Explained with ayahs 20–21
شیطانی راہوں پر مت چلو
یعنی اگر اللہ کا فضل وکرم، لطف ورحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہوجاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔ ایک شخص نے حضرت ابن مسعود ؓ سے کہا کہ میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة النُّوْر 16
موقع و محل کے لحاظ سے تو آیت کا براہ راست مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے الزامات گھڑ کر اور انہیں اشاعت دے کر مسلم معاشرے میں بد اخلاقی پھیلانے اور امت مسلمہ کے اخلاق پر دھبہ لگانے کی کوششیں کر رہے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں۔ لیکن آیت کے الفاظ فحش پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ ان کا اطلاق عملاً بد کاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بد اخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کے لیے جذبات کو اکسانے والے قصوں، اشعار، گانوں، تصویروں اور کھیل تماشوں پر بھی۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی ان کی زد میں آجاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیا جاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ، اس آیت میں پھر ان لوگوں کی مذمت اور ان پر دنیا و آخرت کے عذاب کی وعید ہے۔ جنہوں نے اس تہمت میں کسی طرح کا حصہ لیا۔ اس آیت میں یہ بات زیادہ ہے کہ جو الگ ایسی خبریں مشہور کرتے ہیں گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بدکاری اور فواحش پھیل جائیں۔
انسداد فواحش کا قرآنی نظام اور ایک اہم تدبیر جس کے نظر انداز کرنے کا نتیجہ آج کل فواحش کی کثرت ہے
قرآن حکیم نے فواحش کے انسداد کا یہ خاص نظام بنایا ہے کہ اول تو اس قسم کی خبر کہیں مشہور نہ ہونے پاوے اور شہرت ہو تو…
Read the full tafseer →شدید تنبیہ
بعینیہ یہی آیت اوپر گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 10 بس یہ فرق ہے کہ وہاں تواب حکیم ہے اور یہاں روئوف رحیم ہے لو کا جواب یہاں بھی محذوف ہے اور یہ حذف تنبیہ کی شدت پر دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہاری (خطاب مسلمانوں سے ہے) اس شدید غلطی پر تمہاری گرفت نہیں کی ورنہ تمہارے اندر کے لوگوں نے جس طرح اسلام کے دشمنوں کی مقصد برآری کا سامان کیا تھا اس پر تم سزا وار تھے کہ خدا کی گرفت میں آجاتے لیکن خدا رئوف و رحیم ہے اس وجہ سے اس نے تمہاری غلطی کے باوجود تمہیں توبہ اور اصلاح کی مہلت دی۔
Read the full tafseer →20-1جواب محذوف ہے، تو پھر اللہ کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لیتا۔ یہ محض اس کا فضل اور شفقت و رحمت ہے کہ اس نے تمہارے اس جرم عظیم کو معاف فرما دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
12: اگرچہ اکثر مخلص مسلمان اس تہمت کو جھوٹ ہی سمجھتے تھے، لیکن مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ اس طرح کی بےبنیاد اور بےدلیل باتوں کا تذکرہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ دوبارہ مسلمانوں کو اپنے فضل و کرم کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
(ولولا فضل اللہ۔۔۔۔۔۔۔ رحیم) (24 : 20) ” اور اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ شفیق و رحیم ہے تو ۔۔۔ “ تو یہ حادثہ بڑا ہی عظیم تھا اور جو غلطی تم سے ہوگئی وہ کوئی معمولی غلطی نہ تھی۔ اور اس کے اندر جو شرارت پوشیدہ تھی وہ تمہیں خوب نقصان پہنچا دیتی۔ لیکن یہ اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تھا اور اس کی مہربانی اور اس کی نگرانی تھی کہ اس نے اس امر عظیم کے برے نتائج کو کنٹرول کرلیا۔ یہ بات اللہ بار بار ذکر فرماتا ہے۔ اس واقعہ کو اللہ ذریعہ تربیت بنا رہا ہے کیونکہ اس کے اثرات مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →9 یعنی یہ طوفان تو ایسا اٹھا تھا کہ نہ معلوم کون کون اس کی نذر ہوتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و رحمت اور شفقت و مہربانی سے تم سے تائبین کی توبہ کو قبول فرمایا اور بعض کو حد شرعی جاری کر کے پاک کیا اور جو زیادہ خبیث تھے ان کو ایک گو نہ مہلت دی۔
Read the full tafseer →آیت 20 وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ ”
تو یہ جو طوفان اٹھایا گیا تھا اس کے نتائج بہت دور تک جاتے۔ اس مفہوم کے الفاظ یہاں محذوف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
22 فاحشہ سے مراد ہر وہ کام جو انسان کی شہوانی خواہش میں تحریک پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہو۔ فحاشی کی اشاعت کی بہت سی صورتیں ہیں۔ پہلی اور سب سے اہم صورت وہی ہے جس کا اس صورت میں ذکر ہے۔ یعنی یہ کہ اگر کوئی شخص کسی پاک دامن عورت کو الزام لگا دے تو دوسرے لوگ بلاتحقیق اس بات کو آگے دوسرے سے بیان کرنا شروع کردیں۔ دوسری صورت یہ ہے زنا (جسے قرآن نے فاحشہ مبینہ کہا ہے) کے علاوہ شہوت رانی کی دوسری صورتیں اختیار کی جائیں۔ مثلاً مردوں کی مردوں سے خواہش پوری کرنا یا لواطت جس کی وجہ سے قوم لوط پر پتھروں کا عذاب نازل ہوا تھا اور ہماری شریعت میں لوطی کی سزا قتل ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مرد حیوانات سے یہ غرض…
Read the full tafseer →32۔ (اس وعید سے) خطاب عام مسلمانوں کو ہے۔ (آیت) ” رء ورحیم “۔ توفیق توبہ کی اللہ کی اسی فضل وکرم سے ہوئی اور مقبولیت تو بہ اسی شفقت و رحمت کے اثر سے ہوئی۔ امت اسلامیہ کے ساتھ بار بار اس تعلق شفقت و رحمت کا ذکر کرکے ان کے ساتھ اپنی تخصیص کو تازہ کرنا، ان کے دلوں کو گرمانا اور ان میں طاعت و اطاعت کا مزید شوق پیدا کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…
Read the full tafseer →ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ وان اللہ روءرحیم۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم
پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے اور اللہ بڑا شفیق اور بڑا رحم کرنے والا ہے (تو تم بھی سزا سے نہ بچتے) ۔
یہ خطاب ان مسلمانوں کو ہے جنہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے قصہ میں کچھ دخل اندازی کی تھی۔ شرط کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر اللہ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو دنیا میں ایسا عذاب تم پر نازل کرتا کہ تمہاری بیخ و بن اکھڑ جاتی اور آخرت میں تم کو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں ڈال دیتا۔
اللہ نے اس آیت میں دوبارہ عذاب سے ڈرایا ہے اور اپنی رحمت کا تذکرہ کیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ بڑا اہم اور جرم بہت سنگین تھا۔
حضرت ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →(20) اور جن حضرات نے عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ پر بہتان نہیں لگایا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے اور اللہ تعالیٰ مومنین پر بڑا شفیق اور بڑا رحیم ہے تو تم بھی نہ بچتے۔
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ۔۔ : اس کا جواب محذوف ہے ”تو تمہیں توبہ کا موقع ہی نہ ملتا اور فوراً اللہ کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لیتا، یہ محض اس کا فضل و رحمت اور اس کا رؤف و رحیم ہونا ہے کہ اس نے تمہیں توبہ کا موقع دیا اور حد کے ذریعے سے تمہیں پاک کرنے کا اہتمام فرمایا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
برائی کی اشاعت کرنا بڑا گناہ ہے
1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن امنذر والطبرانی نے مجاہد (رح) سے آیت ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ آیت ” تشیع “ کا مطلب ہے ظاہر ہونا اور عائشہ ؓ کے متعلق باتیں کرتا ہے
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) نے آیت ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ جو لوگ پسند کرتے ہیں بدکاری ظاہر ہوجائے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے خالد بن معدان (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص بیان کرتا ہے اس چیز کو جو اس کی آنکھوں نے دیکھا اور اس کے کانوں نے سنا تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والے لوگوں میں بدکاری کا ذکر…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] فَضْلُ اللّٰهِ [ اللہ کا فضل ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَرَحْمَتُهٗ [ اور اس کی رحمت ] وَاَنَّ اللّٰهَ (اور یہ کہ اللہ) رَءُوْفٌ [ بےانتہا نرمی کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: اعلی اخلاقی اقدار کے رواج کی وجہ سے مدینہ میں اخوت و محبت پر مبنی جو مسلم معاشرہ پروان چڑھ رہا تھا وہ مخالفین اسلام خصوصا منافقین کو سخت ناگوار تھا۔ ان کی یہ خواہش تھی مسلمان بھی انہی اخلاقی پستیوں کے مکین رہیں جن میں وہ خود مبتلا تھے تاکہ ان کی اخلاقی گراوٹ نمایاں نہ ہو۔ واقعہ افک ان کی اسی دبی ہوئی خواہش کا ایک حقیر سا مظہر یعنی Tip of the lceberg تھا۔…
Read the full tafseer →(وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ رَءُ وْفٌ رَحِیْمٌ) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور رحمت ہے اور یہ بات کہ اللہ رؤف ہے رحیم ہے تو تم بھی نہ بچتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →19:۔ ” ولو لا فضل اللہ الخ “ لَوْ کا جواب محذوف ہے اس انعام و احسان کی اہمیت کا احساس دلانے اور مسلمانوں کو تنبیہ کرنے کے لیے اس کا دوبارہ اعادہ فرمایا یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ مہربان نہ ہوتا تو اس جرم کی پاداش میں تمہیں فورًا ہلاک کردیتا اور مہلت دنہ دیتا لعجل لکم العذاب وکردرد المنۃ بترک المعاجلۃ بالعقاب مع حذف الجواب مبالغۃ فی المنۃ علیھم والتوبیح لھم (مدارک ج 3 ص 105) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
بہتان تراشی پر تنبیہ :
واقعہ افک کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مزید تنبیہ فرمائی ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم تو ضرور تم کو عذاب عظیم پہنچتا اس چیزیں جس کا تم نے چرچا کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تشہیر واقعہ افک سے متعلق تھی جس میں منافقوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر الزام تراشی کی تھی اور بعض مسلمان بھی اس پراپیگنڈا کا شکار ہوگئے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے فضل ورحمت کی وجہ سے تم سخت سزا سے بچ گئے ، وگرنہ یہ بہت بری بات تھی جس سے ناموس رسول میں خلل…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللہَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 20ۧ
فضل
الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر
فعلی ثلاثة أضرب :
فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات .
وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله :
وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا
وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ترکیب : لولا بمعنی ہلا اذحیں ما یکون لنا بمعنی ماینبغی لنا سبحانک، ھو للتعجب ان تعودوا ای کر اہۃ تعودو افھو مفعول لہ اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو یعظکم کا بمعنی ینہکم، لہم عذاب الیم خبر ان الذین ان تشیع مفعول یحبون فی الدنیا عذاب الیم سے متعلق ہے ورحمتہ معطوف ہے۔ فضل اللہ پر پھر وان اللہ اس پر معطوف جواب لو لا محذوف اے لعاجلکم بالعقوبۃ۔
منجملہ ناراضیوں کے ایک یہ جملہ بطور زجر کے ہے وتقولون الخ کہ جس بات کا تم کو علم نہیں اس کو ہلکا جان کر مونہوں سے نکالنے لگے یہاں تک کہ کوئی گھر اور کوئی مجلس نہ تھی کہ جہاں یہ چرچا نہ پھیلا ہو۔ فرماتا ہے یہ بڑی بھاری بات ہے ولو لا اذسمعتموہ بلکہ تمہیں یہ مناسب…
Read the full tafseer →وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُـہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ رَئُ ْوفٌ رَّحِیْمٌ۔ (النور : 20)
(اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور اللہ رئوف و رحیم نہ ہوتا تو تم بھی نہ بچ سکتے۔ )
اس آیت کا پہلا حصہ آیت 10 میں گزر چکا، البتہ دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ کی دو مختلف صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ لَوْکا جواب وہاں بھی نہیں دیا گیا تھا اور یہاں بھی نہیں دیا گیا۔ اس سے تنبیہ کی شدت کا احساس ہوتا ہے۔ وہاں مسلمانوں کو اپنی غلطیوں سے توبہ کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رأفت و رحمت کا ذکر فرما کر شاید یہ تصور دیا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کی امت ہے، سازشیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کو نصیحت کرنے کے بعد منافقین اور بےحیائی پھیلانے والوں کی سزا کا ذکر۔
اللہ تعالیٰ کے احکام واضح ہیں کہ کسی پاکدامن عورت اور مرد پر تہمت نہ لگائی جائے۔ کیونکہ اس سے ایک طرف انفرادی طور پر مسلمان کی بےحرمتی ہوتی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں بےحیائی پھیلتی ہے۔ جس معاشرے میں پاکدامن مردوں اور عورتوں کی عزت محفوظ نہیں وہاں بےشرمی اور بےحیائی عام ہوجاتی ہے۔ جو لوگ بےحیائی کو پھیلاتے اور رواج دیتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں اذّیت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ پہلی ذلت یہ ہے کہ اسے سرعام اسّی کوڑے لگائے جاتے ہیں ظاہر ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہوسکتی ہے۔…
Read the full tafseer →20: وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ (اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے) تو وہ تمہیں جلد سزا دیتے اس نے جلد عذاب نہ دیکر بار دیگر احسان فرمایا ہے۔ اور جواب کو اس لئے حذف کردیا تاکہ احسان میں مبالغہ ظاہر ہو اور توبیخ کا فائدہ بھی حاصل ہو۔ وَاَنَّ اللّٰہَ رَ ئُ وْفٌ (اور اللہ تعالیٰ بڑا شفیق ہے) کہ جس پر تہمت لگی اس کی براءت واضح فرمائی اور ان کو اجر سے نوازا۔ رَّ حِیْمٌ (رحم کرنیوالے ہیں) تہمت لگانے والا اگر توبہ کرے تو اس کی جنایت و گناہ کو بخشنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →20۔ ولولافضل اللہ علیکم ورحمتہ وان اللہ روف رحیم۔ یہ لولا کا جواب محذوف ہے۔ اگر ان پر اللہ کا فضل نہ ہوتاتوان پر عذاب جلدی اجاتا، ابن عباس نے کہا کہ اس سے مراد مسطح حسان بن ثابت، حمنہ بنت جحش ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 21:۔ ایمان والوں سے ظاہری مطلب شان نزول کے طور پر اگرچہ حضرت عائشہ ؓ اور صفوان ؓ اور ان دونوں کے ایماندار رشتہ داری ہیں اور بدکاری کا دل سے چرچا کرنے والوں سے مطلب عبداللہ بن ابی ‘ اس کے ساتھ اور وہ مسلمان لوگ ہیں جو منافقوں سے سن کر اس بہتان کے چرچے میں زبانی شریک تھے لیکن آیت کا مطلب عام ہے ‘ اب بھی اس قسم کے چرچا کرنے والے اور جن کے حق میں چرچا کیا جاوے قیامت تک کے سب لوگ آیت کے حکم میں داخل ہیں اور دنیا میں ان جھوٹا بہتان لگانے والوں کو کوڑے پٹنے کی سزا دی جاوے گی اور اگر بغیر توبہ کے اس عادت پر مرجاویں گے تو عقبیٰ میں جدا عذاب ہوگا ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کو جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
فحش پھیلانے پر وعید
قول باری ہے : (ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا) جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بات واضح کردی ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں حسن ظن رکھنا اور ان کی خیر وصلاح کا طلبگار ہونا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وعید سنائی ہے جو اہل ایمان میں فحش پھیلانے کے خواہشمند ہوں انہیں جھوٹے الزامات میں ملوث کریں اور ان کے سامنے بدکلامی کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان حرکات کو کبائر شمار کیا ہے جن کا مرتکب عقاب کا مستحق گرداتا جاتا ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے لئے دلوں میں نہ صرف پاکیزہ جذبات رکھنا…
Read the full tafseer →31 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم لوگوں پر نہ ہوتا اے مسلمانو اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا ہی نرمی کرنے والا انتہائی مہربان ہے تو تم کو ایسا دردناک عذاب آ پکڑتا۔ لیکن اس نے اپنی رحمت و عنایت سے ایسے نہیں کیا۔ بلکہ تمہیں تنبیہ فرمائی اور توبہ و استغفار کا موقع دے دیا۔ اور ایسا کوئی عذاب تم پر نازل نہیں فرمایا۔ پس اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے اس فضل و کرم کا شکر ادا کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت
تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2۔
جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔
(واقعہ افک)
رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
1 ۔ یعنی اسے گناہ میں پڑنے نہیں دیتا یا گناہ کے بعد اسے توبہ کی توفیق دیتا ہے۔ 2 ۔ اسے معلوم ہے کہ کون دل میں اخلاص رکھتا ہے کہ اسے پاک کیا جائے اور کون نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →(24:20) ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ۔ جواب شرط محذوف ہے (ملاحظہ ہو 24:10) ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا تکرار مبالغہ کے لئے ہے اور مخاطبین کی توبیخ کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 :
افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 :
اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔
اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
جھوٹا عیب لگانے والوں پر دنیاوآخرت کا عذاب۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ بعد نزول ان آیات کے بھی یہ چاہتے ہیں کہ بدکاری کا چرچا مسلمانوں میں پھیلے یعنی ان کے دلوں میں بھی وسوسے پیدا ہوا کریں کہ فلاں نے آج یہ کام برا کیا، فلانے کی بیوی نے ایسا کیا، اور فلاں ایسا ہے تو ان پر دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہوتا ہے اس لیے کہ شریعت کے موافق کوڑے مارے جاتے ہیں اور رد الشہادت اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل غیرقابل الاعتبار ہوجاتے ہیں اور اس کے سوا آخرت میں بھی عذاب الٰہی میں مبتلا ہوتے ہیں اور خدا ہی خوب جانتا ہے جو برائیاں تم کرتے ہو اور تم اس کو نہیں جانتے۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[18] یعنی دنیا میں بھی سزا کے مستحق ہیں اور آخرت میں بھی۔ اگرچہ موقع و محل کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ بدکاری کے جھوٹے الزام گھڑ کر انھیں معاشرے میں پھیلانے کی کوششیں کرتے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں لیکن آیت کے الفاظ اشاعت فحش کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں لہذا ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اشاعت فحش کے تمام ذرائع کا سدباب کرے اور مناسب تعزیری قوانین کے ذریعے اشاعت فحش کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت انگیز سزا دے۔
[91] یعنی تم لوگ نہیں جانتے کہ فحش پھیلانے کے اثرات معاشرے میں کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں اور مجموعی طور پر ان کا نقصان کس قدر ملت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس چیز کو اللہ ہی خوب جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
واقعہ افک منافقین کی انتہائی خباثت باطنی اور شقاوت قلبی کا مظاہرہ تھا ، اور اس میں بعض صحابہ بھی سادگی سے شریک ہوگئے تھے ۔ اور کئی صحابہ بشری لغزش سے عائشہ عفیفہ ؓ کے متعلق جھوٹے افسانوں سے دلچسپی لینے لگے ہر محفل اور ہر مجلس میں یہی چرچا اور یہی باتیں ہونے لگیں جس کی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے سخت اذیت اور قلبی کوفت محسوس کی اور بالآخر برات کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں ، اور بہتان لگانے والوں کی پشت پر اسی اسی درے لگائے گئے اس سے صحابہ کی جماعت میں جو غلط فہمیاں پھیل رہی تھیں وہ تو رک گئیں مگر منافقین اس کے بعد بھی مزے لے لے کر اس قصہ کو بیان کرتے رہے ۔
قرآن کی اس آیت میں ان لوگوں کو متنبہ کیا ہے…
Read the full tafseer →(20) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے تو تم بھی اس وعید سے نہ بچتے یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی توبہ قبول کرلی اور ان کی توبہ کی توفیق عطا کردی اور ان پر حد قذف جاری کی گئی یہ سب اس کے فضل اور اس کے انعام کی وجہ سے ہوا اگر اس قسم کی مہربانی نہ ہوتی تو مسلمان بھی اس وعید میں شامل ہوتے جو منافقوں کے لئے اوپر فرمائی ہے۔
اب آگے عام طور پر مسلمانوں کو مخاطب فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 2۔ آگے مسلمانوں کو اپنی رحمت سے بلا تخصیص اس معصیت مذکورہ کے تمام معاصی سے احتراز رکھنے کا امر اور تزکیہ بالتوبہ کی تصریح مع امتنان جو اہتما کے واسطے بعنوانات مختلفہ مکرر ہے ارشاد فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →عذاب میں مبتلا نہیں تو یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے :
28۔ اس اور اس آیت جیسی دوسری آیات میں اللہ کے فضل اور رحمت سے مراد اس کا قانون امہال ہے جو ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلا جا رہا ہے کوئی نہ سمجھے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ان بدکاروں اور بےحیاؤں کے لئے ایسا ہے کہ ان پر کبھی گرفت ہی نہیں ہوگی یہ مضمون پیچھے آیت دس کے تحت حاشیہ 16 میں گزر چکا ہے اگر یہ ڈھیل نہ ہوتی تو توبہ کی توفیق ممکن نہ رہتی یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و رحمت کہ اس نے ڈھیل ومہلت دے کر انسان کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا تاکہ صبح کا بھولا اگر شام کو واپس آجائے تو اس کو اس بھولنے کی صعوبت سے دوچار نہ ہونا پڑے ‘ بھول کر جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
Surely, those who like that shamelessness spreads among the believers, for them there is a painful punishment in this world and the Hereafter - 24:19.
Those who had taken part in any way in the slander are again condemned in this verse, and are warned with the punishment in the world and in the Hereafter. An extra element in this verse is that those who propagate such rumors actually want the spread of obscenity and immorality among the Muslims.
The Qur'anic system…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
16. The direct interpretation of the verse, in the context in which it occurs, is this: Those who cast aspersions, propagate evil, publicize it and bring Islamic morality into disrepute deserve punishment. The words in the text, however, comprehend all the various forms that can be employed for the propagation of evil. These include actual setting up of brothels, production of erotic stories, songs, paintings, plays and dramas as well as all kinds of mixed gatherings at clubs and hotels, which induce the people to immoralities. The Quran holds all those who resort to such things as criminals,…
Read the full tafseer →