Explained with ayahs 41–42
ہر ایک تسبیح خوان ہے
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سورة النُّوْر 74
اوپر ذکر آ چکا ہے کہ اللہ ساری کائنات کا نور ہے مگر اس نور کے ادراک کی توفیق صرف صالح اہل ایمان ہی کو نصیب ہوتی ہے، باقی سب لوگ اس نور کامل و شامل کے محیط ہوتے ہوئے بھی اندھوں کی طرح تاریکی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ اب اس نور کی طرف رہنمائی کرنے والے بیشمار نشانات میں سے صرف چند کو بطور نمونہ پیش کیا جا رہا ہے کہ دل کی آنکھیں کھول کر کوئی انہیں دیکھے تو ہر وقت ہر طرف اللہ کو کام کرتے دیکھ سکتا ہے۔ مگر جو دل کے اندھے ہیں وہ اپنے سر کے دیدے پھاڑ پھاڑ کر بھی دیکھتے ہیں تو انہیں بیولوجی اور زولوجی اور طرح طرح کی دوسری لوجیاں تو اچھی خاصی کام کرتی نظر آتی ہیں مگر اللہ کہیں کام کرتا نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تجھ کو (دلائل اور مشاہدہ سے) معلوم نہیں ہوا کہ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں (خواہ قالاً جو بعض مخلوقات میں مشاہد بھی ہے خواہ حالاً جو کل مخلوقات میں بدلالت عقل معلوم ہے) اور (بالخصوص) پرند (بھی) جو پر پھیلاے ہوئے (اڑتے پھرتے) ہیں (کہ ان کی دلالت علی وجود الصانع اور زیادہ عجیب ہے کہ باوجود ان کے ثقل اجسام کے پھر فضاء میں رکے ہوئے ہیں اور) سب (پرندوں) کو اپنی اپنی دعا (اور التجاء اللہ سے) اور اپنی تسبیح (و تقدیس کا طریقہ الہام سے) معلوم ہے اور (باوجود ان دلائل کے پھر بھی بعضے توحید کو نہیں مانتے تو) اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے…
Read the full tafseer →واللہ ملک السموت ولارض والی اللہ المصیر (42)
عبادت کا حقدار صرف اللہ وحدہ لہ شریک ہی ہے
یہ اس بات کی دلیل اشراد ہوئی کہ کیوں ہر چیز خدا ہی کی حمد و تسبیح کرتی ہے اور کیوں سب کو اسی کی حمد و تسبیح کرنی چاہئے۔ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے اور سب کی واپسی بھی بالآخر خدا ہی کی طرف ہونی ہے۔ نہ اس کائنات کے نظام میں کسی کا کوئی دخل ہے اور نہ آخرت میں خدا کے سوا کوئی اور مرجع و ماوی بننے والا ہے تو جب یہاں اور وہاں ہر جگہ سارا اختیار و اقتدار اسی کو حاصل ہے تو اس کے سوا کسی دوسرے کی تسبیح و عبادت کس حق کی بنا پر کی جائے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42-1پس وہی اصل حاکم ہے، جس کے حکم کا کوئی تعاقب کرنے والا نہیں اور وہی معبود برحق ہے، جس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں ہر ایک کے بارے میں عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
38: سورة بنی اسرائیل (17۔ 44) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے ؛ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو، یہاں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا ہے کہ ہر چیز کے تسبیح کرنے کا طریقہ مختلف ہے، اور کائنات کی تمام چیزیں اپنے اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کررہی ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کے حاشیے میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں بےحس سمجھتے ہیں ان سب میں کچھ نہ کچھ حس موجود ہے، اور یہ بات اب رفتہ رفتہ موجودہ سائنس بھی تسلیم کررہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
(الم تر۔۔۔۔۔۔۔ یفعلون ) (41) ” اس وسیع کائنات میں انسان صرف منفرد نہیں ہے۔ اس کا ایک ماحول ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ بڑا ہی وسیع ماحول ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں ہر طرف اللہ کی بندگی ہورہی ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے اور اوپر اور نیچے جہاں جہاں تک نظر جاسکتی ہے۔ پھر نظر کی حدود سے آگے جہاں جہاں تک خیال جاسکتا ہے ‘ اس وسیع کائنات میں انسان کے بھائی بند موجود ہیں۔ یہ مختلف شکلیں اور مختلف طبیعیتیں رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں سب ایک ہیں۔ یہ کہ یہ سب اللہ کی مخلوقات ہیں۔ یہ سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور اللہ کی حمد اور تسبیح میں رطب اللسان ہیں۔
واللہ علیم بما یفعلون (24 : 41) ” اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں…
Read the full tafseer →4 یعنی جیسے اس کا علم سب کو محیط ہے، اس کی حکومت بھی تمام علویات و سفلیات پر حاوی ہے اور سب کو آخرکار اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ آگے اپنے حاکمانہ اور قادرانہ تصرفات کو بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آیت 41 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ”
نہ صرف آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات اللہ کی تسبیح کرتی ہیں بلکہ ان دونوں آسمان و زمین کے مابین جو مخلوق ہے وہ بھی اس میں شامل ہیں۔
وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍط کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَا تَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ط ”
یہی مضمون سورة بنی اسرائیل کی آیت 44 میں اس طرح آیا ہے : وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ الاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ ط کہ کوئی چیز اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو اللہ کی تسبیح وتحمید نہ کر رہی ہو ‘ لیکن تم لوگوں کو ان کے طریقہ تسبیح کا شعور نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
68 کافروں کی دو مثالیں بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے کائنات سے کچھ اپنی ایسی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت یا نور ہدایت حاصل کرسکتا ہے۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پرندوں کو فطری طور پر ایسا طریقہ سکھلا دیا کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان فضا میں اپنے پر کھولے ہوئے اور قافلہ کی صورت میں قطار در قطار اڑتے پھرتے ہیں۔ اور وہ زمین پر گر نہیں پڑتے۔ پھر بعض دفعہ وہ اڑتے اڑتے اپنے پروں کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ مگر گرتے پھر بھی نہیں۔ آکر ان پرندوں کو یہ طریقہ کس نے سکھلایا ؟ زمین کی کشش ثقل جو کاغذ کے ایک ہلکے سے پرزے کو اپنی طرح کھینچ لیتی…
Read the full tafseer →96۔ اس وقت ملکیت وحاکمیت سب کے مشاہدہ میں آکر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →وللہ ملک السموت والارض اور آسمانوں کا اور زمین کا مالک اللہ ہی ہے وہی مالک ہے ‘ وہی خالق ہے آسمان و زمین اور ان کی اندرونی کائنات خواہ ذوات (جواہر) ہوں یا صفات یا افعال سب کا پیدا کرنے والا اور مالک وہی ہے۔
والی اللہ المصیر۔ اور اللہ ہی کی جانب ہے سب کی واپسی وہی ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق بدلہ دے گا ‘
یہاں تک کہ سینگوں والی بکری سے منڈی بکری کو بدلہ دلوائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41۔ 42) اے محمد ﷺ کیا آپ کو بذریعہ قرآن کریم یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں میں فرشتے ہیں اور زمین میں جتنے مومنین ہیں بالخصوص پرند بھی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے پھرتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو جو بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے التجا کرے اور اس کی پاکی بیان کرے اپنی اپنی دعا اور تسبیح کا طریقہ معلوم ہے۔
یا یہ مطلب ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اللہ تعالیٰ کو اس کی دعا اور جو اس کی پاکی بیان کرے اللہ تعالیٰ کو اس کی پاکی بیان کرنا معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان سب کے افعال کا خواہ اچھے ہوں پورا علم ہے۔
اور آسمانوں کے خزانے…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : آسمان و زمین یعنی پوری کائنات میں حقیقی بادشاہی صرف اللہ کی ہے، اسی نے سب کو پیدا فرمایا، زندگی کا سارا سلسلہ وہی چلا رہا ہے اور سب کی واپسی بھی آخر کار اسی کی طرف ہے۔ نہ دنیا میں اس کی سلطنت میں کسی کا دخل ہے نہ آخرت میں اس کے سوا کسی کا کوئی دخل ہوگا۔ جب زمین و آسمان اور دنیا و آخرت میں سارا اختیار اسی کا ہے تو پھر دوسرے کی عبادت کیوں ہو !
Read the full tafseer →وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے آسمان و زمین) کیونکہ وہ ان کا خالق ہے اور کسی چیز پر تملیک یہ مالکیت ہی کا اثر ہے۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ (اور اللہ تعالیٰ کی طرف تمام نے لوٹنا ہے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
1۔ ابن ابی شیبہ وعبدبن حمید ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ فی الظمۃ مجاہد (رح) سے آیت ” الم تر ان اللہ یسبح لہ “ سے لے کر آیت ” کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ “ تک کے بارے میں روایت کیا کہ نماز انسان کے لیے ہے اور تسبیح اس کے علاوہ دوسری مخلوق کے لیے ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والیر صفت “ سے مراد ہے اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے۔
3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والطیر صفت “ سے مراد ہے اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے۔
4۔ ابو الشیخ فی العظمۃ مسعر (رح) سے آیت ” والطیر صف کل قد علمہ صلاتہ وتسبیحہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اسی کو نماز کا نام دیا گیا مگر…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ [ اور اللہ ہی کی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ [ آسمانوں اور زمین کی حکومت ] وَاِلَى اللّٰهِ [ اور اللہ ہی کی طرف ] الْمَصِيْرُ [ لوٹنا ہے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (وَلِلَّہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کا ملک) (وَاِِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ) (اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) وہ خالق ومالک ہے حقیقی متصرف ہے یہاں جو برائے نام کوئی مجازی حکومت ہے وہ کوئی بھی نہ رہے گی۔ سارے فیصلے اللہ تعالیٰ ہی کے ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ذکر تسبیح کا ئنات عالم
قال اللہ تعالی۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں رجال آخرت اور مردان ہمت کی تسبیح اور نماز کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں تمام مخلوقات کی تسبیح اور نماز اور نیاز کا ذکر کرتے ہیں کہ تمام مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے، مگر یہ لوگ جہالت کے مظلم اور تاریک سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہیں اور خدا کی تسبیح اور نماز ونیاز سے غافل ہیں۔ اور سراب کو آب سمجھے ہوئے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں قلوب مومنین کے انوار کا اور قلوب کفار کی ظلمات کا بیان تھا۔ اب آئندہ آیات میں دلائل توحید کو بیان کرتے ہیں جو اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
48:۔ ” الم تر الخ “: یہ دعوی توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے زمین و آسمان کی ساری ذی عقل اور غیر ذی عقل مخلوق اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ ” وللہ ملک السموت الخ “ : زمین و آسمان کا مالک و مختار بھی وہی ہے اور ہر کام اور ہر معاملہ اسی کے اختیار میں ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ معبود برحق اور متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ” الطیر “ ، ” من “ پر معطوف ہے۔ اور صافات اس سے حال ہے یہ جو پرندے ہوا میں اڑتے اپنے پروں کو کھولتے اور سمیٹتے ہیں اور جس رخ چاہتے ہیں مڑ جاتے ہیں وہ بھی اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں ” کل “ کی تنوین مضاف الیہ سے عوض ہے ای کل واحد ممن ذکر یعنی اللہ کی مخلوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا ذکر کیا جو مومنوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کی مثال بھی بیان فرمائی۔ پھر اللہ کے گھروں مساجد کا تذکرہ فرمایا جہاں سے متذکرہ نور حاصل ہوتا ہے۔ اللہ نے ان گھروں کو بلند کرنے اور انہیں پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ، اور ان لوگوں کی صفات بیان کیں جو مساجد میں اللہ کی عبادت اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر اللہ نے نافرمان اور کفر کرنے والوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ پھر کفار کی دوقسموں کا ذکر کیا۔ ان کی ایک قسم وہ ہے ، جو رفاہ عامہ کے کام بھی کرتے ہیں اور آخرت میں اچھے صلے کی امید…
Read the full tafseer →وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0ۚ وَاِلَى اللہِ الْمَصِيْرُ 42
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20]
( م ل ک ) الملک
۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے .
اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے
عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔
دوم حکمرانی کی قوت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ترکیب : الطیر معطوف علی من جمع طائر صافات حال من الطیر ای باسطات اجنحتین۔ علم کی ضمیر راجع ہے کل کی طرف وھوالاقوی لان القراۃ برقع کل علی الابتداء یزجی یسوقہ برفق۔ بینہ انما جاز دخول بین علی المفردلان المعنی بین اجزاء السحاب۔ رکاما متراکما بعضہ فوق بعض۔ الودق المطر من خلالہ ای مخارجہ جمع خلل کجبال فی جبل من السماء من لابتداء الغایۃ من جبال کا من یا زائدہ ہے اور ممکن ہے کہ پہلے من سے بدل ہو علی عادۃ الجاروالتقدیر نزل من جبال السماء ای من جبال فی السماء من برد بیان للجبال و المفعول محذوف ای ینزل مبتداء من جبال فیھا من بردبرداً ۔
تفسیر : انوار قلوب المومنین و ظلمات قلوب الکافرین کے بعد چند وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِـہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِـہٖ سَحَابٌ ط ظُلُمٰتٌ م بَعْضُھَافَوْقَ بَعْضٍ ط اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْیَرٰھَا ط وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَـہٗ نُوْرًا فَمَالَـہٗ مِنْ نُّوْرٍ ۔ (النور : 40)
(یا (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک گہرے سمندر کے اندر تاریکیاں، چھا رہی ہو اس پر موج، اس کے اوپر ایک اور موج، اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں، تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر، جب وہ نکالے اپنا ہاتھ تو اس کو بھی دیکھ نہ پائے اور (سچ تو یہ ہے) کہ جس کو اللہ روشنی نہ بخشے تو اس کے لیے کوئی روشنی نہیں۔ )
اہلِ کفر کی ذہنی تاریکی کی مثال
اس سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فہم القرآن
ربط کلام : ہدایت کو اللہ تعالیٰ نے نور قرار دیا ہے اور اس نور سے کافر محروم ہیں جبکہ اس نور ہدایت کے سبب ہر چیز اپنی عبادت اور ذمہ داری کو پہچانتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان بالخصوص کافر کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کیا ” اللہ “ کے باغی اور منکر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جو زمین و آسمان میں جو کچھ ہے یہاں تک کہ پرندے جو فضا میں پر پھیلائے اڑتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی نماز اور ذکر کو جانتا ہے اور اے لوگو ! جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے بھی اچھی طرح جانتا ہے کیونکہ زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کے لیے ہے اور ہر کسی نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اور پرندوں کی…
Read the full tafseer →42: وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے آسمان و زمین) کیونکہ وہ ان کا خالق ہے اور کسی چیز پر تملیک یہ مالکیت ہی کا اثر ہے۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ (اور اللہ تعالیٰ کی طرف تمام نے لوٹنا ہے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
تفسیر۔
41۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ ، ،، ،، وہ اپنے پروں کو ہوا میں پھیلائے ہوئے ہیں، حیوانوں میں بالخصوص پرندوں کا زکر اس لیے کیا کہ جو پرندے زمین پر ہوتے ہیں وہ تو، من فی السماوات والارض کے، ذیل میں شامل ہیں اور اگر ذکر نہ کرتے تو آسمانوں میں اور زمین میں رہنے والے پرندے اس میں شامل نہ ہوتے۔ کل قد علم صلاتہ وتسبیہ، ، مجاہد کا قول ہے کہ صلوۃ بنی آدم کے لیے اور تسبیح تمام مخلوقات کے لیے۔ بعض نے کہا کہ پرندوں کا پروں کو پھیلانا نماز ہے اور ان کا بولنا تسبیح ہے۔ کل قد علم، ، جو بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے اور اس کی نماز ادا کرتا ہے وہ اللہ کے علم میں ہے۔ اور بعض نے کہا کہ ہر ایک اپنی دعا اور پاکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
41۔ 42:۔ مجاہد کے قول کے موافق نماز کا حکم انسان کے حق میں ہے اور حسب حال یاد الٰہی کا حکم باقی کی مخلوقات کے حق میں ہے ‘ قرآن شریف میں تسبیح کا ذکر بعضے جگہ تسبیح کا لفظ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی کل چیزیں اپنی اپنی زبان میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں ‘ بعض مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ جنات اور انسان کے سوائے اور مخلوقات کی تسبیح زبان حال سے ہے ‘ زبان قال سے نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سوائے جنات اور انسان کے اور مخلوقات کی تسبیح میں کسی طرح کی گویائی نہیں ہے بلکہ یہ مخلوقات اللہ تعالیٰ کے حکم کی جو تابع ہے اس مخلوقات کی یہی حالت اس کی تسبیح ہے ‘ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(آیت نمبر (41
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے ‘ تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( الم تران اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض) ” کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “ یعنی تمام حیوانات و جمادات ( والطیر ضفت) اور وہ پرندے ( جو آسمان میں) اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ( کل) ” ہر ایک نے ‘ یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ( قد علم صلاتہ و تسبیحہ ) ” جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔ “ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی ‘ اس کی حسب حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
قول باری ہے : (الم تران اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں تسبیح اللہ کی ذات کو ان تمام صفات سے پاک کرنے کا نام ہے جو اس کی شایان شان نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ تمام مخلوقات اس کی ذات پر دلالت کی جہت سے اس کی تنزیہہ کرتی ہیں۔ اور اللہ کے فرمانبردار ارباب عقول اعتقاد کی جہت سے نیز اس کی شایان شان صفات بیان کرکے اور ناپسندیدہ صفات کی نفی کرکے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔
قول باری ہے : (قل قد علم صلاتہ وتسبیحہ) ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی نمازوں کو جانتا ہے جو ان میں سے…
Read the full tafseer →92 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس ارشاد سے اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ سب کی واپسی اللہ ہی کی طرف ہوگی اور بالآخر سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے۔ مانے یا نہ مانے۔ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ اور ہر کسی کو لوٹ کر اللہ پاک کے پاس بہرحال جانا ہے تاکہ وہاں پہنچ کر وہ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپورصلہ و بدلہ پاس کے جس کے بعد کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کو جنت کی سدابہار اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ اور ناکام ہونے والے بدبختوں کو دوزخ میں جانا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، تخلیق الٰہی کے نمونے اور منافقین کارویہ
تشریح : ان آیات میں اللہ کی حاکمیت کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر غور کریں تو آسمان و زمین اور تمام چرند پرند اللہ کی موجودگی اور حاکمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ ہر پرندہ اور ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ جو طریقہ اللہ نے اس کو سکھا رکھا ہے اس کے مطابق تسبیح کر رہی ہے۔ پھر بادلوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ بادل ‘ ہوائیں ‘ بارش اور اولے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام اور ایک بہت بڑی حکمت کے تحت وجود میں آتے ہیں انسان لاکھ ترقی کرلے زور لگا لے یہ نظام نہ پیدا کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
عظمت الہی اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل کس قدر واضح اور آنکھوں کے سامنے ہیں کیا تو انہیں دیکھتا اے مخاطب کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اور ہر وجود اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور یہ فضا میں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے غول مفسرین کرام کے مطابق ہر ایک کا ذکر دو طرح سے ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
اول ہر انسان کے سمجھنے کے لیے کہ ارض وسما میں اللہ جل جلالہ نے جو چیز پیدا فرما کر جس کام پر لگا دی وہ سرمو اس سے انحراف نہیں کرتی اور پوری پوری طرح وہ فریضہ انجام دے رہی ہے جو تخلیقی طور پر اللہ نے اس کے ذمہ لگا دیا ہے یا جس کام کے لیے اللہ جل جلالہ نے اسے پیدا فرمایا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
7 ۔ یعنی ان کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک چیز بنا دیتا ہے۔ 8 ۔ جیسے چھلنی کے سوراخوں میں سے کوئی چیز ٹپکتی ہے۔ 9 ۔ یعنی اس کی تیز روشنی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔
Read the full tafseer →(24:42) ملک۔ بادشاہی۔ مضاف السموت والارض۔ مضاف الیہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت۔ المصیر۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا۔ صار یصیر صیر وصیرورۃ ومصیر (باب ضرب) مصدر۔ لہٰذا المصیر مصدر بھی ہے اور اسم ظرف مکان بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن : آیت نمبر 41 تا 46 :
صفت (صافۃ) (صفیں بنانے والے۔ پر پھیلانے والے) ‘ یزجی (ازجائ) وہ ہانکتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ یئولف (ملادیتا ہے) ‘ رکاما (تہہ در تہہ ایک کے اوپر دوسرا) ‘ الودق (بارش) ‘ خلال (درمیان) ‘ برد (اولے۔ برف) ‘ یصرف (وہ پھیر دیتا ہے۔ پلٹا دیتا ہے) ‘ مسنا (چمک) ‘ یقلب (وہ بدلتا ہے) اولی الا بصار (آنکھوں والے۔ عقل رکھنے والے) ‘ دابۃ (جان دار۔ زمین پر رینگنے والا) ‘ بطن (پیٹ) رجلین (دونوں پاؤں ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 :
اس سے پہلے آیات میں نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ اس کائنات میں صرف ایک اللہ کا نور ہدایت ہے جس کی روشنی اور رہنمائی میں سارا نظام کائنات چل رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
تمام مخلوق کی یاد الٰہی کا ذکر۔
(ف 1) مجاہد کے قول کے موافق نماز کا حکم انسان کے حق میں ہے قرآن شریف میں تسبیح کا ذکر بعض جگہ ، تسبیحہ کے لفظ سے ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی کل چیزیں اپنی اپنی زبان میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی ہیں اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز اللہ کے رسول کا گزر دوقبروں پر ہوا۔ اور آپ نے فرمایا کہ ان دونوں قبروں میں جو مردے دفن ہیں ان پر عذاب قبر ہورہا ہے یہ فرماکر آپ نے ایک ہری ٹہنی درخت کی لی اور اس کی دوشاخیں کیں اور یہ دونوں شاخیں ان دونوں کی قبروں پر لگا کر فرمایا کہ جب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
[49] یہ مثال ان کافروں کی ہے جو سرے سے ملحد یا لامذہب ہیں اور جنہیں کوئی وہمی سہارا بھی آخرت کا حاصل نہیں۔ وہ جہل و کفر کی تاریکیوں میں پڑے غوطے کھا رہے ہیں اور ان کے پاس روشنی کی اتنی بھی چمک نہیں جتنی سراب پر دھوکہ کھانے والے کو نظر آتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کامل جہالت کی حالت میں بسر کر رہے ہیں خواہ دنیا کی اصطلاحوں میں علامہ دوراں اور دنیوی علوم و فنون کے ماہر ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے نزدیک سائنس اور ٹیکنالوجی، معاشیات اور مالیات، قانون اور فلسفے کا نام علم ہے مگر حقیقی علم یعنی
معرفت حق کی انھیں ہوا تک نہیں لگی ہے اور اس اعتبار سے وہ جاہل محض ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(ف 1) (آیت) ” کل قد علم صلاتہ “۔ یعنی کائنات کا ہر ذرہ خدا کی تسبیح و ستائش میں مصروف ہے اور کوئی چیز نہیں جو اس کے ماتحت اور مسخر نہ ہو ، آسمان و زمین کے تمام حقائق اس کے عتبہ جلال کے سامنے جھکتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں ، مگر سجدہ اور نیاز مندی کے طریقے مختلف ہیں ، ہر شے اپنی فطرت اور ساخت کے مطابق اپنے فرائض کو ادا کر رہی ہے ، اور نہایت استقلال سے نیاز مندی ہے اور بندگی کا ثبوت دے رہی ہے ۔
حل لغات :
یزجی : جلاتا ہے ہنکاتا ہے ۔ اصل میں ازجا کے معنے سہولت وآسانی سے چلانے کے ہیں ۔
الودق : ہلکی ہلکی بارش ۔
Read the full tafseer →(42) اور اللہ تعالیٰ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی طرف سب کی بازگشت ہے یعنی جس طرح اس کا علم سب کو محیط ہے اسی طرح اس کی حکومت بھی سب پر قائم ہے یہ حکومت اب بھی قائم ہے اور آخرت میں بھی حاکمانہ تصرف اسی کا ہوگا آگے اس حاکمانہ تصرف کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
ف 2۔ پس ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ اتباع احکام الہیہ کا ارادہ کرتے، تو اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لئے بڑہتا چلا جاتا ہے اور وہ ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
Read the full tafseer →آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے :
70۔ آسمان و زمین کی حکومت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ واقتدار میں ہے اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے اور وہی اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ اس نور سے کس نے فائدہ اٹھا یا اور کون ہے جو اعراض ہی کرتا رہا بلاشبہ مالک ہرچیز کا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کی حکومت وملکیت ہے اور وہی اس پوری کائنات کا منتظم ومالک ہے ۔ زیر نظر آیت کی وضاحت پیچھے سورة البقرہ کی آیت 107 ‘ 247 ‘ 251 ‘ 258 ‘ سورة آل عمران کی آیت 189 ‘ سورة النساء کی آیت 52 ‘ سورة المائدہ کی آیت 17 ‘ 18 ‘ 40 ‘ 120 ‘ سورة الانعام آیت 73 ‘ سورة الاعراف آیت 108 ‘ سورة التوبہ آیت 116 ‘ سورة یوسف آیت 101…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
Commentary
كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ (Everyone knows one's own (way of) praying - 41). In the beginning of the verse it is said that every creature on earth and heavens and in between them is busy in the glorification and sanctification of Allah Ta’ ala. The meaning of Tasbih is explained by Sufyan (رح) that Allah Ta’ ala has created everything in this universe like earth, heavens, sun, moon, stars, water, fire, air or sand with purpose, and they are all performing all the time the task they are assigned. They cannot refuse to perform their assigned job. This obedience and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
72. This parable describes the condition of all the disbelievers and the hypocrites including those who perform good deeds for ostentation. It is being stated that such people are passing their life in a state of absolute and complete ignorance, whether they are the most learned people in the world and leaders in their respective fields of learning. They are like the man who is lost in complete darkness where no ray of light can reach him. They think that knowledge merely consists in producing atom bombs, hydrogen bombs, supersonic planes and moon rockets, or in attaining excellence in…
Read the full tafseer →