An-Noor 24:25

An-Noor · from ayah 25

24:25

یَوْمَىِٕذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ ۟يَوۡمَئِذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَـقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَـقُّ الۡمُبِيۡنُ

اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That Day, Allah will pay them in full their deserved recompense, and they will know that it is Allah who is the perfect in justice.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:25

اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھرپور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی) ﻇاہر کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن اللہ ان کو وہ بدلہ پورا پورا دیدے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور ان کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی ساری بات کھول دینے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس دن اللہ انہیں ان کی سچی سزا پوری دے گا اور جان لیں گے کہ اللہ ہی صریح حق ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس دن اللہ انہیں ان (کے اعمال) کی پوری پوری جزا جس کے وہ صحیح حق دار ہیں دے دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ (خود بھی) حق ہے (اور حق کو) ظاہر فرمانے والا (بھی) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس دن اللہ انھیں ان کا صحیح بدلہ پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ بیشک اللہ ہی حق ہے، جو ظاہر کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن اللہ تعالیٰ انھیں وہ بدلہ دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے، سچ کو سچ کر دکھانے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن اللہ ان کا واجبی بدلہ پورا کر دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق اور واضح کردینے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس دن اللہ انھیں ان کا وہ بدلہ پورے کا پورا دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انھیں قطعی طور پر خود معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی ہے حق اور حقیقت کو کھول دینے والا۔

— مولانا اسحاق مدنی

اس روز اللہ ان کو ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا اور یہ جان جائیں گے کہ اللہ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے بات کو کھول دینے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن اللہ ان لوگوں کو پورا پورا دے گا ان کا واقعی بدلہ اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے کھول کر بیان کرنے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس دن اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا اور ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day Allah will give them the full recompense they deserve, and they will realize that Allah is the very Truth, Who makes the Truth manifest.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

On that day Allah will give them their rightful recompense in full, and they will know that Allah is the Very Truth who makes all things manifest.

— Muhammad Taqi Usmani

On that day Allah will give them their rightful recompense in full, and they will know that Allah is the Very Truth who makes all things manifest.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On that Day Allah will pay them the recompense of their deeds in full, and they will know that Allah, He is the Manifest Truth.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On that day Allah will pay them their just due, and they will know that Allah, He is the Manifest Truth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That Day, Allah will pay them in full their deserved recompense, and they will know that it is Allah who is the perfect in justice.

— Saheeh International

On that day God will give them due recompense and they will know that God is the Supreme Judge.

— Muhammad Sarwar

On that day Allah will pay back to them in full their just reward, and they shall know that Allah is the evident Truth.

— Muhammad Habib Shakir

On that Day Allah shall pay them in full their recompense, and they shall know that Allah! He is the True, the Manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

On that Day Allah will pay them back (all) their just dues, and they will realise that Allah is the (very) Truth, that makes all things manifest.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–25

ام المومنین عائشہ صدیقہ کے گستاخ پر اللہ کی لعنت جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی ؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو صدیق اکبر ؓ کی صاحبزادی تھیں ؓ۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المومنین کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ کی اور ازواج مطہرات کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ کے ہیں۔ واللہ اعلم۔ فرماتا ہے کہ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–25

سورة النُّوْر 21 (الف) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 55، حم السجدہ، حاشیہ 25۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–25

يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَاَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی اس روز جبکہ ان کے خلاف خود ان کی زبانیں اور ہاتھ اور پاؤں بولیں گے اور ان کے جرائم کی شہادت دیں گے جیسا کہ روایات حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز جو گنہگار اپنے گناہ کا اعتراف کرلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیں گے اور محشر کے مجمع عام کی نظروں سے اس کے گناہ کو چھپا دیں گے اور جو وہاں بھی انکار کرے گا کہ میں نے تو یہ کام نہیں کیا، نگراں فرشتوں نے غلط میرے نامہ اعمال میں لکھ دیا ہے۔ تو اس وقت ان کے منہ بند کردیئے جاویں گے اور ہاتھ پاؤں سے گواہی لی جاوے گی وہ بولیں گے اور شہادت دیں گے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–25

آیت 25-23 منافقین کے جرم کی شناعت اور ان کو شدید محصنت یہاں پاکدامن شریف زادیوں کے مفہوم میں ہے اور غفلت سے مراد دنیا کے چھل فریب سے نا آشنا بھلوی بھالی خواتین ہیں۔ اگرچہ ا لفاظ عام ہیں اور مرادان سے وقت کے مسلم معاشرہ کی تمام شریف زادیاں ہیں لیکن ان میں ایک لطیف اشارہ خاص طور پر حضرت عائشہ صدیقہ کی طرف ہے ان الفاظ کا سب سے اعلیٰ مصداق وہی ہو سکتی ہیں۔ رمی کے اصل معنی تو تیر مارنے کے ہیں لیکن یہ کسی پر تہمت اور بہتان لگانے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا یہ۔ یہاں غفلت پر تہمت لگانے کے لئے اس لفظ کیا ستعمال میں ایک خاص بلاغت ہے۔ اس کے اندر یہ کنایہ ہے کہ جو لوگ بھولی بھالی پاکدامن بیبیوں پر تہمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–25

24-1جیسا کہ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر بھی اور احادیث میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–25

13: جو دو تین مخلص مسلمان اپنی سادہ لوحی سے منافقوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے تھے، ان میں ایک مسطح بن اثاثہ ؓ بھی تھے جو مہاجر صحابی تھے، اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔ حضرت صدیق اکبر ان کی مالی مدد فرمایا کرتے تھے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ مسطح ؓ نے بھی حضرت عائشہ ؓ کے خلاف ایسی باتیں کی ہیں تو انہوں نے قسم کھالی کہ میں آئندہ ان کی مالی مدد نہیں کروں گا، حضرت مسطح سے غلطی ضرور ہوگئی تھی، لیکن پھر انہوں نے سچے دل سے توبہ بھی کرلی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں متنبہ فرمایا کہ ان کی مالی مدد نہ کرنے کی قسم کھانا ٹھیک نہیں ہے۔ جب انہوں نے توبہ کرلی ہے تو ان کو معاف کردینا چاہیے۔…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق (24 : 25) ” اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھر پور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں “۔ اور اس دن اللہ ان کو شرمندہ کرے گا ‘ اور یہ ان کی مناسب سزا ہوگی کیونکہ انہوں نے بےگناہوں کو شرمندہ کیا تھا۔ ان کا پورا پورا حساب ان کو دیا جائے گا اور اس دن ان کو پھر ان باتوں کا یقین آجائے گا جن کا انہیں یقین نہ آرہا تھا۔ ویعلمون ان اللہ ھو الحق المبین ” اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ حق ہے سچ کو سچ کو کر دکھانے والا “۔ واقعہ افک کے اس سلسلہ کلام کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو اختیار دیا ہے اور جو لوگوں کی عملی زندگی میں موجود ہے اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ ایک خبیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 جو رتی رتی عمل کھول کر سامنے رکھ دیتا ہے اور جس کا حساب بالکل صاف ہے اس کے ہاں کسی طرح کا ظلم وتعدی نہیں۔ یہ مضمون قیامت کے دن سب کو مکشوف و مشہود ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 یَوْمَءِذٍ یُّوَفِّیْہِمُ اللّٰہُ دِیْنَہُمُ الْحَقَّ ” یہاں پر لفظ ”دین“ بدلے کے معنی میں آیا ہے ‘ جیسے سورة الفاتحہ میں ”یَوْمِ الدِّیْنِ“ کے معنی ہیں ”بدلے کا دن۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 دین کا لفظ چار معنوں میں استعمال ہوتا ہے (1) اللہ کی خالصتؤہ اور مکمل حاکمیت (2) بندے کی خالصتؤہ اور مکمل عبودیت (3) قانون سزا و جزاء اور (4) قانون جزا و سزا کا عملاً نفاذ۔ اس آیت میں دین تیسرے اور چوتھے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ اہل عرب کہتے ہیں کما تدین تدن (یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے) یعنی اس دن اللہ تعالیٰ جو ان مجرموں کو بدلہ دے گا۔ وہ ٹھیک ٹھیک جزا و سزا کے اس قانون کے مطابق ہوگا۔ جس کا ذکر قرآن میں بیشمار مقامات مذکور ہے۔ اور ہر شخص کو واضح طور پر یہ معلوم ہوجائے گا کہ اسے جو سزا دی جارہی ہے فی الواقعہ وہ اللہ کے قانون عدل کے مطابق اسی سزا کا مستحق تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–26

آیت نمبر 21 تا 26 ترجمہ : اے ایمان والو تم شیطان کے نقش قدم پر مت چلو یعنی شیطان کے راستوں پر مت چلو یعنی اس کی تلبیس اور فریب میں نہ آؤ، اور جو شخص شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے تو وہ یعنی شیطانی راستہ پر چلنے والا شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے فحش یعنی بےحیائی اور شرعاً نا معقول ہی کام کرنے کو کہے گا اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو اے لوگو تم میں سے کبھی کوئی پاک صاف نہ ہوتا اس وجہ سے کہ تم نے افتراء پردازی کی، یعنی توبہ کے ذریعہ نہ اس گناہ سے درست ہوتا اور نہ پاک ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے گناہ سے اس کی توبہ کو قبول کرکے اور اللہ تعالیٰ تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یومئذ یوفیہم اللہ دینہم الحق اس روز اللہ ان کو (ان کے عمل کا) پورا پورا عوض دے گا ‘ یعنی ٹھیک ٹھیک واجبی بدلہ۔ دین بدلہ ‘ عوض ‘ حق واجب ‘ لازم۔ بعض کے نزدیک دین سے مراد ہے حساب اور الحق سے مراد ہے انصاف والا۔ ویعلمون ان اللہ ہو الحق المبین۔ اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا اور (بات کی حقیقت کو) کھول دینے والا ہے۔ اَلْحَقُّ الْمُبِیْنُ موجودہ حقیقی اصلی ہے۔ تمام چیزوں کو (خواہ وہ جواہر ہو یا عرض) پیدا کرنے والا ہے۔ تمام حقائقِ کائنات کو تھامے رکھنے والا ہے۔ گویا اسی کا وجود اصلی ہے اور ساری کائنات اسی کے وجود کا عکس ہیں۔ اس کی الوہیت کھلی ہوئی ہے الوہیت میں کوئی اس کا شریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(25) اس روز اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا اور اس روز ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیا میں فرمایا تھا وہ حق ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ۔۔ : ”دِيْنَهُمُ“ سے مراد جزا ہے، کیونکہ وہی پوری دی جائے گی۔ دوسری جگہ فرمایا : (ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى) [ النجم : 41 ] ”پھر اسے اس کا بدلا دیا جائے گا، پورا بدلا۔“ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ : اللہ تعالیٰ کی صفت ”الْحَقُّ“ کے دو معنی ہیں، ایک معنی ”ثابت“ ہے، کیونکہ اس کی ذات ہمیشہ سے ہے، نہ اس پر پہلے عدم ہے اور نہ اس پر کبھی فنا ہے، دوسری کسی چیز میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے۔ لفظ ”اَللّٰه“ اور اس کی خبر ”الْحَقُّ“ پر الف لام آنے سے اور ان دونوں کے درمیان ”ھُوْ“ لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 25 ۔ یعنی ان کا حساب اور جز اللہ انہیں پوری پوری دے گی۔ مجاہد نے یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق یعنی حق کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس بناء پر کہ وہ اللہ کی صفت ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اگر لوگون کے خلاف کراہت نہ ہوتی تو بہتر رفع تھا کیونکہ یہ اللہ کی صفت ہے اور حضرت ابی کی قرأت کی موافقت بھی ہے۔ یہ اس لئے کہ جریر بن حازم نے کہا : میں نے حضرت ابی کے مصحف میں دیکھا، یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق۔ نحاس نے کہا : ا بو عبیدہ سے یہ کلام غیر پسندیدہ ہیکیون کہ اس نے اس سے حجت پکڑی ہے جو سواد اعظم کے مخالف ہے۔ اس میں کوئی حجت نہیں کیونکہ اگر یہ صحیح ہوتا کہ یہ مصحف ابی میں اس طرح ہے تو یومئذ یوفیھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یومئذ یوفیہم اللہ دینہم الحق “ سے مراد ہے ان کا حساب اور قرآن میں جہاں بھی دین کا لفظ ہے اس سے حساب مراد ہے۔ 2۔ عبد بن حمید والطبرانی نے قتادہ (رح) سے آیت ” یومئذ یوفیہم اللہ دینہم الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو حق اعمال پر ان کے حق پر ہونے کی وجہ سے ان کو پورا پورا اجر دے گا اور باطل پرستوں کو ان کے باطل اعمال پر ان کے باطل ہونے کی وجہ سے پورا پورا اجر دے گا۔ 3۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ” الحق “ کو رفع کے ساتھ۔ 4۔ الطبرانی وابن مردویہ نے بہز بن حکیم (رح) سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] يُّوَفِّيْهِمُ [ پورا پورا دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] دِيْنَهُمُ الْحَقَّ [ ان کا برحق بدلہ ][ وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ لوگ جان لیں گے ] اَنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ ][ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ : ہی واضح حق ہے ][

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(یَوْمَءِذٍ یُّوَفِّیہِمْ اللّٰہُ ) (الایۃ) اس روز اللہ تعالیٰ ان کا پورا پورا بدلہ دے دیگا جو ان کا واقعی بدلہ ہوگا۔ یہ بدلہ عذاب کی صورت میں سامنے آئے گا اور اس دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ صحیح اور ٹھیک فیصلہ دینے والا ہے اور وہ حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے۔ یہاں دنیا میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میرے اعمال کا محاسبہ نہیں ہوگا یہ اس کی جہالت اور ضلالت کی بات ہے قیامت کے دن جب محاسبہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے سامنے آجائیں گے جو بالکل حق اور صحیح ہونگے، مجرمین یہ جان لیں گے کہ ہمارا یہ سمجھنا کہ ہماری حرکتوں کا کسی کو پتہ نہ چلے گا غلط نکلا اللہ تعالیٰ نے سب کو ظاہر فرما…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–26

بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–25

23:۔ ” ان الذین یرمون الخ “ یہ منافقین کے لیے تخویف دنیوی و اخروی ہے وہ دنیا اور آخرت میں خداوند تعالیٰ کی لعنت کا مورد ہیں اور آخرت میں انہیں ہولناک عذاب میں بھی مبتلا کیا جائیگا اس سے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مراد ہے جو واقعہ افک کا سرغنہ تھا۔ قال مقاتل ھذا خاص فی عبداللہ ابن ابی المنافق (معالم ج 5 ص 64، خازن ص 65) ۔ ” یوم تشھد الخ “ ظرف لغو یا ” عذاب عظیم “ سے متعلق ہے قیامت کو جب یہ منافق اپنے افعال قبیحہ اور اعمال شنیعہ کے ارتکاب سے انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے گویائی کا اختیار سلب کرلے گا اور ان کے جوارح کو بولنے کی قوت عطاء فرما دے گا۔ چناچہ ان کے ہاتھ پاؤں اور زبان ان کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–26

ربط آیات : گزشتہ دروس میں افک کا واقعہ بیان ہوا ہے ۔ یہ منافقوں کی سازش تھی جس کی لپیٹ میں بعض مخلص مسلمان بھی آگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں ملوث ہونے والے منافقوں اور مسلمانوں کو سخت ترین الفاظ میں مذمت بیان کی ہے مسلمانوں پر حد قذف جاری ہوئی اور اللہ نے ان کی توبہ بھی قبول فرمائی۔ پھر اللہ نے تنبیہ کی کہ اس کے جاری کردہ قوانین کی پابندی کرو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ شیطان ہمیشہ بےحیائی اور برائی کی تلقین کرتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان اور اس کی مہربانی ہوئی کہ اس نے تمہیں پاک کیا۔ تمہیں پاکیزہ قانون عطا کیا اور موقع دیا کہ آئندہ ایسی کسی سازش میں شریک نہ ہوں۔ پھر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَىِٕذٍ يُّوَفِّيْہِمُ اللہُ دِيْنَہُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللہَ ہُوَالْحَقُّ الْمُبِيْنُ۝ 25 وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( وی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَوْمَئِذٍ یُّـوَفِّیْہِمُ اللّٰہُ دِیْنَھُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْحَقُّ الْمُبِیْنُ ۔ (النور : 25) (اس دن اللہ تعالیٰ انھیں ان کا پورا بدلہ دے گا جس کے وہ حقدار ہیں اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق اور واضح کردینے والا ہے۔ ) دین سے مراد وہ بدلہ اور جزاء ہے جو ان کے کرتوتوں کے باعث ان پر لازم ہوچکی ہے اور جس کے وہ ہر طرح سے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس میں ان کے لیے کوئی کمی بیشی نہیں کرے گا، نہ کوئی رعایت ہوگی اور نہ کوئی زیادتی کی جائے گی۔ آج تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ نہ وہ اس کو سراپا حق و عدل سمجھتے ہیں اور نہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں سزا۔ سابقہ آیات میں حضرت عائشہ ؓ کے حوالہ سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے تہمت طرازی سے بچا کریں۔ اب تمام پاکدامن مومن عورتوں کے بارے میں اصول بیان کیا گیا ہے کہ جس نے پاکدامن، بیخبر بھولی بھالی مسلمان خواتین پر تہمت لگائی ان پر اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں لعنت کریں گے اور ان کے لیے عظیم تر عذاب ہوگا۔ ممکن ہے کہ دنیا میں یہ لوگ اپنی چرب لسانی یا کسی وجہ سے سزا سے بچ جائیں لیکن انہیں وہ دن یاد رکھنا چاہیے جس دن ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کردار کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25: یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْھِمُ اللّٰہُ دِیْنَھُمُ الْحَقَّ (اس دن اللہ تعالیٰ ان کو ان کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے گا) یومئذ نصب کی صورت میں دینؔ کی صفت ہے۔ اور دین کا معنی جزاء یعنی عوض ہے اور الحقؔ وہ واجب و لازم جس کے وہ مستحق ہیں۔ قراءت : مجاہد نے رفع کے ساتھ پڑھا اور لفظ اللہ کی صفت قرار دیا۔ جیسا کہ قراءت میں یہ بھی جائز ہے کہ الحق کو اللہ ؔ کی صفت بنائیں اور مدح کی بناء پر منصوب پڑھیں۔ وَیَعْلَمُوْنَ (اور وہ جان لیں گے) اس وقت : اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ (کہ اللہ تعالیٰ ہی بات کو ٹھیک کھول دینے والے اور ٹھیک فیصلہ کرنے والے ہیں) شکوک کے ازالہ اور علم ضروری کے حصول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 25۔ یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق، ، یعنی ٹھیک ٹھیک واجبی بدلہ۔ بعض نے کہا کہ انصاف والا فیصلہ۔ ویعلمون ان اللہ ھوالحق المبین، انکی حقیقت واضح ہوجائے گی جو کچھ انہوں نے دنیا میں شمار کررکھا ہے حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا عبداللہ بن ابی (دین کی صداقت) میں شک کرتا تھا۔ قیامت کے دن اس کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق مبین ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–25

23۔ 25:۔ شروع سورت میں اس طرح کے جھوٹا عیب لگانے والوں کے ذکر میں توبہ کا تذکرہ بھی فرمایا ہے اور یہاں ان آیتوں میں توبہ کا تذکرہ نہیں ہے اس کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے کہ جس بہتان کا اس سورت میں ذکر ہے ‘ اس بہتان میں دو طرح کے آدمی تھے ‘ کچھ تو عبداللہ بن ابی منافق کی طرح کے تھے جو حقیقت میں مسلمانوں کے بدخواہ تھے اور کچھ لوگ مسلمان تھے ‘ جو حقیقت میں تو مسلمانوں کے بدخواہ نہیں تھے مگر منافقوں کی سنی سنائی باتوں پر اس بہتان کے چرچے میں شریک ہوگئے تھے مثلا جیسے حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی تفسیر کے موافق شروع سورة کی آیتوں میں ان عیب لگانے والوں کا ذکر ہے جو حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–26

آیت (11 چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون ‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنھما پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح ‘ سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔ اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ میں تھے ‘ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق ؓ عنھما بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ‘ حضرت عائشہ ؓ عنھما کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–25

غریب رشتہ دار کی اعانت نہ چاہتے ہوئے بھی جاری رہے قول باری ہے : (ولا یاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یوتوا اولی القربیٰ ) تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ داروں کی مدد نہیں کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے زیر پرورش دو یتیموں کے سلسلے میں ہوا تھا ۔ حضرت ابوبکر ؓ ان کی کفالت کرتے تھے ان میں سے ایک کا نام مسطح بن اثاثہ تھا۔ ان دونوں نے بھی حضرت عائشہ ؓ پر بہتان طرازی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کی برات نازل فرمادی تو…… حضرت ابوبکر ؓ نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–25

38 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد رکھیں یہ لوگ اس یوم عظیم کو جس دن کہ ان کی اپنی زبانیں ان کیخلاف گواہی دیں گی "۔ یعنی اس روز ان کی زبانیں ان کے ارادئہ ومرضی کے مطابق نہیں بلکہ حق کے مطابق بولیں گی۔ اور سچ سچ حقیقت واقعہ بیان کردیں گی۔ جس کے بعد ان کے لئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی طرح ان کے ہاتھ پاؤں بھی انکے خلاف گواہی دیں گے۔ سو اس روز ان کے جرائم کے اثبات کیلئے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ خود انکے اندر کی یہ گواہیاں ان کے جرائم کے اثبات کیلئے کافی ہونگی۔ سو آج یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف جن سازشوں اور ریشہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–26

شیطان کی چالوں سے اللہ کا فضل بچا سکتا ہے تشریح : ان آیات میں واقعہ افک کی کچھ وجوہات بیان ہوئی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ شیطان کی شرارت ہے۔ شیطان تو ہر وقت اور ہر صورت سے انسان کو بہکانے میں لگا رہتا ہے۔ کیونکہ وہ تو انسان کا پکا دشمن ہے اور کچھ انسانی کمزوری ہے کہ وہ جلدی شیطان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر میرا فضل میری رحمت اور میری مدد انسان کو میسر نہ ہو تو اکثر و بیشتر انسان اس کے شکار ہوجائیں۔ افواہیں ‘ بدگمانیاں اور فتنے یہ سب شیطان کے راستے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ افک بھی تھا۔ جس کی وجہ سے بڑا ہنگامہ ہوا کئی نیک لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–26

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اے مسلمانو ! شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کہ جو بھی شیطان کی بات سنتا ہے یا اس کے ساتھ چلنے لگتا ہے تو شیطان اسے بےحیائی اور برائی کا مشورہ دیتا ہے یا ایسے امور اختیار کرتا ہے اور ایسے ڈھنگ سے راہ دکھاتا ہے کہ وہ بےحیائی اور برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے لہذا معاشرے میں بےحیائی پھیلانے والے سارے کام یہ ثقافت کے نام پر راگ رنگ کی محفلیں عریانیت اور فحش فلمیں یہ سب اسی کا شاخسانہ ہیں اور ایمان والے بندے کو ان کا ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا ورنہ یہ اس کا ایمان بھی ضائع کریں گے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی ان کی زد سے نہ بچتا نہ اسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ یعنی سچ کو سچ کر دکھانے والا ہے۔ واضح رہے کہ قرآن میں ہر مقام پر ” دینھم “ کے معنی حسابہم کے ہیں۔ (ابن کثیر، عبن ابن عباس)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:25) یوفیہم اللہ۔ یوفی فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ توفیۃ تفعیل سے مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اللہ فاعل۔ اللہ ان کو پورا پورا دے گا۔ دینہم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یوفی کا مفعول ثانی۔ بمعنی جزا ان کا بدلہ۔ الحق۔ منصوب بوجہ صفت دین موصوف کے۔ پورا پورا۔ واجب۔ جس کے وہ مستحق ہیں یعنی اس روز اللہ تعالیٰ ان کو ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا۔ الحق المبین۔ یعنی ٹھیک ٹھیک صحیح فیصلہ کرنے والا۔ اور ہر امر کے پہلو کو ب وضاحت تامہ بیان کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–26

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : لاتتبعوا (تم پیچھے نہ چلو۔ تم اتباع نہ کرو) ‘ خطوات (خطوط) قدم۔ نقش قدم ‘(الفحشاء (فحش) بےحیائی کے کام ‘ مازکی (صاف ستھرانہ ہوتا) ‘ لا یاتل (ایتلائ) قسمیں نہ کھائیں ‘ اولی الفضل (حیثیت والے) ‘ السعۃ (گنجائش والے۔ وسعت والے) الا تحبون ( کیا تم پسند نہیں کرتے) ‘ المحصنت (المحسنۃ) پاک دامن ‘(الغفلت) (بےخبر۔ انجان۔ بھولی بھالی) ‘ السنۃ (لسان) زبانیں ‘ ایدی (دونوں ہاتھ) ‘ ارجل (رجل) پاؤں ۔ یوفی (وہ پورادے گا) ‘ الخبیثات ( گندی عورتیں) الطیبت (پاک صاف ستھری عورتیں) ‘ مبرءون (بری ہونے والے ۔ پاک صاف) ۔ تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 : شیطان جو انسان کا ازلی کھلا دشمن ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–26

سیدہ عائشہ ؓ کی عظمت۔ (ف 2) شروع قصہ سے یہاں تک حضرت عائشہ عنہا کی برات میں اللہ تعالیٰ نے یہ پندہ آیتیں نازل فرمائیں علماء اسلام کا یہ فیصلہ ہے کہ اتنی برات کے بعد جو فرقہ حضرت عائشہ کو اب بھی عیب لگائے گا وہ قرآن شریف کا منکر فرقہ ہے اور اس فرقہ کے کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کیونکہ وہ فرقہ قرآن کی آیتوں کا منکر ہے اس کے بعد اب اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ پاکدامن بیخبر ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں تو یہ پاکدامن عورتیں ایسی باتوں سے بالکل بیخبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پارسائی اور پاکدامنی کی کامل طور پر تعریف کی ہے اور فرمایا کہ عیب لگانے والے دنیا میں ملعون اور مردود ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–25

[22] سیّدنا مسطح ؓ ایک نادار صحابی تھے۔ وہ مہاجر تھے، بدری تھے اور سیّدنا ابوبکر ؓ کے عزیز بھی تھے۔ سیّدنا ابوبکر ؓ ان کی مالی امداد کرتے رہتے تھے مگر کیونکہ سیّدنا مسطح ؓ نے تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا اس لئے سیّدنا ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ وہ ان کی کوئی مدد نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–25

(ف 3) اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ پرہیزگاروں اور پاکباز عورتوں کو متہم کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ یہ دین اور دنیا میں لعنت اور سخت عذاب کا موجب ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پرہیزگار اور ایماندار مردوں اور عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ ان کی تذلیل ملعونیت ہے اور عذاب عظیم کا باعث ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) اس دن یہ لوگ جس سزا کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ وہ سزا ان کو پوری پوری دے گا اور اس دن ان کو معلوم ہوجائے گا اور وہ یہ بات جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات برحق ہے اور وہی ہر بات کی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے بعض مفسرین نے ان آیتوں کو عموم پر حمل کیا ہے کہ جو لگ عفائف اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان کے لئے ان آیتوں میں وعید بیان کی گئی ہے اور بعض مفسرین نے بیوی عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ آیتوں کا تعلق ظاہر کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو عائشہ صدیقہ ؓ کی برات نازل ہونے کے بعد بھی ان کے خلاف تہمت کا اظہار کریں گے او عیب لگائیں گے ان ک سزا یہ ہوگی کہ وہ دارین میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

ف 6۔ یہ آیتیں غیر تائبین کے بارے میں ہیں کہ نزول آیت کے بعد بھی اعتقاد افک سے باز نہیں آئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کی ان کو پوری پوری جزاء دی جائے گی : 35۔ زیر نظر آیت اور اس جیسی قرآن کریم کی دوسری آیتیں انسان کے ہر عمل کی جزا سزا کے لئے دلیل ہیں اور بلاشبہ انسان جو کچھ اس زندگی میں کرتا ہے اس کے نتیجہ سے اس کو دوچار ہونا لازم وضروری ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر انسان کے لئے اس کے ہر ہر عمل کی علیحدہ علیحدہ جزاء وسزا ہوگی نہ تو اس کی عقل تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی قرآن وسنت میں اس کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے اس لئے کہ اس طرح تو کوئی ایک انسان بھی خواہ وہ کتنا ہی پاکباز اور پرہیزگار کیوں نہ ہو سزا سے نہیں بچ سکتا اور یہ نظریہ قرآن کریم اور احادیث میں کہیں بھی نہیں پیش کیا گیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْ‌جُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿24﴾ On the Day their tongues, their hands and their legs will testify against them of what they used to do. - 24:24. The Day on which their own tongues, hands and feet will speak against them and will testify against their crimes, they will be punished precisely according to the crimes they had committed. It is related in Ahadith that on the Dooms Day those who will admit their sins will be pardoned by Allah Ta’ ala, and He will conceal their sins from the crowd of people. If anyone will deny…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–25

21. The word ghafilat as used in the text means the women who are simple, unpretentious souls, who do not know any artifice, who have pious hearts and have no idea of immorality. They cannot even imagine that their names could ever be associated with any slander. The Prophet (peace be upon him) has said: To slander chaste women is one of the seven deadly sins. According to another tradition cited by Tabarani from Huzaifah, the Prophet (peace be upon him) said: To slander a pious woman suffices to ruin the good deeds of a hundred years. 21a For explanation, see (E.N. 55 of Surah YaSin) and…

Read the full tafseer →