An-Noor 24:44

An-Noor · from ayah 44

24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَالنَّهَارَ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ ۟يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَعِبۡرَةً لِّاُولِى الۡاَبۡصَارِ

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے۔ اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah alternates the night and the day. Indeed in that is a lesson for those who have vision.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:44

رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے۔ اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتا رہتا ہے آنکھوں والوں کے لیے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی اللہ رات اور دن کا الٹ پھیر کرتا ہے۔ یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نصیحت کا سامان ہے جن کے پاس دیکھنے والی آنکھیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ بدلی کرتا ہے رات اور دن کی بیشک اس میں سمجھنے کا مقام ہے نگاہ والوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ رات اور دن کو (ایک دوسرے کے اوپر) پلٹتا رہتا ہے، اور بیشک اس میں عقل و بصیرت والوں کے لئے (بڑی) رہنمائی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ رات اور دن کو ادل بدل کرتا ہے، بیشک اس میں آنکھوں والوں کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ہی رات اور دن کا ادل بدل کرتا رہتا ہے۔ بلاشبہ اہل نظر کے لئے ان نشانیوں میں عبرت کا سامان ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی ہے جو رات اور دن کو گردش دیتا ہے۔ بیشک ان چیزوں کے اندر اہل نظر کے لئے بڑا سامان عبرت ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ ہی ادلتا بدلتا ہے رات اور دن کو نہایت پُر حکمت طریقے سے بلاشبہ اس سارے نظام میں بڑا بھاری سامان عبرت ہے آنکھوں والوں کے لیے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ رات اور دن کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے اس میں اہل بینش کے لئے (بڑا) سبق ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ ادلتا بدلتا رہتا ہے رات اور دن کو۔ یقیناً اس میں عبرت کا سامان ہے آنکھوں والوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ ہی رات اور دن کو بدلتا ہے سمجھنے والوں کے لیے اس میں بڑی عبرت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He alternates the day and the night: there is indeed a lesson in it for those who have observing eyes.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah alternates the night and the day. Surely, in that there is a lesson for those who have eyes to see.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah alternates the night and the day. Surely, in that there is a lesson for those who have eyes to see.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah causes the night and the day to succeed each other. Truly, in this is indeed a lesson for those who have insight.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah causeth the revolution of the day and the night. Lo! herein is indeed a lesson for those who see.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah alternates the night and the day. Indeed in that is a lesson for those who have vision.

— Saheeh International

God alternates the night and the day. In this there is a lesson for the people of understanding.

— Muhammad Sarwar

Allah turns over the night and the day; most surely there is a lesson in this for those who have sight.

— Muhammad Habib Shakir

Allah turneth the night and the day over and over; verily therein is a lesson for men of insight.

— Abdul Majid Daryabadi

It is Allah Who alternates the Night and the Day: verily in these things is an instructive example for those who have vision!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–44

بادل مرحلہ وار پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الہٰی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا من ابتداء غایت کا ہے۔ دوسرا تبعیض کا ہے۔ تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لئے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک من ثانیہ بھی ابتدا غایت کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–46

سورة النُّوْر 75 اس سے مراد سردی سے جمے ہوئے بادل بھی ہو سکتے ہیں جنہیں مجازاً آسمان کے پہاڑ کہا گیا ہو۔ اور زمین کے پہاڑ بھی ہو سکتے ہیں جو آسمان میں بلند ہیں، جن کی چوٹیوں پر جمی ہوئی برف کے اثر سے بسا اوقات ہوا اتنی سرد ہوجاتی ہے کہ بادلوں میں انجماد پیدا ہونے لگتا ہے اور اولوں کی شکل میں بارش ہونے لگتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–45

مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا یہاں سماء سے مراد بادل ہے اور جبال سے مراد بڑے بڑے بادل ہیں اور برد اولے کو کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یقلب اللہ الیل والنھار ط ان فی ذلک لعبرۃ الاولی الاصبصار 44 رات اور دن کی آمد و شد پر تنہا اللہ ہی کا اختیار ہے اسی طرح رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لانا بھی خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی طاقت نہیں کہ رات میں دن ظاہر کر دے یا دن میں رات نمودار کرے دے یا ان کی آمد و شد میں منٹ یا سیکنڈ کا فرق ہی پیدا کر دے۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں کے اندر جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا، اہل نظر کے لئے بڑا سامان عبرت ہے۔ عبرۃ کا مفہوم ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانا ہے۔ یعنی جو لوگ و وہ نظر رکھتے ہیں جو ظاہر کے اندر باط ن اور زئیات کے اندر کلیات کو دیکھ لینے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

44-1یعنی کبھی دن بڑے، راتیں چھوٹی اور کبھی اس کے برعکس۔ یا کبھی دن کی روشنی، کو بادلوں کی تاریکیوں سے اور رات کے اندھیروں کو چاند کی روشنی سے بدل دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–46

38: سورة بنی اسرائیل (17۔ 44) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے ؛ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، یہاں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا ہے کہ ہر چیز کے تسبیح کرنے کا طریقہ مختلف ہے، اور کائنات کی تمام چیزیں اپنے اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہی ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کے حاشیے میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں بےحس سمجھتے ہیں ان سب میں کچھ نہ کچھ حس موجود ہے، اور یہ بات اب رفتہ رفتہ موجودہ سائنس بھی تسلیم کررہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ منظر نہایت ہی آرام سے اور طوالت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ دعوت دی جاتی ہے کہ اس منظر کے ہر جزء پر غور کرو۔ اس منظر کے اجزاء پھر جمع ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس پر گہرے مشاہدے اور غورو فکر کی وجہ سے انسانی احساس کو جگایا جائے اور اس گہری صنعت کاری کے اندر جو گہری بصیرت ہے اس کے بارے میں انسانی احساس کو تیز کیا جاتا ہے تاکہ انسان عبرت آموز نگاہوں سے اس منظر کو دیکھے۔ اللہ بادلوں کو چلاتے ہیں ‘ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کیطرف۔ یہ بادل آسمان میں ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ پھر یہ جمع ہوتے ہیں۔ اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ تہوں کے اوپر تہیں جم جاتی ہیں۔ جب یہ اچھی طرح بوجھل ہوجاتے ہیں تو ان میں سے پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن اسی کی قدرت سے آتا ہے۔ وہ ہی کبھی رات کو کبھی دن کو گھٹاتا بڑھاتا رہتا ہے، اور ان کی گرمی کو سردی سے، سردی کو گرمی سے تبدیل کرتا ہے۔ 9 یعنی چاہیے کہ قدرت کے ایسے عظیم الشان نشانات دیکھ کر آدمی بصیرت و عبرت حاصل کرے اور اس شہنشاہ حقیقی کی طرف سچے دل سے رجوع ہو جس کے قبضہ میں ان تمام تصرفات و تقلبات کی باگ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 43–44

آیت 43 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا ” سمندر کے بخارات سے بادل بنتے ہیں اور ہواؤں کے دوش پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔ ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا ” جن لوگوں کو ہوائی سفر کا تجربہ ہے انہوں نے بادل کے تہ بر تہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا۔ ابر آلود موسم میں بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ بادلوں کی ایک تہ میں سے جہاز اوپر چڑھتا ہے اور اس کے بعد فضا صاف ہوتی ہے۔ پھر اوپر جا کر بادلوں کی ایک اور تہ ہوتی ہے۔ اس طرح متعدد تہیں ہوسکتی ہیں۔ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْہَا مِنْم بَرَدٍ ” جب زمین پر اولے پوری شدت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

72 رات اور دن کا باری باری آنا بھی اللہ کی معرفت کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ جسے اللہ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیاروں کی گردش کا ایسا مربوط نظام بنادیا ہے جس سے دن اور رات باری باری آتے رہتے ہیں۔ کسی مقام پر ایک ہی وقت راتیں بڑھ رہی ہیں تو دوسرے مقام پر اسی وقت چھوٹی ہو رہی ہیں۔ پھر اسی نظام سے ہر مقام پر موسموں میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ جو مختلف قسم کی اجناس اور نباتات کے پکنے میں ممدو ثابت ہوتی ہے۔ فصلوں کے پکنے اور موسم میں ایک گہرا تعلق ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام اس قدر محیرالعقول اور کثیر الفوائد ہے کہ جتنا بھی اس میں غور کیا جائے اتنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

98۔ (اللہ کی توحید ربوبیت کا، اس کی صنعت کاملہ وقدرت مطلقہ کا) یہ ساری صناعیاں اسی صانع مطلق کی ہیں، کوئی دیوی دیوتا اس میں شریک نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یقلب اللہ الیل والنہار اللہ رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا ہے ‘ یعنی دن کے بعد رات آتی ہے اور رات کے بعد دن اور دن رات کا گھٹاؤ بڑھاؤ بھی ہوتا رہتا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ گرمی ‘ سردی ‘ روشنی اور تاریکی کے لحاظ سے رات دن میں تغیر ہوتا رہتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ اللہ نے فرمایا مجھے ابن آدم دکھ پہنچاتا ہے زمانے کو گالیاں دیتا ہے ‘ حالانکہ میں ہی زمانہ (کو الٹنے پلٹنے والا) ہوں میرے ہی ہاتھ میں حکم ہے ‘ میں ہی رات دن کا ادل بدل کرتا ہوں ‘ (رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہا) ۔ ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار۔ بلاشبہ ان (مذکورہ واقعات) میں بصیرت والوں کیلئے عبرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(44) اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بھی بدلتا رہتا ہے کہ رات ختم ہوئی اور دن آیا اور دن پورا کیا تو رات کو لایا ان تمام مذکورہ بالا چیزوں میں دین میں سمجھ وبصیرت رکھنے والوں یا صرف آنکھوں سے دیکھنے والوں کے لیے استدلال کا موقع ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔۔ : یہ اس بات کی تیسری دلیل ہے کہ اس کائنات کا مالک و مختار اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی زمین و آسمان میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے، چناچہ فرمایا، اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے، نہ ہمیشہ دن رہتا ہے نہ رات۔ دیکھیے قصص (71 تا 73) پھر کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے کبھی دن۔ دیکھیے لقمان (29) واضح رہے کہ زمین پر زندہ رہنے کے جتنے اسباب موجود ہیں رات دن کے اسی الٹ پھیر کی بدولت ہیں، اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو کوئی چیز پیدا نہ ہوسکتی، یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ رات دن کو یا اس نظام کو برا بھلا کہنے والا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ (اللہ تعالیٰ دن اور رات کو الٹ پلٹ کرتا ہے) لمبائی اور چھوٹائی کے مختلف ہونے کے ساتھ پھیرتا ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنا : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) بادلوں کے اس ملنے اور بارش اور سردی کے اتارنے، دن اور رات کے آنے جانے میں نشانیاں ہیں۔ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ (البتہ عبرت ہے آنکھوں والوں کے لیے) عقل مندوں کیلئے۔ آیات کا ربط : ربوبیت ِ باری تعالیٰ پر دلائل ذکر فرمائے۔ نمبر 1۔ آسمان و زمین میں ان کی تسبیح کا ذکر کیا۔ نمبر 2۔ جو ان کے مابین اڑنے والے ہیں ان کا تسبیح کرنا اور اس سے دعا کرنا مذکور ہوا۔ نمبر 3۔ بادلوں کو مسخر کرنا الی آخرہٖ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–44

1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ فتری الودق سے مراد ہے بارش 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فتری الودق سے مراد ہے قطرے بارش کے 3۔ ابن ابی حاتم نے ابو بجیلہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ الودق سے مراد ہے بجلی۔ 4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ من خللہ سے مراد ہے بادل 5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ و اس طرح پڑھتے تھے من خللہ خا کے فتح اور بغیر الف کے ساتھ۔ 6۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ فی العظمۃ نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ اگر چوتھے آسمان سے برف نازل ہوتی تو جس چیز پر گرتی اس کو ہلاک کردیتی۔ 7۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يُقَلِّبُ [ باربار پلٹتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] الَّيْلَ [ رات کو ] وَالنَّهَارَ ۭ [ اور دن کو ] اِنَّ [ بیشک ] فِيْ ذٰلِكَ [ اس میں ] لَعِبْرَةً [ یقینا ایک عبرت ہے ] لِّاُولِي الْاَبْصَارِ [ بصیرت والوں کیلئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

انہی تصرفات میں سے رات اور دن کا الٹنا پلٹنا بھی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے اسی کو فرمایا (یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ ) (اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کو پلٹتا ہے) رات اور دن کا تعلق ظاہری اعتبار سے آفتاب کے طلوع و غروب ہونے سے ہے لیکن آفتاب بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اللہ نے جو طلوع و غروب کا نظام مقرر فرما دیا ہے اسی کے مطابق چلتا ہے۔ (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُوْلِی الْاَبْصَارِ ) (بلاشبہ اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے) جو شخص اپنی عقل و فہم اور بصیرت سے کام لے گا اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تکوین کے مظاہروں پر غور کرے گا اسے ضرور اللہ تعالیٰ کی توحید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–46

ذکر تسبیح کا ئنات عالم قال اللہ تعالی۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں رجال آخرت اور مردان ہمت کی تسبیح اور نماز کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں تمام مخلوقات کی تسبیح اور نماز اور نیاز کا ذکر کرتے ہیں کہ تمام مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے، مگر یہ لوگ جہالت کے مظلم اور تاریک سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہیں اور خدا کی تسبیح اور نماز ونیاز سے غافل ہیں۔ اور سراب کو آب سمجھے ہوئے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں قلوب مومنین کے انوار کا اور قلوب کفار کی ظلمات کا بیان تھا۔ اب آئندہ آیات میں دلائل توحید کو بیان کرتے ہیں جو اہل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–44

49:۔ ” الم تر ان اللہ یزجی الخ “ : یہ دوسری عقلی دلیل ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف سمتوں سے بادلوں کو چلا کر ایک جگہ جمع کرتا ہے پھر اس کی قدرت سے ان بادلوں سے بارش برستی ہے وہ آسمان کی طرف سے پہاڑوں کی مانند بادلوں میں سے اولے برساتا ہے جن کی وجہ سے بعض لوگوں کا جانی اور مالی نقصان ہوجاتا ہے اور بعض اس سے محفوط رہتے ہیں۔ بادلوں جب بجلی کوندتی ہے اس کی روشنی اس قدرت تیز ہوتی ہے کہ آنکھوں کی روشنی ہی سلب کرلے۔ یہ سارا نظام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔ ” یقلب اللیل والنھار الخ “ : اس کے علاوہ رات دن کا انقلاب یعنی رات دن کی یکے بعد دیگرے آمد و رفت اور ان کی کمی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا ذکر کیا جو مومنوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کی مثال بھی بیان فرمائی۔ پھر اللہ کے گھروں مساجد کا تذکرہ فرمایا جہاں سے متذکرہ نور حاصل ہوتا ہے۔ اللہ نے ان گھروں کو بلند کرنے اور انہیں پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ، اور ان لوگوں کی صفات بیان کیں جو مساجد میں اللہ کی عبادت اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر اللہ نے نافرمان اور کفر کرنے والوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ پھر کفار کی دوقسموں کا ذکر کیا۔ ان کی ایک قسم وہ ہے ، جو رفاہ عامہ کے کام بھی کرتے ہیں اور آخرت میں اچھے صلے کی امید…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُقَلِّبُ اللہُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ۝ 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ۝ 44 تَقْلِيبُ الشیء : تغييره من حال إلى حال نحو : يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ [ الأحزاب/ 66] وتَقْلِيبُ الأمور : تدبیرها والنّظر فيها، قال : وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ [ التوبة/ 48] . وتَقْلِيبُ اللہ القلوب والبصائر : صرفها من رأي إلى رأي، قال : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصارَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، وتَقْلِيبُ الید : عبارة عن النّدم ذکرا لحال ما يوجد عليه النادم . قال : فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ [ الكهف/ 42] أي : يصفّق ندامة . قال الشاعر کمغبون يعضّ علی يديه ... تبيّن غبنه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–45

ترکیب : الطیر معطوف علی من جمع طائر صافات حال من الطیر ای باسطات اجنحتین۔ علم کی ضمیر راجع ہے کل کی طرف وھوالاقوی لان القراۃ برقع کل علی الابتداء یزجی یسوقہ برفق۔ بینہ انما جاز دخول بین علی المفردلان المعنی بین اجزاء السحاب۔ رکاما متراکما بعضہ فوق بعض۔ الودق المطر من خلالہ ای مخارجہ جمع خلل کجبال فی جبل من السماء من لابتداء الغایۃ من جبال کا من یا زائدہ ہے اور ممکن ہے کہ پہلے من سے بدل ہو علی عادۃ الجاروالتقدیر نزل من جبال السماء ای من جبال فی السماء من برد بیان للجبال و المفعول محذوف ای ینزل مبتداء من جبال فیھا من بردبرداً ۔ تفسیر : انوار قلوب المومنین و ظلمات قلوب الکافرین کے بعد چند وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّـاُوْلِی الْاَبْصَارِ ۔ (النور : 44) (اللہ ہی ہے جو رات اور دن کو گردش دیتا ہے (یا الٹ پھیر کرتا ہے) بیشک ان چیزوں میں اہل نظر کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے اختیار کی ہمہ گیری کی ایک مثال اللہ تعالیٰ کے تصرف اور اختیار کی ہمہ گیری کے حوالے سے ایک اور مثال دی جارہی ہے اور یہ مثال ایسی ہے جس سے ہر مخلوق کا براہ راست ہر وقت کا تعلق ہے اور انسان اگر ہدایت حاصل کرنا چاہے تو کم از کم یہ منظر ہر وقت اس کے سامنے ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی جیسے ہی صبح کو آنکھ کھولتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ میں جب سویا تھا تو رات تھی، یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–44

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اس کی بادشاہی پر غور کرنے کے لیے بادلوں کی طرف توجہ کرو۔ کیا انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بادل بناتا اور اٹھاتا ہے پھر ان کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس کے بعد بادلوں کو ایک دوسرے پر تہہ در تہہ کردیتا ہے اور پھر ان سے موسلادار بارش برساتا ہے۔ جو پہاڑوں کی مانند نظر آتی ہے اس میں بسا اوقات اولے بھی برستے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے وہاں اولے برساتا ہے اور جسے چاہتا ہے اولوں سے محفوظ فرماتا ہے۔ یہی صورت حال بارش کی ہے جو کہیں برستی ہے اور کہیں سے یوں ہی بادل گزر جاتے ہیں۔ بادلوں میں اس طرح بجلی چمکتی ہے جو آنکھوں کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

44: یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ (اللہ تعالیٰ دن اور رات کو الٹ پلٹ کرتا ہے) لمبائی اور چھوٹائی کے مختلف ہونے کے ساتھ پھیرتا ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنا : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) بادلوں کے اس ملنے اور بارش اور سردی کے اتارنے، دن اور رات کے آنے جانے میں نشانیاں ہیں۔ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ (البتہ عبرت ہے آنکھوں والوں کے لیے) عقل مندوں کیلئے۔ آیات کا ربط : ربوبیت باری تعالیٰ پر دلائل ذکر فرمائے۔ نمبر 1۔ آسمان و زمین میں ان کی تسبیح کا ذکر کیا۔ نمبر 2۔ جو ان کے مابین اڑنے والے ہیں ان کا تسبیح کرنا اور اس سے دعا کرنا مذکور ہوا۔ نمبر 3۔ بادلوں کو مسخر کرنا الی آخرہٖ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 44۔ یقلب اللہ اللیل والنھار، اللہ تعالیٰ ان کو پھیر دیتا ہے رات کے بعد دن کو لاتا ہے اور دن کے بعد رات کو لاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے ابن آدم دکھ پہنچاتا ہے۔ زمانے کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں حکم ہے میں ہی رات دن کا ادل بدل کرتا ہوں، ان فی ذالک ، یعنی جو اشیاء ہم نے ذکر کی ہیں، لعبرۃ لاولی الابصار، ، عقل والوں کے لیے اور بصیرت والوں کے لیے الل ہ کی قدرت و توحید کے دلائل ہیں، ان سے عبرت حاصل کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 43–44

43۔ 44:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آسمان و زمین میں اکیلے اللہ کی حکومت ہے ‘ اس کی حکومت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے ‘ ان آیتوں میں اس حکومت کی یہ مثال بیان فرمائی ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ تمام دنیا کی زندگی کا دارو مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دارومدار مینہ کے برسنے پر ہے۔ ان مشرکوں کا یہ جو اعتقاد ہے کہ تاروں کی گردش سے مینہ برستا ہے مکہ کے قحط کے وقت ان کو اپنے ان اعتقاد کی غلطی اچھی طرح معلوم ہوگئی کہ اللہ کے رسول کی دعا پر جب اللہ کا حکم ہوا تو مینہ برسا بغیر اللہ کے حکم کے نہ تاروں کی گردش کچھ کام آئی نہ ان مشرکوں کے بت کچھ کام آئے مشرکین مکہ کا یہ جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 43–44

(آیت نمبر (43 کیا تو نے اپنی آنکھوں کے ساتھ ‘ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ کیسے (یزجی سحابا) ” بادل کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ہانکتا ہے “ (ثم یولف) پھر وہ ان بدلیوں کو اکٹھا کرتا ہے اور ان کو پہاڑوں کی مانند گہرا ابر بنا دیتا ہے۔ (فتری الودق) تو ان بادلوں میں سے متفرق قطروں کی صورت میں بارش کو نکلتے ہوئے دیکھتا ہے تاکہ کسی ضرر کے بغیر اس بارش سے فائدہ حاصل ہو۔ پس اس بارش سے بڑے بڑے تالاب بھر جاتے ہیں ‘ دریا ٹھاٹھیں مارنے لگتے ہیں ‘ وادیاں بہہ نکلتی ہیں اور روئے زمین پر قسم قسم کی نباتات اگ آتی ہیں اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بادل میں سے ژالہ باری بھی کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 43–47

قول باری ہے (وینزل من السمآء من جبال فیھا من ترد فیصیب بہ من یشآء ویصرفہ عن یشآء) اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے اور پھر جیسے چاہتا ہے اس کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے بچا لیتا ہے۔ ایک قول کے مطابق پہلا حرف من ابتدائے غایت کے لئے ہے اس لئے کہ ابتداء آسمان سے نازل کرنے کے ساتھ ہوتی ہے دوسرا حرف من تبیعض کے لئے ہے اس لئے کہ اولے ان پہاڑوں کا ایک حصہ ہیں جو آسمانوں میں بلند ہیں۔ تیسرا حرف من جنس کو بیان کرنے کے لئے ہے کیونکہ ان پہاڑوں کی جنس اولوں کی جنس میں سے ہے۔ قول باری ہے : (واللہ خلق کل دابۃ من ماء۔ ) اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 دن رات کا بدلنا قدرت کا ایک اور حیرت انگیز کرشمہ : سو قدرت کے اس عظیم الشان اور حیرت انگیز کرشمے میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ادلتا بدلتا رہتا ہے رات اور دن کو "۔ کہ ایک آ رہا ہے اور دوسرا جا رہا ہے۔ اور کبھی یہ چھوٹا وہ بڑا اور کبھی اس کے برعکس۔ اور یہ سب کچھ کمال حکمت و عنایت کے ساتھ ہورہا ہے۔ سو کتنے غافل اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو ان ہمہ وقتی نشانہائے قدرت میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے اور وہ اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کے حضور جھکنے اور دل و جان سے جھکنے کے شرف سے مشرف نہیں ہوتے جس نے ان کو محض اپنے فضل و کرم سے ان عظیم الشان نعمتوں اور عنایتوں سے سرفراز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–50

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

10 ۔ پہلے رات آتی ہے اور پھر دن اور پھر رات اور پھر دن۔ کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی دن۔ واضح رہے کہ زمین پر زندہ رہنے کے جتنے اسباب موجود ہیں رات دن کے اسی الٹ پھیر کی بدولت ہیں۔ اگر ہمیشہ رات رہتی یا ہمیشہ دن رہتا تو کوئی چیز پیدا نہ ہوسکتی۔ یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:44) یقلب۔ مضارع واحد مذکر غائب تقلیب (تفعیل) مصدر۔ وہ ادل۔ بدل کرتا ہے ۔ وہ الٹتا پلٹتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–46

لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 46 : صفت (صافۃ) (صفیں بنانے والے۔ پر پھیلانے والے) ‘ یزجی (ازجائ) وہ ہانکتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ یئولف (ملادیتا ہے) ‘ رکاما (تہہ در تہہ ایک کے اوپر دوسرا) ‘ الودق (بارش) ‘ خلال (درمیان) ‘ برد (اولے۔ برف) ‘ یصرف (وہ پھیر دیتا ہے۔ پلٹا دیتا ہے) ‘ مسنا (چمک) ‘ یقلب (وہ بدلتا ہے) اولی الا بصار (آنکھوں والے۔ عقل رکھنے والے) ‘ دابۃ (جان دار۔ زمین پر رینگنے والا) ‘ بطن (پیٹ) رجلین (دونوں پاؤں ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 : اس سے پہلے آیات میں نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ اس کائنات میں صرف ایک اللہ کا نور ہدایت ہے جس کی روشنی اور رہنمائی میں سارا نظام کائنات چل رہا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–44

(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ ہی کی حکومت کا یہ اثر سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ دنیا بھر میں جہاں اس کو مینہ برسانا منظور ہوتا ہے ہوا اس کے حکم سے بادلوں کے ٹکڑوں کو وہاں لے جاتی ہے اور پھر ان ٹکڑوں کو جوڑ کرتہ بہ تہ کیا تب جاکر جتنی دور تک حکم ہوتا ہے اتنی دور تک گہرابادل چھاجاتا ہے ، اور اس بادل میں سے مینہ برستا ہے جس سے ہر طرح کی پیداوار ہوجایا کرتی ہے آگے فرمایا جن کھیتوں باغوں پر اللہ تعالیٰ کو اولوں کی بلابھیجنا مقصود ہوتا ہے تو آسمان سے وہ برف کے پہاڑ میں سے اولے بادلوں میں بھیج دیتا ہے جس سے اولے پڑ کر وہ کھیت اور باغ اجڑ جاتے ہیں اور سوائے اللہ کے اس بلا کو کوئی نہیں ٹال…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 43–45

(ف 1) ان سب آیات میں اللہ کے انواع قدرت کا بیان ہے ، ارشاد ہے کہ اگر تم اس کارگاہ حیات کی حیرت انگیزیوں پر غور کرو گے اور سوچو گے ، تو تمہیں اس کی حکمتوں اور قدرتوں کا وسیع علم حاصل ہوجائے گا تمہیں معلوم ہوگا ، کہ وہ کیونکر بادلوں کو حرکت دیتا ہے اور پھر کیونکر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے تمہیں معلوم ہوگا کہ بارش کے قوانین کیا ہیں ؟ بارش میں اور اولوں میں کیا فرق ہے ؟ تم بجلی کو کو ندتے ہوئے دیکھو گے ۔ اور اس طرح لیل ونہار کے اختلافات کو ملاحظہ کرو گے ، اور اس طریق غور وفکر سے تمہیں معارف وحکم کا بہرہ وافر حاصل ہوجائے گا بشرطیکہ تم میں سوجھ بوجھ کی صلاحیت ہو ۔ حل لغات : سنابرقہ : بجلی کی روشنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(44) اور نیز اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے یقیناً رات اور دن کے اس ردوبدل میں ان لوگوں کے لئے بڑا استدلال ہے جو اہل دانش ہیں اور ان کو جو آنکھوں والے ہیں دھیان کرنے کا بڑاموقع ہے۔ یعنی یہ اسی کی قدرت کاملہ اور اسی قادرمطلق کا کام ہے کہ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی رات یہ تبدیلی سوائے اس کے کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ کبھی کفر کی برتری اور کبھی ہدایت اور روشنی کا عروج یہ سب اس کی قدرت کا اظہار ہے اور اس میں صاحبان دانش اور آنکھوں والوں کے لئے بڑے استدلال اور بڑی عبرت کے مواقع ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–44

ف 2۔ پس ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ اتباع احکام الہیہ کا ارادہ کرتے، تو اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لئے بڑہتا چلا جاتا ہے اور وہ ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لانے والا کون ہے ؟ : 74۔ بلاشبہ اس سوال کا جواب بجز اس کے کچھ نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی ذات ہے جس کے اختیار میں ہے اور وہ باقاعدہ اپنے قانون کے مطابق رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لاتا ہے اور پھر اس میں وہی فرق ہوتا ہے جو اس نے اپنے قانون کے مطابق مقرر کردیا ہے اور اس میں کبھی ایک منٹ تو کیا ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہیں پڑا ، اس نظام کو قایم ہوئے کروڑوں سال گزر گئے لیکن کبھی اس میں ایک لمحہ کا فرق نہیں آیا اور جب تک یہ نظام قائم ہے کبھی فرق نہیں آئے گا ۔ آپ سال میں کسی دن کا انتخاب کرلیں اور اس دن کے طلوع و غروب کو نوٹ کرلیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–49

مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا From the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43. Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–46

74. As has been explained above, Allah is the Light of the whole universe, but His Light can be perceived and comprehended by the righteous believers only. All other people grope about in the dark like the blind in spite of the all-pervading, all-embracing Light. Here a few of the countless signs which guide to the Light are being mentioned by way of example. If a person whose eyes of the heart are open, sees them, he can perceive Allah working everywhere around him at all times. But those who are blind of the heart, and can only see with the head’s eyes, can see Biology and Zoology and other…

Read the full tafseer →