یہ حکمت بھرے احکام، یہ روشن، اس قرآن کریم میں اللہ ہی نے بیان فرمائی ہیں۔ عقلمندوں کو ان کے سمجھنے کی توفیق دی ہے، رب جسے چاہے اپنی سیدھی راہ پر لگائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
سورة النُّوْر 75
اس سے مراد سردی سے جمے ہوئے بادل بھی ہو سکتے ہیں جنہیں مجازاً آسمان کے پہاڑ کہا گیا ہو۔ اور زمین کے پہاڑ بھی ہو سکتے ہیں جو آسمان میں بلند ہیں، جن کی چوٹیوں پر جمی ہوئی برف کے اثر سے بسا اوقات ہوا اتنی سرد ہوجاتی ہے کہ بادلوں میں انجماد پیدا ہونے لگتا ہے اور اولوں کی شکل میں بارش ہونے لگتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
خلاصہ تفسیر
ہم نے (حق کے) سمجھانے والے دلائل (ہدایت عام کے لئے) نازل فرمائے ہیں اور (ان عام میں سے) جس کو اللہ چاہتا ہے راہ راست کی طرف (خاص) ہدایت فرماتا ہے (کہ وہ الوہیت کے حقوق علمیہ یعنی عقائد صحیحہ اور حقوق عملیہ یعنی اطاعت کو بجا لاتا ہے ورنہ بہت سے محروم ہی رہتے ہیں) اور یہ منافق لوگ (زبان سے) دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے اور (خدا و رسول کا) حکم (دل سے) مانا پھر اس کے بعد (جب عمل کر کے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کا وقت آیا تو) ان میں کا ایک گروہ (جو بہت زیادہ شریر ہے خدا و رسول کے حکم سے) سرتابی کرتا ہے (اس وقت سے وہ صورت مراد ہے کہ جب ان کے ذمہ کسی کا حق چاہتا ہو…
Read the full tafseer →ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں سنت الٰہی
یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ آیت 34 میں گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ آنکھیں کھول دینے والی اور صراط مستقیم کو دکھا دینے والی آیتیں اتا ردی ہیں۔ اب ہم اپنی سنت کے مطابق ان لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیں گے جو اس کے طالببنیں گے۔ رہے ناقدرے اور ناشکرے لوگ تو وہ اپنی خواہشات نفس کی تاریکیوں میں بھٹکتے رہیں گے، یہاں تک کہ ان کا انجام ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے۔ یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ خدا نے اپنی مشیت کو اپنی سنت کے تحت رکھا ہے جو اس اعتبار سے تو مطلق ہے کہ خدا کے سوا کوئی دوسرا اس کو بدل نہیں سکتا لیکن اس کی ہر مشیت اس کی حکمت…
Read the full tafseer →46-1اللہ تعالیٰ اسے نظر صحیح اور قالب صادق عطا فرما دیتا ہے جس سے اس کے لئے ہدایت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد یہی ہدایت کا راستہ ہے جس میں کوئی کجی نہیں، اسے اختیار کر کے انسان اپنی منزل مقصود جنت تک پہنچ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
38: سورة بنی اسرائیل (17۔ 44) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے ؛ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، یہاں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا ہے کہ ہر چیز کے تسبیح کرنے کا طریقہ مختلف ہے، اور کائنات کی تمام چیزیں اپنے اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہی ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کے حاشیے میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں بےحس سمجھتے ہیں ان سب میں کچھ نہ کچھ حس موجود ہے، اور یہ بات اب رفتہ رفتہ موجودہ سائنس بھی تسلیم کررہی ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 155 ایک نظر میں
سابق عظیم دور اور طویل سبق نور کے موضوع پر تھا اور یہ نور اس کائنات کے مظاہر میں سے بھی تھا۔ اب کلام کا رخ پھر اپنے اصل موضوع کی طرف آجاتا ہے ‘ یعنی وہ آداب جن پر قرآن کریم اسلامی سوسائٹی کی تعمیر چاہتا ہے۔ اور جن کے مطابق مسلمانوں کے ظاہرو باطن کو پاک کرنا مطلوب ہے۔ اور اسلامی سوسائٹی کو اس نور سے منور کرنا مطلوب ہے جس نور سے یہ پوری کائنات منور ہے ( گویا اسلامی نظام بھی ایک نور ہے کیونکہ اس کا نازل کرنے والا بھی ایک نور ہے) ۔
جو لوگ اللہ کے نور سے منور ہوں وہ کیسے ہوتے ہیں ‘ درس سابق میں اس کی ایک جھلک دکھائی گئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے…
Read the full tafseer →1 یعنی آیات تکوینیہ و تنزیلیہ تو اس قدر واضح ہیں کہ انھیں دیکھ کر اور سن کر چاہیے کوئی آدمی نہ بہکے لیکن سیدھی راہ پر چلتا وہ ہی ہے جسے خدا تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی ہو۔ لاکھوں آدمی یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھتے ہیں پر نتیجہ کے اعتبار سے ان کا دیکھنا نہ دیکھنا برابر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت 45 وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍج فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ ج ”
یہ وہ جاندار ہیں جنہیں ہم reptiles کہتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں وغیرہ نہیں ہوتیں اور وہ پیٹ کے بل رینگتے ہیں۔
وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج ”
خود ہم انسان بھی اسی مخلوق میں شامل ہیں۔ انسانوں کے علاوہ پرندے ‘ بن مانس champanzies اور گوریلے بھی دو ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ کوئی اور مخلوق بھی ایسی ہوسکتی ہے جو دو ٹانگوں پر چلتی ہو۔
وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط ”
زمینی حیوانات میں سے چار ٹانگوں والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ…
Read the full tafseer →74 یعنی یہ جتنی نشانیاں اوپر مذکور ہوئیں، غور و فکر کرنے والوں کو ان سے اللہ تعالیٰ کی بخوبی معرفت حاصل ہوسکتی ہے اور جو ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہ کرے اسے ہدایت کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →100۔ یہ احسان خاص ہے ہدایت یافتوں کے لیے۔ یہ ظہور ہے رحمت خاصہ کا۔ (آیت) ’ ’ لقد انزلنا ایت مبینت “۔ یعنی دلائل حق سب کی ہدایت کے لیے نازل کیے ہیں۔ یہ ظہور ہے رحمت عامہ کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →لقد انزلنا ایت مبینت بیشک ہم (حق کو) واضح کردینے والی آیات (قرآن میں) اتار چکے۔ یا یہ مطلب
ہے کہ اس عالم وجود میں جو وجود حقیقی کے سایہ اور پر تو کی طرح ہے ایسی دلائل کھول کر ہم نے ظاہر کردی ہیں جو خالق علیم و حکیم کی ہستی کی شہادت دے رہی ہیں اور حق کو واضح کر رہی ہیں۔
واللہ یہدی من یشآء الی صراط مستقیم۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستہ پر چلاتا ہے یعنی
اسلام کے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور یہی راستہ اس کو دوزخ سے بچا کر جنت اور مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ایمان ایک خداداد وہبی چیز ہے بغیر اللہ کی توفیق اور ہدایت کے محض غور و فکر کرنے اور عقلی گھوڑے دوڑانے سے حاصل…
Read the full tafseer →(46) ہم نے بذریعہ جبریل امین اوامرو نواہی کے واضح احکامات اور دلائل نازل فرمائے اور اللہ تعالیٰ جس کو اہل سمجھتا ہے اسے پسندیدہ دین اسلام کی طرف خاص ہدایت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (34) کی تفسیر۔
وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (35) کی تفسیر۔
3 یہ آیت آئندہ آیات کی تمہید ہے، جن میں منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ یقیناً ہم نے تو کھول کر بیان کرنے والی عظیم الشان آیات نازل کی ہیں، مگر ان کے ذریعے سے صراط مستقیم کی ہدایت دینا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آگے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جنھیں ہدایت دینا اللہ کی مشیت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →لقد انزلنا ایت مبینت، واللہ یھدی من یشآء الی صراط مستقیم۔ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واللہ خلق کل دابۃ من ماء “ سے مراد ہے نطفہ
2۔ عبد بن حمید عبداللہ بن مغفل (رح) و سے روایت کیا کہ انہوں نے ” واللہ خلق کل دابۃ من ماء “ پڑھا یعنی خلق کی جگہ خالق پڑھا۔
3۔ ابن ابی شیبہ وابن المنزر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز چلتی ہے چار ٹانگوں پر مگر انسان چلتا ہے دو ٹانگوں پر۔
Read the full tafseer →لَقَدْ اَنْزَلْنَآ [ بیشک ہم نے اتاری ہیں ] اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ ۭ [ خوب واضح کرنے والی نشانیاں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَهْدِيْ [ ہدایت دیتا ہے ] مَنْ [ اس کو جسے ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے کی طرف
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
منافقوں کی دنیا طلبی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انحراف اور قبول حق سے اعراض
یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے واضح آیات کھلی کھلی نشانیاں نازل فرمائی ہیں جو حق اور حقیقت کو واضح کرنے والی ہیں جو عقل و فہم سے کام نہیں لیتا وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور گمراہی کے راستے ہی اختیار کیے ہوئے رہتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت دے دیتا ہے، اس کے بعد چار آیات ہیں ان کو سمجھنے کے لیے منافقین کے بعض واقعات کو سمجھنا چاہیے ایک واقعہ ہم سورة نساء کی آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ ) کی تفسیر کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں وہ بشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ذکر تسبیح کا ئنات عالم
قال اللہ تعالی۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں رجال آخرت اور مردان ہمت کی تسبیح اور نماز کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں تمام مخلوقات کی تسبیح اور نماز اور نیاز کا ذکر کرتے ہیں کہ تمام مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے، مگر یہ لوگ جہالت کے مظلم اور تاریک سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہیں اور خدا کی تسبیح اور نماز ونیاز سے غافل ہیں۔ اور سراب کو آب سمجھے ہوئے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں قلوب مومنین کے انوار کا اور قلوب کفار کی ظلمات کا بیان تھا۔ اب آئندہ آیات میں دلائل توحید کو بیان کرتے ہیں جو اہل…
Read the full tafseer →51:۔ ” ولقد انزلنا الخ “ : یہ ترغیب الی القرآن کا تیسری بار اعادہ ہے۔ فرمایا ہم نے قرآن مجید میں دلائل توحید کو واضح کر کے بیان کردیا ہے لیکن اس کے باوجود ہدایت کی توفیق صرف انہی لوگوں کو ملے گی جو صدق دل اور اخلاص نیت سے ہدایت کے طالب و متلاشی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ربط آیات :
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے نظام عصمت وعفت کی برقراری کے لئے قوانین بیان فرمائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کی توحید کا بیان ہوا۔ اور مشرکین کا رد ہوا۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کے عقلی دلائل تھے اور آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ گزشتہ درس میں توحید کی یہ دلیل دی جاچکی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں حتیٰ کہ ہوا میں اڑنے والے پرندے بھی اپنے مالک کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بادلوں کے اجتماع ان میں سے بارش اور اولوں کے نزول اور پھر ان کے ذریعے بعض کی تکلیف دہی اور بعض کی حفاظت کا ذکر کیا۔ رات اور…
Read the full tafseer →لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ 0ۭ وَاللہُ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 46
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن…
Read the full tafseer →(ف) جن سے ہماری قدرت اور کمال واضح ہوتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لَقَدْ اَنْزَلْنَـآ اٰیٰتٍ مُّـبَـیِّـنٰتٍ ط وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَـقِیْمٍ ۔ (النور : 46)
(ہم نے اتاری ہیں ایسی آیتیں جو حق کو صاف صاف بیان کرنے والی ہیں، اور اللہ ہی جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔ )
ہدایت کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، الوہیت اور اس کے متصرفِ حقیقی ہونے پر دلائل دینے کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان آیات میں ان تمام بنیادی حقائق کو کھول کر بیان کردیا ہے جس سے اسلام کی دعوت کو سمجھنا نہایت آسان ہوگیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص صراط مستقیم پر چلنا چاہے تو ہم نے اس کے لیے صراط مستقیم روشن کردی ہے۔ لیکن ایک بات یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : فلکیات کے ذکر کے بعد حیوانات کے بارے میں غور کرنے کی ترغیب۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے ان میں کچھ پیٹ کے بل رینگتے ہیں کچھ دو پاؤں پہ چلتے ہیں اور کچھ ان میں چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ہر چیز پر کامل اور اکمل قدرت رکھنے والا ہے۔ اسی نے یہ روشن آیات نازل فرمائیں اور وہی صراط مستقیم کی ہدایت دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فلکیات اور لیل ونہار کے بارے میں انسان کو غور کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی اس کا فرمان ہے کہ انسان کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پیٹ کے…
Read the full tafseer →46: لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآ ئُ (تحقیق ہم نے واضح آیات نازل کی ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کی چاہتے ہیں راہنمائی فرماتے ہیں) اپنی مہربانی اور مشیت سے اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سیدھے راستہ کی طرف) دین اسلام کی طرف جو کہ جنت کی طرف پہنچانے والا ہے۔ پس یہ آیات تو اس کی حجت و دلیل کو لازم کرنے کیلئے ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
46۔ لقدانزلنا ہم نے اس کو تمہاری طرف نازل کیا، آیات مبینات واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
Read the full tafseer →46:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث 1 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے آدمی دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ‘ اب جس قابل جو پیدا ہوا ہے ویسے ہی وہ کام کرتا ہے ‘ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اگرچہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کی کھلی کھلی نصیحت ہے لیکن اس نصیحت سے راہ راست پر آنے کا وہی لوگ قصد کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور ان ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ راہ راست پر آنے…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (46
ہم نے اپنے بندوں پر رحم کر کے آیات بینات نازل کی ہیں ‘ جو تمام مقاصد شرعیہ ‘ آداب محمودہ اور معارف رشیدہ پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں۔ پس اس طرح راستے واضح ہوگئے ‘ گمرارہی میں سے راہ راست اور ضلالت میں سے ہدایت نمایاں ہوگئی۔ اس بارے میں کسی باطل پسند کے لیے شبہ کی ادنیٰ سی گنجائش باقی رہی نہ کسی متلاشی حق کے لیے کوئی اشکال باقی رہا۔۔۔ کیونکہ یہ آیات بینات اسی ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہیں جس کا علم کامل ‘ جس کی رحمت کامل اور جس کا بیان کامل ہے۔ اس کے بیان سے بڑھ کر کوئی بیان نہیں (لیھلک من ھلک عن بینۃ و یحی من حی عن بینۃ) (الانفال (42/8:” تاکہ ( اس کے بعد) جو کوئی ہلاک ہو تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
قول باری ہے (وینزل من السمآء من جبال فیھا من ترد فیصیب بہ من یشآء ویصرفہ عن یشآء) اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے اور پھر جیسے چاہتا ہے اس کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے بچا لیتا ہے۔ ایک قول کے مطابق پہلا حرف من ابتدائے غایت کے لئے ہے اس لئے کہ ابتداء آسمان سے نازل کرنے کے ساتھ ہوتی ہے دوسرا حرف من تبیعض کے لئے ہے اس لئے کہ اولے ان پہاڑوں کا ایک حصہ ہیں جو آسمانوں میں بلند ہیں۔ تیسرا حرف من جنس کو بیان کرنے کے لئے ہے کیونکہ ان پہاڑوں کی جنس اولوں کی جنس میں سے ہے۔
قول باری ہے : (واللہ خلق کل دابۃ من ماء۔ ) اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
104 آیات بینات اور ان کا تقاضا ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے اتاریں کھول کر بیان کرنے والی عظیم الشان آیتیں "۔ جو پوری طرح واضح کردیتی ہیں حق و باطل اور صحیح و غلط کو، اور ہماری قدرت کاملہ، وحدانیت و انفراد اور حق و صواب کو۔ سو ہم نے تو حق کو واضح کردینے والی ایسی آیات بینات اتار دیں جو آنکھیں کھولنے والی اور راہ حق و صواب کو پوری طرح واضح کردینے والی ہیں۔ لیکن آگے ان سے حق و ہدایت کی دولت سے سرفراز ہونے کیلئے معاملہ بندوں کے اپنے اوپر ہے۔ پس جو اس نعمت کی قدر کریں گے اور نور حق و ہدایت کے طالب بن کر اس کی طرف رجوع کریں گے، انکو حق و ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…
Read the full tafseer →4 ۔ جس کی بدولت وہ اپنی اخروی زندگی میں جنت کا مستحق قرار دیا جاتا ہے اور اس کی دنیوی زندگی سکون و اطمینان سے گزرتی ہے۔ الابذکر اللہ تطمئن القلوب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(24:45) دابۃ۔ جانور ۔ چلنے والا۔ پائوں دھرنے والا۔ رینگنے والا۔ دب۔ یدب (ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اس میں ۃ وحدت کی ہے اس کی جمع دواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 46 :
صفت (صافۃ) (صفیں بنانے والے۔ پر پھیلانے والے) ‘ یزجی (ازجائ) وہ ہانکتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ یئولف (ملادیتا ہے) ‘ رکاما (تہہ در تہہ ایک کے اوپر دوسرا) ‘ الودق (بارش) ‘ خلال (درمیان) ‘ برد (اولے۔ برف) ‘ یصرف (وہ پھیر دیتا ہے۔ پلٹا دیتا ہے) ‘ مسنا (چمک) ‘ یقلب (وہ بدلتا ہے) اولی الا بصار (آنکھوں والے۔ عقل رکھنے والے) ‘ دابۃ (جان دار۔ زمین پر رینگنے والا) ‘ بطن (پیٹ) رجلین (دونوں پاؤں ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 :
اس سے پہلے آیات میں نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ اس کائنات میں صرف ایک اللہ کا نور ہدایت ہے جس کی روشنی اور رہنمائی میں سارا نظام کائنات چل رہا…
Read the full tafseer →(ف 1) نیک وبد کی پہچان :
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ان کی آیتوں میں ہر طرح کی کھلی نصیحت ہے لیکن ان سے ہر شخص ہدایت نہیں پاسکتا، اور زبردستی کسی کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے علم غیب کے ظہور کے طور پر نیک وبد کے امتحان کے لیے دنیا کو پیدا کیا ہے مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
[51] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انبیاء حاشیہ 19 صفحہ 762
[52] یعنی کسی جانور کو چار سے زیادہ پاؤں دیئے ہوں تو بعید نہیں، اسکی لامحدود قدرت و مشیت کو کوئی محصور نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →(ف 1) مقصد یہ ہے کہ قرآن میں رشد وہدایت کی واضح اور نمایاں نشانیاں موجود ہیں ، اس میں تمام انواع وقدرت و حکمت کی تشریح ہے اور اخلاق ومعاشرت کی توضیح ، اس میں فطرت کی باریکیوں سے عقائد کی مشکلات تک سب کو واضح کیا ہے ، غرض بحیثیت مجموعی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے ہر قسم کے ذہن کا انسان ہر طرح کا استفادہ کرسکتا ہے مگر استفادہ کی توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے جو لوگ دلوں میں بعض وعناد کے بیج بوتے ہیں ، اس کی برکات سے تمتع نہیں ہوسکتے کیونکہ ان لوگوں سے توفیق اور استعداد چھن جاتی ہے ۔
Read the full tafseer →(46) بلاشبہ ہم نے واضح اور روشن دلائل نازل فرمائے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے راہ راست کی طرف اس کی رہنمائی فرماتا ہے یعنی عام طور پر دلائل واضحہ بیان کردیئے گئے ہیں مگر خاص طورپرمشیت اور ارادے کا تعلق جس سے ہوتا ہے اسی کو سیدھی راہ چلنے کی توفیق ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 3۔ جیسے سانپ اور مچھلی۔
1۔ جیسے انسان اور پرندے جب کہ ہوا میں نہ ہوں۔
2۔ جیسے مواشی
Read the full tafseer →بلاشبہ ہم نے صاف اور واضح آیتیں نازل فرمائی ہیں :
77۔ (آیات مبینت) اور (ایات مبینت) کے الفاظ جہاں بھی قرآن کریم میں آئے ہیں ہمارے مفسرین نے ان سے مراد معجزات ہی لئے ہیں اور معجزات بھی وہ جو وقتی طور پر ظاہر ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ ختم ہو کر رہ گئے لیکن سیاق کلام ہر جگہ بتاتا ہے کہ ان سے مراد قرآن کریم نے ہر جگہ زندہ وجاوید معجزات ہی لئے ہیں جن سے مضمون کی اصلیت اور حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور ہر جگہ الفاظ کے لباس کے اندر ایک کھلا مضمون نظر آتا ہے لیکن بلاشبہ اس کو وہی لوگ دیکھتے ہیں جن کے پاس بینا آنکھ موجود ہوتی ہے اور وہ ان ظاہری آنکھوں کو بند کر کے بصیرت کی بینائی سے دیکھنے کے عادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا
From the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43.
Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
74. As has been explained above, Allah is the Light of the whole universe, but His Light can be perceived and comprehended by the righteous believers only. All other people grope about in the dark like the blind in spite of the all-pervading, all-embracing Light. Here a few of the countless signs which guide to the Light are being mentioned by way of example. If a person whose eyes of the heart are open, sees them, he can perceive Allah working everywhere around him at all times. But those who are blind of the heart, and can only see with the head’s eyes, can see Biology and Zoology and other…
Read the full tafseer →