Explained with ayahs 16–18
پہلے تحقیق کرو پھر بولو
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نلکالنا چاہئے۔ برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایساوسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرمالیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں (بخاری ومسلم) تمہیں چاہئے تھا کہ ایسے بےہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 15
ان آیات سے، اور خصوصاً اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے کہ " مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے گروہ کے لوگوں سے نیک گمان کیوں نہ کیا " یہ قاعدہ کلیہ نکلتا ہے کہ مسلم معاشرے میں تمام معاملات کی بنا حسن ظن پر ہونی چاہیے، اور سوء ظن صرف اس حالت میں کیا جانا چاہیے جبکہ اس کے لیے کوئی ثبوتی و ایجابی بنیاد ہو۔ اصول یہ ہے کہ ہر شخص بےگناہ ہے جب تک کہ اس کے مجرم ہونے یا اس پر جرم کا شبہ کرنے کے لیے کوئی معقول وجہ موجود نہ ہو۔ اور ہر شخص اپنی بات میں سچا ہے جب تک کہ اس کے ساقط الاعتبار ہونے کی کوئی دلیل نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِھٰذَا ڰ سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ، یعی ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تھی تو یوں کہہ دیتے کہ ہمارے لئے ایسی بات زبان سے نکالنا جائز نہیں۔ پاک ہے اللہ، یہ تو بڑا بہتان ہے۔ اس آیت میں مکرر وہی ہدایت ہے جو اس سے پہلی ایک آیت میں آ چکی ہے اس میں یہ مزید وضاحت ہے کہ مسلمانوں کو ایسی خبر سننے کے وقت کیا عمل کرنا چاہئے وہ یہ کہ صاف کہہ دیں کہ ایسی بات بلا کسی دلیل کے زبان سے نکالنا بھی ہمارے لئے جائز نہیں یہ تو بہتان عظیم ہے۔
ایک شبہ اور جواب
اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ جیسے کسی واقعہ کا صدق بغیر دلیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت 18-17
تنبیہ مزید
لفظ وعظ کے اندر زجر اور نہی کا مفہوم خود مضمر ہے اس وجہ سے اس کے بعد حرف لا کے لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ آیتیں بھی اسیطرح بطور تنبیہ ہیں جس طرح اوپر تین آیتیں گزر چکی ہیں۔ اس سورة میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ خدا کے قہر و غضب سے محفوظ رہنے کے لئے نہایت ضروری ہیں اس وجہ سے تھوڑے تھوڑے وقفہ کیساتھ یہ تنبیہات بار بار آرہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تمہیں تنبیہ کر رہا ہے کہ ایسی حرکت آئندہ پھر کبھی تم سے صادر نہ ہو۔ ان کنتم مومنین یعنی اس طرح کی باتوں سے احتراز ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر ان سے احتراز نہ کیا گیا تو ایمان کا دعویٰ بالکل بےمعنی ہو کر رہ جائے گا۔ ویبین اللہ الایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16-1دوسری بات اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بتلائی کہ اس بہتان پر انہوں نے ایک گواہ پیش نہیں کیا۔ جبکہ اس کے لئے چار گواہ ضروری تھے، اس کے باوجود تم نے ان بہتان تراشیوں کو جھوٹا نہیں کہا یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد حسان، مسطح اور حمنہ بنت حجش ؓ کو حد قذف لگائی گئی (مسند احمد، جلد۔-6 عبد اللہ بن ابی کو سزا اس لئے نہیں دی گئی کہ اس کے لئے آخرت کے عذاب عظیم کو ہی کافی سمجھ لیا گیا اور مومنوں کو سزا دے کر دنیا ہی میں پاک کردیا گیا۔ دوسرے اس کے پیچھے ایک پورا جتھہ تھا، اس کو سزا دینے کی صورت میں کچھ ایسے خطرات تھے کہ جن سے نمٹنا اس وقت مسلمانوں کے لئے مشکل تھا، اس لئے مصلتًا اس سزا دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
12: اگرچہ اکثر مخلص مسلمان اس تہمت کو جھوٹ ہی سمجھتے تھے، لیکن مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ اس طرح کی بےبنیاد اور بےدلیل باتوں کا تذکرہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(ویبین اللہ۔۔۔۔۔۔۔ حکیم) (24 : 18) ” اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے وہ علیم و حکیم ہے “۔ جیسا کہ افک کے معاملے میں اس نے تمہیں ہدایات دیں ‘ اس کی تہ میں پوشیدہ مقاصد کو واضح کیا اور خود اہل اسلام سے جو کو تاہیاں ہوئیں اور اللہ چونکہ علیم ہے اس لیے وہ تمام لوگوں کی نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ ہر شخص نے اس معاملے میں جو حصہ لیا اور اس کے پیش نظر جو مقصد تھا اس کو اللہ جانتا ہے کیونکہ وہ دلوں کے خفیہ بھیدوں کو جانتا ہے اور اس معاملے میں اللہ نے جو جوابی تدابیر اختیار کیں وہ حکمت پر مبنی ہیں۔ نیز وہ جو قانون و ضع کرتا ہے وہ گہری حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں لوگوں کی اصلاح و فلاح ہوتی ہے۔
اس کے…
Read the full tafseer →5 یعنی پتہ اس کا کہ یہ طوفان اٹھایا کس نے۔ معلوم ہوا کہ منافقین نے جو ہمیشہ چھپے دشمن تھے۔ اگلی آیت میں پتہ بتلا دیا۔ (کذافی الموضح) عموماً مفسرین نے آیات سے مراد احکام، نصائح، حدود اور قبول توبہ وغیرہ کے مضامین لیے ہیں۔ اس وقت صفات علم و حکمت کے ذکر سے یہ غرض ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے مخلصین کی ندامت قلبی کا حال خوب جانتا ہے۔ اس لیے توبہ قبول کی اور چونکہ حکیم مطلق ہے اس لیے نہایت حکمت و دانائی کے ساتھ تمہاری سیاست کی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آیت 15 اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ ”
ادھر سے بات سن کر ادھر پہنچا دینا انسانی کمزوری ہے اور اسی انسانی کمزوری کی وجہ سے کوئی بھی ہیجان انگیز بات ”منہ سے نکلی کو ٹھے چڑھی“ کے مصداق دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔
وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ”
اس بارے میں جتنی باتیں تھیں سب سنی سنائی تھیں ‘ ان کے پیچھے نہ کوئی علمی ثبوت تھا اور نہ کوئی گواہ۔
وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَیِّنًاق وَّہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ ”
کسی بھی مسلمان خاتون پر اس طرح کی تہمت لگا دینا بہت قبیح حرکت ہے ‘ چہ جائیکہ ”بازی بازی با ریش بابا ہم بازی !“ کے مصداق اُمّ المومنین رض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
21 یعنی آئندہ منافقوں کی ایسی معاندانہ چالوں سے ہشیار اور چوکس رہنا چاہئے۔ نیز پیغمبر اسلام اور آپ کے گھر والوں کی عظمت شان کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔
Read the full tafseer →29۔ چناچہ تمہارے دلوں کا حال بھی اس پر خوب روشن ہے۔ اور تمہاری مجلسی ومعاشری پاکیزگی کی مصلحتیں بھی اس پر عیاں ہیں، وہ جو بھی احکام دیتا ہے وہ اس کے علم کامل پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ اور اس کی حکمت مطلقہ پر بھی۔ (آیت) ” الایت “۔ ان احکام کے تحت میں احکام اخلاقی (ملامت، نصیحت وغیرہ) اور احکام قانونی (حدقذف وغیرہ) سب آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…
Read the full tafseer →ویبین اللہ لکم الایت اور اللہ تمہارے لئے آیات کھول کر بیان کرتا ہے۔ یعنی ایسی آیات بیان کرتا ہے جو
اوامر و نواہی اور محاسن آداب و اخلاق کی کھلی تعلیم دیتی ہیں۔
واللہ علیم اور اللہ خوب جانتا ہے یعنی اچھے برے امور سے بخوبی واقف ہے اس لئے بھلائیوں کا حکم دیتا ہے
اور برائیوں کی ممانعت فرماتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ تمام حالات کو جانتا ہے ‘ عائشہ کی پاکدامنی کو بھی جانتا ہے اور بہتان طرازوں کے جھوٹ کو بھی۔
حکیم۔ وہ حکمت والا ہے۔ اس کی سب تدبیریں حکمت سے پُر ہیں۔ وہ اپنے نبی کی طرف کسی برائی کی
نسبت کو جائز نہیں قرار دیتا۔
Read the full tafseer →(18) اور اللہ تعالیٰ تم سے واضح طور پر اوامرو نواہی کو بیان کرتا ہے اور وہ تمہاری باتوں کو سننے والا ہے اور بڑی حکمت والا ہے کہ تم پر حد کا فیصلہ فرمایا۔
Read the full tafseer →ۚوَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ۔۔ : آیات کو کھول کر بیان کرنے کے ساتھ علیم و حکیم کی مناسبت ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن امردویہ سے روایت کیا کہ آیت ” یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا “ یعنی اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل کردے گا (کہ ایسی باتوں کو پھر نہ دہراؤ) ۔
2۔ الفریابی والطبرانی نے مجاہد رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ آیت ” یعظکم اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو منع کرتے ہیں کہ ایسی باتوں کو پھر نہ دہراؤ۔
Read the full tafseer →وَيُبَيِّنُ [ اور واضح کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَكُمُ [ تم لوگوں کے لئے ] الْاٰيٰتِ ۭ [ ان آیات کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →(وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (اور اللہ تمہارے لیے واضح طور پر آیات بیان فرماتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے) اس میں حد قذف قبول توبہ نصیحت موعظت سب داخل ہیں جن کو ندامت تھی اس کی توبہ قبول فرما لی اور حد جاری کرنے میں حکمت تھی اس لیے حد بھی جاری کرا دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
17:۔ ” ولو لا اذ سمعتموہ الخ “۔ یہ بھی دوسرے گروہ پر زجر ہے جب تم نے یہ بات سنی تھی تو تم نے یہ کیوں نہ کہا کہ ہمیں اس قول باطل کی اشاعت میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ اے اللہ بیشک تو ہر عیب سے پاک ہے لیکن یہ بھی ایک صریح بہتان ہے جو ایک پاک دامن اور پارسا عورت پر لگایا گیا ہے۔ ” یعظکم ان تعودوا الخ “ اگر واقعی تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرو۔ ” و یبین اللہ الخ “ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس لیے وہ ایسے احکام نازل فرماتا ہے جس میں تمام بنی آدم کی فلاح و بہبود ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
بہتان تراشی پر تنبیہ :
واقعہ افک کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مزید تنبیہ فرمائی ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم تو ضرور تم کو عذاب عظیم پہنچتا اس چیزیں جس کا تم نے چرچا کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تشہیر واقعہ افک سے متعلق تھی جس میں منافقوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر الزام تراشی کی تھی اور بعض مسلمان بھی اس پراپیگنڈا کا شکار ہوگئے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے فضل ورحمت کی وجہ سے تم سخت سزا سے بچ گئے ، وگرنہ یہ بہت بری بات تھی جس سے ناموس رسول میں خلل…
Read the full tafseer →وَيُبَيِّنُ اللہُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ 0ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 18
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ترکیب : لولا بمعنی ہلا اذحیں ما یکون لنا بمعنی ماینبغی لنا سبحانک، ھو للتعجب ان تعودوا ای کر اہۃ تعودو افھو مفعول لہ اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو یعظکم کا بمعنی ینہکم، لہم عذاب الیم خبر ان الذین ان تشیع مفعول یحبون فی الدنیا عذاب الیم سے متعلق ہے ورحمتہ معطوف ہے۔ فضل اللہ پر پھر وان اللہ اس پر معطوف جواب لو لا محذوف اے لعاجلکم بالعقوبۃ۔
منجملہ ناراضیوں کے ایک یہ جملہ بطور زجر کے ہے وتقولون الخ کہ جس بات کا تم کو علم نہیں اس کو ہلکا جان کر مونہوں سے نکالنے لگے یہاں تک کہ کوئی گھر اور کوئی مجلس نہ تھی کہ جہاں یہ چرچا نہ پھیلا ہو۔ فرماتا ہے یہ بڑی بھاری بات ہے ولو لا اذسمعتموہ بلکہ تمہیں یہ مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یَعِظُـکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْالِمِثْلِـہٖٓ اَبَدًا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 17، 18)
(اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ دوبارہ اس قسم کی بات ہرگز نہ کرنا، اگر تم مومن ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔ )
گزشتہ تین آیات کی طرح اس آیت میں بھی تنبیہ فرمائی گئی ہے اور یہ تنبیہات کا بار بار آنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ افک کا جو واقعہ پیش آیا انسانی زندگی کے عام معمولات کے اعتبار سے وہ کوئی حیرت انگیز اور تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس طرح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فہم القران
ربط کلام : صحابہ پر خصوصی فضل ورحمت کا تذکرہ کرنے کے بعد انہیں مزید احساس دلایا گیا کہ جس بات کو تم نے معمولی سمجھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ گناہ اور نتائج کے اعتبار سے بڑی بات ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت بڑا مقام رکھتی ہے اس لیے ایک دفعہ پھر صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جس بات کو تم ہلکا سمجھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی بات ہے یعنی بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اس سے پاکدامن مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت پامال ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ہرگز برداشت نہیں کرتا۔ تمہارا اخلاقی فرض تھا کہ جو نہی تم نے اس بات کو سنا تو فوراً کہہ…
Read the full tafseer →18: وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ (اور اللہ تعالیٰ آیات کو تمہارے لئے کھول کر بیان کرتے ہیں) واضح دلالتیں شرائع کے احکامات اور عمدہ آداب وَاللّٰہُ عَلَیْمٌ حَکِیْمٌ (اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہارے اعمال کو جاننے والے ہیں) یا ان کی پاکیزگی کی صداقت کا علم ہے اور براءت کی حکمت وہ جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →18۔ ویبین اللہ لکم الایات۔ امرونواہی کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔ واللہ علیم۔ حضرت عائشہ صدیقہ اور صفوان بن معطل کے بارے میں جانتا ہے ، حکیم، ان دونوں کی برات کی حکمت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16۔ 18:۔ جس بہتاں کا ذکر اوپر گزرا ‘ اس بہتان میں دو طرح کے آدمی تھے ‘ کچھ تو عبداللہ بن ابی کے ساتھ منافق لوگ تھے جو حقیقت میں دل سے مسلمانوں کے بدخواہ تھے ‘ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں یہ فرمایا ‘ ان کو عاقبت میں سخت عذاب ہوگا اور کچھ مسلمان لوگ منافقوں سے سن سنا کر دل میں اس بہتان کی بات کو سچا گمان کرنے لگے تھے یا بعض لوگ زبان سے بھی اس بہتان کی بات کا چرچا کرنے لگے تھے ‘ ان دونوں قسموں کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ اوپر کے حکم کے موافق جب شریعت میں چار گواہوں کی گواہی کے بغیر یہ بہتان ثابت نہیں ہوسکتا تو پھر جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
قول باری ہے (یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ) اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا ! اللہ تعالیٰ ہمیں نصیحت کرکے، ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے دنیا میں حد کی سزا اور آخرت میں عذاب کی خبر سنا کر م تنبیہ کررہا ہے تاکہ ہم کبھی بھی ایسی حرکت دوبارہ نہ کریں۔ پھر ارشاد ہوا (ان کنتم مومنین) اگر تم مومن ہو اگر اللہ پر تمہارا ایمان ہے اور اس کے رسول کی تم تصدیق کرتے ہو۔
Read the full tafseer →29 اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کا بدیل ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے۔ وہ جو بھی کچھ کہتا فرماتا ہے وہ کمال علم وحکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ پس اسی کے احکام اور فرامین و ارشادات ایسے ہیں جو کہ سراسر خیر اور حقیقی کامیابی کے کفیل وضامن ہیں۔ کیونکہ وہ کامل علم اور عین حکمت پر مبنی ہیں اور ان سے انسان کی بہتری و بھلائی اور دارین کی سعادت و سرخروئی ہی مطلوب و مقصود ہے۔ ان کے واضع اور مقنن کے یہاں نہ کسی ذاتی خواہش و مقصد کا کوئی شائبہ و امکان ہوسکتا ہے اور نہ کسی سے کسی ذاتی پرخاش و رنجش کا کوئی سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ ذات اقدس و اعلیٰ اس طرح کے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت
تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2۔
جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔
(واقعہ افک)
رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
6 ۔ چناچہ یہ اس کی حکمت ہی تھی کہ تہمت کھڑی کردی گئی جس سے سچے اور جھوٹے مسلمانوں کا فرق بھی واضح ہوگیا اور حضرت عائشہ ؓ کی پاک دامنی کا ایسا ثبوت بہم پہنچا جس میں ایک مسلمان، مسلمان رہتے ہوئے شک نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(24:17) یعظکم اللہ۔ یعظ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وعظ مصدر۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے۔
تعودوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ عود مصدر (باب نصر) اصل میں تعودون تھا۔ ان کے عمل کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ تم پھر آئو۔ تم پھر کرو۔ یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا۔ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر اسی قسم کی حرکت کبھی نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 :
افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 :
اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔
اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔
(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[17] اصل میں لفظ '' سبحانک '' استعمال ہوا ہے جو یہاں بالکل اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں اردو میں '' معاذ اللہ '' بولا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں '' سبحانک '' کا ترجمہ '' معاذ اللہ '' سے کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
عائشہ عفیفہ ؓ کا المناک واقعہ !
(ف 1) ام المومنین حضرت عائشہ عفیفہ ؓ کی زبان سے واقعہ افک کی تفصیل سنئیے ۔
ارشاد فرماتی ہیں کہ میں حضور ﷺ کی معیت میں ایک عزوہ میں شریک ہوئی ، یہ عزوہ بنی المصطلق سے قبل کا واقعہ ہے پھر ہم واپس آئے ، مدینہ سے کچھ ادھر حضور ﷺ نے ایک منزل پر قیام کیا ، میں بھی محمل سے نیچے اتری اور قضائے حاجت کے لئے جیش نبوی ﷺ سے کچھ آگے نکل گئی جب لوٹ کر محمل تک پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہار کہیں گر گیا ، تلاش کی غرض سے پھر وہاں تک گئی اور ہار ڈھونڈتی رہی محمل والوں نے یہ سمجھا کہ میں محمل میں موجود ہوں اس لئے کہ میرا بوجھ کچھ زیادہ نہ تھا میں ان دونوں بالکل نوعمر اور ہلکے…
Read the full tafseer →(18) اور اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے یعنی واضح احکام بیان فرماتا ہے کمال علم کا مالک ہے ہر شخص کے دل کی ندامت اور قلب کی حالت جانتا ہے اور کمال حکمت کا مالک ہے اپنے احکام کو مبنی پر حکمت مقرر کرتا ہے یا یہ کہ عائشہ ؓ کی پاک دامنی کو جانتا اور ہر قسم کے عیب اور عار س اس کو بری قرار دینے کا حکم کرتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پتا اس کا کہ یہ طوفان اٹھایا کس نے معلوم ہوا کہ منافقوں نے جو ہمیشہ چھپے دشمن تھے اگلی آیت میں پتا بتادیا۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 8۔ جیسا کہ بعض صحابہ نے اسی طرح کہا تھا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے تم پر بات کو کس طرح واضح کردیا ہے ؟ ۔
26۔ (ویبین اللہ) اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام تم پر واضح کردیئے ہیں ‘ اب تمہاری ذمہ داری ہے اور تم اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرتے ہو یا نہیں اللہ کے علم میں ہے اور وہ ہر بات سے باخبر ہے کہ تم کو اپنا اعمال نامہ خود تیار کرنا ہے اس نے تم کو ایک حد تک اختیار دیا ہے اور جس حد تک اختیار دیا ہے اس حد تک تم پر گرفت بھی رکھی ہے آج تم اگر اپنی زبانوں اور اپنی تحریر کی حفاظت نہیں کرو گے تو یقینا کل اس کا نتیجہ بھی تمہارے سامنے وہ پیش کر دے گا اگر تم کو اللہ سے زیادہ علیم و حکیم ہونے کا خبط ہے تو اس خبط کا وبال بھی تم ہی پر پڑے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَا أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَـٰذَا سُبْحَانَكَ هَـٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ
And why, when you heard of it, did you not say, It is not for us to speak about this. Pure are You (0 Allah). This is a terrible calumny.' - 24:16.
In this verse the same advice is repeated which was imparted in an earlier verse, with further elaboration as to what should the Muslims do in such a situation when they hear a rumor. The advice is that they should say in categorical terms that they are not allowed even to mention such a thing for which there is no proof. It is…
Read the full tafseer →15. These verses, especially (verse 12), wherein Allah says:“Why did not the believing men and the believing women have a good opinion of themselves”provide the general principle that all dealings in the Islamic society must be based on good faith. The question of a bad opinion should arise only when there is a definite and concrete basis for it. Every person should, as a matter of principle, be considered as innocent unless there are sound reasons to hold him guilty or suspect. Every person should be considered as truthful unless there are strong grounds for holding him as unreliable.
Read the full tafseer →