Explained with ayahs 39–40
دو قسم کے کافر
یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورة بقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورة رعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ فالحمد للہ یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 70
یعنی اس تعلیم حق کو بصدق دل قبول کرنے سے انکار کردیا جو اللہ کی طرف سے اس کے پیغمبروں نے دی ہے اور جو اس وقت اللہ کے پیغمبر سیدنا محمد ﷺ دے رہے تھے۔ اوپر کی آیات خود بتارہی ہیں کہ اللہ کا نور پانے والوں سے مراد سچے اور صالح مومن ہیں۔ اس لیے اب ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی حلت بتائی جا رہی ہے جو اس نور کو پانے کے اصلی اور واحد ذریعے، یعنی رسول ہی کا ماننے اور اس کا اتباع کرنے سے انکار کردیں، خواہ دل سے انکار کریں اور محض زبان سے اقراری ہوں یا دل اور زبان دونوں ہی سے انکاری ہوں۔
سورة النُّوْر 71
اس مثال میں ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جو کفر و نفاق کے باوجود بظاہر کچھ نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
اور پھر فرمایا وَيَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ یعنی صرف جزاء عمل دینے پر اکتفا نہیں ہوگا بلکہ اپنی طرف سے مزید انعامات بھی ان کو ملیں گے واللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، یعنی اللہ تعالیٰ نہ کسی قانون کا پابند ہے نہ اس کے خزانے میں کبھی کمی آتی ہے وہ جس کو چاہے بےحساب رزق دیدیتا ہے۔ یہاں تک مومنین صالحین جن کے سینے نور ہدایت کے مشکوة ہوتے ہیں اور جو نور ہدایت کو خاص طور سے قبول کرتے ہیں ان کا ذکر تھا۔ آگے ان کفار کا ذکر ہے جن کی فطرت میں تو اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت کا مادہ رکھا تھا مگر جب اس مادہ کو روشن کرنے والی وحی الہی ان کو پہنچی تو اس سے روگردانی اور انکار کر کے نور سے…
Read the full tafseer →ایمان اور حاملین ایمان کے ایمان و عمل کی تمثیل بیان کرنے کے بعد یہ کفر اور اہل کفر کے ظاہرو باطن کی تمثیل بیان ہو رہی ہے کہ ادھر جس درجے کی روشنی ہوتی ہے ادھر اسی درجے کی تاریکی ہوتی ہے۔ اہل ایمان کی تمثیل میں پہلے موثر یعنی ایمان کو نمایاں فرمایا تھا اس کے بعد اثر یعنی علم کو اور اہل کفر کی تمثلہ میں پہلے اثر کو نمایاں فرمایا ہے، اس کے بعد موثر کو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایک گہری حقیقت ہے جس کی جڑیں انسانی فطرت کے اعماق کے اندر اتری ہوئی ہوتی ہیں اور درحقیقت اسی کی بابرکت اثرات و ثمرتا ہوتے ہیں جو زندگی کے اعمال و اخلاق میں نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کفر گھور سے پر اگے ہوئے ایک درخت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38-1قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کی نیکیوں کا بدلہ (کئی کئی گنا) کی صورت میں دیا جائے گا اور بہت سوں کو بےحساب ہی جنت میں داخل کردیا جائے گا اور وہاں رزق کی فروانی جس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →35: ریگستان میں جو ریت چمکتا نظر آتا ہے، دور سے وہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ پاپنی ہو، اسے ”سراب“ کہتے ہیں۔ جس طرح سفر کرتے ہوئے آدمیوں کو سراب دھوکا دیتا ہے کہ وہ اسے پانی سمجھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ کچھ بھی نہیں ہوتا، اسی طرح کافر لوگ جو عبادت نیکی سمجھ کر کرتے ہیں، وہ سراب کی طرح ایک دھوکا ہے۔
36: یہ مثال ان کافروں کی ہے جو آخرت کو مانتے ہیں، لیکن توحید اور رسالت کے منکر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن اعمال کے بارے میں یہ کافر لوگ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ ان کو آخرت میں فائدہ پہنچائیں گے، مرنے کے بعد انہیں اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا پورا پورا حساب دنیا میں چکا کر انہٰیں سزا کا مستحق قرار دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
(فی بیوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والاصال رجال ۔۔۔۔۔۔۔ والابصار لیجز یھم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر حساب ) (36 تا 83)
یہاں اللہ کے نور کی تمثیل اور ان گھروں کی تمثیل میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ قرآن کریم کے انداز بیان کافی کمال ہے۔ طاق کے اندر چراغ روشن ہے اور گھروں کے اندر دل مومن روشن ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان مشاکلت ہے۔
یہ گھر ایسے ہیں کہ اللہ نے حکم دینا ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعمیر کی جائے۔ ان کو بلند کرنے کے اذن سے مراد ان کو تعمیر کرنے کا حکم دینا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں۔ چناچہ یہ گھر قائم کردیئے گئے ہیں ‘ بلند ہیں اور پاک اور ستھرے ہیں۔ ان کا منظر اس کائنات کے منظر لے مشابہ ہے…
Read the full tafseer →9 کافر دو قسم کے ہیں ایک وہ جو اپنے زعم اور عقیدہ کے موافق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کام آئیں گے۔ حالانکہ اگر کوئی کام بظاہر اچھا بھی ہو تو کفر کی شامت سے وہ عند اللہ مقبول و معتبر نہیں۔ ان فریب خوردہ کافروں کی مثال ایسی سمجھو کہ دوپہر کے وقت جنگل میں ایک پیاسے کو دور سے پانی دکھائی دیا اور وہ حقیقت میں چمکتی ہوئی ریت تھی۔ پیاسا شدت تشنگی سے بیتاب ہو کر وہاں پہنچا، دیکھا تو پانی وانی کچھ نہ تھا، ہاں ہلاکت کی گھڑی سامنے تھی اور اللہ تعالیٰ عمر بھر کا حساب لینے کے لیے موجود تھا، چناچہ اسی اضطراب و حسرت کے وقت اللہ نے اس کا سب حساب ایک دم میں چکا دیا۔ کیونکہ وہاں حساب…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ”
یعنی اگر کسی شخص کا دل حقیقی ایمان سے محروم ہے تو خدمت خلق کے میدان میں اس کے کارناموں اور دوسرے نیک کاموں کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔ ایسی نیکیاں تو گویا سراب دھوکہ ہیں۔ جیسے صحرا میں ایک پیاسا شخص سراب چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے اعمال کو نیکیوں کا ڈھیرسمجھتے ہیں ‘ لیکن روز حساب ان پر اچانک یہ حقیقت کھلے گی کہ ان کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں شرف قبولیت نہیں پاسکا۔ سورة ابراہیم کی آیت 18 میں ایسے لوگوں کے اعمال کو راکھ کے اس ڈھیر سے تشبیہہ دی گئی ہے جو تیز آندھی کی زد میں ہو۔
اس سلسلے کی دوسری مثال ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کی…
Read the full tafseer →65 سراب اور شراب کا لغوی فرق : عربی زبان میں ہر مشروب یعنی پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں اور جو چیز بظاہر تو شراب نظر آئے مگر حقیقت اس کے برعکس ہو اسے سراب کہتے ہیں۔ پھر اس لفظ کا استعمال اس تودہ ریت پر ہونے لگا جو دور سے ایک خاص زاویہ سے سورج کی روشنی میں ٹھاٹھیں مارتا پانی نطر آتا ہے مگر حقیقتاً وہاں پانی وانی کچھ نہیں ہوتا۔
عام کافروں اور منافقوں کی مثال : یہ مثال ایسے کافروں اور منافقوں سے تعلق رکھتی ہے جو فی الجملہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ نیک اعمال بھی بجا لاتے ہیں۔ خواہ وہ نمودو نمائش کے لئے ہوں پھر انھیں یہ توقع بھی ہوتی ہے کہ آخرت میں انھیں ان کا اجر ملے گا۔ اور چونکہ ان کے…
Read the full tafseer →89۔ یعنی تڑپ کر پیاس سے مرگیا۔ یہ مثال ان کافروں، منکروں کی ہے جو اپنے اپنے باطل مذہب پر قائم، اپنے زعم میں عمر بھراعمال صالحہ میں لگے رہے اور جزائے آخرت کے امیدوار۔ ان بدنصیبوں کی آخری مایوسی کی شدت کا کیا ٹھکانا ہے کہ جب حقیقت کا انکشاف ہوگا تو ان کے دل خوش کن امیدیں کچھ بھی کام نہ دیں گی، اور غایت تحسر کے ساتھ انہیں قعر ہلاکت میں گرنا ہوگا۔
90۔ یعنی عمر کا خاتمہ کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے یعنی ان دونوں کو شمس و قمر کے ذریعہ منور کرنے والا ہے اور اس کے نور کی مثال یعنی اس کی صفت قلب مومن میں ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہے زُجَاجَۃٌ بمعنی قندیل اور المصباح بمعنی چراغ یعنی جلتی ہوئی بتی (شعلہ) اور المشکوٰۃ بمعنی طاق جو آرپار نہ ہو یعنی قندیل کی نلکی (پائپ) اور وہ قندیل حال یہ کہ اس میں نور ہو ایسا ہے جیسا کہ روشن ستارہ دال کے کسرہ کے ساتھ اور دال کے ضمہ کے ساتھ (اس وقت) دَرْءٌ سے مشتق ہوگا اور معنی دفع کرنے کے ہوں گے اس کے تاریکی کو دفع کرنے کی وجہ سے، اور دال کے ضمہ اور یا کی تشدید…
Read the full tafseer →والذین کفروا اعمالہم کسراب بقیعۃ یحسبہ الظمان مآء حتی اذا جآء ہ لم یجدہ شیئا
اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے کسی چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کہ پیاسا (آدمی دور سے) اس کو پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچا تو اس کو (اپنے گمان کے موافق) کچھ بھی نہ پایا۔
یعنی کافروں کے اعمال (قیامت کے دن) ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے ‘ کیونکہ وہ سراب کی طرح (بےحقیقت) ہوں گے۔ سراب اس سفید ریت کو کہتے ہیں جو ریگستانی میدان میں دوپہر کے وقت دھوپ میں آب رواں کی طرح دور سے نظر آتی ہے۔
قیعہ اور قاع (مفرد) ہموار میدان اس کی جمع قیعان آتی ہے اور قونع صیغۂ تصغیر ہے۔ بعض کے نزدیک قیعۃٌ اور…
Read the full tafseer →(39) اور جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ کفر کیا تو ان کے اعمال کی آخرت میں یہ حالت ہوگی کہ جیسے ایک چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت کہ پیاسا آدمی اس کو دور سے پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب دوڑتا ہوا اس کے پاس اپنے گناہوں کی سزا پائے گا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے عذاب کے لیے مستعد پائے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو پوری پوری سزا دے دی اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے یا یہ کہ جس کی میعاد آجاتی ہے تو پل بھر میں اس کے حساب کا فیصلہ کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۢ۔۔ : ”سَرَابٌ“ چٹیل میدان یا ریگستانی صحرا میں دوپہر کے وقت سورج کی روشنی کی وجہ سے دور سے ایسا نظر آتا ہے جیسے پانی لہریں مار رہا ہو، اسے ”سراب“ کہتے ہیں، جو محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔ ”قِیْعَۃٌ“ اور ”قَاعٍ“ دونوں کا معنی چٹیل میدان ہے۔ ”الظَّمْاٰنُ“ ”فَعْلَانُ“ کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے، معنی ہے سخت پیاسا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کے دل میں ہدایت کے نور کی مثال بیان فرمائی، اب کفار کے اعمال کے لیے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں، جیسا کہ سورة بقرہ میں منافقین کے لیے آگ اور پانی کی مثال بیان فرمائی اور سورة رعد میں اس ہدایت اور علم کی جو دلوں میں جاگزین…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ (اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے اعمال سراب کی طرح ہیں) سراب دوپہر کے وقت چلچلاتی دھوپ میں چمکتی ہوئی ریت جو پانی کا سیلاب معلوم ہوتا ہے۔ بِقِیْعَۃٍ یہ قاع یا بقاع کی جمع ہے ہموار میدان جیسا کہ جیرۃ وجار۔ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ (گمان کرتا ہے اس کو پیاسا) مَآ ئً حَتّٰٓی اِذَا جَآ ئَ ہٗ (پانی یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے) یعنی وہ اس کی طرف آیا جس کو اس نے پانی خیال کیا۔ لَمْ یَجِدْہٗ شَیْئًا (اس نے کچھ بھی نہ پایا) جیسا اس نے گمان کیا۔ وَّ وَجَدَاللّٰہَ (اور اس نے اللہ تعالیٰ کو پایا) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے بدلے کو پایا جیسا کہ دوسرے مقام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت والذین کفروا اعمالہم کسراب کے بارے میں روایت کیا کہ وہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک پیاسے آدمی کے لیے بیان فرمائی جس کی پیاس سخت ہوجاتی ہے وہ سیراب کو دیکھتا ہے اور اسے پانی گمان کرتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ وہ اس پر قادر ہوجائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے پاس آتا ہے جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو وہاں کوئی چیز نہیں پاتا تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اسی وقت وہ کافر کہتا ہے۔ اس کا عمل اسے فائدہ دے گا جبکہ وہ کسی حالت پر نہ ہوتا یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے جب اس کے پاس موت آتی ہے تو وہ اپنے عمل کو نہیں پاتا کہ اس کے کچھ کام آئے اور نہ اس کو نفع دے گا جیسے سخت…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنہوں نے ] كَفَرُوْٓا [ انکار کیا (معرفت رب کا)] اَعْمَالُهُمْ [ ان کے اعمال ] كَسَرَابٍۢ بِقِيْعَةٍ [ ریتیلے میدانوں میں ایک سراب کی مانند ہیں ] يَّحْسَبُهُ [ سمجھتا ہے اس کو ] الظَّمْاٰنُ [ پیاسا ] مَاۗءً ۭ [ پانی ] حَتّيٰٓ [ یہاں تک کہ ] اِذَا جَاۗءَهٗ [ جب وہ آتا (یعنی پہنچتا ( ہے اس کے پاس ] لَمْ يَجِدْهُ [ تو وہ نہیں پاتا اس کو ] شَـيْــــًٔـا [ کوئی چیز ] وَّ وَجَدَ [ اور وہ پاتا ہے ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] عِنْدَهٗ [ اس کے پاس (یعنی وہاں)] فَوَفّٰىهُ [ تو وہ پورا پورا چکا دیتا ہے اس کو ] حِسَابَهٗ ۭ [ اس کا حساب ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] سَرِيْعُ الْحِسَابِ […
Read the full tafseer →کافروں کے اعمال ریت کی طرح سے ہیں جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے
اہل ایمان کے اعمال کی جزا بتانے کے بعد کافروں کے اعمال کا تذکرہ فرمایا اور آخرت میں ان کے منافع سے محرومی ظاہر کرنے کے لیے دو مثالیں ظاہر فرمائیں۔ کافر لوگ دنیا میں بہت سے اعمال کرتے ہیں۔ مثلاً صلہ رحمی بھی کرتے ہیں۔ جانوروں کو کھلاتے ہیں،
چیونٹیوں کے بلوں میں آٹا ڈالتے ہیں مسافر خانے بناتے ہیں کنویں کھدواتے ہیں اور پانی کی سبیلیں لگاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے موت کے بعد فائدہ پہنچے گا ان کی اس غلط فہمی کو واضح کرنے کے لیے دو مثالیں ذکر فرمائیں۔ پہلی مثال یہ کہ ایک شخص پیاسا ہو وہ دور سے سراب یعنی ریت کو دیکھے اور اسے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
اعمال کفار کی دو مثالیں
قال اللہ تعالی۔ والذین کفروا اعمالہم کسراب۔۔۔ الی۔۔۔ فما لہ من نور۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے نور ہدایت کی مثال بیان فرمائی اور اس کو نور علیٰ نور فرمایا۔ اب آئندہ آیات میں کافروں کے مظالم اور تاریک اعمال کی دو مثالیں بیان فرماتے ہیں جو ظلمات پر ظلمات اور اندھیرے پر اندھیرا ہیں۔ کافر دو قسم کے ہیں ایک قسم تو وہ ہیں کہ جو معاد کے قائل ہیں اور اپنے زعم کے مطابق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد یہ اعمال ہمارے کام آئیں گے اور دوسری قسم کافروں کی وہ ہے کہ جو معاد اور جزا اور سزا کے منکر ہیں اور دنیاوی لذات وشہوات میں غرق ہیں ان…
Read the full tafseer →44:۔ ” والذین کفروا الخ “ یہ دلیل نقلی مذکور پر ایک شب ہے کا جواب ہے دلیل مذکور پر شبہہ وارد ہوتا تھا کہ دونوں کی عبادت اور پکار میں زمین و آسمان کا فرق ہے مسلمان صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرتے اور صرف اسی کو پکارتے ہیں اور اس کی عبادت و دعا میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اس کے برعکس مشرکین اللہ کی عبادت کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کے سوا اپنے کود ساختہ معبودوں کو بھی کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں اس لیے ان کے تمام اعمال بےسود اور رائیگاں ہیں۔ مشرکین کے اعمال دو قسم کے ہیں۔ اول وہ جو بظاہر اچھے ہیں مگر حقیقت میں بےفائدہ ہیں جیسا کہ مشرکین خیرات کرتے، سرائیں اور مسافر خانے بنواتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں نور ہدایت کی مثال بتائی جو مومن کے دل میں ہوتا ہے اور پھر اوپر سے قرآن وسنت کی روشنی مل کر اس نور کو کئی گناہ بڑھا دیتی ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مساجد کے متعلق فرمایا کہ مذکورہ نور ہدایت زیادہ تر انہی گھروں میں ملتا ہے۔ اللہ نے ان گھروں کو بلند رکھنے اور ان میں کثرت سے اس کا ذکر کرنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے اہل ایمان کی تعریف بیان کی کہ وہ ان پاکیزہ گھروں میں صبح اور پچھلے پہر اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اور وہ ایسے مرد ہیں کہ جن کی تجارت انہیں ذکر الٰہی ، اقامت صلوٰۃ اور ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتی ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں قیامت کا خوف ہے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَعْمَالُہُمْ كَسَرَابٍؚبِقِيْعَۃٍ يَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَاۗءً 0ۭ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَہٗ لَمْ يَجِدْہُ شَـيْــــًٔـا وَّوَجَدَ اللہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰىہُ حِسَابَہٗ 0ۭ وَاللہُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ 39ۙ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ترکیب : بقیعۃ موضع جر میں سراب کی صفت یحسبہ بھی سراب کی صفت قیعۃ جمع قاع ای فی فلاۃ والیاء فی قیعۃ بدل من واولسکونھا و انکسار ماقبلھا لانھم قالوا فی قاع اقوع او کظلمات معطوف ہے سراب پر تقدیرہ اوکاعمال ذی ظلمات فیقدرذی لیعودالضمیر من قولہ اذا اخرج یدہ الیہ ویمکن ان یقال لاحذف فیہ والمعنی انہ شبہ اعمال الکفار بالظلمۃ فی حیا تھا بین القلب و بین مایھتدی الیہ، فی بحر صفت، لظلمات لجی نسبۃ الی اللج ای ذی لجۃ یغشاہ صفۃ اخری۔
تفسیر : اس نور اور نورانی لوگوں کے بعد ظلمت اور ظلمانی لوگوں کا حال بھی تشبیہ میں بیان فرمایا جاتا ہے۔
فقال والذین کفروا الخ کہ کافروں کے اعمال جن کو وہ نیک اور وسیلہ آخرت سمجھ…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ م بِقْیِعَۃٍ بَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَـآئً ط حَتّٰیٓ اِذَا جَـآئَ ہٗ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا وَّوَجَدَاللّٰہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰـہُ حِسَابَہٗ ط وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (النور : 39)
(اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے دشت بےآب میں چمکتی ہوئی ریت، جس کو پیاسا پانی گمان کرتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کے قریب آئے گا تو وہاں کچھ نہ پائے گا البتہ اپنے پاس اللہ کو پائے گا، پس وہ اس کا حساب چکا دے گا اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔ )
اہلِ کفر کی تمثیل
اب تک ان مومنین صالحین کا ذکر تھا جن کے سینے نورہدایت کے مشکوٰۃ ہوتے ہیں اور جو نور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : صالح کردار اور بہتر انجام پانے والے نیک لوگوں کے ذکر کے بعد کفار کا تذکرہ۔
جن لوگوں نے توحید و رسالت اور آخرت کا انکار کیا بیشک وہ جس قدر اچھے اخلاق اور بہتر کردار کے حامل ہوں۔ ان کے اعمال کی مثال چٹیل میدان میں سراب کی مانند ہے۔ جسے پیاسا آدمی دور سے ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی سمجھتا ہے جب پیاس بجھانے کے لیے اس کے پاس جاتا ہے تو تھکاوٹ اور مایوسی کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا یہی حال قیامت کے دن کافر اور مشرک کا ہوگا، جو دنیا میں یہ سمجھ کر فلاح و بہبود کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتا رہا کہ اسے موت کے بعد بھی فائدہ پہنچے گا۔ لیکن عقیدہ توحید صحیح نہ ہونے، نبی آخر الزماں ﷺ…
Read the full tafseer →کفار کے اعمال کی دو مثالیں :
39: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ (اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے اعمال سراب کی طرح ہیں) سراب دوپہر کے وقت چلچلاتی دھوپ میں چمکتی ہوئی ریت جو پانی کا سیلاب معلوم ہوتا ہے۔ بِقِیْعَۃٍ یہ قاع یا بقاع کی جمع ہے ہموار میدان جیسا کہ جیرۃ وجار۔ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ (گمان کرتا ہے اس کو پیاسا) مَآ ئً حَتّٰٓی اِذَا جَآ ئَ ہٗ (پانی یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے) یعنی وہ اس کی طرف آیا جس کو اس نے پانی خیال کیا۔ لَمْ یَجِدْہٗ شَیْئًا (اس نے کچھ بھی نہ پایا) جیسا اس نے گمان کیا۔ وَّ وَجَدَاللّٰہَ (اور اس نے اللہ تعالیٰ کو پایا) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے…
Read the full tafseer →39۔ والذین کفروا اعمالھم کسراب بقیعہ، ، سراب اس ریت کو کہتے ہیں کہ جو ریگسانی میدان میں دوپہر کے وقت دھوپ میں آب رواں کی طرح دور سے نظر آتی ہے۔ اس کو تشبیہ دی ہے جاری پانی کے ساتھ جیسے دور سے نظرآتی ہے اس کو تشبیہ دی ہے جاری پانی کے ساتھ جیسے دور سے اس ریت کو دیکھنے والے کو پانی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ اس کے قریب پہنچتا ہے تو کوئی پانی نہیں ہوتا۔ قیعہ ، اور قاع ہموار میدان کو کہتے ہیں اس کی جمع قیعان آتی ہے۔ یحسبہ الظمان، پیاسا شخص یہ گمان کرتا ہے۔ ماء حتی اذاجاء ہ وہ اس کو گمان کرتا ہے کہ یہ پانی ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ موضع سیراب میں آئے۔ لم یجدہ شیئا، یعنی گمان کے مطابق ا س کو کچھ نہ ملے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 40:۔ عالم ارواح میں جن لوگوں نے نور ہدایت کا حصہ پایا ‘ اوپر ان کے نیک عملوں کا ذکر تھا کہ قیامت کے دن ان کے نیک عملوں کا اچھا بدلہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے لوگوں کو کچھ زیادہ بھی دیوے گا جو نیک عملوں کی جزا سے بڑھ کر ہوگا اب ان آیتوں میں ان لوگوں کے عملوں کی دو مثالیں بیان فرمائی جو عالم ارواح میں نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہے ‘ پہلی مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی پیاسا مسافر دوپہر کی دھوپ میں جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کو دور سے پانی کی ندی خیال کرتا ہے ‘ اور جب اس ریت کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پانی کا پتہ بھی نہیں ہوتا ‘ آخر وہ پیاسا مرجاتا ہے ‘ اسی طرح یہ مشرک لوگ جن اچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
(آیت نمبر (36
یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے (فی بیوت) ” گھروں میں “ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں۔ (اذن اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے (ان ترفع ویذ کر فیھا اسمہ) ” کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔ “ ان دو امو میں مساجد کے احکام جمع کردیے گئے ہیں۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر ‘ ان میں جھاڑ و دینا ‘ ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا ‘ ان کو بچوں اور فاتراعقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے ‘ کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغو یات اور ذکر الہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
بلندی ذکر کی تشریح
قول باری ہے : (فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو والاصال رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیح عن ذکراللہ واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ) اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے، ان میں ایسے لوگ صبح وشام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز وادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی ۔ ایک قول کے مطابق آیت کے معنی ہیں ” وہ چراغ جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
85 ایمان والوں کے لیے آخرت کے بہترین بدلے کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے سچے ایماندار جو کچھ کرتے ہیں آخرت کے اندیشے کی بنا پر اور اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان کو نوازے انکے اعمال کے بہترین بدلے سے کہ ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا اور اس سے بھی بڑھ کر سات سو گنا تک اور اس سے بھی زیادہ اور پھر ان کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازے گا جو نہ کہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں گی نہ کسی کان نہ سنی ہوں گی اور نہ کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا ہوگا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور دیدار الہی کے شرف سے سرفرازی کی جو معنوی اور روحانی نعمتیں انکو حاصل ہوں گی وہ ان سب سے کہیں بڑھ کر ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
اللہ کو نہ ماننے والوں کے اعمال ؟
تشریح : ان آیات میں کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے دور سے ریت پیاسے کو پانی دکھائی دیتی ہے، حالانکہ وہ پانی نہیں ہوتا بلکہ ایسے ہی برے اعمال دور سے اچھے دکھائی دیتے ہیں مگر اصل میں وہ سوائے دھوکے کے اور کچھ نہیں ہوتے سچ اور حق تو اللہ ہی ہے وہ حساب لینے میں کبھی نہ غلطی کرتا ہے نہ بےانصافی سے کام لیتا ہے اور کچھ تو اللہ کے اس قانون کی گرفت میں فوراً آجاتے ہیں۔ کہ ” جو کیا پالیا۔ “ یعنی مکافات عمل کی گرفت۔ اسی طرح کفار کے بداعمال کو ان اندھیروں سے تشبیہ دی گئی ہے جو گہرے سمندر میں تہہ در تہہ لہروں کے نیچے اس صورت میں کہ کالے بادل بھی چھائے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، نور کا معنی ایسی چیز ہے جو از خود ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرنے والی ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ تمام جہانوں میں حقیقی ذاتی اللہ کی ہے جو ہر ہر شے سے ظاہر ہے اور دوسری چیزوں کی روشن اور ظاہر کرنے والی ہے تو یہ نور جو شئے کے معنوں میں آئے گا اس کا اطلاق اللہ کی ذات پر نہ ہوگا بلکہ اس کی طرف سے عطا کی جانے والی روشنی پر ہوگا کہ اصل سارے نور اور روشنی کا مالک اللہ ہے پھر اس کے نور کی اور روشنی بخشنے کی مثال ایسی کہ جیسے کسی طاق میں ایک روشن چراغ اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہو جو شفاف اور ستاروں جیسے چمکدار شیشے کی بنی…
Read the full tafseer →1 ۔ کفروا اوپر مومنوں کے اعمال کی حالت بیان کی ہے اور اب یہاں کفار کے اعمال کی حالت بیان کی جا رہی ہے لہٰذا یہ ایک قصے کا عطف دوسرے قصہ پر ہے۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں منافقین کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ایک پانی کی اور دوسری آگ کی، اور پھر سورة رعد میں اس علم و ہدایت کی آگ اور پانی سے دو مثالیں بیان فرمائیں جو لوگوں کے دلوں میں قرار یاب ہوتا ہے۔ اب یہاں دو قسم کے کفار (ایک لیڈر اور دوسرے ان کے مقلدین) کی دو مثالیں بیان کی جا رہی ہیں ایک سراب اور دوسری ظلمات کی۔ پہلی مثال ان کفار کی ہے جو کفر کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنے اعمال و اعتقادات کو قابل اعتماد سمجھتے ہوئے یہ گمان کرتے ہیں کہ آخرت میں ان…
Read the full tafseer →(24:39) کسراب۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ سراب (شدت گرما میں دوپہر کے وقت) بیابان میں جو پانی کی طرح چمکتی ہوئی ریت نظر آتی ہے اسے سراب کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ بظاہر دیکھنے ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے پانی بہہ رہا ہو۔ پھر اس سے ہر بےحقیقت چیز کو تشبیہ کے طور پر سراب کہا جاتا ہے۔ کسراب۔ سراب کی طرح۔
قیعۃ۔ القیعۃ۔ ہموار میدان ۔ صحرا۔ دشت بےآب۔ کسراب بقیعۃ جیسے میدان میں سراب۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے و سیرت الجبال فکانت سرابا (78:20) اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وہ سراب ہو کر رہ جائیں گے۔
الظمان۔ ظمیء یظما کا مصدر ہے۔ لیکن یہاں بروزن فعلان صیغہ صفت آیا ہے۔ یعنی پیاسا۔ تشنہ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وانک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 40 :
مسکوۃ (طاق) ‘ مصباح (چراغ) ‘ زجاجۃ (شیشہ۔ قندیل) ‘ کو کت (ستارہ) ‘ دری (موتی کی طرح چمک دار) یوقد (روشن کیا جاتا ہے) ‘ زیت (تیل) یضیء (روشن کیا جاتا ہے) ‘ لم تمسس (نہ چھوا ہو) ‘ یضرب (بیان کرتا ہے۔ مارتا ہے) ‘ اذن (اجازت دی ہے) ‘ ترفع (بلند کیا جاتا ہے۔ کیا جائے) ‘ الغدو (صبح) ‘ الاصال (شام) لاتلھی (غافل نہیں کرتی) ‘ بیع (تجارت۔ لین دین) ‘ قیعۃ (قاع) چٹیل کھلا ریت کا میدان) ‘ الظمان (پیاسا) ‘ لجی (گہرپانی) ‘ سحاب (بادل) ‘ لم یکد (قریب نہیں ہے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 40 :
آسمانوں ‘ زمین اور کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ہدایت کا نور موجزن ہے۔ جہاں بھی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
کفار کے نیک عملوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں کافروں کے نیک اعمال کی دومثالیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائیں۔ پہلی مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی پیاسا مسافر دوپہر کی دھوپ گرمی کی شدت میں جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کو دور سے پانی کی ندی خیال کرتا ہے اور جب اس ریت کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پانی کا پتہ بھی نہیں ہوتا، آخر وہ تڑپ کر پیاسا مرجاتا سو خدا نے اس کا پورا پوراحساب کردیا، اور اللہ تعالیٰ جلد حساب کرنے والا ہے، اور اسی طرح یہ مشرک لوگ جن لوگوں کی مورتوں کی پوجا کرکے یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ اپنے پوجا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کرکے ان کو عذاب دوزخ سے بچا…
Read the full tafseer →[48] اس مثال میں ان کافروں کا حال بیان ہوا ہے جو اپنے زعم و عقیدے کے موافق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کام آئیں گے، حالانکہ کوئی کام بظاہر اچھا بھی ہو تو وہ کفر کی شامت سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور معتبر نہیں۔ ریگستان میں دور سے چمکتی ہوئی ریت کو دیکھ کر جس طرح ایک پیاسا اسے پانی کا تالاب سمجھتا ہے اور منہ اٹھائے اس کی طرف دوڑتا چلا جاتا ہے اسی طرح یہ کافر جب منزل موت میں داخل ہوں گے تو ان پر اس حقیقت کا انکشاف ہوگا کہ ان کے لئے وہاں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جس کا فائدہ وہ اٹھا سکیں بلکہ اللہ ان کے کفر اور ان بداعمالیوں کا جو وہ نمائشی نیکیوں کے ساتھ کر رہے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
کفر کی تاریکیاں اور اس کی مثال :
(ف 1) اس سے قبل کی تفصیل تھی یہ بتایا تھا کہ ان گھروں میں اللہ کے نور کا اجالا ہوتا ہے جن کا ادب اور احترام اللہ نے ضروری قرار دیا ہے اور جہاں اس کا نام لیا جاتا ہے اور صبح وشام تسبیح و تقدیس کے ترانے گائے جاتے ہیں ، اور وہ لوگ اس نور سے اپنے سینوں کو بھر لیتے ہیں وہ ذکر ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں ، مگر اپنی عبادت پر مغرور ونازاں نہیں ہوتے بلکہ محاسبہ کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں ،
اس کے بعد یہ بتایا تھا کہ اس نور کے منکرین محض غلط توقعات اور موہوم امیدوں میں الجھے ہوتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ باوجود کفر و انکار کے ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →(39) اور جو لوگ منکر ہیں اور کفر کے خوگر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کہ پیاسا اس کو دور سے پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب وہ پانی سمجھ کر اس پانی کے قریب آیا تو اس پانی کو کچھ بھی نہ پایا اور وہاں پہنچ کر اپنے پاس اللہ تعالیٰ کو حساب لینے کے لئے موجود پایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کا پورا پورا حساب اس کو چکا دیا اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کردینے والا ہے۔
کافر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دوسرے عالم اور دوسری زندگی پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اس اعتقاد کی بنا پر کچھ اچھے اعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں کی خدمت کرنا ، خیرات کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ان کی مثال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 1۔ جزا وہ جس کا وعدہ مفصل ہے اور زیادہ جس کا مفصل وعدہ نہیں۔
Read the full tafseer →اعراض کرنے والوں کے اعمال کی حالت کا بیان :
64۔ (سراب) کیا ہے ؟ جنگل کی ریت کو کہا جاتا ہے جو دوپہر کے وقت سورج کی چمک سے چمکتا ہوا معلوم ہوتا ہے دور سے دیکھنے والا گمان کرتا ہے کہ وہاں پانی بہہ رہا ہے اور خصوصا جب دیکھنے والا خود پانی کی طلب بھی رکھتا ہو اور پیاس سے نڈھال ہوا جا رہا ہو ۔ بڑے بڑے وسیع ریگستانوں خصوصا عرب اور صحرائے افریقہ میں ایسے مواقع دھوپ کے وقت اکثر دیکھنے میں آتے رہتے ہیں اور دریاؤں کے کنارے رہنے والوں کو بھی موسم گرما میں جب بارش نہ ہو رہی ہو اور پانی کی طلب ہو تو دریا کی ریت سے ایسا شبہ ہوتا رہتا ہے ۔ (بقیعۃ) جمع ہے قاع کی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ واحد ہے اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
Toward the end of the verse their reward is described that they shall be graced with the best reward for their actions by Allah Ta’ ala, and then the verse says: وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ (and will give them more out of His grace - 38). It means that their reward will not end with the recompense against the good actions, but some extra reward will also be given on His own وَاللَّـهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (and Allah gives whom He wills without counting - 38), that is neither Allah is bound by any rule nor does His treasure gets depleted. He grants unlimited sustenance to…
Read the full tafseer →70. That is, they refused to accept sincerely the divine message which was brought by the Prophets, and which at that time was being given by the Prophet Muhammad (peace be upon him). These verses clearly show that the truthful and righteous believers only can benefit from Allah’s Light. In contrast to them, the state of those people is being described here, who refused to believe and obey the Prophet (peace be upon him), who was the real and sole means of attaining the Light of Allah.
71. This parable describes the condition of those people who, in spite of disbelief and hypocrisy, practice…
Read the full tafseer →