Explained with ayahs 20–21
شیطانی راہوں پر مت چلو
یعنی اگر اللہ کا فضل وکرم، لطف ورحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہوجاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔ ایک شخص نے حضرت ابن مسعود ؓ سے کہا کہ میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 18
یعنی شیطان تو تمہیں برائی کی نجاستوں میں آلودہ کرنے کے لیے اس طرح تلا بیٹھا ہے کہ اگر اللہ اپنے فضل و کرم سے تم کو نیک و بد کی تمیز نہ سمجھائے اور تم کو اصلاح کی تعلیم و توفیق سے نہ نوازے تو تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے بل بوتے پر پاک نہ ہو سکے۔
سورة النُّوْر 19
یعنی اللہ کی یہ مشیت کہ وہ کسے پاکیزگی بخشے، اندھا دھند نہیں ہے بلکہ علم کی بنا پر ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کس میں بھلائی کی طلب موجود اور کون برائی کی رغبت رکھتا ہے۔ ہر شخص اپنی خلوتوں میں جو باتیں کرتا ہے انہیں اللہ سن رہا ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے دل میں بھی جو کچھ سوچا کرتا ہے، اللہ اس سے بیخبر نہیں رہتا۔ اسی براہ راست علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ، اس آیت میں پھر ان لوگوں کی مذمت اور ان پر دنیا و آخرت کے عذاب کی وعید ہے۔ جنہوں نے اس تہمت میں کسی طرح کا حصہ لیا۔ اس آیت میں یہ بات زیادہ ہے کہ جو الگ ایسی خبریں مشہور کرتے ہیں گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بدکاری اور فواحش پھیل جائیں۔
انسداد فواحش کا قرآنی نظام اور ایک اہم تدبیر جس کے نظر انداز کرنے کا نتیجہ آج کل فواحش کی کثرت ہے
قرآن حکیم نے فواحش کے انسداد کا یہ خاص نظام بنایا ہے کہ اول تو اس قسم کی خبر کہیں مشہور نہ ہونے پاوے اور شہرت ہو تو…
Read the full tafseer →یہ مسلمانوں کو اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہات اوپر گزر چکی ہیں۔ فرمایا کہ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ یہ بات اچھی طرح گرہ کرلو کہ شیطان جب بھی سمجھائے گا برائیے اور بےحیائی کی راہ ہی سمجھائے گا وہ کبھی نیکی اور بھلائی کی راہ نہیں سمجھائے گا۔ یہ تنبیہ یوں تو عام ہے لیکن یہاں خاص طور پر اسی ہدایت کو مئوکد کردیا ہے جو اوپر گزر چکی ہے کہ کسی کے عزت و ناموس کے معاملے میں ہر اس بات کی نقل و روایت نہ شروع کر دو جس کے باب میں تمہیں کوئی علم نہ ہو۔ جس بات کا کوئی ثبوت نہ ہو وہ محض ظن ہے اور ظن کی پیروی شیطان کی پیروی ہے۔
ایک لطیف اور باریک تنبیہ
ولولا فضل اللہ علیکم و…
Read the full tafseer →21-1اس مقام پر شیطان کی پیروی سے ممانعت کے بعد یہ فرمانا کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف نہ ہوتا، اس سے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ واقعہ افک میں ملوث ہونے سے بچ گئے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے جو ان پر ہوا، ورنہ وہ بھی اسی رو میں بہہ جاتے، جس میں بعض مسلمان بہہ گئے تھے۔ اس لئے شیطان کے داؤ اور فریب سے بچنے کے لئے ایک تو ہر وقت اللہ سے مدد طلب کرتے اور اس کی طرف رجوع کرتے رہو اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہوگئے ہیں، ان کو زیادہ ہدف ملامت مت بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے ان کی اصلاح کی کوشش کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
12: اگرچہ اکثر مخلص مسلمان اس تہمت کو جھوٹ ہی سمجھتے تھے، لیکن مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ اس طرح کی بےبنیاد اور بےدلیل باتوں کا تذکرہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(یا یھا الذین امنوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ سمیع علیم) (24 : 21) ” اے لوگو ‘ جو ایمان لائے ہو ‘ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہو سکتا۔ مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے “۔
کیا یہ کوئی اچھا منظر ہوگا کہ شیطان قدم رکھتا جائے اور اس کے نقوش قدم پر ایک مومن قدم رکھتا جائے حالانکہ تمام انسانوں کے مقابلے میں مومن اس کا زیادہ مستحق ہے کہ وہ شیطان سے نفرت کرے اور شیطان کی مقرر کردہ راہ سے دور جا کر سیدھی راہ پر چے۔ یہ تو ایک…
Read the full tafseer →10 یعنی شیطان کی چالوں سے ہوشیار رہا کرو۔ مسلمان کا یہ کام نہیں ہونا چاہیے کہ شیاطین الانس والجن کے قدم بقدم چلنے لگے۔ ان ملعونوں کا تو مشن ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بےحیائی اور برائی کی طرف لے جائیں۔ تم جان بوجھ کر کیوں ان کے بھرے میں آتے ہو۔ دیکھ لو شیطان نے ذرا سا چرکا لگا کر کتنا بڑا طوفان کھڑا کردیا اور کئی سیدھے سادھے مسلمان کس طرح اس کے قدم پر چل پڑے۔
1 یعنی شیطان تو سب کو بگاڑ کر چھوڑتا ایک کو بھی سیدھے راستہ پر نہ رہنے دیتا۔ یہ تو خدا کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کی دستگیری فرما کر بہتیروں کو محفوظ رکھتا ہے اور بعض کو مبتلا ہوجانے کے بعد توبہ کی توفیق دے کر درست کردیتا…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَازَکٰی مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًالا ”
یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور اس کی رحمت ہے کہ وہ تم لوگوں کی برائیوں کی ستر پوشی کرتا رہتا ہے اور اس طرح تمہارے راہ راست پر آنے کے امکانات موجود رہتے ہیں۔ کیونکہ اگر انسان کی برائی کا پردہ ایک دفعہ چاک ہوجائے تو وہ ڈھیٹ بن جاتا ہے اور اس میں اصلاح کی گنجائش نہیں رہتی۔ چناچہ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والوں کی فوری پکڑ نہیں کرتا اور اس طرح ان کے لیے اصلاح اور توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →24 یعنی شیطان کا تو کام ہی یہ ہے کہ تمہیں برائیوں اور بےحیائیوں کے کاموں میں مبتلا کرکے تمہارا ایمان تباہ اور تمہیں گمراہ کر دے۔ شیطان کا انسان پر سب سے پہلا وار تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے شرک کی نئی راہیں سجھاتا اور انھیں بڑے خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ جس سے کم ہی لوگ بچتے ہیں۔ اس طرح توحید سے گمراہ کرکے شرک میں مبتلا کردیتا ہے اور اس کا دوسرا وار یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو بےحیائی کے کاموں میں مبتلا کرے اور یہ کام بھی انھیں نہایت خوبصورت انداز میں پیش کرے۔ جنت میں شیطان نے یہی کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ پہلے حضرت آدم و حوا کو خوبصورت وعدے اور سبز باغ دکھلا کر اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کیا۔ جس کے…
Read the full tafseer →33۔ چناچہ آج بھی مشاہدہ ہے کہ شیطان جدید عورت کے کان میں کیسے کیسے افسون ” آزادی “ و ” مساوات کامل “ کے نام سے پھونک پھونک کر اسے انتہائی اخلاقی پستیوں کی منزل کی طرف لیے جارہا ہے۔ ” مخلوط تعلیم “ تھیٹر، سینما ہال روم ڈانس اور ہر شعبہ زندگی میں مرد وزن کا آزادانہ بےتکلف اختلاط !
34۔ یہ توفیق توبہ جو اہل ایمان کو ہوجاتی ہے۔ اللہ کے فضل وکرم ہی سے ہوتی ہے۔ کوئی بندہ اسے اپنے ذاتی استحقاق کا نتیجہ نہ سمجھے۔ صوفیہ محققین کہتے ہیں کہ مدار کار فضل و رحمت ہے نہ کہ سعی و مجاہدہ۔
35۔ (چنانچہ تمہاری بھی توبہ سن لی اور دلی ندامت جان لی) اصل خطاب تو اس وقت کے خاطی مسلمانوں سے ہے۔ لیکن ساتھ ہی عام قاعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیت نمبر 21 تا 26
ترجمہ : اے ایمان والو تم شیطان کے نقش قدم پر مت چلو یعنی شیطان کے راستوں پر مت چلو یعنی اس کی تلبیس اور فریب میں نہ آؤ، اور جو شخص شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے تو وہ یعنی شیطانی راستہ پر چلنے والا شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے فحش یعنی بےحیائی اور شرعاً نا معقول ہی کام کرنے کو کہے گا اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو اے لوگو تم میں سے کبھی کوئی پاک صاف نہ ہوتا اس وجہ سے کہ تم نے افتراء پردازی کی، یعنی توبہ کے ذریعہ نہ اس گناہ سے درست ہوتا اور نہ پاک ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے گناہ سے اس کی توبہ کو قبول کرکے اور اللہ تعالیٰ تمہاری…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا لا تتبعوا خطوت الشیطن ومن یتبع خطوت الشیطن فانہ یامر بالفحشآء والمنکر اے ایمان والو شیطان کے قدم بہ قدم 1 نہ چلو وہ (تو ہمیشہ ہر شخص کو) بےحیائی اور نامعقول کام کرنے
ہی کو کہے گا۔
اَلْفَحْشَآءِوہ کام جس کی برائی عقلاً و نقلاً حد سے زیادہ ہو۔
اَلْمُنْکَرِ وہ کام جو شرعاً نامعقول ہو۔
ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی۔ یہ خطاب ان
مسلمانوں کو ہے جو (اپنی نادانی کی وجہ سے) منافقوں کے ساتھ افواہ پھیلانے میں شامل ہوگئے تھے۔ اللہ کی ان پر یہ مہربانی ہوئی کہ گناہوں کو مٹا دینے والی سزا کا حکم جاری کردیا گیا اور اللہ نے ان کو توبہ کی…
Read the full tafseer →(21) اب اللہ تعالیٰ شیطان کی پیروی اور اس کے نقش قدم پر چلنے سے روکتا ہے کہ اے ایمان والو تلبیس ابلیس اور شیطانی وساوس کی پیروی مت کرو۔
کیوں کہ جو شخص تلبیس ووساوس شیطانی کی پیروی کرتا ہے تو شیطان تو نامعقول کام اور نامعقول باتیں کرنے اور ایسی ہی چیزوں کے ارتکاب کو کہے گا کہ جن کا شریعت اور سنت میں کہیں ثبوت نہیں اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم نہ ہوتا کہ اس نے تمہیں ان باتوں سے حفاظت اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی تو تم میں سے کبھی کوئی موحد اور نیکوکار نہ ہوتا لیکن جو شخص اس کا اہل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کو توبہ اور نیکی کی توفیق عطا فرماتا ہے اللہ تعالیٰ سب باتوں کو سنتا اور تمہیں اور…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۔۔ : ”خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ“ کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (168) اور ”بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَر“ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نحل کی آیت (90) پہلے فرمایا : (لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ) پھر ”الشَّيْطٰنِ“ کے لیے ضمیر لا کر ”وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوَاتِہِ“ کہنے کے بجائے دوبارہ نام لے کر فرمایا : (ۭ وَمَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ) مراد توجہ دلانا ہے کہ آدمی سوچے کہ میں کس کی پیروی کر رہا ہوں۔
وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ۔۔ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی شخص کسی طرح بھی اپنے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →1۔۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” مازکی منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی بھلائی کی طرف ہدایت نہ پاسکا۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَتَّبِعُوْا [ تم لوگ پیروی مت کرو ] خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ [ شیطان کے نقوش قدم کی ] وَمَنْ [ اور جو ] يَّتَّبِعْ [ پیروی کرے گا ] خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ [ شیطان کے نقوش قدم کی ] فَاِنَّهٗ [ تو بیشک وہ (تو)] يَاْمُرُ [ ترغیب دیتا ہے ] بِالْفَحْشَاۗءِ [ فحاشی کی ] وَالْمُنْكَرِ ۭ [ اور برائی کی ] وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] فَضْلُ اللّٰهِ [ اللہ کا فضل ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَرَحْمَتُهٗ [ اور اس کی رحمت ] مَا زَكٰي [ تو پاک نہ ہوتا ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] مِّنْ اَحَدٍ [ کوئی ایک بھی ] اَبَدًا ۙ [ کبھی بھی ] وَّلٰكِنَّ […
Read the full tafseer →شیطان کے اتباع سے بچو، خیر کے کام سے بچنے کی قسم نہ کھاؤ، بہتان لگانے والوں کے لیے عذاب عظیم ہے، پاکیزہ لوگوں کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے
یہ چھ آیات ہیں ان کا تعلق بھی انہیں مضامین سے ہے جو سورة کے شروع سے لے کر اب تک بیان کیے گئے۔ پہلی آیت میں اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ شیطان کے قدموں کا اتباع نہ کرو۔ یعنی اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر نہ چلو جو شخص شیطان کا اتباع کرے گا یعنی اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا شیطان اسے برباد کر دے گا کیونکہ وہ بےحیائی کے کاموں کا اور طرح طرح کی برائیوں کا حکم دیتا ہے جس نے اس کی بات مانی وہ گمراہی کے گڑھے میں گرا، پھر اگر توبہ نہ کی تو ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →20:۔ ” یا ایھا الذین الخ “ ایمان والوں کو نصیحت فرمائی کہ پاک دامن مومنوں پر تہمت لگانا بہت برا اور فحش کام ہے اور بےحیائی اور فحش کاموں کی ترغیب و اشاعت تو شیطان کا کام ہے، ایمان والوں کو ایسے کاموں سے دور رہنا چاہئے اور شیطان کی پیروی نہیں کرنی چاہئے۔ من یتبع الشیطان ارتکب الفحشاء والمنکر فانہ لا یامر الا بھما ومن کان کذلک لا یجوز اتباعہ وطاعتہ (روح ج 18 ص 124) ۔
21:۔ ” ولو لا فضل اللہ الخ “ اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے اور مقصد ذکر جزاء ہے۔ ” ما زکی منکم الخ “ جزاء ہے یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس بےحیائی اور بہتان تراشی کو روکنے کے لیے احکام وحدود مقرر فرمادئیے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اتہام لگانے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ان لوگوں کی بھی جنہوں نے اس واقعہ کی بلا سوچے سمجھے اور بلا تحقیق تشہیر کی تھی۔ اللہ نے ان کو سزا بھی دی کہ ان پر حدقذف جاری ہوئی۔ ساتھ ساتھ اللہ نے سخت تنبیہ بھی کی کہ ایسی بات آئندہ نہیں ہونی چاہیے۔ پھر اللہ نے انہیں معاف بھی فرمادیا۔ البتہ رئیس المافقین پر حد جاری نہیں ہوئی تھی۔ اور اس کا معاملہ آخرت پر چھوڑ دیا گیا۔ اللہ نے اس کے لئے سخت عذاب کی وعید سنائی۔ اور پھر اللہ نے معاشرے کو بےحیائی کی باتوں سے پاک رکھنے کا حکم دیا۔ فرمایا جو لوگ بری باتوں کی تشہیر کو پسند کرتے ہیں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ 0ۭ وَمَنْ يَّتَّبِـعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ فَاِنَّہٗ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ 0ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا 0ۙ وَّلٰكِنَّ اللہَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ 0ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 21
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك
قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ،
( ت ب ع) تبعہ واتبعہ
کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور…
Read the full tafseer →ترکیب : : ولایاتل ھویفتعل من الانۃ یقال اتلی یا تلی کانتہی ینتہی اذا حلف ومنہ قولہ تعالیٰ و للذین یؤلون من نسائھم وقیل ھومن الوت فی کذا اذا قصرت و منہ قولہ تعالیٰ لایالونکم خبالا والاول اولی ان یوتوا ای علی ان لایوتوا الجملۃ بیان حلف یوم عامل ظرف میں استقرار جو لہم میں ہے۔
تفسیر : :۔ یا ایہا الذین امنوا، یہاں پھر صاف صاف مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ ایسی باتیں نہ کریں یہ باتیں شیطانی وسواس ہیں۔ فرماتا ہے اس کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ بےحیائی اور بری باتیں سکھایا کرتا ہے۔ شیطان خون کی طرح انسان کے رگوں میں دوڑتا ہے اور جا کر دل میں گھر کرلیتا ہے پھر بھلا اس موذی کے زہر سے کوئی بچ سکتا ہے ؟ مگر…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط وَمَنْ یَّتَّبِعُ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّـہٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ ط وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُـہٗ مَازَکیٰ مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا لا وَّلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (النور : 21)
(اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقوش قدم کی پیروی نہ کرو، اور جو شخص شیطان کے نقوش قدم کی پیروی کرتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ شیطان ہمیشہ بےحیائی اور برائی کی راہ دکھاتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کسی پر تہمت لگانا شیطانی عمل ہے اس لیے مسلمانوں کو شیطان کی پیروی سے منع کیا گیا ہے۔
شیطان کی ہر لمحہ کوشش ہوتی ہے کہ انسان بالخصوص مسلمان کو برائی اور بےحیائی کے کاموں میں مبتلا کرے۔ جب انسان ایک مرتبہ برائی اور بےحیائی کا ارتکاب بیٹھتا ہے تو پھر اس کے لیے سنبھلنا مشکل ہوجاتا ہے اس لیے حکم ہے کہ شیطان کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ قرآن مجید کے پہلے مخاطب صحابہ کرام ؓ تھے لہٰذا تیسری مرتبہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم پر اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم سے پاک نہیں رہ سکتا تھا یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اسے ہر اعتبار سے پاک صاف رہنے کی توفیق عطا…
Read the full tafseer →21: یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْاخُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ (اے ایمان والو شیطان کے قدم بقدم نہ چلو) خطوات سے قدموں کے نشانات اور وساوس شیطانی مراد ہیں ان کی اتباع یہ ہے کہ افک کی طرف کان لگائے اور زبان سے گفتگو کرے۔ وَمَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّہٗ (اور جو شخص شیطان کے قدم بہ قدم چلے گا وہ تو ہمیشہ) ہٗ کا مرجع شیطان ہے یعنی شیطان یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِِ (وہ فحشاء کا حکم دیتا ہے) فحشاء اس کو کہتے ہیں جو انتہائی قبیح ہو۔ والْمُنْکَرِ ( اور منکر کا) جس کو نفوس ناپسند کریں اور اس سے نفرت کریں اور نامعقول قرار دیں۔
وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ…
Read the full tafseer →21۔ یا ایھا الذین آمنوا لاتتبعوا، ،، ،، ،۔ برے افعال، والمنکر، ہر وہ ناپسندیدہ کام جو اللہ کو پسند نیہں۔ ولولافضل اللہ علیکم ورحمتہ، مازکی، مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد اصلاح ہے، قتیبہ نے کہا کہ تو پاک نہ ہوتا۔ منکم من احد، بعض مفسرین کے نزدیک آیت میں عموم ہے وہ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اس کا فضل ورحمت نہ ہوتی تو ان میں سے کوئی بھی نہ بچتا، بعض کا قول ہے کہ خطاب ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ، افک، کے معاملے میں خوب انتشار پھیلایا۔
حضرتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اگر ا اس کا فضل نہ ہوتاتو تمہیں اس گناہ سے پاک نہ کیا جاتا اور تمہاری اصلاح بھی نہ ہوتی ، بعض نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 21:۔ ایمان والوں سے ظاہری مطلب شان نزول کے طور پر اگرچہ حضرت عائشہ ؓ اور صفوان ؓ اور ان دونوں کے ایماندار رشتہ داری ہیں اور بدکاری کا دل سے چرچا کرنے والوں سے مطلب عبداللہ بن ابی ‘ اس کے ساتھ اور وہ مسلمان لوگ ہیں جو منافقوں سے سن کر اس بہتان کے چرچے میں زبانی شریک تھے لیکن آیت کا مطلب عام ہے ‘ اب بھی اس قسم کے چرچا کرنے والے اور جن کے حق میں چرچا کیا جاوے قیامت تک کے سب لوگ آیت کے حکم میں داخل ہیں اور دنیا میں ان جھوٹا بہتان لگانے والوں کو کوڑے پٹنے کی سزا دی جاوے گی اور اگر بغیر توبہ کے اس عادت پر مرجاویں گے تو عقبیٰ میں جدا عذاب ہوگا ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کو جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
فحش پھیلانے پر وعید
قول باری ہے : (ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا) جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بات واضح کردی ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں حسن ظن رکھنا اور ان کی خیر وصلاح کا طلبگار ہونا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وعید سنائی ہے جو اہل ایمان میں فحش پھیلانے کے خواہشمند ہوں انہیں جھوٹے الزامات میں ملوث کریں اور ان کے سامنے بدکلامی کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان حرکات کو کبائر شمار کیا ہے جن کا مرتکب عقاب کا مستحق گرداتا جاتا ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے لئے دلوں میں نہ صرف پاکیزہ جذبات رکھنا…
Read the full tafseer →32 شیطان کی پیروی سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا ایمان والو، شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہیں کرنا کہ اس کی پیروی تمہارے لیے ہلاکت و تباہی کا باعث بنے گی۔ اس سے کسی خیر کی توقع ہو ہی نہیں سکتی کہ اس نے تمہیں گمراہ کرنے اور دوزخ کی راہ پر ڈالنے کا کھلم کھلا اعلان کر رکھا ہے۔ اور وہ تم لوگوں کو علم اور حق کی روشنی سے محروم کر کے ظن و گمان اور اوہام و خرافات کے اندھیروں میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ پس تم اس کی پیروی نہ کرنا۔ بےحیائی پھیلا کر اور برائی کو فروغ دے کر۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ برائی اور بیحیائی کی تلقین کرتا ہے۔ سو جو اس کے نقش قدم پر چلا وہ ہلاک ہوگیا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
شیطان کی چالوں سے اللہ کا فضل بچا سکتا ہے
تشریح : ان آیات میں واقعہ افک کی کچھ وجوہات بیان ہوئی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ شیطان کی شرارت ہے۔ شیطان تو ہر وقت اور ہر صورت سے انسان کو بہکانے میں لگا رہتا ہے۔ کیونکہ وہ تو انسان کا پکا دشمن ہے اور کچھ انسانی کمزوری ہے کہ وہ جلدی شیطان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر میرا فضل میری رحمت اور میری مدد انسان کو میسر نہ ہو تو اکثر و بیشتر انسان اس کے شکار ہوجائیں۔ افواہیں ‘ بدگمانیاں اور فتنے یہ سب شیطان کے راستے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ افک بھی تھا۔ جس کی وجہ سے بڑا ہنگامہ ہوا کئی نیک لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اے مسلمانو ! شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کہ جو بھی شیطان کی بات سنتا ہے یا اس کے ساتھ چلنے لگتا ہے تو شیطان اسے بےحیائی اور برائی کا مشورہ دیتا ہے یا ایسے امور اختیار کرتا ہے اور ایسے ڈھنگ سے راہ دکھاتا ہے کہ وہ بےحیائی اور برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے لہذا معاشرے میں بےحیائی پھیلانے والے سارے کام یہ ثقافت کے نام پر راگ رنگ کی محفلیں عریانیت اور فحش فلمیں یہ سب اسی کا شاخسانہ ہیں اور ایمان والے بندے کو ان کا ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا ورنہ یہ اس کا ایمان بھی ضائع کریں گے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی ان کی زد سے نہ بچتا نہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
1 ۔ یعنی اسے گناہ میں پڑنے نہیں دیتا یا گناہ کے بعد اسے توبہ کی توفیق دیتا ہے۔ 2 ۔ اسے معلوم ہے کہ کون دل میں اخلاص رکھتا ہے کہ اسے پاک کیا جائے اور کون نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →(24:21) خطوت الشیطن۔ مضاف مضاف الیہ۔ خطوت اخطو۔ کے معنی چلنے کے قدم اٹھانے کے ہیں۔ خطوۃ ایک بار قدم اٹھانا الخطوۃ وہ فاصلہ جو دو قدموں کے درمیان ہو۔ اس کی جمع خطوت ہے۔ لا تتبعوا خطوت الشیطن۔ شیطان کے قدموں پر مت چلو۔ یعنی شیطان کی اتباع نہ کرو۔ فانہ میں ضمیر واحد مذکر غائب شیطن کے لئے ہے۔
المنکر۔ برا کام۔ وہ قول یا فعل جس کو عقل سلیم برا جانتی ہو یا شریعت نے اسے برا قرار دیا ہو۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ انکار مصدر۔ ما زکی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ پاک صاف نہ ہوا۔ منکم من احد۔ تم میں سے کوئی بھی۔ ابدا۔ کبی بھی۔ یزکی۔ مضارع واحد مذکر غائب تزکیۃ مصدر (باب تفعیل) وہ پاک کرتا ہے پاک قرار دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 :
لاتتبعوا (تم پیچھے نہ چلو۔ تم اتباع نہ کرو) ‘ خطوات (خطوط) قدم۔ نقش قدم ‘(الفحشاء (فحش) بےحیائی کے کام ‘ مازکی (صاف ستھرانہ ہوتا) ‘ لا یاتل (ایتلائ) قسمیں نہ کھائیں ‘ اولی الفضل (حیثیت والے) ‘ السعۃ (گنجائش والے۔ وسعت والے) الا تحبون ( کیا تم پسند نہیں کرتے) ‘ المحصنت (المحسنۃ) پاک دامن ‘(الغفلت) (بےخبر۔ انجان۔ بھولی بھالی) ‘ السنۃ (لسان) زبانیں ‘ ایدی (دونوں ہاتھ) ‘ ارجل (رجل) پاؤں ۔ یوفی (وہ پورادے گا) ‘ الخبیثات ( گندی عورتیں) الطیبت (پاک صاف ستھری عورتیں) ‘ مبرءون (بری ہونے والے ۔ پاک صاف) ۔
تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :
شیطان جو انسان کا ازلی کھلا دشمن ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
جھوٹا عیب لگانے والوں پر دنیاوآخرت کا عذاب۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ بعد نزول ان آیات کے بھی یہ چاہتے ہیں کہ بدکاری کا چرچا مسلمانوں میں پھیلے یعنی ان کے دلوں میں بھی وسوسے پیدا ہوا کریں کہ فلاں نے آج یہ کام برا کیا، فلانے کی بیوی نے ایسا کیا، اور فلاں ایسا ہے تو ان پر دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہوتا ہے اس لیے کہ شریعت کے موافق کوڑے مارے جاتے ہیں اور رد الشہادت اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل غیرقابل الاعتبار ہوجاتے ہیں اور اس کے سوا آخرت میں بھی عذاب الٰہی میں مبتلا ہوتے ہیں اور خدا ہی خوب جانتا ہے جو برائیاں تم کرتے ہو اور تم اس کو نہیں جانتے۔ پھر…
Read the full tafseer →[20] یعنی توبہ کی توفیق نہ ہوتی جیسے منافقین کو نہ ہوئی یا یہ کہ توبہ قبول نہ کی جاتی کیونکہ اللہ پر کوئی چیز واجب تو ہے نہیں۔
[21] چناچہ تمہاری توبہ بھی سن لی اور دلی ندامت بھی جان لی۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ مسلمان مرد یا مسلمان عورت کو متہم کرنا شیطان کی پیروی کے مترادف ہے ، اس لئے اس گناہ عظیم سے قطعی احتراز کرو ، اور یاد رکھو کہ یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ اس نے تمہارے اس بہت بڑی معصیت کے کام کو توبہ کے بعد بخش دیا ہے ورنہ یہ گناہ ایسا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص بھی اس سے توبہ کرکے عنداللہ تطہیر حاصل نہ کرسکتا ۔
Read the full tafseer →(21) اے ایمان والو ! اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! تم شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور جو شخص شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے اور شیطان کے قدم بہ قدم چلے گا تو وہ شیطان تو بےحیائی اور نامعقول ہی کام کرنے کو کہے گا اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں کبھی کوئی اس گناہ سے پاک اور صاف نہ ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے اور سنوار دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ شیطان کی پیروی کرنے اور شیطان کے قدم بہ قدم چلنے سے مسلمانوں کو منع فرمایا کیونکہ شیطان کا کام تو یہی ہے کہ وہ نامعقول اور بےحیائی کی باتوں پر ابھارتا ہے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یا تو توبہ کی توفیق ہی نہ ہوتی جیسا منافقین کو نہ ہوئی، اور یا تو بہ قبول نہ کی جاتی، کیونکہ ہم پر کوئی چیز واجب تو ہے نہیں۔
4۔ آگے اس کا بیان ہے کہ بعد نزول آیات براة کے بعض صحابہ نے جن میں حضرت ابوبکر بھی ہیں اور دوسرے صحابہ نے شدت غضب میں قسم کھالی کہ جس جس نے چرچا کیا ہے ہے کہ بعض ان میں حاجت مند بھی تھے ان کو اب سے کسی قسم کی مالی امداد نہ دیں گے، اللہ تعالیٰ عفو تقصیر اور امداد جاری کردینے کے لئے ارشاد فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →شیطان کی پیروی مت کرو وہ بےحیائی کی صدا دیتا ہے :
29۔ ایمان والوں کو شیطان کی پیروی سے روکا جا رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ ” تم شیطان کے قدم بقدم نہ چلنے لگو “ (خطوات) خطوۃ کی جمع ہے اور خطوہ دو قدموں کے درمیان کی جگہ کو کہتے ہیں فرمایا جا رہا ہے کہ تم شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کیونکہ وہ اپنے ماننے والوں کو بےحیائی اور بدکاری کی تلقین کرتا ہے اور برے کاموں کو اس حسین انداز میں پیش کرتا ہے کہ ان کے نتائج آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ‘ انسان یہی سمجھنے لگتا ہے کہ ساری مسرتیں ‘ ساری عزتیں انہیں برے کاموں میں سمٹ کر رہ گئی ہیں شیطان کے اکسانے سے وہ ایسی ایسی کمینی اور حیاسوز حرکتیں کرتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
Surely, those who like that shamelessness spreads among the believers, for them there is a painful punishment in this world and the Hereafter - 24:19.
Those who had taken part in any way in the slander are again condemned in this verse, and are warned with the punishment in the world and in the Hereafter. An extra element in this verse is that those who propagate such rumors actually want the spread of obscenity and immorality among the Muslims.
The Qur'anic system…
Read the full tafseer →18. Satan is bent upon involving you in all kinds of pollutions and indecencies. Had it not been for the mercy and kindness of Allah Who enables you to differentiate between good and evil and helps you to educate and reform yourselves, you would not have been able to lead a pure and virtuous life on the strength of your own faculties and initiative alone.
19. It is Allah’s will alone which decides whom to make pious and virtuous. His decisions are not arbitrary but based on knowledge. He alone knows who is anxious to live a life of virtue and who is attracted towards a life of sin. Allah…
Read the full tafseer →