Explained with ayahs 14–15
فرمان ہے کہ اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا۔ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے حضرت مسطع حضرت حسان، حضرت حمنہ ؓ۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے۔ کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یادر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
سورة النُّوْر 14
" اللہ کے نزدیک " یعنی اللہ کے قانون میں، اللہ کے قانون کے مطابق۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ کے علم میں تو الزام بجائے خود جھوٹا تھا، اس کا جھوٹ ہونا اس بات پر مبنی نہ تھا کہ یہ لوگ گواہ نہیں لائے ہیں۔
اس جگہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہاں الزام کے غلط ہونے کی دلیل اور بنیاد محض گواہوں کی غیر موجودگی کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اور مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم بھی صرف اس وجہ سے اس کو صریح بہتان قرار دو کہ الزام لگانے والے چار گواہ نہیں لائے ہیں۔ یہ غلط فہمی اس صورت واقعہ کو نگاہ میں نہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہے جو فی الواقع وہاں پیش آئی تھی۔ الزام لگانے والوں نے الزام اس وجہ سے نہیں…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِيْ مَآ اَفَضْتُمْ فِيْهِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ، یہ آیت ان مومنین کے بارے میں نازل ہوئی جو غلطی سے اس تہمت میں کسی قسم کی شرکت کر بیٹھے تھے پھر توبہ کرلی اور بعض پر سزا بھی جاری ہوئی۔ ان سب کو اس آیت نے یہ بھی بتلا دیا کہ جو جرم تم سے سرزد ہوا وہ بہت بڑا جرم تھا اس پر دنیا میں بھی عذاب آسکتا تھا جیسے پچھلی قوموں کے مجرموں پر آیا ہے اور آخرت میں بھی اس پر عذاب شدید ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کا معاملہ تم مومنین کے ساتھ فضل و رحمت کا ہے، دنیا میں بھی، آخرت میں بھی۔ اس لئے یہ عذاب تم سے ٹل گیا۔ دنیا میں اللہ کے فضل و…
Read the full tafseer →مسلمانوں کو پھر تنبیہ
افاض فی الحدیث کا مفہمو یہ ہوتا ہے کہ بات میں سے بات نکالتے ہوئے آدمی کہیں سے کہیں جا پنچے اور بات کا بتنگڑ بنا ڈایل۔ آیت 10 کے بعد یہ پھر مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ اس معاملے میں تم جس روشن پر چل نکلے تھے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم کو ایک عذاب عظیم آ پکڑتا لیکن تم پر دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی رحمت ہے اس وجہ سے اس نے درگزر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اس فضل و رحمت کی قدر کرو، ایسا نہ ہو کہ کسی اسی طرح کے فتنہ میں پھر مبتلا ہو کر اپنے آپ کو مستحق عذاب بنا ڈالو۔
یہ خطاب سارے معاشرے سے ہے حالانکہ اس معاملے میں ملوث ہونے والے یا سہلا نگاری و بےپروائی کو راہ دینے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12-1یہاں سے تربیت کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جا رہا ہے جو اس واقعے میں مضمر ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل ایمان ایک جان کی طرح ہیں، جب حضرت عائشہ پر تہمت طرازی کی گئی تو تم نے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے فورا ! اس کی تردید کیوں نہ کی اور اسے بہتان صریح کیوں قرار نہیں دیا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
9: یہاں سے آیت نمبر 26 تک جس واقعے کی طرف اشارہ ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اسلام کو جو تیز رفتار فروغ حاصل ہوا، اس پر کفر کی طاقتیں دانت پیس رہی تھیں۔ خود مدینہ منورہ میں ان منافقوں کا ایک گروہ موجود تھا جو زبان سے تو اسلام لے آئے تھے، لیکن ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے خلاف کینہ بھرا ہوا تھا، اور وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع چھوڑتے نہیں تھے۔ اسی زمانے میں غزوہ بنو المصطلق پیش آیا جس میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا تو حضرت عائشہ کا ایک ہار گم ہوگیا، اور وہ اس کی تلاش میں جنگل کی طرف نکل گئیں۔ آنحضرت ﷺ کو اس واقعے کا علم…
Read the full tafseer →(ولولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب عظیم) (24 : 14) ” اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا “۔ اللہ تعالیٰ نے نئی تشکیل پانے والی جماعت مسلمہ کے لیے یہ واقعہ بطور آزمائش رو نما کرایا تو اللہ نے اس کو اپنے فضل اور رحم و کرم کے ذریعہ یوں خوش اسلوبی سے حل کرا دیا۔ اس عظیم غلطی پر کسی کو سزانہ دی ورنہ یہ فعل تو سخت سزا کا مستحق تھا کیونکہ اس واقعہ کے ذریعہ اہل مدینہ نے محبوب خدا ﷺ کو سخت اذیت دی تھی۔ لہٰذا مناسب تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سخت سزاد یتے۔ نبی ﷺ کے علاوہ اس واقعہ میں آپ کے صدیق ساتھی ‘ آپ کی…
Read the full tafseer →9 یعنی اللہ تعالیٰ نے اس امت کو پیغمبر کے طفیل دنیا کے عذابوں سے بچایا ہے۔ نہیں تو یہ بات قابل تھی عذاب کے۔ (موضح القرآن) نیز تم میں سے مخلصین کو توبہ کی توفیق دے کر خطا معاف کردی ورنہ منافقین کی طرح وہ بھی قیامت کے دن عذاب عظیم میں گرفتار ہوتے۔ (العیاذ باللہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت 13 لَوْلَا جَآءُ وْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ ج“
اس طرح کے الزام کے ثبوت کے لیے چار گواہ پیش کرنے کا حکم اس سے پہلے سورة النساء ‘ آیت 15 میں نازل ہوچکا تھا سورۃ النساء 4 ہجری میں نازل ہوچکی تھی۔ چناچہ ان لوگوں کے لیے لازمی تھا کہ چار گواہ پیش کرتے ورنہ خاموش رہتے۔
فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓءِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ ”
چار گواہوں کی عدم موجود گی میں اسلامی قانون کے مطابق وہ لوگ جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →18 اللہ کا فضل اور رحمت یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں کو بالعموم اور اپنے پیغمبر کو بالخصوص ان حالات میں صبر و استقامت کی توفیق بخشی۔ ورنہ منافقوں نے جس طرح مسلمانوں پر یہ زبردست وار کیا تھا۔ اگر مسلمان بھی جوابی کارروائی پر اٹھ کھڑے ہوتے تو حالات کوئی سنگین صورت اختیار کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →25۔ (جیسا کہ عبداللہ بن ابی کو بسبب عدم توبہ کے ہوگا) (آیت) ” فضل اللہ ورحمتہ “۔ فضل وکرم کا ہونا دنیا میں یہ کہ توبہ کی مہلت عطا ہوئی اور آخرت میں یہ کہ توبہ کی توفیق ملی اور توبہ قبول بھی ہوئی۔ فقہاء نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ صحابہ مقبول التوبہ اور پاک ہو کر آخرت میں مرحوم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…
Read the full tafseer →ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم۔ اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس حرکت میں تم پڑے تھے اس میں تم پر
سخت عذاب واقع ہوجاتا۔
یعنی اے مسلمانو ! اگر نبی ﷺ : کی وجہ سے تم پر اللہ کا کرم نہ ہوتا اور دنیا میں طرح طرح کی نعمتیں وہ اپنی رحمت سے نہ دیتا (منجملہ دوسری نعمتوں کے ایک اسلام کی توفیق اور رسول اللہ ﷺ : کی صحبت کا میسر آجانا بھی ہے جس کی وجہ سے عذاب کے نزول میں رکاوٹ ہوئی اور توبہ کا وقت مل گیا) اور آخرت میں اللہ کی رحمت تم پر نہ ہوتی (کہ اس نے عفو و درگزر اور جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے) تو جس…
Read the full tafseer →(14) اب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو ان مسلمانوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو اس منافق کے کہنے میں آگئے تھے اور انہوں نے اس میں حصہ لیا تھا کہ اے (حسان و مسطح) اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم نہ ہوتا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تو جس شغل میں تم پڑے تھے یعنی اس طوفان بدتمیزی میں تو تم پر دنیا و آخرت میں سخت عذاب واقع ہوتا۔
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ۔۔ : یعنی اگر دنیا میں تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا کہ اس نے تمہیں دنیا میں بیشمار نعمتیں دی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ گناہ پر فوراً مؤاخذہ کے بجائے وہ مہلت دیتا ہے اور اگر آخرت میں اس کا فضل نہ ہوتا کہ وہ توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے، تو تم جس کام (بہتان) میں مشغول ہوئے تھے اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب آلیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے بعض انصار سے روایت کیا کہ ابوایوب ؓ کی بیوی نے اس انصاری سے کہا جب تہمت لگانے والوں نے جو کہا کیا تو نے نہیں سنا جو لوگ عائشہ ؓ کے بارے میں کہتے ہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں سنا اور وہ سب جھوٹ ہے کیا تو اے ام ایوب ایسا کرسکتی ہے۔ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! انصاری نے کہا عائشہ ؓ اللہ کی قسم ! تجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ پاکیزہ ہیں بلاشبہ یہ جھوٹ ہے۔ اور باطل بہتان ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے والوں کا ذکر کیا اور جو انہوں نے کہا تھا اس کا ذکر کیا پھر فرمایا آیت ” لو لا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنت…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] فَضْلُ اللّٰهِ [ اللہ کا فضل ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَرَحْمَتُهٗ [ اللہ کے نزدیک ] فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ [ دنیا اور آخرت میں ] لَمَسَّكُمْ [ تو ضرور چھوتا تم لوگوں کو ] فِيْ مَآ [ اس میں ] اَفَضْتُمْ [ تم لوگوں نے چرچا کیا ] فِيْهِ [ جس میں ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم عذاب ]
Read the full tafseer →(وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَا اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) یہ آیت ان مومنوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بےاحتیاطی کی وجہ سے اس تہمت میں کسی قسم کی شرکت کر بیٹھے تھے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان پر رحم فرمایا کہ توبہ کی توفیق دے دی اور آخرت کی معافی کا بھی وعدہ فرمایا اگر اللہ کی طرف سے توبہ کی توفیق نہ ہوتی تو جس شغل میں لگے تھے اس کی وجہ سے بڑا عذاب آجاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →15:۔ ” ولا لوا فضل الخ “: اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے پہلے ” ولولا فضل اللہ الخ “ گذر چکا ہے وہاں ” لو “ کا جواب مذکور نہیں تھا یہاں ” لمسکم فی ما افضتم الخ “۔ لَوْ “ کا جواب ہے اور خطاب دونوں گروہوں سے ہے یعنی تم نے جو ایک پاک دامن اور عفیفہ عورت اور پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی بیوی پر تہمت لگائی ہے اس کی وجہ سے تم مستحق تو اس بات کے تھے کہ تمہیں فورًا ہی عبرتناک عذاب سے ہلاک کردیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم پر مہربانی فرمائی اور فوراً نہیں پکڑا بلکہ مہلت دیدی اس معاملہ میں جو مخلص مومنین ملوث تھے ان کے لیے یہ تاخیر حقیقتًا اللہ کی رحمت ثابت ہوئی انہیں موقع مل گیا اور انہوں نے سچی توبہ کرلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
بہتان تراشی پر تنبیہ :
واقعہ افک کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مزید تنبیہ فرمائی ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم تو ضرور تم کو عذاب عظیم پہنچتا اس چیزیں جس کا تم نے چرچا کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تشہیر واقعہ افک سے متعلق تھی جس میں منافقوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر الزام تراشی کی تھی اور بعض مسلمان بھی اس پراپیگنڈا کا شکار ہوگئے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے فضل ورحمت کی وجہ سے تم سخت سزا سے بچ گئے ، وگرنہ یہ بہت بری بات تھی جس سے ناموس رسول میں خلل…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ لَمَسَّكُمْ فِيْ مَآ اَفَضْتُمْ فِيْہِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 14ۚۖ
فضل
الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر
فعلی ثلاثة أضرب :
فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات .
وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله :
وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا
وفضل من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
1 ؎ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جبکہ وہ اپنا گلوبند تلاش کرتی ہوئیں ایک سفر میں پیچھے رہ گئیں اور قافلہ کے اخیر میں صفوان ؓ تھے ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر کے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے لائے اس بات سے چند لوگوں نے جو بظاہر مسلمان تھے طوفان باندھ لیا اور زنا کی تہمت لگا کر اس کا عام چرچا کردیا اس قصہ کی طرف جابجا اس سورة میں اشارہ ہے۔ 12 منہ
ترکیب : عصبہ منکم خبران و منکم اس کی لغت کبر بالکسر معظمہ وبالضم، من قولھم الولالکبر ای اکبر ولد الرجل۔ اذ تلقونہ کا عامل مسکم۔ بہتان کے متعلق۔
تفسیر : ایک واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو ایک عبرت کا واقعہ ہے۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ افک یعنی بہتان کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُـہٗ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَآ اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِذْتَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِکُمْ مَّا لَیْسَ لَـکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَـہٗ ھَیِّنًا ق صلے وَّھُوَعِنْدَاللّٰہِ عَـظِـیْمٌ۔ (النور : 14، 15)
(اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں، تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں ایک بڑا عذاب تمہیں آ پکڑتا۔ ذرا خیال کرو (اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے) جب تم اپنی زبانوں سے وہ بات نقل کررہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مسلمانوں کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ تہمت لگانے والے سے ثبوت طلب کریں۔
کسی پاکدامن مرد یا عورت پر تہمت لگ جائے تو مومنوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اس تہمت پر یقین کرنے اور اسے آگے بڑھانے کی بجائے تہمت لگانے والے سے چار گواہوں کا مطالبہ کریں اگر وہ شریعت کے مقرر کردہ معیار اور ضابطے کے مطابق چار گواہ پیش نہیں کرتا تو وہ شریعت کی نظر میں جھوٹا ہے۔ اس پر عدالت کی ذمہ داری ہوگی کہ ایسے شخص کو مجمع عام میں اسّی (80) کوڑے لگوائے تاکہ اس کی زبان درازی کی اسے ٹھیک ٹھیک سزا مل سکے اور مسلمانوں کی عزت و حرمت ایک دوسرے سے محفوظ رہے۔ کیونکہ یہ واقعہ صحابہ…
Read the full tafseer →14: وَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَآ اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (اگر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتی تو جس حرکت میں تم پڑگئے تھے اس میں تم پر سخت عذاب واقع ہوتا) لولاؔ یہ شئی کے امتناع کیلئے ہے دوسری چیز کے وجود کے سبب۔ بخلاف اس کے جو پہلے گزرا ہے مطلب یہ ہوا کہ اگر میں نے تم پر دنیا میں قسم قسم کی نعمتوں کو عنایت کرنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ جس میں سے ایک یہ ہے کہ ہم مجرمین کو مہلت دیتے ہیں تاکہ توبہ کی طرف لوٹ آئیں اور آخرت میں ہم عفو و مغفرت کردیں۔ تو جس افک والی بات میں تم مبتلا ہوگئے تھے اس…
Read the full tafseer →14۔ ولولافضل اللہ علیکم ورحمتہ، ،، ، کا معنی خفتم ہے۔ فیہ ، اس میں برائی میں، عذاب عظیم، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ ان پر ایسا عذاب جو کبھی نہ ختم ہونے والا اس وجہ سے دنیا کے عذاب کو پہلے ذکر کیا پھر اخروی عذاب کو ذکر کیا۔ والذی تولی کبرہ منھم لہ عذاب عطیم، اور وہ عذاب ان کو پہنچ گیا کہ ان کو کورے مارے گئے اور حد لگائی گئی۔
روایات میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے چا ر آدمیوں پر حدقذف جاری کی عبداللہ بن ابی ، حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
11۔ 15:۔ حضرت عائشہ ؓ پر جو لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا تھا ‘ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں سات آٹھ صحابیوں کی روایت سے یہ قصہ آیا 1 ؎ ہے ‘ حاصل اس قصے کا یہ ہے کہ 6 ھ میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپسی کے وقت لشکر کے کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئیں ‘ وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا پوتھوں کا ہار گر پڑا یہ تو اس ہار کے ڈھونڈنے میں رہیں اور یہاں لشکر کا کوچ ہوگیا ‘ کوچ کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ ؓ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں ‘ اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا اور لشکر کے انٹوں کے ساتھ یہ خالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
قول باری ہے :( لو لا جائوا علیہ باربعۃ شھدآء فاذلم یاتوا بالشھدآء فاولئک عنداللہ ھم الکاذبون۔ ) وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں) چار گواہ کیوں نہ لائے، اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اس آیت نے دو باتیں واضح کردی ہیں۔ اول یہ کہ قاذف پر اگر وہ چار گواہ پیش نہ کرے حد واجب ہوگی۔ دوم یہ کہ زنا کے اثبات کے سلسلے میں چار سے کم گواہ قبول نہیں کیے جائیں گے۔ قول باری ہے : (فاذلم یاتوا بالشھدآء فاولئک عند اللہ ھم الکاذبون) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت بھی دو معنوں پر مشتمل ہے اول یہ کہ انہوں نے جب چار گواہ پیش نہ کیے تو ایجاب حد کے سلسلے میں عنداللہ ان پر جھوٹے ہونے کا حکم…
Read the full tafseer →23 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی رحمت نہ ہوتی تم لوگوں پر اور اس تواب و حکیم کی رحمت و عنایت کی برکت تم پر سایہ فگن نہ ہوتی تو یقینا تمہارا حال بہت برا ہوتا اور تم لوگوں کو بہت بڑا عذاب پہنچ کر رہتا کہ اس معاملے میں تم لوگ جس روش پر چل نکلے تھے اس کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ یہی تھا کہ تم لوگ اس طرح کے کسی ہولناک عذاب میں مبتلا ہوجاتے لیکن چونکہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت بھی دنیا و آخرت دونوں میں ہے اس لیے اس نے تم سے درگزر فرما لیا۔ سو اگر اس کی یہ رحمت نہ ہوتی۔ جو اس نے اپنے غفور و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت
تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2۔
جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔
(واقعہ افک)
رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…
Read the full tafseer →4 ۔ اگر مسئلہ عام مسلمان خاتون کا ہوتا تب بھی یہ بڑی بات تھی اور اب تو معاملہ اس خاتون کا تھا جو اللہ کے آخری رسول ﷺ کی بیوی اور امت کی ماں تھیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(24:14) افتضتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ افاضۃ (افعال) سے مصدر۔ تم نے پھیلایا۔ تم منتشر ہوئے۔ی ض مادہ۔ فاض الماء کے معانی کسی جگہ سے پانی کا اچھل کر باہر نکلنے کے ہیں۔ آنسووں کے بہنے کے لئے بھی آتا ہے مثلاً تری اعینہم تفیض من الدمع (5:83) تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔
فاض صدرہ بالسر بھید ظاہر کرنا۔ اور اسی سے افاضوا فی الحدیث کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی باتوں میں مشغول ہوجانے اور چرچا کرنے کے ہیں۔ پس لمسکم فیما افضتم فیہ کا ترجمہ ہوا : تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر عذاب عظیم نازل ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 :
افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 :
اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔
اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔
(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[16] فضل و کرم دنیا میں یہ کہ توبہ کی مہلت عطا ہوئی اور آخرت میں یہ کہ توبہ قبول ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
عائشہ عفیفہ ؓ کا المناک واقعہ !
(ف 1) ام المومنین حضرت عائشہ عفیفہ ؓ کی زبان سے واقعہ افک کی تفصیل سنئیے ۔
ارشاد فرماتی ہیں کہ میں حضور ﷺ کی معیت میں ایک عزوہ میں شریک ہوئی ، یہ عزوہ بنی المصطلق سے قبل کا واقعہ ہے پھر ہم واپس آئے ، مدینہ سے کچھ ادھر حضور ﷺ نے ایک منزل پر قیام کیا ، میں بھی محمل سے نیچے اتری اور قضائے حاجت کے لئے جیش نبوی ﷺ سے کچھ آگے نکل گئی جب لوٹ کر محمل تک پہنچی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہار کہیں گر گیا ، تلاش کی غرض سے پھر وہاں تک گئی اور ہار ڈھونڈتی رہی محمل والوں نے یہ سمجھا کہ میں محمل میں موجود ہوں اس لئے کہ میرا بوجھ کچھ زیادہ نہ تھا میں ان دونوں بالکل نوعمر اور ہلکے…
Read the full tafseer →(14) اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کررہے تھے اور جس شغل میں تم پڑے تھے اس کی وجہ سے تم پر کوئی بڑا سخت عذاب نازل ہوجاتا اور کسی بڑی سخت سزا میں مبتلا ہوجاتے یعنی اس کی عام مہربانی اور اس کے عام فضل کا صدقہ ہے کہ تم اے مسلمانو ! محفوظ رہے۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن مراد اس سے حمنہ حسان اور مسطح وغیرہ ہیں عبداللہ بن ابی منافق نہیں کیونکہ آخرت میں نہ وہ مستحق فضل ہے نہ وہ مستحق مہر
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ نے اس امت کو پیغمبر کے طفیل دنیا کے عذابوں سے بچایا ہے نہیں تو یہ بات قابل تھی عذاب کے۔ 12
Read the full tafseer →ف 6۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ صحابہ مقبول التوبہ اور پاک ہو کر آخرت میں مرحوم ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کا فضل ہوا کہ تم کو اس گناہ کی پاداش میں عذاب الہی نے فورا پکڑ نہ لیا :
22۔ نام کے تو وہ لوگ بھی مسلمان ہی تھے جنہوں نے اس طوفان کو اٹھایا اور پھر انہوں نے تو اٹھایا جو اٹھایا تم کو کیا ہوا کہ تم نے ان کو فورا پکڑ نہ لیا کہ جو کچھ تم نے کہا اس کو ثابت کرو اور پھر جب تم بھی یہ سب کچھ ہوتا دیکھ کر خاموش رہے تو اللہ کا خاص فضل ہی ہوا جس نے تم کو بھسم کر کے نہ رکھ دیا ورنہ ہدایت الہی آجانے کے بعد جو وطیرہ تم نے اختیار کیا اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم کو عذاب الہی ہاتھوں ہاتھ لیتا اور تمہارا نام ونشان مٹا کر رکھ دیتا کہ اتنی بڑی بات سن کر تم خاموش رہے اور یہ اللہ کی خاص رحمت تھی کہ تم سے اس نے…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
And had it not been for the grace of Allah upon you, and His mercy in this world and in the Hereafter, a great punishment would have reached you for what you got indulged in - 24:14.
This verse was revealed for those believers who had by mistake got somehow involved in the slander, but then repented and begged Allah's pardon. Some of them were even punished, but all of them were told through this verse that the crime they had committed was a very grave one, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
14.“With Allah”: In the sight of Allah or in the law of Allah, or according to the law of Allah. Obviously, in Allah’s knowledge, the accusation was by itself false and its falsehood was in no way dependent on the production of witnesses by the accusers.
Here nobody should have the misunderstanding that failure to bring witnesses is being regarded as the basis and argument to prove that the accusation was false, and that the Muslims are also being told to regard it as a manifest calumny only because the accusers did not bring four witnesses. This misunderstanding can arise if one does not…
Read the full tafseer →