Explained with ayahs 23–25
ام المومنین عائشہ صدیقہ کے گستاخ پر اللہ کی لعنت
جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی ؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو صدیق اکبر ؓ کی صاحبزادی تھیں ؓ۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المومنین کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ کی اور ازواج مطہرات کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ کے ہیں۔ واللہ اعلم۔ فرماتا ہے کہ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّ…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 21
اصل میں لفظ " غافلات " استعمال ہوا ہے جس سے مراد ہیں وہ سیدھی سادھی شریف عورتیں جو چھل بٹے نہیں جانتیں، جن کے دل پاک ہیں، جنہیں کچھ خبر نہیں کہ بد چلنی کیا ہوتی ہے اور کیسے کی جاتی ہے، جن کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ اندیشہ نہیں گزرتا کہ کبھی کوئی ان پر بھی الزام لگا بیٹھے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا ان سات کبیرہ گناہوں میں سے ہے جو " موبقات " (تباہ کن) ہیں۔ اور طبرانی میں حضرت حذیفہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قذف المحصنۃ یھدم عمل مأۃ سَنَۃ، " ایک پاک دامن عورت پر تہمت لگانا سو برس کے اعمال کو غارت کردینے کے لیے کافی ہے "۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤ ْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۠ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ اس آیت میں بظاہر مکرر وہ مضمون بیان ہوا ہے جس اس سے پہلے آیات قذف میں آچکا ہے، وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدً آ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ، اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، لیکن درحقیقت ان دونوں میں ایک بڑا فرق ہے کیونکہ آیات حد قذف کے آخر میں توبہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 25-23
منافقین کے جرم کی شناعت اور ان کو شدید
محصنت یہاں پاکدامن شریف زادیوں کے مفہوم میں ہے اور غفلت سے مراد دنیا کے چھل فریب سے نا آشنا بھلوی بھالی خواتین ہیں۔ اگرچہ ا لفاظ عام ہیں اور مرادان سے وقت کے مسلم معاشرہ کی تمام شریف زادیاں ہیں لیکن ان میں ایک لطیف اشارہ خاص طور پر حضرت عائشہ صدیقہ کی طرف ہے ان الفاظ کا سب سے اعلیٰ مصداق وہی ہو سکتی ہیں۔
رمی کے اصل معنی تو تیر مارنے کے ہیں لیکن یہ کسی پر تہمت اور بہتان لگانے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا یہ۔ یہاں غفلت پر تہمت لگانے کے لئے اس لفظ کیا ستعمال میں ایک خاص بلاغت ہے۔ اس کے اندر یہ کنایہ ہے کہ جو لوگ بھولی بھالی پاکدامن بیبیوں پر تہمت…
Read the full tafseer →23-1بعض مفسرین نے اس آیت کو حضرت عائشہ ؓ اور دیگر ازواج مطہرات ؓ
عنہن کے ساتھ خاص قرار دیا ہے کہ اس آیت میں بطور خاص ان پر تہمت لگانے کی سزا بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ ان کے لئے توبہ نہیں ہے۔ اور بعض مفسرین نے اسے عام ہی رکھا ہے اور اس میں وہی حد قذف بیان کی گئی ہے، جو پہلے گزر چکی ہے۔ اگر تہمت لگانے والا مسلمان ہے تو لعنت کا مطلب ہوگا کہ وہ قابل حد ہے اور مسلمان کے لئے نفرت اور بعد کا مستحق اور اگر کافر ہے، تو مفہوم واضح ہی ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں ملعون یعنی رحمت الٰہی سے محروم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
13: جو دو تین مخلص مسلمان اپنی سادہ لوحی سے منافقوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے تھے، ان میں ایک مسطح بن اثاثہ ؓ بھی تھے جو مہاجر صحابی تھے، اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔ حضرت صدیق اکبر ان کی مالی مدد فرمایا کرتے تھے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ مسطح ؓ نے بھی حضرت عائشہ ؓ کے خلاف ایسی باتیں کی ہیں تو انہوں نے قسم کھالی کہ میں آئندہ ان کی مالی مدد نہیں کروں گا، حضرت مسطح سے غلطی ضرور ہوگئی تھی، لیکن پھر انہوں نے سچے دل سے توبہ بھی کرلی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں متنبہ فرمایا کہ ان کی مالی مدد نہ کرنے کی قسم کھانا ٹھیک نہیں ہے۔ جب انہوں نے توبہ کرلی ہے تو ان کو معاف کردینا چاہیے۔…
Read the full tafseer →(ان الذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔ ھوالحق المبین) (24 : 25) ” جو لوگ پاک دامن ‘ بیخبر ‘ مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پائوں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھرپور دے دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا “۔
اللہ یہاں ان لوگوں کے جرم کو اس طرح پیش کررہا ہے کہ کوئی عورت بیخبر اپنے کسی کام میں مشغول ہو اور اچانک اس پر تیروں کی بارش شروع کردی جائے جس کی اسے توقع نہ ہو اور نہ اس نے اسکا کوئی دفاع سو…
Read the full tafseer →3 صحیحین کی حدیث میں ہے۔ " اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَات الشِّرْکِ باللّٰہ وَقَتْلَ النَّفْسُ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَکْلَ الرِّبٰوا وَاَکْلَ مَالِ الْیَتِیْم وَالتَّوَلّی یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُوْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ ۔ " اس سے ظاہرہوتا ہے کہ قذف محصنات مطلقاً مہلکات میں سے ہے۔ پھر ان میں سے بھی ازواج مطہرات بالخصوص ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کا قذف تو کس درجہ کا گناہ ہوگا، علماء نے تصریح کی ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد جو شخص عائشہ صدیقہ یا ازواج مطہرات میں سے کسی کو متہم کرے وہ کافر، مکذب قرآن اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور طبرانی کی ایک…
Read the full tafseer →آیت 23 اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِص وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ”
”غافِلات“ سے مراد ایسی سیدھی سادھی ‘ بھولی بھالی ‘ معصوم عورتیں ہیں جن کے دل پاک ہیں ‘ جو ان معاملات سے بالکل بیخبر ہیں کہ بدچلنی کیا ہوتی ہے۔ ایسی باتیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
29 اس دنیا میں انسان جو کچھ زبان سے بولتا یا کلام کرتا ہے۔ وہ دل کے ارادہ کے مطابق بولتا ہے۔ دل میں جھوٹ بولنے یا ہیرا پھیری کرنے کی نیت ہو تو انسان کی زبان ہی الفاظ ادا کرے گی جو انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ گویا زبان دل کے ارادہ کے تابع ہوتی ہے اور دوسرے اعضا وجوارح بھی وہی کام کرتے ہیں۔ جیسے انسان کا دل چاہتا ہو۔ مگر آخرت میں یہ اعضاء انسان کے ارادہ کے تابع نہیں ہوں گے بلکہ اس حقیقت کے تابع ہوں گے کہ انسان اس دنیا میں اپنے اعضاء وجوارح سے جو کام لے رہا ہے۔ تو ساتھ کے ساتھ ان اعمال و افعال و اقوال کے اثرات ان اعضا وجوارح پر بھی مترتب ہوتے جا رہے ہیں۔ آج انسان اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ نہیں…
Read the full tafseer →39۔ عمل کرنا کیسا ان بیچاریوں کو تو خبر تک بھی نہیں ایسی گندہ باتوں کی۔ (آیت) ” الغفلت “۔ اردو محاورہ میں ایسے موقع پر بھولی بھالی، سیدھی سادی کہتے ہیں، اسلام نے شریف پاکدامن خاتونوں کا وصف یہ بیان کیا ہے۔ کھیلی کھائی ہوئی، چاروں کھونٹ گھومی گھامی ہوئی، اپنے حقوق کے لیے مرنے مارنے والیاں، اور کسی معاشرہ میں جو درجہ بھی رکھتی ہوں، اسلام میں تو یقیناً کوئی بلند مقام نہیں رکھتیں۔
40۔ (بہ سبب ان کے کفر ونفاق کے) ان وعیدوں کے نزول کے بعد مومنات کے حق میں ایسی جرأتیں کرنے والے کافر و منافق ہی ہوسکتے ہیں، اور ان کا دنیا وآخرت میں اللہ کی رحمت خاص سے مردود ومہجور ہونا بالکل ظاہر ہے اور یہی حاصل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیت نمبر 21 تا 26
ترجمہ : اے ایمان والو تم شیطان کے نقش قدم پر مت چلو یعنی شیطان کے راستوں پر مت چلو یعنی اس کی تلبیس اور فریب میں نہ آؤ، اور جو شخص شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے تو وہ یعنی شیطانی راستہ پر چلنے والا شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے فحش یعنی بےحیائی اور شرعاً نا معقول ہی کام کرنے کو کہے گا اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو اے لوگو تم میں سے کبھی کوئی پاک صاف نہ ہوتا اس وجہ سے کہ تم نے افتراء پردازی کی، یعنی توبہ کے ذریعہ نہ اس گناہ سے درست ہوتا اور نہ پاک ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے گناہ سے اس کی توبہ کو قبول کرکے اور اللہ تعالیٰ تمہاری…
Read the full tafseer →ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المؤمنت لعنوا فی الدنیا والاخرۃ ولہم عذاب عظیم۔ جو لوگ پاکدامن بھولی بھالی مؤمن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں وہ یقیناً دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں اور
ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔
اَلْمُحْصَنٰتِ پاک دامن عورتیں۔
اَلْغٰفِلٰتِ زنا سے بیخبر ‘ بدکاری کا تصور بھی ان کے دل میں نہیں آتا۔
اَلْمُؤْمِنٰتِ اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والیاں۔
عَذَابٌ عَظِیْمٌیعنی دوزخ کے اندر ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔
یہ حکم ہر شخص کا ہے جو کسی پاک دامن ایماندار زنا سے بیخبر عورت پر زنا کی تہمت لگاتا ہے اور آیت والَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدآءَ…
Read the full tafseer →(23) اگلی آیات اللہ تعالیٰ عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اس اتہام لگانے میں بڑا حصہ لیا تھا نازل فرمائی ہیں، چناچہ فرماتا ہے کہ جو لوگ تہمت لگاتے ہیں ان عورتوں کو جو کہ آزاد پاک دامن ہیں اور ایسی باتوں سے بالکل بیخبر ہیں اور ایمان دار ہیں، توحید خداوندی کی تصدیق کرنے والی ہیں یعنی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ان لوگوں یعنی عبداللہ بن ابی منافق پر دنیا و آخرت میں لعنت کی جاتی ہے کہ دنیا میں تو اس کے کوڑے لگیں گے اور آخرت میں دوزخ میں جلے گا اور عبداللہ بن ابی، اور اس کے ساتھیوں کو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہوگا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ان…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ۔۔ : ”الْغٰفِلٰتِ“ (بےخبر) سے مراد وہ سیدھی سادی شریف عورتیں ہیں جن کے دل پاک ہیں اور ان کے دل میں بدچلنی کا بھولے سے بھی خیال نہیں آتا، ان میں سے کسی پر تہمت لگانا کبیرہ گناہ اور لعنت کا باعث ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ ، قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَمَا ھُنَّ ؟ قَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَ أَکْلُ الرِّبَا وَ أَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّيْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَ قَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنت “ خاص طور پر عائشہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن جبیر رحمۃ الہع لیہ سے پوچھا کہ ان میں سے کون سی چیز زیادہ سخت ہے زنایا تہمت لگانا فرمایا زنا (زیادہ سخت گناہ ہے) میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” ان الذین یرمون المحصنت الغلفت “ فرمایا یہ آیت عائشہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی۔
3۔ الطبرانی نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت خاص طور پر حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی آیت ” ان الذین یرمون…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] يَرْمُوْنَ [ الزام دیتے ہیں ] الْمُحْصَنٰتِ [ پاکدامن ] الْغٰفِلٰتِ [ بیخبر (بھولی بھالی)] الْمُؤْمِنٰتِ [ مومن خواتین کو ] لُعِنُوْا [ ان پر لعنت کی گئی ] فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۠ [ دنیا اور آخرت میں ] وَلَهُمْ [ اور ان کے لئے ہے ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم عذاب ]
نوٹ۔ 1: بہتان طرازی اور الزم تراشی کرنے والے مجرم قیامت کے دن نہ تو خود کوئی عذر پیش کرسکیں گے اور نہ ان کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے کسی خارجی شہادت کی ضرورت ہوگی۔ اس دن ان کی زبانیں اور ہاتھ پاؤں خود ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ انھوں نے کیا کیا تہمتیں تراشیں اور کیسے کیسے فساد برپا کئے۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
دوسری آیت (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ ) میں یہ فرمایا کہ تم میں سے بڑے درجے والے اور وسعت والے ایسی قسمیں نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور فی سبیل اللہ ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے، پہلے گزر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنے رشتہ دار مسطح بن اثاثہ پر مال خرچ کیا کرتے تھے جب مسطح نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو تہمت لگانے والے کا ساتھ دیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکر صدیق نے قسم کھالی کہ اب تجھ پر خرچ نہ کروں گا۔ اس پر آیت کریمہ (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ تفسیر درمنثور میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23:۔ ” ان الذین یرمون الخ “ یہ منافقین کے لیے تخویف دنیوی و اخروی ہے وہ دنیا اور آخرت میں خداوند تعالیٰ کی لعنت کا مورد ہیں اور آخرت میں انہیں ہولناک عذاب میں بھی مبتلا کیا جائیگا اس سے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مراد ہے جو واقعہ افک کا سرغنہ تھا۔ قال مقاتل ھذا خاص فی عبداللہ ابن ابی المنافق (معالم ج 5 ص 64، خازن ص 65) ۔ ” یوم تشھد الخ “ ظرف لغو یا ” عذاب عظیم “ سے متعلق ہے قیامت کو جب یہ منافق اپنے افعال قبیحہ اور اعمال شنیعہ کے ارتکاب سے انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے گویائی کا اختیار سلب کرلے گا اور ان کے جوارح کو بولنے کی قوت عطاء فرما دے گا۔ چناچہ ان کے ہاتھ پاؤں اور زبان ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ربط آیات :
گزشتہ دروس میں افک کا واقعہ بیان ہوا ہے ۔ یہ منافقوں کی سازش تھی جس کی لپیٹ میں بعض مخلص مسلمان بھی آگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں ملوث ہونے والے منافقوں اور مسلمانوں کو سخت ترین الفاظ میں مذمت بیان کی ہے مسلمانوں پر حد قذف جاری ہوئی اور اللہ نے ان کی توبہ بھی قبول فرمائی۔ پھر اللہ نے تنبیہ کی کہ اس کے جاری کردہ قوانین کی پابندی کرو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ شیطان ہمیشہ بےحیائی اور برائی کی تلقین کرتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان اور اس کی مہربانی ہوئی کہ اس نے تمہیں پاک کیا۔ تمہیں پاکیزہ قانون عطا کیا اور موقع دیا کہ آئندہ ایسی کسی سازش میں شریک نہ ہوں۔ پھر…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ 0۠ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 23ۙ
رمی
الرَّمْيُ يقال في الأعيان کالسّهم والحجر، نحو : وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى
[ الأنفال/ 17] ، ويقال في المقال، كناية عن الشّتم کالقذف، نحو : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْواجَهُمْ
[ النور/ 6] ، يَرْمُونَ الْمُحْصَناتِ [ النور/ 4] ، وأَرْمَى فلان علی مائة، استعارة للزّيادة، وخرج يَتَرَمَّى: إذا رمی في الغرض .
( ر م ی ) الرمی ( ض ) کے معنی پھینکنے کے ہیں یہ اجسام ( مادی چیزیں ) جیسے تیر وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(ف) حضرت عائشہ ؓ پر بدگمانی کرنے والا کافر ہے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ص وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ یَّوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَـتُہُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (النور : 23، 24)
(بیشک جو لوگ پاکدامن، بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جس دن گواہی دیں گی ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان اعمال پر جو وہ کیا کرتے تھے۔ )
پاکدامن اور بھولی بھالی مومن عورتوں پر الزام کی سنگینی
اس سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کی ذات گرامی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فہم القرآن
ربط کلام : پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں سزا۔
سابقہ آیات میں حضرت عائشہ ؓ کے حوالہ سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے تہمت طرازی سے بچا کریں۔ اب تمام پاکدامن مومن عورتوں کے بارے میں اصول بیان کیا گیا ہے کہ جس نے پاکدامن، بیخبر بھولی بھالی مسلمان خواتین پر تہمت لگائی ان پر اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں لعنت کریں گے اور ان کے لیے عظیم تر عذاب ہوگا۔ ممکن ہے کہ دنیا میں یہ لوگ اپنی چرب لسانی یا کسی وجہ سے سزا سے بچ جائیں لیکن انہیں وہ دن یاد رکھنا چاہیے جس دن ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کردار کے…
Read the full tafseer →پاکدامن پر تہمت لگانے والے ملعون ہیں :
23: اِنَّ الَّذیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ (بیشک جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں) محصنات سے پاکدامن مراد ہیں۔ الغٰفِلٰتِ (بےخبر) ۔ صحیح سالم سینہ والیاں۔ پاکیزہ دل ایسی کہ ان میں چالبازی اور فریب کا نام نہیں کیونکہ ان کو کسی بات کا تجربہ نہیں۔ المُؤْمِنٰتِ (مؤمنہ) جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ قول ابن عباس ؓ : اس سے مراد آپ کی ازواج مطہرات ؓ ہیں۔ ایک قول : اس سے مراد تمام مومنہ عورتیں ہیں۔
فائدہ : کیونکہ عموم الفاظ کا اعتبار ہے۔ سبب خاص کا لحاظ نہیں۔
ایک قول اس سے مراد اکیلی عائشہ صدیقہ ؓ ہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ صیغہ جمع کا لایا گیا تو اس…
Read the full tafseer →23۔ ان الذین یرمون المحصنات، ، اس سے مراد پاکدامن عورتیں ہیں۔ الغافلات، زنا سے بیخبر بدکاری سے دور۔ المومنات، برائی سے غافل جوان کے دل میں بھی کبھی نہیں آئی۔ حضرت عائشہ بھی قران کی بیان کردہ صفات کے مطابق تھیں۔ لعنوا ان کو سزا دی گئی ، فی الدنیا ، دنیا میں ان پر حد جاری کی گئی۔ والاخرۃ، آخرت میں ان کے لیے آگ کا دردناک عذاب ہوگا۔ ولھم عذاب مقیم، مقاتل کا بیان ہے یہ حکم خاص عبداللہ بن ابی کے لیے تھا خصیف سے روایت ہے ک ہمیں نے سعید بن جبیر سے پوچھا زنا کرنے اور تہمت زنا لگانے میں سے کون زیادہ سخت ہے ؟ فرمایا جو مومنہ پر جھوٹی تہمت لگائے اور وہ دنیا میں اور آخرت میں ملعون ہے۔ یہ حضرت عائشہ نے خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 25:۔ شروع سورت میں اس طرح کے جھوٹا عیب لگانے والوں کے ذکر میں توبہ کا تذکرہ بھی فرمایا ہے اور یہاں ان آیتوں میں توبہ کا تذکرہ نہیں ہے اس کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے کہ جس بہتان کا اس سورت میں ذکر ہے ‘ اس بہتان میں دو طرح کے آدمی تھے ‘ کچھ تو عبداللہ بن ابی منافق کی طرح کے تھے جو حقیقت میں مسلمانوں کے بدخواہ تھے اور کچھ لوگ مسلمان تھے ‘ جو حقیقت میں تو مسلمانوں کے بدخواہ نہیں تھے مگر منافقوں کی سنی سنائی باتوں پر اس بہتان کے چرچے میں شریک ہوگئے تھے مثلا جیسے حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی تفسیر کے موافق شروع سورة کی آیتوں میں ان عیب لگانے والوں کا ذکر ہے جو حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
غریب رشتہ دار کی اعانت نہ چاہتے ہوئے بھی جاری رہے
قول باری ہے : (ولا یاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یوتوا اولی القربیٰ ) تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ داروں کی مدد نہیں کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے زیر پرورش دو یتیموں کے سلسلے میں ہوا تھا ۔ حضرت ابوبکر ؓ ان کی کفالت کرتے تھے ان میں سے ایک کا نام مسطح بن اثاثہ تھا۔ ان دونوں نے بھی حضرت عائشہ ؓ پر بہتان طرازی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کی برات نازل فرمادی تو……
حضرت ابوبکر ؓ نے ان…
Read the full tafseer →37 پاکدامن ایماندار عورتوں پر تہمت لگانا باعث لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ پاکدامن بھولی بھالی ایماندار عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر لعنت و پھٹکار ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں پر لعنت و پھٹکار ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دئے گئے۔ یہاں بھی اور وہاں بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پاکدامن بھولی بھالی ایماندار عورتوں پر تہمت لگانا ایسا سنگین جرم ہے کہ اس کے مرتکب نہ یہاں دنیا میں کوئی عزت و احترام پائیں گے نہ آخرت میں۔ دنیا میں تو عنقریب ہی ان کی جڑ کٹ کر رہے گی اور آخرت میں ان کیلئے عذاب عظیم مقرر ہے ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
شیطان کی چالوں سے اللہ کا فضل بچا سکتا ہے
تشریح : ان آیات میں واقعہ افک کی کچھ وجوہات بیان ہوئی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ شیطان کی شرارت ہے۔ شیطان تو ہر وقت اور ہر صورت سے انسان کو بہکانے میں لگا رہتا ہے۔ کیونکہ وہ تو انسان کا پکا دشمن ہے اور کچھ انسانی کمزوری ہے کہ وہ جلدی شیطان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر میرا فضل میری رحمت اور میری مدد انسان کو میسر نہ ہو تو اکثر و بیشتر انسان اس کے شکار ہوجائیں۔ افواہیں ‘ بدگمانیاں اور فتنے یہ سب شیطان کے راستے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ افک بھی تھا۔ جس کی وجہ سے بڑا ہنگامہ ہوا کئی نیک لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اے مسلمانو ! شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کہ جو بھی شیطان کی بات سنتا ہے یا اس کے ساتھ چلنے لگتا ہے تو شیطان اسے بےحیائی اور برائی کا مشورہ دیتا ہے یا ایسے امور اختیار کرتا ہے اور ایسے ڈھنگ سے راہ دکھاتا ہے کہ وہ بےحیائی اور برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے لہذا معاشرے میں بےحیائی پھیلانے والے سارے کام یہ ثقافت کے نام پر راگ رنگ کی محفلیں عریانیت اور فحش فلمیں یہ سب اسی کا شاخسانہ ہیں اور ایمان والے بندے کو ان کا ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا ورنہ یہ اس کا ایمان بھی ضائع کریں گے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی ان کی زد سے نہ بچتا نہ اسے…
Read the full tafseer →4 ۔” بھولی “ سے مراد وہ سیدھی سادی شریف عورتیں ہیں جن کے دل پاک ہیں اور ان کے دل میں بدچلنی کا بھولے سے خیال نہیں آتا۔ امہات المومنین خصوصاً حضرت عائشہ ؓ ان بھولی عورتوں میں بالاولی شامل ہیں جن کے حق میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اس کے بعد بھی جو حضرت عائشہ ؓ سے بدگمانی رکھے گا وہ کافر اور قرآن کا مخالف ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” سات تباہ کردینے والی چیزوں سے بچو۔ “ صحابہ ؓ نے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ان سات چیزوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ایک بھولی مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا تھی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(24:23) یرمون۔ ملاحظہ ہو (24:6) ۔ لعنوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب لعن مصدر (باب فتح) ان پر لعنت کی گئی وہ ملعون ہوئے۔ وہ رحمت سے دور کئے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 :
لاتتبعوا (تم پیچھے نہ چلو۔ تم اتباع نہ کرو) ‘ خطوات (خطوط) قدم۔ نقش قدم ‘(الفحشاء (فحش) بےحیائی کے کام ‘ مازکی (صاف ستھرانہ ہوتا) ‘ لا یاتل (ایتلائ) قسمیں نہ کھائیں ‘ اولی الفضل (حیثیت والے) ‘ السعۃ (گنجائش والے۔ وسعت والے) الا تحبون ( کیا تم پسند نہیں کرتے) ‘ المحصنت (المحسنۃ) پاک دامن ‘(الغفلت) (بےخبر۔ انجان۔ بھولی بھالی) ‘ السنۃ (لسان) زبانیں ‘ ایدی (دونوں ہاتھ) ‘ ارجل (رجل) پاؤں ۔ یوفی (وہ پورادے گا) ‘ الخبیثات ( گندی عورتیں) الطیبت (پاک صاف ستھری عورتیں) ‘ مبرءون (بری ہونے والے ۔ پاک صاف) ۔
تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :
شیطان جو انسان کا ازلی کھلا دشمن ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
سیدہ عائشہ ؓ کی عظمت۔
(ف 2) شروع قصہ سے یہاں تک حضرت عائشہ عنہا کی برات میں اللہ تعالیٰ نے یہ پندہ آیتیں نازل فرمائیں علماء اسلام کا یہ فیصلہ ہے کہ اتنی برات کے بعد جو فرقہ حضرت عائشہ کو اب بھی عیب لگائے گا وہ قرآن شریف کا منکر فرقہ ہے اور اس فرقہ کے کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کیونکہ وہ فرقہ قرآن کی آیتوں کا منکر ہے اس کے بعد اب اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ پاکدامن بیخبر ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں تو یہ پاکدامن عورتیں ایسی باتوں سے بالکل بیخبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پارسائی اور پاکدامنی کی کامل طور پر تعریف کی ہے اور فرمایا کہ عیب لگانے والے دنیا میں ملعون اور مردود ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
[22] سیّدنا مسطح ؓ ایک نادار صحابی تھے۔ وہ مہاجر تھے، بدری تھے اور سیّدنا ابوبکر ؓ کے عزیز بھی تھے۔ سیّدنا ابوبکر ؓ ان کی مالی امداد کرتے رہتے تھے مگر کیونکہ سیّدنا مسطح ؓ نے تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا اس لئے سیّدنا ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ وہ ان کی کوئی مدد نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(ف 3) اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ پرہیزگاروں اور پاکباز عورتوں کو متہم کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ یہ دین اور دنیا میں لعنت اور سخت عذاب کا موجب ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پرہیزگار اور ایماندار مردوں اور عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ ان کی تذلیل ملعونیت ہے اور عذاب عظیم کا باعث ۔
Read the full tafseer →(23) بلاشبہ ! جو لوگ ایسی عفیفہ اور پاک دامن عورتوں پر جو برے کاموں اور بےحیائی کی باتوں سے بالکل بیخبر اور ایمان والیاں ہی بدکاری کا عیب لگاتے اور زنا کی تہمت دھرتے ہیں تو ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں ملعون قرار دیئے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کو اس دن بڑا سخت عذا ب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 5۔ سو تم کو بھی تخلق باخلاق اللہ چاہئے، تم بھی اپنے قصور داروں کو معاف کردو۔
Read the full tafseer →پاکدامن مومن عورتوں پر الزام لگانے والے لعنت الہی کے مستحق ہیں :
33۔ پیچھے ایک خاص واقعہ کا ذکر تھا اور زیر نظر آیت میں عام قانون بیان کیا جا رہا ہے کہ یاد رکھو جو لوگ پاکدامن عورتوں پر اس طرح کا الزام لگائیں خصوصا وہ عورتیں جو طبعا انتی نیک ہوتی ہیں کہ ان کے دلوں میں کسی ایسی حاکت کا خیال تک بھی نہیں آتا ‘ جو ایسے ماحول میں پرورش پاتی ہیں جو ماحول فرشتوں سے بھی پاکیزہ لوگوں کا ہے جو ایسی مصروف ترین زندگی بسر کر رہی ہوتی ہے کہ ان کے لئے ایسے گندے تخیلات کے اپنانے کا وقت ہی نہیں ہوتا اور جن کا قدم کبھی چار دیواری سے باہر ہی نہیں نکلتا الا کسی شرعی ضرورت کے لئے اور وہ اپنی فطرت و پاکیزگی کے…
Read the full tafseer →إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Surely, those who level a false charge against the chaste, naive and believing women are cursed in this world and the Hereafter, and for them there is a mighty punishment - 24:23.
On the face of it the same subject has been repeated in this verse which has already appeared in the verses of
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
21. The word ghafilat as used in the text means the women who are simple, unpretentious souls, who do not know any artifice, who have pious hearts and have no idea of immorality. They cannot even imagine that their names could ever be associated with any slander. The Prophet (peace be upon him) has said: To slander chaste women is one of the seven deadly sins. According to another tradition cited by Tabarani from Huzaifah, the Prophet (peace be upon him) said: To slander a pious woman suffices to ruin the good deeds of a hundred years.
21a For explanation, see (E.N. 55 of Surah YaSin) and…
Read the full tafseer →