کرتے ہیں۔ مگر جب وقت اس دعوی کے ثبوت کا آتا ہے۔ تو ان میں کا زیادہ شریر حصہ صاف نکل جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتولی فریق منہم من بعد ذلک اور وہ کہتے ہیں ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور (دونوں کے) فرماں بردار ہوگئے پھر اس (قول) کے بعد ان میں ایک فریق (قبولِ حق سے جب کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوجائے) پھرجاتا ہے۔ وَیَقُوْلُوْنَیعنی بشر اور اس جیسے دوسرے منافق کہتے ہیں۔ فَرِیْقٌیعنی وہ فریق جو حق پر نہ تھا۔ وما اولئک بالمؤمنین۔ اور یہ لوگ مؤمن نہیں ہیں۔ اولئک سے تمام منافقوں کی طرف اشارہ ہے اس جملہ میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ منافق اگرچہ زبانوں سے مؤمن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان کے دل مؤمن نہیں ہیں۔ یا اولئک سے اسی گروہ کی طرف اشارہ ہے جو فیصلہ سے سرتابی کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(47) یہ آیت مبارکہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کے درمیان ایک زمین کے بارے جھگڑا چل رہا تھا اور حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ کے ساتھ رسول اکرم ؓ کی خدمت میں فیصلہ کے لیے جارہے تھے تو ان کی قوم نے ان کو جانے سے منع کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت فرمائی۔ کہ قوم عثمان ؓ دعوی تو کرتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر سچائی کے ساتھ ایمان لے آئے اور جس چیز کا ہمیں حکم دیا گیا اسے ہم نے دل سے مانا، پھر اس ایمان و اطاعت کے دعوے کے بعد ان کا ایک گروہ حکم الہی سے سرتابی کرتا ہے اور یہ لوگ اپنے ایمان میں سچے نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا باللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا : اس جملے کا ”وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ“ پر عطف ہے، گویا اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کا ذکر کر رہے ہیں جنھیں ہدایت دینا اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا، یہ وہ لوگ ہیں جو ظاہر تو اسلام کرتے ہیں لیکن دل میں کفر چھپائے ہوئے ہیں، یہ منافق لوگ ہیں۔ اس آیت کا مضمون سورة نساء کی آیات (60 تا 65) سے ملتا جلتا ہے، ان کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویقولون امنا با اللہ و بالرسول اس سے مراد منافقین ہیں، وہ زبان سے کہتے ہیں، ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے لیکن ان کا یہ کہنا اخلاص اور یقین کے بغیر ہوتا ہے۔ واطعنا۔ وہ کہتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–52

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اٰمنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتوالی فریق منہم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین۔ کے بارے میں فرمایا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ جنہوں نے ایمان اور اطاعت کو ظاہر کیا اور اس کے باوجود لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اس کی اطاعت سے اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد میں جانے سے بھی روکتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ برحق فیصلہ فرماتے تھے 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور جب اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ حق پر ہوتا تھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَبِالرَّسُوْلِ [ اور ان رسول پر ] وَاَطَعْنَا [ اور ہم نے اطاعت کی ] ثُمَّ [ پھر ] يَتَوَلّٰى [ روگردانی کرتا ہے ] فَرِيْقٌ [ ایک فریق ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ [ اس (اقرار) کے بعد ] وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ نہیں ہیں ] بِالْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 47 ۔ سے معلوم ہوگیا کہ کلمہ پڑھ لینے اور ایمان کا دعوی کرنے سے ایمان کا حق پورا نہیں ہوجاتا۔ بلکہ اس کے لئے شرط لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بےچون و چرا اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص یہ شرط پوری نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–49

منافقوں کی دنیا طلبی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انحراف اور قبول حق سے اعراض یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے واضح آیات کھلی کھلی نشانیاں نازل فرمائی ہیں جو حق اور حقیقت کو واضح کرنے والی ہیں جو عقل و فہم سے کام نہیں لیتا وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور گمراہی کے راستے ہی اختیار کیے ہوئے رہتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت دے دیتا ہے، اس کے بعد چار آیات ہیں ان کو سمجھنے کے لیے منافقین کے بعض واقعات کو سمجھنا چاہیے ایک واقعہ ہم سورة نساء کی آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ ) کی تفسیر کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں وہ بشر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–57

ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–49

52:۔ ” ویقولون اٰمنا الخ “ : یہ منافقین پر شکویٰ ہے اور منافقین کے حال کا اعادہ ہے کہ زبان سے تو وہ ایمان و اطاعت کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کے کرتوت یہ ہیں کہ پیغمبر خدا ﷺ کی کی عزت و آبرو تک کا لحاظ نہیں کیا اور جھوٹی تہمت لگا دی اس لیے یہ لوگ ہرگز ایمان والے نہیں اور ان کا دعوی ایمان سراسر جھوٹا ہے۔ ” واذا دعوا الخ “ یہ منافقین کی عام عادت کا بیان ہے جب ان کا کسی سے کسی معاملے میں جھگڑا ہوجائے اور فریق ثانی ان سے کہے کہ چلو اللہ اور اس کے رسول (علیہ السلام) کے فیصلے سے کیوں اعراض کرتے ہیں۔ ” وان یکن لھم الحق الخ “ : لیکن اگر انہیں معلوم ہو کہ فیصلہ انہی کے حق میں ہوگا تو دوڑ کرحضور ﷺ کے پاس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–50

ربط آیات : پہلے اللہ نے عصمت وعفت کا نظام بیان فرمایا اور اس سلسلے میں حدود اور احکام نازل فرمائے۔ پھر اللہ کی توحید کے بعض عقلی دلائل بیان فرمائے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ارض وسما کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو ہدایت کے لئے بڑی واضح آیتیں نازل کی ہیں جب کائنات کی ہر چیز تسبیح وتحمید بیان کرتی ہے تو پھر انسانوں کا تو بطریق اولیٰ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے بن جائیں اور اس کی توحید کو تسلیم کرلیں۔ آپ آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ۝ 0ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ۝ 47 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–54

تفسیر : ان دلائل کے بعد جو انسان کے دل میں نور ابدی اور سرور سرمدی پیدا کرتی ہیں چند گمراہ ازلیوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ظلمات میں مبتلا ہیں اور ان ظلمات کے سبب ذرا ذرا سی باتوں میں بھی رسول کریم ﷺ کے ابتاع کرنے سے دل چراجاتے اور حیلہ بہانہ بناتے ہیں۔ یہ چند منافق جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے انہی کی طرف ان آیات میں روئے سخن ہے کہ یہ لوگ منہ سے تو ایمان و فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں اور موقع پر آکر منہ موڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ مومن نہیں اور جب کسی باہمی فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں اور اگر یہ معلوم ہوجاوے کہ فیصلہ ہمارے حق میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَقُوْلُوْنَ اَمَنَّا بِاللّٰہِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مِّنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ ط وَمَـآ اُوْلٰٓئِکَ بِالْمُوْمِنِیْنَ ۔ (النور : 47) (اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی ہے، پھر ان میں سے ایک گروہ اس دعویٰ کے بعد منہ پھیر لیتا ہے، اور یہ لوگ درحقیقت مومن نہیں ہیں۔ ) منافقین کے رویئے پر تنقید اللہ تعالیٰ کے دین کی عام دعوت اور اس پر دلائل قائم کرنے کے بعد ایک اور حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے، وہ یہ کہ اسلام چونکہ صرف ایک فرد کے عقیدے کا نام نہیں بلکہ ریاست کا آئین اور دستور بھی ہے۔ عام دستوری ریاستوں میں کسی شخص کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–48

فہم القرآن ربط کلام : صراط مستقیم پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرئے مومن یہی کچھ کرتے اور مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر انسان کو حکم ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ صراط مستقیم کو جاننے کی کوشش کرے جو اخلاص کے ساتھ صراط مستقیم جاننے کی کوشش کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی ہدایت اور اس پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے گا۔ لیکن منافق کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ زبانی کلامی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن جب دین کے معاملہ میں آزمائش آجائے یا اسے شریعت کے خلاف چلنے پر مفاد حاصل ہورہا ہو تو وہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرجاتا ہے بالخصوص ایسے لوگوں کو کسی قضیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تین گروہ : 47: جب آیات کے اتارنے کا ذکر ہوچکا اب اس کے بعد لوگوں کے تین گروہوں میں بٹ جانے کا ذکر کیا۔ نمبر 1۔ ایک جماعت نے ظاہراً ان آیات کی تصدیق اور باطناً تکذیب کی یہ منافق کہلائے دوسری جماعت نے ظاہر و باطن سے تصدیق کی یہ مخلصین کی جماعت ہے نمبر 3۔ تیسرا گروہ اس نے ظاہر و باطن میں تکذیب کی یہ کافر ہیں۔ اسی ترتیب سے تذکرہ آرہا ہے ارشاد فرمایا : وَیَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالرَّسُوْلِ (وہ اپنی زبانوں سے آمنا باللہ وبالرسول کہتے ہیں۔ ) وَاَطَعْنَا (اور ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی) ثُمَّ یَتَوَلّٰی (پھر ایک جماعت اللہ تعالیٰ اس کے رسول کے حکم کو ماننے سے گریزاں ہے۔ ) فَرِیْقٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

47۔ ویقولون آمنا باللہ وبالرسول واطعنا، ، اس سے مراد منافقین کہتے ہیں ثم یتولی ، اللہ کی اطاعت سے رسول کی اطاعت سے وہ اعراض کرتے ہیں۔ فریق منھم من بعد ذالک، ، ان کے اس قول کے بعد کہ انہوں نے ، امنا، کہا اور وہ اللہ کے علاوہ کو پکارنے لگے۔ ” ومااو لئک بالمومنین، ، اس آیت کا نزول بشر منافق کے بارے میں ہوا۔ اس کا اور ایک یہودی کے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوگیا یہودی نے کہا کہ چلومحمد سے فیصلہ کروائیں، منافق کہتا ہے کہ محمد کے پاس فیصلہ لے کر نہیں جاتا بلکہ کعب بن اشرف یہودی کے پاس چلتے ہیں اور وہ کہتا تھا کہ مجھے محمد کے فیصلے منظور نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

47:۔ اوپر ذکر تھا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد اور دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے ہیں ‘ وہ خود تو راہ راست پر آنے کا قصد نہیں کرتے اور کسی کو زبردستی راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے ‘ طبرانی کبیر اور مسند بزار میں معتبر سند سے عمران بن حصین کی حدیث 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ منافق لوگ ظاہر میں مسلمانوں کے سے عمل کرتے ہیں اور ان کے دل میں دغا بازی بسی ہوتی ہے اس لیے بہ نسبت کھلے کھلے کافروں کے زبان دراز منافق کی باتوں سے دھوکے میں آجانے کا بڑا خوف ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر یہ بدلوگوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں منافقوں کا ذکر جو شروع فرمایا اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–50

(آیت نمبر (47 اللہ تبارک و تعالیٰ ان ظالموں کی حالت بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں بیماری ضعف ایمان ‘ نفاق شک و ریب اور ضعف علم ہے جو اپنی زبان سے ایمان باللہ اور اطاعت کے التزام کا دعوی ٰ کرتے ہیں مگر وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے اور ان میں سے ایک گروہ اطاعت سے بہت زیادہ روگردانی کرتا ہے۔ فرمایا : ( و ھم معرضون) ( الانفال (23/8:” اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔ “ کیونکہ روگردانی کرنے والے کی کبھی کبھی اس امر کی طرف رجوع کی نیت ہوتی ہے جس سے اس نے روگردانی کی تھی مگر یہ ظالم اس کی طرف التفات اور اس کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس حالت کو آپ ایسے بہت سے لوگوں کے احوال کے مطابق پائیں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 43–47

قول باری ہے (وینزل من السمآء من جبال فیھا من ترد فیصیب بہ من یشآء ویصرفہ عن یشآء) اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے اور پھر جیسے چاہتا ہے اس کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے بچا لیتا ہے۔ ایک قول کے مطابق پہلا حرف من ابتدائے غایت کے لئے ہے اس لئے کہ ابتداء آسمان سے نازل کرنے کے ساتھ ہوتی ہے دوسرا حرف من تبیعض کے لئے ہے اس لئے کہ اولے ان پہاڑوں کا ایک حصہ ہیں جو آسمانوں میں بلند ہیں۔ تیسرا حرف من جنس کو بیان کرنے کے لئے ہے کیونکہ ان پہاڑوں کی جنس اولوں کی جنس میں سے ہے۔ قول باری ہے : (واللہ خلق کل دابۃ من ماء۔ ) اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 46–47

104 آیات بینات اور ان کا تقاضا ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے اتاریں کھول کر بیان کرنے والی عظیم الشان آیتیں "۔ جو پوری طرح واضح کردیتی ہیں حق و باطل اور صحیح و غلط کو، اور ہماری قدرت کاملہ، وحدانیت و انفراد اور حق و صواب کو۔ سو ہم نے تو حق کو واضح کردینے والی ایسی آیات بینات اتار دیں جو آنکھیں کھولنے والی اور راہ حق و صواب کو پوری طرح واضح کردینے والی ہیں۔ لیکن آگے ان سے حق و ہدایت کی دولت سے سرفراز ہونے کیلئے معاملہ بندوں کے اپنے اوپر ہے۔ پس جو اس نعمت کی قدر کریں گے اور نور حق و ہدایت کے طالب بن کر اس کی طرف رجوع کریں گے، انکو حق و ہدایت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ یعنی زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر عمل سے خود ہی اس کی تردید کرتے ہیں۔ یہ ان کے جھوٹا اور بےایمان ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (از ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 47–48

(24:47) یتولی مضارع واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر وہ پیٹھ پھیر لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–54

لغات القرآن : آیت نمبر 47 تا 54 : دعوا (بلایا گیا) ‘ مذعنین (گردن جھکانے والے) ارتابوا (شک میں پڑگئے) یحیف (ظلم کرے گا) یخش (وہ ڈرتا ہے) ‘ یتقہ (نافرمانی سے بچتا ہے) ‘ الفائزون (کامیاب ہونے والے) ‘ جھد ایمان ( مضبوط قسمیں) ‘ معروفۃ ( مشہور۔ معلوم) ‘ حمل (بوجھ ڈالا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا تو ایمان و عمل صالح کے پیکر ایسے لاتعداد صحابہ کرام ؓ تھے جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ ‘ اس کے رسول ‘ آخرت اور دین اسلام کی تمام تعلیمات کو قبول کرکے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی سعادت حاصل کرلی تھی لیکن ان مخلص مسلمانوں کے بر خلاف ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے جس نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) منافقوں کا ذکر : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کھلے کھلے منکر شریعت لوگوں کے علاوہ بعضے دھوکے باز لوگ ایسے بھی ہیں جو زبان سے اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کے دل میں دغابازی بسی ہوئی ہے اس لیے یہ انکازبانی اقرار جھوٹا ہے اور اس اوپری دل کی فرمانبرداری کے اقرار سے یہ لوگ مسلمان نہیں ٹھہر سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–54

[53] یہاں ان لوگوں کے ایمان کامل کی نفی بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی دل میں تو ایمان کسی منافق کے بھی نہیں لیکن ان کھلم کھلا حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں نے تو ایمان ظاہری کا پردہ بھی ہٹا دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–53

منافقین کے جذبہ اطاعت کی حقیقت : (ف 2) ان آیات میں منافقین کی ذہنیت کا آشکارا کیا ہے ارشاد ہے کہ ظاہر میں تو یہ لوگ اسلام کے فضائل و محاسن کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مومن ہیں ، اور اللہ و رسول کے مطیع ومنقاد ہیں ، مگر حقیقت میں یہ مومن نہیں ، ان میں سرکشی اور تمرد کا مادہ ہنوز موجود ہے ، چناچہ جب ان سے کسی معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لو اور اس کے فیصلوں کے سامنے جھک جاؤ ان میں سے بعض لوگ روگردانی کرتے ہیں ، اور آپ کو اپنے معاملہ میں حکم ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ، ہاں اگر انہیں یہ یقین ہوجائے ، کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا ، اور ہمیں کچھ دلایا جائے گا ، تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) اور منافق لوگ کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور رسول ﷺ پر ایمان لائے اور ہم نے اللہ اور رسول کا حکم مانا پھر ان میں سے ایک فریق اس کہنے کے بعد سرتابی کرتا اور پھرجاتا ہے اور حقیقت حال یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں رکھتے۔ یعنی منافقوں کا دعویٰ تو یہ ہوتا ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے اور ہم نے ان دونوں کا کہا مانا اور فرمانبرداری کی لیکن عمل کے وقت انہی میں سے ایک فریق پھرجاتا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں رکھتے۔ شاید ایسامعلوم ہوتا ہے کہ جب کسی مقدمے کے فیصلے کے لئے طلب کیا جاتا ہوگا تو کچھ زیادہ شریر یہ سمجھ کر فیصہ ہمارے خلاف ہوگا پھرجاتے ہوں گے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ مراد اس صورت سے وہ صورت ہے کہ جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہو، اور صاحب حق اس منافق سے درخواست کرے کہ چلو جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ لے چلیں، اس موقع پر یہ سرتابی کرتے ہیں، کیونکہ جانتے ہیں کہ آپ کے اجلاس میں جب حق محقق ہوجاوے گا تو اسی کے موافق آپ فیصلہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پہلے گروہ کا ذکر جس کو اسلام کی زبان میں منافقین کا گروہ کہا جاتا ہے : 79۔ انہوں نے زبان سے کیا کہا ؟ انہوں نے کہا کہ ” ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا حکم مانا “ ظاہر ہے کہ جو بات وہ زبان سے کہہ رہے ہیں وہ تو بجائے خود سچی لیکن چونکہ ان کا اپنا عقیدہ وہ نہیں ہے جسے وہ زبان سے ظاہر کر رہے ہیں اس لئینا پنے اس قول میں وہ جھوٹے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے رسول ہونے اور اللہ تعالیٰ کے اللہ ماننے کی شہادت دیتے ہیں ، معلوم ہوا کہ شہادت دو چیزوں سے مرکب ہے ایک وہ اصل بات جس کی شہادت دی جائے دوسرے اس بات کے متعلق شہادت دینے والے کا اپنا عقیدہ اب اگر بات بجائے خود بھی سچی ہو اور شہادت دینے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–49

مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا From the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43. Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

76. That is, their turning away from obedience itself belies their claim that they are believers and their conduct clearly shows that their profession of faith and submission was absolutely false.

Read the full tafseer →