Explained with ayahs 39–40
دو قسم کے کافر
یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورة بقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورة رعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ فالحمد للہ یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 72
اس مثال میں تمام کفار و منافقین کی حالت بیان کی گئی ہے جن میں نمائشی نیکیاں کرنے والے بھی شامل ہیں۔ ان سب کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی قطعی اور کامل جہالت کی حالت میں بسر کر رہے ہیں، خواہ وہ دنیا کی اصطلاحوں میں علامہ دہر اور علوم و فنون کے استاذ الاساتذہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی جگہ پھنسا ہوا ہو جہاں مکمل تاریکی ہو، روشنی کی ایک کرن تک نہ پہنچ سکتی ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اور آواز سے تیز رفتار طیارے، اور چاند تک پہنچنے والی ہوائیاں بنا لینے کا نام علم ہے۔ ان کے نزدیک معاشیات اور مالیات اور قانون اور فلسفے…
Read the full tafseer →دونوں مثالیں بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ ، یہ جملہ کفار کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسا مومنین کے بارے میں یہ ارشاد ہوا تھا يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ کفار کے لئے اس جملہ میں نور ہدایت سے محرومی کا ذکر ہے کہ انہوں نے احکام الہیہ سے انحراف کر کے اپنا فطری نور بھی فنا کرلیا اب جبکہ اللہ کے نور ہدایت سے محروم ہوگئے تو نور کہاں سے آئے۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی شخص محض اسباب علم و بصیرت جمع ہونے سے عالم مبصر نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے آدمی جو دنیا کے کاموں میں…
Read the full tafseer →بحریحی گہرے سمندر کو کہتے ہیں لج سمندر کا وہ حصہ جہاں پانی سب سے زیادہ گہرا ہو۔ لجی اسی کی طرف نسبت ہے۔
کفار کی ذہنی تاریکی کی تمثیل
اوپر والی آیت میں اہل کفر کے اعمال کی مثال تھی۔ اب یہ ان کی ذہنی تاریکی کی تمثیل ہے کہ وہ خدا کو نہ ماننے یا صحیح طور پر نہ ماننے کے سبب سے ایک گھٹا ٹوپ اندھیرے کے اندر زندگی گزارتے ہیں۔ اس اندھیرے کی مثال یہ ہے کہ گہرا سمندر ہو، رات اندھیری ہو، موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہو اور اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں اور یہ ان تہ بہ تہ تاریکیوں کے اندر گھرے ہوئے ہوں۔ حال یہ ہو کہ اگر ہاتھ بھی نکالیں تو وہ بھی سمجھائی نہ دیتا ہو۔ فرمایا کہ روشنی تو خدا کے ایمان سے حاصل ہوتی…
Read the full tafseer →40-1یعنی دنیا میں ایمان و اسلام کی روشنی نصیب نہیں ہوتی اور آخرت میں بھی اہل ایمان کو ملنے والے نور سے وہ محروم رہیں گے۔
Read the full tafseer →37: یہ ان کافروں کی مثال ہے جو آخرت کو سرے سے مانتے ہی نہیں، اس لیے ان کے پاس اتنا نور بھی نہیں جتنا پہلے گروہ کے پاس تھا کہ کم از کم وہ یہ امید رکھتے تھے کہ ان کے اعمال انہیں آخرت میں فائدہ پہنچائیں گے، لیکن ان لوگوں کے پاس امید کی یہ کرن بھی نہیں ہے۔ اور بعض مفسرین نے دونوں مثالوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کافروں کے اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو وہ نیکی سمجھ کر کرتے ہیں، اور ان سے فائدے کی امید رکھتے ہیں، ان کی مثال تو سراب جیسی ہے، اور ایک وہ اعمال ہیں جو وہ نیکی سمجھ کر نہیں کرتے، ان کی مثال ان اندھیروں کی ہے جن میں روشنی کی کوئی کرن نہیں ہوتی۔ پھر سمندر کی تہہ کا اندھیرا ان کے…
Read the full tafseer →یہاں قرآن کریم نے اہل کفر کی زندگی اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں کی تصویر کشی دو طرح کی ہے۔ یہ دو مشاہد ہیں جو بطور تمثیل دیئے گئے ہیں۔
پہلی تمثیل ہے ان کے اعمال کی۔ یہ اعمال ایسے نظر آتے ہیں جس طرح چٹیل وسعی ریگستان میں سراب نظر آتا ہے۔ یہ سراب ٹیلے پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ پیاسا اس کے پیچھے بھگتا ہے۔ وہ توقع تو یہ کرتا ہے کہ سراب تک پہنچ کر پانی پئے گا لیکن وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر وہ وہاں کیا پانے والاہوتا ہے۔ یہاں منظر میں اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ شخص جو سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے پیاسا ہے ‘ پانی کی تلاش میں ہے۔ اور غافل ہے اس معاملے سے جو اسے پیش آنے والا ہے۔ یہ جب…
Read the full tafseer →10 یعنی سمندر کی تہ میں خود دریا کا اندھیرا، اس پر طوفانی لہریں جو ایک پر ایک چڑھی آتی ہیں۔ پھر سب کو اوپر گھٹا بادل کا اندھیرا، اور رات کا وقت فرض کیا جائے تو ان اندھیریوں میں اور اضافہ ہوجائے گا۔
11 یعنی اپنا ہاتھ اٹھا کر آنکھوں سے قریب کر کے دیکھے تو اندھیرے کی وجہ سے نظر نہ آئے جس کو ہمارے یہاں کہتے ہیں کہ ہاتھ کو ہاتھ نہیں پہنچانتا۔
12 اوپر مومنین کے ذکر میں جو (يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ) 24 ۔ النور :35) فرمایا تھا، یہ جملہ اس کے مقابل ہوا یعنی جس کو خدا تعالیٰ نور توفیق نہ دے اسے اور کون روشنی پہنچا سکتا ہے۔ ان کی استعداد خراب تھی توفیق نہ ملی۔ اور دریا کی تہ میں گر کر…
Read the full tafseer →آیت 40 اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ ط ”
یعنی اندھیری رات ہے ‘ سمندر کی گہرائی میں موج در موج کی کیفیت ہے اور اوپر فضا میں گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ گویا روشنی کی کسی ایک کرن کا بھی کہیں کوئی وجود نہیں۔
ظُلُمٰتٌم بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍط اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰٹہَا ط ”
مطلق تاریکی absolute darkness کی اس کیفیت کو اردو محاورے میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ ایک فرینچ ایڈمرل اس آیت کو پڑھ کر مسلمان ہوگیا تھا۔ اس کی ساری عمر سمندروں میں گزری تھی اور پانی کے نیچے absolute darkness کی…
Read the full tafseer →66 یہ ان کافروں کی مثال ہے جو اپنے کفر میں پکے اور ہٹ دھرم ہیں۔ وہ صرف اللہ کی نافرمانی اور رسولوں کی تکذیب پر ہی اکتفا ہی نہیں کرتے۔ بلکہ رسول اور مومنوں کو ایذائیں اور دکھ بھی پہنچاتے ہیں اور اللہ کی راہ روکنے کے لئے ہر وقت سرگرم عمل رہتے ہیں۔ اس طرح ان کے کفر کا جرم شدید تر ہوتا جاتا ہے اور اس پر ان کے کفر کی کئی تہیں چڑھتی جاتی ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گہرے سمندر میں رات کے وقت سفر کر رہا ہو۔ موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر گہرے بادل بھی چھائے ہوں۔ اس طرح تین چار طرح کی تاریکیاں مل کر ایک ایسا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہوجاتا ہے کہ اگر وہ شخص اپنا ہاتھ اپنی آنکھ کے سامنے لائے تو…
Read the full tafseer →91۔ یہ مثال ان کافروں کی ہے، جو سرے سے ملحد یا لامذہب ہیں اور جنہیں کوئی وہمی سہارا بھی آخرت کا حاصل نہیں، ان کی غایت ظلمانیت کا کیا کہنا۔ ا 9 تو قعر سمندر کی تاریکیاں خود ہی معاذ اللہ کیا کم ہیں، اور پھر سطح سمندر کے اوپر موج در موج اور اس پر چھائی ہوئی گھٹائیں، غرض کیسا کچھ اندھیرا گھپ !
92۔ چناچہ یہ بھی اپنے اعراض کے باعث ایسی تاریکیوں میں گھرے اور پڑے رہ گئے ہیں کہ اب ان کا کوئی سہارا نہیں ! انہیں چاہیے تھا کہ اتباع احکام الہی کا قصد اپنی طرف سے کرتے، حق تعالیٰ اپنی عادت کے موافق ان کے عزم پر فعل کو بھی ضرور مرتب کردیتا۔ (آیت) ” ومن لم یجعل اللہ لہ نور “۔ اور اللہ کی طرف سے ہدایت سے محروم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے یعنی ان دونوں کو شمس و قمر کے ذریعہ منور کرنے والا ہے اور اس کے نور کی مثال یعنی اس کی صفت قلب مومن میں ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہے زُجَاجَۃٌ بمعنی قندیل اور المصباح بمعنی چراغ یعنی جلتی ہوئی بتی (شعلہ) اور المشکوٰۃ بمعنی طاق جو آرپار نہ ہو یعنی قندیل کی نلکی (پائپ) اور وہ قندیل حال یہ کہ اس میں نور ہو ایسا ہے جیسا کہ روشن ستارہ دال کے کسرہ کے ساتھ اور دال کے ضمہ کے ساتھ (اس وقت) دَرْءٌ سے مشتق ہوگا اور معنی دفع کرنے کے ہوں گے اس کے تاریکی کو دفع کرنے کی وجہ سے، اور دال کے ضمہ اور یا کی تشدید…
Read the full tafseer →او کظلمت یا (ان کے اعمال) تاریکیوں کی طرح ہیں۔
کَظُلُمٰتٍ کا عطف کسراب پر ہے اور او تخییر کے لئے ہے یعنی مخاطب کو اختیار ہے کہ ان کی بد اعمالیوں کو سراب کی طرح سمجھے یا تاریکیوں کی طرح۔ ان کے اعمال قیامت کے دن موجب حسرت اور غیر مفید ثابت ہوں گے اس لئے ان کو سراب کی مانند کہا جاسکتا ہے اور حق کی روشنی سے بالکل خالی ہیں اس لئے ان کو تہ بہ تہ تاریکیاں قرار دیا جاسکتا ہے۔
یا یوں کہا جائے کہ او تنویع کے لئے ہے کیونکہ کافروں کے اعمال دو نوعیتوں کے ہیں کچھ اچھے ہیں جیسے دان ‘ خیرات ‘ عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک وغیرہ کچھ برے ہیں اوّل کو سراب سے تشبیہ دی اور دوسری قسم کے اعمال کو تاریکیوں سے یا یوں کہا…
Read the full tafseer →(40) یا یہ کہ کافر کے دل میں کفر کی تاریکی کی حالت ایسی ہے جیسے بڑے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے کہ اس سمندر کو ایک بڑی موج نے ڈھانپ لیا ہو بلکہ اس لہر کے اوپر دوسری لہر ہو اور پھر اس کے اوپر بادل ہو، یہی حالت کافر کے دل کی ہے کہ اس کے دل میں جو گندگی اور تاریکی ہے وہ سمندر کی تاریکی کی طرح ہے اور اس کے دل کی حالت بڑے گہرے سمندر کی سی ہے اور اس کا سینہ اس لہر کی طرح ہے جس نے سمندر کی اصلی سطح کو ڈھانپ لیا ہو اور اس کے اعمال کی مثال اس اوپر والے بادل کی طرح ہے کہ جس سے کچھ بھی فائدہ نہیں حاصل ہوسکتا، اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں اور…
Read the full tafseer →اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ۔۔ : ”لُّـجِّيٍّ“ میں یاء نسبت کی ہے اور یہ ”لُجٌّ“ کی طرف منسوب ہے، جو ”لُجَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی ہے بہت بڑا اور گہرا پانی۔ ”بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ“ کا معنی ہوگا ”نہایت گہرے پانیوں والا سمندر۔“ اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ گہرے پانیوں والے سمندر کی گہرائی پانی کی موٹائی کی وجہ سے نہایت تاریک ہوتی ہے۔ جدید تحقیقات بھی یہی ہیں کہ سمندر کی گہرائی میں ایک حد کے بعد روشنی کا گزر بالکل نہیں ہوتا، پھر جب اس پر تہ بہ تہ موجیں ہوں تو تاریکی اور بڑھ جاتی ہے اور جب ان موجوں کے اوپر بادل بھی ہوں تو تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو جو شخص ایسے سمندر کی گہرائی میں…
Read the full tafseer →اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ (یا ان کے اعمال اندھیروں کی طرح ہیں جو سمندر میں ہوں) یہاں اوؔ کا لفظ اسی طرح ہے جیسا کہ اوکصیب ] البقرہ : 19[ میں ہے۔ لُّجِّیٍ (جو گہرا ہو) بہت زیادہ پانی والا گہرا۔ یہ اللُّج سے اسم منسوب ہے۔ لُجِّ پانی کا وہ حصہ جہاں پانی زیادہ ہو۔ یَّغْشٰہُ (ڈھانپے اس کو) یعنی سمندر کو ڈھانپے یا اس شخص کو ڈھانپے اور اس پر غالب آجائے اور اس پر چھا جائے۔ مَوْجٌ (موج) پانی کی اٹھنے والی لہر۔ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ (اس موج کے اوپر موج ہو) مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ (اور اس کے اوپر پانی ہو) اوپر والی موج پر بادل ہو۔ ظُلُمٰتٌ0 (اندھیرے) یعنی یہ اندھیرے ہیں۔ نمبر 1۔ بادل کا اندھیرا نمبر 2۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت والذین کفروا اعمالہم کسراب کے بارے میں روایت کیا کہ وہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک پیاسے آدمی کے لیے بیان فرمائی جس کی پیاس سخت ہوجاتی ہے وہ سیراب کو دیکھتا ہے اور اسے پانی گمان کرتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ وہ اس پر قادر ہوجائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے پاس آتا ہے جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو وہاں کوئی چیز نہیں پاتا تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اسی وقت وہ کافر کہتا ہے۔ اس کا عمل اسے فائدہ دے گا جبکہ وہ کسی حالت پر نہ ہوتا یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے جب اس کے پاس موت آتی ہے تو وہ اپنے عمل کو نہیں پاتا کہ اس کے کچھ کام آئے اور نہ اس کو نفع دے گا جیسے سخت…
Read the full tafseer →اَوْ كَظُلُمٰتٍ [ یا (ان کے اعمال) اندھیروں کی مانند ہیں) فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ [ ایک ایسے بےپایاں سمندر میں ] يَّغْشٰـىهُ [ چھاتی ہے جس پر ] مَوْجٌ [ ایک موج ] مِّنْ فَوْقِهٖ [ اس کے اوپر سے ] مَوْجٌ [ ایک (اور) موج ] مِّنْ فَوْقِهٖ [ اس کے اوپر سے ] سَحَابٌ ۭ [ بادل ] ظُلُمٰتٌۢ [ اندھیرے ہیں ] بَعْضُهَا [ ان کے بعض ] فَوْقَ بَعْضٍ ۭ [ بعض کے اوپر ] اِذَآ [ جب ] اَخْرَجَ [ وہ نکالتا ہے ] يَدَهٗ [ اپنا ہاتھ ] لَمْ يَكَدْ [ تو لگتا نہیں کہ ] يَرٰىهَا ۭ [ وہ دیکھے اس کو ] وَمَنْ [ اور وہ ] لَّمْ يَجْعَلِ [ بنایا ہی نہیں ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَهٗ [ جس کے لئے ] نُوْرًا [ کوئی نور ] فَمَا لَهٗ [ تو…
Read the full tafseer →کافروں کے اعمال کی دوسری مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوْ کَظُلُمَاتٍ فِیْ بَحْرٍ لُجِّیٍّ ) یا یوں سمجھو جیسے بہت سی اندھیریاں بڑے گہرے سمندر کے اندرونی حصہ میں ہوں اور اس سمندر کو ایک بڑی موج نے ڈھانک لیا ہو پھر اس موج کے اوپر دوسری موج ہو پھر اس کے اوپر بادل ہو نیچے اوپر اندھیریاں ہی اندھیریاں ہوں۔ اگر کوئی شخص دریا کی تہہ میں جہاں مذکورہ اندھیریوں پر اندھیریاں ہوں اور اپنا ہاتھ نکال کر دیکھنا چاہے تو وہاں اس کے اپنے ہاتھ کے دیکھنے کا ذرا بھی احتمال نہیں۔ اسی طرح کافر بھی گھٹا ٹوپ گھپ اندھیریوں میں ہیں وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمارے اعمال کا اچھا نتیجہ نکلے گا حالانکہ اس کا کچھ بھی اچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
اعمال کفار کی دو مثالیں
قال اللہ تعالی۔ والذین کفروا اعمالہم کسراب۔۔۔ الی۔۔۔ فما لہ من نور۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے نور ہدایت کی مثال بیان فرمائی اور اس کو نور علیٰ نور فرمایا۔ اب آئندہ آیات میں کافروں کے مظالم اور تاریک اعمال کی دو مثالیں بیان فرماتے ہیں جو ظلمات پر ظلمات اور اندھیرے پر اندھیرا ہیں۔ کافر دو قسم کے ہیں ایک قسم تو وہ ہیں کہ جو معاد کے قائل ہیں اور اپنے زعم کے مطابق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد یہ اعمال ہمارے کام آئیں گے اور دوسری قسم کافروں کی وہ ہے کہ جو معاد اور جزا اور سزا کے منکر ہیں اور دنیاوی لذات وشہوات میں غرق ہیں ان…
Read the full tafseer →46:۔ ” اَوْ کَظُلُمٰتٍ الخ یہ مشرکین کے دوسری قسم کے اعمال کی تمثیل ہے جو بظاہر بھی برے ہوں اور حقیقت میں بھی۔ یعنی ان کے بعض اعمال تو ظلمات در ظلمات ہیں جس طرح ایک بہت ہی گہرے سمندر کی تہ جس کے اوپر پانی کے بیشمار موجیں ہوں اور پھر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہوں۔ ایسا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو کہ اپنا ہاتھ دکھائی نہ دے۔ مشرکین، شرک و جہالت کے ایسے ہی تہ بتہ اور موج در موج اندھیروں میں غرق ہیں اور رشد و ہدایت کی روشنی کی کوئی کرن ان تک نہیں پہنچ سکتی شرک و ضلالت کے ان دبیز اندھیروں میں وہ جو اعمال بجا لاتے ہیں وہ بھی سراپا ظلمت ہی ہوتے ہیں نہ ان کا ظاہر اچھا ہوتا ہے نہ باطن۔ ” شبھھا (اعمالھم) فی ظلم تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں نور ہدایت کی مثال بتائی جو مومن کے دل میں ہوتا ہے اور پھر اوپر سے قرآن وسنت کی روشنی مل کر اس نور کو کئی گناہ بڑھا دیتی ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مساجد کے متعلق فرمایا کہ مذکورہ نور ہدایت زیادہ تر انہی گھروں میں ملتا ہے۔ اللہ نے ان گھروں کو بلند رکھنے اور ان میں کثرت سے اس کا ذکر کرنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے اہل ایمان کی تعریف بیان کی کہ وہ ان پاکیزہ گھروں میں صبح اور پچھلے پہر اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اور وہ ایسے مرد ہیں کہ جن کی تجارت انہیں ذکر الٰہی ، اقامت صلوٰۃ اور ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتی ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں قیامت کا خوف ہے…
Read the full tafseer →اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشٰـىہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ 0ۭ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ 0ۭ اِذَآ اَخْرَجَ يَدَہٗ لَمْ يَكَدْ يَرٰىہَا 0ۭ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ 40ۧ
ظلم) تاریکی)
الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ترکیب : بقیعۃ موضع جر میں سراب کی صفت یحسبہ بھی سراب کی صفت قیعۃ جمع قاع ای فی فلاۃ والیاء فی قیعۃ بدل من واولسکونھا و انکسار ماقبلھا لانھم قالوا فی قاع اقوع او کظلمات معطوف ہے سراب پر تقدیرہ اوکاعمال ذی ظلمات فیقدرذی لیعودالضمیر من قولہ اذا اخرج یدہ الیہ ویمکن ان یقال لاحذف فیہ والمعنی انہ شبہ اعمال الکفار بالظلمۃ فی حیا تھا بین القلب و بین مایھتدی الیہ، فی بحر صفت، لظلمات لجی نسبۃ الی اللج ای ذی لجۃ یغشاہ صفۃ اخری۔
تفسیر : اس نور اور نورانی لوگوں کے بعد ظلمت اور ظلمانی لوگوں کا حال بھی تشبیہ میں بیان فرمایا جاتا ہے۔
فقال والذین کفروا الخ کہ کافروں کے اعمال جن کو وہ نیک اور وسیلہ آخرت سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِـہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِـہٖ سَحَابٌ ط ظُلُمٰتٌ م بَعْضُھَافَوْقَ بَعْضٍ ط اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْیَرٰھَا ط وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَـہٗ نُوْرًا فَمَالَـہٗ مِنْ نُّوْرٍ ۔ (النور : 40)
(یا (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک گہرے سمندر کے اندر تاریکیاں، چھا رہی ہو اس پر موج، اس کے اوپر ایک اور موج، اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں، تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر، جب وہ نکالے اپنا ہاتھ تو اس کو بھی دیکھ نہ پائے اور (سچ تو یہ ہے) کہ جس کو اللہ روشنی نہ بخشے تو اس کے لیے کوئی روشنی نہیں۔ )
اہلِ کفر کی ذہنی تاریکی کی مثال
اس سے پہلے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے اعمال کے بارے میں ایک اور مثال :
کفار کے اعمال ان اندھیروں کی طرح ہیں جو گہرے سمندر کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ جس طرح سمندر کی بڑی، بڑی موجیں ایک دوسرے کے اوپر ٹھاٹھیں مار رہی ہوتی ہیں اور ان موجوں کو رات کے وقت کالے بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہو گو یا کہ اندھیروں پہ اندھیرے چھائے ہوئے ہیں۔ ایسے سمندر کی تہہ سے کسی شخص کا نکلنا تو درکنار وہ اپناہاتھ اپنے سامنے کرکے دیکھنا چاہے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ یہی کفار کے اخلاق اور اعمال کی کیفیت ہے جن پر کفرو شرک کا پردہ، نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت کا انکار اور قیامت کے عقیدہ سے انحراف کے پردے پڑے ہوئے ہیں ایسے شخص کا اپنے اعمال کی…
Read the full tafseer →40: اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ (یا ان کے اعمال اندھیروں کی طرح ہیں جو سمندر میں ہوں) یہاں اوؔ کا لفظ اسی طرح ہے جیسا کہ : اوکصیب ] البقرہ : 19[ میں ہے۔ لُّجِّیٍ (جو گہرا ہو) بہت زیادہ پانی والا گہرا۔ یہ اللُّج سے اسم منسوب ہے۔ لُجِّ پانی کا وہ حصہ جہاں پانی زیادہ ہو۔ یَّغْشٰہُ (ڈھانپے اس کو) یعنی سمندر کو ڈھانپے یا اس شخص کو ڈھانپے اور اس پر غالب آجائے اور اس پر چھا جائے۔ مَوْجٌ (موج) پانی کی اٹھنے والی لہر۔ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ (اس موج کے اوپر موج ہو) مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ (اور اس کے اوپر پانی ہو) اوپر والی موج پر بادل ہو۔ ظُلُمٰتٌ0 (اندھیرے) یعنی یہ اندھیرے ہیں۔ نمبر 1۔ بادل کا اندھیرا…
Read the full tafseer →40۔” اوکظلمات ، ، کفار کی ایک اور مثال بیان کی ہے۔ ان کے اعمال کے فساد کی مثال اور ان کی جہالت کی مثال ایسی ہے جیسے اندھیرے ۔ فی بحر لجی، ، گہراجہاں پر پانی زیادہ ہوتا ہے۔ سمندر کا وہ حصہ جہاں پانی بہت ہے۔ یغشاہ ، جس میں موجیں چڑھی ہوتی ہیں۔ موج من فوقہ موج، پے درپے لہروں کا چڑھنا۔ من فوقہ ، سحاب، ابن کثیر نے ایک روایت کے مطابق سحاب، پڑھا ہے ظلمات مجرور ہے بدل ہونے کی وجہ سے ، او کظلمات ، سے ۔ ابوالحسن سے رویات ہے انہوں نے ، سحاب ظلامت، پڑھا ہے اضافت کی وجہ سے۔ دوسرے قراء نے ، سحاب ظلمات ، پڑھا ہے دونوں مرفوع ورتنوین کے ساتھ ۔ اس صورت یہ کلام سحاب پر مکمل ہوجائے گا، پھر دوبارہ کلام کی ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 40:۔ عالم ارواح میں جن لوگوں نے نور ہدایت کا حصہ پایا ‘ اوپر ان کے نیک عملوں کا ذکر تھا کہ قیامت کے دن ان کے نیک عملوں کا اچھا بدلہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے لوگوں کو کچھ زیادہ بھی دیوے گا جو نیک عملوں کی جزا سے بڑھ کر ہوگا اب ان آیتوں میں ان لوگوں کے عملوں کی دو مثالیں بیان فرمائی جو عالم ارواح میں نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہے ‘ پہلی مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی پیاسا مسافر دوپہر کی دھوپ میں جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کو دور سے پانی کی ندی خیال کرتا ہے ‘ اور جب اس ریت کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پانی کا پتہ بھی نہیں ہوتا ‘ آخر وہ پیاسا مرجاتا ہے ‘ اسی طرح یہ مشرک لوگ جن اچھے…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (40
یہ دو مثالیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کے بطلان ‘ ان کے اکارت جانے اور ان اعمال کو سر انجام دینے والوں کی حسرت کو ظاہر کرنے کے لیے بیان فرمائی ہیں ‘ چناچہ فرمایا : ( والذین کفرو ) ” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا “ اپنے رب کے ساتھ اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا (اعمالھم کسراب بقیعۃ ) ” ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی طرح ہیں۔ “ یعنی ان کے اعمال کی مثال ایسا دشت بےآب ہے جہاں کوئی درخت ہو نہ نباتات (یحسبہ الظمان ماء ) ” پیاسا آدمی اسے پانی سمجھتا ہے۔ “ یعنی سخت پیاسا شخص اس سراب کو پانی سمجھتا ہے کیونکہ پیاس کے مارے شخص کو پیاس کی وجہ سے وہ تو ہم لاحق ہوتا ہے جو کسی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
بلندی ذکر کی تشریح
قول باری ہے : (فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو والاصال رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیح عن ذکراللہ واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ) اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے، ان میں ایسے لوگ صبح وشام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز وادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی ۔ ایک قول کے مطابق آیت کے معنی ہیں ” وہ چراغ جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن…
Read the full tafseer →89 اہل کفر و باطل کے باطنی اندھیروں کی تمثیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے کہ اگر اپنا ہاتھ نکالے تو اس کو بھی دیکھنے نہ پائے۔ جس کا دیکھنا عام حالات میں سب سے زیادہ سہل اور آسان ہوتا ہے کہ وہ اس کی نگاہوں کی دسترس سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ سو جب وہ اس کو بھی نہیں دیکھ سکتا تو اور کس کو دیکھے گا ؟ اسی طرح کافر و منکر اپنے باطن کے طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ کافر تین اندھیروں میں غرق رہتا ہے۔ عقیدئہ و باطن کا اندھیرا۔ قول وقرار کا اندھیرا اور عمل و کردار کا اندھیرا۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
اللہ کو نہ ماننے والوں کے اعمال ؟
تشریح : ان آیات میں کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے دور سے ریت پیاسے کو پانی دکھائی دیتی ہے، حالانکہ وہ پانی نہیں ہوتا بلکہ ایسے ہی برے اعمال دور سے اچھے دکھائی دیتے ہیں مگر اصل میں وہ سوائے دھوکے کے اور کچھ نہیں ہوتے سچ اور حق تو اللہ ہی ہے وہ حساب لینے میں کبھی نہ غلطی کرتا ہے نہ بےانصافی سے کام لیتا ہے اور کچھ تو اللہ کے اس قانون کی گرفت میں فوراً آجاتے ہیں۔ کہ ” جو کیا پالیا۔ “ یعنی مکافات عمل کی گرفت۔ اسی طرح کفار کے بداعمال کو ان اندھیروں سے تشبیہ دی گئی ہے جو گہرے سمندر میں تہہ در تہہ لہروں کے نیچے اس صورت میں کہ کالے بادل بھی چھائے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، نور کا معنی ایسی چیز ہے جو از خود ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرنے والی ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ تمام جہانوں میں حقیقی ذاتی اللہ کی ہے جو ہر ہر شے سے ظاہر ہے اور دوسری چیزوں کی روشن اور ظاہر کرنے والی ہے تو یہ نور جو شئے کے معنوں میں آئے گا اس کا اطلاق اللہ کی ذات پر نہ ہوگا بلکہ اس کی طرف سے عطا کی جانے والی روشنی پر ہوگا کہ اصل سارے نور اور روشنی کا مالک اللہ ہے پھر اس کے نور کی اور روشنی بخشنے کی مثال ایسی کہ جیسے کسی طاق میں ایک روشن چراغ اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہو جو شفاف اور ستاروں جیسے چمکدار شیشے کی بنی…
Read the full tafseer →2 ۔ ابرکا اندھیرا، موج کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا۔ 3 ۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو جہل بسیط کا شکار ہوتے ہیں۔ نہ تو ان کو یہ معلوم ہے کہ ان کی قیادت کرنے والے کیسے ہیں اور نہ یہی جانتے ہیں کہ ان کو کس طرف لے جا رہے ہیں مگر اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھتے ہیں حالانکہ باپ دادا کی اندھی تقلید، جہالت، ادہام پرستی وغیرہ۔ نہ معلوم کتنی گمراہیاں ہیں جن میں یہ لوگ گرفتار ہیں۔ اسی کو مثال میں ظلمات بضھا فوق بعض۔ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(24:40) او کظلمت۔ او حرف عطف۔ کظلمت معطوف۔ کسراب معطوف علیہ ۔ یہ کفار کے اعمال کی دوسری مثال ہے ک حرف تشبیہ۔ ظلمت تاریکیاں۔ اندھیرے۔ ظلمۃ کی جمع ۔ ظلمت کہتے ہیں روشنی کے نہ ہونے کو۔ اس کی ضد نور ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے یخرجہم من الظلمت الی (2:257) وہ (اللہ) ان کو اندھیروں سے اجالے میں نکال لاتا ہے۔ او کظلمت تا مجرور بوجہ ک حرف جار کے ہے جیسے کسراب۔ یا ان (کفار ) کے اعمال ایسے اندھروں کی مانند ہیں۔
لجی۔ یائے نسبتی ہے جس کی نسبت بحر سے ہے۔ بحر لجی بہت پانی والا دریا۔ اللجاج مصدر (باب ضرب وسمع) کے معنی کسی ممنوع کام کے کرنے میں بڑھتے چلے جانے کے اور اس پر ضد کرنے کے ہیں۔ مثلا بل لجوا فی عتو و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 40 :
مسکوۃ (طاق) ‘ مصباح (چراغ) ‘ زجاجۃ (شیشہ۔ قندیل) ‘ کو کت (ستارہ) ‘ دری (موتی کی طرح چمک دار) یوقد (روشن کیا جاتا ہے) ‘ زیت (تیل) یضیء (روشن کیا جاتا ہے) ‘ لم تمسس (نہ چھوا ہو) ‘ یضرب (بیان کرتا ہے۔ مارتا ہے) ‘ اذن (اجازت دی ہے) ‘ ترفع (بلند کیا جاتا ہے۔ کیا جائے) ‘ الغدو (صبح) ‘ الاصال (شام) لاتلھی (غافل نہیں کرتی) ‘ بیع (تجارت۔ لین دین) ‘ قیعۃ (قاع) چٹیل کھلا ریت کا میدان) ‘ الظمان (پیاسا) ‘ لجی (گہرپانی) ‘ سحاب (بادل) ‘ لم یکد (قریب نہیں ہے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 40 :
آسمانوں ‘ زمین اور کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ہدایت کا نور موجزن ہے۔ جہاں بھی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
کفار کے نیک عملوں کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں کافروں کے نیک اعمال کی دومثالیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائیں۔ پہلی مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی پیاسا مسافر دوپہر کی دھوپ گرمی کی شدت میں جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کو دور سے پانی کی ندی خیال کرتا ہے اور جب اس ریت کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پانی کا پتہ بھی نہیں ہوتا، آخر وہ تڑپ کر پیاسا مرجاتا سو خدا نے اس کا پورا پوراحساب کردیا، اور اللہ تعالیٰ جلد حساب کرنے والا ہے، اور اسی طرح یہ مشرک لوگ جن لوگوں کی مورتوں کی پوجا کرکے یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ اپنے پوجا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کرکے ان کو عذاب دوزخ سے بچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
[49] یہ مثال ان کافروں کی ہے جو سرے سے ملحد یا لامذہب ہیں اور جنہیں کوئی وہمی سہارا بھی آخرت کا حاصل نہیں۔ وہ جہل و کفر کی تاریکیوں میں پڑے غوطے کھا رہے ہیں اور ان کے پاس روشنی کی اتنی بھی چمک نہیں جتنی سراب پر دھوکہ کھانے والے کو نظر آتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کامل جہالت کی حالت میں بسر کر رہے ہیں خواہ دنیا کی اصطلاحوں میں علامہ دوراں اور دنیوی علوم و فنون کے ماہر ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے نزدیک سائنس اور ٹیکنالوجی، معاشیات اور مالیات، قانون اور فلسفے کا نام علم ہے مگر حقیقی علم یعنی
معرفت حق کی انھیں ہوا تک نہیں لگی ہے اور اس اعتبار سے وہ جاہل محض ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
کفر کی تاریکیاں اور اس کی مثال :
(ف 1) اس سے قبل کی تفصیل تھی یہ بتایا تھا کہ ان گھروں میں اللہ کے نور کا اجالا ہوتا ہے جن کا ادب اور احترام اللہ نے ضروری قرار دیا ہے اور جہاں اس کا نام لیا جاتا ہے اور صبح وشام تسبیح و تقدیس کے ترانے گائے جاتے ہیں ، اور وہ لوگ اس نور سے اپنے سینوں کو بھر لیتے ہیں وہ ذکر ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں ، مگر اپنی عبادت پر مغرور ونازاں نہیں ہوتے بلکہ محاسبہ کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں ،
اس کے بعد یہ بتایا تھا کہ اس نور کے منکرین محض غلط توقعات اور موہوم امیدوں میں الجھے ہوتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ باوجود کفر و انکار کے ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →(40) یا دین حق کا انکار کرنے والوں کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے بڑے گہرے اور عمیق سمندر کے اندرونی اندھیرے اس سمندر کو موج بالائے موج نے ڈھانک رکھا ہو اس موج پر بادل چھایا ہوا ہو۔ غرض بہت سے اندھیرے ہیں جو اوپر تلے چھائے ہوئے ہیں ان حالات میں اگر کوئی شخص سمندر کی تہ میں اپنا ہاتھ نکال کر دیکھنا چاہے تو اس کا احتمال ہی نہیں کہ وہ اس ہاتھ کو دیکھ سکے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے روشنی نہیں دی اس کو کہیں نہیں روشنی۔ یہ دوسری قسم کے بداعتقاد لوگوں کی مثال ہے یعنی ان کے لئے سراب جیسی چمک بھی نہیں بلکہ کفر و جہل ظلم و عصیاں کی تاریکیوں میں پڑے ہاتھ مار رہے ہیں۔ اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
ف 2۔ پس ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ اتباع احکام الہیہ کا ارادہ کرتے، تو اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لئے بڑہتا چلا جاتا ہے اور وہ ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
Read the full tafseer →کفار کی دوسری جماعت کی مثال جو اچھے اعمال سے ہی بیگانہ ہے :
67۔ کہاوت ہے کہ ” کریلا اور نیم چڑھا “ کافر بھی ہوا اور اچھے برے کی تمیز بھی نہ رکھتا ہو اس کے متعلق کیا کہا جائے گا ؟ یہی کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا کہ اس پر موج کے اوپر ایک اور موج چھائی ہوتی ہے اور پھر اس اندھیرے کو مزید گہرے اندھیرے میں تبدیل کرنے کے لئے سیاہ بادل بھی چھایا ہو تو اس کا حال کیا ہوگا یہی کہ وہ اپنا ہاتھ بھی ان موجوں سے باہر نکال سکتا ہو کہ اس کو دیکھے تو کیا وہ اس کو دیکھ سکے گا ؟ ہرگز ہرگز نہیں دراصل انسان میں کام کرنے کے تین مرکز ہیں :
1۔ نفس ‘ جو بدن کی تربیت کرتا ہے اور اس کو ضائع…
Read the full tafseer →After describing the two examples the next sentence says: وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّـهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ(And the one to whom Allah does not give light can have no light at all - 40).
This sentence about the disbelievers is like the one that appeared earlier for the believers: يَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ (Allah guides to His light whomsoever He wills - 35). It describes the deprivation of disbelievers from the Nur of guidance, which they lost by denying the injunctions of Allah, and when they have lost Allah's Nur of guidance how can they get any other…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
72. This parable describes the condition of all the disbelievers and the hypocrites including those who perform good deeds for ostentation. It is being stated that such people are passing their life in a state of absolute and complete ignorance, whether they are the most learned people in the world and leaders in their respective fields of learning. They are like the man who is lost in complete darkness where no ray of light can reach him. They think that knowledge merely consists in producing atom bombs, hydrogen bombs, supersonic planes and moon rockets, or in attaining excellence in…
Read the full tafseer →