دولت مند افراد سے خطاب
تم میں سے جو کشادہ روزی والے، صاحب مقدرت ہیں۔ صدقہ اور احسان کرنے والے ہیں انہیں اس بات کی قسم نہ کھانی چاہئے کہ وہ اپنے قرابت داروں، مسکینوں، مہاجروں کو کچھ دیں گے ہی نہیں۔ اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگیا ہو تو انہیں معاف کردینا چاہئے۔ ان سے کوئی ایذاء یا برائی پہنچی ہو تو ان سے درگزر کرلینا چاہئے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم وکرم اور لطف رحم ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے۔ یہ آیت حضرت صدیق ؓ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ نے حضرت مسطح بن اثاثہ ؓ کے ساتھ کسی قسم کا سلوک کرنے کی قسم…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 20
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مذکورہ بالا آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے میری برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکر نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ کے لیے مسطح بن اثاثہ کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیں گے، کیونکہ انہوں نے نہ رشتہ داری کا کوئی لحاظ کیا اور نہ ان احسانات ہی کی کچھ شرم کی جو وہ ساری عمر ان پر اور ان کے خاندان پر کرتے رہے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کو سنتے ہی حضرت ابوبکر نے فوراً کہا بلیٰ واللہ انا نحب ان تغفرلنا یا ربنا، " واللہ ضرور ہم چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہماری خطائیں معاف فرمائے "۔ چناچہ آپ نے پھر مسطح کی مدد شروع کردی اور پہلے سے زیادہ ان پر احسان کرنے لگے۔ حضرت عبد اللہ…
Read the full tafseer →وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤ ْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا ۭ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
صحابہ کرام کو اعلی اخلاق کی تعلیم
وَلَا يَاْتَلِ ، ائتلاء کے معنے قسم کھانے کے ہیں۔ حضرت صدیقہ پر تہمت کے واقعہ میں مسملانوں میں سے مسطح اور حسان مبتلا ہوگئے تھے جن پر رسول اللہ ﷺ نے نزول آیات برات کے بعد حد قذف جاری فرمائی۔ مسطح اور حسان دونوں ہی جلیل القدر صحابی غزوہ بدر کے شرکاء میں سے ہیں مگر ایک لغزش ہوگئی جس سے توبہ صادقہ نصیب ہوئی…
Read the full tafseer →ان لوگوں سے درگزر کی ہدایت جو محض سادگی کے سبب سے اس فتنہ میں ملوث ہو گئے
اب یہ اسی اوپر والی بات پر عطف کر کے ان لوگوں کے باب میں عفو و درگزر کی ہدایت فرمائی جو محض اپنی سادگی کے سبب سے اس فتنہ کی سنگینی کا اندازہ نہ کر پائے اور اس کے نقل و روایت میں ملوث ہوگئے۔ اس ہدایت کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اصل حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد اس بات کا اندیشہ تھا کہ بہت سے لوگ ان لوگوں کی امداد و سرپرستی سے دستکش ہوجائیں گے جنہوں نے کسی نوعیت سے اس جھوٹ کے پھیلانے میں حصہ لیا روایات میں ہے کہ سطح ایک نادار صحابی حضرت ابوبکر کے عزیز تھے۔ حضرت ابوبکر ان کی سرپرستی فرماتے تھے جب آپ کو معلوم ہوا کہ وہ بھی اس…
Read the full tafseer →22-1حضرت مسطح، جو واقعہ افک میں ملوث ہوگئے تھے، فقرائے مہاجرین میں سے تھے، رشتے میں حضرت ابوبکر صدیق کے خالہ زاد تھے، اسی لئے ابوبکر ان کے کفیل اور معاش کے ذمے دار تھے، جب یہ بھی حضرت عائشہ ' کے خلاف مہم میں شریک ہوگئے تو ابوبکر صدیق کو سخت صدمہ پہنچا، جو ایک فطری عمل تھا چناچہ نزول براءت کے بعد غصہ میں انہوں نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ ابوبکر صدیق کی یہ قسم، جو اگرچہ انسانی فطرت کے مطابق ہی تھی، تاہم مقام صدیق تم اس سے بلند تر کردار کا متقاضی تھا، اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی اور یہ آیت نازل فرمائی، جس میں بڑے پیار سے ان کی اس عاجلانہ بشری اقدام پر انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
13: جو دو تین مخلص مسلمان اپنی سادہ لوحی سے منافقوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے تھے، ان میں ایک مسطح بن اثاثہ ؓ بھی تھے جو مہاجر صحابی تھے، اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔ حضرت صدیق اکبر ان کی مالی مدد فرمایا کرتے تھے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ مسطح ؓ نے بھی حضرت عائشہ ؓ کے خلاف ایسی باتیں کی ہیں تو انہوں نے قسم کھالی کہ میں آئندہ ان کی مالی مدد نہیں کروں گا، حضرت مسطح سے غلطی ضرور ہوگئی تھی، لیکن پھر انہوں نے سچے دل سے توبہ بھی کرلی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں متنبہ فرمایا کہ ان کی مالی مدد نہ کرنے کی قسم کھانا ٹھیک نہیں ہے۔ جب انہوں نے توبہ کرلی ہے تو ان کو معاف کردینا چاہیے۔…
Read the full tafseer →(ولا یأتل۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ غفوررحیم) (24 : 22) ” تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار ‘ مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہیے اور در گزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے “۔
یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت عائشہ صدیقہ ؓ کی برأت کا اعلان ہوچکا تھا۔ یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ مسطح ابن اثاثہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے افک کے معاملے میں با تمہیں کیں۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور فقرائے…
Read the full tafseer →2 حضرت عائشہ پر طوفان اٹھانے والوں میں بعض مسلمان بھی نادانی سے شریک ہوگئے۔ ان میں سے ایک حضرت مسطح تھے جو ایک مفلس مہاجر ہونے کے علاوہ حضرت ابوبکر ؓ کے بھانجے یا خالہ زاد بھائی ہوتے ہیں۔ قصہ " افک " سے پہلے حضرت صدیق اکبر ان کی امداد اور خبر گیری کیا کرتے۔ جب یہ قصہ ختم ہوا اور عائشہ صدیقہ کی برأت آسمان سے نازل ہوچکی تو حضرت ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ آئندہ مسطح کی امداد نہ کروں گا۔ شاید بعض دوسرے صحابہ کو بھی ایسی صورت پیش آئی ہو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی تم میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کی بزرگی اور دنیا کی وسعت دی ہے انھیں لائق نہیں کہ ایسی قسم کھائیں ان کا ظرف بہت بڑا اور ان کے اخلاق…
Read the full tafseer →اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِص ”
یہاں فضیلت اور کشادگی کے روحانی اور مادی دونوں پہلو مراد ہیں ‘ یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان ‘ نیکی اور مال و دولت میں فضیلت دے رکھی ہے۔ اس آیت میں اشارہ حضرت ابوبکر صدیق رض کی طرف ہے۔ بدقسمتی سے آپ رض کے ایک قریبی عزیز مسطح بن اثاثہ بھی مذکورہ بہتان کی مہم میں شریک ہوگئے تھے۔ وہ انتہائی غریب اور نادار تھے۔ آپ رض ان کے خاندان کی کفالت کرتے اور ہر طرح سے ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیق رض ان کے اس رویے سے بہت رنجیدہ ہوئے کہ اس شخص نے نہ رشتہ داری کا لحاظ کیا ‘ نہ میرے احسانات…
Read the full tafseer →27 حضرت عائشہ ؓ کے مفصل بیان والی حدیث میں یہ مذکور ہے کہ مسطح بن اثاثہ ان سادہ لوح مسلمانوں میں سے تھے جو اس فتنہ کی رو میں بہہ گئے تھے۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور محتاج تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ انھیں گزر اوقات کے لئے کچھ ماہوار وظیفہ بھی دیا کرتے تھے۔ جب یہ بھی تہمت لگانے والوں میں شامل ہوگئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ان سے رنج پہنچ جانا ایک فطری امر تھا۔ جس نے بھلائی کا بدلہ برائی سے دیا تھا۔ چناچہ آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ ایسے احسان فراموش کی کبھی مدد نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس سے ایسے لوگوں سے بھی عفو و درگزر کی تلقین کی گئی۔ چناچہ آپ نے فوراً اس حکم کے…
Read the full tafseer →36۔ (بلکہ اپنے حسن سلوک وامداد کو جاری رکھیں) حضرت مسطح ایک صحابی تھے پورے مومن، مسکین بھی، مہاجر بھی، اور حضرت صدیق ؓ کے عزیز بھی، محض اپنی سادہ دلی سے اس طوفان میں شریک ہوگئے، جب صدیقہ ؓ کی برأت میں آیات قرآنی نازل ہوئیں اور حضرت صدیقہ ؓ کی عفت مآبی اتنی روشن ہوگئی، جتنی بجز حضرت مریم (علیہ السلام) کے دنیا میں شاید کسی پاک دامن خاتون کی بھی نہ ہوئی ہو تو حضرت صدیق ؓ کو اپنی اس قابل فخر بیٹی کی نصرت وحمایت میں غصہ آنا بالکل طبعی تھا۔ آپ مسطح ؓ کی ناداری پر ترس کھا کر مدد بھی فرماتے رہتے اس غیظ کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ بس آج سے امداد موقوف، یہ بات مرتبہ صدیقیت کے شایاں نہ تھی، ارشاد ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیت نمبر 21 تا 26
ترجمہ : اے ایمان والو تم شیطان کے نقش قدم پر مت چلو یعنی شیطان کے راستوں پر مت چلو یعنی اس کی تلبیس اور فریب میں نہ آؤ، اور جو شخص شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے تو وہ یعنی شیطانی راستہ پر چلنے والا شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے فحش یعنی بےحیائی اور شرعاً نا معقول ہی کام کرنے کو کہے گا اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو اے لوگو تم میں سے کبھی کوئی پاک صاف نہ ہوتا اس وجہ سے کہ تم نے افتراء پردازی کی، یعنی توبہ کے ذریعہ نہ اس گناہ سے درست ہوتا اور نہ پاک ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے گناہ سے اس کی توبہ کو قبول کرکے اور اللہ تعالیٰ تمہاری…
Read the full tafseer →ولا یاتل اولوا الفضل منکم والشعۃ ان یوتوا اولی القربی والمسکین والمہجرین فی سبیل اللہ اور جو لوگ تم میں (دینی) بزرگی اور (دنیوی) وسعت والے ہیں وہ اہل قرابت کو اور مسکینوں کو اور اللہ کی راہ
میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں۔
وَلاَ یَاْتَلِیعنی قسم نہ کھائیں ‘ یہ لفظ باب افتعال سے ہے۔ الیہ سے مشتق ہے الیہ کا معنی ہے قسم۔ یا اس کا مادہ اَلْوٌ ہے الو کا معنی ہے کمی کرنا یعنی کمی نہ کریں۔ اس جگہ قسم کا معنی لینا زیادہ مناسب ہے۔ حضرت ابوبکر نے اثاثہ ؓ : کو کچھ نہ دینے کی قسم کھائی تھی۔
اَلْفَضْلِسے مراد ہے دینی فضیلت (مال مراد نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد السَّعَۃِ کا لفظ مذکور ہے اور…
Read the full tafseer →(22) آیات برأت ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے شدت غیظ میں قسم کھالی تھی کہ اپنے ان رشتہ داروں کی کچھ مالی امداد نہ کریں گے جنہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اس معاملہ میں حصہ لیا یعنی مسطح وغیرہ تو اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تم میں سے جو حضرات بزرگی و شرافت والے اور دنیاوی وسعت والے ہیں ان کو یہ قسم نہیں کھانی چاہیے کہ وہ قرابت داروں کو اور مساکین کو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے اور حضرت مسطح ؓ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے خالہ زاد بھائی تھے مسکین بھی تھے اور مہاجر بھی تھے بلکہ وہ لوگ ایسی قسموں کو چھوڑ دیں اور درگزر کریں اے ابوبکر صدیق…
Read the full tafseer →وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ۔۔ : ”لَا يَاْتَلِ“ ”أَلِیَّۃٌ“ (بروزن فَعِیْلَۃٌ، بمعنی قسم) میں سے باب افتعال ”اِءْتَلٰی یَأْتَلِیْ“ میں سے نہی غائب ہے۔ سورة بقرہ کی آیت (226) : (لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ) میں ”يُؤْلُوْنَ“ باب افعال میں سے ہے۔ سورة نور کی آیت (11) میں صحیح بخاری کی حدیث (4750) گزر چکی ہے کہ عائشہ ؓ پر بہتان لگانے والوں میں مسطح بن اثاثہ ؓ بھی تھے، جو ابوبکر ؓ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے تھے (بعض نے انھیں خالہ زاد بھی کہا ہے) ، ابوبکر ؓ نے ان سے قرابت اور ان کے فقر کی وجہ سے ان کا وظیفہ مقرر کر رکھا تھا، جب مسطح نے یہ بات کی تو ابوبکر ؓ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” ولا یأتل اولو الفضل “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم یہ قسم نہ کھاؤ کہ تم کسی پر خرچ کروگے “۔
2۔ ابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ مسطح بن اثاثہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ان پر تہمت لگانے والوں میں سے بڑا حصہ لیا اور یہ ابوبکر ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور ان کے زیر کفالت تھے (براءت نازل ہونے کے بعد) ابوبکر نے قسم کھائی کہ وہ ان کو کبھی بھی کوئی چیز نہیں دیں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” ولا یأتل اولوا الفضل منکم والسعۃ “ اس کے بعد ابوبکر ؓ نے ان کو دوبارہ اپنی کفالت میں لے لیا اور فرمایا میں کوئی قسم نہیں اٹھاؤں گا…
Read the full tafseer →وَلَا يَاْتَلِ [ اور قسم نہ کھائیں ] اُولُوا الْفَضْلِ [ فضل والے ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] وَالسَّعَةِ [ اور وسعت والے ] اَنْ [ کہ ] يُّؤْتُوْٓا [ وہ (نہ) دیں ] اُولِي الْقُرْبٰى [ قرابی والوں کو ] وَالْمَسٰكِيْنَ [ اور مسکینوں کو ] وَالْمُهٰجِرِيْنَ [ اور مہاجروں کو ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ډ [ اللہ کی راہ میں ] وَلْيَعْفُوْا [ اور چاہیے کہ وہ معاف کردیں ] وَلْيَصْفَحُوْا ۭ [ اور چاہیے کہ وہ درگزر کریں ] اَلَا تُحِبُّوْنَ [ کیا تم لوگو پسند نہیں کرتے ] اَنْ [ کہ ] يَّغْفِرَ [ بخش دے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَكُمْ ۭ [ تم لوگوں کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہاء بخشنے والا ہے ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
دوسری آیت (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ ) میں یہ فرمایا کہ تم میں سے بڑے درجے والے اور وسعت والے ایسی قسمیں نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور فی سبیل اللہ ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے، پہلے گزر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنے رشتہ دار مسطح بن اثاثہ پر مال خرچ کیا کرتے تھے جب مسطح نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو تہمت لگانے والے کا ساتھ دیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکر صدیق نے قسم کھالی کہ اب تجھ پر خرچ نہ کروں گا۔ اس پر آیت کریمہ (وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ تفسیر درمنثور میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →22:۔ ” ولا یاتل اولوا الفضل الخ “۔ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔ مسطح بن اثاثہ ؓ حضرت ابوبکر صدیق کے قریبی رشتہ دار تھے یہ مہاجرین اولین میں سے تھے، ان کی مالی ھالت کمزور تھی۔ حضرت صدیق ؓ حضرت مسطح ؓ کے دینی شرف اور صلہ رحمی کی بناء پر ان کی مالی امداد کیا کرتے تھے واقعہ افک میں مسطح ؓ سے بھی غلطی ہوگئی اور وہ دوسرے گروہ میں شامل تھے جب حضرت عائشہ ؓ کی براءت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے قسم کھالی کہ آئندہ کے لیے وہ مسطح ؓ پر خرچ نہیں کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ بخشش و عطا تو اسباب مغفرت میں سے ہے تم اس کو بند کیوں کرتے ہو، کیا تم مغفرت نہیں چاہتے ہو ؟ جب یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اتہام لگانے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ان لوگوں کی بھی جنہوں نے اس واقعہ کی بلا سوچے سمجھے اور بلا تحقیق تشہیر کی تھی۔ اللہ نے ان کو سزا بھی دی کہ ان پر حدقذف جاری ہوئی۔ ساتھ ساتھ اللہ نے سخت تنبیہ بھی کی کہ ایسی بات آئندہ نہیں ہونی چاہیے۔ پھر اللہ نے انہیں معاف بھی فرمادیا۔ البتہ رئیس المافقین پر حد جاری نہیں ہوئی تھی۔ اور اس کا معاملہ آخرت پر چھوڑ دیا گیا۔ اللہ نے اس کے لئے سخت عذاب کی وعید سنائی۔ اور پھر اللہ نے معاشرے کو بےحیائی کی باتوں سے پاک رکھنے کا حکم دیا۔ فرمایا جو لوگ بری باتوں کی تشہیر کو پسند کرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ 0۠ۖ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا 0ۭ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَكُمْ 0ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 22
لا یاتل۔ فعل نہی واحد مذکرغائب۔ ( جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے) ایتلاء ( باب افتعال) اصل یا تلی تھا لا کے آنے سے آخری حرف محرک ساکن ہوگیا۔ لام کے سکون سے ی گر گئی ی کی رعایت سے لام کا کسرہ بحال ہوگیا۔ لا یاتل وہ قسم نہ کھا لیں۔ الوۃ۔ الیۃ اور الی قسم۔
وسع
السَّعَةُ تقال في الأمكنة، وفي الحال، وفي الفعل کالقدرة والجود ونحو ذلك .…
Read the full tafseer →(ف) یہاں سے حضرت ابوبکر و عائشہ ؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ 12
Read the full tafseer →وَلاَ یَاْ تَلِ اُوْلُوْا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُوْلِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ صلے ص وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا ط اَلاَ تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (النور : 22)
(اور جو تم میں سے صاحب فضل اور کشادہ حال ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے، انھیں چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے، اور اللہ بحشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ )
اسلامی رشتے کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة النور کا مرکزی عنوان اخلاق ہے اور اخلاق کا یہ تقاضا ہے کہ اگر کسی کو غریب سمجھ کر اس کے ساتھ تعاون کیا جائے تو ذاتی رنجش کی بنیاد پر اس کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرنا چاہیے۔
سیدہ عائشہ ؓ پر تہمت لگانے والوں کے ہم زبان ہونے والے صحابہ میں حضرت مسطح ؓ بھی شامل تھے حضرت مسطح سیدنا صدیق ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ مفلس تھے جس کی وجہ سے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان کے ساتھ مسلسل مالی تعاون کیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے صدیقہ کائنات ؓ پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تو حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے قسم اٹھائی کہ آئندہ اس شخص کے ساتھ تعاون نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا…
Read the full tafseer →فضل کے مستحقین پر احسان میں کمی نہ کریں :
22: وَلَایَاْتَلِ (اور نہ قسم کھائیں) نمبر 1۔ ائتلی اذحلفیہ الألیّۃ سے باب افتعال ہے قسم کھانے کے معنی میں آتا ہے۔ نمبر 2۔ الالوٌ سے لیا جائے تو کمی نہ کریں معنی ہوگا۔ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُم (تم میں سے دینی فضیلت والے) وَالسَّعَۃِ (وسعت والے) مال میں : انْ یُّؤْتُوْا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (کہ نہ دیں گے قرابت والوں کو مساکین اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو) مطلب یہ ہے کہ وہ قسم نہ اٹھائیں کہ وہ مستحقین پر احسان نہ کریں گے۔
نمبر 2۔ ان پر احسان کرنے میں وہ کمی نہ کریں خواہ ان کے مابین…
Read the full tafseer →تفسیر۔
22۔ ولایاتل “ یعنی وہ قسم نہ کھائیں۔ یہ الالیہ، سے مشتق ہے اس کا معنی ہے قسم، اولوالفضل منکم والسعۃ، اس سے مراد مال داری اور کشائش رزق ہے منکم ، سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ ان یوتوا اولی القربی، ،، سے مراد حضرت مسطح اور ان جیسے لوگ ہیں۔ حضرت مسطح مسکین بھی تھے مہاجر بھی تھے اور بدری بھی تھے اور حضرت ابوبکر کی خالہ کے بیٹے بھی تھے۔ حضرت ابوبکر نے قسم اٹھالی کہ کوئی چیز بھی اس پر خرچ نہیں کریں گے ۔ الیعفوا والیصفحوا، حضرت عائشہ کے معاملے میں۔ الاتحبون، حضرت ابوبکر صدیق کو خطاب ہے۔ ان یغفر اللہ لکم واللہ غفوررحیم۔ جب نبی کریم نے اس آیت کو پڑھا تو کہنے لگے کیوں نہیں مجھے پسند ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →22:۔ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن منذر وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ اور بعضے اور سلف کے قول کے موافق اس آیت کی جو شان نزول بیان کی گئی 3 ؎ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ ؓ اور صفوان ؓ پر جھوٹا بہتان لگانے والوں کے نام معلوم ہوگئے ان میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بھانجے مسطح بن اثاثہ کی شرکت بھی پائی گئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قسم کھالی کہ اب تک وہ مسطح کے ساتھ جو سلوک کیا کرتے تھے ‘ آئندہ اس سے ہاتھ روک لیں گے ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا ‘ خوشحال لوگوں کو یہ قسم نہ کھانی چاہیے کہ وہ غریب مہاجر رشتہ داروں کے سلوک سے آئندہ ہاتھ روک لیں گے بلکہ ان خوش حال لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
غریب رشتہ دار کی اعانت نہ چاہتے ہوئے بھی جاری رہے
قول باری ہے : (ولا یاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یوتوا اولی القربیٰ ) تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ داروں کی مدد نہیں کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے زیر پرورش دو یتیموں کے سلسلے میں ہوا تھا ۔ حضرت ابوبکر ؓ ان کی کفالت کرتے تھے ان میں سے ایک کا نام مسطح بن اثاثہ تھا۔ ان دونوں نے بھی حضرت عائشہ ؓ پر بہتان طرازی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کی برات نازل فرمادی تو……
حضرت ابوبکر ؓ نے ان…
Read the full tafseer →36 عفو و درگزر سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے فضل و کشائش والے لوگ غریبوں اور رشتہ داروں کی مدد نہ کرنے کی قسم نہ کھائیں۔ " یَأتَل "، " إئْتِلا " سے ماخوذ ہے جو کہ " الیہ " سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ قسم کے آتے ہیں۔ اور جس کی جمع " الایا " آتی ہے۔ جیسے " سبحیۃ " کی جمع " سجایا "۔ روایات میں ہے کہ حضرت مسطح بن اثاثہ ؓ جو کہ حضرت ابوبکر صدیق ۔ ؓ ۔ کے رشتہ دار تھے اور ان کی محتاجی و ناداری کی وجہ سے حضرت صدیق اکبر ؓ ان کو خرچہ دیا کرتے تھے، قصہ افک کے موقع پر جب حضرت مسطح ؓ بھی کچھ دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کی طرح منافقین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس میں شریک ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
شیطان کی چالوں سے اللہ کا فضل بچا سکتا ہے
تشریح : ان آیات میں واقعہ افک کی کچھ وجوہات بیان ہوئی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ شیطان کی شرارت ہے۔ شیطان تو ہر وقت اور ہر صورت سے انسان کو بہکانے میں لگا رہتا ہے۔ کیونکہ وہ تو انسان کا پکا دشمن ہے اور کچھ انسانی کمزوری ہے کہ وہ جلدی شیطان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر میرا فضل میری رحمت اور میری مدد انسان کو میسر نہ ہو تو اکثر و بیشتر انسان اس کے شکار ہوجائیں۔ افواہیں ‘ بدگمانیاں اور فتنے یہ سب شیطان کے راستے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ افک بھی تھا۔ جس کی وجہ سے بڑا ہنگامہ ہوا کئی نیک لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اے مسلمانو ! شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کہ جو بھی شیطان کی بات سنتا ہے یا اس کے ساتھ چلنے لگتا ہے تو شیطان اسے بےحیائی اور برائی کا مشورہ دیتا ہے یا ایسے امور اختیار کرتا ہے اور ایسے ڈھنگ سے راہ دکھاتا ہے کہ وہ بےحیائی اور برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے لہذا معاشرے میں بےحیائی پھیلانے والے سارے کام یہ ثقافت کے نام پر راگ رنگ کی محفلیں عریانیت اور فحش فلمیں یہ سب اسی کا شاخسانہ ہیں اور ایمان والے بندے کو ان کا ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا ورنہ یہ اس کا ایمان بھی ضائع کریں گے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی ان کی زد سے نہ بچتا نہ اسے…
Read the full tafseer →3 ۔ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی یا اسے ہوا دی، ان میں ایک شخص مسطح بن اثاثہ تھا جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خالہ زاد بہن کا بیٹا تھا اور چونکہ غریب اور اللہ کی راہ میں مہاجر تھا اس لئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس کی کفالت اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ جب اوپر کی آیات میں عائشہ ؓ کی برأت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ سے اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لی گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسے سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا۔ ” واللہ ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے رب ہمارے تو ہماری خطائوں کو معاف فرما دے “۔ چناچہ آپ (رح) نے مسطح کی پھر سے مدد کرنا شروع کردی اور…
Read the full tafseer →(24:22) لا یاتل۔ فعل نہی واحد مذکرغائب۔ (جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے) ایتلاء (باب افتعال) اصل یا تلی تھا لا کے آنے سے آخری حرف محرک ساکن ہوگیا۔ لام کے سکون سے ی گرگئی ی کی رعایت سے لام کا کسرہ بحال ہوگیا۔ لا یاتل وہ قسم نہ کھا لیں۔ الوۃ۔ الیۃ اور الی قسم۔
اولوا الفضل۔ اولوا السعۃ۔ ای الزیادۃ فی الدین والزیادۃ فی المال۔ جو دین میں بلند مرتبہ کے مالک ہیں اور جو مال و دولت میں وسعت رکھتے ہیں۔ ان یؤتوا۔ ای علی ان لا یؤتوا۔ اوکراھۃ ان یؤتوا۔ (اس بات کی قسم کہ) وہ نہ دیں گے۔ یا دینے میں کراہت محسوس کریں۔
لیعفوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر غائب۔ عفو سے۔ چاہیے کہ وہ معاف کردیں۔ ولیصفحوا۔ فعل امر جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 :
لاتتبعوا (تم پیچھے نہ چلو۔ تم اتباع نہ کرو) ‘ خطوات (خطوط) قدم۔ نقش قدم ‘(الفحشاء (فحش) بےحیائی کے کام ‘ مازکی (صاف ستھرانہ ہوتا) ‘ لا یاتل (ایتلائ) قسمیں نہ کھائیں ‘ اولی الفضل (حیثیت والے) ‘ السعۃ (گنجائش والے۔ وسعت والے) الا تحبون ( کیا تم پسند نہیں کرتے) ‘ المحصنت (المحسنۃ) پاک دامن ‘(الغفلت) (بےخبر۔ انجان۔ بھولی بھالی) ‘ السنۃ (لسان) زبانیں ‘ ایدی (دونوں ہاتھ) ‘ ارجل (رجل) پاؤں ۔ یوفی (وہ پورادے گا) ‘ الخبیثات ( گندی عورتیں) الطیبت (پاک صاف ستھری عورتیں) ‘ مبرءون (بری ہونے والے ۔ پاک صاف) ۔
تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :
شیطان جو انسان کا ازلی کھلا دشمن ہے…
Read the full tafseer →قسم کا ذکر۔
(ف) شان نزول : یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئیں آپ نے قسم کھائی تھی کہ ، مسطح کے ساتھ سلوک نہ کریں گے اور وہ آپ کی خالہ کے بیٹے تھے نادار تھے مہاجر تھے بدری تھے، آپ ہی ان کا خرچ اٹھاتے تھے مگر چونکہ ام المومنین پر تہمت لگانے والوں کے ساتھ انہوں نے موافقت کی تھی اس لیے آپ نے قسم کھائی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جب یہ آیت نبی ﷺ نے پڑھی تو حضرت ابوبکر نے کہا، بیشک میری آرزو ہے کہ اللہ میری مغفرت کرے اور میں مسطح کے ساتھ جو سلوک کرتا تھا اس کو کبھی موقوف نہ کروں گا، چناچہ آپ نے اس کو جاری فرمادیا۔
مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کام پر قسم کھائے پھر معلوم ہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
[22] سیّدنا مسطح ؓ ایک نادار صحابی تھے۔ وہ مہاجر تھے، بدری تھے اور سیّدنا ابوبکر ؓ کے عزیز بھی تھے۔ سیّدنا ابوبکر ؓ ان کی مالی امداد کرتے رہتے تھے مگر کیونکہ سیّدنا مسطح ؓ نے تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا اس لئے سیّدنا ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ وہ ان کی کوئی مدد نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →بلند اخلاقی کا حیرت انگیز نمونہ :
(ف 2) یہ شخص مسطح جس نے اس شرارت میں زیادہ سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا تھا حضرت ابوبکر ؓ پروردہ تھا ، حضرت ابوبکر ؓ نے اس کو اس کو اور اس کے متعلقین کو اپنے پاس رکھا ، اور عرصہ تک ان کی ہر طرح اعانت کی مگر اس نے اس طرح حق نمک ادا کیا تو صدیق ؓ قدرتا غصے سے بیتاب ہوگئے ، آپ نے کہا میرے ہاں سے تم لوگ نکل جاؤ اب مجھ میں اور تم میں کوئی رشتہ ناطہ نہیں ، یہ لوگ کئی دن تک پریشان رہے اور آخر قرآن حکیم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں ، غور فرمائیے ایک اپنا نام لیوا اور اپنے لخت جگر کے متعلق اس نوع کا نازیبا سلوک روا رکھتا ہے اور حرم رسول اور بنت صدیق ؓ کی عصمت عفاف پر ناپاک حملے…
Read the full tafseer →(22) چنانچہ ارشاد ہوتا ہے اور جو لوگ تم میں سے دینی بزرگی اور بڑے مرتبے والے ہیں اور دنیوی وسعت اور کشائش والے ہیں ان کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ قرابت داروں اور محتاجوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی آئندہ مالی خدمت کرنے سے قسم کھالیں اور قسم کھابیٹھیں کہ آئندہ کوئی امداد نہیں کریں گے بلکہ ان کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کا قصورمعاف کردیں اور ان سے درگزر کریں کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری خطائوں کو معاف فرمادے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
یعنی دین کی بزرگی اور دنیا کی کشائش والوں کو یہ بات نہیں چاہئے کہ وہ مسطح کی مالی امداد سے ہاتھ روک لیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 5۔ سو تم کو بھی تخلق باخلاق اللہ چاہئے، تم بھی اپنے قصور داروں کو معاف کردو۔
Read the full tafseer →صاحب کشائش وسعت نہ رکھنے والوں پر حد سے تجاوز نہ کریں :
31۔ (یاتل) کا تعلق (الوت) سے بھی ہو سکتا ہے اور (الیت ) سے بھی (الوت) کے معنی ایک بات میں کمی کرنے کے ہیں اور (الیت) کے معنی قسم کھانے کے ہیں اور دونوں معنوں سے مفہوم صحیح اور درست ہوجاتا ہے ” صاحب فضل قسم نہ کھائیں “ ” صاحب فضل کمی نہ کریں “ کسی غریب ومسکین رشتہ دار یا غیر رشتہ دار سے کوئی اچھا سلوک کرتے ہیں ان کو کھلاتے پلاتے ہیں ان کو صدقہ و خیرات ادا کرتے ہیں ‘ ان کے کام آتے ہیں لیکن جب انکی طرف سے کوئی رنج پہنچ جائے یا کوئی دکھ آلگے تو ان سے وہ نیکی کرنا ‘ ان کا ہاتھ بٹانا ‘ ان کو صدقہ و خیرات دینا بند کردیں تو یہ گویا برائی کے دل…
Read the full tafseer →وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿22﴾
And the men of grace and wealth among you should not swear against giving (their charitable gifts) to the kinsmen and the poor and to those who have migrated in the way of Allah. And they should forgive and forego. Do you not like that Allah forgives you? And Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful - 24:22.
Teachings of high morals for the…
Read the full tafseer →20. Aishah has stated that after the revelation of (verses 11- 21)absolving her from the accusation, Abu Bakr swore that he would no longer support Mistah bin Uthatha. This was because the man had shown absolutely no regard for the relationship, nor for the favors that Abu Bakr had all along been showing him and his family. At this (verse 22)was revealed and Abu Bakr, on hearing it, immediately said: By God, we do want that Allah should forgive us. Consequently he again started to help Mistah and in a more liberal manner than before. According to Abdullah bin Abbas, some other companions,…
Read the full tafseer →