Explained with ayahs 12–13
اخلاق و آداب کی تعلیم
ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المومنین کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔ ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا۔ حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب ؓ نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو حضرت عائشہ کی نسبت کہا جا رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور یہ یقینا جھوٹ ہے۔ ام ایوب…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 13
یعنی یہ بات تو قابل غور تک نہ تھی۔ اسے تو سنتے ہی ہر مسلمان کو سراسر جھوٹ اور کذب و افتراء کہہ دینا چاہیے تھا۔ ممکن ہے کوئی شخص یہاں یہ سوال کرے کہ جب یہ بات تھی تو خود رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق نے اسے کیوں نہ اول روز ہی جھٹلا دیا اور کیوں انہوں نے اسے اتنی اہمیت دی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شوہر اور باپ کی پوزیشن عام آدمیوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک شوہر سے بڑھ کر کوئی اپنی بیوی کو نہیں جان سکتا اور ایک شریف و صالح بیوی کے متعلق کوئی صحیح الدماغ شوہر لوگوں کے بہتانوں پر فی الواقع بد گمان نہیں ہو سکتا، لیکن اگر اس کی بیوی پر الزام لگا دیا جائے تو وہ اس مشکل میں…
Read the full tafseer →لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤ ْمِنُوْنَ وَالْمُؤ ْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَيْرً آ وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ، یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس تہمت کی خبر سنی تھی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے بارے میں یعنی اپنے مسلمان بھائی بہن کے بارے میں نیک گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلا جھوٹ ہے۔ اس آیت میں کئی چیزیں قابل غور ہیں اول یہ کہ بِاَنْفُسِهِمْ کے لفظ سے قرآن کریم نے یہ اشارہ کیا کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو بدنام و رسوا کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی کو رسوا کرتا ہے کیونکہ اسلام کے رشتہ نے سب کو ایک بنادیا ہے۔ قرآن کریم نے ایسے تمام مواقع میں یہ اشارہ استعمال…
Read the full tafseer →اسلامی معاشرہ کا اخلاقی اصول
اسلامی معاشرے میں ہر مسلمان مرد و عورت کا یہ حق ہے کہ دوسرے افراد معاشرہ ان کے بارے میں حسنظن رکھیں اور اس وقت تک ان کے اس حق کا احترام کریں جب تک دلیل سے یہ ثابت نہ ہوجائے کہ وہ اس حسن ظن کے حق دار باقی نہیں رہے۔ اس حق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے بارے میں کسی مسلمان کے کان میں کوئی ایسی بات پڑے جو اس حسن ظن کو محروم کرنے والی ہو تو ہم اس کو ایک سوغات سمجھ کر پورا قبول نہ کرلے اور اس کی نقل و روایت نہ شروع کر دے بلکہ اس کو رد کر دے اور اس وقت تک اس کو باور نہ کر یجب تک اس کے سامنے اس کا کوئی معقول ثبوت نہ آجائے۔ اس طرح کے معاملات میں غیر جانبداری کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
12-1یہاں سے تربیت کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جا رہا ہے جو اس واقعے میں مضمر ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل ایمان ایک جان کی طرح ہیں، جب حضرت عائشہ پر تہمت طرازی کی گئی تو تم نے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے فورا ! اس کی تردید کیوں نہ کی اور اسے بہتان صریح کیوں قرار نہیں دیا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
9: یہاں سے آیت نمبر 26 تک جس واقعے کی طرف اشارہ ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اسلام کو جو تیز رفتار فروغ حاصل ہوا، اس پر کفر کی طاقتیں دانت پیس رہی تھیں۔ خود مدینہ منورہ میں ان منافقوں کا ایک گروہ موجود تھا جو زبان سے تو اسلام لے آئے تھے، لیکن ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے خلاف کینہ بھرا ہوا تھا، اور وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع چھوڑتے نہیں تھے۔ اسی زمانے میں غزوہ بنو المصطلق پیش آیا جس میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا تو حضرت عائشہ کا ایک ہار گم ہوگیا، اور وہ اس کی تلاش میں جنگل کی طرف نکل گئیں۔ آنحضرت ﷺ کو اس واقعے کا علم…
Read the full tafseer →(لولآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبین) (24 : 12) ” جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے ؟ “ ہاں یہ درست ہے کہ اہل ایمان سنتے ہی یہ کہہ دیتے۔ وہ اپنے بھائیوں کے بارے میں حسن ظن سے کام لیتے تو یہ ان کے لیے اچھا ہوتا۔ اور یہ فرض کرلیتے کہ ایک مسلمان اس قدر گندے کام میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ پھر اس کے نبی کی پاک بیوی اور ان کے بھائی مسلم۔ یہ تو خود ان میں سے تھے۔ نہ حضرت نبی ﷺ کی حریم اور نہ اس صحابی کے ساتھ یہ بات لائق تھی جو انہوں نے سنی۔ ان کو حسن ظن کا معاملہ رکھنا چاہیے تھا جیسا کہ ابو ایوب خالد ابن زید…
Read the full tafseer →7 مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی بہنوں کے ساتھ حسن ظن رکھے۔ اور جب سنے کہ لوگ ایک نیک شخص پر یوں ہی رجماً بالغیب بری تہمتیں لگاتے ہیں تو اپنے دل میں ایسے خیالات کو راہ نہ دے بلکہ ان کو جھٹلائے۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی پیٹھ پیچھے بھائی مسلمان کی مدد کرے۔ اللہ پیٹھ پیچھے اس کی مدد کرے گا۔ بےتحقیق تہمتیں تراشنا ایمان سے بعید ہے۔ چاہیے کہ آدمی خود اپنی آبرو پر دوسروں کی آبرو کو قیاس کرلے۔ جیسا کہ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ وغیرہ نے قصہ " افک " میں کیا۔ ایک روز ان کی بیوی نے کہا کہ لوگ عائشہ صدیقہ کی نسبت ایسا کہتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جھوٹے ہیں۔ کیا ایسا کام تو کرسکتی ہے ؟ بولی ہرگز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْط بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ط“
یہ واقعہ گویا اللہ تعالیٰ کے بہت سے احکام اور قوانین کے نزول کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اسی کی وجہ سے امت کو شریعت کے اہم امور کی تعلیم دی جائے گی۔ اس واقعہ کا خلاصہ یوں ہے :
6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ غزوۂ بنی مصطلق کے لیے تشریف لے گئے۔ اس سفر میں حضرت عائشہ رض آپ ﷺ کے ہمراہ تھیں۔ آپ رض ایک الگ ہودج کجاوہ میں سفر کرتی تھیں۔ واپسی کے سفر کے دوران ایک جگہ جب قافلے کا پڑاؤ تھا آپ رض صبح منہ اندھیرے قضائے حاجت کے لیے گئیں۔ واپسی آپ رض کا ہار کہیں گرگیا اور اس کی تلاش میں آپ رض کو اتنی دیر ہوگئی کہ قافلے کے کوچ کا وقت ہوگیا۔ جن لوگوں کو آپ رض کا…
Read the full tafseer →15 اس واقعہ افک کی پوری روئیداد خود حضرت عائشہ ؓ کی زبانی سنئے۔
حضرت عائشہ ؓ نے (خود اپنا واقعہ افک یوں) بیان کیا کہ آپ کی عادت تھی کہ جب آپ سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے۔ قرعہ میں جس بی بی کے نام قرعہ نکلتا اسے آپ ساتھ لے جاتے۔ چناچہ آپ نے ایک غزوہ (بنی مصطلق) میں قرعہ ڈالا جو میرے نام نکلا۔ پس میں آپ کے ساتھ روانہ ہوگئی اور یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ میں ایک ہودے سوار رہتی اور جب اترتی تو ہودہ سمیت اتاری جاتی۔ ہم اس طرح سفر کرتے رہے جب آپ اس غزوہ سے فارع ہوئے اور سفر سے لوٹے تو ہم لوگ مدینہ کے نزدیک آن پہنچے۔ ایک رات کوچ کا حکم ہوا یہ حکم سن کر اٹھی اور پیدل…
Read the full tafseer →22۔ یعنی ایک صحابی رسول ﷺ حضرت صفوان ؓ اور ایک زوج رسول اللہ ﷺ کے حق میں۔ (آیت) ” انفسھم “۔ کا لفظ اس موقع پر لاکر قرآن مجید نے ایک تازہ سبق امت کو احساس وحدت کا دے دیا۔ امت کے ہر فرد کو دوسرے فرد کی بدنامی اسی طرح محسوس ہونی چاہیے جیسی خود اپنی رسوائی۔ انہ جعل ال مومنین کالنفس الواحدۃ فی مایجری علیھا من الامور فاذا جری علی احد مکروہ فکانہ جری علی جمیعھم (کبیر) (آیت) ” ال مومن ون “۔ مثلا حسان ومسطح ؓ ۔ (آیت) ” ال مومنت “۔ مثلا حمنہ ؓ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…
Read the full tafseer →لولا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنت بانفسہم خیرا جب تم لوگوں نے یہ بات سنی
تو مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں نے اپنے (یعنی اپنے بھائیوں کے) متعلق نیک گمان کیوں نہیں کیا۔
اِذْ سَمِعْتُمُوْہُیعنی جب تم نے یہ خبر سنی تھی تو اپنے دینی بھائیوں کے متعلق نیک گمان کیوں نہیں رکھتا۔ دوسرے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو۔ اَنْفُسِہِمْ (یعنی اپنی ذات) سے تعبیر کیا کیونکہ تمام مؤمن بلکہ ہر مذہب کے علمبردار آپس میں ایک ذات کی طرح ہوتے ہیں۔ بعض دوسری آیات میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے لاَ تَلْمِزُوْا اَنْفُسَکُمْ ۔ لاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ ۔ سَلِّمُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْوغیرہ آیت میں تنبیہ ہے اس…
Read the full tafseer →(12) جب تم لوگوں نے یہ طوفان سنا تھا تو مسلمان مردوں یعنی مسطح اور مسلمان عورتوں یعنی حمنہ نے اپنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ گمان نیک کیوں نہ کیا جیسا کہ تم اپنی ماؤں کے ساتھ گمان کرتے ہو اور زبان سے صاف طور پر یوں کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا جھوٹ ہے۔
Read the full tafseer →لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَيْرًا : بظاہر یوں کہنا چاہیے تھا کہ ”کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو تم نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا“ اس کے بجائے فرمایا : ”کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے نفسوں میں اچھا گمان کیا“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تہمت کو سچا سمجھنے والے مرد اور عورتیں دونوں تھے، اس لیے دونوں کو متنبہ کرنے کے لیے خاص طور پر ان کے مومن ہونے کا ذکر فرمایا کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ کسی تہمت کی وجہ سے کسی مومن کے متعلق اپنے دل میں برا گمان نہ آنے دیا جائے۔
3 اس آیت کے تین مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ایسا کیوں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–23
آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے بعض انصار سے روایت کیا کہ ابوایوب ؓ کی بیوی نے اس انصاری سے کہا جب تہمت لگانے والوں نے جو کہا کیا تو نے نہیں سنا جو لوگ عائشہ ؓ کے بارے میں کہتے ہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں سنا اور وہ سب جھوٹ ہے کیا تو اے ام ایوب ایسا کرسکتی ہے۔ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! انصاری نے کہا عائشہ ؓ اللہ کی قسم ! تجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ پاکیزہ ہیں بلاشبہ یہ جھوٹ ہے۔ اور باطل بہتان ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے والوں کا ذکر کیا اور جو انہوں نے کہا تھا اس کا ذکر کیا پھر فرمایا آیت ” لو لا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنت…
Read the full tafseer →لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ [ جب تم لوگوں نے سنا اس (بہتان) کو ] ظَنَّ [ تو خیال کیا ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ مومنوں نے ] وَالْمُؤْمِنٰتُ [ اور مومنات نے ] بِاَنْفُسِهِمْ [ اپنی جانوں (یعنی اپنے لوگوں) پر ] خَيْرًا ۙ [ بھلائی کا ] وَّقَالُوْا [ اور (کیوں نہیں) کہا ] ھٰذَآ [ یہ ] اِفْكٌ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا بہتان ہے ]
نوٹ ۔ 1: واقعہ افک کی نوعیت یہ ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق ہے واپسی میں فوج نے شب میں کہیں پڑاؤ ڈالا۔ فوج کے کوچ سے پہلے بی بی عائشہ ؓ ضرورت سے باہر نکلیں۔ اتنے میں کوچ کا حکم ہوگیا اور قافلہ روانہ ہوگیا۔ بی بی عائشہ ؓ کا ساربان بھی یہ سمجھ کر روانہ ہوگیا کہ وہ اپنے ہو وج…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (لَوْلاَ اِِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاَنفُسِہِمْ خَیْرًا وَّقَالُوْا ھٰذَا اِِفْکٌ مُّبِیْنٌ) (جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی جانوں کے بارے میں یہ گمان کیوں نہ کیا کہ یہ بات صریح جھوٹ ہے) اس میں ان مسلمانوں مردوں اور عورتوں کو بھی نصیحت ہے جو عبداللہ بن ابی کی باتوں میں آکر تہمت والی بات میں ساتھ لگ لیے تھے اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو بات سن کر چپ رہ گئے یا شک میں پڑگئے یعنی سب پر لازم تھا کہ نیک گمان کرتے اور بات سنتے ہی یوں کہہ دیتے کہ یہ صاف اور صریح جھوٹ ہے اس میں یہ بتادیا کہ جب کسی مومن مرد عورت پر تہمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت
و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین
قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…
Read the full tafseer →13:۔ ” لو لا اذ سمعتموہ الخ “ یہ تیسرے گروہ پر زجر ہے۔ ” قالوا ظن “ پر معطوف ہے یعنی جب تم نے یہ تہمت سنی تو اس وقت تم نے تمام مردوں اور عورتوں کے بارے میں حسن سے کیوں کام نہ لیا اور فورًا ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ محض بہتان اور جھوٹی تہمت ہے کیونکہ ہم کسی مخلص اور سچے مومن مرد اور عورت کے بارے میں یہ گمان نہیں کرسکتے کہ وہ زنا ایسا برا کام کر گذریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ربط آیات :
پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حدزنا ، حد قذف اور لعان کا ذکر فرمایا اب اگلے دو رکوع میں اس بہتان کا ذکر فرمایا ہے۔ جو منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر باندھا تھا۔ اللہ نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے ، اور مسلمانوں کی جماعت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ آئندہ اس قسم کی کاروائی میں ملوث نہ ہوں۔ افک کا معنی صریح گھڑا ہوا جھوٹ ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے یہ واقعہ اس سفر کے دوران پیش آیا تھا جب حضور ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ہمراہ قبیلہ بنی المصطلق کے خلاف جہاد کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہ 6 ھ کا واقعہ ہے ۔ یہ بڑا وسیع قبیلہ تھا اور لوگ بڑے…
Read the full tafseer →لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَيْرًا 0ۙ وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ 12
سمع
السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا .
ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ
[ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
1 ؎ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جبکہ وہ اپنا گلوبند تلاش کرتی ہوئیں ایک سفر میں پیچھے رہ گئیں اور قافلہ کے اخیر میں صفوان ؓ تھے ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر کے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے لائے اس بات سے چند لوگوں نے جو بظاہر مسلمان تھے طوفان باندھ لیا اور زنا کی تہمت لگا کر اس کا عام چرچا کردیا اس قصہ کی طرف جابجا اس سورة میں اشارہ ہے۔ 12 منہ
ترکیب : عصبہ منکم خبران و منکم اس کی لغت کبر بالکسر معظمہ وبالضم، من قولھم الولالکبر ای اکبر ولد الرجل۔ اذ تلقونہ کا عامل مسکم۔ بہتان کے متعلق۔
تفسیر : ایک واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو ایک عبرت کا واقعہ ہے۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ افک یعنی بہتان کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اِنَّ الَّذِیْنَ جَآئُ وْ بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْط لاَ تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّـکُمْ ط بَل ھُوَ خَیْرٌلَّـکُمْ ط لِکُلِّ امْرِیًٔ مِّنْھُمْ مَّا اکْـتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِج وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْھُمْ لَـہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (النور : 11)
(بیشک جو لوگ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک گروہ ہے، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا خیال نہ کرو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو ایک عذاب عظیم ہے۔ )
اس آیت کریمہ سے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) پر لگائے جانے والے بہتان سے براءت کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ
اگر کسی پاکدامن عورت یا مرد پر بدکاری کی تہمت لگ جائے تو مومن مرد اور عورتوں کا فرض ہے کہ وہ پاکدامن مرد اور پاکدامن عورت کا ماضی سامنے رکھ کر کھلے الفاظ میں تردید کریں کہ یہ تہمت اور الزام ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان خطاکار ہے اور اس سے غلطی ہونے کا امکان ہے لیکن انسان کا ماضی بالخصوص بدکاری کے معاملے میں مستقبل کی ضمانت فراہم کرتا ہے کیونکہ زنا ایسا فعل ہے جو یکدم سرزد نہیں ہوتا چند ایک واقعات چھوڑ کر ہر معاشرے میں زنا سے پہلے آنکھ مچولی، قربت اور اس قسم کی حرکات کا سرزد ہونا لازمی امر ہے اس لیے قرآن مجید میں ولا تَقْرَبُو الزِّنَا (بنی اسرائیل :…
Read the full tafseer →مقولہ عمر ؓ :
12: پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں حصہ لینے والوں کو تو بیخ کی۔ فرمایا : لَوْلَآ (کیوں نہ ایسا ہوا۔ ) اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ (جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی) یعنی افک و بہتان۔ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِھِمْ (تو مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اپنے متعلق نیک گمان کیوں نہیں کیا) یعنی ان لوگوں کے متعلق جو انہی میں سے تھے پس مسلمان ایک جان کی طرح ہیں اور یہ اس ارشاد الٰہی کی طرح ہے : ولا تلمزوا انفسکم ( الحجرات : 11) خَیْرًا (یعنی پاکدامنی اور بھلائی) اور یہ اسی طرح ہے جو روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے رسول ﷺ سے عرض کیا میں قطعی طور پر اس کو منافقین کا کذب قرار دیتا…
Read the full tafseer →تفسیر۔
12۔ لولا، ، ھلاکے معنی میں ہے۔ اذ سمعتموہ ظن المومنون، اپنے بھائیوں سے نیک گمان کیوں نہ کیا، خیرا، حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد اہلدین ہیں کیونکہ تمام مومنین ایک جسم کی مانند ہیں۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ولاتقتلوا انفسکم، اور دوسری آیت میں ہے ، فسلموا علی انفسکم، وقالوا ھذا افک مبین، ی جھوٹ واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
11۔ 15:۔ حضرت عائشہ ؓ پر جو لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا تھا ‘ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں سات آٹھ صحابیوں کی روایت سے یہ قصہ آیا 1 ؎ ہے ‘ حاصل اس قصے کا یہ ہے کہ 6 ھ میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپسی کے وقت لشکر کے کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئیں ‘ وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا پوتھوں کا ہار گر پڑا یہ تو اس ہار کے ڈھونڈنے میں رہیں اور یہاں لشکر کا کوچ ہوگیا ‘ کوچ کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ ؓ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں ‘ اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا اور لشکر کے انٹوں کے ساتھ یہ خالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–26
آیت (11
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…
Read the full tafseer →قول باری ہے : (لو لا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنات بانفسھم خیرا وقالوا ھذا افک مبین۔ جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اس وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے) اس میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ان لوگوں کے متعلق نیک گمان رکھیں جن کا ظاہر عدالت اور پاکدامنی کی نشاندہی کرتا ہو اور ان کے متعلق صرف گمان کی بنا پر فیصلہ نہ کریں ۔ وہ اس لئے کہ جن لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگایا تھا انہوں نے مشاہدہ کی بنا پر یہ بات نہیں کہی بلکہ صرف اپنے گمان اور اٹکل کی بنا پر الزام تراشی کی تھی۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ حضرت عائشہ ؓ…
Read the full tafseer →21 مسلمانوں کو آپس میں حسن ظن سے کام لینے کی ہدایت وتعلیم : سو اس ارشاد سے یہ اہم اور بنیادی درس دیا گیا کہ مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد باہمی اعتماد اور کامل حسن ظن ہی پر ہونی چاہیئے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا یعنی ایمانداروں کے دین وا یمان کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اس قصے کو سنتے ہی اسے افتراء و بہتان قرار دے دیتے۔ کیونکہ مومن کا دین اس کو یہی سکھاتا ہے کہ وہ دوسرے مومن کے بارے میں ہمیشہ حسن ظن ہی سے کام لے۔ پھر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ تو اس کی سب سے بڑھ کر حق دار تھیں۔ اسی لئے روایات میں وارد ہے کہ حضرت ابو ایوب ؓ کی بیوی نے جب ان سے کہا کہ آپ نے سنا نہیں کہ لوگ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت
تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2۔
جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔
(واقعہ افک)
رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…
Read the full tafseer →1 ۔ یعنی اپنے مسلمان بھائیوں اور اسلامی معاشرہ پر۔ 2 ۔ جسے ایک لمحہ کے لئے بھی قابل غور نہیں سمجھا جاسکتا۔
Read the full tafseer →(24:12) لولا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنت بانفسہم خیرا۔ جب تم نے یہ (افواہ افک) سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے کیوں نہ اپنون کے حق میں نیک گمان کیا۔ ضیاء القرآن میں ہے :۔
اللہ تعالیٰ مومنوں کو عتاب فرما رہے ہیں اور سرزنش کر رہے ہیں کہ تم نے سنتے ہی اس بہتان کی تردید کیوں نہ کردی اس میں تردد کی غلطی کیوں کی تمہیں تو فورا کہہ دینا چاہیے تھا۔ ھذا افک مبین۔ یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ بانفسہم سے مراد بعض نے باخوانہم واھل دینہم لیا ہے یعنی جب تم نے یہ افواہ سنی تو کیوں نہ مومنین اور مومنات نے اپنے دینی بھائیوں (حضرت عائشہ ؓ اور حضرت صفوان بن معطل) کے متعلق نیک گمان کیا۔
بانفسہم بمعنی اپنے دلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 :
افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 :
اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔
اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔
(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل…
Read the full tafseer →[14] یعنی ایک صحابی رسول اور ایک زوج رسول کے حق میں۔ آیت کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا۔ یعنی ان میں سے ہر ایک نے کیوں نہ خیال کیا کہ
اگر اس کو اس صورت حال سے سابقہ پیش آتا جو سیَّدہ عائشہ ؓ کو پیش آئی تھی تو کیا وہ زنا کا مرتکب ہوجاتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
مسئلہ لعان :
(ف 1) اس آیات میں مسئلہ لعان کی تفصیل بیان کی ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے کردار کے متعلق شبہات وشکوک کا اظہار کرے اور عورت برات کرے ، مرد یہ کہے کہ یہ فاحشہ اور زانیہ ہے اور عورت کہے کہ میں اس الزام سے پاک ہوں (تو صورت فیصلہ کیا ہو ؟ )
قرآن کہتا ہے کہ دونوں حاکم وقت یا اسلامی ہئیت حاکم کے سامنے چار دفعہ خدا کی قسم کھا کر یہ کہیں کہ وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں ، اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر لعنت بھیجیں ، اگر واقعات کی رو سے جھوٹے ہوں ، تو پہلے مرد کھڑا ہو اور وہ الزام کو بیان کرے ، اور چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے ، اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹ کہتا…
Read the full tafseer →(12) جب تم لوگوں نے اس طوفان کی خبر کو سنا تھا تو مسلمان مردوں اور عورتوں نے اپنوں کے ساتھ نیک گمان کیوں نہیں کیا اور سنتے ہی یوں کیوں نہیں کہا کہ یہ صریح کذب و بہتان ہے۔ یعنی مسلمانوں کو تو یہ چاہئے تھا کہ جب کسی مسلمان اور پاک دامن کے متعلق زنا کی بات اور بدکاری کی افواہ کان میں پڑی تھی تو اسی وقت اس کو رد کرنا تھا اور مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنے مسلمان بھائی اور بہن کے ساتھ جو اعتقاداً اور عملاً اپنے ہی ہیں ان کے ساتھ نیک گمان کرنا چاہئے تھا اور صاف کہنا چاہئے تھا کہ یہ عائشہ اور صفوان پر صریح بہتان ہے جیسا کہ حضرت ابو ایوب اور ان کی زوجہ کا یہی قول بعض روایات میں منقول ہے۔ جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 4۔ یعنی حضرت صدیقہ اور ان صحابی کے ساتھ دل سے گمان نیک کیوں نہ کیا۔
Read the full tafseer →اسلامی معاشرہ کے اخلاقی اصول کی وضاحت اور ذمہ داری کا احساس :
20۔ زیر نظر آیت میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم کو آپس میں حسن ظن سے کام لینا چاہئے کیونکہ تم ایک دوسرے کے اندرونی حالات سے اچھی طرح واقف ہو اور جانتے ہو کہ ایک مومن جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی رضا کا طالب ہے اس قسم کے شنیع فعل کا ارتکاب نہیں کرسکتا ہر شخص یہ جانتا ہے کہ ایسا قدم کبھی اچانک نہیں اٹھایا جاسکتا بلکہ اس کے لئے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم بناکر ایک مدت تک اس پر چلنا پڑتا ہے اس طرح کی برائی اچانک ممکن ہی نہیں سکتی اور اگر پہلے اس طرح کی کوئی بات ہوتی تو وہ چھپی کیسے رہ سکتی تھی پھر جن لوگوں کے متعلق ایسی…
Read the full tafseer →لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَـٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ
Why - when you (0 believers) heard of it - did the believing men and the believing women not think well on their own selves and (why did they not) say, ` This is a manifest lie'. - 24:12.
It means that when the Muslim men women heard about this slander they should have a good assumption about their own-self - that is about their Muslim brother and sister - and declared that it was but an open lie. In this verse quite a few things need attention. In the first place the…
Read the full tafseer →12. This may also be translated as: Why did they not have a good opinion of the people of their own community and society? The words in the text are comprehensive and contain a subtle meaning which should be understood well. What happened concerning Aishah and Safwan bin Muattal was only this: A woman belonging to the caravan (apart from the fact that she was the Prophet’s wife) was left behind, and a man belonging to the same caravan, who was also left behind, happened to see her and brought her on his camel to the camp. Now if a person alleges that when the two found themselves alone, they…
Read the full tafseer →