Explained with ayahs 84–90
اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے
اللہ تعالیٰ جل وعلا اپنے وحدانیت، خالقیت، تصرف اور ملکیت کا ثبوت دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ معبود برحق صرف وہی ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے پس اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیں تو وہ سات لفظوں میں اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرے گے اور اس میں کسی کو شریک نہیں بتائیں گے۔ آپ انہیں کے جواب کو لے کر انہیں قائل کریں کہ جب خالق، مالک، صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر معبود بھی تنہا وہی کیوں نہ ہو ؟ اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ واقعہ یہی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو بھی مخلوق الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
سورة الْمُؤْمِنُوْن 78
یعنی کیوں یہ بات نہیں سمجھتے کہ پھر اس کے سوا کوئی بندگی کا مستحق بھی نہیں ہے، اور اس کے لیے زمین کی اس آبادی کو دوبارہ پیدا کردینا بھی مشکل نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا (قادر اور منعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (کہ آرام بھی برتو اور دین کا بھی ادراک کرو لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو (کیونکہ اصلی شکر یہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور دوبارہ قیامت میں زندہ کرنے کا انکار نہ کرتے) اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب (قیامت میں) اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی) اور وہ ایسا ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے رات اور دن کا گھٹنا بڑھنا سو کیا تم (اتنی بات) نہیں سمجھتے (کہ یہ دلائل قدرت توحید اور قیامت میں دوسری زندگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
آیت 85-84
منکرین کا تضاد فکر
اب یہ ان منکرین کے تضاد فکر کو نمایاں کیا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو یہ آسمان و زمین کا خاق ومالک اور مختار کل خدا ہی کو مانتے ہیں دوسری طرف یہ ایسی باتیں بھی مانتے ہیں جو اس کے بالکل ضد ہیں یا ان باتوں کا انکار کرتے ہیں جو ان کے اس مسلمہ کے لازمی نتیجہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مشرکین عرب کے متعلق ہم یہ بات اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کا خالق ومالک اور مصرف حقیقی تو صرف خدا ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ وہ شرک کی ان اقسام میں بھی مبتلا تھے جن کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ رہی قاکمت تو اس کو اول تو وہ ایک نہایت مستبعد چیز سمجھتے تھے اور اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
83-1یہ سب لکھی ہوئی حکایتیں، کہانیاں۔ یعنی دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ کب سے ہوتا چلا آ رہا ہے، ہمارے آباؤ اجداد سے، لیکن ابھی تک روبہ عمل نہیں ہوا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ کہانیاں ہیں جو پہلے لوگوں نے اپنی کتابوں میں لکھ دی ہیں جو نقل در نقل ہوتی چلی آرہی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
28: کفار عرب مانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے، اس کے باوجود مختلف خداؤں کے بھی قائل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
8 کہ جس کا قبضہ ساری زمین اور زمینی چیزوں پر ہے۔ کیا تمہاری مشت خاک اس کے قبضہ سے باہر ہوگی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
آیت 84 قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ”
اس سورة مبارکہ کا یہ آخری حصہ بہت ہی پر جلال ہے۔ قاری محمد صدیق المنشاوی ان کا تعلق مصر سے ہے نے ان آیات کی تلاوت ایسے ُ پر سوز انداز میں کی ہے کہ اسے سنتے ہوئے آنسو ضبط کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
83 یعنی انھیں خود اس بات کا اعتراف ہے کہ زمین اور اس میں جو کچھ موجود ہے وہ اللہ ہی ملکیت ہے وہ خود بھی جو زندہ ہیں اور اس زمین پر چل پھر رہے ہیں اور وہ بھی جو مر کر زمین کے اندر چلے گئے ہیں خواہ وہ مٹی میں مل کر مٹی ہی بن چکے ہوں سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ پھر وہ یہ بات کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ اس مٹی سے جس میں ان کا وجود مل چکا ہے انھیں دوبارہ پیدا کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
78۔ (اور کیوں نہیں یہ شرک سے دستبردار ہوجاتے ہیں) اللہ یعنی ایک رب الارباب کے وجود سے انکار کرکے چند خداؤں کا ماننا دنیا میں شاذ ونادر ہی رہا ہے۔ ورنہ عموما شرک کے معنی تو بس یہ رہے ہیں کہ ایک طرف اقرار ایک رب الارباب کا بھی ضاری ہے اور دوسری طرف کائنات کو الگ الگ شعبوں میں تقسیم کرکے ایک ایک شعبہ کا ایک ایک مستقل خدا یا دیوتا مانا جاتا رہا ہے۔ زمین کا دیوتا الگ۔ آسمان کا الگ۔ ہوا کا دیوتا الگ۔ پانی کا دیوتا الگ۔ وقس علی ھذا۔ قرآن گرفت اسی عام وعالمگیر مشرکانہ ذہنیت پر کررہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
آیت نمبر 78 تا 92
ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →سیقولون للہ کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے پھر اس اقرار کے بعد۔
قل افلا تذکرون۔ آپ ان سے کہئے (کہ جب اللہ ہی کا سب کچھ ہے) تو پھر تم کیوں غور نہیں کرتے کہ جس نے زمین اور زمین کے باشندوں کو پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہوگا اعادۂ ایجاد کی قدرت کا انکار کیا معنی رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(85۔ 86) وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ کے ہیں تو آپ ان سے فرمائیے کہ پھر کیوں غور وفکر نہیں کرتے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور آپ ان سے یہ بھی فرمایئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ ان سات آسمانوں کا مالک اور عالی شان عرش کا مالک کون ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَآ۔۔ : جب کفار نے اتنی شدت کے ساتھ قیامت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے ان باتوں کا اقرار کروائیں اور ان کی زبان سے کہلوائیں جنھیں وہ جانتے پہچانتے اور مانتے ہیں، جنھیں تسلیم کرنے کی صورت میں انھیں لازماً قیامت کے دن زندہ ہونے کا اقرار کرنا پڑے گا۔ چناچہ فرمایا، ان سے کہہ اگر واقعی تم کچھ جانتے ہو تو بتاؤ یہ زمین اور اس میں جو کچھ ہے، اس کا مالک کون ہے ؟
قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ : ”تَذَکُّرٌ“ (تفعّل) کا اصل معنی یاد کرنا ہے۔”تَذَكَّرُوْنَ“ اصل میں ”تَتَذَکَّرُوْنَ“ ہے، یعنی تو پھر تم اپنی فطرت میں رکھی ہوئی اس بات کو یاد کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–89
آیت نمبر 80-89 ۔
اللہ کا ارشاد ہے : وھوا لذی یحیٖ ویمیت ولہ اختلاف الیل والنھار دن اور رات کو اس نے مختلف بنایا جیسے تیرا قول ہے لک الاجر والصلۃ تجھے اجر دیا جائے گا اور صلہ دیا جائے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دن رات کے اختلاف سے مراد نور وظلمت میں مختلف ہونا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد اس کا تکرار ہے دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ پانچواں احتمال یہ ہے کہ ان میں جو سعادت وشقاوت اور گمراہی وہدایت گزرچکی ہیں اس کا اختلاف مراد ہے۔ افلا تعقلون۔ کیا تم اس کی قدرت، ربوبیت اور وحدانیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس کی مخلوق سے اس کا شریک ہونا جائز نہیں وہ دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
1۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا ابن ابی کعب ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ ہر جگہ الف کے بغیر ہے۔
2۔ ابو عبید وابن المنذر نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف الامام میں جو لوگوں کے لیے لکھا گیا سب جگہ للہ بغیر الف کے ہے۔
3۔ ابن ابی داوٗد فی المصاحف اسید بن زید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں آیت ” سیقولون للہ “ تینوں جگہوں پر للہ بغیر الف کے ہے۔
4۔ عبد بن حمید نے یحییٰ بن عتیق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن کے مصحف میں تین جگہ للہ بغیر الف کے لکھا ہوا دیکھا۔
5۔ عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے للہ کو بغیر الف کے…
Read the full tafseer →سَيَقُوْلُوْنَ (ضرور وہ سب کہیں گے ) لِلّٰهِ (اللہ کے لیے) قُلْ (آپ کہہ دیں) اَفَلَا (تو کیا نہیں) تَذَكَّرُوْنَ (سب نصیحت حاصل کرو )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–90
اللہ کی تخلیق کے مظاہرے، منکرین بعث کی تردید
گزشتہ آیات میں منکرین کے کفر اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر اور امکان بعث پر دلائل قائم فرمائے ہیں اور مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات جلیلہ کا اقرار کرایا ہے اور انہیں بار بار متوجہ فرمایا ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے اللہ کی توحید کے منکر ہو رہے ہیں۔
اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سننے کی قوت دی ہے آنکھیں عطا فرمائی ہیں تمہارے اندر دل پیدا فرمائے ہیں دیکھو یہ کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کی وجہ سے تم پر شکر واجب ہوتا ہے لیکن کم شکر ادا کرتے ہو یوں ہی چلتی ہوئی بات کی طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ کا شکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
68:۔ ” قل لمن الارض الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین اور زمین میں رہنے والی ساری مخلوق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قل افلا تذکرون “ تعلموا ان من فطر الارض و من فیھا کان قادرا علی اعادۃ الخلق وکان حقیقا بان لایشرک بہ بعض خلقہ (مدارک ج 3 ص 96) ۔ ” قل من رب السموت الخ “ یہ تیسرے عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ مشرکین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قل افلا تتقون “ ظالمو ! کچھ تو خدا کا خوف کرو جب تم مانتے ہو کہ ساری کائنات کا خالق ومالک وہی ہے اس سے واضح ہوگیا کہ سب کا کارساز بھی وہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–92
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مشن کا ذکر کیا کہ انہوں نے کس طرح خدا کا پیغام تک پہنچایا اور ایمان و توحید کی دعوت دی۔ اللہ نے ساتھ ساتھ توحید کے مختلف دلائل بھی بیان فرمائے۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے ، اس لئے اللہ نے توحید اور قیامت کے اکٹھے دلائل بھی دیے۔ گزشتہ آیات میں بعض ایسے دلائل کا ذکر تھا جو انسانی مشاہدے میں ہر وقت آتے رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرے ، توحید اور قیامت کا انکار نہ کرے۔ اللہ نے مشرکین کے اس نظریہ کو بھی بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ جب ہم مرکر مٹی میں رل مل جائیں…
Read the full tafseer →سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ 0ۭ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 85
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
تَّذْكِرَةُ
: ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
ترکیب : :۔ للہ قراۃ جمہور میں لام سے ہے اور یہ متن الارض کا جواب ہے اور اخیر دونوں سوالوں کے جواب میں اللہ واقع ہے اور للہ بھی۔ بغیر لام میں لفظ کی رعایت ہے اور لام میں معنی کی لان المعنی فی قولہ رب السموات من السموات، ملکوت میں ت مبالغہ کے لیے بمعنی ملک اذا جواب ہے شرط محذوف کا تقدیرہ لوکان معہ آلھۃ۔
تفسیر : :۔ مسئلہ حشر اور رسالت کو تمام کر کے پھر مسئلہ توحید شروع ہوتا ہے اور مشرکین کے مسلمات سے ہی ان پر الزام قائم کیا جاتا ہے فقال قل لمن الارض اے نبی ! ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے رہنے والے کس کے ہیں وہ یہی کہیں گے کہ اللہ کے۔ کس لیے کہ وہ اللہ
کے قائل تھے تب کہو کہ تم پھر کیوں نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
قُل لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہَ ط قُلْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ۔ (المومنون : 84، 85)
(اے پیغمبر (e) ان سے پوچھئے ! کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے، کس کے ہیں ؟ اگر تم جانتے ہو۔ وہ کہیں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، آپ ﷺ کہئے ! تو کیا تم اس پر غور نہیں کرتے۔ )
مشرکین کا فطری تضاد
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ سے کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ زمین اور اس میں جو کچھ ہے یہ کس کی ملکیت اور کس کے تصرف میں ہے اور اس زمین کو اور اس کے اندر جو کچھ ہے اسے کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور اس کے اندر جو کچھ تصرفات ہورہے ہیں وہ کس کے اختیار میں ہیں ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
فہم القرآن
ربط کلام : زمینی اور عقلی حقائق سے قیامت قائم ہونے کا ثبوت۔
اے پیغمبر ﷺ ! جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان سے استفسار فرمائیں کہ جس زمین پر تم رہ رہے ہو اور جو کچھ اس میں ہے وہ کس کی تخلیق اور ملکیت ہے اس کا یہی جواب دیں گے کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اب فرمائیں کیا پھر تم حقیقت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ؟ ان سے پھر استفسار فرمائیں کہ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ ان کا جواب یہی ہوگا کہ سب کا سب اللہ ہی کا ہے۔ آپ فرمائیں پھر تم اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے سے کیوں نہیں ڈرتے۔ یہاں اہل مکہ کا عقیدہ بتلایا جا رہا ہے کہ اہل مکہ اس بات کے قائل تھے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
اعتراض و دلائل :
84، 85: قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (آپ ان سے کہہ دیں کہ زمین اور جو بھی زمین میں ہے یہ کس کے ہیں۔ اگر تم جانتے ہو) یہ لوگ عنقریب کہیں گے۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ (عنقریب یہ کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے) کیونکہ ان کو اس بات کا توا قرار ہے کہ وہ خالق ہے۔ جب وہ اعتراف خالقیت کرلیں تو آپ فرمائیں۔
قُلْ اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ (کہہ دیجئے کہ پھر تم کیوں غور نہیں کرتے) پھر تمہیں یہ جان لینا ہوگا کہ جس نے زمین کو پیدا کیا اور اس میں تمام اشیاء بنائیں وہ مخلوق کو دوبارہ لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ اس بات کے لائق ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
85۔ سیقولون للہ۔ اور یہ بات ان کے لیے کہنا لازمی ہے کیوں کہ وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں۔ قل ، جب وہ اس بات کا اقرار کریں، تو اس وقت آپ ان سے کہہ دیں۔ افلاتذکرون، وہ یہ جانتے ہیں کہ جوان سب کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ مرنے کے بعددوبارہ ان کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
82۔ 90:۔ حشر کے منکر جو لوگ اب ہیں یا پچھلے زمانہ کے قصے سنتے آئے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ایک قصہ ہے کہ ایک دفعہ مر کر پھر جینا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منکرین حشر سے یہ پوچھا ہے کہ آخر ایک دفعہ تمام جہاں نیست سے ہست جو ہوا ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے ‘ نمرود ‘ فرعون ‘ ان لوگوں کی طرح حشر کا انکار اور خدائی دعویٰ کرتے کرتے مرگئے ‘ کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا تھا یا ان منکرین حشر کے بتوں نے کچھ پیدا کیا ہے۔ جب مجبوری سے یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اسی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح ایک دفعہ سارا جہان نیست سے ہست ہوا ہے ‘ اسی طرح نیک وبد کی جزا وسزا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت نمبر 84
یعنی زندگی بعدالموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے ‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں ‘ توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں ‘ توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دیل بناتے ہوئے ‘ اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو ‘ مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر ‘ جو کہ اس سے آسان تر ہے ‘ برہان ٹھہراتے ہوئے ‘ کہیے ! (لمن الارض ومن فیھا) یعنی زمین ‘ اور زمین کی تمام مخلوقات ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ جمادات ‘ سمندروں ‘ دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ‘ ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے ؟
اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہیں جواب دیں گے ” صرف اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
104 منکرین کی تضاد فکری پر انکو تنبیہ اور توبیخ : سو منکرین کی تضاد فکری پر ان کو جھنجوڑتے ہوئے اور تنبیہ کرتے ہوئے اور ان کے قلب و باطن پر دستک کے لیے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ کہو کیا تم لوگ پھر بھی ہوش میں نہیں آتے ؟۔ کہ مقدمات تو سب مانتے ہو مگر ان پر مرتب ہونے والے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ؟ سو جس نے ابتدائً یہ سب کچھ پیدا کردیا اس کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور جس کا اس سب کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے میں کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور جب یہ سب کچھ انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو پھر یہ کس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
کفار کا توحید ربوبیت کا اقرار
تشریح : ” شروع سے لے کر اب تک اور شاید آئندہ بھی تمام کفارو مشرکین کا خیال اور باتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں یعنی اللہ کے واحد ہونے اور آخرت سے انکار۔ کسی بڑے سے بڑے عالم فاضل مشرک سے یا انتہائی بےعلم جاہل مشرک سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ یہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیے ہیں تو جواب میں فوراً کہے گا اللہ نے۔ تو اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ” عہد الست “ ہر بندے کے لاشعور میں پکی طرح موجود ہے۔ اور پھر اللہ کا یہ کہنا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہیں، یعنی انسان کو پیدا تو حق و صداقت کا علم دے کر ہی کیا گیا ہے۔ بعد میں کئی فرقے ‘ مذہب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
بھلا جس وجود تمہیں ناز ہے اور جس عقل وخرد سے بحث کرتے ہو یہ تم کہاں سے لائے ہو اللہ جل جلالہ ہی تو ہے جس نے تمہارے کان پیدا فرمائے یعنی تمہیں سننے کی قوت بخشی ، دیکھنے کی طاقت دی اور تمہارے سینے میں دل اور اس کے اندر اثرات و کیفیات پیدا کرنے کا جذبہ سمو دیا ، یہ اس کے کتنے بڑے بڑے احسانات تھے مگر اے انسانو تم میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہوں یا اے بنی آدم تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو لیکن یہ یاد رکھو اسی ذات کریم نے تمہیں زمین پہ آباد کر رکھا ہے اپنی زندگی کو دیکھو تمہارے ہر لمحے پہ اس کی قدرت کاملہ کی گرفت تمہیں پتہ دیتی ہے کہ تمہیں واپس اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
12 ۔ یعنی یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ پھر اس کے بغیر کوئی معبود بھی نہیں ہے اور انسانوں کے مرجانے کے بعد اس کے لئے انہیں دوبارہ زندہ کرنا بھی مشکل کام نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
(23:82) لمبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ قبروں سے اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ مرنے کے بعد اٹھا کر کھڑا کئے جانے والے۔ ان۔ نافیہ ہے۔ اساطیر۔ کہانیاں۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ سطور کہلاتی ہے۔ اساطیر الاولین۔ پہلے لوگون کی من گھڑت کہانیاں۔
(23:75) افلا تذکرون۔ پھر کیوں تم غور نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–92
لغات القرآن : آیت نمبر 78 تا 92 :
ذرأ(اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلادیا) ‘ اساطیر (اسطورۃ) قصے کھانیا ‘ یجیر (پناہ دیتا ہے) ‘ السبع (سات) ‘ تسحرون ( تم جادو میں پھنس گئے) ما اتخذ (نہیں بنایا) ‘ لذھب (البتہ جاتا ( البتہ لے جاتا) ‘ لعلا ( البتہ چڑھ دوڑتا) ‘ یصفون (وہ بیان کرتے ہیں) ‘ الغیب ( بن دیکھی حقیقتیں۔ چھپی باتیں) ‘ الشھادۃ ( موجود۔ کھلی باتیں) ‘ تعلی ( وہ بلندو برتر) ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 92 :
اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے جو اس پر اللہ نے کی ہیں تو شاید ان کو شمارنہ کرسکے ان بیشمار صالحیتوں میں سے انسان کو فکر و تدبر کے ساھ سننے ‘ دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکرین حشر نے کہا، کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور بوسیدہ ہڈیاں رہ جاویں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ اے محمد ایسی باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہوتا چلا ایا ہے تو یہ صرف اگلے لوگوں کے قصہ ہیں وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی بےاصل باتیں کرتے تھے تو اے محبوب ﷺ ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے عجائبات مخلوقات کس کی ہیں اگر عقل ہو تو بتلاؤ، تمہاری بات کے جواب میں بےاختیار ہوکر یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ کی ہے اسی نے بنایا اور پیدا کیا تو تم فرماؤ جب تمہارے نزدیک اللہ ان سب باتوں پر قادر ہے ارجس نے زمین اور تمام مخلوقات کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
[36] یعنی کیوں یہ بات نہیں سمجھتے کہ جس کا قبضہ ساری زمین اور اس کی مخلوقات پر ہے اس کے سوا بندگی کا کوئی اور مستحق نہیں اور اس کے لئے زمین کی اس آبادی کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–87
(ف 2) خدا کی ذات اس درجہ ظاہر و باہر ہے کہ اس کا انکار عقلا محال ہے چناچہ ارشاد ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں خلعت وجود دے کر بھیجا ، تمہیں کتم عدم سے نکالا ، اور منصہ شہود پر جلوہ گر کیا ، تم خارج میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے ، اس نے اپنی نیابت کا پیراہن تمہیں بخشا ، کیا اس کے بعد بھی انکار والحاد کے لئے کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟
اس کے بعد تمہیں اس کے حضور ﷺ پیش ہونا ہے ، تاکہ وہ دریافت کرے ، کہ تم نے کیونکر اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا حیات اور موت بھی اس کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے زندہ رکھے ، اور جس کو چاہے چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دے ، اسی طرح کائنات میں جس قدر تبدیلیاں اور انقلابات…
Read the full tafseer →(85) وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے آپ فرمائیے کہ پھر تم غور کیوں نہیں کرتے یعنی جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے پھر اس کے ساتھ اس کی مملوک کو شریک کیوں کرتے ہو اور جس نے ابتدائً زمین کو بنایا وہ اس پر آباد مخلوق کو دوبارہ کیوں نہیں پیدا کرسکتا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ف 1۔ کہ قدرت علی البعث اور توحیددونوں کا تم کو ثبوت ہوجاوے۔
Read the full tafseer →منکرین کے تضاد کو کس خوبی کے ساتھ انہی کی زبانی واضح کرا دیا گیا ؟ :
85۔ قرآن کریم کا یہ وہ اعجاز ہے جو کسی دوسری آسمانی کتاب میں بھی نہیں ملتا کہ وہ منکرین ومعاندین سے بھی بات کرتا ہے تو اپنا انداز بیان اور لہجہ ترش نہیں کرتا ۔ غور کرو کہ اس نے منکرین کے تضاد وفکر کو کس طرح نمایاں کیا اور پھر انہیں کی زبان سے نمایاں کرا دیا کہ ایک طرف تو وہ قیامت کے منکر ہیں اور اس نظریہ کو ایک من گھڑت قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ اس ساری کائنات کے بنانے والے اور اس کا مکمل انتظام سنبھالنے والے اللہ کو بھی اسی طرح مانتے اور تسلیم کرتے ہیں جس طرح خود رسول مانتا اور تسلیم کرتا ہے حالانکہ ان کی یہ دونوں باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–87
وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ
And We have already seized them with punishment, but they did not turn humble to their Lord, nor do they supplicate in humility. (23:76)
In the preceding verse it has been stated that when the unbelievers are subjected to chastisement for their sins, they plead to Allah and the Holy Prophet ﷺ for mercy and when Allah who is Merciful relieves their suffering, they return to their evil practices and wicked deeds. This verse relates a similar instance when the unbelievers were punished for their misdeeds.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
78. That is, if you acknowledge this, why do you not then understand that none but Allah deserves to be worshiped and that when He has once created the earth and all the things in it, it is not difficult for Him to re-create them once again?
Read the full tafseer →