ایک ہی پانی اور مختلف اجناس کی پیدائش
اللہ تعالیٰ اپنی کامل قدرت اور زبردست سلطنت کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے ایک ہی پانی سے طرح طرح کی مخلوق پیدا کردی ہے۔ سانپ وغیرہ کو دیکھو جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ انسان اور پرند کو دیکھو ان کے دو پاؤں ہوتے ہیں۔ حیوانوں اور چوپاوں کو دیکھو وہ چار پاؤں پر چلتے ہیں، وہ بڑا قادر ہے جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوسکتا، وہ قادر کل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
سورة النُّوْر 75
اس سے مراد سردی سے جمے ہوئے بادل بھی ہو سکتے ہیں جنہیں مجازاً آسمان کے پہاڑ کہا گیا ہو۔ اور زمین کے پہاڑ بھی ہو سکتے ہیں جو آسمان میں بلند ہیں، جن کی چوٹیوں پر جمی ہوئی برف کے اثر سے بسا اوقات ہوا اتنی سرد ہوجاتی ہے کہ بادلوں میں انجماد پیدا ہونے لگتا ہے اور اولوں کی شکل میں بارش ہونے لگتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا یہاں سماء سے مراد بادل ہے اور جبال سے مراد بڑے بڑے بادل ہیں اور برد اولے کو کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →تعداد انواع تعددا کہہ کی دلیل نہیں
یعنی انواع و اجناس اور اشکال و صور کا اختلاف و تعدد بھی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کائنات میں مختلف ارادے کار فرما ہیں، جیسا کے نادان مشرکوں نے سمجھا، بلکہ یہ اس دنیا کے خالق کی قدرت و حکمت کی دلیل ہے۔ ایک ہی پانی سے اس نے تمام جانداروں کو وجود بخشا۔ ان میں سے بعض پیٹوں کے بل رینگتے ہوئے چلتے ہیں۔ بعض دو ٹانگوں پر چلتے ہیں، بعض چار پیروں پر چلتے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ دو ٹانگوں والوں کا خالق الگ اور چار ٹانگوں والوں کا خدا الگ ہے ! سب کا خالق ایک ہی ہے۔ وہی اپنی قدرت سے جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جس کو جو شکل و صورت چاہتا ہے دیتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے اس…
Read the full tafseer →45-1جس طرح سانپ، مچھلی اور دیگر حشرات الارض کیڑے مکوڑے ہیں۔
45-2جیسے انسان اور پرند ہیں
45-3جیسے تمام چوپائے اور دیگر حیوانات ہیں۔
45-4یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ بعض حیوانات ایسے بھی ہیں جو چار سے بھی زیادہ پاؤں رکھتے ہیں، جیسے کیکڑا، مکڑی اور بہت سے زمینی کیڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
38: سورة بنی اسرائیل (17۔ 44) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے ؛ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، یہاں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا ہے کہ ہر چیز کے تسبیح کرنے کا طریقہ مختلف ہے، اور کائنات کی تمام چیزیں اپنے اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہی ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کے حاشیے میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں بےحس سمجھتے ہیں ان سب میں کچھ نہ کچھ حس موجود ہے، اور یہ بات اب رفتہ رفتہ موجودہ سائنس بھی تسلیم کررہی ہے۔
Read the full tafseer →(واللہ خلق۔۔۔۔۔۔۔۔ قدیر) (45) ” “۔
یہ ایک عظیم حقیقت ہے جس کو قرآن کریم نہایت ہی سادے الفاظ میں بیان کررہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ہر زندہ مخلوق کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حیات کے بنیادی عناصر ایک ہی ہیں اور یہ کہ زندگی کے قیام کا بنیادی عنصر پانی ہے۔ جدید سائنس بھی اس بات کی طرف جارہی ہے کہ زندگی کی اصل تخلیق پانی میں ہوئی۔ یعنی سمندر میں۔ یعنی ابتدائی حالت میں زندگی پانی میں تھی۔ اس کے بعد زندگی کے اندر رنگارنگی پیدا ہوئی۔ یہ تو ہے سائنس دانوں کی سوچ۔
ہماری سوچ مختلف ہے۔ ہم قرآنی حقائق کو سائنس کی خراوپر نہیں چڑھاتے۔ کیونکہ سائنس کے اصول اور معیار بدل جاتے ہیں جبکہ قرآن ناقابل تغیر…
Read the full tafseer →10 اس کے لیے سترھویں پارہ کے تیسرے رکوع میں آیت (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ) 21 ۔ الانبیآء :30) کا فائدہ دیکھنا چاہیے۔
11 جیسے سانپ اور مچھلی۔
12 جیسے آدمی اور طیور۔
13 جیسے گائے بھینس وغیرہ۔
14 یعنی کسی جانور کو چار سے زائد پاؤں دیے ہوں تو بعید نہیں۔ اس کی لامحدود قدرت و مشیت کو کوئی محصور نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت 45 وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍج فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ ج ”
یہ وہ جاندار ہیں جنہیں ہم reptiles کہتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں وغیرہ نہیں ہوتیں اور وہ پیٹ کے بل رینگتے ہیں۔
وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج ”
خود ہم انسان بھی اسی مخلوق میں شامل ہیں۔ انسانوں کے علاوہ پرندے ‘ بن مانس champanzies اور گوریلے بھی دو ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ کوئی اور مخلوق بھی ایسی ہوسکتی ہے جو دو ٹانگوں پر چلتی ہو۔
وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط ”
زمینی حیوانات میں سے چار ٹانگوں والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ…
Read the full tafseer →73 سورة ہود کی آیت نمبر 7 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ایام میں پیدا کیا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی تھا (11: 7) اسی آیت کے مطابق درج ذیل حدیث کا مضمون ہے :
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ آپ کے پاس عالم کی پیدائش کا حال پوچھنے آئے۔ آپ نے فرمایا : (پہلے صرف) اللہ کی ذات تھی اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی۔ اس کا پانی عرش پر تھا۔ اس نے ہر چیز کو لوح محفوظ میں لکھ لیا اور آسمان اور زمین پیدا کئے (بخاری۔ کتاب بدوالخلق۔ باب ھوالذی یبدالخلق۔۔ )
اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مخلوقات میں سے سب سے پہلے اللہ نے پانی کو پیدا کیا تھا۔ اور عرش کی…
Read the full tafseer →99۔ (اسے کچھ بھی مشکل نہیں، وہ جو جانور جس قسم کا بھی چاہے پیدا کردے) (آیت) ” یمشی علی بطنہ “۔ پیٹ کے بل چلنے والوں میں کل رینگنے والے جانور، حشرات الارض آگئے۔ مثل سانپ کے اور تیرنے والے جانور بھی مثل مچھلی کے، (آیت) ” یمشی علی رجلین “۔ دو پایہ جانوروں کی مثال خود انسان ہے۔ نیز پرندے جب وہ زمین پر چل رہے ہوں (آیت) ” یمشی علی اربع “ چوپایہ جانوروں کی مثالیں بالکل ظاہر ہیں۔ (آیت) ” واللہ خلق کل دآبۃ من مآء “۔ حاشیہ پ 17 سورة الانبیاء میں گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →واللہ خلق کل دآبۃ من مآء اور اللہ ہی نے پیدا کیا ہر رینگنے پھرنے والے جانور کو پانی سے۔
پانی سے مراد ہے وہ پانی جو ہر جانور کے خمیری مادے میں داخل ہے یا نطفہ مراد ہے اس صورت میں کل جانورمراد نہ ہوں گے ‘ کیونکہ بعض جانور بغیر نطفہ کے پیدا ہوں گے لیکن اکثریت انہی جانداروں کی ہے جن کی تخلیق نطفہ سے ہوتی ہے۔ اس لئے بطور تغلیب لفظ کل استعمال کیا۔ ملائکہ اور جن ‘ دابۃ میں شامل نہیں ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا مِنْ ماء کا تعلق خَلَقَ سے نہیں ہے بلکہ یہ دابۃٍ کی صفت ہے یعنی جو جانور نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں اللہ ہی ان کا خالق ہے۔
بعض علماء نے کہا تمام (عنصری) مخلوق کی اصل پانی ہی ہے۔ 1 بغوی نے لکھا ہے کہ…
Read the full tafseer →(45) اور اللہ تعالیٰ ہی نے ہر ایک چلنے والے جانور کو نر اور مادہ کے پانی سے پیدا کیا تو کچھ تو وہ جانور ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسا کہ مویشی وغیرہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا اور وہ ہر مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَاۗبَّةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (30) یہ اس مقام پر توحید کی چوتھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والا (جان دار) پانی سے پیدا فرمایا، پھر ایک ہی چیز سے پیدا ہونے والے تمام جان دار زندگی کی پہلی حالت ہی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے جیسے سانپ، مچھلی اور بعض قسم کے کیڑے مکوڑے، کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے جیسے انسان اور پرندے اور کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے جیسے گائے، بھینس، گھوڑے اور دوسرے چوپائے اور درندے۔
يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ : یعنی کسی جانور کو چاہے تو اس سے زیادہ پاؤں دے دیتا ہے، جیسے کنکھجورا، کیکڑا،…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واللہ خلق کل اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے خلیق ماضی کا صیغہ پڑھا ہے دونوں قراءتوں میں معنی صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دو خبریں دیں ہیں۔ پس اس میں یہ کہنا مناسب نہیں کہ ایک قرات دوسری قرات سے اصح ہے۔ بعض علماء نے کہا : بعض علماء نے کہا : خلق مخصوص چیز کے لیے ہے اور خالق عموم پر بولا جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الخالق الباری ( الحشر :24) اور خصوص میں فرمایا : الحمد للہ الذی خلق السموات والا ارض (الانعام :1) اسی طرح ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ (الاعراف : 189) پس اللہ خلق کل دابۃ من ماء ہونا ضروری ہے۔ الدابۃ حیوان میں سے جو سطح زمین پر چلتا ہے کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واللہ خلق کل دابۃ من ماء “ سے مراد ہے نطفہ
2۔ عبد بن حمید عبداللہ بن مغفل (رح) و سے روایت کیا کہ انہوں نے ” واللہ خلق کل دابۃ من ماء “ پڑھا یعنی خلق کی جگہ خالق پڑھا۔
3۔ ابن ابی شیبہ وابن المنزر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز چلتی ہے چار ٹانگوں پر مگر انسان چلتا ہے دو ٹانگوں پر۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ [ اور اللہ نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] كُلَّ دَاۗبَّةٍ [ ہر ایک چلنے والے جاندار کو ] مِّنْ مَّاۗءٍ ۚ[ ایک پانی سے ] فَمِنْهُمْ مَّنْ [ تو ان میں وہ ابھی ہیں جو ] يَّمْشِيْ [ چلتے ہیں ] عَلٰي بَطْنِهٖ ۚ[ اپنے پیٹ پر ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّمْشِيْ [ چلتے ہیں ] عَلٰي رِجْلَيْنِ ۚ [ وہ ٹانگوں پر ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّمْشِيْ [ چلتے ہیں ] عَلٰٓي اَرْبَعٍ ۭ[ چار پر ] يَخْلُقُ [ پیدا کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَا [ وہ جو ] يَشَاۗءُ ۭ[ وہ چاہتا ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا…
Read the full tafseer →اس کے بعد بعض سفلی تصرفات کا تذکرہ فرمایا ارشاد ہے (وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَابَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین پر چلنے پھرنے والی ہر چیز کو پانی سے پیدا فرمایا اس سے حیوانات مراد ہیں جو نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں پھر ان جانوروں میں بعض وہ ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسے سانپ وغیرہ اور بعض وہ ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں (جبکہ خشکی میں ہوں) اور بعض وہ ہیں جو چار پاؤں سے چلتے ہیں جیسے اونٹ بھینس گائے بکری وغیرہ (یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَاءُ ) وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اسے پورا اختیار ہے جیسے جس حال میں اور جس شکل و صورت میں پیدا فرمائے۔ اور جس کو جس طرح چاہے قوت وقدرت عطا فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ذکر تسبیح کا ئنات عالم
قال اللہ تعالی۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں رجال آخرت اور مردان ہمت کی تسبیح اور نماز کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں تمام مخلوقات کی تسبیح اور نماز اور نیاز کا ذکر کرتے ہیں کہ تمام مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے، مگر یہ لوگ جہالت کے مظلم اور تاریک سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہیں اور خدا کی تسبیح اور نماز ونیاز سے غافل ہیں۔ اور سراب کو آب سمجھے ہوئے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں قلوب مومنین کے انوار کا اور قلوب کفار کی ظلمات کا بیان تھا۔ اب آئندہ آیات میں دلائل توحید کو بیان کرتے ہیں جو اہل…
Read the full tafseer →50:۔ ” واللہ خلق الخ “ : یہ دعوی توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت پر ایک واضح دلیل ہے کہ اس نے ہر جاندار کو قطرہ آب سے پیدا فرمایا اور پھر ان کو کئی انواع و اقسام میں تقسیم کردیا۔ کچھ جاندار ایسے پیدا کیے جن کے پاؤں نہیں وہ پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ جیسا کہ سانپ کچھ دو پاؤں پر چلتے ہیں جیسے انسان اور پرندے اور کچھ چار [ اؤں پر چلتے ہیں جیسے چوپائے۔ وہ جو چاہے پیدا کرے۔ اگر چار سے زیادہ بھی کسی کے پاؤن ہوں تو اس کی قدرت سے بعید نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی قادر مطلق معبود برحق اور سارے جہان میں متصرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ربط آیات :
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے نظام عصمت وعفت کی برقراری کے لئے قوانین بیان فرمائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کی توحید کا بیان ہوا۔ اور مشرکین کا رد ہوا۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کے عقلی دلائل تھے اور آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ گزشتہ درس میں توحید کی یہ دلیل دی جاچکی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں حتیٰ کہ ہوا میں اڑنے والے پرندے بھی اپنے مالک کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بادلوں کے اجتماع ان میں سے بارش اور اولوں کے نزول اور پھر ان کے ذریعے بعض کی تکلیف دہی اور بعض کی حفاظت کا ذکر کیا۔ رات اور…
Read the full tafseer →وَاللہُ خَلَقَ كُلَّ دَاۗبَّۃٍ مِّنْ مَّاۗءٍ 0ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي بَطْنِہٖ 0ۚ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي رِجْلَيْنِ 0ۚ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰٓي اَرْبَعٍ 0ۭ يَخْلُقُ اللہُ مَا يَشَاۗءُ 0ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 45
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ترکیب : الطیر معطوف علی من جمع طائر صافات حال من الطیر ای باسطات اجنحتین۔ علم کی ضمیر راجع ہے کل کی طرف وھوالاقوی لان القراۃ برقع کل علی الابتداء یزجی یسوقہ برفق۔ بینہ انما جاز دخول بین علی المفردلان المعنی بین اجزاء السحاب۔ رکاما متراکما بعضہ فوق بعض۔ الودق المطر من خلالہ ای مخارجہ جمع خلل کجبال فی جبل من السماء من لابتداء الغایۃ من جبال کا من یا زائدہ ہے اور ممکن ہے کہ پہلے من سے بدل ہو علی عادۃ الجاروالتقدیر نزل من جبال السماء ای من جبال فی السماء من برد بیان للجبال و المفعول محذوف ای ینزل مبتداء من جبال فیھا من بردبرداً ۔
تفسیر : انوار قلوب المومنین و ظلمات قلوب الکافرین کے بعد چند وہ…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّـۃٍ مِّنْ مَّـآئٍ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِـہٖ ج وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج وَمِنْھُمْ مَّن یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآئُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (النور : 45)
(اور اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ہر جاندار کو پانی سے، ان میں سے کچھ تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ان میں سے کچھ دو پائوں پر چلتے ہیں اور ان میں سے بعض چار ٹانگوں پر چلتے ہیں، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک مثال
اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ کسی قانون کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : فلکیات کے ذکر کے بعد حیوانات کے بارے میں غور کرنے کی ترغیب۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے ان میں کچھ پیٹ کے بل رینگتے ہیں کچھ دو پاؤں پہ چلتے ہیں اور کچھ ان میں چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ہر چیز پر کامل اور اکمل قدرت رکھنے والا ہے۔ اسی نے یہ روشن آیات نازل فرمائیں اور وہی صراط مستقیم کی ہدایت دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فلکیات اور لیل ونہار کے بارے میں انسان کو غور کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی اس کا فرمان ہے کہ انسان کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پیٹ کے…
Read the full tafseer →45: وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ (اور اللہ ہی نے ہر چیز کو پیدا کیا)
قراءت : حمزہ و علی نے خالق کل پڑھا ہے۔
دابہ کی مراد :
دَآبَّۃٍ (ہر حیوان کو جو زمین پر رینگتا ہے) مِّنْ مَّآ ئٍ (پانی سے) نمبر 1۔ ایک خاص نوع کے پانی سے جو اس دابہ کے ساتھ خاص تھا۔ نمبر 2۔ ماء مخصوص یعنی نطفہ ہے۔ پھر نطفہ سے تخلیقات میں بعض کو کیڑے مکوڑے اور بعض کو چوپائے اور بعض کو انسان بنادیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : یسقیٰ بما ئٍ واحدٍ ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل ] الرعد : 4[
طریقِ استدلال :
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا کوئی خالق و مدبر ہے ورنہ ایک اصل سے یہ مختلف کیسے بن گئے۔
وجہ فرق : اس آیت میں ماؔ ء کو نکرہ لائے…
Read the full tafseer →45۔ واللہ خلق کل دابہ، ،، حمزہ اور کسائی نے خالق کل پڑھا ہے اضافت کے ساتھ اور دوسرے قراء نے خلق کل ، فعل پڑھا ہے۔ من مائ، ماء سے مراد نطفہ ہے ہر وہ حیوان جو دنیا میں ہے اس کو نطفہ سے پیدا کیا ہے مگر فرشتے اور جن انکامشاہدہ پانی کے ساتھ پیدا ہونے کا نہیں کیونکہ فرشتے تسبیح سے اور جنات آگ سے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض حضرات نے کہاہرچیز کا اصل پانی ہے کہ اللہ نے اول پانی کو پیدا کیا، پھر اس کے کچھ حصے کو ہوابنادیا، جس سے فرشتے بنے اور کچھ حصہ کو آگ میں تبدیل کردیا جس سے جنات کی تخلیق ہوئی اور کچھ حصہ کو مٹی بنادیا گیا جس سے حضرت آدم کی ساخت ہوئی اور مٹی سے ہی تمام جانور بنائے گئے۔ فمنھم من یمشی علی…
Read the full tafseer →45۔ مسند احمد اور ترمذی میں ابو رزین العقیلی سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ عرش کی پیدائش ‘ عرش کے مابعد کی سب مخلوقات کی پیدائش سے مقدم ہے لیکن پانی کی پیدائش عرش کی پیدائش سے بھی پہلے ہے ‘ تفسیر سدی میں چند روایتیں اسی مضمون کی اور بھی ہیں ‘ ان روایتوں سے علماء نے یہ مطلب نکالا ہے کہ نطفہ سے جو پیدائش کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سلسلہ سے پہلے ہی ہر چیز کی پیدائش میں پانی کا دخل ضرور ہے جیسے مثلا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش نطفہ کی پیدائش سے مقدم ہے لیکن ان کے پتلے کا گارا پانی اور مٹی سے بنایا گیا ہے چناچہ ترمذی ‘ نسائی ‘ صحیح ابن حبان اور مسند بزار میں ابوہریرہ ؓ کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر (45
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین کے تمام جانداروں کو۔۔۔ جیسا کہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں ( من ماء) ” پانی سے “ تخلیق فرمایا ‘ یعنی تمام جان داروں کا مادہ تخلیق پانی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وجعلنا من الماء کل شیء حی) (الانبیاء (30/21:” اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی ہے۔ “ پس وہ حیوانات جن کا سلسلہء تناسل جاری ہے ‘ ان کا مادہ تخلیق نطفہ کا پانی ہے جب نر مادہ کو حاملہ کرتا ہے تو اسی آب نطفہ سے تخلیق ہوتی ہے اور وہ حیوانات جو زمین سے پیدا ہوتے ہیں وہ صرف پانی کی رطوبتوں سے پیدا ہوتے ہیں ‘ مثلاً حشرات الارض۔ ان میں نطفہ وغیرہ موجود نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
قول باری ہے (وینزل من السمآء من جبال فیھا من ترد فیصیب بہ من یشآء ویصرفہ عن یشآء) اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے اور پھر جیسے چاہتا ہے اس کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے بچا لیتا ہے۔ ایک قول کے مطابق پہلا حرف من ابتدائے غایت کے لئے ہے اس لئے کہ ابتداء آسمان سے نازل کرنے کے ساتھ ہوتی ہے دوسرا حرف من تبیعض کے لئے ہے اس لئے کہ اولے ان پہاڑوں کا ایک حصہ ہیں جو آسمانوں میں بلند ہیں۔ تیسرا حرف من جنس کو بیان کرنے کے لئے ہے کیونکہ ان پہاڑوں کی جنس اولوں کی جنس میں سے ہے۔
قول باری ہے : (واللہ خلق کل دابۃ من ماء۔ ) اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی…
Read the full tafseer →98 ہر جاندار کا وجود نشان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی نے پیدا فرمایا ہر جاندار کو پانی ۔ کے جوہر عظیم ۔ سے " اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے۔ سو پانی کے اس ایک جوہر سے جو کہ ہر جگہ اور ہمیشہ ایک ہی رہا ہے ایسی بےحد و حساب اور مختلف انواع و اقسام کی ان مخلوقات اور قسما قسم کے ان جانوروں کو پیدا فرمانا اور ان کو مختلف النوع وجود بخشنا کس قدر عظیم الشان خلاقی ہے اس قادر مطلق اور واہب مطلق کی ۔ جل و علا شانہ ۔ پھر اس پانی سے وہ نطفہ بھی مراد ہوسکتا ہے جس سے ہر جاندار کی براہ راست تخلیق ہوتی ہے۔ سو یہ بھی اس کی عظیم الشان قدرت اور حکمت کی ایک عظیم الشان نشانی ہے۔ (ابن کثیر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…
Read the full tafseer →1 ۔ جیسے سانپ، مچھلی اور بعض قسم کے کیڑے مکوڑے۔ 2 ۔ جیسے انسان اور پرند۔ 3 ۔ مراد ہیں باقی سب جانور۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(24:45) دابۃ۔ جانور ۔ چلنے والا۔ پائوں دھرنے والا۔ رینگنے والا۔ دب۔ یدب (ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اس میں ۃ وحدت کی ہے اس کی جمع دواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 46 :
صفت (صافۃ) (صفیں بنانے والے۔ پر پھیلانے والے) ‘ یزجی (ازجائ) وہ ہانکتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ یئولف (ملادیتا ہے) ‘ رکاما (تہہ در تہہ ایک کے اوپر دوسرا) ‘ الودق (بارش) ‘ خلال (درمیان) ‘ برد (اولے۔ برف) ‘ یصرف (وہ پھیر دیتا ہے۔ پلٹا دیتا ہے) ‘ مسنا (چمک) ‘ یقلب (وہ بدلتا ہے) اولی الا بصار (آنکھوں والے۔ عقل رکھنے والے) ‘ دابۃ (جان دار۔ زمین پر رینگنے والا) ‘ بطن (پیٹ) رجلین (دونوں پاؤں ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 :
اس سے پہلے آیات میں نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ اس کائنات میں صرف ایک اللہ کا نور ہدایت ہے جس کی روشنی اور رہنمائی میں سارا نظام کائنات چل رہا…
Read the full tafseer →ہرجاندار کی پیدائش پانی سے ہے۔
(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے یعنی نطفہ سے ، جس سے پیدائش کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سلسلہ سے پہلے ہی ہر چیز کی پیدائش میں پانی کا دخل ضرور ہے جیسے مثلا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش نطفہ کی پیدائش سے مقدم ہے لیکن ان کے پتلے کا گارا پانی اور مٹی سے بنایا گیا ہے پس ان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسے سانپ اور مچھلی اور بعض دوپاؤں پرچلتے ہیں جیسے انسان اور پرند بعض چارپاؤں پر چلتے ہیں جیسے چوپائے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے مثلا مکڑی کو اس نے چارپاؤں سے زیادہ کا جانور پیدا کیا آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
[51] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انبیاء حاشیہ 19 صفحہ 762
[52] یعنی کسی جانور کو چار سے زیادہ پاؤں دیئے ہوں تو بعید نہیں، اسکی لامحدود قدرت و مشیت کو کوئی محصور نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
(ف 1) ان سب آیات میں اللہ کے انواع قدرت کا بیان ہے ، ارشاد ہے کہ اگر تم اس کارگاہ حیات کی حیرت انگیزیوں پر غور کرو گے اور سوچو گے ، تو تمہیں اس کی حکمتوں اور قدرتوں کا وسیع علم حاصل ہوجائے گا تمہیں معلوم ہوگا ، کہ وہ کیونکر بادلوں کو حرکت دیتا ہے اور پھر کیونکر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے تمہیں معلوم ہوگا کہ بارش کے قوانین کیا ہیں ؟ بارش میں اور اولوں میں کیا فرق ہے ؟ تم بجلی کو کو ندتے ہوئے دیکھو گے ۔ اور اس طرح لیل ونہار کے اختلافات کو ملاحظہ کرو گے ، اور اس طریق غور وفکر سے تمہیں معارف وحکم کا بہرہ وافر حاصل ہوجائے گا بشرطیکہ تم میں سوجھ بوجھ کی صلاحیت ہو ۔
حل لغات :
سنابرقہ : بجلی کی روشنی…
Read the full tafseer →(45) اور اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو اپنے پیٹ کے بل رینگتے اور چلتے ہیں اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو دو 2 پائوں پر چلتے ہیں اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو چار پیروں پر چلتے ہیں اللہ جو چاہتا ہے بناتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ ہر جاندار کی ابتداء اور اس کی پیدائش پانی سے ہوتی ہے یعنی ہر جاندار کا حدوث یا اس کی بقا پانی ہی سے ہے۔ رینگنے والے جیسے سانپ، مچھلی، دو ٹانگوں والے جیسا انسان اور پرندے چار ٹانگوں والے جیسے چوپائے اور کسی مخلوق کے چارپایوں سے بھی زیادہ ہوں۔
یخلق اللہ مایشائ اس کی غیر محدود قدرت محصور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 3۔ جیسے سانپ اور مچھلی۔
1۔ جیسے انسان اور پرندے جب کہ ہوا میں نہ ہوں۔
2۔ جیسے مواشی
Read the full tafseer →انسانی اور حیوانی زندگی کا سارا انحصار پانی پر ہے :
75۔ پانی کو اللہ تعالیٰ نے سبب زندگی اور اصل حیات بنایا ہیں ‘ اس میں اور اسی سے زندی کا آغاز کیا ہے اس مضموں کو دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ” اور اللہ تعالیٰ نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی “ (الانبیائ 21 : 30)
یعنی ہر جاندار چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اگر پانی کو لے جائے یا نابود کر دے تو زندگی کا نام ونشان خود بخود مٹ جائے ، اس لئے قرآن کریم نے دوسری جگہ مشرکین سے اس طرح سوال کیا ہے کہ ” ان سے کہو کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا
From the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43.
Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
74. As has been explained above, Allah is the Light of the whole universe, but His Light can be perceived and comprehended by the righteous believers only. All other people grope about in the dark like the blind in spite of the all-pervading, all-embracing Light. Here a few of the countless signs which guide to the Light are being mentioned by way of example. If a person whose eyes of the heart are open, sees them, he can perceive Allah working everywhere around him at all times. But those who are blind of the heart, and can only see with the head’s eyes, can see Biology and Zoology and other…
Read the full tafseer →