Explained with ayahs 16–18
پہلے تحقیق کرو پھر بولو
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نلکالنا چاہئے۔ برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایساوسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرمالیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں (بخاری ومسلم) تمہیں چاہئے تھا کہ ایسے بےہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
سورة النُّوْر 14
" اللہ کے نزدیک " یعنی اللہ کے قانون میں، اللہ کے قانون کے مطابق۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ کے علم میں تو الزام بجائے خود جھوٹا تھا، اس کا جھوٹ ہونا اس بات پر مبنی نہ تھا کہ یہ لوگ گواہ نہیں لائے ہیں۔
اس جگہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہاں الزام کے غلط ہونے کی دلیل اور بنیاد محض گواہوں کی غیر موجودگی کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اور مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم بھی صرف اس وجہ سے اس کو صریح بہتان قرار دو کہ الزام لگانے والے چار گواہ نہیں لائے ہیں۔ یہ غلط فہمی اس صورت واقعہ کو نگاہ میں نہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہے جو فی الواقع وہاں پیش آئی تھی۔ الزام لگانے والوں نے الزام اس وجہ سے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِھٰذَا ڰ سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ، یعی ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تھی تو یوں کہہ دیتے کہ ہمارے لئے ایسی بات زبان سے نکالنا جائز نہیں۔ پاک ہے اللہ، یہ تو بڑا بہتان ہے۔ اس آیت میں مکرر وہی ہدایت ہے جو اس سے پہلی ایک آیت میں آ چکی ہے اس میں یہ مزید وضاحت ہے کہ مسلمانوں کو ایسی خبر سننے کے وقت کیا عمل کرنا چاہئے وہ یہ کہ صاف کہہ دیں کہ ایسی بات بلا کسی دلیل کے زبان سے نکالنا بھی ہمارے لئے جائز نہیں یہ تو بہتان عظیم ہے۔
ایک شبہ اور جواب
اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ جیسے کسی واقعہ کا صدق بغیر دلیل کے…
Read the full tafseer →سبحنک یہاں بالکل اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں ہم معاذ اللہ بولتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے ایک ایسی بات آئی تھی جو ثبوت و شہادت سے بالکل عاری تھی اور جس کی زد صرف ایک مئومنہ کے عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ام المومنین کے زعت و ناموس پر پڑ رہی تھی تو تم نے اس کو سنتے ہی یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ بےثبوت و شہادت کسی مومنہ کی شان میں ایسی بات زبان سے نکالنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ معاذ اللہ یہ صریح بہتان ہے !
ان آیات سے روایت و درایت اور قبول روایت سے متعلق جو اصول نکلتے ہیں وہ بڑے اہم ہیں۔ اگر بحث کے اپنے حدود سے متجاوز ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم ان کو واضح کرنے کی کوشش کرتے اصحاب علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16-1دوسری بات اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بتلائی کہ اس بہتان پر انہوں نے ایک گواہ پیش نہیں کیا۔ جبکہ اس کے لئے چار گواہ ضروری تھے، اس کے باوجود تم نے ان بہتان تراشیوں کو جھوٹا نہیں کہا یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد حسان، مسطح اور حمنہ بنت حجش ؓ کو حد قذف لگائی گئی (مسند احمد، جلد۔-6 عبد اللہ بن ابی کو سزا اس لئے نہیں دی گئی کہ اس کے لئے آخرت کے عذاب عظیم کو ہی کافی سمجھ لیا گیا اور مومنوں کو سزا دے کر دنیا ہی میں پاک کردیا گیا۔ دوسرے اس کے پیچھے ایک پورا جتھہ تھا، اس کو سزا دینے کی صورت میں کچھ ایسے خطرات تھے کہ جن سے نمٹنا اس وقت مسلمانوں کے لئے مشکل تھا، اس لئے مصلتًا اس سزا دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
12: اگرچہ اکثر مخلص مسلمان اس تہمت کو جھوٹ ہی سمجھتے تھے، لیکن مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ اس طرح کی بےبنیاد اور بےدلیل باتوں کا تذکرہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(ولو لآ۔۔۔۔۔۔۔ عظیم) (24 : 16) ” کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا ‘ سبحان اللہ یہ تو بہتان عظیم ہے۔ جب یہ بات مسلمانوں کے دلوں میں اتار دی جاتی ہے کہ لوگوں سے کس قدر عظیم کوتاہی ہونی ہے اور دلوں کو اچھی طرح جھنجھوڑ دیا جاتا ہے۔ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ان سے کس قدر عظیم کوتاہی ہوئی ہے تو پھر لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے کہ دیکھو آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا۔ یہ تم نے بہت ہی عظیم جرم کیا ہے ۔
Read the full tafseer →3 یعنی اول تو حسن ظن کا اقتضاء یہ تھا کہ دل میں بھی یہ خیال نہ گزرنے پائے۔ جیسا کہ اوپر ارشاد ہوا۔ لیکن اگر شیطانی اغواء سے فرض کیجئے کسی کے دل میں کوئی برا وسوسہ گزرے تو پھر یہ جائز نہیں کہ ایسی ناپاک بات زبان پر لائی جائے۔ چاہیے کہ اس وقت مومن اپنی حیثیت اور دیانت کو ملحوظ رکھے اور صاف کہہ دے کہ ایسی بےسروپا بات کا زبان سے نکالنا مجھ کو زیب نہیں دیتا۔ اے اللہ تو پاک ہے۔ کسی طرح لوگ ایسی نامعقول بات منہ سے نکالتے ہیں۔ بھلا جس پاکباز خاتون کو تو نے سید الانبیاء اور راس المتقین کی زوجیت کے لیے چنا، کیا وہ (معاذ اللہ) خود بےآبرو ہو کر پیغمبر کی آبرو کو بٹہ لگائے گی (حاشاہا ثم حاشاہا) ہو نہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آیت 15 اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ ”
ادھر سے بات سن کر ادھر پہنچا دینا انسانی کمزوری ہے اور اسی انسانی کمزوری کی وجہ سے کوئی بھی ہیجان انگیز بات ”منہ سے نکلی کو ٹھے چڑھی“ کے مصداق دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔
وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ”
اس بارے میں جتنی باتیں تھیں سب سنی سنائی تھیں ‘ ان کے پیچھے نہ کوئی علمی ثبوت تھا اور نہ کوئی گواہ۔
وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَیِّنًاق وَّہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ ”
کسی بھی مسلمان خاتون پر اس طرح کی تہمت لگا دینا بہت قبیح حرکت ہے ‘ چہ جائیکہ ”بازی بازی با ریش بابا ہم بازی !“ کے مصداق اُمّ المومنین رض…
Read the full tafseer →20 اس آیت میں ایک بڑا قیمتی اخلاقی ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کو دوسرے کے متعلق حسن ظن ہی رکھنا چاہئے۔ تاکہ اس کے خلاف بدظنی کی کوئی یقینی وجہ امین کے علم میں نہ آجائے۔ یہ اصول قطعاً غلط ہے کہ ہر ایک کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جائے تاآنکہ اس کی امانت و دیانت کا کوئی یقینی ثبوت ہاتھ نہ آجائے۔ اور یہاں تو معاملہ اور بھی زیادہ سخت تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ پر محض بدظنی کی بنا پر بہتان لگانا پھر اسے ہوا دینا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ بلکہ اتنا سنگین جرم تھا کہ اس کی بنا پر تم پر عذاب نازل ہوسکتا تھا۔ یہ اللہ کی رحمت اور مہربانی ہی تھی کہ اس نے تمہیں ایسے عذابن سے محفوظ رکھا۔
Read the full tafseer →27۔ یعنی تامل وتذبذب الگ رہا۔ تحقیق ہی کی کیا ضرورت تھی، تمہیں سنتے ہی کانوں پر ہاتھ رکھ کر انکار کردینا تھا۔ سرولیم میور کا شمار اسلام وشارع اسلام کے دوستوں میں نہیں، مخالفوں میں ہے۔ باوجود اس کے اقرار ہے :۔” عائشہ کی سیرت سے متعلق کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ...... ان کی زندگی واقعہ سے قبل بھی اور بعد بھی اس پر گواہ ہے کہ ہم انہیں اس الزام سے بالکل بری یقین کریں۔ “ (لائف آف محمد صفحہ 303، 304) بعض صحابہ کی جانب منقول بھی ایسا ہی قول ہے۔ انہوں نے جوں ہی یہ افواہ سنی تھی، فورا ہی وہ یہ کہہ اٹھے تھے۔ وفی بعض الاخباران ام ایوب قالت لابی ایوب الانصاری اما بلغک مایقول الناس فی عائشۃ فقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…
Read the full tafseer →ولو لا اذ سمعتموہ قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بہذا سبحنک ہذا بہتان عظیم۔
اور (مسلمانو ! ) جب تم نے (منافقوں سے یہ بہتان اور جھوٹ) سنا تھا تو (ان کی تردید کرتے ہوئے یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ ہمارے لئے یہ بات کہنی بھی جائز نہیں اے اللہ تو پاک ہے (تیرا رسول ﷺ پاک ہے تیرے رسول ﷺ : کی بیوی پاک ہے) یہ بڑا بہتان ہے۔
مَّا یَکُوْنُ لَنَا یعنی ہمارے لئے جائز نہیں ‘ سزاوار نہیں کہ یہ بات یا اس قسم کی باتیں کہیں ‘ صدیق اکبر کی بیٹی اور رسول اللہ ﷺ : کی بیوی کے متعلق ایسے بات کہنی تو سچے مسلمانوں کے لئے بہت ہی شاق تھی ‘ ویسے بھی کسی پاک دامن پر زنا کی تہمت لگانی فاسق بنا دیتی ہے آئندہ ایسے شخص کی شہادت قابل…
Read the full tafseer →(16) اور تم نے جب اس بات کو سنا تھا تو اسی وقت کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمارے لیے ہرگز مناسب نہیں کہ ایسی جھوٹی بےاصل بات اپنے منہ سے نکالیں، معاذ اللہ یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ۔۔ : اس سے پہلے آیت (13) میں یہ ادب سکھایا تھا کہ جب اچھے لوگوں کے بارے میں کوئی نامناسب بات سنی جائے تو ان کے متعلق اچھا گمان رکھنا لازم ہے۔ اب اس کے متعلق دوسرا ادب بیان فرمایا کہ اگر کوشش کے باوجود کوئی وسوسہ یا خیال دل میں آجائے تو اسے زبان پر ہرگز نہ لائے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : (إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِيْ عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَھَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِہِ أَوْ تَکَلَّمْ) [ بخاري، الأیمان والنذور، باب إذا حنث ناسیا۔۔ : 6664، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →1۔ ابن المردوایہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو ایوب انصاری ؓ کو جب ان کی بویوی نے اس تہمت کے بارے میں بتایا اور کہا اے ابو ایوب ! کیا تو نے نہیں سنا جو لوگ بیان کر رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا ہم کو نہیں چاہیے کہ ہم اس بارے میں کوئی بات کریں اے اللہ تیری ذات پاک ہے یہ بڑا بہتان ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسی طرح نازل فرمایا آیت ” ولو لا اذسمعتموہ قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بہذا، سبحنک ہذا بہتان عظیم۔
2۔ سنید فی تفسیرہ سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن معاذ ؓ نے جب یہ سنا جو کچھ کہا گیا عائشہ ؓ کے بارے میں تو فرمایا آیت ” سبحنک ہذا بہتان عظیم “۔
3۔ ابن ابی سمی فی فوائدہ سعید بن المسیب (رح)…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ[ اور کیوں نہیں ] اِذْ [ جب ] سَمِعْتُمُوْهُ [ تم لوگوں نے سنا اس کو ] قُلْتُمْ [ تو کہا ] مَّا يَكُوْنُ [ نہیں ہوگا ] لَنَآ [ ہمارے لئے (مناسب)] اَنْ [ کہ ] نَّتَكَلَّمَ [ ہم کلام کریں ] بِھٰذَا ڰ [ اس کے بارے میں ] سُبْحٰنَكَ [ پاکیزگی تیری ہے ] ھٰذَا [ یہ (تو)] بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم بہتان ہے ]
Read the full tafseer →(وَلَوْلاَ اِِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَا یَکُوْنُ لَنَا اَنْ نَّتَکَلَّمَ بِہٰذَا) جب اس بات کو سنا تو تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ ہم اس بات کو اپنی زبان پر نہیں لاسکتے۔ (سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ) (یعنی تمہیں اس بات کو سنتے ہی تعجب سے یوں کہنا چاہئے کہ سبحان اللہ یہ بڑا بہتا ہے) اس میں مسلمانوں کو یہ بتایا کہ تہمت والی خبر سنتے ہی صاف کہہ دیں کہ ہم اسے زبان پر نہیں لاسکتے یہ تو بہتان عظیم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
17:۔ ” ولو لا اذ سمعتموہ الخ “۔ یہ بھی دوسرے گروہ پر زجر ہے جب تم نے یہ بات سنی تھی تو تم نے یہ کیوں نہ کہا کہ ہمیں اس قول باطل کی اشاعت میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ اے اللہ بیشک تو ہر عیب سے پاک ہے لیکن یہ بھی ایک صریح بہتان ہے جو ایک پاک دامن اور پارسا عورت پر لگایا گیا ہے۔ ” یعظکم ان تعودوا الخ “ اگر واقعی تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرو۔ ” و یبین اللہ الخ “ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس لیے وہ ایسے احکام نازل فرماتا ہے جس میں تمام بنی آدم کی فلاح و بہبود ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
بہتان تراشی پر تنبیہ :
واقعہ افک کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مزید تنبیہ فرمائی ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم تو ضرور تم کو عذاب عظیم پہنچتا اس چیزیں جس کا تم نے چرچا کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تشہیر واقعہ افک سے متعلق تھی جس میں منافقوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر الزام تراشی کی تھی اور بعض مسلمان بھی اس پراپیگنڈا کا شکار ہوگئے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے فضل ورحمت کی وجہ سے تم سخت سزا سے بچ گئے ، وگرنہ یہ بہت بری بات تھی جس سے ناموس رسول میں خلل…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِھٰذَا 0ۤۖ سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُہْتَانٌ عَظِيْمٌ 16
سمع
السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا .
ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ
[ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ترکیب : لولا بمعنی ہلا اذحیں ما یکون لنا بمعنی ماینبغی لنا سبحانک، ھو للتعجب ان تعودوا ای کر اہۃ تعودو افھو مفعول لہ اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو یعظکم کا بمعنی ینہکم، لہم عذاب الیم خبر ان الذین ان تشیع مفعول یحبون فی الدنیا عذاب الیم سے متعلق ہے ورحمتہ معطوف ہے۔ فضل اللہ پر پھر وان اللہ اس پر معطوف جواب لو لا محذوف اے لعاجلکم بالعقوبۃ۔
منجملہ ناراضیوں کے ایک یہ جملہ بطور زجر کے ہے وتقولون الخ کہ جس بات کا تم کو علم نہیں اس کو ہلکا جان کر مونہوں سے نکالنے لگے یہاں تک کہ کوئی گھر اور کوئی مجلس نہ تھی کہ جہاں یہ چرچا نہ پھیلا ہو۔ فرماتا ہے یہ بڑی بھاری بات ہے ولو لا اذسمعتموہ بلکہ تمہیں یہ مناسب…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اِذْسَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَّایَکُوْنُ لَنَـآ اَنْ نَّـتَـکَلَّمَ بِھٰذَا صلے ق سُبْحٰنَـکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ۔ (النور : 16)
(اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تو تم نے کہہ دیا ہوتا کہ ہمیں کیا حق ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں، اے اللہ تو پاک ہے، یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے۔ )
ایک اور پہلو سے تنبیہ
پیشتر ازیں آیت 12 کا آغاز بھی ان ہی الفاظ سے ہوا ہے جن الفاظ سے اس آیت کا آغاز ہورہا ہے، لیکن وہاں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب تمہارے اندر اس بہتان کی افواہ پھیلی تو تمہیں فوراً مسلمانوں کے آپس میں حقیقی رشتے کی یاد تازہ ہونی چاہیے تھی۔ اور اگر اس رشتے کے تقاضوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فہم القران
ربط کلام : صحابہ پر خصوصی فضل ورحمت کا تذکرہ کرنے کے بعد انہیں مزید احساس دلایا گیا کہ جس بات کو تم نے معمولی سمجھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ گناہ اور نتائج کے اعتبار سے بڑی بات ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت بڑا مقام رکھتی ہے اس لیے ایک دفعہ پھر صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جس بات کو تم ہلکا سمجھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی بات ہے یعنی بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اس سے پاکدامن مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت پامال ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ہرگز برداشت نہیں کرتا۔ تمہارا اخلاقی فرض تھا کہ جو نہی تم نے اس بات کو سنا تو فوراً کہہ…
Read the full tafseer →16: وَلَوْلَآ (اور کیوں نہ ایسا ہوا) اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَّا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَکَلَّمَ بِھٰذَا (جب تم نے یہ بہتان سنا تھا تو تم نے کہہ دیا ہوتا کہ ہمارے لئے یہ بات کہنی جائز نہیں)
نحو : لولا اور قلتم کے درمیان ظرف سے فاصلہ ہے کیونکہ ظروف کا معاملہ الگ ہی ہے کہ اشیاء کیلئے ان کی ذات کے قائم مقام آتے ہیں کیوں اشیاء انہی کے اندر پائی جاتی ہیں۔ اور یہ اشیاء سے الگ نہیں ہوتے اس لئے ظروف میں جو وسعت ہے وہ دوسروں میں نہیں۔
فائدہ تقدیم ظرف :
ان پر لازم تھا کہ جو نہی انہوں نے افک کو سنا تھا اس کے متعلق گفتگو نہ کرنے کا فائدہ اٹھاتے۔ جب وقت کو ذکر کردیا تو مزید اہمیت والی بات ہوگئی…
Read the full tafseer →تفسیر۔
16۔ ولولااذ سمعتموہ ، ،، ،۔ بمعنی تعجب کے ہے۔ ھذابھتان عظیم۔ یعنی یہ بڑا جھوٹ ہے جو انسان کو حیران کردیتا ہے بعض روایا ت میں آتا ہے کہ جب حضرت ایوب انصاری کی والدہ محترمہ ابونصاری سے کہا کہ کیا حضرت عائشہ کے بارے میں جو خبر مجھ تک پہنچی ہے اس کے بارے مٰں کیا خیال ہے، حضرت ابوایوب انصاری نے جواب دیا، سبحانک ھذابھتان عظیم، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
16۔ 18:۔ جس بہتاں کا ذکر اوپر گزرا ‘ اس بہتان میں دو طرح کے آدمی تھے ‘ کچھ تو عبداللہ بن ابی کے ساتھ منافق لوگ تھے جو حقیقت میں دل سے مسلمانوں کے بدخواہ تھے ‘ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں یہ فرمایا ‘ ان کو عاقبت میں سخت عذاب ہوگا اور کچھ مسلمان لوگ منافقوں سے سن سنا کر دل میں اس بہتان کی بات کو سچا گمان کرنے لگے تھے یا بعض لوگ زبان سے بھی اس بہتان کی بات کا چرچا کرنے لگے تھے ‘ ان دونوں قسموں کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ اوپر کے حکم کے موافق جب شریعت میں چار گواہوں کی گواہی کے بغیر یہ بہتان ثابت نہیں ہوسکتا تو پھر جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
قول باری ہے : (اذ تلقونہ بالسنتکم وتقولون فافواھکم مالیس لک بہ علم ) ذرا غور تو کرو اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے۔ جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لپتی چلی جارہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جارہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ لفظ تلقونہ کے حرف قاف کی شد کے ساتھ قرات کی گئی ہے مجاہد کا قول ہے کہ ” تم ایک دوسرے سے اس جھوٹ کو نقل کرتے چلے جارہے تھے تاکہ یہ جھوٹ پوری طرح پھیل جائے۔ “ حضرت عائشہ ؓ سے یہ لفظ تلقونہ مروی ہے۔ یہ لفظ ” ولق الکذب “ (وہ مسلسل جھوٹ بولتا رہا) سے ماخوذ ہے۔ اس کے مفہوم میں تسلسل کے معنی داخل ہیں۔ اسی سلسلے کا ایک اور محاورہ ہے ” ولق فلان فی…
Read the full tafseer →27 مسلمانوں کے ایمان کا تقاضا بہتان طرازی کی فوری تردید : سو اہل ایمان کو ان کے اس ایمانی تقاضے کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ان سے بطور تحریض و تحریک ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے سنتے ہی ایسے بہتان کی تردید کیوں نہ کی کہ تمہارے دین و ایمان اور خانہ نبوت کے تقدس اور اس کی طہارت و قداست اور عظمت شان کا تقاضا یہی تھا کہ ایسی بات سنتے ہی تم یوں کہہ دیتے کہ " اللہ کی پناہ یہ تو ایک بڑا بہتان ہے " ایسی بات تو ایک عام مومن عورت کے بارے میں بھی نہیں کہی جاسکتی تو پھر ام المومنین کے بارے میں ایسی بات منہ سے نکالنا بھی کیسے روا ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے یہ اصولی اور بنیادی تعلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت
تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2۔
جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔
(واقعہ افک)
رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
5 ۔ اس میں ان لوگوں کو تو بیخ کی ہے جو اس واقعہ کو سن کر اس میں دلچسپی لے رہے تھے۔ مروی ہے کہ حضرت سعد ؓ بن معاذ نے جب حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں قیل و قال کو سنا تو انہوں نے برملا اس کو جھٹلایا اور کہا : ” سبحانک ھذا بھتان عظیم “۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے حرم اس قسم کے ملوثات سے بالا ہوتے ہیں۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت، خیانت کفر تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے باہم دگر معاملات کی بنیاد نیک گمان پر ہونی چاہیے۔ اور کسی سے بدگمانی اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کے لئے کوئی واقعی ٹھوس بنیاد نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(24:15) تلقونہ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تلقی سے (باب تفعل) اصل میں تتلقون تھا ایک تا حذف ہوگئی۔ تلقی یا تلقاہ کے معنی کسی چیز کو پالینے یا اس کے سامنے آنے کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے وتتلقہم الملئکۃ (21:103) اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے۔ اور وانک لتلقی القران (27:6) اور تم کو قرآن عطا کیا جاتا ہے۔
باب افعال سے (الالقائ) بمعنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ پھر عرف میں مطلق کسی چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جیسے وکذلک القی السامری (20:78) اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔
تلقونہ بالسنتکم (جب) تم اس (افواہ) کو اپنی زبانون سے لے رہے تھے یعنی تمہاری زبانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 :
افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 :
اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔
اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔
(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[17] اصل میں لفظ '' سبحانک '' استعمال ہوا ہے جو یہاں بالکل اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں اردو میں '' معاذ اللہ '' بولا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں '' سبحانک '' کا ترجمہ '' معاذ اللہ '' سے کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
عائشہ عفیفہ ؓ کا المناک واقعہ !
(ف 1) ام المومنین حضرت عائشہ عفیفہ ؓ کی زبان سے واقعہ افک کی تفصیل سنئیے ۔
ارشاد فرماتی ہیں کہ میں حضور ﷺ کی معیت میں ایک عزوہ میں شریک ہوئی ، یہ عزوہ بنی المصطلق سے قبل کا واقعہ ہے پھر ہم واپس آئے ، مدینہ سے کچھ ادھر حضور ﷺ نے ایک منزل پر قیام کیا ، میں بھی محمل سے نیچے اتری اور قضائے حاجت کے لئے جیش نبوی ﷺ سے کچھ آگے نکل گئی جب لوٹ کر محمل تک پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہار کہیں گر گیا ، تلاش کی غرض سے پھر وہاں تک گئی اور ہار ڈھونڈتی رہی محمل والوں نے یہ سمجھا کہ میں محمل میں موجود ہوں اس لئے کہ میرا بوجھ کچھ زیادہ نہ تھا میں ان دونوں بالکل نوعمر اور ہلکے…
Read the full tafseer →(16) اور جب تم نے اس بہتان کو سنا تھا تو سنتے ہی یوں کیوں نہیں کہا کہ ہم کو یہ لائق اور ہم کو یہ زیبا نہیں کہ ہم منہ پر لادیں یہ بات اور ہم ایسی بات منہ سے نکالیں۔ اللہ تعالیٰ تو پاک ہے معاذ اللہ یہ تو بڑا بہتان ہے۔ جیسا کہ بعض صحابہ اور محتاط حضرا ت نے سنتے ہی کہہ دیا۔ حضرت ابو ایوب اور ان کی زوجہ کا قول مذکورہوا۔
رہا ! نبی کریم ﷺ کا تردد اور تامل تو اول تو یہ کوئی بےاطمینانی کی دلیل نہیں آپ خاموشی کے ساتھ صرف ایک معاملہ کو ملاحظہ کررہے تھے۔ نیز آپ کا یہ قول احادیث میں مروی ہے کہ ماعلمت علی اھل الاخیراً یہ قول نزاہت اور پاکی پر یقین کا اظہار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 8۔ جیسا کہ بعض صحابہ نے اسی طرح کہا تھا۔
Read the full tafseer →اس بات کو سن کر تم نے ھذا بھتان عظیم کیوں نہ کہہ دیا ؟
24۔ زیر نظر آیت کے مضمون کی ذمہ داری کن لوگوں پر ڈالی گئی ؟ غور کرو گے تو سمجھو گے کہ یہاں تین فریق ہوئے ایک فریق اس بہتان کی بات اٹھانے والا ‘ دوسرا فریق وہ جس پر یہ بہتان باندھا گیا اور تیسرا وہ جو اس بات کو یعنی بہتان کو سننے والا تھا ۔ بہتان باندھنے والے تو بہتان باندھ رہے تھے اور جن لوگوں پر یہ بہتان باندھا گیا ان کو بولنے کا کوئی حق نہیں تھا کیونکہ ان کے بولنے کی اس وقت کوئی قیمت نہ ہوتی اور ظاہر ہے کہ یہ حق صرف ان ہی لوگوں کا تھا جو اس بہتان کو اپنے کانوں سے سن رہے تھے اور قرآن کریم نے بھی انہی لوگوں کو مخاطب کیا جب ارشاد فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَا أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَـٰذَا سُبْحَانَكَ هَـٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ
And why, when you heard of it, did you not say, It is not for us to speak about this. Pure are You (0 Allah). This is a terrible calumny.' - 24:16.
In this verse the same advice is repeated which was imparted in an earlier verse, with further elaboration as to what should the Muslims do in such a situation when they hear a rumor. The advice is that they should say in categorical terms that they are not allowed even to mention such a thing for which there is no proof. It is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
14.“With Allah”: In the sight of Allah or in the law of Allah, or according to the law of Allah. Obviously, in Allah’s knowledge, the accusation was by itself false and its falsehood was in no way dependent on the production of witnesses by the accusers.
Here nobody should have the misunderstanding that failure to bring witnesses is being regarded as the basis and argument to prove that the accusation was false, and that the Muslims are also being told to regard it as a manifest calumny only because the accusers did not bring four witnesses. This misunderstanding can arise if one does not…
Read the full tafseer →