An-Noor 24:19

An-Noor · from ayah 19

24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۙ— فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ؕ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی یعنی (تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who like that immorality should be spread [or publicized] among those who have believed will have a painful punishment in this world and the Hereafter. And Allah knows and you do not know.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:19

جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی یعنی (تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں بےحیائی پھیلے جو ایمان لائے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں بےحیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ اور (اس کے نتائج کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کا چرچا ہو، ان کے لئے دنیا اور آخرت میں ایک درد ناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلے ان کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ جانتا ہے اور تم لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا اسحاق مدنی

یقیناً جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنین کے درمیان بےحائی کا چرچا رہے۔ ان کے لئے سزائے دردناک ہے دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اللہ علم رکھتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بےحیائی کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے درد ناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those, who like that indecency should spread among the Believers, they deserve a painful punishment in this world and in the Hereafter, for Allah knows and you do not know (its consequences).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, those who like that lewdness spreads among the believers, for them there is painful punishment in this world and the Hereafter. Allah knows, and you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, those who like that lewdness spreads among the believers, for them there is painful punishment in this world and the Hereafter. Allah knows, and you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who like that Fahishah should be circulated among those who believe, they will have a painful torment in this world and in the Hereafter. And Allah knows and you know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who love that slander should be spread concerning those who believe, theirs will be a painful punishment in the world and the Hereafter. Allah knoweth. Ye know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who like that immorality should be spread [or publicized] among those who have believed will have a painful punishment in this world and the Hereafter. And Allah knows and you do not know.

— Saheeh International

Those who like to publicize indecency among the believers will face painful torment in this world and in the life to come. God knows what you do not know.

— Muhammad Sarwar

Surely (as for) those who love that scandal should circulate respecting those who believe, they shall have a grievous chastisement in this world and the hereafter; and Allah knows, while you do not know.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who love that in decency should be propagated regarding those who believe, for them shall be a torment afflictive in the world and the Hereafter. And Allah knoweth, and ye know not.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who love (to see) scandal published broadcast among the Believers, will have a grievous Penalty in this life and in the Hereafter: Allah knows, and ye know not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

برائی کی تشہیر نہ کرو یہ تیسری تنبیہ ہے کہ جو شخص کوئی ایسی بات سنے، اسے اس کا پھیلانا حرام ہے جو ایسی بری خبروں کو اڑاتے پھیرتے ہیں۔ دنیوی سزا یعنی حد بھی لگے گی اور اخروی سزا یعنی عذاب جہنم بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ عالم ہے، تم بےعلم ہو، پس تمہیں اللہ کی طرف تمام امور لوٹانے چاہئیں۔ حدیث شریف میں ہے بندگان اللہ کو ایذاء نہ دو ، انہیں عار نہ دلاؤ۔ ان کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب ٹٹولے گا۔ اللہ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑجائے گا اور اسے یہاں تک رسوا کرے گا کہ اس کے گھر والے بھی اسے بری نظر سے دیکھنے لگیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة النُّوْر 16 موقع و محل کے لحاظ سے تو آیت کا براہ راست مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے الزامات گھڑ کر اور انہیں اشاعت دے کر مسلم معاشرے میں بد اخلاقی پھیلانے اور امت مسلمہ کے اخلاق پر دھبہ لگانے کی کوششیں کر رہے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں۔ لیکن آیت کے الفاظ فحش پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ ان کا اطلاق عملاً بد کاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بد اخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کے لیے جذبات کو اکسانے والے قصوں، اشعار، گانوں، تصویروں اور کھیل تماشوں پر بھی۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی ان کی زد میں آجاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیا جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ، اس آیت میں پھر ان لوگوں کی مذمت اور ان پر دنیا و آخرت کے عذاب کی وعید ہے۔ جنہوں نے اس تہمت میں کسی طرح کا حصہ لیا۔ اس آیت میں یہ بات زیادہ ہے کہ جو الگ ایسی خبریں مشہور کرتے ہیں گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بدکاری اور فواحش پھیل جائیں۔ انسداد فواحش کا قرآنی نظام اور ایک اہم تدبیر جس کے نظر انداز کرنے کا نتیجہ آج کل فواحش کی کثرت ہے قرآن حکیم نے فواحش کے انسداد کا یہ خاص نظام بنایا ہے کہ اول تو اس قسم کی خبر کہیں مشہور نہ ہونے پاوے اور شہرت ہو تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فتنہ برپا کرنے میں یہود کی سازش یہ ان منافقین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے یہ فتنہ برپا کیا۔ یہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا یہود کے با اثر تھے اور یہود پر یہ بات بہت شاق تھی کہ مسلمانوں کی اخلاقی برتری کی دھاک ان کے مخالفوں کے دلوں پر بھی بیٹھتی جا رہی ہے۔ عربوں کا معاشرہ دور جاہلیت میں بالکل خبیثون وجیثات کا معاشرہ بن چا تھا اور یہود کا حال، اہل کتاب ہونے کے باوجود ان سے بھی زیادہ برا تھا۔ اب جب انہوں نے دیکھا کہ اسی گندگی کے ڈھیر سے طیبون و طیبات کا ایک ایسا پکیزہ معاشرہ ابھر رہا ہے جو ملائکہ کے لئے بھی قابل رشک ہے تو اس آئینہ میں ان کو اپنی تصویر بہت مکروہ نظر آئی۔ اس کا اتنقام لینے کی ندیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19 ا فَاحِشَۃ، کے معنی بےحیائی ہیں اور قرآن نے بدکاری کو بھی فاحشہ قرار دیا ہے، (بنی اسرائیل) اور یہاں بدکاری کی ایک جھوٹی خبر کی اشاعت کو بھی اللہ تعالیٰ نے بےحیائی سے تعبیر فرمایا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں عذاب الیم کا باعث قرار دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–21

12: اگرچہ اکثر مخلص مسلمان اس تہمت کو جھوٹ ہی سمجھتے تھے، لیکن مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ اس طرح کی بےبنیاد اور بےدلیل باتوں کا تذکرہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(ان الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانتم لا تعلمون) (24 : 19) ” جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے “۔ وہ لوگ جنہوں نے پاک دامن عورتوں پر الزامات عائد کیے خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے حریم نبوی پر بےبنیاد الزام لگانے کی جرأت کی ان لوگوں کی اصل خواہش یہ ہے کہ یہ جماعت مسلمہ کے اندر سے بھلائی اور عفت اور پاکیزگی کے اعتماد کو متزلزل کردیں اور فحاشی کا اس قدر جھوٹا ڈھنڈورا کریں کہ لوگ اس کے بارے میں دلیر ہوجائیں۔ لوگ یہ کہیں کہ یہ بےحیائی تو بڑے لوگوں میں عام ہے۔ اس طرح وہ جھوٹے قصوں سے فحاشی کی مجالس گرم کر کے اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی بدکاری پھیلے یا بدکاری کی خبریں پھیلیں۔ یہ چاہنے والے منافقین تھے۔ لیکن ان کا تذکرہ کر کے مومنین کو بھی متنبہ فرما دیا کہ اگر فرض کرو کسی کے دل میں ایک بات کا خطرہ گزرا اور بےپروائی سے کوئی لفظ زبان سے بھی کہہ گزرا تو چاہیے کہ اب ایسی مہمل بات کا چرچا کرتا نہ پھرے۔ اگر خواہی نہ خواہی کسی مومن کی آبروریزی کرے گا تو خوب سمجھ لے کہ اس کی آبرو بھی محفوظ نہ رہے گی۔ حق تعالیٰ اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑے گا۔ کما فی حدیث احمد (رح) ۔ 7 دنیا میں حد قذف، رسوائی اور قسم قسم کی سزائیں اور آخرت میں دوزخ کی سزا۔ 8 یعنی اسے فتنہ پردازوں کو خدا خوب جانتا ہے گو تم نہ جانتے ہو۔ اور یہ بھی اسی کے علم میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌلا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط ” یعنی وہ لوگ جو مختلف حربوں سے معاشرے میں بےحیائی کو عام کرتے ہیں۔ آیت کے الفاظ اشاعت فحش کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ آج کل اس کا بہت بڑا ذریعہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ہے۔ کمرشل اشتہارات میں عورتوں کی نیم عریاں تصاویر دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ برائی کی اشاعت یوں بھی ہو رہی ہے کہ ناجائز تعلقات کے سیکنڈلز کی تشہیر کی جاتی ہے اور بغیر کسی معقول اور مناسب تحقیق کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی کرامت سے ان کی خبریں دنیا بھر میں گھر گھر پہنچ جاتی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–20

22 فاحشہ سے مراد ہر وہ کام جو انسان کی شہوانی خواہش میں تحریک پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہو۔ فحاشی کی اشاعت کی بہت سی صورتیں ہیں۔ پہلی اور سب سے اہم صورت وہی ہے جس کا اس صورت میں ذکر ہے۔ یعنی یہ کہ اگر کوئی شخص کسی پاک دامن عورت کو الزام لگا دے تو دوسرے لوگ بلاتحقیق اس بات کو آگے دوسرے سے بیان کرنا شروع کردیں۔ دوسری صورت یہ ہے زنا (جسے قرآن نے فاحشہ مبینہ کہا ہے) کے علاوہ شہوت رانی کی دوسری صورتیں اختیار کی جائیں۔ مثلاً مردوں کی مردوں سے خواہش پوری کرنا یا لواطت جس کی وجہ سے قوم لوط پر پتھروں کا عذاب نازل ہوا تھا اور ہماری شریعت میں لوطی کی سزا قتل ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مرد حیوانات سے یہ غرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ یعنی جو لوگ ان آیتوں کی اور اس خدائی براءت کے نزول کے بعد بھی چاہتے ہیں کہ اس گندگی کے تذکرے قائم رہیں اور مقدسین سے متعلق تہمتیں پھیلی رہیں۔ (آیت) ” فی الذین امنوا “۔ آیت کا سبب خاص تو ظاہر ہے کہ وہی واقعہ افک عائشہ صدیقہ ؓ ہے۔ ؛ یعنی اشارہ قریب انہیں لوگوں کی طرف ہے جو اس مخصوص تہمت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، یا آج بھی زندہ رکھنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن آیت کے مفہوم میں عموم بھی ہے۔ اور وہ سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں جو مسلمانوں کے کسی معاشرہ میں بھی گندی روایتوں کا چرچا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ 31۔ انفرادی واجتماعی مصلحتیں، جن پر یہ احکام اور یہ سزائیں مرتب ہیں وہ تو سب علم الہی ہی میں ہیں۔ محدود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم جو لوگ مسلمانوں میں بری باتیں پھیلانے کے خواستگار ہیں ان کے لئے سخت تکلیف دہ سزا ہے۔ اَلْفَاحِشَۃُحد سے زیادہ بری بات۔ فی الدنیا دنیا میں بھی۔ کہ حد قذف ان پر جاری کی جاتی ہے۔ والاخرۃ اور آخرت میں بھی کہ ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ واللہ یعلم اور اللہ جانتا ہے یعنی دلوں میں چھپی باتوں سے اللہ واقف ہے کہ کس کی نیت بخیر ہے اور کون بے حیائی کی باتیں مسلمانوں میں پھیلانا چاہتا ہے۔ وانتم لا تعلمون۔ اور (اے لوگو ! ) تم نہیں جانتے۔ اس لئے تم کو تو ظاہری امور کا اتباع کرنا چاہئے تھا ‘ اگر الزام زنا کے ثبوت میں کوئی چار شہادتیں شرعی پیش کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(19) جو لوگ یعنی عبداللہ بن ابی منافق یہ کوشش کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ میں بےحیائی کی بات کا چرچا ہو، ان سب کے لیے دنیا میں حد قذف ہے اور خاص طور پر عبداللہ بن ابی منافق کے لیے آخرت میں جہنم کی درد ناک سزا ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ پاک دامن وبری ہیں اور تم اس جرم کی سزا کو نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ۔۔ : ”الْفَاحِشَةُ“ انتہائی برے کام کو کہتے ہیں، یہ لفظ زنا پر بھی بولا جاتا ہے اور اس کی تہمت اور چرچے پر بھی۔ یعنی جو لوگ ایمان والوں میں بےحیائی اور بدکاری کا تذکرہ پھیلانا چاہتے ہیں اور پاک دامن مسلمانوں پر تہمتیں تراش کر مجلسوں میں ان کا چرچا کرتے ہیں، جس کے سننے سے زنا سے نفرت ختم ہوتی ہے، بلکہ ایسی باتوں میں دلچسپی کے نتیجے میں یہ برائی مزید پھیلتی ہے اور اس کا ذکر کرنے والے اور اسے خاموشی سے سن کر تہمت تراشنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے، عفیف مسلمانوں کے گوشت سے لذت اٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے دنیا میں عذاب الیم ہے کہ تہمت لگانے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–23

آیت نمبر 23 ۔ اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

برائی کی اشاعت کرنا بڑا گناہ ہے 1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن امنذر والطبرانی نے مجاہد (رح) سے آیت ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ آیت ” تشیع “ کا مطلب ہے ظاہر ہونا اور عائشہ ؓ کے متعلق باتیں کرتا ہے 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) نے آیت ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ جو لوگ پسند کرتے ہیں بدکاری ظاہر ہوجائے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے خالد بن معدان (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص بیان کرتا ہے اس چیز کو جو اس کی آنکھوں نے دیکھا اور اس کے کانوں نے سنا تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والے لوگوں میں بدکاری کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] يُحِبُّوْنَ [ پسند کرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] تَشِيْعَ [ پھیلے ] الْفَاحِشَةُ [ فحاشی ] فِي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَهُمْ [ ان کے لئے ہے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۙ [ ایک دردناک عذاب ] فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭ [ دنیا اور آخرت میں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] وَاَنْتُمْ [ اور تم لوگ ] لَا تَعْلَمُوْنَ [ نہیں جانتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اِِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ) (بلاشبہ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بد کاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے) (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ) (اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے) اس آیت میں بطور قاعدہ کلیہ ایک بات بتادی اور یہ فرمایا کہ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں بےحیائی کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے جن لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ کو تہمت لگانے میں حصہ لیا اس میں ان کو بھی تنبیہ ہے اور بعد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–26

بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ ” ان الذین الخ “ یہ گروہ منافقین کے لیے دنیوی اور اخروی تخویف ہے نیز تہمت لگانے کی علت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ منافقین تہمت اس لیے لگا رہے ہیں تاکہ مسلمانوں میں فحش اور بےحیائی پھیل جائے اور لوگ بد اعتقاد ہو کر توحید کو نہ مانیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–20

بہتان تراشی پر تنبیہ : واقعہ افک کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مزید تنبیہ فرمائی ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم تو ضرور تم کو عذاب عظیم پہنچتا اس چیزیں جس کا تم نے چرچا کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تشہیر واقعہ افک سے متعلق تھی جس میں منافقوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر الزام تراشی کی تھی اور بعض مسلمان بھی اس پراپیگنڈا کا شکار ہوگئے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے فضل ورحمت کی وجہ سے تم سخت سزا سے بچ گئے ، وگرنہ یہ بہت بری بات تھی جس سے ناموس رسول میں خلل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَۃُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ 0ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝ 0ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝ 19 حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–20

ترکیب : لولا بمعنی ہلا اذحیں ما یکون لنا بمعنی ماینبغی لنا سبحانک، ھو للتعجب ان تعودوا ای کر اہۃ تعودو افھو مفعول لہ اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو یعظکم کا بمعنی ینہکم، لہم عذاب الیم خبر ان الذین ان تشیع مفعول یحبون فی الدنیا عذاب الیم سے متعلق ہے ورحمتہ معطوف ہے۔ فضل اللہ پر پھر وان اللہ اس پر معطوف جواب لو لا محذوف اے لعاجلکم بالعقوبۃ۔ منجملہ ناراضیوں کے ایک یہ جملہ بطور زجر کے ہے وتقولون الخ کہ جس بات کا تم کو علم نہیں اس کو ہلکا جان کر مونہوں سے نکالنے لگے یہاں تک کہ کوئی گھر اور کوئی مجلس نہ تھی کہ جہاں یہ چرچا نہ پھیلا ہو۔ فرماتا ہے یہ بڑی بھاری بات ہے ولو لا اذسمعتموہ بلکہ تمہیں یہ مناسب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (النور : 19) (بیشک جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں ایک دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ) منافقین کی طرف اشارہ اس آیت کریمہ میں منافقین کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے یہ فتنہ برپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ یہود کے زیراثر تھے اور ان کے آلہ کار کے طور پر کام کررہے تھے۔ یہود نے جب محسوس کیا کہ مسلمانوں کی قوت کا اصل راز…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–20

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کو نصیحت کرنے کے بعد منافقین اور بےحیائی پھیلانے والوں کی سزا کا ذکر۔ اللہ تعالیٰ کے احکام واضح ہیں کہ کسی پاکدامن عورت اور مرد پر تہمت نہ لگائی جائے۔ کیونکہ اس سے ایک طرف انفرادی طور پر مسلمان کی بےحرمتی ہوتی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں بےحیائی پھیلتی ہے۔ جس معاشرے میں پاکدامن مردوں اور عورتوں کی عزت محفوظ نہیں وہاں بےشرمی اور بےحیائی عام ہوجاتی ہے۔ جو لوگ بےحیائی کو پھیلاتے اور رواج دیتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں اذّیت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ پہلی ذلت یہ ہے کہ اسے سرعام اسّی کوڑے لگائے جاتے ہیں ظاہر ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہوسکتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

برائی کی اشاعت کرنے والوں کی سزا : 19: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (بیشک وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں کہ بےحیائی ایمان والوں میں پھیل جائے) فاحشہ انتہائی قبیح کو کہا جاتا ہے۔ (زنا وغیرہ) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ برائی کی اشاعت اور برائی کی محبت کی وجہ سے برائی کو پھیلاتے ہیں۔ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا (ان کے لئے دنیا میں دردناک عذاب ہے) دنیا میں ان پر حد جاری ہوگی۔ ابن ابی اور حسان اور مسطح کو حد لگائی گئی۔ وَالْاٰخِرَۃِ (آخرت میں) آگ کے ساتھ۔ اس کا وعدہ کیا اگر تو بہ کے بغیر مرگئے۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ (اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں) تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19۔ ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشہ، جو بری باتیں پھیلانے کے خواہش مند ہیں اور زنا کو پھیلاتے ہیں اور پسند کرتے ہیں ، فی الذین آمنوالھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ، اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے منافقین چیلے دنیاوی عذاب سے مراد حد ہے اور آخری عذاب سے مراد آگ ہے۔ واللہ یعلم ان کے اس دجل کو اورحضرت عائشہ کی برات اور جن لوگوں نے اس میں حصہ لیا وہ اللہ کے غصہ کے شکار ہوئے۔ وانتم لاتعلمون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–21

19۔ 21:۔ ایمان والوں سے ظاہری مطلب شان نزول کے طور پر اگرچہ حضرت عائشہ ؓ اور صفوان ؓ اور ان دونوں کے ایماندار رشتہ داری ہیں اور بدکاری کا دل سے چرچا کرنے والوں سے مطلب عبداللہ بن ابی ‘ اس کے ساتھ اور وہ مسلمان لوگ ہیں جو منافقوں سے سن کر اس بہتان کے چرچے میں زبانی شریک تھے لیکن آیت کا مطلب عام ہے ‘ اب بھی اس قسم کے چرچا کرنے والے اور جن کے حق میں چرچا کیا جاوے قیامت تک کے سب لوگ آیت کے حکم میں داخل ہیں اور دنیا میں ان جھوٹا بہتان لگانے والوں کو کوڑے پٹنے کی سزا دی جاوے گی اور اگر بغیر توبہ کے اس عادت پر مرجاویں گے تو عقبیٰ میں جدا عذاب ہوگا ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کو جھوٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–26

آیت (11 چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔ اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–21

فحش پھیلانے پر وعید قول باری ہے : (ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا) جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بات واضح کردی ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں حسن ظن رکھنا اور ان کی خیر وصلاح کا طلبگار ہونا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وعید سنائی ہے جو اہل ایمان میں فحش پھیلانے کے خواہشمند ہوں انہیں جھوٹے الزامات میں ملوث کریں اور ان کے سامنے بدکلامی کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان حرکات کو کبائر شمار کیا ہے جن کا مرتکب عقاب کا مستحق گرداتا جاتا ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے لئے دلوں میں نہ صرف پاکیزہ جذبات رکھنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

30 بےحیائی پھیلانے والوں کے لیے دردناک عذاب ۔ والعذاب باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل ایمان کے اندر بےحیائی پھیلانے والوں کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اہل ایمان کے اندر بےحیائی پھیلانا چاہتے ہیں ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ کیونکہ دنیا میں ان کو حد کی سزا اور تذلیل و رسوائی اور دوسری طرح طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے واسطہ پڑے گا اور آخرت میں دوزخ کا ہولناک عذاب بھگتنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو برائی اور بےحیائی کے چرچے کرنا اور اہل ایمان کے درمیان اس کو پھیلانے اور عام کرنے کی کوشش کرنا ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–20

سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

رکوع نمبر 2۔ جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔ (واقعہ افک) رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یعنی دنیا میں حد جاری ہوگی اور آخرت میں دوزخ کا عذاب ملے گا۔ حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” آپس میں ایک دوسرے کے عیوب تلا ش نہ کرو۔ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کا عیب تلاش کیا کہ اسے بدنام کرے، اللہ تعالیٰ اس کا عیب تلاش کرے گا اور اسے اس کے گھر میں ذلیل و رسوا کرے گا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:19) تشیع۔ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان۔ شیوع مصدر (باب ضرب) (کہ) وہ آشکار ہو وے۔ وہ فاش ہو وے۔ اس کا چرچا ہو وے۔ الشیاع کے معنی ہیں منتشر ہونا۔ تقویت دینا۔ شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی۔ شاع القوم قوم منتشر ہوگئی اور زیادہ ہوگئی۔ الفاحشۃ۔ اسم ۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ یہاں مراد زنا ہے۔ یا تہمت زنا ہے۔ فی الذین امنوا۔ متعلق بہ ان تشیع۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 : افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 : اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔ اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

جھوٹا عیب لگانے والوں پر دنیاوآخرت کا عذاب۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ بعد نزول ان آیات کے بھی یہ چاہتے ہیں کہ بدکاری کا چرچا مسلمانوں میں پھیلے یعنی ان کے دلوں میں بھی وسوسے پیدا ہوا کریں کہ فلاں نے آج یہ کام برا کیا، فلانے کی بیوی نے ایسا کیا، اور فلاں ایسا ہے تو ان پر دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہوتا ہے اس لیے کہ شریعت کے موافق کوڑے مارے جاتے ہیں اور رد الشہادت اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل غیرقابل الاعتبار ہوجاتے ہیں اور اس کے سوا آخرت میں بھی عذاب الٰہی میں مبتلا ہوتے ہیں اور خدا ہی خوب جانتا ہے جو برائیاں تم کرتے ہو اور تم اس کو نہیں جانتے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–20

[18] یعنی دنیا میں بھی سزا کے مستحق ہیں اور آخرت میں بھی۔ اگرچہ موقع و محل کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ بدکاری کے جھوٹے الزام گھڑ کر انھیں معاشرے میں پھیلانے کی کوششیں کرتے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں لیکن آیت کے الفاظ اشاعت فحش کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں لہذا ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اشاعت فحش کے تمام ذرائع کا سدباب کرے اور مناسب تعزیری قوانین کے ذریعے اشاعت فحش کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت انگیز سزا دے۔ [91] یعنی تم لوگ نہیں جانتے کہ فحش پھیلانے کے اثرات معاشرے میں کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں اور مجموعی طور پر ان کا نقصان کس قدر ملت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس چیز کو اللہ ہی خوب جانتا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–20

واقعہ افک منافقین کی انتہائی خباثت باطنی اور شقاوت قلبی کا مظاہرہ تھا ، اور اس میں بعض صحابہ بھی سادگی سے شریک ہوگئے تھے ۔ اور کئی صحابہ بشری لغزش سے عائشہ عفیفہ ؓ کے متعلق جھوٹے افسانوں سے دلچسپی لینے لگے ہر محفل اور ہر مجلس میں یہی چرچا اور یہی باتیں ہونے لگیں جس کی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے سخت اذیت اور قلبی کوفت محسوس کی اور بالآخر برات کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں ، اور بہتان لگانے والوں کی پشت پر اسی اسی درے لگائے گئے اس سے صحابہ کی جماعت میں جو غلط فہمیاں پھیل رہی تھیں وہ تو رک گئیں مگر منافقین اس کے بعد بھی مزے لے لے کر اس قصہ کو بیان کرتے رہے ۔ قرآن کی اس آیت میں ان لوگوں کو متنبہ کیا ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) بلاشبہ ! جو لوگ یہ چاہتے اور اس بات کو درست رکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کی بات شہرت پذیر ہو اور بےحیائی کی بات کا مسلمانوں میں چرچا ہو تو ان لوگوں کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہوگا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے یعنی جب برات کا اعلان کردیا گیا پھر بھی ان برات شدہ لوگوں کے متعلق مسلمانوں میں چرچا کرنا اور ان کی تشہیر کرنا یہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ رکھتے ہوں تو ایسے لوگ دردناک عذاب کے مستحق ہیں یہ سزا دنیا میں بھی ممکن الوقوع ہے اور آخرت میں بہرحال سزا ملنی ہی ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے جو کسی بےگناہ مومن کی آبرو ریزی کرے گا تو دنیا میں اس کی آبرو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی یہ خبر شائع ہو کہ ان مسلمانوں میں یہ بےحیائی کی بات ہے، حاصل مطلب یہ کہ جو لوگ ان حضرات مقدسین کی طرف زنا کی نسبت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معاشرہ اسلامی میں بدکاریوں کی اشاعت کرنے والے مستوجب سزا ہیں : 27۔ بلاشبہ برائی اور بےحیائی تو برائی اور بےحیائی ہی ہے لیکن برائی اور بےحیائی کی تشہیر کرنا بھی برائی ہے بلکہ یہ برائی پہلی برائی سے بھی بڑی ہے کیونکہ یہ اشاعت وتشہیر ہے جو بہت سے لوگوں میں ہیجان پیدا کر کے ان کو آمادہ گناہ کرتی ہے ، غور کرو کہ عریاں تصاویر ‘ ڈرامے ‘ فلمیں ‘ فحش لٹریچر ‘ ٹیوی کے اکثر پروگرام ‘ وی سی آر کی لعنت ‘ عشقیہ اشعار ‘ گانے ‘ کھیل اور تماشے ‘ کلب اور ہوٹلوں کی شامیں اور راتیں سب کیا ہیں ؟ بلاشبہ یہ سب کے سب اشاعت بےحیائی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ پھر غور کرو کہ عریاں تصاویر بنانے والے ‘ سنیما چلانے والے ‘…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةِ Surely, those who like that shamelessness spreads among the believers, for them there is a painful punishment in this world and the Hereafter - 24:19. Those who had taken part in any way in the slander are again condemned in this verse, and are warned with the punishment in the world and in the Hereafter. An extra element in this verse is that those who propagate such rumors actually want the spread of obscenity and immorality among the Muslims. The Qur'anic system…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

16. The direct interpretation of the verse, in the context in which it occurs, is this: Those who cast aspersions, propagate evil, publicize it and bring Islamic morality into disrepute deserve punishment. The words in the text, however, comprehend all the various forms that can be employed for the propagation of evil. These include actual setting up of brothels, production of erotic stories, songs, paintings, plays and dramas as well as all kinds of mixed gatherings at clubs and hotels, which induce the people to immoralities. The Quran holds all those who resort to such things as criminals,…

Read the full tafseer →