An-Noor 24:15

An-Noor · from ayah 15

24:15

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا ۖۗ— وَّهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ ۟اِذۡ تَلَـقَّوۡنَهٗ بِاَ لۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَ فۡوَاهِكُمۡ مَّا لَـيۡسَ لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا ‌ ۖ وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

When you received it with your tongues and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allah, tremendous.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:15

(ذرا غور تو کرو، اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب کہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منھ سے وه بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه بہت بڑی بات تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب تم اس (بات) کو (ایک دوسرے سے سن کر) اپنی زبانوں پر لاتے رہے اور اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے رہے جس کا (خود) تمہیں کوئی علم ہی نہ تھا اور اس (چرچے) کو معمولی بات خیال کر رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے حضور بہت بڑی (جسارت ہو رہی) تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب تم اسے ایک دوسرے سے اپنی زبانوں کے ساتھ لے رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کچھ علم نہیں اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس وقت تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جہان کو لیتی جارہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کچھ علم نہ تھا اور تم اسے معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

خیال کرو جب تم اپنی زبانوں سے وہ بات نقل کر رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کی بابت تمہیں کوئی علم نہیں تھا ! اور تم اس کو معمولی بات خیال کر رہے تھے حالانہ اللہ کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی بات ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ تم لوگ اس طوفان کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرتے جا رہے تھے اور تم اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے جا رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا اور تم اس کو معمولی چیز سمجھ رہے تھے، مگر اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی،

— مولانا اسحاق مدنی

جب تم اپنی زبانوں سے نقل درنقل کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کی تمہیں کوئی تحقیق نہ تھی اور تم اسے ہلکا سمجھ رہے تھے حالا کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب تم لے رہے تھے اسے اپنی زبانوں سے اور تم اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں تھا اور تم اسے معمولی سمجھ رہے تھے جبکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات تھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ بھی علم نہ تھا اور تم اسے ایک معمولی بات سمجھتے تھے اور اللہ کے نزدیک وہ بڑی سخت بات تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Just think how erroneous you were,) when you passed this lie on from one tongue to the other and uttered with your mouths that of which you had no knowledge. You took it as a trifling matter whereas it was a grave offence in the sight of Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

when you were welcoming it with your tongues, and were saying with your mouths something of which you had no knowledge, and were taking it as a trivial matter, while in the sight of Allah it was grave.

— Muhammad Taqi Usmani

when you were welcoming it with your tongues, and were saying with your mouths something of which you had no knowledge, and were taking it as a trivial matter, while in the sight of Allah it was grave.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When you were propagating it with your tongues, and uttering with your mouths that whereof you had no knowledge, you counted it a little thing, while with Allah it was very great.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When ye welcomed it with your tongues, and uttered with your mouths that whereof ye had no knowledge, ye counted it a trifle. In the sight of Allah it is very great.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

When you received it with your tongues and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allah, tremendous.

— Saheeh International

Your tongues moved and your mouths spoke of something of which you had no knowledge. You thought it to be a trivial matter, while in the eyes of God it is blasphemy.

— Muhammad Sarwar

When you received it with your tongues and spoke with your mouths what you had no knowledge of, and you deemed it an easy matter while with Allah it was grievous.

— Muhammad Habib Shakir

When ye were publishing it with your tongues and saying that with your mouths of which ye had no knowledge. Ye deemed it light, and it was with Allah mighty!

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, ye received it on your tongues, and said out of your mouths things of which ye had no knowledge; and ye thought it to be a light matter, while it was most serious in the sight of Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–15

فرمان ہے کہ اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا۔ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے حضرت مسطع حضرت حسان، حضرت حمنہ ؓ۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے۔ کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یادر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–17

سورة النُّوْر 14 " اللہ کے نزدیک " یعنی اللہ کے قانون میں، اللہ کے قانون کے مطابق۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ کے علم میں تو الزام بجائے خود جھوٹا تھا، اس کا جھوٹ ہونا اس بات پر مبنی نہ تھا کہ یہ لوگ گواہ نہیں لائے ہیں۔ اس جگہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہاں الزام کے غلط ہونے کی دلیل اور بنیاد محض گواہوں کی غیر موجودگی کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اور مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم بھی صرف اس وجہ سے اس کو صریح بہتان قرار دو کہ الزام لگانے والے چار گواہ نہیں لائے ہیں۔ یہ غلط فہمی اس صورت واقعہ کو نگاہ میں نہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہے جو فی الواقع وہاں پیش آئی تھی۔ الزام لگانے والوں نے الزام اس وجہ سے نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ ، تلقی کا مفہوم یہ ہے کہ ایک دوسرے سے بات پوچھ اور نقل کرے، یہاں بات کو سن کر بےدلیل اور بلا تحقیق آگے چلتی کردینا مراد ہے۔ وَّتَحْسَبُوْنَهٗ هَيِّنًا ڰ وَّهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمٌ یعنی تم تو اس کو معمولی بات خیال کرتے تھے کہ ہم نے جیسا سنا ویسا دوسرے سے نقل کردیا مگر وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ تھا کہ بےدلیل اور بےتحقیق ایسی بات کو چلتا کردیا جس سے دوسرے مسلمان کو سخت ایذا ہو، اس کی رسوائی ہو اور اس کے لئے زندگی دو بھر ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نقل و روایت کے معاملہ میں احتیاط کی ہدایت یہ اسی بات کی سنگینی کا ظہار ہے جس کو کچھ لوگوں نے ایک معمولی بات سمجھ کر بےتکلف اس کی نقل و روایت شروع کردی اور یہ انہوں نے نہ سوچا کہ جس چیز کو وہ معمولی سمجھ رہے ہیں وہ اللہ کے نزدیک بڑی ہی سنگین بات ہے کسی بات کو قبول کرنے کا اصلی راستہ عقل ہے نہ کہ زبان اور نقل ور وایت کے قابل وہ بات ہوتی ہے جس کی بنیاد قابل اعتماد علم پر ہو نہ کہ افواہ پر اگر عقل کو آدمی معطل کر دے اور اس کے پاس صرف گز بھر کی زبان رہ جائے تو نقد و روایت کے بغیر وہ کان میں پڑی ہوئی ہر بات کی روایت شروع کر دے گا اور اس طرح وہ خود بھی شیطان کے پھیلائے ہوئے فتنہ میں مبتلا ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–15

12-1یہاں سے تربیت کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جا رہا ہے جو اس واقعے میں مضمر ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل ایمان ایک جان کی طرح ہیں، جب حضرت عائشہ پر تہمت طرازی کی گئی تو تم نے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے فورا ! اس کی تردید کیوں نہ کی اور اسے بہتان صریح کیوں قرار نہیں دیا ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–21

12: اگرچہ اکثر مخلص مسلمان اس تہمت کو جھوٹ ہی سمجھتے تھے، لیکن مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ اس طرح کی بےبنیاد اور بےدلیل باتوں کا تذکرہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(اذتلقونہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنداللہ عظیم) (24 : 15) ” جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جارہی تھی “۔ بغیر کسی تدبر ‘ بغیر کسی غور فکر ‘ بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے ایک بات تھی جو لوگ کہتے چلے جاتے تھے۔ گویا یہ بات کانوں کے ذریعے دل و دماغ تک غور کے لیے پہنچ نہ پاتی تھی کہ اسے دوسری زبان اچک لیتی تھی۔ (وتقولون۔۔۔۔۔۔ بہ علم) (24 : 15) ” اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے تھے جس کا تمہیں علم نہ تھا “۔ منہ سے کہتے تھے مگر اس کا تمہیں یقینی علم نہ تھا۔ تمہارے دل و دماغ اسے حقیقت کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ الفاظ تھے جو زبانوں پر جاری ہوگئے۔ کسی علم و اور اک سے یہ باتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی عذاب عظیم کے مستحق کیوں نہ ہوتے جبکہ تم ایسی بےتحقیق اور ظاہر البطلان بات کو ایک دوسرے کی طرف چلتا کر رہے تھے۔ اور زبان سے وہ اٹکل پچو باتیں نکالتے تھے جن کی واقعیت کی تمہیں کچھ خبر نہ تھی۔ پھر طرفہ یہ ہے کہ ایسی سخت بات کو (یعنی کسی محصنہ خصوصاً پیغمبر ﷺ کی زوجہ مطہرہ اور مومنین کی روحانی والدہ کو مہتم کرنا) جو اللہ کے نزدیک بہت بڑا سنگین جرم ہے محض ایک ہلکی اور معمولی بات سمجھنا، یہ اصل جرم سے بھی بڑھ کر جرم تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–18

آیت 15 اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ ” ادھر سے بات سن کر ادھر پہنچا دینا انسانی کمزوری ہے اور اسی انسانی کمزوری کی وجہ سے کوئی بھی ہیجان انگیز بات ”منہ سے نکلی کو ٹھے چڑھی“ کے مصداق دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ” اس بارے میں جتنی باتیں تھیں سب سنی سنائی تھیں ‘ ان کے پیچھے نہ کوئی علمی ثبوت تھا اور نہ کوئی گواہ۔ وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَیِّنًاق وَّہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ ” کسی بھی مسلمان خاتون پر اس طرح کی تہمت لگا دینا بہت قبیح حرکت ہے ‘ چہ جائیکہ ”بازی بازی با ریش بابا ہم بازی !“ کے مصداق اُمّ المومنین رض…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 یعنی محض سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کردینا کبیرہ گناہ ہے۔ آپ نے فرمایا : کہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے آگے منتقل کردے (مقدمہ صحیح مسلم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ یعنی ایک تو کسی پاک دامن مومنہ کا قذف بجائے خود ہی سخت معصیت ہے۔ پھر مومنہ بھی کون ؟ ایک عالی مرتبت زوج رسول۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کو جو اذیت پہنچی وہ مستزاد۔ (آیت) ” ھینا “۔ ہلکا، یعنی غیر موجب گناہ۔ (آیت) ” عند اللہ عظیم “۔ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات، یعنی موجب گناہ عظیم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذ تلقونہ بالسنتکم وتقولون بافواہکم ما لیس لکم بہ علم وتحسبونہ ہینا وہو عنداللہ عظیم۔ (تم کو عذاب پہنچ جاتا) جب کہ تم اس (طوفان و بہتان) کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کی دلیل تم کو بالکل معلوم نہ تھی اور تم اس کو ہلکی بات سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت سخت بات تھی۔ اِذْظرفیہ ہے اس کا تعلق مَسَّکُمْیا اَفَضْتُمْسے ہے۔ تَلَقَّوْنَہٗتم اس کو اپنی زبانوں سے لے رہے تھے یعنی ایک دوسرے سے پوچھتا اور نقل کرتا تھا۔ کلبی نے کہا اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ ایک شخص دوسرے سے ملتا اور کہتا تھا مجھے ایسی خبر ملی ہے کیا واقعہ ہے۔ اس طرح ایک دوسرے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) جب کہ تم اس جھوٹ بات کو اپنی زبانوں سے ایک دوسرے سے بیان کر رہے تھے اور اپنی زبانوں سے ایسی بات نکال رہے تھے جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت اور اس کی کوئی دلیل موجود نہیں تھی اور تم اس طوفان کو معمولی سا گناہ سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سزا اور گناہ کے اعتبار سے بہت بھاری بات ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ : ”تَلَقّٰی یَتَلَقّٰی“ (تفعل) کسی سے کوئی چیز لینا، جیسے فرمایا : (فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ) [ البقرۃ : 37 ] ”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے۔“ یعنی جب تم اس بہتان کو ایک دوسرے سے لے کر آگے بیان کرتے تھے کہ میں نے فلاں سے یوں سنا، فلاں نے یہ کہا وغیرہ۔ وَتَــقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ : یعنی یہ صرف تمہارے مونہوں کی بات تھی، نہ تمہارے دل میں اس کا یقین تھا نہ سننے والے کو یقین ہوسکتا تھا، جیسا کہ منافقین کے متعلق فرمایا : (يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِھِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِھِمْ) [ آل عمران : 167 ] ”اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–23

آیت نمبر 23 ۔ اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” اذ تلقونہ بالسنتکم “ اور فرمایا بعض تمہارا روایت کرتا ہے بعض سے۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اذ تلقونہ بالسنتکم “ سے مراد ہے کہ بعض تمہارا روایت کرتا ہے بعض سے۔ 3۔ البخاری وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ اس آیت کو پڑھتی آیت ” اذ تلقونہ بالسنتکم “ اور فرماتی تھیں کہ وہ ولق القول ہے یعنی یہ جھوٹی بات ہے اور ولق جھوٹ کو کہتے ہیں ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِذْ [ جب ] تَلَقَّوْنَهٗ [ تم لوگ لیتے تھے اس کو ] بِاَلْسِنَتِكُمْ [ اپنی زبانوں پر ] وَتَــقُوْلُوْنَ [ اور کہتے تھے ] بِاَفْوَاهِكُمْ [ اپنے مونہوں سے ] مَّا [ وہ ] لَيْسَ [ نہیں تھا ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] بِهٖ [ جس کے بارے میں ] عِلْمٌ [ کوئی علم ] وَّتَحْسَبُوْنَهٗ [ اور تم لوگ سمجھتے تھے اس کو ] هَيِّنًا ڰ [ ہلکا ] وَّهُوَ [ حالانکہ وہ ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] عَظِيْمٌ [ ایک بڑی (بات) تھی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اِِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِکُمْ مَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَتَحْسَبُوْنَہٗ ھَیّْنًا وَّھُوَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمٌ) (جبکہ تم اس بات کو ایک دوسرے کے منہ سے سنتے تھے اور اپنے منہ سے نکالتے تھے اور ایسی بات کر رہے تھے کہ جس کا تمہیں علم نہیں اور تم خیال کر رہے تھے کہ یہ ہلکی بات ہے حالانکہ وہ اللہ کے نردیک بڑی بات ہے) یعنی جو کوئی کسی پر تہمت رکھی جائے اسے سننا لے اڑنا دوسروں تک پہنچانا بڑا گناہ ہے اور اس بات کو ہلکا سمجھنا سخت غلطی کی بات ہے اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جب کسی کے بارے میں کوئی تہمت کی بات کہی جائے تو اسے نقل کر کے اپنی ذات کو یوں کہہ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–26

بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ ” اذتلقونہ الخ “ یہ دوسرے گروہ کیلئے زجر ہے۔ ” اذ “ ” لمسکم “ کے متعلق ہے۔ (روح) ۔ یعنی تمام منافقین کی پھیلائی ہوئی خبر کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے اور بلا تحقیق اس کی اشاعت کر رہے تھے اس وقت ہی اگر تم پر اللہ کا عذاب آجاتا تو ایسا ہوسکتا تھا لیکن اللہ نے محض اپنی رحمت سے عذاب نازل کرنے میں عجلت نہیں فرمائی ” تحسبونہ ھینا الخ “ تم اس معاملہ کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ معاملہ بہت ہی سنگین اور بہت بڑا جرم تھا۔ اے ایمان والو ! تمہیں اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہونا چاہیے تھا اور تمہارے لیے اس معاملے میں لب کشائی مناسب نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–20

بہتان تراشی پر تنبیہ : واقعہ افک کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مزید تنبیہ فرمائی ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم تو ضرور تم کو عذاب عظیم پہنچتا اس چیزیں جس کا تم نے چرچا کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تشہیر واقعہ افک سے متعلق تھی جس میں منافقوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر الزام تراشی کی تھی اور بعض مسلمان بھی اس پراپیگنڈا کا شکار ہوگئے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے فضل ورحمت کی وجہ سے تم سخت سزا سے بچ گئے ، وگرنہ یہ بہت بری بات تھی جس سے ناموس رسول میں خلل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ تَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَتَــقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِكُمْ مَّا لَيْسَ لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَہٗ ہَيِّنًا۝ 0ۤۖ وَّہُوَعِنْدَ اللہِ عَظِيْمٌ۝ 15 تلقی السّماحة منه والنّدى خلقا«2» ويقال : لَقِيتُه بکذا : إذا استقبلته به، قال تعالی: وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً [ الفرقان/ 75] ، وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] . وتَلَقَّاهُ كذا، أي : لقيه . قال : وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ [ الأنبیاء/ 103] ، وقال : وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ [ النمل/ 6] وتلقی السماحۃ منہ والندیٰ خلقا سخاوت اور بخشش کرنا اس کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے ۔ لقیت بکذا ۔ میں فلاں چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–20

ترکیب : لولا بمعنی ہلا اذحیں ما یکون لنا بمعنی ماینبغی لنا سبحانک، ھو للتعجب ان تعودوا ای کر اہۃ تعودو افھو مفعول لہ اور ممکن ہے کہ مفعول بہ ہو یعظکم کا بمعنی ینہکم، لہم عذاب الیم خبر ان الذین ان تشیع مفعول یحبون فی الدنیا عذاب الیم سے متعلق ہے ورحمتہ معطوف ہے۔ فضل اللہ پر پھر وان اللہ اس پر معطوف جواب لو لا محذوف اے لعاجلکم بالعقوبۃ۔ منجملہ ناراضیوں کے ایک یہ جملہ بطور زجر کے ہے وتقولون الخ کہ جس بات کا تم کو علم نہیں اس کو ہلکا جان کر مونہوں سے نکالنے لگے یہاں تک کہ کوئی گھر اور کوئی مجلس نہ تھی کہ جہاں یہ چرچا نہ پھیلا ہو۔ فرماتا ہے یہ بڑی بھاری بات ہے ولو لا اذسمعتموہ بلکہ تمہیں یہ مناسب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 14–15

وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُـہٗ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَآ اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِذْتَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِکُمْ مَّا لَیْسَ لَـکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَـہٗ ھَیِّنًا ق صلے وَّھُوَعِنْدَاللّٰہِ عَـظِـیْمٌ۔ (النور : 14، 15) (اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں، تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں ایک بڑا عذاب تمہیں آ پکڑتا۔ ذرا خیال کرو (اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے) جب تم اپنی زبانوں سے وہ بات نقل کررہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے متعلق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–18

فہم القران ربط کلام : صحابہ پر خصوصی فضل ورحمت کا تذکرہ کرنے کے بعد انہیں مزید احساس دلایا گیا کہ جس بات کو تم نے معمولی سمجھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ گناہ اور نتائج کے اعتبار سے بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت بڑا مقام رکھتی ہے اس لیے ایک دفعہ پھر صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جس بات کو تم ہلکا سمجھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی بات ہے یعنی بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اس سے پاکدامن مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت پامال ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ہرگز برداشت نہیں کرتا۔ تمہارا اخلاقی فرض تھا کہ جو نہی تم نے اس بات کو سنا تو فوراً کہہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15: اِذ (یہ) مَسَّکمؔ کا ظرف ہے یا افضتم کا ظرف ہے : تَلَقَّوْنَہٗ (نقل درنقل کرنا) ایک دوسرے سے لے کر نقل کرتے تھے کہا جاتا ہے : تلقی القول وتلقنہ وتلقّفہٗ بات کو اچک کر نقل کرنا۔ بِاَلْسِنَتِکُمْ (اپنی زبانوں سے) یعنی تم ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے۔ کیا تمہیں عائشہ کی بات پہنچی ہے ؟ یہاں تک کہ یہ بات پھیل گئی اور منتشر ہوگئی کوئی گھر اور مجلس ایسی نہ رہی جس میں یہ بات نہ اڑی ہو۔ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِکُمْ مَّا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ( اور تم اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہہ رہے تھے جس کا تمہیں علم نہ تھا) اس کو افواہؔ سے مقید فرمایا حالانکہ بات تو ہوتی ہی منہ سے ہے کیونکہ معلوم چیز کا علم دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15۔ اذ تلقونہ، ، جو کچھ تم کہتے ہو۔ بالسنتکم، مجاہد اور مقاتل نے کہا کہ وہ بعض بعض سے روایت کرتے ہیں۔ کلبی کا قول ہے کہ اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے سے ملتا اور کہتا تھا مجھے ایسی خبر ملی ہے کہ واقعہ کیا ہے ؟ اس طرح ایک دوسرے سے زبانی لیتا تھا، اسی طرح ابی بن کعب نے بھی پڑھا ہے زجاج کا قول ہے کہ بعض بعض کے ساتھ سیکھتے تھے، حضرت عائشہ کی قرات، تلقونہ ، لام کے زیر کے ساتھ ہے اور قاف کے تخفیف کے ساتھ ولق سے ہے بمعنی جھوت۔ وتقولون بافواھکم مالیس لکم بہ علم وتحسبونہ ھینا، وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ آسان ہے اس میں کوئی گناہ نہیں، وھوعنداللہ اعظیم، اور وہ ان پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–15

11۔ 15:۔ حضرت عائشہ ؓ پر جو لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا تھا ‘ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں سات آٹھ صحابیوں کی روایت سے یہ قصہ آیا 1 ؎ ہے ‘ حاصل اس قصے کا یہ ہے کہ 6 ھ میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپسی کے وقت لشکر کے کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئیں ‘ وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا پوتھوں کا ہار گر پڑا یہ تو اس ہار کے ڈھونڈنے میں رہیں اور یہاں لشکر کا کوچ ہوگیا ‘ کوچ کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ ؓ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں ‘ اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا اور لشکر کے انٹوں کے ساتھ یہ خالی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–26

آیت (11 چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔ اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–16

قول باری ہے : (اذ تلقونہ بالسنتکم وتقولون فافواھکم مالیس لک بہ علم ) ذرا غور تو کرو اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے۔ جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لپتی چلی جارہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جارہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ لفظ تلقونہ کے حرف قاف کی شد کے ساتھ قرات کی گئی ہے مجاہد کا قول ہے کہ ” تم ایک دوسرے سے اس جھوٹ کو نقل کرتے چلے جارہے تھے تاکہ یہ جھوٹ پوری طرح پھیل جائے۔ “ حضرت عائشہ ؓ سے یہ لفظ تلقونہ مروی ہے۔ یہ لفظ ” ولق الکذب “ (وہ مسلسل جھوٹ بولتا رہا) سے ماخوذ ہے۔ اس کے مفہوم میں تسلسل کے معنی داخل ہیں۔ اسی سلسلے کا ایک اور محاورہ ہے ” ولق فلان فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 بغیر تحقیق کے بات کو آگے پھیلانے کی سنگینی و خطورت کا بیان : سو اس جرم کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور اس کی یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اس کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرتے جا رہے تھے۔ اور اس طرح بغیر کسی تحقیق و پرواہ کے تم اسے آگے پھیلاتے جا رہے تھے۔ حالانکہ تمہارا دین تمہیں یہ سکھاتا اور بتاتا ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے چلتا کردینا جھوٹ ہے ۔ " کَفٰی بَالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ " ۔ ایسے لوگوں نے اس کو ایک معمولی بات سمجھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں یہ ایک بڑی سنگین اور انتہائی ہولناک بات تھی۔ سو نقد و درایت کی کسوٹی پر پرکھے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–20

سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

رکوع نمبر 2۔ جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔ (واقعہ افک) رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

5 ۔ اس میں ان لوگوں کو تو بیخ کی ہے جو اس واقعہ کو سن کر اس میں دلچسپی لے رہے تھے۔ مروی ہے کہ حضرت سعد ؓ بن معاذ نے جب حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں قیل و قال کو سنا تو انہوں نے برملا اس کو جھٹلایا اور کہا : ” سبحانک ھذا بھتان عظیم “۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے حرم اس قسم کے ملوثات سے بالا ہوتے ہیں۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت، خیانت کفر تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے باہم دگر معاملات کی بنیاد نیک گمان پر ہونی چاہیے۔ اور کسی سے بدگمانی اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کے لئے کوئی واقعی ٹھوس بنیاد نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 15–16

(24:15) تلقونہ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تلقی سے (باب تفعل) اصل میں تتلقون تھا ایک تا حذف ہوگئی۔ تلقی یا تلقاہ کے معنی کسی چیز کو پالینے یا اس کے سامنے آنے کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے وتتلقہم الملئکۃ (21:103) اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے۔ اور وانک لتلقی القران (27:6) اور تم کو قرآن عطا کیا جاتا ہے۔ باب افعال سے (الالقائ) بمعنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ پھر عرف میں مطلق کسی چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جیسے وکذلک القی السامری (20:78) اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔ تلقونہ بالسنتکم (جب) تم اس (افواہ) کو اپنی زبانون سے لے رہے تھے یعنی تمہاری زبانیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 : افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 : اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔ اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–18

حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔ (ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[16] فضل و کرم دنیا میں یہ کہ توبہ کی مہلت عطا ہوئی اور آخرت میں یہ کہ توبہ قبول ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–18

عائشہ عفیفہ ؓ کا المناک واقعہ ! (ف 1) ام المومنین حضرت عائشہ عفیفہ ؓ کی زبان سے واقعہ افک کی تفصیل سنئیے ۔ ارشاد فرماتی ہیں کہ میں حضور ﷺ کی معیت میں ایک عزوہ میں شریک ہوئی ، یہ عزوہ بنی المصطلق سے قبل کا واقعہ ہے پھر ہم واپس آئے ، مدینہ سے کچھ ادھر حضور ﷺ نے ایک منزل پر قیام کیا ، میں بھی محمل سے نیچے اتری اور قضائے حاجت کے لئے جیش نبوی ﷺ سے کچھ آگے نکل گئی جب لوٹ کر محمل تک پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہار کہیں گر گیا ، تلاش کی غرض سے پھر وہاں تک گئی اور ہار ڈھونڈتی رہی محمل والوں نے یہ سمجھا کہ میں محمل میں موجود ہوں اس لئے کہ میرا بوجھ کچھ زیادہ نہ تھا میں ان دونوں بالکل نوعمر اور ہلکے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) اس عذاب عظیم کے تم اس وقت مستحق ہوجاتے اور وہ عذاب تم کو اس وقت مس کرلیتا اور تم عذاب عظیم کی زد میں آجاتے جب کہ تم اس بات کو اپنی زبانوں سے ایک دوسرے کو نقل کررہے تھے اور اپنے منوئوں سے ایسی باتیں کہہ رہے تھے جن کا تم کو مطلق علم نہ تھا اور کوئی دلیل نہ تھی اور تم اس تہمت اور بہتان کو ہلکی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑی سخت بات تھی۔ یعنی بلا تحقیق اور بلا دلیل ایسی باتیں منہ سے کہہ رہے تھے اور ایک دوسرے سے نقل در نقل کررہے تھے جو معصیت اور موجب عذاب ہیں تم اس کو ہلکا اور سہل سمجھتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑی بھاری اور سخت چیز ہے اول تو حصنات پر رمی اور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سننا اور سن کر اس کو آگے بیان کردینا اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے : 23۔ سماعت کس کا فعل ہے ؟ کان کا بلاشبہ جو کچھ کوئی بیان کرے گا کان ان کو سنے گا لیکن سن لینے کے بعد سوچنے اور سمجھنے کے لئے اللہ نے تم کو کوئی چیز نہیں دی ؟ کیوں نہیں عقل وفکر اس لئے دی گئی کہ جو کچھ سنو اس کو عقل وفکر پر رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرو پھر سنی ہوئی بات غلط بھی ہو سکتی ہے صحیح بھی ۔ اگر بات صحیح ہے تو آگے چلاؤ ورنہ اس کی تردید کر دو ۔ کان کے سوراخ نے اپنا کام کیا تو عقل نے اپنا کام کیوں چھوڑ دیا ؟ اور یہ گز بھر زبان تم نے اسیے ہی کیسے چلا دی اس کو کو روک کر کیوں نہ رکھا تاکہ عقل کو اپنا کام کرلینے کے بعد زبان اپنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ When you were welcoming it with your tongues - 24:15. The word تَلَقَّی means to make inquiries from each other (to be inquisitive) and repeat before others. Here it means to repeat hearsay without probe and proof.(1) وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمٌ And were taking it as a trivial matter, while in the sight of Allah it was grave - 24:15. (1). Lexically the word also means 'welcoming'. This meaning is adopted in the translation of the text, because it also covers the meaning of receiving and conveying the news without hesitation.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–17

14.“With Allah”: In the sight of Allah or in the law of Allah, or according to the law of Allah. Obviously, in Allah’s knowledge, the accusation was by itself false and its falsehood was in no way dependent on the production of witnesses by the accusers. Here nobody should have the misunderstanding that failure to bring witnesses is being regarded as the basis and argument to prove that the accusation was false, and that the Muslims are also being told to regard it as a manifest calumny only because the accusers did not bring four witnesses. This misunderstanding can arise if one does not…

Read the full tafseer →