Explained with ayahs 16–18
پہلے تحقیق کرو پھر بولو
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نلکالنا چاہئے۔ برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایساوسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرمالیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں (بخاری ومسلم) تمہیں چاہئے تھا کہ ایسے بےہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
سورة النُّوْر 14
" اللہ کے نزدیک " یعنی اللہ کے قانون میں، اللہ کے قانون کے مطابق۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ کے علم میں تو الزام بجائے خود جھوٹا تھا، اس کا جھوٹ ہونا اس بات پر مبنی نہ تھا کہ یہ لوگ گواہ نہیں لائے ہیں۔
اس جگہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہاں الزام کے غلط ہونے کی دلیل اور بنیاد محض گواہوں کی غیر موجودگی کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اور مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم بھی صرف اس وجہ سے اس کو صریح بہتان قرار دو کہ الزام لگانے والے چار گواہ نہیں لائے ہیں۔ یہ غلط فہمی اس صورت واقعہ کو نگاہ میں نہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہے جو فی الواقع وہاں پیش آئی تھی۔ الزام لگانے والوں نے الزام اس وجہ سے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِھٰذَا ڰ سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ، یعی ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تھی تو یوں کہہ دیتے کہ ہمارے لئے ایسی بات زبان سے نکالنا جائز نہیں۔ پاک ہے اللہ، یہ تو بڑا بہتان ہے۔ اس آیت میں مکرر وہی ہدایت ہے جو اس سے پہلی ایک آیت میں آ چکی ہے اس میں یہ مزید وضاحت ہے کہ مسلمانوں کو ایسی خبر سننے کے وقت کیا عمل کرنا چاہئے وہ یہ کہ صاف کہہ دیں کہ ایسی بات بلا کسی دلیل کے زبان سے نکالنا بھی ہمارے لئے جائز نہیں یہ تو بہتان عظیم ہے۔
ایک شبہ اور جواب
اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ جیسے کسی واقعہ کا صدق بغیر دلیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت 18-17
تنبیہ مزید
لفظ وعظ کے اندر زجر اور نہی کا مفہوم خود مضمر ہے اس وجہ سے اس کے بعد حرف لا کے لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ آیتیں بھی اسیطرح بطور تنبیہ ہیں جس طرح اوپر تین آیتیں گزر چکی ہیں۔ اس سورة میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ خدا کے قہر و غضب سے محفوظ رہنے کے لئے نہایت ضروری ہیں اس وجہ سے تھوڑے تھوڑے وقفہ کیساتھ یہ تنبیہات بار بار آرہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تمہیں تنبیہ کر رہا ہے کہ ایسی حرکت آئندہ پھر کبھی تم سے صادر نہ ہو۔ ان کنتم مومنین یعنی اس طرح کی باتوں سے احتراز ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر ان سے احتراز نہ کیا گیا تو ایمان کا دعویٰ بالکل بےمعنی ہو کر رہ جائے گا۔ ویبین اللہ الایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16-1دوسری بات اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بتلائی کہ اس بہتان پر انہوں نے ایک گواہ پیش نہیں کیا۔ جبکہ اس کے لئے چار گواہ ضروری تھے، اس کے باوجود تم نے ان بہتان تراشیوں کو جھوٹا نہیں کہا یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد حسان، مسطح اور حمنہ بنت حجش ؓ کو حد قذف لگائی گئی (مسند احمد، جلد۔-6 عبد اللہ بن ابی کو سزا اس لئے نہیں دی گئی کہ اس کے لئے آخرت کے عذاب عظیم کو ہی کافی سمجھ لیا گیا اور مومنوں کو سزا دے کر دنیا ہی میں پاک کردیا گیا۔ دوسرے اس کے پیچھے ایک پورا جتھہ تھا، اس کو سزا دینے کی صورت میں کچھ ایسے خطرات تھے کہ جن سے نمٹنا اس وقت مسلمانوں کے لئے مشکل تھا، اس لئے مصلتًا اس سزا دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
12: اگرچہ اکثر مخلص مسلمان اس تہمت کو جھوٹ ہی سمجھتے تھے، لیکن مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ اس طرح کی بےبنیاد اور بےدلیل باتوں کا تذکرہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(یعظیکم اللہ ان تعودو المثلہ) (24 : 17) ” اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی کر حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو “۔
یعظکم اللہ ” اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے “ موثر تربیتی انداز میں بات ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں کہ غلطی کے بعد لوگوں کو احساس ہوگیا کہ تم نے کس قدر عظیم غلطی کی ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ لوگ سمع و اطاعت اور اعتبار کے لیے تیار ہیں۔ ان کو سخت الفاظ میں تنبیہ بھی کردی جاتی ہے کہ اس حرکت کا اعادہ نہ کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارا ایمان خطرے میں ہوگا کیونکہ مومن نصیحت قبول کرتے ہیں اور جب ان کو کھول کر بتا دیا گیا ہے کہ انہوں نے کس قدر برا کام کیا ہے تو اب ان کا فرض ہے کہ اگر وہ مومن…
Read the full tafseer →4 یعنی مومنین کو پوری طرح چوکس اور ہوشیار رہنا چاہیے۔ بدباطن منافقین کے چکموں میں کبھی نہ آئیں۔ ہمیشہ پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت کی عظمت شان کو ملحوظ رکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آیت 15 اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ ”
ادھر سے بات سن کر ادھر پہنچا دینا انسانی کمزوری ہے اور اسی انسانی کمزوری کی وجہ سے کوئی بھی ہیجان انگیز بات ”منہ سے نکلی کو ٹھے چڑھی“ کے مصداق دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔
وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ”
اس بارے میں جتنی باتیں تھیں سب سنی سنائی تھیں ‘ ان کے پیچھے نہ کوئی علمی ثبوت تھا اور نہ کوئی گواہ۔
وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَیِّنًاق وَّہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ ”
کسی بھی مسلمان خاتون پر اس طرح کی تہمت لگا دینا بہت قبیح حرکت ہے ‘ چہ جائیکہ ”بازی بازی با ریش بابا ہم بازی !“ کے مصداق اُمّ المومنین رض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
21 یعنی آئندہ منافقوں کی ایسی معاندانہ چالوں سے ہشیار اور چوکس رہنا چاہئے۔ نیز پیغمبر اسلام اور آپ کے گھر والوں کی عظمت شان کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔
Read the full tafseer →28۔ یعنی یہ تو عین تقاضائے ایمان ہے کہ ایسی باتیں زبان سے نکالنا تو کجا آئندہ سنی بھی نہ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…
Read the full tafseer →یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے (اور ممانعت فرماتا ہے) کہ ایسی حرکت
دوبارہ پھر کبھی نہ کرنا۔ وعظ کا معنی ہے ایسی بازداشت جس میں خوف بھی دلایا گیا ہو۔ خلیل نے کہا وعظ کا معنی ہے اس طور پر خیر کی یاد دہانی کرنا کہ دلوں میں رقت پیدا ہوجائے ‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو اپنا عذاب یاد دلاتا ہے اور سزا سے ڈراتا ہے۔
اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِہٖ کہ ایسی بات دوبارہ زندگی بھر نہ کہو نہ سنو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تم کو تنبیہ کرتا ہے اور ڈراتا ہے کیونکہ اس کو تمہارا پھر ایسا کرنا پسند نہیں ہے۔
مجاہد نے یَعِظُکُمْکا ترجمہ کیا تم کو منع کرتا ہے دوبارہ ایسی حرکت کرنے سے۔
ان کنتم مؤمنین۔…
Read the full tafseer →(17) اللہ تعالیٰ تمہیں ڈراتا اور روکتا ہے کہ پھر کبھی ایسی حرکت مت کرنا جب کہ تم اس کی تصدیق کرنے والے ہو۔
Read the full tafseer →يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖٓ اَبَدًا۔۔ :”يَعِظُكُمُ“ کے ضمن میں ”یَنْھَاکُمْ“ کا معنی موجود ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے منع کرتا ہے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو، یعنی یہ کام ایمان کے منافی ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن امردویہ سے روایت کیا کہ آیت ” یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا “ یعنی اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل کردے گا (کہ ایسی باتوں کو پھر نہ دہراؤ) ۔
2۔ الفریابی والطبرانی نے مجاہد رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ آیت ” یعظکم اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو منع کرتے ہیں کہ ایسی باتوں کو پھر نہ دہراؤ۔
Read the full tafseer →يَعِظُكُمُ [ نصیحت کرتا ہے تم لوگوں کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنْ [ کہ (انہیں)] تَعُوْدُوْا [ تم لوگ پھر کرو ] لِمِثْلِهٖٓ [ اس کے جیسا (کام)] اَبَدًا [ کبھی بھی ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ہو ] مُّؤْمِنِيْنَ [ مومن ]
Read the full tafseer →(یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِہٖ اَبَدًا اِِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اگر تم ایمان والے ہو تو پھر ایسی حرکت مت کرنا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
17:۔ ” ولو لا اذ سمعتموہ الخ “۔ یہ بھی دوسرے گروہ پر زجر ہے جب تم نے یہ بات سنی تھی تو تم نے یہ کیوں نہ کہا کہ ہمیں اس قول باطل کی اشاعت میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ اے اللہ بیشک تو ہر عیب سے پاک ہے لیکن یہ بھی ایک صریح بہتان ہے جو ایک پاک دامن اور پارسا عورت پر لگایا گیا ہے۔ ” یعظکم ان تعودوا الخ “ اگر واقعی تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرو۔ ” و یبین اللہ الخ “ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس لیے وہ ایسے احکام نازل فرماتا ہے جس میں تمام بنی آدم کی فلاح و بہبود ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
بہتان تراشی پر تنبیہ :
واقعہ افک کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مزید تنبیہ فرمائی ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم تو ضرور تم کو عذاب عظیم پہنچتا اس چیزیں جس کا تم نے چرچا کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تشہیر واقعہ افک سے متعلق تھی جس میں منافقوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر الزام تراشی کی تھی اور بعض مسلمان بھی اس پراپیگنڈا کا شکار ہوگئے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے فضل ورحمت کی وجہ سے تم سخت سزا سے بچ گئے ، وگرنہ یہ بہت بری بات تھی جس سے ناموس رسول میں خلل…
Read the full tafseer →يَعِظُكُمُ اللہُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِہٖٓ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 17ۚ
وعظ
الوَعْظُ : زجر مقترن بتخویف . قال الخلیل . هو التّذكير بالخیر فيما يرقّ له القلب، والعِظَةُ والمَوْعِظَةُ : الاسم . قال تعالی: يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90]
( و ع ظ ) الوعظ
کے معنی ایسی زجر تو بیخ کے ہیں جس میں خوف کی آمیزش ہو خلیل نے اس کے معنی کئے ہیں خیر کا اس طرح تذکرہ کرنا جس سے دل میں رقت پیدا ہوا عظۃ وموعضۃ دونوں اسم ہیں قرآن میں ہے : ۔ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو ۔
عود
الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ترکیب : لولا بمعنی ہلا اذحیں ما یکون لنا بمعنی ماینبغی لنا سبحانک، ھو للتعجب ان تعودوا ای کر اہۃ تعودو افھو مفعول لہ اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو یعظکم کا بمعنی ینہکم، لہم عذاب الیم خبر ان الذین ان تشیع مفعول یحبون فی الدنیا عذاب الیم سے متعلق ہے ورحمتہ معطوف ہے۔ فضل اللہ پر پھر وان اللہ اس پر معطوف جواب لو لا محذوف اے لعاجلکم بالعقوبۃ۔
منجملہ ناراضیوں کے ایک یہ جملہ بطور زجر کے ہے وتقولون الخ کہ جس بات کا تم کو علم نہیں اس کو ہلکا جان کر مونہوں سے نکالنے لگے یہاں تک کہ کوئی گھر اور کوئی مجلس نہ تھی کہ جہاں یہ چرچا نہ پھیلا ہو۔ فرماتا ہے یہ بڑی بھاری بات ہے ولو لا اذسمعتموہ بلکہ تمہیں یہ مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یَعِظُـکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْالِمِثْلِـہٖٓ اَبَدًا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 17، 18)
(اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ دوبارہ اس قسم کی بات ہرگز نہ کرنا، اگر تم مومن ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔ )
گزشتہ تین آیات کی طرح اس آیت میں بھی تنبیہ فرمائی گئی ہے اور یہ تنبیہات کا بار بار آنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ افک کا جو واقعہ پیش آیا انسانی زندگی کے عام معمولات کے اعتبار سے وہ کوئی حیرت انگیز اور تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس طرح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فہم القران
ربط کلام : صحابہ پر خصوصی فضل ورحمت کا تذکرہ کرنے کے بعد انہیں مزید احساس دلایا گیا کہ جس بات کو تم نے معمولی سمجھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ گناہ اور نتائج کے اعتبار سے بڑی بات ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت بڑا مقام رکھتی ہے اس لیے ایک دفعہ پھر صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جس بات کو تم ہلکا سمجھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی بات ہے یعنی بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اس سے پاکدامن مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت پامال ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ہرگز برداشت نہیں کرتا۔ تمہارا اخلاقی فرض تھا کہ جو نہی تم نے اس بات کو سنا تو فوراً کہہ…
Read the full tafseer →17: یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْا (اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ ایسی حرکت دوبارہ پھر کبھی نہ کرنا) یہ فی ان تعودوا کے معنی میں ہے۔ لِمِثْلِہٖٓ اَبَدًا اس جیسی تہمت والی بات یا اس جیسی بات کو سننا جب تک تمہاری زندگی ہو اور تم مکلف رہو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اگر تم مومن ہو) اس نصیحت حاصل کرنے پر برانگیختہ کیا گیا ہے اور یہ یاد دلایا گیا کہ اس کا اعادہ نہ کرنا ضروری ہے۔ اور وہ سچا ایمان ہے جو کہ ہر برائی سے بچانے والا ہے۔
وعظ : خوف دلانے والی باز داشت نمبر 2۔ خیر کو رقت کے ساتھ یاد دلانا۔ (خلیل (رح) )
Read the full tafseer →17۔ یعظکم اللہ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا جو اشیاء اللہ نے تم پر حرام کی ہیں مجاہد کا قول ہے کہ جن چیزوں سے اللہ نے تمہیں روکا ہے ، ان تعودوا لمثلہ ابدا ان کنتم مومنین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16۔ 18:۔ جس بہتاں کا ذکر اوپر گزرا ‘ اس بہتان میں دو طرح کے آدمی تھے ‘ کچھ تو عبداللہ بن ابی کے ساتھ منافق لوگ تھے جو حقیقت میں دل سے مسلمانوں کے بدخواہ تھے ‘ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں یہ فرمایا ‘ ان کو عاقبت میں سخت عذاب ہوگا اور کچھ مسلمان لوگ منافقوں سے سن سنا کر دل میں اس بہتان کی بات کو سچا گمان کرنے لگے تھے یا بعض لوگ زبان سے بھی اس بہتان کی بات کا چرچا کرنے لگے تھے ‘ ان دونوں قسموں کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ اوپر کے حکم کے موافق جب شریعت میں چار گواہوں کی گواہی کے بغیر یہ بہتان ثابت نہیں ہوسکتا تو پھر جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
قول باری ہے (یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ) اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا ! اللہ تعالیٰ ہمیں نصیحت کرکے، ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے دنیا میں حد کی سزا اور آخرت میں عذاب کی خبر سنا کر م تنبیہ کررہا ہے تاکہ ہم کبھی بھی ایسی حرکت دوبارہ نہ کریں۔ پھر ارشاد ہوا (ان کنتم مومنین) اگر تم مومن ہو اگر اللہ پر تمہارا ایمان ہے اور اس کے رسول کی تم تصدیق کرتے ہو۔
Read the full tafseer →28 حضرت عائشہ کو برا کہنے والا مرتد واجب القتل ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو نصیحت کرتا ہے کہ پھر تم سے ایسی کوئی حرکت سرزد نہ ہونے پائے۔ سو ایمانداری کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایسے امور سے ہمیشہ بچ کر رہے کہ ایمان صادق کا تقاضا یہی ہے کہ اس طرح کے ہولناک طوفان و بہتان سے ہمیشہ اور ہر طرح سے بچا جائے اور جو ایمان والا نہیں اس کا معاملہ الگ ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اس کے بعد بھی جو شخص ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ کو تہمت لگائے اور برا کہے وہ مومن نہیں کافر ہے۔ چناچہ حضرت امام مالک ۔ (رح) ۔ سے مروی ہے کہ جو کوئی حضرت ابوبکر ؓ و عمر ؓ کو برا کہے اس کی تادیب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت
تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2۔
جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔
(واقعہ افک)
رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
6 ۔ چناچہ یہ اس کی حکمت ہی تھی کہ تہمت کھڑی کردی گئی جس سے سچے اور جھوٹے مسلمانوں کا فرق بھی واضح ہوگیا اور حضرت عائشہ ؓ کی پاک دامنی کا ایسا ثبوت بہم پہنچا جس میں ایک مسلمان، مسلمان رہتے ہوئے شک نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(24:17) یعظکم اللہ۔ یعظ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وعظ مصدر۔ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے۔
تعودوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ عود مصدر (باب نصر) اصل میں تعودون تھا۔ ان کے عمل کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ تم پھر آئو۔ تم پھر کرو۔ یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا۔ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر اسی قسم کی حرکت کبھی نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 :
افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 :
اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔
اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔
(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[17] اصل میں لفظ '' سبحانک '' استعمال ہوا ہے جو یہاں بالکل اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں اردو میں '' معاذ اللہ '' بولا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں '' سبحانک '' کا ترجمہ '' معاذ اللہ '' سے کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
عائشہ عفیفہ ؓ کا المناک واقعہ !
(ف 1) ام المومنین حضرت عائشہ عفیفہ ؓ کی زبان سے واقعہ افک کی تفصیل سنئیے ۔
ارشاد فرماتی ہیں کہ میں حضور ﷺ کی معیت میں ایک عزوہ میں شریک ہوئی ، یہ عزوہ بنی المصطلق سے قبل کا واقعہ ہے پھر ہم واپس آئے ، مدینہ سے کچھ ادھر حضور ﷺ نے ایک منزل پر قیام کیا ، میں بھی محمل سے نیچے اتری اور قضائے حاجت کے لئے جیش نبوی ﷺ سے کچھ آگے نکل گئی جب لوٹ کر محمل تک پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہار کہیں گر گیا ، تلاش کی غرض سے پھر وہاں تک گئی اور ہار ڈھونڈتی رہی محمل والوں نے یہ سمجھا کہ میں محمل میں موجود ہوں اس لئے کہ میرا بوجھ کچھ زیادہ نہ تھا میں ان دونوں بالکل نوعمر اور ہلکے…
Read the full tafseer →(17) آگے آئندہ کے لئے مسلمانوں کو نصیحت فرماتے ہیں چونکہ خطاب ان مسلمانوں ہی کو ہورہا ہے جو اس بےموقع طوفان میں بہہ گئے اور مقتضائے احتیاط کو ہاتھ سے کھو بیٹھے ورنہ منافقوں کا ذکر صیغہ غائب سے کیا گیا۔ جیسے والذی تولی کبرہ فرمایا تھا لہٰذا ارشاد فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تم کو سمجھاتا اور نصیحت کرتا ہے اگر تم ایمان والے ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا اور آئندہ کبھی اس قسم کی حرکت کا ارتکاب تم سے سرزد نہ ہو یعنی اگر اہل ایمان ہو تو پھر کبھی اس قسم کی حرکت کا اعادہ نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 8۔ جیسا کہ بعض صحابہ نے اسی طرح کہا تھا۔
Read the full tafseer →اگر تم ایمان رکھتے ہو تو آئندہ اس طرح کی غلطی کبھی نہ کرنا :
25۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ہر زمانہ کے مسلمانوں کو مخاطب کرکے ایک بات کہہ دی جو ہر دور کے مسلمانوں کین لئے ایک ہی طرح کی حیثیت رکھتی ہے جو اس وقت موجود تھے اور آج موجود ہیں اور جو رہتی دنیا تک آتے رہیں گے یہ سب کے لئے تنبیہہ ہے کہ جو ہوا سو ہوا اس پر لڑنے بھڑنے اور مرنے مارنے کی ضرورت نہیں آئندہ کبھی ایسا نہ ہو کیونکہ یہ بات ایمان کے تقاضے کے خلاف ہے کہ معاشرہ اسلامی میں رہتے ہوئے کسی پاکباز مرد یا عورت کے متعلق کوئی ایسی ہوائی بات کہے اور تم لوگ خاموش رہو اور اس بات کو واگزار کر دو گویا اس طرح کی باتوں سے احتراز ایمان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَا أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَـٰذَا سُبْحَانَكَ هَـٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ
And why, when you heard of it, did you not say, It is not for us to speak about this. Pure are You (0 Allah). This is a terrible calumny.' - 24:16.
In this verse the same advice is repeated which was imparted in an earlier verse, with further elaboration as to what should the Muslims do in such a situation when they hear a rumor. The advice is that they should say in categorical terms that they are not allowed even to mention such a thing for which there is no proof. It is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
14.“With Allah”: In the sight of Allah or in the law of Allah, or according to the law of Allah. Obviously, in Allah’s knowledge, the accusation was by itself false and its falsehood was in no way dependent on the production of witnesses by the accusers.
Here nobody should have the misunderstanding that failure to bring witnesses is being regarded as the basis and argument to prove that the accusation was false, and that the Muslims are also being told to regard it as a manifest calumny only because the accusers did not bring four witnesses. This misunderstanding can arise if one does not…
Read the full tafseer →