An-Noor 24:11

An-Noor · from ayah 11

24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ ؕ— لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ ؕ— بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ؕ— لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ ۚ— وَالَّذِیْ تَوَلّٰی كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌ ؕ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ ؕ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ ؕ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ ۚ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who came with falsehood are a group among you. Do not think it bad for you; rather it is good for you. For every person among them is what [punishment] he has earned from the sin, and he who took upon himself the greater portion thereof - for him is a great punishment.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:11

جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ ﻻئے ہیں یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروه ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناه ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جن لوگوں نے (عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا پر) بہتان لگایا تھا (وہ بھی) تم ہی میں سے ایک جماعت تھی، تم اس (بہتان کے واقعہ) کو اپنے حق میں برا مت سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر (ہوگیا) ہے٭ ان میں سے ہر ایک کے لئے اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور ان میں سے جس نے اس (بہتان) میں سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لئے زبردست عذاب ہے، ٭ (کیونکہ تمہیں اسی حوالے سے احکامِ شریعت مل گئے اور عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا کی پاک دامنی کا گواہ خود اللہ بن گیا جس سے تمہیں ان کی شان کا پتہ چل گیا۔)

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو بہتان لے کر آئے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں نے تہمت کی باتیں کیں وہ تم میں سے ایک ٹولہ ہے۔ اسے تم اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اتنا ہی گناہ کمایا اور ان میں سے جو شخص اس تہمت کے بڑے حصہ کا ذمہ دار بنا اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن لوگوں نے فتنہ افک برپا کیا وہ تمہارے ہی اندر کا ایک گروہ ہے۔ تم اس چیز کو اپنے لئے بری نہ خیال کرو بلکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے جو گناہ کمایا وہ اس کے حساب میں پڑا اور جو اس فتنہ کا اصلی بانی ہوا ہے اس کے لئے تو ایک عذاب عظیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ جو لوگ یہ طوفان گھڑ لائے وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے، تم اس کو اپنے لیے برابر نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی ہے ان میں سے ہر شخص نے اپنے کیے کے مطابق گناہ سمیٹا ہے، اور ان میں سے جس نے اس کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

تو تم بڑی مصیبتوں میں پڑجاتے)۔ بیشک جن لوگوں نے یہ طوفان برپا کیا ہے۔ وہ تم میں سے ایک (چھوٹا سا) گروہ ہے۔ تم اس کو برا نہ سمجھو اپنے حق میں۔ بلکہ تمہارے حق میں بہتر ہی ہے۔ ان میں سے ہر شخص کو جس نے جتنا کچھ کیا تھا گناہ ہوا۔ اور جس نے ان میں سے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے سزا بھی (سب سے بڑھ کر) سخت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں یہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے اسے تم اپنے لیے ُ برا نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے ان میں سے ہر شخص کے لیے وہی ہے جو گناہ اس نے کمایا اور ان میں سے جس نے اس کا بڑا بوجھ اپنے سر لیا اس کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے ‘ اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لیے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لیے اتنا ہی وبال ہے اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who have invented the slander, are some of your own people. You should not, however, regard this matter as evil for it has good in it for you. Whoso took any part in this, he earned his share of the sin accordingly, and the one, who had the greatest share of responsibility in it, shall have a terrible punishment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who have come up with the false imputation are a gang among you. Do not think it is bad for you; rather, it is good for you. Every one of them is liable for what he earned of the sin. And the one who played the major role in it, for him there is a mighty punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who have come up with the false imputation are a gang among you. Do not think it is bad for you; rather, it is good for you. Every one of them is liable for what he earned of the sin. And the one who played the major role in it, for him there is a mighty punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who brought forth the slander are a group among you. Consider it not a bad thing for you. Nay, it is good for you. Unto every man among them will be paid that which he had earned of the sin, and as for him among them who had the greater share therein, his will be a great torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! they who spread the slander are a gang among you. Deem it not a bad thing for you; nay, it is good for you. Unto every man of them (will be paid) that which he hath earned of the sin; and as for him among them who had the greater share therein, his will be an awful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who came with falsehood are a group among you. Do not think it bad for you; rather it is good for you. For every person among them is what [punishment] he has earned from the sin, and he who took upon himself the greater portion thereof - for him is a great punishment.

— Saheeh International

Those of you who have brought forward a false report (against Aisha) do not think that it will harm you. Rather it will be a benefit to you. Each one of you will face the result of his sin. The one among the group who was the chief instigator will face a great torment.

— Muhammad Sarwar

Surely they who concocted the lie are a party from among you. Do not regard it an evil to you; nay, it is good for you. Every man of them shall have what he has earned of sin; and (as for) him who took upon himself the main part thereof, he shall have a grievous chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who brought forward the calumny were a small band among Deem it not an evil for you; nay, it was good for you. Unto every one of them shall be that which he hath earned of the sin, and he among them who undertook the bulk of it---for him shall be a torment mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who brought forward the lie are a body among yourselves: think it not to be an evil to you; On the contrary it is good for you: to every man among them (will come the punishment) of the sin that he earned, and to him who took on himself the lead among them, will be a penalty grievous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ام المومنین عائشہ صدیقہ کی پاکیزگی کی شہادت اس آیت سے لے کر دسویں آیت تک ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جب کہ منافقین نے آپ پر بہتان باندھا تھا جس پر اللہ کو بہ سبب قرابت داری رسول اللہ ﷺ غیرت آئی اور یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ رسول اللہ ﷺ کی آبرو پر حرف نہ آئے۔ ان بہتان بازوں کی ایک رٹی تھی۔ اس لعنی کام میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا جو تمام منافقوں کا گرو گھنٹال تھا۔ اس بےایمان نے ایک ایک کان میں بنابناکر اور مصالحہ چڑھ چڑھا کر یہ باتیں خوب گھڑ گھڑ کر پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کی زبان بھی کھلنے لگی تھی اور یہ چہ میگوئیاں قریب قریب مہینے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النُّوْر 8 اشارہ ہے اس الزام کی طرف جو حضرت عائشہ پر لگایا گیا تھا۔ اس کو افک کے لفظ سے تعبیر کرنا خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس الزام کی مکمل تردید ہے۔ اِفک کے معنی ہیں بات کو الٹ دینا، حقیقت کے خلاف کچھ سے کچھ بنادینا۔ اسی مفہوم کے اعتبار سے یہ لفظ قطعی جھوٹ اور افترا کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اور اگر کسی الزام کے لیے بولا جائے تو اس کے معنی سراسر بہتان کے ہیں۔ یہاں سے اس واقعے پر کلام شروع ہوتا ہے جو اس سورے کے نزول کا اصل سبب تھا۔ دیباچے میں ہم اس کا ابتدائی قصہ خود حضرت عائشہ کی روایت سے نقل کر آئے ہیں۔ نبی ﷺ سخت اذیت میں مبتلا رہے، میں روتی رہی، میرے والدین انتہائی پریشانی اور رنج و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ سورة نور کا بیشتر حصہ ان احکام سے متعلق ہے جو عفت و عصمت کی حفاظت کے لئے جاری کئے گئے ہیں۔ اس کے بالمقابل عفت و عصمت پر دست اندازی اور اس کی خلاف ورزی کی دنیوی سزا میں اور ان پر آخرت کا وبال عظیم ذکر کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پہلے حد زنا پھر حد قذف اور پھر لعان کا بیان آ چکا ہے۔ حد قذف کے ضمن میں کسی پاکدامن عورت پر جب تک چار گواہوں کی شہادت نہ ہو زنا کا الزام لگانا گناہ عظیم قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کیلئے حد شرعی اسی کوڑے لگانے کی جاری فرمائی ہے۔ یہ مسئلہ عام مسلمان پاکدامن عورتوں سے متعلق تھا۔ اور چونکہ 06 ہجری میں بعض منافقین نے ام المومنین حضرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون ……آیات 26-11 آگے فتنہ افک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس موقع پر مسلمانوں کی ایک جماعت سے صادر ہوئیں کہ وہ بھی منافقین کے اٹھائے ہوئے فتنہ میں نادانستہ شریک ہوگئے اور بےسوچے سمجھے اسی طرح کی باتیں بولنے لگے جس قسم کی باتیں منافقین پھیلانی چاہتے تھے۔ حالانکہ مسلمانوں کے باہمی تعلق کی بنیاد اعتماد او کامل حسن ظن پر ہونی چاہئے۔ اگر کوئی مسلمان اپنے دوسرے بھائی بہن کی نسبت کوئی بری بات سنے تو اس وقت تک وہ اس کو قبول نہ کرے اور نہ زبان پر لائے جب تک اس کی پوری تحقیق نہ ہوجائے۔ اسی سلسلہ میں منافقین اور ان کے سرپرسوتوں کی در پردہ اس خواہش اور کوشش کا سراغ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11-1اِ فَک سے مراد وہ واقع افک ہے جس میں منافقین نے حضرت عائشہ ؓ کے دامن عفت و عزت کو داغ دار کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت عائشہ کی حرمت میں آیت نازل فرما کر ان کی پاک دامنی اور عفت کو واضح تر کردیا۔ اِفْک کے معنی ہیں کسی چیز کو الٹا دینا۔ اس واقع میں بھی چونکہ منافقین نے معاملے کو الٹا کردیا تھا یعنی حضرت عائشہ تو ثنا تعریف کی مستحق تھیں، عالی نسب اور رفعت کردار کی مالک تھیں نہ کہ قذف کی۔ لیکن ظالموں نے اس پیکر عفت کو اس کے برعکس طعن اور بہتان تراشی کا ہدف بنا لیا۔ 11-2ایک گروہ اور جماعت کو عَصْبَۃ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت اور عصیبت کا باعث ہوتے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–14

9: یہاں سے آیت نمبر 26 تک جس واقعے کی طرف اشارہ ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اسلام کو جو تیز رفتار فروغ حاصل ہوا، اس پر کفر کی طاقتیں دانت پیس رہی تھیں۔ خود مدینہ منورہ میں ان منافقوں کا ایک گروہ موجود تھا جو زبان سے تو اسلام لے آئے تھے، لیکن ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے خلاف کینہ بھرا ہوا تھا، اور وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع چھوڑتے نہیں تھے۔ اسی زمانے میں غزوہ بنو المصطلق پیش آیا جس میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا تو حضرت عائشہ کا ایک ہار گم ہوگیا، اور وہ اس کی تلاش میں جنگل کی طرف نکل گئیں۔ آنحضرت ﷺ کو اس واقعے کا علم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ افک کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ نے تاریخ انسانی کے پاکیزہ ترین لوگوں کو انتہائی درجہ کی تکلیف دہ اور اذیت دہ صورت حال سے دوچار کیا بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو سخت ترین امتحان میں ڈال دیا۔ پورے ایک ماہ تک حضرت نبی ﷺ ‘ آپ کی محبوب ترین اہلیہ حضرت عائشہ ؓ ان کے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ جیسے ایک مومن مخلص کے دلوں کو ہوا میں معلق رکھا۔ یہ پاکیزہ دل ایک مہینے تک درد ورنج میں مبتلا رہے۔ مناسب یہ ہے کہ ہم اس پورے قصے کو خود حضرت عائشہ ؓ یک زبانی سنیں۔ حضرت عروہ ابن زبیر ان سے یوں روایت کرتے ہیں ” رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب آپ ﷺ سفر پر جانے لگتے تو قرعہ ڈال کر فیصلہ فرماتے کہ آپ یک بیویوں میں سے کون آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یہاں سے اس طوفان کا ذکر ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ پر اٹھایا گیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ 6 ھ میں غزوہ بنی المصطلق سے واپس مدینہ تشریف لا رہے تھے، حضرت عائشہ صدیقہ بھی ہمراہ تھیں، ان کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا، وہ ہودہ میں پردہ چھوڑ کر بیٹھ جاتیں۔ حمّال ہودے کو اونٹ پر باندھ دیتے۔ ایک منزل پر قافلہ ٹھہرا ہوا تھا، کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ کو قضاء حاجت کی ضرورت پیش آئی۔ جس کے لیے قافلہ سے علیحدہ ہو کر جنگل کی طرف تشریف لے گئیں، وہاں اتفاق سے ان کا ہار ٹوٹ کر گرگیا ۔ اس کی تلاش میں دیر لگ گئی۔ یہاں پیچھے کوچ ہوگیا۔ حمال حسب عادت اونٹ پر ہودہ باندھنے آئے، اور اس کے پردے پڑے رہنے سے گمان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْط بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ط“ یہ واقعہ گویا اللہ تعالیٰ کے بہت سے احکام اور قوانین کے نزول کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اسی کی وجہ سے امت کو شریعت کے اہم امور کی تعلیم دی جائے گی۔ اس واقعہ کا خلاصہ یوں ہے : 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ غزوۂ بنی مصطلق کے لیے تشریف لے گئے۔ اس سفر میں حضرت عائشہ رض آپ ﷺ کے ہمراہ تھیں۔ آپ رض ایک الگ ہودج کجاوہ میں سفر کرتی تھیں۔ واپسی کے سفر کے دوران ایک جگہ جب قافلے کا پڑاؤ تھا آپ رض صبح منہ اندھیرے قضائے حاجت کے لیے گئیں۔ واپسی آپ رض کا ہار کہیں گرگیا اور اس کی تلاش میں آپ رض کو اتنی دیر ہوگئی کہ قافلے کے کوچ کا وقت ہوگیا۔ جن لوگوں کو آپ رض کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 یہاں آیت نمبر 11 سے لے کر آیت نمبر 20 تک افک کے واقعہ سے متعلق دس آیات مذکور ہیں۔ جو اس سورت کا شان نزول بنیں۔ ابتدا میں تہمت، قذف زنا کے احکام اور سزا بتلانے کے بعد اس واقعہ کا آغاز اور اس پر تبصرہ ہے۔ اس کی ابتداء ہی ان الفاظ سے کی گئی (اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ 11؀) 24 ۔ النور :11) یعنی یہ جو کچھ افواہیں،۔۔ اور قصے گھڑے گئے۔ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔ جس میں حقیقت کا شائبہ تک نہیں۔ 13 یہ ٹولہ کون لوگ تھے۔ یہ حضرت عائشہ ؓ ہی کی زبانی سنئے : 1۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت میں (وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 11؀) 24 ۔ النور :11) سے مراد عبداللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

15۔ خطاب یہاں ساری امت کو ہے، مردوں عورتوں سب کو، مطلب یہ ہے کہ امت کے ہاتھ میں کیسا جامع، کیسا پر حکمت قانون دے دیا گیا ہے۔ زبردستوں، زیردستوں، عاصیوں، مظلوموں سب کی مصلحتوں کی رعایت کرنے والا۔ اتنا مکمل قانون صرف خدائی ہی قانون ہوسکتا ہے۔ 16۔ 6 ہجری کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوۂ بنی مصطلق سے مدینہ منورہ واپس تشریف لارہے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ ہمراہ تھیں، آپ کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا۔ اس پر ہودج تھا، آپ ہودج میں پردہ چھوڑ کر بیٹھ جاتیں، جمال ہودج کو اٹھاکراونٹ پر باندھ دیتے۔ آپ ہلکی پھلکی کم سن تھیں۔ ایک روز اتفاق سے ایک منزل پر آپ کو ہودج سے باہر ویرانہ کی طرف جانے کی ضرورت پیش آئی۔ واپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ ؓ نے (واقعہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین جآء وا بالافک عصبۃ منکم جو لوگ طوفان لائے وہ تمہاری ہی ایک جماعت ہے۔ یہ دس آیات ہیں ‘ افک انتہائی درجہ کا جھوٹ۔ افک کا لغوی معنی ہے موڑ دینا ‘ الٹ دینا ‘ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت کو افک اس وجہ سے فرمایا کہ آپ اپنی پاک دامنی اور شرافت نفس کی وجہ سے تعریف اور دعا کی مستحق تھیں ‘ صدیق اکبر ؓ کی بیٹی تھیں ‘ رسول اللہ ﷺ کی بیوی تھیں ‘ مسلمانوں کی ماں تھیں ہر طرح کی تعظیم و تکریم آپ کی واجب تھی ‘ پس اس کے برعکس جس نے آپ کے اوپر تہمت لگائی اس نے (گویا) حقیقت کو ہی الٹ دیا۔ یہ قلب حقیقت ہوگیا۔ عُصْبَۃٌ دس سے چالیس تک کے آدمیوں کی جماعت۔ اس کا کوئی واحد نہیں۔ کذا فی النہایۃ۔ مِنْکُمْیعنی مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) جن لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ کی نسبت یہ طوفان بدتمیزی برپا کیا ہے وہ تم میں سے ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ یہ آیات مبارکہ کذاب اور واقعہ کو گھڑنے والا عبداللہ بن ابی سلول منافق اور حسان بن ثابت انصاری اور مسطح بن اثاثہ اور عباد بن عبدالمطلب اور حمنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ ابی بن سلول منافق نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ پر تہمت لگائی تھی، اور یہ بقیہ مومن اس منافق کے کہنے میں آگئے تھے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس چیز کو اپنے حق میں آخرت میں بھی برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے حق میں ثواب و انجام کے اعتبار سے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان میں سے ہر شخص کو جس نے جتنا اس معاملہ میں حصہ لیا تھا گناہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ : ”اَلإِْفْکُ“ کا لفظی معنی الٹا کرنا ہوتا ہے، مراد ایسا بہتان ہے جو حقیقت کے بالکل خلاف ہو۔ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو منافقین نے ام المومنین عائشہ ؓ پر لگایا تھا، دو تین مخلص مسلمان بھی سادہ دلی کی وجہ سے ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ اس کی تفصیل خود عائشہ ؓ سے سنیے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی عادت تھی کہ آپ جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے، جس بیوی کے نام قرعہ نکلتا اسے آپ اپنے ساتھ لے جاتے۔ چناچہ آپ ﷺ نے ایک غزوہ (بنو المصطلق) میں قرعہ ڈالا جو میرے نام نکلا، تو میں آپ کے ساتھ روانہ ہوگئی۔ یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–11

آیت نمبر 11-22 ۔ اس میں اٹھائیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ان الذین جائو بالافک عصبۃ منکم، عصبۃ انکی خبر ہے۔ اور حال کی بناء پر اس کو نصب دینا جائز ہے۔ اور خبر لکل امری منھم ماکتسب من الاثم ہوگی۔ امام بخاری نے اسے تعلیقا نقل کیا ہے اور اس کی حدیث اتم ہے۔ انہوں نے ام رومان حضرت عائشہ ؓ کی والدہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ام رومان نے فرمایا جب حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی گئی تو وہ غش کھاکر گرپڑیں۔ ام رومان حضرت عائشہ کی والدہ نے فرمایا : میں اور حضرت عائشہ ؓ بیٹھی ہوئی تھیں اچانک انصار کی ایک عورت داخل ہوئی اور کہا اللہ فلاں کے ساتھ ایسا کرے، اللہ فلاں کیساتھ ایسا کرے۔ ام رومان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

واقعہ افک کی تفصیل۔ 1۔ عبدالرزاق واحمد والبخاری وعبد بن حمید ومسلم وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الشعب عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنی بیویوں میں قرعہ اندازی کرتے تھے جس بیوی کا نام نکل آتا تو اس کو اپنے ساتھ لے جاتے چناچہ ایک جہاد پر آپ تشریف لے جانے لگے تو حسب معمول قرعہ اندازی میں میرا نام نکل آیا ! مجھے آپ نے اپنے ساتھ لے لیا یہ واقعہ آیت پردہ نازل ہونے کے بعد کا ہے میں ہودج میں سوار ہوئی میرا ہودج اٹھار کر ہی اونٹ پر رکھا جاتا تھا اور نیچے اتارا جاتا تھا مجھے باہر نکلنے کی ضرورت نہ ہوتی تھی اس طرح ہم مدینے سے چلدئیے جب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] جَاۗءُوْ [ آئے ] بِالْاِفْكِ [ اس بہتان کے ساتھ ] عُصْبَةٌ [ وہ ایک گروہ ہے ] مِّنْكُمْ ۭ [ تم لوگوں میں سے ] لَا تَحْسَبُوْهُ [ تم لوگ مت سمجھو اس (بہتان) کو شَرًّا [ کوئی شر ] لَّكُمْ ۭ [ اپنے لئے ] بَلْ هُوَ [ بلکہ وہ ] خَيْرٌ [ خیر ہے ] لَّكُمْ ۭ [ تم لوگوں کے لئے ] لِكُلِّ امْرِۍ [ ہر ایک شخص کے لئے ہے ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّا [ وہ جو ] اكْتَسَبَ [ اس نے کمایا ] مِنَ الْاِثْمِ ۚ [ اس گناہ میں سے ] وَالَّذِيْ [ اور وہ جس نے ] تَوَلّٰى [ اپنایا ] كِبْرَهٗ [ اس کے بڑے (حصہ) کو ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] لَهٗ [ اس کے لئے ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم عذاب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگائے جانے کا واقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی برأت کا اعلان۔ ان آیات میں ایک واقعہ کا اجمالی تذکرہ ہے اور اس موقعہ پر جو منافقین نے برا کردار انجام دیا اس کا ذکر ہے اور بعض مسلمان جو اپنی سادگی میں ان کے ساتھ ہو لیے اور بعض دیگر مسلمان جنہوں نے احتیاط سے کام نہ لیا ان کو تنبیہ اور نصیحت فرمائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ سفر میں تشریف لے جاتے اور ازواج مطہرات میں سے کسی کو ساتھ لے جانا ہوتا تو قرعہ ڈال لیتے تھے۔ 6 ھ میں آپ غزوہ بنی مصطلق کے لیے تشریف لے گئے اس سفر میں حضرت عائشہ ؓ آپ کے ساتھ تھیں یہ ایک ہودج میں سوار رہتی تھیں ھودج ایک قسم کا ڈبہ سا ہوتا تھا جس میں ایک دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–26

بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ ” ان الذین جاء وا الخ “ یہ منافقین پر زجر ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت کے بارے میں لوگ تین قسموں میں منقسم ہوگئے۔ اول وہ منافقین جنہوں نے یہ تہمت گھڑی اور اس کی تشہیر کی۔ ان کا سرغنہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین تھا۔ دوم وہ مخلص مومنین جو غلط فہمی سے منافقوں کی باتوں سے متاثر ہوگئے اور ان کی زبانوں سے بھی نامناسب باتیں نکل گئیں۔ حضرت حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ ایسے ہی تھے۔ سوم عام مخلص مومنین جنہوں نے یہ باتیں سن کر خاموشی اختیار کی نہ ان کی تائید کی نہ تردید۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں جماعتوں پر زجر فرمایا۔ پہلے گروہ پر سب سے زیادہ زجر کیا گیا۔ یہ پہلی دونوں جماعتوں پر زجر ہے منکم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–13

ربط آیات : پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حدزنا ، حد قذف اور لعان کا ذکر فرمایا اب اگلے دو رکوع میں اس بہتان کا ذکر فرمایا ہے۔ جو منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر باندھا تھا۔ اللہ نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے ، اور مسلمانوں کی جماعت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ آئندہ اس قسم کی کاروائی میں ملوث نہ ہوں۔ افک کا معنی صریح گھڑا ہوا جھوٹ ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے یہ واقعہ اس سفر کے دوران پیش آیا تھا جب حضور ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ہمراہ قبیلہ بنی المصطلق کے خلاف جہاد کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہ 6 ھ کا واقعہ ہے ۔ یہ بڑا وسیع قبیلہ تھا اور لوگ بڑے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَۃٌ مِّنْكُمْ۝ 0ۭ لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّكُمْ۝ 0ۭ بَلْ ہُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝ 0ۭ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ۝ 0ۚ وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝ 11 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–14

1 ؎ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جبکہ وہ اپنا گلوبند تلاش کرتی ہوئیں ایک سفر میں پیچھے رہ گئیں اور قافلہ کے اخیر میں صفوان ؓ تھے ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر کے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے لائے اس بات سے چند لوگوں نے جو بظاہر مسلمان تھے طوفان باندھ لیا اور زنا کی تہمت لگا کر اس کا عام چرچا کردیا اس قصہ کی طرف جابجا اس سورة میں اشارہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : عصبہ منکم خبران و منکم اس کی لغت کبر بالکسر معظمہ وبالضم، من قولھم الولالکبر ای اکبر ولد الرجل۔ اذ تلقونہ کا عامل مسکم۔ بہتان کے متعلق۔ تفسیر : ایک واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو ایک عبرت کا واقعہ ہے۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ افک یعنی بہتان کہ جس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–12

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآئُ وْ بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْط لاَ تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّـکُمْ ط بَل ھُوَ خَیْرٌلَّـکُمْ ط لِکُلِّ امْرِیًٔ مِّنْھُمْ مَّا اکْـتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِج وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْھُمْ لَـہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (النور : 11) (بیشک جو لوگ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک گروہ ہے، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا خیال نہ کرو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو ایک عذاب عظیم ہے۔ ) اس آیت کریمہ سے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) پر لگائے جانے والے بہتان سے براءت کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس واقعہ کی بنا پر یہ سورت نازل ہوئی اس کی حقیقت : یہ سورة مبارکہ جس واقعہ پر نازل کی گئی اب اس معاملہ کی حقیقت اور اس کی سنگینی کا ذکر کیا جاتا ہے جسکا اختصار یہ ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ اور سفر کے لیے تشریف لے جاتے تو اس سے پہلے اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے جس بیوی کا قرعہ نکلتا آپ اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ غزوہ بنی مصطلق میں قرعہ میرے نام نکلا۔ میں آپ کے ساتھ سفر میں تھی واپسی پر ہم نے مدینہ سے کچھ دور رات کے پہلے پہر قیام کیا مجھے حاجت کے لیے پڑاؤ سے دور جانا پڑا۔ جب فارغ ہو کر پڑاؤ کی جگہ آنے لگی تو میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر نیچے گرپڑا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

واقعہ ٔ اُفک : 1 1: اِنَّ الَّذِیْنَ جَآ ئُ وْ بِالْاِفْکِ (بیشک جو لوگ طوفان لائے وہ تمہاری ہی ایک جماعت ہے) افک انتہائی درجہ کا جھوٹ وافتراء۔ افک کی اصل الٹ دینا، موڑ دینا ہے کیونکہ یہ بات اپنی اصل سے پلٹی ہوئی ہے۔ اور یہاں اس سے وہ بہتان مراد ہے جو حضرت عائشہ ؓ پر باندھا گیا حضرت عائشہ ؓ کی زبان سے سنیں۔ میں نے غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر ایک ہار گم پایا۔ پس میں لشکر سے پیچھے رہ گئی اور جسامت کے ہلکا ہونے کی بناء پر ہودج باندھنے، اٹھانے والوں کو معلوم نہ ہوسکا۔ جب وہ کوچ کرچکے تو صفوان بن معطل نے میرے لئے اپنے اونٹ کو بٹھا یا اور لے کر چل دیئے یہاں تک کہ قافلے کے اترنے کے بعد قافلے کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

واقعہ افک۔ 11۔ ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ منکم۔ صالح ابن شہاب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے بیان یا عروہ بن زبیر، سعید بن المیسب ، علقمہ، بن وقاص، وعبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود عن عائشہ ؓ اجمعین، سے جو آپ کی زوجہ محترمہ ہیں انہوں نے یہ حدیث بیا ن کی تھی کہ جب تہمت لگانے والوں کی تہمت سے اللہ عزوجل نے ان کو بری کردیا تھا۔ سب رواۃ جوا س حدیث کو مجھ سے بیان کرتے ہیں اور بعض حضرات نے اس حدیث کو اپنے پاس زبانی محفوظ کیا اور بعض لوگوں نے اس کو اپنے پاس ویسے ہی محفوظ کرلیا، اور بعض میرے سے وہی حدیث زبانی یاد کرتے ہیں جو میں نے حضرت عائشہ سے نقل کی ہے۔ بعض حضرات بعض کی تصدیق کرنے لگے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–15

11۔ 15:۔ حضرت عائشہ ؓ پر جو لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا تھا ‘ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں سات آٹھ صحابیوں کی روایت سے یہ قصہ آیا 1 ؎ ہے ‘ حاصل اس قصے کا یہ ہے کہ 6 ھ میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپسی کے وقت لشکر کے کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئیں ‘ وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا پوتھوں کا ہار گر پڑا یہ تو اس ہار کے ڈھونڈنے میں رہیں اور یہاں لشکر کا کوچ ہوگیا ‘ کوچ کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ ؓ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں ‘ اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا اور لشکر کے انٹوں کے ساتھ یہ خالی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–26

آیت (11 چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔ اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

واقعہ افک میں حضور ﷺ کے صبر کا پھل قول باری ہے : (ان الذین جائو ا بالا فک عصبۃ منکم لا تحسبوہ شرا لکم بل ھو خیر لکم۔ ) جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لئے خیر ہی ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جنہوں نے حضرت عائشہ ؓ پر بہتان باندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ جھوٹ ہے۔ افک جھوٹ کو کہتے ہیں۔ اس بہتان کی وجہ سے حضور ﷺ ، حضرت ابوبکر ؓ اور مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو سخت ذہنی کوفت ، پریشانی اور صدمے کے سامنے کرنا پڑا لیکن انہوں نے صبر کیا اس لئے یہ ان کے حق میں خیر بن گیا۔ اس بہتان پر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–11

16 لعان والی عورت سے حدِّ زنا ٹالنے کا طریقہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ عورت اپنے آپ سے سزا کو اس طرح ٹال سکتی ہے کہ وہ یوں کہے۔ یعنی حد زنا کی سزا جو کہ خاوند کے الزام اور اس کی ان قسموں کی بناء پر اس کو لگنا تھی۔ اور جب بیوی بھی اس طرح قسمیں اٹھا لے گی تو ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے تفریق اور علیحدگی و جدائی ہوجائے گی اور اس کے بعد یہ دونوں کبھی بھی آپس میں رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہو سکیں گے۔ آگے اس جدائی اور تفریق کے بارے میں بعض حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ باہمی لعان کے نتیجے میں یہ تفریق و جدائی خود بخود واقع ہوجائے گی۔ جبکہ دوسرے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ اس کے بعد خاوند کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–20

سیدہ عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت اور اس کی برأت تشریح : انسان کو ہمیشہ ہی اخلاقی اور مذہبی تربیت کی ضرورت رہی ہے مگر آج کل پھر دنیا میں اخلاقی پستی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ غرض کیا اسلامی ممالک اور کیا غیر اسلامی ممالک ہوں سوائے چند ایک کے ہر جگہ معاشرتی کمزوریاں ‘ فحاشی ‘ لوٹ مار لا قانونیت ‘ رشوت ‘ سفارش ‘ بددیانتی ‘ سیاسی بگاڑ ‘ تعلیم و تربیت کی تباہی ‘ فرقہ پرستی ‘ اندرونی و بیرونی سازشیں ‘ نفاق ‘ اغوا ‘ منشیات اور کلاشنکوف کلچر ‘ شرک ‘ بدعات اور لادینیت وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ تمام برائیاں ہیں جن کی وجہ سے قومیں اور ملک تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ اب تو پوری دنیا ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

رکوع نمبر 2۔ جن لوگوں نے تہمت کا طوفان برپا کیا ہے یہ تم ہی لوگوں میں سے ایک چھوٹا ساگروہ ہے ، یہ آیات ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل فرمائی گئیں اور وہ واقعہ جھوٹی تہمت گھڑے جانے کا حرم نبوی صدیقہ کائنات حبیبہ حبیب خدا ﷺ کی ذات کو پیش آیا ، مفہوم آیات سمجھنے کے لیے واقعہ کا جاننا ضروری ہے لہذا کسی قدر بیان کیا جاتا ہے ۔ (واقعہ افک) رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق کو 6 ہجری میں تشریف لے گئے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہمرکاب تھیں چونکہ پردہ ہوتا تھا آپ کے لیے باپردہ ہودج تھا جس میں آپ سوار ہوتیں اور خدام اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے ، جب غزوہ سے فراغت کے بعد واپسی ہوئی تو ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ یہاں سے تیسرے رکوع کے آخر تک سولہ آیتیں اس تہمت سے حضرل عائشہ ؓ کی عفت و پاکدامنی ظاہر کرنے کے سلسلہ میں اتاری گئیں جو غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر بعض منافقین نے ان پر لگائی تھی۔ یہ واقعہ حدیث کی مشہور کتابوں میں خود حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بتفصیل درج ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ غزوہ بنی المصطلق سے واپس ہوتے ہوئے نبی ﷺ نے ایک جگہ پڑائو کیا۔ ابھی رات کا کچھ حصہ باقی تھا کہ کوچ کی تیاری ہونے لگی۔ حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لئے چلی گئیں۔ وہاں ان کے گلے کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرپڑا۔ اور وہ اسے تلاش کرنے لگیں۔ اتنے میں قافلہ روانہ ہوگیا اور لوگ بیخبر ی میں ان کا خالی ہودہ اونٹ پر رکھ کر روانہ ہوگئے۔ جب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:11) افک۔ الافک ہر وہ چیز جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بنا پر ان ہوائوں کو جو اپنا اصل رخ چھوڑ دیں۔ مؤتفکۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے والمؤتفکۃ اھوی (53:53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے ٹپکا۔ (اس میں مؤتفکت سے مراد وہ بستیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے الٹ دیا تھا) ۔ جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہاں اس سے مراد جھوٹ۔ بہتان۔ افترا پردازی ہے۔ افک یافک (ضرب) افک یافک (سمع) افک کسی شے کا اپنے اصل رخ سے پھرنا۔ عصبۃ منکم۔ عصبۃ جماعت۔ گروہ۔ یہ عصب سے ماخوذ ہے۔ العصب کے معنی بدن کے پٹھے جو جوڑوں کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 20 : افک (الزام۔ تہمت) ‘ عصبۃ ( گروہ۔ جماعت) ‘ اکتسب (اس نے کمایا) کبرہ ( اسکا بڑا حصہ) افضتم ( تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون (تم نے زبان کھولی) ‘ تلقون ( تم لیتے ہو) ھینا ( ہلکا۔ آسان ۔ سہل) ‘ ان تشیع (یہ کہ پھیلے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 : اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب ایمان شخص کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور باہمی اعتماد کا خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے تاکہ مومنوں کے معاشرے اور سوسائٹی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔ اپنے بھائی کو کسی طرح کی جسمانی روحانی اذیت پہنچانا ‘ الزام و بہتان لگانا ‘ ذلیل و رسوا اور بدنام کرنا اور حسن ظن سے کام نہ لینا ‘ بےبنیاد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–18

حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔ (ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[10] یہاں سے اس واقعے کا ذکر ہے جس میں مدینہ کے منافقین نے سیّدہ عائشہ ؓ پر زنا کا الزام لگایا تھا اور اس کا اتنا چرچا کیا تھا کہ بعض بھولے بھالے مسلمان بھی متاثر ہوگئے تھے۔ اس واقعے کی تفصیل صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ [11] یہ خطاب ان مسلمانوں کی تسلی کے لئے ہے جنہیں اس واقعے سے صدمہ پہنچا تھا بالخصوص سیّدہ عائشہ ؓ اور ان کا گھرانہ۔ کیا یہ شرف تھوڑا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں سیّدہ عائشہ ؓ کی برأت اتاری اور دشمنوں کو رسوا کیا اور قیامت تک کے لئے سیّدہ عائشہ ؓ کا ذکر خیر قرآن پڑھنے والوں کی زبان پر جاری کردیا۔ پھر اس واقعے میں خیر کا پہلو یہ بھی تھا کہ یہ واقعہ اسلام کے تمدنی قوانین…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–13

مسئلہ لعان : (ف 1) اس آیات میں مسئلہ لعان کی تفصیل بیان کی ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے کردار کے متعلق شبہات وشکوک کا اظہار کرے اور عورت برات کرے ، مرد یہ کہے کہ یہ فاحشہ اور زانیہ ہے اور عورت کہے کہ میں اس الزام سے پاک ہوں (تو صورت فیصلہ کیا ہو ؟ ) قرآن کہتا ہے کہ دونوں حاکم وقت یا اسلامی ہئیت حاکم کے سامنے چار دفعہ خدا کی قسم کھا کر یہ کہیں کہ وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں ، اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر لعنت بھیجیں ، اگر واقعات کی رو سے جھوٹے ہوں ، تو پہلے مرد کھڑا ہو اور وہ الزام کو بیان کرے ، اور چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے ، اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹ کہتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) بلاشبہ ! یہ طوفان جن لوگوں نے باندھا اور برپا کیا وہ تہمت کا طوفان برپا کرنے والا گروہ تم ہی میں سے ایک چھوٹی سی جماعت ہے تم اس طوفان تراشی کو اپنے حق میں برابر نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بھلا اور بہتر ہے اس گروہ میں سے جس آدمی نے جتنا گناہ کمایا اس کے لئے اتنا گناہ ہے اور جس نے ان میں سے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بڑا سخت عذاب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) تواب حکیم پر فرماتے ہیں اس کے بعد ذکر ہے طوفان کا جو حضرت صلعم کے وقت میں اٹھا۔ حضرت عائشہ ؓ پر پیغمبر ایک جہاد سے پھرے آتے تھے رات سے کوچ ہوا نفیری نقارہ نہ تھا ام المومنین جنگل گئیں تھیں حاجت کو پیچھے رہ گئیں ایک مسلمان لشکر سے پیچھے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ قاذف کل چار تھے، ایک بالذات اور مخترع یعنی عبداللہ منافق اور تین بالواسطہ اور متبع یعنی حسان و مسطح و حمنہ کہ مومن مخلص تھے۔ 3۔ مراد اس سے عبداللہ ابن بی منافق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اتہام باندھنے والے ایک منظم گروہ کے لوگ تھے جو تم ہی میں شامل تھے : 17۔ نبی اعظم وآخر ﷺ ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو کفار مکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ اس تحریک کو ختم کردیا جائے انہوں نے اس کے لئے یہ تدبیر شروع کی کہ مہاجرین مدینہ میں آرام سے نہ بیٹھ سکیں بلکہ ان کے بار بار میدان کارزار میں نکلنے پر مجبور کیا جائے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح ان کے ساتھ انصار کو مصروف ہونا پڑے گا اور جب وہ اس طرح بار بار آزمائے جائیں گے تو اس تحریک سے یقینا تنگ پڑیں گے ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ان کی یہ آزمائش ان کے حق میں مفید نہیں ہو رہی تو انہوں نے ہر اس شخص کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جس کی رگ وپے میں رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Interconnection of verses As has been mentioned earlier, the major part of Surah An-Nur is in connection with those injunctions which are related with protection and security of chastity and continence. Diametrically to that, any attempt to debase the chastity and honour would be in violation of the injunction, for which the punishment in the world and the torment in the Hereafter are enjoined. In this connection, first the maximum punishment of adultery (حد زنا), then the punishment for false accusation (حد قذف) and after that the process of li'an have already been described. False…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8. This is an allusion to the slander against Aishah. Allah has Himself described it as ifk (false accusation, calumny) which implies its total refutation. From here begins the mention of the incident which provided the occasion of this Surah’s revelation. We have reproduced the initial part of it in the introduction as related by Aishah herself; the rest of it is reproduced below. She says: Rumours about this slander went on spreading in the city for about a month, which caused great distress and anguish to the Prophet (peace be upon him). I cried due to helplessness and my parents were sick…

Read the full tafseer →