An-Noor 24:24

An-Noor · from ayah 24

24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَاَیْدِیْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟يَّوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ اَلۡسِنَـتُهُمۡ وَاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں سب ان کے کاموں کی گواہی دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

On a Day when their tongues, their hands and their feet will bear witness against them as to what they used to do.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:24

وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں سب ان کے کاموں کی گواہی دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن خود ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کرتوت کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن ان پر گواہی دیں گے ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن (خود) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں انہی کے خلاف گواہی دیں گے کہ جو کچھ وہ کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن ایسے مجرموں کی اپنی زبانیں، ہاتھ اور پاؤں ان کے کرتوتوں سے متعلق ان کے خلاف گواہی دیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن جس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان کے سامنے ان کے اعمال کی گواہی دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن ان کے خلاف گواہی دیں گی خود ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ اور پاؤں ان کاموں کی جو یہ لوگ کیا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اس دن (جس دن) ان کے خلاف گواہی دیں گی ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ان کاموں کی جو یہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن ان کے خلاف گواہی دیں گی ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں اس بارے میں کہ جو عمل وہ کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قیامت کے دن جس روزان کی زبانیں ہاتھ اور پائوں سب ان کے کاموں کی گواہی دیں گے۔ (

— محترمہ رفعت اعجاز

They should not forget the Day when their own tongues and their own hands and test will bear testimony in regard to their misdeeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

on the Day when their tongues, their hands and their legs will testify against themselves of what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

on the Day when their tongues, their hands and their legs will testify against themselves of what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On the Day when their tongues, their hands, and their legs will bear witness against them as to what they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when their tongues and their hands and their feet testify against them as to what they used to do,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

On a Day when their tongues, their hands and their feet will bear witness against them as to what they used to do.

— Saheeh International

on the day when their tongues, hands, and feet will testify to what they had done.

— Muhammad Sarwar

On the day when their tongues and their hands and their feet shall bear witness against them as to what they did.

— Muhammad Habib Shakir

On the Day whereon their tongues and their hands and their feet will bear witness against them regarding that which they were wont to work.

— Abdul Majid Daryabadi

On the Day when their tongues, their hands, and their feet will bear witness against them as to their actions.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–25

ام المومنین عائشہ صدیقہ کے گستاخ پر اللہ کی لعنت جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی ؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو صدیق اکبر ؓ کی صاحبزادی تھیں ؓ۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المومنین کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ کی اور ازواج مطہرات کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ کے ہیں۔ واللہ اعلم۔ فرماتا ہے کہ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–25

سورة النُّوْر 21 (الف) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 55، حم السجدہ، حاشیہ 25۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–25

يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَاَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی اس روز جبکہ ان کے خلاف خود ان کی زبانیں اور ہاتھ اور پاؤں بولیں گے اور ان کے جرائم کی شہادت دیں گے جیسا کہ روایات حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز جو گنہگار اپنے گناہ کا اعتراف کرلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیں گے اور محشر کے مجمع عام کی نظروں سے اس کے گناہ کو چھپا دیں گے اور جو وہاں بھی انکار کرے گا کہ میں نے تو یہ کام نہیں کیا، نگراں فرشتوں نے غلط میرے نامہ اعمال میں لکھ دیا ہے۔ تو اس وقت ان کے منہ بند کردیئے جاویں گے اور ہاتھ پاؤں سے گواہی لی جاوے گی وہ بولیں گے اور شہادت دیں گے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–25

آیت 25-23 منافقین کے جرم کی شناعت اور ان کو شدید محصنت یہاں پاکدامن شریف زادیوں کے مفہوم میں ہے اور غفلت سے مراد دنیا کے چھل فریب سے نا آشنا بھلوی بھالی خواتین ہیں۔ اگرچہ ا لفاظ عام ہیں اور مرادان سے وقت کے مسلم معاشرہ کی تمام شریف زادیاں ہیں لیکن ان میں ایک لطیف اشارہ خاص طور پر حضرت عائشہ صدیقہ کی طرف ہے ان الفاظ کا سب سے اعلیٰ مصداق وہی ہو سکتی ہیں۔ رمی کے اصل معنی تو تیر مارنے کے ہیں لیکن یہ کسی پر تہمت اور بہتان لگانے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا یہ۔ یہاں غفلت پر تہمت لگانے کے لئے اس لفظ کیا ستعمال میں ایک خاص بلاغت ہے۔ اس کے اندر یہ کنایہ ہے کہ جو لوگ بھولی بھالی پاکدامن بیبیوں پر تہمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–25

24-1جیسا کہ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر بھی اور احادیث میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–25

13: جو دو تین مخلص مسلمان اپنی سادہ لوحی سے منافقوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے تھے، ان میں ایک مسطح بن اثاثہ ؓ بھی تھے جو مہاجر صحابی تھے، اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔ حضرت صدیق اکبر ان کی مالی مدد فرمایا کرتے تھے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ مسطح ؓ نے بھی حضرت عائشہ ؓ کے خلاف ایسی باتیں کی ہیں تو انہوں نے قسم کھالی کہ میں آئندہ ان کی مالی مدد نہیں کروں گا، حضرت مسطح سے غلطی ضرور ہوگئی تھی، لیکن پھر انہوں نے سچے دل سے توبہ بھی کرلی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں متنبہ فرمایا کہ ان کی مالی مدد نہ کرنے کی قسم کھانا ٹھیک نہیں ہے۔ جب انہوں نے توبہ کرلی ہے تو ان کو معاف کردینا چاہیے۔…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(یوم تشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلھم) (24 : 24) ” وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور انکے اپنے ہاتھ پائوں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے “۔ ان میں سے بعض بعض پر الزمات عائد کردیں گے کہ تم لوگ پاک دامن ‘ بیخبر مومن عورتوں پر بہتان تراشی کرتے تھے۔ یہ اس منظر میں ایک نہایت ہی موثر تقابل ہے کہ جس طرح وہ جھوٹے الزامات لگاتے ہیں ‘ اسی طرح ان کے خلاف سچے الزام ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی مجرم منہ سے بولنا اور ظاہر کرنا نہ چاہے گا۔ مگر خود زبان اور ہاتھ پاؤں بولیں گے اور ان میں سے ہر عضو اس عمل کو ظاہر کرے گا جو اس کے ذریعہ سے کیا گیا تھا (لطیفہ) قاذف نے زبان سے تہمت لگائی تھی اور چار گواہوں کا اس سے مطالبہ تھا جو پورا نہ کرسکا۔ اس کے بالمقابل یہاں یہی پانچ چیزیں ذکر ہوئیں۔ ایک زبان جو قذف کا اصلی آلہ ہے اور چار ہاتھ پاؤں جو اس کی شرارت کے گواہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ” شَھِدَکے بعد جب عَلٰی آتا ہے تو یہ کسی کے خلاف شہادت دینے کا مفہوم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے حوالے سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ انسان کا جسم اور اس کے تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ اگر وہ اپنے کسی عضو کو اللہ کی نافرمانی یا گناہ کے کسی کام میں استعمال کرتا ہے تو وہ عضو اپنی جگہ احتجاج تو کرتا ہے مگر انسان کی حکم عدولی نہیں کرتا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعضاء کو اس کے تابع کر رکھا ہے۔ لیکن قیامت کے دن یہ اعضاء اس طرح انسان کے تابع نہیں رہیں گے اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 23–24

29 اس دنیا میں انسان جو کچھ زبان سے بولتا یا کلام کرتا ہے۔ وہ دل کے ارادہ کے مطابق بولتا ہے۔ دل میں جھوٹ بولنے یا ہیرا پھیری کرنے کی نیت ہو تو انسان کی زبان ہی الفاظ ادا کرے گی جو انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ گویا زبان دل کے ارادہ کے تابع ہوتی ہے اور دوسرے اعضا وجوارح بھی وہی کام کرتے ہیں۔ جیسے انسان کا دل چاہتا ہو۔ مگر آخرت میں یہ اعضاء انسان کے ارادہ کے تابع نہیں ہوں گے بلکہ اس حقیقت کے تابع ہوں گے کہ انسان اس دنیا میں اپنے اعضاء وجوارح سے جو کام لے رہا ہے۔ تو ساتھ کے ساتھ ان اعمال و افعال و اقوال کے اثرات ان اعضا وجوارح پر بھی مترتب ہوتے جا رہے ہیں۔ آج انسان اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

41۔ مثلا زبان یوں کہے گی کہ اس نے میرے ذریعہ سے فلاں فلاں کفر قولی صادر کیے۔ ہاتھ پیر یہ کہیں گے کہ اس نے فلاں فلاں کفر عملی میں ہم سے مدد لی۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کا جو مرتبہ حق تعالیٰ کے ہاں سے ہے اسی سے ظاہر ہورہا ہے کہ جس تفصیل واہتمام کے ساتھ ان کی صفائی قرآن میں پیش کی گئی ہے، کسی اور کی نہیں ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–26

آیت نمبر 21 تا 26 ترجمہ : اے ایمان والو تم شیطان کے نقش قدم پر مت چلو یعنی شیطان کے راستوں پر مت چلو یعنی اس کی تلبیس اور فریب میں نہ آؤ، اور جو شخص شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے تو وہ یعنی شیطانی راستہ پر چلنے والا شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے فحش یعنی بےحیائی اور شرعاً نا معقول ہی کام کرنے کو کہے گا اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو اے لوگو تم میں سے کبھی کوئی پاک صاف نہ ہوتا اس وجہ سے کہ تم نے افتراء پردازی کی، یعنی توبہ کے ذریعہ نہ اس گناہ سے درست ہوتا اور نہ پاک ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے گناہ سے اس کی توبہ کو قبول کرکے اور اللہ تعالیٰ تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم تشہد علیہم السنتہم وایدیہم وارجلہم بما کانوا یعملون۔ جس روز کہ ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف (ہو کر) ان کے کئے ہوئے اعمال پر گواہی دیں گے (اس روز ان پر عذاب عظیم ہوگا) ۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی راویت سے بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن حساب کے لئے مؤمن کو طلب کیا جائے گا اور اس کا رب اس کے کئے ہوئے وہ اعمال اس کے سامنے لائے گا جو بندے اور رب کے درمیان تھے (یعنی حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والے اعمال جن سے بندہ واقف ہوگا اور اس کا رب بندے کے سامنے لائے جائیں گے) مؤمن ان کا اقرار کرے گا اور عرض کرے گا اے میرے رب ! میں نے یہ کئے تھے میں نے یہ کئے تھے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(24) اور وہ قیامت کا دن ہوگا کہ جس دن عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ان کی زبانیں ان باتوں پر گواہی دیں گے اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں بھی گواہی دیں گے ان کاموں کی جو یہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ۔۔ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یٰسٓ (65) اور سورة حٰم السجدہ (19 تا 21) یعنی ان کے یہ اعضا ان کے خلاف تہمت لگانے اور دوسرے برے اعمال کی گواہی دیں گے۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں : (کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَضَحِکَ فَقَالَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مِمَّا أَضْحَکُ ؟ قَالَ قُلْنَا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ مِنْ مُخَاطَبَۃِ الْعَبْدِ رَبَّہُ ، یَقُوْلُ یَا رَبِّ ! أَلَمْ تُجِرْنِيْ مِنَ الظُّلْمِ ؟ قَالَ یَقُوْلُ بَلٰی، قَالَ فَیَقُوْلُ فَإِنِّيْ لَا أُجِیْزُ عَلٰی نَفْسِيْ إِلَّا شَاھِدًا مِنِّيْ ، قَالَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 24 ۔ عام قرأت تاء کے ساتھ ہے۔ ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے۔ اعمش، یحییٰ ، حمزہ، کسائی اور خلف نے یشھد یاء جے ساتھ پڑحا ہے۔ ابو عبیدہ نے بھی اس کو اختیار کیا ہے کیونکہ جار مجرور، اسم اور فعل کے درمیان حائل ہیں۔ معنی یہ ہے اس دن کو یاد کریں جب بعض کی زبانیں بعض پر گواہی دیں گی ان اعمال پر جو وہ قذف اور بہتان میں کرتے تھے۔ بعض علماء نے کہا : اس دن ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی اس کیساتھ جو انہوں نے کلام کی تھی۔ وایدیھم وارجلھم دنیا میں جو اعمال کیے ہوں گے ان کی متعلق ان کے اعضاء بولیں گے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابو یعلی وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا کافر اپنے عملوں کو پہچان لے گا مگر انکار کردے گا اور جھگڑا کرے گا تو اس سے کہا جائے گا یہ لوگ تیرے پڑوسی ہیں وہ تیرے خلاف گواہی دے رہے ہیں تو وہ کہے گا انہوں نے جھوٹ بولا پھر اس سے کہا جائے گا یہ تیرے اہل و عیال اور تیرا کنبہ ہے جو تیرے خلاف گواہی دے رہے ہیں وہ کہے گا انہوں نے جھوٹ بولا پھر ان سے کہا جائے گا تم قسمیں اٹھاؤ تو وہ قسمیں اٹھائیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کو خاموش کردیں گے اور ان پر ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ گواہی دیں گے پھر ان کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا۔ 2۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَّوْمَ [ جس دن ] تَشْهَدُ [ گواہی دیں گے ] عَلَيْهِمْ [ ان کے خلاف ] اَلْسِنَتُهُمْ [ ان کی زبانیں ] وَاَيْدِيْهِمْ [ اور ان کے ہاتھ ] وَاَرْجُلُهُمْ [ اور ان کے پیر ] بِمَا [ اس کی جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کیا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 22–24

دوسری آیت (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ ) میں یہ فرمایا کہ تم میں سے بڑے درجے والے اور وسعت والے ایسی قسمیں نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور فی سبیل اللہ ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے، پہلے گزر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنے رشتہ دار مسطح بن اثاثہ پر مال خرچ کیا کرتے تھے جب مسطح نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو تہمت لگانے والے کا ساتھ دیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکر صدیق نے قسم کھالی کہ اب تجھ پر خرچ نہ کروں گا۔ اس پر آیت کریمہ (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ تفسیر درمنثور میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–26

بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–25

23:۔ ” ان الذین یرمون الخ “ یہ منافقین کے لیے تخویف دنیوی و اخروی ہے وہ دنیا اور آخرت میں خداوند تعالیٰ کی لعنت کا مورد ہیں اور آخرت میں انہیں ہولناک عذاب میں بھی مبتلا کیا جائیگا اس سے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مراد ہے جو واقعہ افک کا سرغنہ تھا۔ قال مقاتل ھذا خاص فی عبداللہ ابن ابی المنافق (معالم ج 5 ص 64، خازن ص 65) ۔ ” یوم تشھد الخ “ ظرف لغو یا ” عذاب عظیم “ سے متعلق ہے قیامت کو جب یہ منافق اپنے افعال قبیحہ اور اعمال شنیعہ کے ارتکاب سے انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے گویائی کا اختیار سلب کرلے گا اور ان کے جوارح کو بولنے کی قوت عطاء فرما دے گا۔ چناچہ ان کے ہاتھ پاؤں اور زبان ان کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–26

ربط آیات : گزشتہ دروس میں افک کا واقعہ بیان ہوا ہے ۔ یہ منافقوں کی سازش تھی جس کی لپیٹ میں بعض مخلص مسلمان بھی آگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں ملوث ہونے والے منافقوں اور مسلمانوں کو سخت ترین الفاظ میں مذمت بیان کی ہے مسلمانوں پر حد قذف جاری ہوئی اور اللہ نے ان کی توبہ بھی قبول فرمائی۔ پھر اللہ نے تنبیہ کی کہ اس کے جاری کردہ قوانین کی پابندی کرو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ شیطان ہمیشہ بےحیائی اور برائی کی تلقین کرتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان اور اس کی مہربانی ہوئی کہ اس نے تمہیں پاک کیا۔ تمہیں پاکیزہ قانون عطا کیا اور موقع دیا کہ آئندہ ایسی کسی سازش میں شریک نہ ہوں۔ پھر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَيْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَيْدِيْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 24 شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ص وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ یَّوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَـتُہُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (النور : 23، 24) (بیشک جو لوگ پاکدامن، بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جس دن گواہی دیں گی ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان اعمال پر جو وہ کیا کرتے تھے۔ ) پاکدامن اور بھولی بھالی مومن عورتوں پر الزام کی سنگینی اس سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کی ذات گرامی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں سزا۔ سابقہ آیات میں حضرت عائشہ ؓ کے حوالہ سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے تہمت طرازی سے بچا کریں۔ اب تمام پاکدامن مومن عورتوں کے بارے میں اصول بیان کیا گیا ہے کہ جس نے پاکدامن، بیخبر بھولی بھالی مسلمان خواتین پر تہمت لگائی ان پر اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں لعنت کریں گے اور ان کے لیے عظیم تر عذاب ہوگا۔ ممکن ہے کہ دنیا میں یہ لوگ اپنی چرب لسانی یا کسی وجہ سے سزا سے بچ جائیں لیکن انہیں وہ دن یاد رکھنا چاہیے جس دن ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کردار کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24: یَّوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْہِمْ (جس روز کہ ان پر گواہی دیں گی) یومؔ کا عامل یعذبون ہے۔ قراءت : حمزہ اور علی نے یاء سے پڑھا ہے۔ اَلْسِنَتُھُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پائوں جو کچھ وہ کرتے رہے) یعنی جو طوفان انہوں نے اٹھایا یا جو بہتان باندھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24۔ یوم تشھد علیھم۔ حمزہ اور کسائی نے ، یشھد، پڑھا ہے فعل کی تقدیم کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے تشھد، تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ السنتھم، زبان بندی سے پہلے کا وقت مراد ہے۔ وایدیھم وارجلھم، روایت میں آتا ہے کہ زبان پر مہرلگادی جائے گی پھر ہاتھ اور پاؤں بولیں گے اور جو کچھ دنیا میں انہوں نے کیا ہوگا وہ سب کچھ کھول کر بیان کردیں گے بعض نے کہا بعض لوگوں کی زبانیں گواہی دیں گی اور بعض لوگوں کے ہاتھ پاؤں ۔ بماکانوا یعملون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–25

23۔ 25:۔ شروع سورت میں اس طرح کے جھوٹا عیب لگانے والوں کے ذکر میں توبہ کا تذکرہ بھی فرمایا ہے اور یہاں ان آیتوں میں توبہ کا تذکرہ نہیں ہے اس کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے کہ جس بہتان کا اس سورت میں ذکر ہے ‘ اس بہتان میں دو طرح کے آدمی تھے ‘ کچھ تو عبداللہ بن ابی منافق کی طرح کے تھے جو حقیقت میں مسلمانوں کے بدخواہ تھے اور کچھ لوگ مسلمان تھے ‘ جو حقیقت میں تو مسلمانوں کے بدخواہ نہیں تھے مگر منافقوں کی سنی سنائی باتوں پر اس بہتان کے چرچے میں شریک ہوگئے تھے مثلا جیسے حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی تفسیر کے موافق شروع سورة کی آیتوں میں ان عیب لگانے والوں کا ذکر ہے جو حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–26

آیت (11 چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔ اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–25

غریب رشتہ دار کی اعانت نہ چاہتے ہوئے بھی جاری رہے قول باری ہے : (ولا یاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یوتوا اولی القربیٰ ) تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ داروں کی مدد نہیں کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے زیر پرورش دو یتیموں کے سلسلے میں ہوا تھا ۔ حضرت ابوبکر ؓ ان کی کفالت کرتے تھے ان میں سے ایک کا نام مسطح بن اثاثہ تھا۔ ان دونوں نے بھی حضرت عائشہ ؓ پر بہتان طرازی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کی برات نازل فرمادی تو…… حضرت ابوبکر ؓ نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–25

38 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد رکھیں یہ لوگ اس یوم عظیم کو جس دن کہ ان کی اپنی زبانیں ان کیخلاف گواہی دیں گی "۔ یعنی اس روز ان کی زبانیں ان کے ارادئہ ومرضی کے مطابق نہیں بلکہ حق کے مطابق بولیں گی۔ اور سچ سچ حقیقت واقعہ بیان کردیں گی۔ جس کے بعد ان کے لئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی طرح ان کے ہاتھ پاؤں بھی انکے خلاف گواہی دیں گے۔ سو اس روز ان کے جرائم کے اثبات کیلئے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ خود انکے اندر کی یہ گواہیاں ان کے جرائم کے اثبات کیلئے کافی ہونگی۔ سو آج یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف جن سازشوں اور ریشہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–26

شیطان کی چالوں سے اللہ کا فضل بچا سکتا ہے تشریح : ان آیات میں واقعہ افک کی کچھ وجوہات بیان ہوئی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ شیطان کی شرارت ہے۔ شیطان تو ہر وقت اور ہر صورت سے انسان کو بہکانے میں لگا رہتا ہے۔ کیونکہ وہ تو انسان کا پکا دشمن ہے اور کچھ انسانی کمزوری ہے کہ وہ جلدی شیطان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر میرا فضل میری رحمت اور میری مدد انسان کو میسر نہ ہو تو اکثر و بیشتر انسان اس کے شکار ہوجائیں۔ افواہیں ‘ بدگمانیاں اور فتنے یہ سب شیطان کے راستے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ افک بھی تھا۔ جس کی وجہ سے بڑا ہنگامہ ہوا کئی نیک لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–26

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اے مسلمانو ! شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کہ جو بھی شیطان کی بات سنتا ہے یا اس کے ساتھ چلنے لگتا ہے تو شیطان اسے بےحیائی اور برائی کا مشورہ دیتا ہے یا ایسے امور اختیار کرتا ہے اور ایسے ڈھنگ سے راہ دکھاتا ہے کہ وہ بےحیائی اور برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے لہذا معاشرے میں بےحیائی پھیلانے والے سارے کام یہ ثقافت کے نام پر راگ رنگ کی محفلیں عریانیت اور فحش فلمیں یہ سب اسی کا شاخسانہ ہیں اور ایمان والے بندے کو ان کا ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا ورنہ یہ اس کا ایمان بھی ضائع کریں گے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی ان کی زد سے نہ بچتا نہ اسے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 23–24

(24:23) یرمون۔ ملاحظہ ہو (24:6) ۔ لعنوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب لعن مصدر (باب فتح) ان پر لعنت کی گئی وہ ملعون ہوئے۔ وہ رحمت سے دور کئے گئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–26

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : لاتتبعوا (تم پیچھے نہ چلو۔ تم اتباع نہ کرو) ‘ خطوات (خطوط) قدم۔ نقش قدم ‘(الفحشاء (فحش) بےحیائی کے کام ‘ مازکی (صاف ستھرانہ ہوتا) ‘ لا یاتل (ایتلائ) قسمیں نہ کھائیں ‘ اولی الفضل (حیثیت والے) ‘ السعۃ (گنجائش والے۔ وسعت والے) الا تحبون ( کیا تم پسند نہیں کرتے) ‘ المحصنت (المحسنۃ) پاک دامن ‘(الغفلت) (بےخبر۔ انجان۔ بھولی بھالی) ‘ السنۃ (لسان) زبانیں ‘ ایدی (دونوں ہاتھ) ‘ ارجل (رجل) پاؤں ۔ یوفی (وہ پورادے گا) ‘ الخبیثات ( گندی عورتیں) الطیبت (پاک صاف ستھری عورتیں) ‘ مبرءون (بری ہونے والے ۔ پاک صاف) ۔ تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 : شیطان جو انسان کا ازلی کھلا دشمن ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–26

سیدہ عائشہ ؓ کی عظمت۔ (ف 2) شروع قصہ سے یہاں تک حضرت عائشہ عنہا کی برات میں اللہ تعالیٰ نے یہ پندہ آیتیں نازل فرمائیں علماء اسلام کا یہ فیصلہ ہے کہ اتنی برات کے بعد جو فرقہ حضرت عائشہ کو اب بھی عیب لگائے گا وہ قرآن شریف کا منکر فرقہ ہے اور اس فرقہ کے کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کیونکہ وہ فرقہ قرآن کی آیتوں کا منکر ہے اس کے بعد اب اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ پاکدامن بیخبر ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں تو یہ پاکدامن عورتیں ایسی باتوں سے بالکل بیخبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پارسائی اور پاکدامنی کی کامل طور پر تعریف کی ہے اور فرمایا کہ عیب لگانے والے دنیا میں ملعون اور مردود ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–25

[22] سیّدنا مسطح ؓ ایک نادار صحابی تھے۔ وہ مہاجر تھے، بدری تھے اور سیّدنا ابوبکر ؓ کے عزیز بھی تھے۔ سیّدنا ابوبکر ؓ ان کی مالی امداد کرتے رہتے تھے مگر کیونکہ سیّدنا مسطح ؓ نے تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا اس لئے سیّدنا ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ وہ ان کی کوئی مدد نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–25

(ف 3) اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ پرہیزگاروں اور پاکباز عورتوں کو متہم کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ یہ دین اور دنیا میں لعنت اور سخت عذاب کا موجب ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پرہیزگار اور ایماندار مردوں اور عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ ان کی تذلیل ملعونیت ہے اور عذاب عظیم کا باعث ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) جس دن ان لوگوں کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پائوں اور ان لوگوں کے ان اعمال پر گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–24

ف 5۔ سو تم کو بھی تخلق باخلاق اللہ چاہئے، تم بھی اپنے قصور داروں کو معاف کردو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دن کہ انسان پر اس کی زبان ‘ ہاتھ اور پاؤں تک گواہی دیں گے : 34۔ ہر انسان اپنے اعضاء سے کام لینے پر ایک حد تک مختار ہے جو بولنا چاہتا ہے زبان بول دیتی ہے ‘ جو کرنا چاہتا ہے وہ ہاتھ کرتا ہے اور جدھر چلنا چاہتا ہے پاؤں چلنے لگتے ہیں اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ آج یعنی اس دنیوی زندگی میں تو بعض لوگ اپنی چرب زبانی سے اپنی غلط باتوں کی تاویلیں کرلیتے ہیں اور سادہ لوح انسانوں کو بہکانے ‘ پھسلانے کے لئے دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں ذرا وہ اس دن کا بھی تصور کریں جب ان کی زبانیں ان کے ہاتھ ‘ ان کے پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے گویا کوئی ایسا بٹن دبا دیا جائے گا جو دباتے ہی وہ بولتے ‘ ہاتھوں سے کام کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْ‌جُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿24﴾ On the Day their tongues, their hands and their legs will testify against them of what they used to do. - 24:24. The Day on which their own tongues, hands and feet will speak against them and will testify against their crimes, they will be punished precisely according to the crimes they had committed. It is related in Ahadith that on the Dooms Day those who will admit their sins will be pardoned by Allah Ta’ ala, and He will conceal their sins from the crowd of people. If anyone will deny…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

21. The word ghafilat as used in the text means the women who are simple, unpretentious souls, who do not know any artifice, who have pious hearts and have no idea of immorality. They cannot even imagine that their names could ever be associated with any slander. The Prophet (peace be upon him) has said: To slander chaste women is one of the seven deadly sins. According to another tradition cited by Tabarani from Huzaifah, the Prophet (peace be upon him) said: To slander a pious woman suffices to ruin the good deeds of a hundred years. 21a For explanation, see (E.N. 55 of Surah YaSin) and…

Read the full tafseer →