Explained with ayahs 43–44
بادل مرحلہ وار
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الہٰی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا من ابتداء غایت کا ہے۔ دوسرا تبعیض کا ہے۔ تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لئے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک من ثانیہ بھی ابتدا غایت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
سورة النُّوْر 75
اس سے مراد سردی سے جمے ہوئے بادل بھی ہو سکتے ہیں جنہیں مجازاً آسمان کے پہاڑ کہا گیا ہو۔ اور زمین کے پہاڑ بھی ہو سکتے ہیں جو آسمان میں بلند ہیں، جن کی چوٹیوں پر جمی ہوئی برف کے اثر سے بسا اوقات ہوا اتنی سرد ہوجاتی ہے کہ بادلوں میں انجماد پیدا ہونے لگتا ہے اور اولوں کی شکل میں بارش ہونے لگتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا یہاں سماء سے مراد بادل ہے اور جبال سے مراد بڑے بڑے بادل ہیں اور برد اولے کو کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →رحمت اور نقمت اور دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہیں
یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ اس کائنات میں سارا اختیار و اقتدار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے وہی اس میں اپنے اختیار مطلق سے جو تصرف چاہتا ہے کہ کرتا ہے۔ اس کی حکمت کے سوا ک اور کوئی اس میں دخیل نہیں ہے۔ دیکھو زمین پیاسی ہوتی ہے کسی کی طاقت نہیں کہ آسمان سے پانی کی ایک بوند ٹپکا دے۔ وہی اپنی ہوائوں سے بادلوں کو ہانک کر لاتا ہے، ان کے الگ الگٹکڑوں کو باہم جوڑ کر ان کو تہ بہ تہ کرتا ہے۔ پھر ان سے ابر رحمت برساتا اور ساری زمین کو جل تھل کردیتا ہے۔ اسی طرح دیکھو، اس کی رحمت کی طرح اس کی نقمت بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ انہی بادلوں کو سج کے لئے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42-1پس وہی اصل حاکم ہے، جس کے حکم کا کوئی تعاقب کرنے والا نہیں اور وہی معبود برحق ہے، جس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں ہر ایک کے بارے میں عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
38: سورة بنی اسرائیل (17۔ 44) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے ؛ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، یہاں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا ہے کہ ہر چیز کے تسبیح کرنے کا طریقہ مختلف ہے، اور کائنات کی تمام چیزیں اپنے اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہی ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کے حاشیے میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں بےحس سمجھتے ہیں ان سب میں کچھ نہ کچھ حس موجود ہے، اور یہ بات اب رفتہ رفتہ موجودہ سائنس بھی تسلیم کررہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
(الم تر۔۔۔۔۔۔۔ یفعلون ) (41) ” اس وسیع کائنات میں انسان صرف منفرد نہیں ہے۔ اس کا ایک ماحول ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ بڑا ہی وسیع ماحول ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں ہر طرف اللہ کی بندگی ہورہی ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے اور اوپر اور نیچے جہاں جہاں تک نظر جاسکتی ہے۔ پھر نظر کی حدود سے آگے جہاں جہاں تک خیال جاسکتا ہے ‘ اس وسیع کائنات میں انسان کے بھائی بند موجود ہیں۔ یہ مختلف شکلیں اور مختلف طبیعیتیں رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں سب ایک ہیں۔ یہ کہ یہ سب اللہ کی مخلوقات ہیں۔ یہ سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور اللہ کی حمد اور تسبیح میں رطب اللسان ہیں۔
واللہ علیم بما یفعلون (24 : 41) ” اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں…
Read the full tafseer →5 یعنی ابتداء میں بادل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اٹھتے ہیں پھر مل کر بڑا بادل بن جاتا ہے۔ پھر بادلوں کی تہ پر تہ جما دی جاتی ہے۔
6 یعنی جیسے زمین میں پتھروں کے پہاڑ ہیں، بعض سلف نے کہا کہ اسی طرح آسمان میں اولوں کے پہاڑ ہیں۔ مترجم (رح) نے اسی کے موافق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن زیادہ راحج اور قوی یہ ہے کہ " سمائ " سے بادل مراد ہو۔ مطلب یہ ہے کہ بادلوں سے جو کثیف اور بھاری ہونے میں پہاڑوں کی طرح ہیں، اولے برساتا ہے جس سے بہتوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچ جاتا ہے اور بہت سے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ مشہور ہے کہ اولے کی چھال بیل کے ایک سینگ پر پڑتی ہے اور دوسرا سینگ خشک رہ جاتا ہے۔
7 یعنی بجلی کی چمک اس قدر تیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت 43 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا ”
سمندر کے بخارات سے بادل بنتے ہیں اور ہواؤں کے دوش پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔
ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا ”
جن لوگوں کو ہوائی سفر کا تجربہ ہے انہوں نے بادل کے تہ بر تہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا۔ ابر آلود موسم میں بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ بادلوں کی ایک تہ میں سے جہاز اوپر چڑھتا ہے اور اس کے بعد فضا صاف ہوتی ہے۔ پھر اوپر جا کر بادلوں کی ایک اور تہ ہوتی ہے۔ اس طرح متعدد تہیں ہوسکتی ہیں۔
وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْہَا مِنْم بَرَدٍ ”
جب زمین پر اولے پوری شدت…
Read the full tafseer →70 مشکل یہ پیش آتی ہے کہ ہمارے علمائے ہیئت نے اللہ کی ہر نشانی میں کچھ ایسے طبعی قوانین دریافت فرما رکھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت کہیں کام کرتا نظر نہ آئے اور یہی قوانین سکولوں اور کالوں میں بچوں کو پڑھائے جاتے ہیں۔ مثلاً بارش کے لئے دریافت کردہ طبعی قوانین یہ ہیں کہ سمندر پر سورج کی گرمی سے بخارات بن کر اوپر اٹھتے ہیں۔ پھر ہواؤں کا رخ ان بخارات کو کسی مخصوص سمت کی طرف اڑا لے جاتا ہے۔ تاآنکہ یہ بخارات کسی سرد منطقہ فضائی میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر یہ بخارات پھر پانی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اور بارش ہونے لگتی ہے اور اگر شدید سرد منطقہ میں پہنچ جائیں تو پھوارے برسنے لگتے ہیں انہی…
Read the full tafseer →97۔ غرض اپنی مشیت تکوینی کے یہ عجائب وغرائب ہر لحظہ وہر آن دکھاتا رہتا ہے۔ دیکھنے کے لیے صرف چشم بینا ہونا چاہیے۔ ایک مناسب وقت پر مناسب موسم میں، ابر کو پیدا کرنا، ایک مناسب بلندی پر لے جانا، ہوا میں مناسب حال تغیرات پیدا کرنا، ابر کے منتشر ٹکڑوں کو تلے اوپر جمع کرکے انہیں گھنگھورگھٹا کی شکل میں تبدیل کردینا، پھر ایک مناسب مقدار میں مناسب مدت تک بارش کرتے رہنا یہ سب کام اسی صانع مطلق و حکیم برحق کے ہیں۔ (آیت) ” من السمآء “۔ سمآء کے لغوی معنی پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔ ہر بلند سائبان اور چھت پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ یہاں مراد ابر ہے۔ (آیت) ” من جبال “۔ عربی محاورہ میں کثرت و عظمت کے اظہار کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →الم تر ان اللہ یزجی سحابا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو ہنکاتا ہے۔
تزجیہ کسی چیز کو دھکا دینا ‘ بضاعۃ مزجاۃ (حقیر پونجی) جس کو ہر شخص پھینک دیتا ہے ( یعنی ناقابل قدر سمجھتا ہے) ۔
ثم یولف بینہ پھر اس کو (یعنی اس کے متفرق منتشر ٹکڑوں کو یکجا کر کے) جوڑتا ہے۔
ثم یجعلہ رکاما پھر اس کو تہ بر تہ بنا دیتا ہے۔
فتری الودق یخرج من خللہ پھر اس کے شگافوں سے (موسلا دھار) بارش تم کو نکلتی دکھائی دیتی ہے۔
وینزل من السمآء من جبال فیہا من برد اور آسمانوں سے یعنی آسمان میں موجود پہاڑوں سے
اولے اتارتا ہے ‘ ایک ترجمہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ آسمان سے اولوں کے (بڑے بڑے تودوں کے) پہاڑ اتارتا ہے۔ اوّل ترجمہ پر…
Read the full tafseer →(43) کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک بادل کو دوسرے کی طرف چلا تا ہے اور پھر اس بادل کے مجموعہ کو ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے پھر اس کو تہہ بہ تہہ کرتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں کے بیچ میں سے نکل کر آتی ہے اور پھر اسی بادل سے یعنی اس کے بڑے بڑے حصوں سے اولے برساتا ہے اور پھر ان اولوں سے جو اس سزا کا مستحق ہوتا ہے اس پر گرا کر اس کو سزا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اپنے اس عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔
اور اس بادل میں سے جو بجلی پیدا ہوتی ہے اس کی چمک کی تیزی کی یہ حالت ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ بینائی چھین لے گی۔
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزْجِيْ سَحَابًا۔۔ : ”أَزْجٰی یُزْجِيْ“ نرمی کے ساتھ چلانا، ہانکنا، دھکیلنا۔ ”ألَّفَ یُؤَلِّفُ“ دو یا زیادہ چیزوں کو جوڑنا۔ بادل کو جوڑنے سے مراد اس کے ٹکڑوں کو جوڑنا ہے۔ ”رَکْمٌ“ کہتے ہیں ایک چیز کو دوسری کے اوپر رکھنا۔ ”رُکَاماً“ تہ بہ تہ۔ ”خِلاَلٌ“ ”خَلَلٌ“ کی جمع ہے، جیسے : ”جِبَالٌ“ ”جَبَلٌ“ کی جمع ہے۔ ”خَلَلٌ“ کا معنی شگاف، دراڑ اور سوراخ ہے۔
3 ہوائیں کئی کام سر انجام دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ پہلے ہوائیں بھیجتا ہے، وہ زمین پر جھاڑو پھیر کر خوب صفائی کردیتی ہیں، پھر مزید ہوائیں بھیجتا ہے، وہ بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں، تیسری ہوائیں بادلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو ہنکاتا ہے) وہ چلا کر بھیجتا ہے جہاں وہ ارادہ فرماتا ہے۔
سحابًا یہ جمع سحابۃ کی ہے اس کی دلیل : ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ (پھر ان کو جوڑتا ہے) ثم یولف بینہٗ میں ہٗ کی ضمیر کو لفظ کا لحاظ کر کے مذکر لایا گیا ہے یعنی ان کو ایک دوسرے سے ملا کر یکجا کرتا ہے۔ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا (پھر اس کو تہہ بہ تہہ کردیتا ہے) تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر فَتَری الْوَدْقَ (پھر تم بارش کو دیکھتے ہو) یَخْرُجُ مِن ْخِلٰلِہٖ (اس کے شگافوں سے نکلتی ہے) اس کے پھٹے ہوئے اور نکلنے کے مقامات سے۔ یہ خلل کی جمع ہے جیسے جبال جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ فتری الودق سے مراد ہے بارش
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فتری الودق سے مراد ہے قطرے بارش کے
3۔ ابن ابی حاتم نے ابو بجیلہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ الودق سے مراد ہے بجلی۔
4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ من خللہ سے مراد ہے بادل
5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ و اس طرح پڑھتے تھے من خللہ خا کے فتح اور بغیر الف کے ساتھ۔
6۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ فی العظمۃ نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ اگر چوتھے آسمان سے برف نازل ہوتی تو جس چیز پر گرتی اس کو ہلاک کردیتی۔
7۔ ابن…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ [ کیا تو نے دیکھا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ ] يُزْجِيْ [ ہانکتا ہے ] سَحَابًا [ بادل کو ] ثُمَّ يُؤَلِّفُ [ پھر وہ جمع کرتا ہے ] بَيْنَهٗ [ آپس میں اس کو ] ثُمَّ يَجْعَلُهٗ [ پھر وہ کرتا ہے اس کو ] رُكَامًا [ تہہ در تہہ ] فَتَرَى [ پھر تو دیکھتا ہے ] الْوَدْقَ [ بارش (کے قطرے) کو ] يَخْرُجُ [ وہ نکلتا ہے ] مِنْ خِلٰلِهٖ ۚ [ اس کی دراڑوں سے ] وَيُنَزِّلُ [ اور وہ اتارتا ہے ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مِنْ جِبَالٍ [ کچھ ایسے پہاڑوں میں سے ] فِيْهَا [ جن میں ہیں ] مِنْۢ بَرَدٍ [ کچھ اولے ] فَيُصِيْبُ بِهٖ [ پھر وہ لگاتا ہے انہیں ] مَنْ [ اس کو جسے ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا…
Read the full tafseer →اس کے بعد ارشاد فرمایا (اَلَمْ تَرَی اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِی سَحَاباًٰ ) (الایہ) اس میں عالم علوی کے بعض تصرفات کا تذکرہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بادل کو دوسرے بادل کی طرف چلاتا ہے پھر ان سب کو آپس میں ملا دیتا ہے پھر ان کو تہہ بہ تہہ جمانے کے بعد اس میں سے بارش نازل فرماتا ہے۔ اے مخاطب تو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے بارش نکل رہی ہے اور جب اس کی مشیت ہوتی ہے تو انہیں بادلوں کے بڑے بڑے حصوں میں سے جو پہاڑوں کی مانند ہیں اولے برسا دیتا ہے۔ یہ اولے بڑے خطر ناک ہوتے ہیں جس کی جان یا مال کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بچا دیتا ہے اور جسے مالی نقصان پہنچانا ہو وہ ان اولوں کو اس کی ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ذکر تسبیح کا ئنات عالم
قال اللہ تعالی۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں رجال آخرت اور مردان ہمت کی تسبیح اور نماز کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں تمام مخلوقات کی تسبیح اور نماز اور نیاز کا ذکر کرتے ہیں کہ تمام مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے، مگر یہ لوگ جہالت کے مظلم اور تاریک سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہیں اور خدا کی تسبیح اور نماز ونیاز سے غافل ہیں۔ اور سراب کو آب سمجھے ہوئے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں قلوب مومنین کے انوار کا اور قلوب کفار کی ظلمات کا بیان تھا۔ اب آئندہ آیات میں دلائل توحید کو بیان کرتے ہیں جو اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
49:۔ ” الم تر ان اللہ یزجی الخ “ : یہ دوسری عقلی دلیل ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف سمتوں سے بادلوں کو چلا کر ایک جگہ جمع کرتا ہے پھر اس کی قدرت سے ان بادلوں سے بارش برستی ہے وہ آسمان کی طرف سے پہاڑوں کی مانند بادلوں میں سے اولے برساتا ہے جن کی وجہ سے بعض لوگوں کا جانی اور مالی نقصان ہوجاتا ہے اور بعض اس سے محفوط رہتے ہیں۔ بادلوں جب بجلی کوندتی ہے اس کی روشنی اس قدرت تیز ہوتی ہے کہ آنکھوں کی روشنی ہی سلب کرلے۔ یہ سارا نظام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔ ” یقلب اللیل والنھار الخ “ : اس کے علاوہ رات دن کا انقلاب یعنی رات دن کی یکے بعد دیگرے آمد و رفت اور ان کی کمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا ذکر کیا جو مومنوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کی مثال بھی بیان فرمائی۔ پھر اللہ کے گھروں مساجد کا تذکرہ فرمایا جہاں سے متذکرہ نور حاصل ہوتا ہے۔ اللہ نے ان گھروں کو بلند کرنے اور انہیں پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ، اور ان لوگوں کی صفات بیان کیں جو مساجد میں اللہ کی عبادت اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر اللہ نے نافرمان اور کفر کرنے والوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ پھر کفار کی دوقسموں کا ذکر کیا۔ ان کی ایک قسم وہ ہے ، جو رفاہ عامہ کے کام بھی کرتے ہیں اور آخرت میں اچھے صلے کی امید…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يُزْجِيْ سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَہٗ ثُمَّ يَجْعَلُہٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ 0ۚ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْہَا مِنْۢ بَرَدٍ فَيُصِيْبُ بِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَصْرِفُہٗ عَنْ مَّنْ يَّشَاۗءُ 0ۭ يَكَادُ سَـنَا بَرْقِہٖ يَذْہَبُ بِالْاَبْصَارِ 43ۭ
زجا
التَّزْجِيَةُ : دَفْعُ الشّيء لينساق، كَتَزْجِيَةِ ردیء البعیر، وتَزْجِيَةِ الرّيح السّحاب، قال : يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43] ، وقال : رَبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ [ الإسراء/ 66] ، ومنه : رجل مُزْجًى، وأَزْجَيْتُ ردیء التّمر فَزَجَا، ومنه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ترکیب : الطیر معطوف علی من جمع طائر صافات حال من الطیر ای باسطات اجنحتین۔ علم کی ضمیر راجع ہے کل کی طرف وھوالاقوی لان القراۃ برقع کل علی الابتداء یزجی یسوقہ برفق۔ بینہ انما جاز دخول بین علی المفردلان المعنی بین اجزاء السحاب۔ رکاما متراکما بعضہ فوق بعض۔ الودق المطر من خلالہ ای مخارجہ جمع خلل کجبال فی جبل من السماء من لابتداء الغایۃ من جبال کا من یا زائدہ ہے اور ممکن ہے کہ پہلے من سے بدل ہو علی عادۃ الجاروالتقدیر نزل من جبال السماء ای من جبال فی السماء من برد بیان للجبال و المفعول محذوف ای ینزل مبتداء من جبال فیھا من بردبرداً ۔
تفسیر : انوار قلوب المومنین و ظلمات قلوب الکافرین کے بعد چند وہ…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَا اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ ط کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاَ تَـہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِمَا یَفْعَلُوْنَ ۔ (النور : 41)
(کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ باخبر ہے اس چیز سے جو وہ کر رہے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کی دعوت
اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا نور ہے۔ مگر اس نور کے ادراک کی توفیق صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جن کا نور فطرت اس نورہدایت سے مستنیر ہوتا ہے۔ بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اس کی بادشاہی پر غور کرنے کے لیے بادلوں کی طرف توجہ کرو۔
کیا انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بادل بناتا اور اٹھاتا ہے پھر ان کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس کے بعد بادلوں کو ایک دوسرے پر تہہ در تہہ کردیتا ہے اور پھر ان سے موسلادار بارش برساتا ہے۔ جو پہاڑوں کی مانند نظر آتی ہے اس میں بسا اوقات اولے بھی برستے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے وہاں اولے برساتا ہے اور جسے چاہتا ہے اولوں سے محفوظ فرماتا ہے۔ یہی صورت حال بارش کی ہے جو کہیں برستی ہے اور کہیں سے یوں ہی بادل گزر جاتے ہیں۔ بادلوں میں اس طرح بجلی چمکتی ہے جو آنکھوں کی…
Read the full tafseer →43: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو ہنکاتا ہے) وہ چلا کر بھیجتا ہے جہاں وہ ارادہ فرماتا ہے۔
نحو : سحابًا یہ جمع سحابۃ کی ہے اس کی دلیل : ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ (پھر ان کو جوڑتا ہے) ثم یولف بینہٗ میں ہٗ کی ضمیر کو لفظ کا لحاظ کر کے مذکر لایا گیا ہے یعنی ان کو ایک دوسرے سے ملا کر یکجا کرتا ہے۔ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا (پھر اس کو تہہ بہ تہہ کردیتا ہے) تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر فَتَری الْوَدْقَ (پھر تم بارش کو دیکھتے ہو) یَخْرُجُ مِن ْخِلٰلِہٖ (اس کے شگافوں سے نکلتی ہے) اس کے پھٹے ہوئے اور نکلنے کے مقامات سے۔ یہ خلل کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →43۔ الم تر ان اللہ یزجی، ،، اپنے حکم سے بادلوں کو ہنکاتا ہے۔ سحابا، جہاں ان بادلوں کو لے جانے کا ارادہ کرتا ہے ثم یولف بینہ، پھر ان بادلوں کے مختلف ٹکڑے کو جمع کرتا ہے۔ ثم یجعلہ رکاما، اس کو تہہ درتہہہ بنادیتے ہیں ، فتری الودق، ، پھر اس کے شگوفوں سے بارش کو نکالتے ہیں۔ یخرج من خلالہ، اسی کے درمیان سے خلال، جمع ہے خلل کی جیسے جبال جمع ہے جبل کی، وینزل من السماء من جبال فیھا من برد، ان پر نازل کرتے ہیں برساتے ہیں برے بڑے اولے۔ بعض نے کہا کہ من صلہ ہے۔ بعض نے کہا کہ اولوں کے بڑے بڑے تودے جو پہاڑوں کی طرح ہوتے ہیں۔ یہابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے ، بعض حضرات نے یہ قول ذکر کیا ہے کہ آسمانوں میں اولوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 44:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آسمان و زمین میں اکیلے اللہ کی حکومت ہے ‘ اس کی حکومت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے ‘ ان آیتوں میں اس حکومت کی یہ مثال بیان فرمائی ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ تمام دنیا کی زندگی کا دارو مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دارومدار مینہ کے برسنے پر ہے۔ ان مشرکوں کا یہ جو اعتقاد ہے کہ تاروں کی گردش سے مینہ برستا ہے مکہ کے قحط کے وقت ان کو اپنے ان اعتقاد کی غلطی اچھی طرح معلوم ہوگئی کہ اللہ کے رسول کی دعا پر جب اللہ کا حکم ہوا تو مینہ برسا بغیر اللہ کے حکم کے نہ تاروں کی گردش کچھ کام آئی نہ ان مشرکوں کے بت کچھ کام آئے مشرکین مکہ کا یہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(آیت نمبر (43
کیا تو نے اپنی آنکھوں کے ساتھ ‘ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ کیسے (یزجی سحابا) ” بادل کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ہانکتا ہے “ (ثم یولف) پھر وہ ان بدلیوں کو اکٹھا کرتا ہے اور ان کو پہاڑوں کی مانند گہرا ابر بنا دیتا ہے۔ (فتری الودق) تو ان بادلوں میں سے متفرق قطروں کی صورت میں بارش کو نکلتے ہوئے دیکھتا ہے تاکہ کسی ضرر کے بغیر اس بارش سے فائدہ حاصل ہو۔ پس اس بارش سے بڑے بڑے تالاب بھر جاتے ہیں ‘ دریا ٹھاٹھیں مارنے لگتے ہیں ‘ وادیاں بہہ نکلتی ہیں اور روئے زمین پر قسم قسم کی نباتات اگ آتی ہیں اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بادل میں سے ژالہ باری بھی کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
قول باری ہے (وینزل من السمآء من جبال فیھا من ترد فیصیب بہ من یشآء ویصرفہ عن یشآء) اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے اور پھر جیسے چاہتا ہے اس کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے بچا لیتا ہے۔ ایک قول کے مطابق پہلا حرف من ابتدائے غایت کے لئے ہے اس لئے کہ ابتداء آسمان سے نازل کرنے کے ساتھ ہوتی ہے دوسرا حرف من تبیعض کے لئے ہے اس لئے کہ اولے ان پہاڑوں کا ایک حصہ ہیں جو آسمانوں میں بلند ہیں۔ تیسرا حرف من جنس کو بیان کرنے کے لئے ہے کیونکہ ان پہاڑوں کی جنس اولوں کی جنس میں سے ہے۔
قول باری ہے : (واللہ خلق کل دابۃ من ماء۔ ) اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی…
Read the full tafseer →93 باران رحمت میں دعوت غور و فکر : سو اس ارشاد سے آسمان سے برسنے والی باران رحمت اور اس کی کرشمہ سازی کی طرف التفات و توجہ اور اس میں غور کا درس دیا گیا ہے۔ جس سے تمہیں طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل ہوتے ہیں۔ پس اس میں اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے عظیم مظاہر بھی ہیں اور اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کے عالی شان نمونے بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کی رحمت بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور اس کی نقمت بھی۔ وہ جب اور جیسے چاہے کسی کو اپنی نعمت اور رحمت سے سرفراز فرما دے یا کسی پر اپنی نقمت اور عذاب کا کوڑا برسا دے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہی ہے جو مردہ پڑی زمین کی زندگی اور اس کی سرسبزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
7 ۔ یعنی ان کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک چیز بنا دیتا ہے۔ 8 ۔ جیسے چھلنی کے سوراخوں میں سے کوئی چیز ٹپکتی ہے۔ 9 ۔ یعنی اس کی تیز روشنی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔
Read the full tafseer →(24:43) یزجی۔ مضارع واحد مذکر غائب ازجاء (افعال) مصدر۔ التزجیۃ (باب تفعیل) کسی چیز کو دفع کرنا کہ وہ چل پڑے۔ مثلاً پچھلے سوار کا اونٹ کو چلانا ۔ یا ہوا کا بادلوں کو چلانا۔ یزجی سحابا۔ وہ بادلوں کو ہنکاتا ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے یزجی لکم الفلک (17:66) جو تمہارے لئے (سمندروں میں) جہازوں کو چلاتا ہے۔ اسی سے ہے رجل مزجی۔ ہنکایا ہوا آدمی۔ یعنی کمزور۔ ذلیل آدمی۔
یؤلف۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تالیف (تفعیل) مصدر۔ وہ ملا دیتا ہے ۔ وہ اکٹھا کردیتا ہے۔ یؤلف بینہ۔ پھر (اس کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو) باہم اکٹھا کردیتا ہے۔ ای یؤلف بین اجزاء السحاب۔
رکاما۔ ای متراکما تہ بہ تہ۔ بعضہ فوق بعض۔ ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 46 :
صفت (صافۃ) (صفیں بنانے والے۔ پر پھیلانے والے) ‘ یزجی (ازجائ) وہ ہانکتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ یئولف (ملادیتا ہے) ‘ رکاما (تہہ در تہہ ایک کے اوپر دوسرا) ‘ الودق (بارش) ‘ خلال (درمیان) ‘ برد (اولے۔ برف) ‘ یصرف (وہ پھیر دیتا ہے۔ پلٹا دیتا ہے) ‘ مسنا (چمک) ‘ یقلب (وہ بدلتا ہے) اولی الا بصار (آنکھوں والے۔ عقل رکھنے والے) ‘ دابۃ (جان دار۔ زمین پر رینگنے والا) ‘ بطن (پیٹ) رجلین (دونوں پاؤں ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 :
اس سے پہلے آیات میں نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ اس کائنات میں صرف ایک اللہ کا نور ہدایت ہے جس کی روشنی اور رہنمائی میں سارا نظام کائنات چل رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ ہی کی حکومت کا یہ اثر سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ دنیا بھر میں جہاں اس کو مینہ برسانا منظور ہوتا ہے ہوا اس کے حکم سے بادلوں کے ٹکڑوں کو وہاں لے جاتی ہے اور پھر ان ٹکڑوں کو جوڑ کرتہ بہ تہ کیا تب جاکر جتنی دور تک حکم ہوتا ہے اتنی دور تک گہرابادل چھاجاتا ہے ، اور اس بادل میں سے مینہ برستا ہے جس سے ہر طرح کی پیداوار ہوجایا کرتی ہے آگے فرمایا جن کھیتوں باغوں پر اللہ تعالیٰ کو اولوں کی بلابھیجنا مقصود ہوتا ہے تو آسمان سے وہ برف کے پہاڑ میں سے اولے بادلوں میں بھیج دیتا ہے جس سے اولے پڑ کر وہ کھیت اور باغ اجڑ جاتے ہیں اور سوائے اللہ کے اس بلا کو کوئی نہیں ٹال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
[50] اصل میں لفظ '' سماء '' استعمال ہوا ہے جس سے یہاں مراد ابر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
(ف 1) ان سب آیات میں اللہ کے انواع قدرت کا بیان ہے ، ارشاد ہے کہ اگر تم اس کارگاہ حیات کی حیرت انگیزیوں پر غور کرو گے اور سوچو گے ، تو تمہیں اس کی حکمتوں اور قدرتوں کا وسیع علم حاصل ہوجائے گا تمہیں معلوم ہوگا ، کہ وہ کیونکر بادلوں کو حرکت دیتا ہے اور پھر کیونکر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے تمہیں معلوم ہوگا کہ بارش کے قوانین کیا ہیں ؟ بارش میں اور اولوں میں کیا فرق ہے ؟ تم بجلی کو کو ندتے ہوئے دیکھو گے ۔ اور اس طرح لیل ونہار کے اختلافات کو ملاحظہ کرو گے ، اور اس طریق غور وفکر سے تمہیں معارف وحکم کا بہرہ وافر حاصل ہوجائے گا بشرطیکہ تم میں سوجھ بوجھ کی صلاحیت ہو ۔
حل لغات :
سنابرقہ : بجلی کی روشنی…
Read the full tafseer →(43) کیا اے مخاطب تو نے نہیں دیکھا اور کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بادل کے ٹکڑوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے پھر ان کو تہ بہ تہ رکھتا ہے پھر اے مخاطب تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس بادل کے درمیان سے نکلتی ہے اور تو اس بادل کے درمیان سے مینہ برستا ہوا دیکھتا ہے اور آسمانوں میں جو اولوں کے پہاڑ ہیں ان سے اولے برساتا اور اتارتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے ان اصولوں کو گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ان اولوں کو پھیر دیتا ہے اور ہٹا دیتا ہے بادل کی بجلی کی چمک اور اس کی کوند قریب ہے کہ ابھی آنکھوں کی بینائی لے جائے۔ یعنی یہ اس کی قدرت ہے کہ بادل کے ٹکڑوں کو ہنکا لانا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
ف 2۔ پس ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ اتباع احکام الہیہ کا ارادہ کرتے، تو اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لئے بڑہتا چلا جاتا ہے اور وہ ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
Read the full tafseer →بادلوں کو ملانے ‘ چلانے اور بارش برسانے والی بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے :
71۔ توحید الہی کے دلائل میں اللہ تعالیٰ کی کرشمہ سازیوں کا ذکر کیا جارہا ہے اور پوچھا جا رہا ہے کہ اے مخاطب وہ کون ہے جو بارش کو برسانے والا ہے ؟ اور مخاطب کے پاس کوئی جواب سوائے اس کے نہیں کہ وہ اللہ ہے ۔ فرمایا ہاں ! وہ اللہ ہی ہے جو پانی کے خزائن سے بخارات اٹھا کر اوپر کو لے جاتا ہے اور وہ فضا کے اندر حد نظر سے بھی کہیں اوپر اٹھا کرلے جاتا ہے اور یہ عمل برابر جاری رہتا ہے کہ اربوں ‘ کھربوں ٹن پانی زمین و آسمان کے خلا کے اندر اس طرح اڑ کر پھر رہا ہے کہ وہ نظر تک نہیں آتا اور پھر اس کو تہ بہ تہ بادلوں کی شکل میں جوڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا
From the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43.
Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
74. As has been explained above, Allah is the Light of the whole universe, but His Light can be perceived and comprehended by the righteous believers only. All other people grope about in the dark like the blind in spite of the all-pervading, all-embracing Light. Here a few of the countless signs which guide to the Light are being mentioned by way of example. If a person whose eyes of the heart are open, sees them, he can perceive Allah working everywhere around him at all times. But those who are blind of the heart, and can only see with the head’s eyes, can see Biology and Zoology and other…
Read the full tafseer →