An-Noor 24:38

An-Noor · from ayah 38

24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَیَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ؕ— وَاللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۟لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ‌ؕ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے۔ اور جس کو چاہتا ہے خدا بےشمار رزق دیتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That Allah may reward them [according to] the best of what they did and increase them from His bounty. And Allah gives provision to whom He wills without account.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:38

(اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں) تاکہ اللہ ان کے بہترین اعمال کی جزا اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے۔ اور جس کو چاہتا ہے خدا بےشمار رزق دیتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلے دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بےشمار روزیاں دیتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے گا، اور اپنے فضل سے مزید کچھ اور بھی دے گا اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تاکہ اللہ انہیں بدلہ دے ان کے سب سے بہتر کام کام اور اپنے فضل سے انہیں انعام زیادہ دے، اور اللہ روزی دیتا ہے جسے چاہے بے گنتی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ اللہ انہیں ان (نیک) اعمال کا بہتر بدلہ دے جو انہوں نے کئے ہیں اور اپنے فضل سے انہیں اور (بھی) زیادہ (عطا) فرما دے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق (و عطا) سے نوازتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ اللہ انھیں اس کا بہترین بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو کافر ہیں ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹیل میدان میں کوئی سراب ہو جسے پیاسا پانی سمجھ رہا ہو۔ حتیٰ کہ جب وہ اس سراب کے قریب آتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا۔ بلکہ اس نے اللہ کو وہاں موجود پایا جس نے اس کا حساب چکا دیا اور اللہ کو حساب چکانے میں دیر نہیں لگتی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ اللہ ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے اور ان کو اپنے فضل سے مزید نوازے اور اللہ جس کو چاہے گا بےحساب بخشے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ اس لیے کہ تاکہ اللہ ان کو بہترین بدلے سے نوازے ان کے زندگی بھر کے کیے کرائے پر اور مزید برآں وہ ان کو سرفراز فرمائے اپنی شان کریمی کی بناء پر اپنے خاص فضل و کرم سے اور اللہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے بغیر کسی حساب کے

— مولانا اسحاق مدنی

انجام یہ ہوگا کہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہت ہی اچھا بدلہ دے گا اور ان کو اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دے دے گا اور اللہ جسے چاہتا ہے بیشمار دے دیتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ اللہ انہیں بہترین جزا دے ان کے اعمال کی اور ان کو اپنے فضل سے مزید نوازے اور اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے بغیر حساب کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھابدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی دے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(And they behave like this) so that Allah may reward them for their excellent deeds and, in addition to it, show His favour to them out of His bounty: Allah provides without stint for anyone He pleases.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The fate (of such people) is that Allah will reward them for the best deeds they did, and will give them more out of His grace. Allah gives whom He wills without counting.

— Muhammad Taqi Usmani

The fate (of such people) is that Allah will reward them for the best deeds they did, and will give them more out of His grace. Allah gives whom He wills without counting.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That Allah may reward them according to the best of their deeds, and add even more for them out of His grace. And Allah provides without measure to whom He wills.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That Allah may reward them with the best of what they did, and increase reward for them of His bounty. Allah giveth blessings without stint to whom He will.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That Allah may reward them [according to] the best of what they did and increase them from His bounty. And Allah gives provision to whom He wills without account.

— Saheeh International

(They worship Him) so that God will reward their best deeds and give them more through His favors. God gives sustenance to whomever He wants without account.

— Muhammad Sarwar

That Allah may give them the best reward of what they have done, and give them more out of His grace; and Allah gives sustenance to whom He pleases without measure.

— Muhammad Habib Shakir

That Allah may recompense them the best for that which they worked and may increase unto them of His grace, and Allah provideth for whomsoever He will without measure.

— Abdul Majid Daryabadi

That Allah may reward them according to the best of their deeds, and add even more for them out of His Grace: for Allah doth provide for those whom He will, without measure.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–38

مومن کے دل سے مماثلت مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بیہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ان ترفع کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ کعب ؒ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النُّوْر 69 یہاں ان صفات کی تشریح کردی گئی جو اللہ کے نور مطلق کا ادراک کرنے اور اس کے فیض سے بہرہ مند ہونے کے لیے درکار ہیں۔ اللہ کی بانٹ اندھی بانٹ نہیں ہے کہ یونہی جسے چاہا مالا مال کردیا اور جسے چاہا دھتکار دیا۔ وہ جسے دیتا ہے کچھ دیکھ کر ہی دیتا ہے، اور نعمت حق دینے کے معاملے میں جو کچھ وہ دیکھتا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے دل میں اس کی محبت، اور اس سے دلچسپی، اور اس کا خوف، اور اس کے انعام کی طلب، اور اس کے غضب سے بچنے کی خواہش موجود ہے۔ وہ دنیا پرستی میں گم نہیں ہے۔ بلکہ ساری مصروفیتوں کے باوجود اس کے دل میں اپنے خدا کی یاد بسی رہتی ہے۔ وہ پستیوں میں پڑا نہیں رہنا چاہتا بلکہ اس بلندی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–39

اور پھر فرمایا وَيَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ یعنی صرف جزاء عمل دینے پر اکتفا نہیں ہوگا بلکہ اپنی طرف سے مزید انعامات بھی ان کو ملیں گے واللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، یعنی اللہ تعالیٰ نہ کسی قانون کا پابند ہے نہ اس کے خزانے میں کبھی کمی آتی ہے وہ جس کو چاہے بےحساب رزق دیدیتا ہے۔ یہاں تک مومنین صالحین جن کے سینے نور ہدایت کے مشکوة ہوتے ہیں اور جو نور ہدایت کو خاص طور سے قبول کرتے ہیں ان کا ذکر تھا۔ آگے ان کفار کا ذکر ہے جن کی فطرت میں تو اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت کا مادہ رکھا تھا مگر جب اس مادہ کو روشن کرنے والی وحی الہی ان کو پہنچی تو اس سے روگردانی اور انکار کر کے نور سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–38

آیات 38-36 فی بیوت کا کلام میں محل تمثیل میں معاہد کے ذکر کی وجہ فی بیوت الآیۃ فی بیوت کا تعلق میرے نزدیک مشکوۃ سے ہے۔ اس ظرف نے واضح کردیا کہ اس تمثیل میں بت خانوں اور مے خانوں کے طاق کی مثال پیش نہیں کی گئی ہے بلکہ اللہ کے معابد کے طاقوں کی مثال پیش کی گی ہے۔ تمثیل میں ظاہر ہے کہ مشکوۃ سے مراد قلب سلیم یا بالفاظ دیگر قلب مومن ہے۔ یہ قلب ہر قالب میں نہیں پایا جاتا بلکہ خاص خاص قالیوں ہی میں پایا جاتا ہے اور یہ قولب ہر جگہ نہیں ملتے بلکہ انکے ملنے کی اصل جگہ خدا کی مساجد اور اس کے معاہد میں زمحشری نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کے نزدیک اصل تالیف کلام یوں ہے۔ ”فی بیت من بیوت اذن اللہ ان توفع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–39

38-1قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کی نیکیوں کا بدلہ (کئی کئی گنا) کی صورت میں دیا جائے گا اور بہت سوں کو بےحساب ہی جنت میں داخل کردیا جائے گا اور وہاں رزق کی فروانی جس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

34: نیک اعمال کا ثواب کچھ تو وہ ہے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں آگیا ہے۔ اس آیت نے بڑے لطیف انداز میں یہ بتایا ہے کہ نیک لوگوں کا ثواب صرف ان نعمتوں میں منحصر نہیں ہوگا جن کا تذکرہ قرآن و حدیث میں آیا ہے، اور نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–39

(فی بیوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والاصال رجال ۔۔۔۔۔۔۔ والابصار لیجز یھم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر حساب ) (36 تا 83) یہاں اللہ کے نور کی تمثیل اور ان گھروں کی تمثیل میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ قرآن کریم کے انداز بیان کافی کمال ہے۔ طاق کے اندر چراغ روشن ہے اور گھروں کے اندر دل مومن روشن ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان مشاکلت ہے۔ یہ گھر ایسے ہیں کہ اللہ نے حکم دینا ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعمیر کی جائے۔ ان کو بلند کرنے کے اذن سے مراد ان کو تعمیر کرنے کا حکم دینا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں۔ چناچہ یہ گھر قائم کردیئے گئے ہیں ‘ بلند ہیں اور پاک اور ستھرے ہیں۔ ان کا منظر اس کائنات کے منظر لے مشابہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اچھے کاموں کا جو صلہ مقرر ہے وہ ملے گا۔ اور حق تعالیٰ کے فضل سے اور زیادہ دیا جائے گا جس کی تفصیل و تعیین ابھی نہیں کی جاسکتی۔ 8 یعنی اس کے ہاں کیا کمی ہے، اگر جنتیوں کو بیحدو حساب عنایت فرمائے تو کچھ مشکل نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ” یہ تو تھی ایک مؤمن صادق کے دل اور اس کی کیفیت ایمان کے بارے میں تمثیل اور اس کے کردار کی ایک جھلک۔ اب اگلی دو آیات میں ان لوگوں کے اعمال کے بارے میں دو تمثیلیں بیان کی گئی ہیں جن کے دل ایمان حقیقی کی روشنی سے یکسر خالی ہیں مگر وہ اپنے دل کی تسلی اور اپنے ضمیر کے اطمینان کے لیے نیکی کے مختلف کام سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ ان تمثیلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی نیکیاں اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہیں۔ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے سورة البقرۃ کی آیت 177 آیت البر ِ کے الفاظ اور ان الفاظ کا مفہوم ایک دفعہ اپنے ذہن میں پھر سے تازہ کرلیں : لَیْسَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

65 عربی زبان میں ہر مشروب یعنی پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں اور جو چیز بظاہر تو شراب نظر آئے مگر حقیقت اس کے برعکس ہو اسے سراب کہتے ہیں۔ پھر اس لفظ کا استعمال اس تودہ ریت پر ہونے لگا جو دور سے ایک خاص زاویہ سے سورج کی روشنی میں ٹھاٹھیں مارتا پانی نطر آتا ہے مگر حقیقتاً وہاں پانی وانی کچھ نہیں ہوتا۔ یہ مثال ایسے کافروں اور منافقوں سے تعلق رکھتی ہے جو فی الجملہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ نیک اعمال بھی بجا لاتے ہیں۔ خواہ وہ نمودو نمائش کے لئے ہوں پھر انھیں یہ توقع بھی ہوتی ہے کہ آخرت میں انھیں ان کا اجر ملے گا۔ اور چونکہ ان کے اکثر اعمال اللہ کی مرضی نہیں بلکہ ان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

87۔ یہ بیان ان کے کمال خشیت وتقوی کا ہے کہ باوجود پابندی احکام کے ہر وقت روز جزاء سے ڈرتے رہتے ہیں۔ 88۔ مفصل ومستقل متعین وعدہ، اہل ایمان سے جس جزا کا ہے وہ تو جنت ہے۔ اس کے علاوہ محض اپنے فضل وکرم سے اللہ جس کو جتنا نواز دینا چاہے اس کے لیے کوئی حدوحساب ہی نہیں۔ اسلام کا خدا بعض دوسرے مذہبوں کی طرح کرم وعطا میں کنجوس نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–40

آیت نمبر 35 تا 40 ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے یعنی ان دونوں کو شمس و قمر کے ذریعہ منور کرنے والا ہے اور اس کے نور کی مثال یعنی اس کی صفت قلب مومن میں ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہے زُجَاجَۃٌ بمعنی قندیل اور المصباح بمعنی چراغ یعنی جلتی ہوئی بتی (شعلہ) اور المشکوٰۃ بمعنی طاق جو آرپار نہ ہو یعنی قندیل کی نلکی (پائپ) اور وہ قندیل حال یہ کہ اس میں نور ہو ایسا ہے جیسا کہ روشن ستارہ دال کے کسرہ کے ساتھ اور دال کے ضمہ کے ساتھ (اس وقت) دَرْءٌ سے مشتق ہوگا اور معنی دفع کرنے کے ہوں گے اس کے تاریکی کو دفع کرنے کی وجہ سے، اور دال کے ضمہ اور یا کی تشدید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیزیہم اللہ تاکہ اللہ ان کو ثواب عطا کرے۔ اس جملہ کا تعلق یُسَبِّحُ یا لاَ تُلْہِیْہِمْ سے ہے اور یہ کلام سابق کی غایت و غرض ہے۔ یا اس کا تعلق یخافون سے ہے اس وقت لام عاقبت ہوگا ‘ کلام سابق کی علت وغایت بیان کرنے کے لئے نہ ہوگا کیونکہ خوف غیر اختیاری چیز ہے اور علت وغایت اختیاری افعال کی ہوتی ہے۔ احسن ما عملوا بہترین ثواب یا اچھے اعمال کا ثواب۔ موخر الذکر ترجمہ پر احسن (اسم تفضیل) بمعنی حسن (صفت مشبہ) کے ہوگا۔ ویزیدہم من فضلہ اور (ہر عمل کے ثواب کا جتنا اس نے وعدہ کر رکھا ہے) اپنی مہربانی سے اس سے زیادہ کر دے (اتنا زیادہ کر دے) کہ ان کے خیال میں بھی نہ آیا ہو۔ واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(38) اور ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال دنیویہ کا بہت ہی اچھا بدلہ دے گا اور ان کو اپنے فضل سے اسی جزا پر اور بھی زیادہ دے گا یعنی ایک نیکی کا دس گناہ ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بیشمار اور بغیر حساب کے دے دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ڎلِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا : اس کا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے : ”أَيْ ثَوَابَ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا“ کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان بہترین اعمال کا ثواب دے جو انھوں نے کیے، اور یہ بھی : ”أَيْ أَحْسَنَ جَزَاءٍ مَا عَمِلُوْا“ کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا بہترین بدلا دے جو انھوں نے کیے۔ دوسرا معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے فرمایا : (وَاللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ)”اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لِیَجْزِیَھُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَیزَیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا بہترین بدلہ عنایت کرے اور اپنے فضل سے اس سے زائد بھی عنایت فرمائے) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے اور ڈرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے یعنی تاکہ ان کو دوگنا ثواب سے بدلہ دے۔ ویزیدھم (اور اس میں اضافہ فرمائے) عمل پر مقررہ ثواب پر بطور فضل اضافہ فرمائے۔ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآ ئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بغیر حساب رزق دیتے ہیں) یعنی جس کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں ایسا ثواب دیتے ہیں جو دیگر مخلوق کے حساب میں داخل نہیں ہوتا یہ تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 37–38

1۔ احمد نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کی بہترین مسجد ان کے گھر کا اندرونی حصہ ہے۔ عورت کی نماز بند کمرہ میں افضل ہے 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو حمید ساعدی سے روایت کیا کہ اپنے باپ اور اپنے دادی ام حمید سے روایت کرتے ہیں کہ مٰ ننے عرض کیا یارسول اللہ ! ہمارے شوہروں نے ہم کو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے سے روک دیا اور ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری نماز تمہارے کمروں کے اندر افضل ہے تمہارے گھروں میں نماز پڑھنے اور تمہاری نماز تمہارے گھروں میں افضل ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِيَجْزِيَهُمُ [ تاکہ بدلہ دے ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَحْسَنَ مَا [ اس کے بہترین سے جو ] عَمِلُوْا [ انھوں نے عمل کئے ] وَيَزِيْدَهُمْ [ اور تاکہ وہ زیادہ دے ان کو ] مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ [ اپنے فضل سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَرْزُقُ [ عطا کرتا ہے ] من [ اس کو جس کو ] مَنْ يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] بِغَيْرِ حِسَابٍ [ بےحساب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(لِیَجْزِیَہُمْ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا) (تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا اچھے سے اچھا بدلہ دے) ۔ (وَیَزِیْدَھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ) (اور انہیں اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دے) (وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) (اور اللہ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق عطا فرماتا ہے) ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے سے اچھا اجر ہے اور زیادہ سے زیادہ ثواب ہے بلا حساب رزق ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–38

آیت نور دربارہ تمثیل نور ہدایت وظلمت فسق وفجور وانوار قلوب اہل ہدایت وظلمت قلوب اہل ضلالت قال اللہ تعالی۔ اللہ نور السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ من یشاء بغیر حساب۔ (ربط) ابتداء سورت سے یہاں تک احکام ہدایت اور کلمات حکمت وموعظت کا ذکر ہوا اور گزشتہ آیات میں یہ فرمایا کہ ہم نے روشن آیتیں نازل کیں جس سے مقصود یہ تھا کہ لوگ گمراہی کی ظلمت سے نکل کر نور ہدایت میں آجائیں۔ اس لئے ان آیات میں اول نور ہدایت اور ظلمت ضلالت کی مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اہل ہدایت اور اہل ضلالت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ دلائل ایمان و ہدایت نور مبین کی طرح روشن ہیں اور ادیان کفر انتہائی ظلمت اور تاریکی میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 36–38

43:۔ ” فی بیوت الخ “: دعوی توحید پر ان لوگوں سے دلیل نقلی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مدبر عالم، متصرف و مکتار اور کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں اور ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس کرتے ہیں۔ ” فی بیوت “ ظرف ” یسبح “ کے متعلق ہے۔ ” بیوت “ موصوف ” اذن اللہ الخ “ جملہ صفت، ” رجال “ ” یسبح “ کا فاعل ہے۔ ” فیھا “ ، ” فی بیوت “ کا تکرار ہے برائے تاکید، ای یسبح لہ رجال فی بیوت و فیھا تکریر کقولک زید فی الدار جالس فیھا (بحر ج 6 ص 458) ۔ یا ” فی بیوت “ جز مقدم ہے۔ ” رجال “ نکرہ موصوفہ مبتداء موخر ہے۔ ” رجال “ سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین مراد ہیں۔ ” اذن “ سے امر اور ” رفع “ سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–38

ربط آیات : قرآن پاک کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے نور کا ذکر کیا گیا اور اس کی مثال بھی اللہ نے بیان فرمائی۔ اس نور کے متعلق مختلف مفسرین نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ میں ان آیات کا سابقہ آیت کے ساتھ ربط یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے جس نور کا ذکر فرمایا ہے وہ زیادہ تر اللہ کی مساجد میں عبادت وذکر کی وجہ سے مومن کے قلب میں جاگزیں ہوتا ہے۔ مساجد میں ذکر الٰہی : ارشاد ہوتا ہے فی بیوت وہ روشنی اللہ تعالیٰ کے گھروں میں پائی جاتی ہے اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان گھروں کو بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے۔ ان گھروں سے مراد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِيَجْزِيَہُمُ اللہُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَيَزِيْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ۝ 0ۭ وَاللہُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۝ 38 جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–38

ترکیب : : فی بیوت یا تو صفت ہے زجاجہ کی المصباح زجاجۃ وبیوت۔ یا یوقد سے متعلق ہے ای تو قدفی المساجد یا یسبح سے متعلق ہے وھو القویٰ ، رجال یسبح کا فاعل یا مفعول مالم یسم فاعلہ لاتلہیھم رجال کی صفت یخافون صفت ثانیہ لیجزیہم یسبح سے متعلق۔ تفسیر : فی بیوت کو جمہور مفسرین نے کلام سابق کا تتمہ قرار دیکر تشبیہ میں شامل کیا ہے یعنی وہ چراغ جو آئینہ میں ہو اور صاف تیل سے روشن کیا ہو کسی گندہ اور ناپاک مکان میں نہ ہو کہ جس کی روشنی صاف باطنوں کی آنکھوں میں بےقدر معلوم ہوتی ہو بلکہ ان مکانوں میں ہو کہ جن کے بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یعنی مساجد خانہ کعبہ، مسجد نبوی، بیت المقدس مسجد قبایا عام مساجد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 36–38

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَفِیْھَا اسْمُہٗ لا یُسَبِّحُ لَـہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ۔ رِجَالٌ لا لاَّ تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَـآئِ الزَّکٰوۃِ ص لا یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ ۔ لِیَجْزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَیَزِیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَـآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ (النور : 63، 37، 38) (اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جن کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ وہ تعمیر (اور بلند) کیے جائیں اور ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 37–38

فہم القرآن ربط کلام : مساجد کو آباد کرنے اور اپنے رب کا صبح شام ذکر کرنے والوں کے اوصاف۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے انسان کی روزی کا ذمہ لیا ہے لیکن اسے حکم ہے کہ وہ جائز طریقہ کے ساتھ روزی کمانے کی کوشش کرے۔ روزی کمانے کے جائز ذرائع میں بہترین ذریعہ تجارت ہے جس میں دیانت، امانت کے ساتھ محنت اختیار کی جائے تو اللہ تعالیٰ تاجر کی روزی میں وسعت و کشادگی پیدا کرتا ہے۔ تجارت کرنے سے نہ صرف انسان کو کشادہ رزق حاصل ہوتا ہے بلکہ اس میں انسان کے وقار اور تعارف میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہر دور میں تجارت کے بیشمار طریقے رائج رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہوتا رہے گا منڈی اور بازار میں دکانداری کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

38: لِیَجْزِیَھُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَیزَیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا بہترین بدلہ عنایت کرے اور اپنے فضل سے اس سے زائد بھی عنایت فرمائے) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے اور ڈرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے یعنی تاکہ ان کو دوگنا ثواب سے بدلہ دے۔ ویزیدھم (اور اس میں اضافہ فرمائے) عمل پر مقررہ ثواب پر بطور فضل اضافہ فرمائے۔ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآ ئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بغیر حساب رزق دیتے ہیں) یعنی جس کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں ایسا ثواب دیتے ہیں جو دیگر مخلوق کے حساب میں داخل نہیں ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38۔ لیجزیھم اللہ احسن ماعملوا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں نماز ادا کریں ، زکوۃ دیں تاکہ اللہ انکوان کے اعمال کا اچھا بدلہ دیں، اس کا اچھا بدلہ انہوں نے اعمال کیے، ویزیدھم من فضلہ، ، اتنادے کہ جوان کے اعمال سے بڑھ کر ہو، واللہ یرزق من یشاء بغیر حساب ، پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کی مثال بیان فرمائی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–38

36۔ 38:۔ عمرو بن میمون کوفی ثقہ تابعیوں میں ہیں ‘ حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایت ہے ‘ یہ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ اکثر صحابہ ؓ بیت کی تفسیر مساجد کی بیان کیا کرتے تھے ‘ صحابہ ؓ کی اس تفسیر کے موافق حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ عالم ارواح کے نور ہدایت کی جو روشنی ہر ایک ایماندار شخص کے دل میں ہے ‘ اس کا حال تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کیونکہ آدمی کے دل کا حال سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا ‘ ہاں جو لوگ قیامت کے دن کی آفتوں سے ڈر کر مسجدوں میں نماز کے لیے اس طرح وقت پر حاضر ہوتے ہیں کہ دنیا کی کوئی سوداگری ان کو اس حاضری سے باز نہیں رکھ سکتی اور زکوٰۃ کے وقت شریعت کے حکم کے موافق یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–39

(آیت نمبر (36 یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے (فی بیوت) ” گھروں میں “ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں۔ (اذن اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے (ان ترفع ویذ کر فیھا اسمہ) ” کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔ “ ان دو امو میں مساجد کے احکام جمع کردیے گئے ہیں۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر ‘ ان میں جھاڑ و دینا ‘ ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا ‘ ان کو بچوں اور فاتراعقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے ‘ کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغو یات اور ذکر الہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 36–40

بلندی ذکر کی تشریح قول باری ہے : (فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو والاصال رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیح عن ذکراللہ واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ) اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے، ان میں ایسے لوگ صبح وشام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز وادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی ۔ ایک قول کے مطابق آیت کے معنی ہیں ” وہ چراغ جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 38–39

85 ایمان والوں کے لیے آخرت کے بہترین بدلے کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے سچے ایماندار جو کچھ کرتے ہیں آخرت کے اندیشے کی بنا پر اور اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان کو نوازے انکے اعمال کے بہترین بدلے سے کہ ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا اور اس سے بھی بڑھ کر سات سو گنا تک اور اس سے بھی زیادہ اور پھر ان کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازے گا جو نہ کہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں گی نہ کسی کان نہ سنی ہوں گی اور نہ کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا ہوگا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور دیدار الہی کے شرف سے سرفرازی کی جو معنوی اور روحانی نعمتیں انکو حاصل ہوں گی وہ ان سب سے کہیں بڑھ کر ہوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 34–38

اللہ کے نور مثال اور مرد لوگوں کی تعریف تشریح : ان آیات میں اللہ کے اس صفاتی نام نور کی مثال دی گئی ہے ایک ایسے روشن، خوبصورت ترین چراغ کے ساتھ جس میں تیل بھی بہترین زیتون کے درخت کا پڑتا ہے۔ زیتون کے درخت کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر بہترین درخت وہ ہوتا ہے جو کھلی فضا اور کھلی جگہ میں ہوتا ہے۔ اس کا تیل کھانے کے لیے اور جلانے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ زیتون کا درخت اس کا پھل اور اس کا تیل انسان کے لیے بےحد مفید شفاف اور صحت کے لیے بہترین غذائیت رکھتا ہے۔ اللہ کے نور کی تعریف کرنا بڑی مشکل بات ہے بہرحال اس وقت کے بہترین چراغ سے اللہ نے خود اپنے نور کو تشبیہ دی ہے۔ ہم تو صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–40

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، نور کا معنی ایسی چیز ہے جو از خود ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرنے والی ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ تمام جہانوں میں حقیقی ذاتی اللہ کی ہے جو ہر ہر شے سے ظاہر ہے اور دوسری چیزوں کی روشن اور ظاہر کرنے والی ہے تو یہ نور جو شئے کے معنوں میں آئے گا اس کا اطلاق اللہ کی ذات پر نہ ہوگا بلکہ اس کی طرف سے عطا کی جانے والی روشنی پر ہوگا کہ اصل سارے نور اور روشنی کا مالک اللہ ہے پھر اس کے نور کی اور روشنی بخشنے کی مثال ایسی کہ جیسے کسی طاق میں ایک روشن چراغ اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہو جو شفاف اور ستاروں جیسے چمکدار شیشے کی بنی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

11 ۔ جیسا کہ اس کا وعدہ ہے کہ وہ نیکی کا بدلہ دس گناہ۔ بلکہ سات سو گناہ، بلکہ بےحدو حساب دے گا۔ یا یہ کہ ایسے لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں مذکور ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:38) لیجزیہم اللہ۔ لام علت اور سبب بیان کرنے کے لئے ہے اور اس کا تعلق یسبح۔ لا تلھیہم اور لا یخافون سب سے ہے۔ یجزی مضارع منصوب (بوجہ لام تعلیل) واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اللہ فاعل۔ تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے احسن۔ بہت اچھا۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے اس کا تعلق ما عملوا سے بھی ہوسکتا ہے (کہ اللہ انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دے) ۔ اس صورت میں عملوا سے مراد عام عمل بلا تخصیص ہوگا۔ ورنہ تسبیح۔ ذکر اللہ۔ اقام الصلوٰۃ۔ ایتاء الزکوٰۃ۔ تو ازخود جزائے خیر کے مستحق ہیں۔ یا اس کا تعلق جزاء سے ہے ای لیجزیہم احسن جزاء عملہم۔ تاکہ وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) ان کو ان کے اعمال کی بہترین…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–40

لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 40 : مسکوۃ (طاق) ‘ مصباح (چراغ) ‘ زجاجۃ (شیشہ۔ قندیل) ‘ کو کت (ستارہ) ‘ دری (موتی کی طرح چمک دار) یوقد (روشن کیا جاتا ہے) ‘ زیت (تیل) یضیء (روشن کیا جاتا ہے) ‘ لم تمسس (نہ چھوا ہو) ‘ یضرب (بیان کرتا ہے۔ مارتا ہے) ‘ اذن (اجازت دی ہے) ‘ ترفع (بلند کیا جاتا ہے۔ کیا جائے) ‘ الغدو (صبح) ‘ الاصال (شام) لاتلھی (غافل نہیں کرتی) ‘ بیع (تجارت۔ لین دین) ‘ قیعۃ (قاع) چٹیل کھلا ریت کا میدان) ‘ الظمان (پیاسا) ‘ لجی (گہرپانی) ‘ سحاب (بادل) ‘ لم یکد (قریب نہیں ہے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 40 : آسمانوں ‘ زمین اور کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ہدایت کا نور موجزن ہے۔ جہاں بھی اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–38

نیک لوگون کے اعلی اوصاف کا ذکر۔ (ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے دل کا حال سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا ہاں جو لوگ قیامت کے دن آفتوں سے ڈر کر فجر وظہر وعصر مغرب، عشاء مسجدوں میں نماز کے لیے اس وقت پر حاضر ہوتے ہیں کہ دنیا کی کوئی سوداگری ان کو اس حاضری سے باز نہیں رکھ سکتی ، اور زکوۃ کے وقت شریعت کے حکم کے موافق یہ لوگ زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں پھر فرمایا یہ لوگ نیک کام کرتے ہیں وہ کسی دکھاوے کے لیے نہیں کرتے بلکہ ان کا ہر ایک نیک کام اس نیت سے ہوتا ہے کہ بارگاہ الٰہی سے قیامت کے دن اس نیک کا اچھا بدلہ عطا ہو، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور کچھ زیادہ بھی ان کو دیوے جو نیک عمل کی جزا سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–38

اللہ نور ہے : (ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمینوں کے نور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے ، اور قندیل ایسی صاف اور چمکدار ہے گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے ، اس میں برابر یکسان روشنی ہے نہ شرقی ہے اور نہ غربی تیل اس طرح کا مصفا کہ بغیر آگ جلنے کے تیار ہے ظاہر ہے کہ ایسی روشنی تیز ہوگی ، واضح ہوگی دور تک پہنچنے والی اور پاکیزہ ہوگی پس اپنے نور سے جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھلاتا ہے ، کیونکہ اللہ کی ذات ہر قسم کی تشبیہ سے پاک ہے ۔ (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ چناچہ آیت کے اختتام پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) ان لوگوں کا مال اور انجام یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا صلہ اور بدلہ دے گا اور علاوہ بدلے کے ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دے گا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بیشمار اور بےحساب روزی دیتا ہے۔ بیوت سے مراد مساجد ہیں یعنی یہ چراغ یا جن کے سینوں میں یہ نور ہدایت روشن ہے اقوال مختلفہ کی بنا پر ہم نے ترجمے اور تیسیر میں فرق کردیا ہے ان گھروں کے متلعق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بنایا جائے اور ان کو بلند کیا جائے یا یہ کہ ان کا ادب و احترام اور توقیر و تعظیم کی جائے ان میں کوئی نکمی اور فضول باتیں نہ کی جائیں۔ حائضہ اور نفسا عورتیں اور جنبی لوگ اس میں داخل نہ ہوں دنیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–39

ف 1۔ جزا وہ جس کا وعدہ مفصل ہے اور زیادہ جس کا مفصل وعدہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دعا بدرگاہ خدا کہ وہ نیکوکاروں کو نیک اعمال کا بدلہ عطا کرے : 62۔ انسان اور بھول چوک خطا ونسیان آپس میں لازم وملزوم ہیں اگر کوئی شخص برائیوں سے بچتا ہے تو بلاشبہ اس پر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا بہت بڑا فضل ہے اور وہ نیکو کاروں کو اس ان کے نیک اعمال کا یقینا بدلہ دے گا ، اس کے ہاں اندھیر کھاتا نہیں اور یہ بھی کہ وہ دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے ، اہل ایمان سے جو مستقل وعدہ کیا گیا ہے وہ تو یقینا جنت ہی کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی اور کسی حال میں بھی وعدہ خلافی نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے ۔ اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے : 63۔ انسان کے سان و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–39

Toward the end of the verse their reward is described that they shall be graced with the best reward for their actions by Allah Ta’ ala, and then the verse says: وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ (and will give them more out of His grace - 38). It means that their reward will not end with the recompense against the good actions, but some extra reward will also be given on His own وَاللَّـهُ يَرْ‌زُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ (and Allah gives whom He wills without counting - 38), that is neither Allah is bound by any rule nor does His treasure gets depleted. He grants unlimited sustenance to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

69. Here those characteristics have been described which are necessary for the true perception of Allah’s Absolute Light and for benefiting from His bounties. Allah does not bestow His bounties without reason. He bestows them on the deserving ones alone. He only sees this that the recipient has sincere love for Him, stands in awe of Him, seeks His favors and avoids His wrath; he is not lost in material pursuits but in spite of his worldly engagements keeps his heart warm with God’s remembrance. Such a person does not rest content with low spiritual levels, but actively endeavors to attain the…

Read the full tafseer →