Explained with ayahs 12–16
انسان کی پیدائش مرحلہ وار
اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتدا بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر حضرت آدم ؑ کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔ جیسے فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کرکے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے، کوئی سرخ ہے، کوئی سفید ہے، کوئی سیاہ ہے، کوئی اور رنگ کا ہے۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں۔ آیت (ثم جعلنہ)۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے آیت (ثُمَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
سورة الْمُؤْمِنُوْن 12
تشریح کے لیے ملاحظہ ہوں سورة حج کے حواشی 5۔ 6۔ 9۔
سورة الْمُؤْمِنُوْن 13
یعنی کوئی خالی الذہن آدمی بچے کو ماں کے رحم میں پرورش پاتے دیکھ کر یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہاں وہ انسان تیار ہو رہا ہے جو باہر جا کر عقل اور دانائی اور صنعت کے یہ کچھ کمالات دکھائے گا اور ایسی ایسی حیرت انگیز قوتیں اور صلاحیتیں اس سے ظاہر ہوں گی۔ وہاں وہ ہڈیوں اور گوشت پوست کا ایک پلندا سا ہوتا ہے جس میں وضع حمل کے آغاز تک زندگی کی ابتدائی خصوصیات کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ نہ سماعت، نہ بصارت، نہ گویائی، نہ عقل و خرد، نہ اور کوئی خوبی۔ مگر باہر آ کر وہ چیز ہی کچھ اور بن جاتا ہے جس کو پیٹ والے جنین…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ ، پچھلی تین آیتوں میں انسان کے مبدا یعنی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا۔ اب دو آیتوں میں اس کے معاد یعنی انجام کار کا ذکر ہے۔ آیت مذکورہ میں فرمایا کہ پھر تم سب اس دنیا میں آنے اور رہنے کے بعد موت سے دوچار ہونے والے ہو جس سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 16-15
یہ وہ اصل نتیجہ ہے جس کو سامنے لانے کے لئے اوپر کے تمام مراحل خلقت بیان ہوئے ہیں کہ ان مراحل سے گزرنے کے بعد لازماً ایک دن آتا ہے کہ تم مرتے ہو اور کسی کے لئے بھی اس موت سے مفر نہیں ہے۔ پھر قیامت کا دن آئے گا اور اس دن تم لازماً اٹھائے جائو گے۔ اس اٹھائے جانے کو مستبعد سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے جس خدا کی یہ شانیں تم خود اپنے وجود کے اندر مشاہدہ کرتے ہو اس کے لئے مت ہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے !
ولقد خلقنا فوتکم سبع طرآئق وما کا عن الخق غصلین (17)
طرایق کا مفہوم
طرایق طریقۃ کی جمع ہے طرایق اسرۃ یعنی دھاریوں کے معنی میں آتا ہے، یہاں صفت بول کر موصوف کو مراد لیا ہے جو عربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14-1اس کی کچھ تفصیل سورة حج میں گزر چکی ہے۔ یہاں پھر اسے بیان کیا گیا ہے۔ تاہم وہاں مخلَّقَۃ کا جو ذکر تھا، یہاں اس کی وضاحت، مُضْغَۃ کو ہڈیوں میں تبدیل کرنے اور ہڈیوں کو گوشت پہنانے، سے کردی ہے۔ مُضْغَۃ گوشت کو ہڈیوں سے تبدیل کرنے کا مقصد، انسانی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے کیونکہ محض گوشت میں تو کوئی سختی نہیں ہوتی، پھر اگر اسے ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی رکھا جاتا، تو انسان میں وہ حس و رعنائی نہ آتی، جو ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ اس لئے ہڈیوں پر ایک خاص تناسب اور مقدار سے گوشت چڑھا دیا گیا کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ تاکہ قدو قامت میں غیر موزونیت اور بھدا پن پیدا نہ ہو۔ بلکہ حسن و جمال کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
10: محفوط جگہ سے مراد رحم مادر ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ثم انکم بعدذلک لمیتون (23 : 15) ثم انکم یوم القیمۃ تبعثون (23 : 16) ” پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے ، “۔ یہ موت دنیا کی زندگی کا اختتام ہے اور دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان بھی ایک مرحلہ ہے۔ لہذا برزخ کی زندگی بھی حیات انسانی کی ترقی کا ایک مرحلہ ہے۔ اور برزخ انسانی زندگی کا اختتام نہیں ہے۔
اس کے بعد انسان نے حکم الہی کے مطابق دوبارہ اٹھنا ہے۔ یہ بھی زندگی کا ایک دور ہوگا ، ایک مرحلہ ہوگا لیکن یہ ایک کامل زندگی ہوگی۔ اس زندگی میں کوئی نقص نہ ہوگا ، اس میں خون اور گوشت کی زندگی کی ضروریات درکار نہ ہوں گی۔ نہ اس میں خوف اور بےچینی ہوگی ، نہ اس میں کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ نشیب و…
Read the full tafseer →4 یعنی تمہارا وجود ذاتی اور خانہ زاد نہیں، مستعار اور دوسرے کا عطیہ ہے۔ چناچہ موت آکر سب نقشہ بگاڑ دیتی ہے۔ تم اس وقت اس کے زبردست پنجہ سے اپنی ہستی کو نہیں بچا سکتے۔ یقینا کوئی اور قاہر طاقت تمہارے اوپر ہے جس نے وجود کی باگ اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہے جب چاہے ڈھیلی چھوڑ دے، جب چاہے کھینچ لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14 ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً ”
عَلَقہ کا ترجمہ عام طور پر ”جما ہوا خون“ ہوتا آیا ہے جو کہ غلط ہے۔ لغوی اعتبار سے عربی مادہ علق
ع ل ق سے معلق ‘ تعلق ‘ متعلق ‘ علاقہ وغیرہ الفاظ تو مشتق ہیں لیکن اس لفظ کا جمے ہوئے خون کے مفہوم و معانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دراصل جس زمانے میں یہ تراجم ہوئے ہیں اس میں نہ تو dissection کا کوئی تصور تھا اور نہ ہی ابھی مائیکروسکوپ ایجاد ہوئی تھی ‘ لہٰذا علم الجنین کے بارے میں تمام تر معلومات کی بنیاد ظاہری مشاہدے پر تھی۔ اور چونکہ ابتدائی ایام کا حمل گرنے کی صورت میں رحم سے بظاہر خون کے لوتھڑے ہی برآمد ہوتے تھے ‘ اس لیے اس سے یہی سمجھا گیا کہ رحم…
Read the full tafseer →16 یعنی تمہارا اس دنیا میں آنا بھی تمہارے اپنے اختیار سے نہ تھا بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق تھا اور اب اگر تم دنیا میں رہنا چاہو اور مرنے سے بچنے کی کوشش کرو تو یہ بات بھی ناممکن ہے۔ کیونکہ اللہ کا قانون یہی ہے کہ تمہیں موت آکے رہے گی اور یہاں سے تمہاری اخروی زندگی کا آغاز ہوجائے گا۔ جیسا کہ نطفہ سے تمہاری دنیوی زندگی کا آغاز ہوا تھا۔ بالفاظ دیگر موت دنیوی زندگی اور اخروی زندگی کی سرحد پر واقع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
13۔ یہاں ایجاد یا ابداع اور افناء یا اہلاک اور احیاء تینوں مراتب کا بیان آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 22
ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →ثم انکم بعد ذلک لمیتون۔ پھر تم بعد اس (قصۂ عجیبہ) کے ضرور ہی مرنے والے ہو۔ یعنی گزشتہ تمام
مراحل زندگی طے کرنے کے بعد جب تمہاری زندگی کے خاتمہ کا وقت آجائے گا تو مرجاؤ گے۔ مطلب یہ کہ لامحالہ تم کو موت کی طرف جانا ہے سب موت کی جانب جا رہے ہو۔
میّت اور مائت وہ شخص جو مرنے والا ہو ابھی مرا نہ ہو اور میت وہ شخص جو مرچکا ہو اسی لئے اس جگہ میتونتخفیف کے ساتھ پڑھنا درست نہیں ہے جیسے اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَمیں تخفیف و تشدید جائز نہیں (کذا ذکر البغوی) صاحب قاموس نے لکھا ہے مات یموت (نصر) یمات (فتح) یمیّت (ضرب) مَیِّتٌاور میّت دونوں طرح سے حیٌّکی ضد ہے۔ مات کا معنی سو گیا اور سکون پایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(15۔ 16) اور پھر تم اس عجیب واقعہ کے بعد ضرور مرنے والے ہو اور پھر تم قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ : اگرچہ مٹی اور نطفے سے لے کر موت تک کا ہر لمحہ ہی موت کے بعد زندگی کا شاہد ہے، کیونکہ جسم کا ہر خلیہ جو موجود ہوتا ہے فنا ہوتا اور اس کی جگہ نیا خلیہ وجود میں آتا رہتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے، جس کے دوران انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طرف بھی منتقل ہوتا رہتا ہے، مگر موت و حیات کے اس سلسلے پر غور کرنے والے بہت ہی کم ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے موت کا وہ مرحلہ بیان فرمایا جو ہر شخص اپنے سر کی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ چناچہ ”ثُمَّ“ کے ساتھ اس مہلت کی طرف اشارہ فرمایا جو انسان کو پیدا ہونے کے بعد عمل کے لیے ملتی ہے اور ”إِنَّ“ اور ”لَام“ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت نمبر 15-16
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انکم بعد ذالک لمیتون۔ یعنی خلق اور حیات کے بعد تم مرنے والے ہو۔ نحاس نے کہا : اس معنی میں المائتون کہا جاتا ہے۔ پھر مرنے کے بعد اٹھنے کی خبر دی فرمایا : ثم انکم یوم القیمۃ تبعثون۔ پھر تم قیامت کے روزا ٹھائے جائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مٹی سے شروع کی، آیت ثم جعلنٰہ نطفۃ یعنی آدمی (علیہ السلام) کی اولاد کی پیدائش نطفہ سے ہوئی۔
2۔ عبد بن حمید ووابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ من طین، کے بارے میں فرمایا کہ وہ مٹی جب تو اس کو اپنے ہاتھ میں لے تو اس کا پانی انگلیوں میں سے نکل جائے۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد خلقنا الانسان من سلٰلۃ، سے مراد ہے کہ انسان کو مٹی کے جوہر سے نکالا گیا۔
4۔ ابن جریر وابن…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّكُمْ [ پھر بیشک تم لوگوں کو ] بَعْدَ ذٰلِكَ [ اس کے بعد ] لَمَيِّتُوْنَ [ یقینا مردہ ہونا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
اس کو فرمایا۔ (ثُمَّ اَنشَءْنٰہُ خَلْقًا آخَرَ ) (پھر ہم نے اسے دوسری مخلوق بنا دی) (فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) (سو بابرکت ہے اللہ جو تمام صناعوں یعنی کاریگروں سے بہتر ہے) دوسرے جو کاریگر ہیں وہ تو خود ہی اللہ کی مخلوق ہیں ان کو اللہ نے جیسا چاہا پیدا فرمایا اور ان میں جو کوئی کاریگر کسی طرح کی کوئی کاریگری دکھاتا ہے اسے اس کی کوئی طاقت نہیں ہے کہ کسی چیز کو وجود میں لے آئے۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا فرمودہ جو چیزیں ہیں انہی میں جوڑ توڑ لگا کر اور کچھ تراش خراش کر کوئی چیز بنا لیتے ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل و فہم اور سمع و بصر سے ہوتا ہے۔ (ثُمَّ اِِنَّکُمْ بَعْدَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
14:۔ ” ثُمَّ اِنَّکُمْ بعد ذالِکَ الخ “ یہ انسانی زندگی کا تیسرا دور ہے اور تخویف اخروی ہے یعنی عالم برزخ۔ دوسرے دور کا صراحۃً ذکر نہیں لیکن اشارۃً وہ مفہوم ہورہا ہے۔ ” ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ “ یہ چوتھے دور کا ذکر ہے یعنی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہو گے آخر ایک دن تمہیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد پھر تمہیں زندہ کیا جائے گا اور تم خدا کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے اس لیے حیاء کرو اور خدائے قہار کے عذاب سے ڈرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں اور نوید سنائی ہے کہ جن لوگوں میں یہ اوصاف پائے جائیں گے ان کو کامیابی نصیب ہوگی اور وہ آخرت میں جنت الفردوس کے مالک بن جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسئلہ تخلیق انسانی بیان فرمایا ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق کن کن مراحل کے بعد کی۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان اپنی طبعی عمر پوری کرکے فوت ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے گا اور پھر حساب کی منزل آئیگی اور جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔
انسان کی اولین تخلیق مٹی سے :
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ اس نے…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ
موت
أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة :
فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات
. نحو قوله تعالی:
يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] .
الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا
[ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] .
الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة .
نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] .
الرابع : الحزن المکدِّر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
مگر اس کے بعد ہی منکرین حشر و نشر یہ کہتے ہیں کہ مر کر کون زندہ ہوگا اس لیے اس کے بعد دلائلِ حشر شروع کئے فقال و لقد خلقنا الانسان من سلالۃ الخ کہ ہم نے انسان کو قطرہ منی سے پیدا کیا اور وہ قطرہ مٹی سے بنایا تھا کیونکہ غذائیں جن سے منی پیدا ہوتی ہے مٹی سے بنتی ہیں پھر اس قطرہ کو خون بنایا پھر گوشت کا لوتھڑا بنا کر اس کے ہاتھ پائوں بنائے ‘ ہڈیاں اور پٹھے بنائے اور اس کو انسان بنا کر ماں کے پیٹ سے باہر لائے اور پھر وہ ایک روز مرتا ہے پھر جس نے ایسا کردیا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ ضرور کرسکتا ہے کماقال ثم انکم یوم القیامۃ تبعثون یہ دلیل کا نتیجہ ہے یہاں تک دلائل النفس تھے کہ سب سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ثُمَّ اِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ۔ ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تُبْعَثُوْنَ ۔ (المومنون : 15، 16)
(پھر یقینا تم ان مرحلوں سے گزرنے کے بعد مرنے والے ہو۔ پھر بلا شبہ تمہیں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ )
بحث کا نتیجہ
زندگی کے تمام مراحل جن جن سے انسان اپنی تخلیق سے گزرا ہے ان تمام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس زندگی کا آخر ایک دن خاتمہ ہوجاتا ہے اور تم فرداً فرداً اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور تمہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا کیونکہ تم جانتے ہو کہ دنیا کی ہر چیز ایک دن ختم ہونی ہے اور ہماری زندگی کا بھی یہ آخری مرحلہ ہے۔ لیکن اگر تم پانی کی ایک بوند سے لے کر اپنی زندگی کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
فہم القرآن
ربط کلام : تخلیق انسانی کے مختلف مراحل کا ذکر جاری ہے۔
” لوگو ! گر تمہیں زندگی کے بعد موت کے بارے میں شک ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے۔ پھر تمہاری شکل و صورت بنائی ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک خاص وقت تک رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں کسی کو پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے اور کوئی ضعیف ترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر نہ جان سکے اور تم دیکھتے ہو۔ کہ زمین خشک ہوتی ہے ہم اس پر بارش برساتے ہیں۔…
Read the full tafseer →15: ثُمَّ اِنَّکُمْ بَعْدَذٰلِکَ (پھر تم اس کے بعد) اس کے بعد جو ہم نے تمہارا معاملہ ذکر کیا۔ لَمَیِّتُوْنَ (البتہ مرنے والے ہو) اپنی مدت عمر ختم ہونے پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14۔ ثم انکم بعد ذالک لمیتون۔ میت تشدد کے ساتھ آتا ہے اور مائت جوا سکے بعد کبھی نہ مرے اور ہم عنقریب تمہیں موت دے دیں گے ، میت تخفیف کے ساتھ لیکن اس میں تخفیف جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
12۔ 17:۔ ابوداود، ترمذی کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت جس روایت کو ابن حبان نے صحیح بتلایا 2 ؎ ہے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مٹی ساری زمین سے ہر طرح کی اچھی بری ‘ سخت نرم سب سے لی تھی ‘ اسی تاثیر سے مختلف مزاج مختلف عادت کے انسان اولاد آدم میں پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوں گے ‘ غرض اب دیکھنے میں اگرچہ آدمی کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس کی پیدائش میں مٹی کا اثر بھی ہے جو حضرت آدم سے لے کر قیامت تک سلسلہ بہ سلسلہ چلا آتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی پیدائش کی اصل مٹی اور منی دونوں چیزیں فرمائی ہیں ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند بزار ‘ صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
آیت نمبر 12
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطوار اور مراحل کا ذکر کیا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جد امجد آدم علیہٗ اسلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ (من سللۃ من طین) ، ، اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔ ، ، جو کہ تمم زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنا بریں حضرت آدم علیہ اسلام کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ (ثمہ جعلنہ) ، ، پھر ہم نے اس کو بنایا، ، یعنی جنس آدم علیہ اسلام کو (نطفۃ) ، ، نطفہ، ، جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →17 زندگی کے بعد موت کا آنا ایک طبعی تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس کے بعد تم سب نے بہرحال موت کے گھاٹ اترنا ہے "۔ سو زندگی کے بعد موت ایک طبعی تقاضا ہے جس نے بہرحال اس پر مرتب ہونا ہے اور ہر کسی نے مرنا ہے۔ اور جس طرح تمہاری پیدائش تمہاری چاہت اور مرضی کے بغیر ہوئی اسی طرح تمہاری موت بھی تمہاری خواہش اور مرضی کے بغیر ہوگی۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے اس نے موت کا مزہ بہرحال چکھنا ہے ۔ { کَلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمُوْتِ } ۔ (آل عمران : 185) ۔ سو یہ زندگی عارضی وفانی ہے جو دراصل ابتلاء و آزمائش اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے کمائی اور تیاری کیلئے بخشی گئی ہے۔ اور زندگی کی اس عارضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
انسانی پیدائش کے مختلف مراحل اور قدرت کا کمال
تشریح : آج کے سائنسی تجربات اور تحقیقات انسان کی ابتدا سے انتہا تک قرآن پاک کی بیان کردہ معلومات کے عین مطابق ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر موریس بوکائے قرآنی آیات کی روشنی میں اس تمام سلسلے کو بڑے اچھے انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” لفظ سُلٰلَۃِ کسی ایسی چیز کو ظاہر کرتا ہے جو کشید کی گئی ہو، یعنی جو کسی چیز کا بہترین جزو ہو۔ “ یعنی نطفہ جو مٹی سے حاصل کی گئی خوراک سے بنتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں :
” بیضہ کا بارآور ہونا اور افزائش نسل ‘ ایک خلیے سے وجود پاتے ہیں۔ جو نہایت لمبوترا ہوتا ہے۔ یہ ایک ملی میٹر کے دس ہزارویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ عام حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
1 ۔ یعنی تمہیں دوبارہ زندگی دی جائے گی اور تم اپنی اپنی قبروں سے اٹھائے جائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(23:13) جعلنہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے ہ اصل میں مضاف الیہ ہے جس کا مضاف محذوف ہے اصل میں جعلنا نسلہ ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم لایا گیا ہے۔
نطفۃ۔ اصل میں آب صافی کو کہتے ہیں مگر اس سے مراد مرد کی منی لی جاتی ہے۔ کنایہ کے طور پر موتی کو بھی نطفۃ کہا جاتا ہے۔
قرار۔ ٹھہرنے کی جگہ (یعنی رحم) آرام کی جگہ۔ قرارگاہ ۔ ٹھکانا۔ مکین۔ کون مصدر سے صفت مشبہ (باب نصر) مضبوط۔ محفوظ۔ حصین۔ علقۃ۔ جمے ہوئے خون کی پھٹکی۔ خون کی وہ پھٹکی جو اس میں لگی رہتی ہے معلق ہوتی ہے۔ مضغۃ۔ گوشت کا ٹکڑا۔ بوٹی۔ مضغ مصدر (باب فتح ونصر) بمعنی چبانا۔ مضاغ چبانے کی چیز۔
فکسونا۔ ماضی جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 16 :
سلالۃ (سل) (منتخب چیز۔ خلاصہ۔ نچوڑ) ‘ طین (مٹی) ‘ نطفۃ (ٹپکی ہوئی بوند) ‘ قرار مکین (محفوظ مقام) ‘ علقۃ (جما ہوا خون) ‘ مضغۃ (بوٹی۔ لوتھڑا) ‘ عظام (عظم) (ہڈیاں) ‘ کسونا (ہم نے پہنایا۔ ہم نے چڑھایا) ‘ لحم (گوشت) ‘ انشأنا (ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ خلق (مخلوق) ‘ احسن (زیادہ بہتر۔ زیادہ خوبصورت) ‘ میتون (مرنے والے) ‘ تبعثون (تم اٹھائے جائو گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 12 تا 16 :
موجودہ دور سائنسی ترقیات ‘ ٹیکنالوجی اور نت نئی مشینوں کی ایجاد کا دور ہے۔ معلومات کی دنیا میں انسان کے قدم ہر روز آگے بڑھ رہے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سائنسی ترقیات سے دین اسلام کے کسی اصول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
انسان کی پیدائش کی کیفیت۔ دنیا کو پیدا کرنے کا نتیجہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر ہم نے جوہر کو پانی یعنی نطفہ بنا کر ایک مدت معینہ تک ایک محفوظ مقام پر یعنی رحم میں رکھا، پھر ہم نے اس نطفہ کو جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک گوشت کا ٹکڑا سابنایا، پھر اس میں ہڈیوں کا ڈھانچا بنایا، پھر ڈھانچے پر گوشت چڑھایا، رگیں پٹھے جوڑ وغیرہ سب بنائے اور پتلا تیار ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے اس کو اس پتلے کی عمر، رزق، نیک وبد لکھنے کا حکم جس طرح ہوتا ہے وہ فرشتہ اس کے موافق لکھ لیتا ہے پس کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
[12] آیت 12 کا مطلب یہ ہے کہ نوع انسانی کا آغاز آدم (علیہ السلام) سے کیا گیا جو ایک ایسے جوہر سے بنائے گئے تھے جو مٹی کا خلاصہ تھا۔ پھر آگے نسل انسانی کا سلسلہ توالد و تناسل سے جاری ہوا جیسا کہ سورة سجدہ آیت نمبر 2 میں فرمایا : ثم جعل نسلہ من سلٰلۃ من ماء مھین۔ (پھر ہم نے اس کی نسل نچڑے ہوئے حقیر پانی سے چلائی) چناچہ آیت 14-13 میں ان مدارج کا بیان ہے جن سے رحم مادر میں بچہ گزرتا ہے۔ یہ مدارج چھ ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔
1:۔ نطفہ جو مرد کا جنسی خلیہ (Sperm) فرج اور رحم سے گزرتا ہوا رحم کی نالی (Fallopian Tube) میں داخل ہوتا ہے اور وہاں عورت کے جنسی خلیہ (Ovum) میں داخل ہو کر اس طرح ٹک جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
ایک تشریحی نکتہ :
(ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے انسانی پیدائش اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کس حکمت و دانائی سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلعت وجود عطا فرما کر اس دنیائے عجائب میں بھیجا ہے اس روح وعقل کے مجرمجسمہ کا اٹھان اور درمیان کی حیرت نہ زار منزلیں کیا یہ سب کی سب چیزیں اللہ کی اعلی ترین قوت تخلیق پر دال نہیں ؟
یہاں لفظ علقہ : مگر قرآن حکیم نے جدید ترین جنسیاتی تشریح فرمائی ہے موجودہ حکماء کی رائے ہے کہ نطفہ میں زندگی کے جراثیم ہوتے ہیں اور وہ جراثیم رحم میں پہنچ کر بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ جنس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔
قرآن بھی کہتا ہے کہ ہم اس…
Read the full tafseer →(15) پھر تم ان امور مذکورہ کے بعد یقیناً مرنے والے ہو یعنی ان سب درجات سے گزر کر اور زندگی حاصل ہونے کے بعد ایک دن مرنے والے ہو اس موت کا ہر کافر اور مومن اقرار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔
Read the full tafseer →بیان کردہ سارے مراحل طے کرنے کے بعد انجام موت ہے آپ کا بھی اور میرا بھی :
15۔ (میت) اور (میت) یا (مات) میں فرق یہ ہے کہ (میت) مرنے والے کو کہا جاتا ہے اور (میت) مرے ہوئے کو مطلب یہ ہے کہ گزشتہ تمام مراحل زندگی طے کرنے کے بعد انجام کار تمہارے خاتمہ کا وقت آجائے گا اور تم اس دار فانی سے منتقل ہو کر دارالخلد میں چلے جاؤ گے کہ لامحالہ تم کو موت کی طرف جانا ہے اور ان سارے تطورات میں تم مجبور محض ہو اور ان میں سے ایک دور بھی ایسا نہیں جو تمہاری مرضی سے طے پائے پھر جب تم ان ادوار میں سے کسی پر بھی کنٹرول نہیں رکھتے اور ہر ایک دور سے گزر کر دوسرے میں داخل ہوتے چلے آرہے ہو اور اسی طرح چلتے چلتے جب تم…
Read the full tafseer →ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ
Then, after all this, you are to die - 23:15
The preceding three verses were about the creation of man and this verse and the one which follows is about the life to come. In this verse Allah says that after his creation man will spend a period of time in this world and then will meet his death from which there is no escape. Then He says that man will be raised on the Day of Resurrection
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
12. For explanation see(E.Ns 5, 6 and 9 of Surah Al-Hajj).
13. Now let the disbelievers consider the message of the Prophet (peace be upon him) by observing their own creation, for this will convince them of its truth by proving its doctrine of Tauhid. The origin of man is from a mere inanimate sperm-drop, which undergoes several changes in the womb of the mother. But after this, when it sees the light of the day, it is quite a different creation from the embryo in the womb. Now it can hear, it can see, and in due course of time it can talk and think. Then, when he reaches adulthood and…
Read the full tafseer →