Explained with ayahs 12–13
اخلاق و آداب کی تعلیم
ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المومنین کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔ ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا۔ حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب ؓ نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو حضرت عائشہ کی نسبت کہا جا رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور یہ یقینا جھوٹ ہے۔ ام ایوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
سورة النُّوْر 14
" اللہ کے نزدیک " یعنی اللہ کے قانون میں، اللہ کے قانون کے مطابق۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ کے علم میں تو الزام بجائے خود جھوٹا تھا، اس کا جھوٹ ہونا اس بات پر مبنی نہ تھا کہ یہ لوگ گواہ نہیں لائے ہیں۔
اس جگہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہاں الزام کے غلط ہونے کی دلیل اور بنیاد محض گواہوں کی غیر موجودگی کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اور مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم بھی صرف اس وجہ سے اس کو صریح بہتان قرار دو کہ الزام لگانے والے چار گواہ نہیں لائے ہیں۔ یہ غلط فہمی اس صورت واقعہ کو نگاہ میں نہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہے جو فی الواقع وہاں پیش آئی تھی۔ الزام لگانے والوں نے الزام اس وجہ سے نہیں…
Read the full tafseer →لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ ۚ فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بالشُّهَدَاۗءِ فَاُولٰۗىِٕكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ، اس آیت کے پہلے جملہ میں تو اس کی تلقین ہے کہ ایسی خبر مشہور کرنے والوں کے بارے میں مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ ان کی بات کو چلتا کرنے کے بجائے ان سے مطالبہ دلیل کا کرتے اور چونکہ تہمت زنا کے معاملے میں دلیل شرعی چار گواہوں کے بغیر قائم نہیں ہوتی اس لئے ان سے مطالبہ یہ کرنا چاہئے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس پر چار گواہ پیش کرو یا زبان بند کرو۔ دوسرے جملے میں فرمایا کہ جب وہ چار گواہ نہیں لا سکے تو اللہ کے نزدیک یہی لوگ جھوٹ ہیں۔
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ایسا…
Read the full tafseer →الزام کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کا مطالبہ
یعنی ان مفتریوں کی بات لائق اعتناء ہو سکتی تھی تو اس صورت میں ہو سکتی تھی جب یہ شریعت کے مقرر کردہ قانون کے مطابق اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ پیش کرتے۔ یہ امر واضح رہے کہ اس طرح کے الزام کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کی شہادت کا قانون اس سے بہت پہلے سورة نساء آیت 15 میں نازل ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان مفسدوں نے یہ الزام لگایا تھا تو ان کی شرعی اور قانونی ذمہ داری یہ تھی کہ یہ چار گواہ پیش کرتے لیکن جب وہ چار گواہ پیش نہ کرسکے تو خدا کے قانون کی رو سے تو وہی چھوٹے ہیں۔ پھر جن لوگوں نے ان کی طر سے ثبوت فراہم ہوئے بغیر ان کی بات باور کرلی، آخر کس سند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12-1یہاں سے تربیت کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جا رہا ہے جو اس واقعے میں مضمر ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل ایمان ایک جان کی طرح ہیں، جب حضرت عائشہ پر تہمت طرازی کی گئی تو تم نے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے فورا ! اس کی تردید کیوں نہ کی اور اسے بہتان صریح کیوں قرار نہیں دیا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
9: یہاں سے آیت نمبر 26 تک جس واقعے کی طرف اشارہ ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اسلام کو جو تیز رفتار فروغ حاصل ہوا، اس پر کفر کی طاقتیں دانت پیس رہی تھیں۔ خود مدینہ منورہ میں ان منافقوں کا ایک گروہ موجود تھا جو زبان سے تو اسلام لے آئے تھے، لیکن ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے خلاف کینہ بھرا ہوا تھا، اور وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع چھوڑتے نہیں تھے۔ اسی زمانے میں غزوہ بنو المصطلق پیش آیا جس میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا تو حضرت عائشہ کا ایک ہار گم ہوگیا، اور وہ اس کی تلاش میں جنگل کی طرف نکل گئیں۔ آنحضرت ﷺ کو اس واقعے کا علم…
Read the full tafseer →(لولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم الکذبون) (24 : 13) ” یہ افتراء جس نے نہایت ہی بلند مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ‘ پاک ترین لوگوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اسے تو اس قدر آسان اور سہل نہ سمجھنا چاہیے تھا۔ بغیر ثبوت کے اس کی اشاعت کیوں ہوئی اور کیوں اس قدر چرچا ہوا۔ کیوں یہ نقل درنقل ہوتی رہی بغیر شہادت کے ۔ اس الزام کے حق میں تو کوئی شہادت نہ تھی لہٰذا سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ جھوٹ بکا جارہا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ حقیقت واقعہ کے مطابق جھوٹے ہیں اور اللہ کا فیصلہ اور اللہ کا حکم تو بدلتا نہیں۔ اس لیے یہ ان لوگوں کی اب دائمی صفت ہے جنہوں نے افتراء میں حصہ لیا اور یہ کبھی بھی اس کے نتائج سے بچ کر…
Read the full tafseer →8 یعنی اللہ کے حکم اور اس کی شریعت کے موافق وہ لوگ جھوٹے قرار دیے گئے ہیں۔ جو کسی پر بدکاری کی تہمت لگا کر چار گواہ پیش نہ کرسکیں اور بدون کافی ثبوت کے ایسی سنگین بات زبان سے بکتے پھریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت 13 لَوْلَا جَآءُ وْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ ج“
اس طرح کے الزام کے ثبوت کے لیے چار گواہ پیش کرنے کا حکم اس سے پہلے سورة النساء ‘ آیت 15 میں نازل ہوچکا تھا سورۃ النساء 4 ہجری میں نازل ہوچکی تھی۔ چناچہ ان لوگوں کے لیے لازمی تھا کہ چار گواہ پیش کرتے ورنہ خاموش رہتے۔
فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓءِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ ”
چار گواہوں کی عدم موجود گی میں اسلامی قانون کے مطابق وہ لوگ جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →17 یہ اس واقعہ کا قانونی پہلو ہے کہ ایسی شہادتیں جو بدکاری پر دلالت کرتی ہوں وہ کبھی میسر آبھی نہ سکتیں تھی۔ کیونکہ قرائن سب کے سب خلاف تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ پیچھے رہ جانے والی کوئی عام عورت نہ تھیں بلکہ تمام مسلمانوں کی ماں ہے اور پیچھے سے آنے والا بھی پکا مسلمان ہے جو انھیں فی الواقعہ اپنی ماں ہی سمجھتا ہے۔ ماں اس سے پردہ بھی کرلیتی ہے اور وہ آپس میں نہ اس وقت ہمکلام ہوتے ہیں اور نہ پورے دوران سفر۔ اور یہ سفر صبح سے لے کر دوپہر تک دن دیہاڑے ہو رہا ہے۔ عورت اونٹ پر سوار ہے اور مرد خاموش آگے آگے چل رہا ہے۔ تاآنکہ وہ مسلمان کے لشکر سے جاملتا ہے۔ ایسے حالات میں بدگمانی کی محرک صرف دو ہی باتیں…
Read the full tafseer →23۔ قرآن نے یہاں اس ضابطہ کی تعلیم دے دی کہ پہلے مسلمان سے متعلق ہر روایت کے وقت حسن ظن ہی سے کام لیتے رہنا چاہیے۔ تاآنکہ اس کے خلاف کوئی قطعی شہادت اور کافی ثبوت نہ مل جائے، نفی الزام کے لیے صرف عدم ثبوت وعدم شہادت کافی ہے۔ ثبوت عدم، شہادت عدم کی ضرورت ہرگز نہیں۔ یہ تو عام مسئلہ ہوا۔ باقی خود حضرت صدیقہ ؓ کی صفائی میں تو اب شہادت قرآنی مہیا ہوگئی۔ جس سے اونچی کوئی اور شہادت ممکن ہی نہیں۔ اب حضرت صدیقہ ؓ کی عصمت میں شک کرنا قرآن میں شک کرنے کے مرادف ہوگا۔” مطلب یہ کہ اصل امر نزاہت ہے۔ جب تک اس کا یقین رافع نہ ہو اسی کا یقین شرعا واجب ہے۔ لان الیقین لایزول بالشک الا بیقین مثلہ۔ بس اسی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…
Read the full tafseer →لو لا جآء وا علیہ باربعۃ شہدآء اپنے قول کے ثبوت کے لئے چار گواہ کیوں نہیں لائے کہ ان کی
شہادت کے بعد حد زنا جاری کی جاتی۔
فاذ لم یاتوا بالشہدآء فاولئک عنداللہ ہم الکذبون۔ پس جب گواہ نہ لائے تو اللہ کے نزدیک
یہی لوگ جھوٹے ہیں کہ انہوں نے جو زنا کی خبر کا تذکرہ کیا وہ بہ نیت ثواب کیا (اللہ کی قائم کی ہوئی حد جاری کرانے کی کوشش باعث ثواب ہے) اگر کوئی کسی پر زنا کا الزام قائم کرے اور اتنے گواہ بھی پیش کر دے جو زنا کی سزا جاری کرنے کے لئے کافی ہوں تو ممکن ہو اس کی نیت بخیر ہو وہ اللہ کی نافرمانی سے لوگوں کو روکنا چاہتا ہو لیکن ضروری شہادت پیش نہ کرسکے تو اس صورت میں کسی پر زنا کا الزام لگانے کا…
Read the full tafseer →(13) یہ جھوٹے لوگ اپنے اس قول پر چار عادل گواہ کیوں نہ لائے جو ان کی تصدیق کرتے، سو جس حالت میں یہ لوگ گواہ قاعدہ مطابق نہیں لائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ۔۔ : ام المومنین عائشہ ؓ پر بہتان لگانے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دعویٰ پر چار گواہ کیوں نہیں لائے، تو جب وہ اس کے گواہ نہیں لائے تو وہی اللہ کے ہاں کامل جھوٹے ہیں۔ ابن عاشور نے اس کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے : ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص دیکھے بغیر کوئی خبر دے اسے لازم ہے کہ وہ مشاہدہ کرنے والے کا حوالہ دے اور وہ مشاہدہ کرنے والے اتنی تعداد میں ہونے ضروری ہیں کہ اس قسم کے واقعہ میں اتنی تعداد سے سچ کا یقین حاصل ہوجائے۔ (یہ تعداد زنا کے لیے کم از کم چار ہے) اب ان لوگوں نے جو اُمّ المومنین پر تہمت باندھی تو ان میں سے کسی نے بھی نہ دیکھا اور نہ اتنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے بعض انصار سے روایت کیا کہ ابوایوب ؓ کی بیوی نے اس انصاری سے کہا جب تہمت لگانے والوں نے جو کہا کیا تو نے نہیں سنا جو لوگ عائشہ ؓ کے بارے میں کہتے ہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں سنا اور وہ سب جھوٹ ہے کیا تو اے ام ایوب ایسا کرسکتی ہے۔ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! انصاری نے کہا عائشہ ؓ اللہ کی قسم ! تجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ پاکیزہ ہیں بلاشبہ یہ جھوٹ ہے۔ اور باطل بہتان ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے والوں کا ذکر کیا اور جو انہوں نے کہا تھا اس کا ذکر کیا پھر فرمایا آیت ” لو لا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنت…
Read the full tafseer →لَوْلَا [ کیوں نہیں ] جَاۗءُوْ [ وہ لوگ آئے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ ۚ [ چار گواہوں کے ساتھ ] فَاِذْ [ پھر جب ] لَمْ يَاْتُوْا [ وہ لوگ نہیں آئے ] بِالشُّهَدَاۗءِ [ گواہوں کے ساتھ ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ہیں کہ ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] هُمُ الْكٰذِبُوْنَ [ وہی جھوٹے ہیں ]
Read the full tafseer →(لَوْلاَ جَاءُوا عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَاءَ ) (یہ لوگ اپنی بات پر چار گواہ کیوں نہ لائے) (فَاِِذْ لَمْ یَاْتُوا بالشُّہَدَاءِ فَاُوْلٰٓءِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ھُمُ الْکَاذِبُوْنَ ) (سو جب وہ گواہ نہ لائیں تو اللہ کے نزدیک یعنی اس کے نازل فرمودہ قانون شرعی کے اعتبار سے جھوٹے ہیں) اس میں تہمت لگانے والوں کو تنبیہ ہے کہ بن دیکھے ایک مسلمان مرد اور ایک مسلمان عورت پر تہمت لگا رہے ہیں، جو لشکر سے پیچھے رہ گئے کیا لشکر سے پیچھے رہ جانا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی طرف بری بات منسوب کی جائے نہ خود دیکھا اور نہ کسی اور شخص نے گواہی دی بس برائی کی تہمت لگا کر اچھالنا شروع کردیا ان کا جھوٹا ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →14:۔ ” لولا جاء وا الخ “ یہ عام مسلمانوں پر زجر ہے تہمت لگانے والوں نے چار گواہ پیش کیوں نہیں کیے ؟ جب وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکے تو ظاہر ہے کہ وہ جھوٹے ہیں لہذا اے ایمان والو تمہارا فرض تھا کہ تم یہ غلط بات سنتے ہی اعلان کردیتے کہ یہ سراسر جھوٹی تہمت ہے اور اس میں سچائی کا شائبہ تک نہیں مگر اس کے باوجود تم نے خاموشی اختیار کی۔ وھذا توبیخ و تعنیف للذین سمعوا الفک و لم یجدوا فی دفعہ وانکارہ الخ (بحر ج 6 ص 438) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات :
پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حدزنا ، حد قذف اور لعان کا ذکر فرمایا اب اگلے دو رکوع میں اس بہتان کا ذکر فرمایا ہے۔ جو منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر باندھا تھا۔ اللہ نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے ، اور مسلمانوں کی جماعت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ آئندہ اس قسم کی کاروائی میں ملوث نہ ہوں۔ افک کا معنی صریح گھڑا ہوا جھوٹ ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے یہ واقعہ اس سفر کے دوران پیش آیا تھا جب حضور ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ہمراہ قبیلہ بنی المصطلق کے خلاف جہاد کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہ 6 ھ کا واقعہ ہے ۔ یہ بڑا وسیع قبیلہ تھا اور لوگ بڑے…
Read the full tafseer →لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَاۗءَ 0ۚ فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بِالشُّہَدَاۗءِ فَاُولٰۗىِٕكَ عِنْدَ اللہِ ہُمُ الْكٰذِبُوْنَ 13
شهد
وشَهِدْتُ يقال علی ضربین :
أحدهما
جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول :
أشهد . والثاني يجري مجری القسم،
فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما،
( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ
شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔
( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
1 ؎ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جبکہ وہ اپنا گلوبند تلاش کرتی ہوئیں ایک سفر میں پیچھے رہ گئیں اور قافلہ کے اخیر میں صفوان ؓ تھے ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر کے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے لائے اس بات سے چند لوگوں نے جو بظاہر مسلمان تھے طوفان باندھ لیا اور زنا کی تہمت لگا کر اس کا عام چرچا کردیا اس قصہ کی طرف جابجا اس سورة میں اشارہ ہے۔ 12 منہ
ترکیب : عصبہ منکم خبران و منکم اس کی لغت کبر بالکسر معظمہ وبالضم، من قولھم الولالکبر ای اکبر ولد الرجل۔ اذ تلقونہ کا عامل مسکم۔ بہتان کے متعلق۔
تفسیر : ایک واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو ایک عبرت کا واقعہ ہے۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ افک یعنی بہتان کہ جس…
Read the full tafseer →لَوْلاَ جَآئُ وْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآئَ ج فَاِذْلَمْ یَاْ تُوْا بِالشُّھَدَآئِ فَاُوْلٰٓئِکَ عِنْدَاللّٰہِ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ ۔ (النور : 13)
(وہ لوگ اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ )
شہادت ہی اصل ثبوت ہے
ذہن میں اس بات کو تازہ کیجیے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) ایک غلط فہمی کے باعث قافلے سے پیچھے رہ گئیں۔ حضرت صفوان ( رض) اپنے معمول کے مطابق قافلے کے بعد قافلے کے سامان کی دیکھ بھال کرتے ہوئے وہاں پہنچے۔ انھوں نے جیسے ہی آپ کو دیکھا، نہایت تاسف کا اظہار کیا، خاموشی سے قریب لا کر اونٹ بٹھایا، آپ ( رض) اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مسلمانوں کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ تہمت لگانے والے سے ثبوت طلب کریں۔
کسی پاکدامن مرد یا عورت پر تہمت لگ جائے تو مومنوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اس تہمت پر یقین کرنے اور اسے آگے بڑھانے کی بجائے تہمت لگانے والے سے چار گواہوں کا مطالبہ کریں اگر وہ شریعت کے مقرر کردہ معیار اور ضابطے کے مطابق چار گواہ پیش نہیں کرتا تو وہ شریعت کی نظر میں جھوٹا ہے۔ اس پر عدالت کی ذمہ داری ہوگی کہ ایسے شخص کو مجمع عام میں اسّی (80) کوڑے لگوائے تاکہ اس کی زبان درازی کی اسے ٹھیک ٹھیک سزا مل سکے اور مسلمانوں کی عزت و حرمت ایک دوسرے سے محفوظ رہے۔ کیونکہ یہ واقعہ صحابہ…
Read the full tafseer →13: لَوْلا جَآئُ وْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآ ئَ (اور وہ کیوں نہ لائے اس پر چار گواہ) اس تہمت پر اگر وہ سچے تھے۔ فَاِذْلَمْ یَاْتُوْا بِالشُّھَدَآئِ (پس جب وہ گواہ نہیں لائے) چار فَاُولٰٓئِکَ عِنْدَ اللّٰہِ (پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں) اس کی شریعت و حکم میں ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (وہ وہی جھوٹے ہیں) یعنی تہمت لگانے والے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سچے اور جھوٹے الزام میں چار گواہوں کی گواہی کو سچ و جھوٹ کے مابین فیصلہ کرنے والی قراردیا۔ اور اس کے انتفاء کو الزام کی نفی قرار دیا حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگانے والوں کے پاس اپنی بات کی کوئی دلیل نہ تھی پس وہ جھوٹے تھے۔
Read the full tafseer →13۔ لولاجاء وا علیہ باربعۃ شھدائ۔ جیسا کہ انہوں نے گمان کیا، فاذلم یاتوابالشھداء فاولئک عنداللہ ھم الکاذبون۔
سوال : وہ اللہ کے نزدیک کیسے جھوٹے ہوسکتے ہیں جبکہ انہوں نے گواہ قائم نہیں کیے حالانکہ اللہ کے نزدیک جھوٹاشخص تو جھوٹا ہی ہے خواہ وہ گواہ قائم کرے یاگواہ قائم نہ کرے ؟
جواب : اللہ کے نزدیک مطلب ہے کہ اللہ کے فیصلے میں۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اللہ کے حکم کو جھٹلایا ہے بعض نے کہا کہ یہ حضرت عائشہ کے حق میں ، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ سب جھوٹے ہیں غیبت کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ وہ اصل حقیقت کو نہیں جانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
11۔ 15:۔ حضرت عائشہ ؓ پر جو لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا تھا ‘ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں سات آٹھ صحابیوں کی روایت سے یہ قصہ آیا 1 ؎ ہے ‘ حاصل اس قصے کا یہ ہے کہ 6 ھ میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپسی کے وقت لشکر کے کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئیں ‘ وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا پوتھوں کا ہار گر پڑا یہ تو اس ہار کے ڈھونڈنے میں رہیں اور یہاں لشکر کا کوچ ہوگیا ‘ کوچ کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ ؓ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں ‘ اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا اور لشکر کے انٹوں کے ساتھ یہ خالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
قول باری ہے :( لو لا جائوا علیہ باربعۃ شھدآء فاذلم یاتوا بالشھدآء فاولئک عنداللہ ھم الکاذبون۔ ) وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں) چار گواہ کیوں نہ لائے، اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اس آیت نے دو باتیں واضح کردی ہیں۔ اول یہ کہ قاذف پر اگر وہ چار گواہ پیش نہ کرے حد واجب ہوگی۔ دوم یہ کہ زنا کے اثبات کے سلسلے میں چار سے کم گواہ قبول نہیں کیے جائیں گے۔ قول باری ہے : (فاذلم یاتوا بالشھدآء فاولئک عند اللہ ھم الکاذبون) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت بھی دو معنوں پر مشتمل ہے اول یہ کہ انہوں نے جب چار گواہ پیش نہ کیے تو ایجاب حد کے سلسلے میں عنداللہ ان پر جھوٹے ہونے کا حکم…
Read the full tafseer →22 اپنے الزام پر گواہ نہ پیش کرنے والے جھوٹے ہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب یہ لوگ اپنے الزام پر حسب ضابطہ چار گواہ نہیں لاسکے تو یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ پس جو لوگ اپنی بات پر قانونی گواہی کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے وہی جھوٹے ہیں۔ اس میں ان لوگون کیلئے سخت زجرو توبیخ ہے جنہوں نے اس قصے کو سنتے ہی اسے افتراء و بہتان قرار دینے کی بجائے اس کا آگے چرچا کیا کہ جو شخص ایسے معاملے میں چار گواہ نہیں پیش کرسکے گا وہ قطعی طور پر جھوٹا ہے اگرچہ وہ واقعے کا عینی شاہد ہی کیوں نہ ہو۔ تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کے پاس نہ چار گواہ اور نہ ہی امر واقع کا ذاتی علم و مشاہدہ کہ اصل حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت
تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2۔
جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔
(واقعہ افک)
رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…
Read the full tafseer →3 ۔ ” اللہ کے نزدیک “ یعنی اللہ کے قانون کے مطابق جسے اسلامی عدالت نافذ کرتی ہے ورنہ اللہ کے علم میں تو وہ جھوٹے ہی تھے اس لئے جھوٹا جاننے کے لئے چار گواہوں کی ضرورت نہ تھی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(24:13) علیہ۔ ای علی القذف۔ اپنی تہمت کے ثبوت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 :
افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 :
اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔
اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔
(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل…
Read the full tafseer →[15] کیونکہ قرائن (Circumstantialevidence) جن پر ظالموں نے الزام کی بنیاد رکھی تھی واقعہ کے خلاف تھے اس لئے الزام صرف چشم دید شہادت پر ہی لگایا جاسکتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
مسئلہ لعان :
(ف 1) اس آیات میں مسئلہ لعان کی تفصیل بیان کی ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے کردار کے متعلق شبہات وشکوک کا اظہار کرے اور عورت برات کرے ، مرد یہ کہے کہ یہ فاحشہ اور زانیہ ہے اور عورت کہے کہ میں اس الزام سے پاک ہوں (تو صورت فیصلہ کیا ہو ؟ )
قرآن کہتا ہے کہ دونوں حاکم وقت یا اسلامی ہئیت حاکم کے سامنے چار دفعہ خدا کی قسم کھا کر یہ کہیں کہ وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں ، اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر لعنت بھیجیں ، اگر واقعات کی رو سے جھوٹے ہوں ، تو پہلے مرد کھڑا ہو اور وہ الزام کو بیان کرے ، اور چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے ، اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹ کہتا…
Read the full tafseer →(13) جو لوگ اس طوفان بندی اور قذف کے مرتکب ہوئے وہ اپنے دعویٰ پر چار گواہ کیوں نہ لائے پھر جب کہ وہ چار گواہ نہ لاسکے تو بس یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں یعنی جب چار گواہوں کی شہادت قانون الٰہی میں نازل ہوچکی تو اب مدعی اگر خود بھی معائنہ کرے تب بھی اس کو چار عینی شاہدوں کی شہادت دلیل کے طور پر پیش کرنی ہوگی ورنہ حدقذف کا مستحق ہوگا۔ لہٰذا ان لوگوں کو قانون الٰہی کے مطابق شہادت پیش کرنی تھی اور جب یہ شاہد نہیں لاسکتے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یعنی اس کے قانون کے مطابق یہ لوگ جھوٹے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چاہئے مسلمان کو کہ جب لوگ ایک نیک شخص کو بری تہمتیں لگادیں ان کو جھٹلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 4۔ یعنی حضرت صدیقہ اور ان صحابی کے ساتھ دل سے گمان نیک کیوں نہ کیا۔
Read the full tafseer →الزام کے ثبوت کے لئے ان سب سے ثبوت طلب کیا جا رہا ہے :
21۔ تعجب ہے کہ تم سے ایسی غلطی کیوں ہوئی تمہارے پاس مدت سے ایک قانون موجود تھا کہ جو شخص کسی پر ایسا الزام لگائے جیسا کہ یہاں لگایا گیا تو اس کے ثبوت کے لئے چار گواہ پیش کرے (آیت) ” والتی یاتین الفاحشۃ من نسآء کم فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم “۔ (4 : 10) جب تم نے اس خبر کو سنا تھا تو تم میں سے ہر ایک کا یہ فرض تھا کہ ملزم سے اس امر کا مطالبہ کرتا کہ وہ اس کو عدالت میں باقاعدہ ثابت کرے ، نظام قائم ہوچکا تھا اس لئے یہ کافی تھا کہ تم اس کی طرف رجوع کرتے اور اس سے چار عینی گواہ طلب کرتے پھر جو شخص اس الزام کے ثبوت میں گواہ نہیں لاسکتا اور اس کے…
Read the full tafseer →لَّوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَـٰئِكَ عِندَ اللَّـهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ
Why did they (the accusers) not bring four witnesses to prove this? So, as they did not bring the witnesses, they are the liars in the sight of Allah - 24:13.
In the first sentence of this verse it is emphasized that the Muslims should have demanded to produce evidence from those who were spreading this rumor, instead of becoming instrumental in passing on the rumor to others. Since the accusation of adultery cannot be proved without the production of four…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
14.“With Allah”: In the sight of Allah or in the law of Allah, or according to the law of Allah. Obviously, in Allah’s knowledge, the accusation was by itself false and its falsehood was in no way dependent on the production of witnesses by the accusers.
Here nobody should have the misunderstanding that failure to bring witnesses is being regarded as the basis and argument to prove that the accusation was false, and that the Muslims are also being told to regard it as a manifest calumny only because the accusers did not bring four witnesses. This misunderstanding can arise if one does not…
Read the full tafseer →