Explained with ayahs 108–111
ناکام آرزو
کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہوگے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہوگا جو دوزخیوں کو ہر کھیل سے مایوس کردے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہوگی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
سورة الْمُؤْمِنُوْن 98
یعنی اپنی رہائی کے لیے کوئی عرض معروض نہ کرو۔ اپنی معذرتیں پیش نہ کرو۔ یہ مطلب نہیں ہے ہمیشہ کے لیے بالکل چپ ہوجاؤ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ ان کا آخری کلام ہوگا جس کے بعد ان کی زبانیں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گی۔ مگر یہ بات بظاہر قرآن کے خلاف پڑتی ہے کیونکہ آگے خود قرآن ہی ان کی اور اللہ تعالیٰ کی گفتگو نقل کر رہا ہے۔ لہٰذا یا تو یہ روایات غلط ہیں، یا پھر ان کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد وہ رہائی کے لیے کوئی عرض معروض نہ کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
لَا تُكَلِّمُوْنِ ، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اہل جہنم کا یہ آخری کلام ہوگا جس کے جواب میں حکم ہوجائے گا کہ ہم سے کلام نہ کرو پھر وہ کسی سے کچھ کلام نہ کرسکیں گے جانوروں کی طرح ایک دوسرے کی طرف بھونکیں گے۔ اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن کعب سے نقل کیا ہے کہ قرآن میں اہل جہنم کی پانچ درخواستیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے چار کا جواب دیا گیا اور پانچویں کے جواب میں حکم ہوگیا لَا تُكَلِّمُوْنِ بس یہ ان کا آخری کلام ہوگا اس کے بعد کچھ نہ بول سکیں گے۔ (مظھری)
Read the full tafseer →قال اخسوا فیھا ولاتکلمون 108
لفظ خساء کتے کو دھتکارنے کے لئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی اس التجا کا یہ جواب ملے گا کہ چلو دفع ہو ؟ اسی میں بڑے رہو اور اب مجھ سے کوئی بات نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
14-1چہرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ انسانی وجود کا سب سے اہم اور اشرف حصہ ہے، ورنہ جہنم تو پورے جسم کو ہی محیط ہوگی۔
14-2کَلَحً کے معنی ہوتے ہیں ہونٹ سکڑ کر دانت ظاہر ہوجائیں۔ ہونٹ گویا دانتوں کا لباس ہیں، جب یہ جہنم کی آگ سے سمٹ اور سکڑ جائیں گے تو دانت ظاہر ہوجائیں گے، جس سے انسان کی صورت بدشکل اور ڈراؤنی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
32: دنیا میں رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کے بارے میں یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ قیامت کا منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑی ہوگی، اور اسے اتنی فرصت نہیں ہوگی کہ وہ رشتہ داروں اور ملاقاتیوں کا حال معلوم کرے۔
Read the full tafseer →قال۔۔۔۔۔۔ ولاتکلمون ” “۔ خاموش ہو جائو ‘ ایک ذلیل شخص کی طرح خاموشی اختیار کرو۔ جس عذاب میں تم لوگ پڑے ہوئے ‘ تم اس کے پوری طرح مستحق ہو۔ یہی تو ہیں آمیز پوزیشن تمہارے لیے بہتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
8 یعنی بک بک مت کرو، جو کیا تھا اب اس کی سزا بھگتو۔ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جواب کے بعد پھر فریاد منقطع ہوجائے گی۔ بجز زفیرو شہیق کے کچھ کلام نہ کرسکیں گے۔ العیاذ باللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
آیت 104 تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ ”
چہروں کے جھلس جانے کے باعث ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
102 خساء کا لفظ کتے اور سور کو دھتکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے ہم پنجابی زبان میں کتے کو دھتکارنے یا دفع کرنے کے لئے در در کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ پھر اس کا استعمال ہر اس شخص کے لئے بھی ہونے لگا جسے حقیر اور ذلیل سمجھ کر دفع ہونے یا نکل جانے کو کہا جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی التجا کے جواب میں فرمائے گا کہ تم اس قدر ذلیل مخلوق ہو کہ تمہارا اس جہنم میں پڑے رہنا ہی مناسب ہے اور دیکھو ! آئندہ مجھ سے کوئی ایسی التجا نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
95۔ کتنی صحیح، موثر وعبرتناک تصویر ہے ! آج کتنے ہی منکر و کافر ہی نہیں، نام کے مسلمان بھی اپنی ” روشن خیالی “ کے زعم میں اسی طرح کا مضحکہ بیچارے سیدھے سادھے دیندار مسلمانوں سے برابر کرتے رہتے ہیں ! (آیت) ” انہ “۔ کلمہ تعلیل کا ہے۔ اس سے محققین صوفیہ نے یہ نکالا ہے کہ اولیاء اللہ کی بڑی شان ہوتی ہے۔ اور مقبولین سے گستاخی و تمسخر کا انجام نار ہے۔ (آیت) ” اخسؤا فیھا “۔ اخساء کا ترجمہ اردو کے کسی ایک لفظ سے دشوار ہے۔ عربی میں یہ لفظ کتے کے دھتکار نے کے موقع پر آتا ہے۔ اے ابعدوا فیھا کما یقال للکلب اذا طرد اخساء (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →قال اخسؤا فیہا ولا تکلمون۔ اللہ فرمائے گا اسی (جہنم) میں ذلت کے ساتھ راندے ہوئے
پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔
اِخْسَءُوْاذلت کے ساتھ چپ رہو۔ یہ دعا کا مقام نہیں ہے اور دور رہو ‘ صاحب قاموس نے لکھا ہے۔ خَسَا الکلبَکتے کو دھتکار کر باہر نکال دیا۔ خَسَءَا الکلبُکتا دور ہوگیا۔ جیسے اِنْخَسَءَادور ہوگیا (باب انفال) گویا خسئا لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ خساء اور خسوء مصدر ہے۔
وَلاَ تُکَلِّمُوْنَ اور مجھ سے کوئی بات مت کرو یا عذاب دور کرنے کی بات مت کرو۔ عذاب دور نہیں کیا جائے گا۔ اس کلام کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے مایوس ہوجائیں گے ‘ ان کی ہر امید ختم ہوجائے گی۔
حسن نے کہا دوزخیوں سے یہ آخری کلام ہوگا…
Read the full tafseer →(108) ارشاد خداوندی ہوگا کہ اسی جہنم میں راندے ہوئے پڑے رہو اور یہاں سے نکلنے کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی کوئی بات نہ کرو۔
Read the full tafseer →قَالَ اخْسَـُٔـوْا فِيْهَا۔۔ :”خَسَأَ یَخْسَأُ (منع) أَيْ ذَلَّ۔“ ”اخْسَـُٔـوْا“ ذلیل رہو، دفع دور رہو۔ یہ لفظ کتے وغیرہ کو دھتکارنے کے لیے بولا جاتا ہے، پھر اس کا استعمال ہر اس شخص کے لیے بھی ہونے لگا جسے حقیر اور ذلیل قرار دے کر دور دفع ہونے کے لیے کہا جائے، یعنی اللہ تعالیٰ انھیں دھتکارتے ہوئے فرمائیں گے کہ اسی جہنم میں ذلیل اور دور دفع رہو اور مجھ سے بات مت کرو۔ بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور یہ ان کا آخری کلام ہوگا، مگر انھی آیات میں آگے ان کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو آرہی ہے : (قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ 112 قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
آیت نمبر 106 تا 108 ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قالو ربنا غلبت علینا شقو تنا اہل مدینہ، ابو عمرو اور عاصم کی قرات شقوتنا ہے اور عاصم کے سوا کو فیوں نے شقاوتنا پڑھا ہے ؛ یہ قرآت حضرت ابن مسعود اورع حسن سے مروی ہے۔ کہا جاتا ہے۔ شقاء وشقا مد اور قصر کے ساتھ اور اس کے معنی میں بہتر قول یہ ہے کہ ہم پر ہماری لذات و خواہشات نفسانی غالب آگئیں۔ لذات اور خواہشات کو شقوۃ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ شقاوت تک پہنچاتی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان الذین یا کلون اموال الیتمی ظلما انما یا کلون فی بطونھم نارا (النساء : 10) کیونکہ یہ عمل انہیں آگ کی طرف لے جاتا ہے اس لئے فرمایا وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
1۔ ابن ابی شیبہ والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطربانی وابن مردویہ والبیہقی فی البعث ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں پر بھوک کو ڈالاجائے گا یہاں تک کہ یہ بھوک کا عذاب اس عذاب کے برابر ہوجائے گا جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں وہ کھانے کو طلب کریں گے تو ان کو ضریع میں سے کھانا دیا جائے گا نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک دور کرے گا پھر وہ کھانے کو طلب کریں گے تو ان کے گلے میں اٹکنے والا کھانا دیا جائے گا وہ یاد کریں گے کہ وہ دنیا میں گلے میں اٹکنے والی چیز کو کسی پینے والی چیز سے پار کرتے تھے پھر وہ پینے والی چیز کو مانگیں گے تو ان کو کھولتا ہو گرم پانلی لوہے کے…
Read the full tafseer →[ قَالَ (فرمایا ][ اخْسَـُٔـوْا (سب ذلیل و خوار پڑے رہو ][ فِيْهَا (اس میں ][ وَلَا (اور نہ) تُكَلِّمُوْنِ ][ تم سب کلام کرو مجھ سے ]
Read the full tafseer →(قَالَ اخْسَؤُا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنِ ) (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اسی میں پھٹکارے ہوئے دور ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو) سنن ترمذی میں ہے کہ اس کے بعد دوزخی ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے اور گدھوں کی طرح چیخنے چلانے اور حسرت اور واویلا کرنے میں لگ جائیں گے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ان کے چہرے بدل جائیں گے، صورتیں مسخ ہوجائیں گی حتی کہ بعض مومن شفاعت لے کر آئیں گے لیکن دوزخیوں میں سے کسی کو پہچانیں گے نہیں۔ دوزخی ان کو دیکھ کر کہیں گے کہ میں فلاں ہوں مگر وہ کہیں گے کہ غلط کہتے ہو ہم تم کو نہیں پہنچانتے۔ (تفسیر ابن کثیر ص 258 ج 3)
(اخْسَؤُا فِیْہَا) کے جواب کے بعد دوزخ کے دروازے بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
79:۔ ” الم تکن الخ “ یہ زجر ہے اور اس سے پہلے یقال لھم مقدر ہے جب انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتے ان سے کہیں گے کیا دنیا میں میری آیتیں تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں اور تم ان کا انکار کرتے تھے۔ ” قالوا ربنا الخ “ جواب میں وہ کہیں گے۔ ہمارے پروردگار ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے ہمارے پروردگار ایک بار ہمیں دوزخ سے نکال کر عمل کرنے کا موقع عطا فرما۔ اب بھی اگر ہم نے ویسے ہی برے کام کیے تو واقعی ہم ظالم ہوں گے پھر جس طرح تو چاہے ہمیں عذاب دے لینا۔ ” قال اخسئوا الخ “ اللہ کی طرف سے آواز آئے گی دور ہوجاؤ اور مت بولو۔ یہ کلمہ تحقیر ہے جس طرح کتے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…
Read the full tafseer →قَالَ اخْسَـُٔـوْا فِيْہَا وَلَا تُكَلِّمُوْنِ 108
خسأ
خَسَأْتُ الکلب فَخَسَأَ ، أي : زجرته مستهينا به فانزجر، وذلک إذا قلت له : اخْسَأْ ، قال تعالیٰ في صفة الكفّار : اخْسَؤُا فِيها وَلا تُكَلِّمُونِ [ المؤمنون/ 108] ، وقال تعالی: قُلْنا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خاسِئِينَ [ البقرة/ 65] ، ومنه : خَسَأَ البَصَرُ ، أي انقبض عن مهانة، قال : خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] .
( خ س ء ) خسات الکلب فخساء میں نے کہتے کو دھکتارا تو وہ دور ہوگیا ۔ اور کسی کو دھکتارنے کیے لئے عربی میں اخساء کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں کفار کے متعلق فرمایا ۔ اخْسَؤُا فِيها وَلا تُكَلِّمُونِ [ المؤمنون/ 108] اس میں ذلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1 ؎ نیک اعمال کا پلہ مراد یہ ہے کہ جس کے نیک اعمال بدعملوں سے زیادہ ہوئے تو ان کو نجات ہے ورنہ جہنم۔ 12 منہ
تفسیر …تناسخ کا ابطال : یہاں سے تناسخ کا صریح ابطال ہوگیا اور یہی مسلک تمام انبیاء کا ہے۔ پھر قیامت کی کیفیت ظاہر فرماتا
ہے فاذا نفخ فی الصور کہ جس رور صور پھنکے گا تو اس روز نہ انسان کا نسب کام آوے گا جیسا کہ دنیا میں رشتہ کا لحاظ ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ فلاں کی اولاد ہے ‘ فلاں قوم اور قبیلے کا ہے اونچی ذات کا ہے ‘ شریف خاندانی ہے یا کم قوم پاجی ہے اور نہ کوئی ان باتوں سے پوچھا جائے گا ‘ وہاں تو انسان کے اعمال اور ایمان سے کام پڑے گا فمن ثقلت موازینہ الخ پھر جس کی نیکیوں کا پلہ بدی…
Read the full tafseer →قَالَ اخْسَئُوْ فِیْھَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِ ۔ (المومنون : 108)
(اللہ تعالیٰ جواب دے گا، دفع ہو، اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ )
خَسَا کا مفہوم اور کلام نہ کرنے سے مراد ؟
خَسَا … کتے کو دھتکارنے کے لیے آتا ہے۔ کفار سے بھی اسی لہجے میں بات کی جائے گی جس طرح کتے سے کی جاتی ہے۔ ان کی بار بار یہ درخواست کہ ہمیں ایک دفعہ دنیا میں جانے کی اجازت دی جائے، اس کا جواب نہایت حقارت سے دیا جائے گا اور تحقیر میں مزید شدت پیدا کرنے کے لیے کہا جائے گا کہ اب اس سلسلے میں مجھ سے کوئی بات مت کرو۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے عذاب میں مبتلا لوگوں کی یہ آخری بات ہوگی۔ اس کے بعد ان کی زبانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں واویلا اور فریادیں کرنا ان کی فریادیوں کے جواب میں ملائکہ اور رب ذوالجلال کا فرمان۔
جہنمی جہنم کے عذاب سے تنگ آکر واویلا اور آہ وزاریاں کریں گے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کیا تمہارے پاس میرے فرامین نہیں پہنچے تھے ؟ جہنمی زاروقطار روتے ہوئے عرض کریں گے ہمارے پروردگار کیوں نہیں ہمیں تیرے احکام اور ارشادات پہنچے لیکن اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہوں میں شامل ہوگئے۔ اے ہمارے رب ہماری فریادیں قبول فرما اور ہمیں جہنم سے نجات عطا فرما۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے اگر ہم پھر نافرمانی کریں…
Read the full tafseer →آخری کلام :
108: قَالَ اخْسَئُوْ ا فِیْہَا (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس میں راندے ہوئے پڑے رہو) ذلت و رسوائی کے ساتھ بالکل خاموشی اختیار کرو۔ وَلَا تُکَلِّمُوْنِ (اور مجھ سے بات نہ کرو) اپنے سے عذاب کو دور کرنے کے سلسلہ میں اس لئے کہ عذاب نہ ہٹایا جائے گا اور نہ اس میں تخفیف ہوگی۔
ایک قول یہ ہے یہ آخری کلام ہوگی جو جہنمی کر پائیں گے پھر کلام نہ ہوگا ہینگتے کی زور دار اور ہلکی آوازیں فقط نکلیں گی۔ (لھم فیھا زفیر و شھیق)
قراءت : ان یحضرونی اور ارجعونی ولا تکلمونی وصل ووقف دونوں حالتوں میں یاءؔ سے پڑھے گئے ہیں۔ البتہ یعقوب وغیرہ نے بغیریاء کے پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →108۔ قال اخسوا ، دور ہوجاؤ، فیھا جیسا کہ کتے کو دور کرنے کے وقت کہاجاتا ہے۔ اخسوا ، در، ولاتکلمون ، اور جو عذاب ہم نے تم پر کیے ہیں ان عذاب کو دور کرنے کی بات مت کرو، یہ عذاب تم سے کبھی کم نہیں کیا جائے گا، اس کلام کے بعد وہ ہر قسم کی امید سے ناامید ہوجائیں گے اور ہمیشہ کے لیے مایوس ہوجائیں گے۔
دوزخیوں کی پکارداروغہ جہنم کا جواب۔
حسن کا قول ہے کہ دوزخیوں سے یہ آخری کلام ہوگا، اس کے بعد وہ کلام نہ کرسکیں گے سوائے دم گھٹنے اور آہیں بھرنے کے اور کوئی بات نہ کرسکیں گے کتوں کی طرح بھونکیں گے نہ خود بات سمجھیں گے نہ اپنی بات سمجھاسکیں گے حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ کہ دوزخی مالک کو پکاریں گے…
Read the full tafseer →108:۔ یہ وہی خفگی کا جواب ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ حاصل اس جواب کا یہ ہے کہ جس وقت یہ لوگ دنیا میں پھر آنے اور نیک عمل کی خواہش اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کریں گے ‘ اس وقت یہ جواب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دے گا جو اس آیت میں ہے معتبر سند سے ترمذی ابوداود اور مستدرک حاکم وغیرہ میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر پہلے تو داروغہ دوزخ سے اپنی موت کی دعا کرنے کی خواہش کریں گے ‘ ہزار برس تک تو مالک داروغہ دوزخ کی طرف سے ان کو کچھ جواب نہ ملے گا ‘ ہزار برس کے بعد یہ جواب ملے گا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر فریاد رس کوئی تمہارا نہیں ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
(آیت نمبر (101
اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
122 دوزخیوں کی تحقیر و تذلیل کا ایک اور منظر : کہ ان کی چیخ و پکار کے جواب میں ان کو دھتکارتے ہوئے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ دفع ہوجاؤ یہاں سے اور ہم سے کوئی بات مت کرو کہ تمہاری کسی بات کا کوئی فائدہ اب تم کو بہرحال نہیں پہنچ سکے گا۔ سو یہ اہل دوزخ کیلئے نہایت تذلیل و تحقیر کا جواب ہوگا۔ " اخسا " اصل میں کتے کو دھتکارنے کیلئے بولا جاتا ہے۔ سو انکو ایسی تحقیر سے کہا جائے گا کہ دفع ہوجاؤ کہ اب یہ عذاب نہ تم سے اٹھے گا نہ کم ہوگا۔ اس طرح ان کو ہمیشہ کے لئے اور قطعی طور پر مایوس کردیا جائے گا۔ اور بعض سلف سے مروی ہے کہ اس کے بعد ان کا بولنا بھی بند ہوجائے گا۔ وہ بس محض گدھوں کی طرف ہنکتے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–108
کیا مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں آسکتے ہیں ؟
تشریح : حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ” کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں پھر دنیا میں واپس کردیا جائے گا “ تو وہ کہتا ہے کہ ” میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ۔ “ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے۔ ” مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ “ (از معارف القرآن جلد 6 صفحہ 331 )
یہ تمام آیات عالم الغیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن کی وضاحت کچھ حدیث اور کچھ قرآنی آیات سے کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں اس دنیا سے جو ایک دفعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
6 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” انہوں نے تم کو میری یاد بھلا دی “ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمہیں میری یاد بھلا دینے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(23:108) اخسؤا۔ خسأ یخسأ خسأ (فتح) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر خسأ الکلب۔ کتے کو دھتکارنا۔ خسات الکلب فخسأ۔ میں نے کتے کو دھتکارا تو وہ دور ہوگیا۔
اخسئوا فیھا۔ دھتکارے پھٹکارے ذلت کے ساتھ اس (جہنم) میں پڑے رہو اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ کونوا قردۃ خسئین 2:65) ذلیل و خوار بندر ہوجائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →دنیا کی عمر۔
(ف 1) ان آیتوں میں اوپر کا جواب یہ ملا کہ جس وقت یہ لوگ دنیا میں پھر آنے اور نیک عمل کرنے کی خواہش اللہ کے روبرو پیش کریں گے اس وقت یہ جواب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دیوے گا جو اس آیت میں ہے معتبر سند سے ترمذی، ابوداؤد اور مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل مطلب یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر پہلے تو داروغہ دوزخ سے اپنی موت کی دعا کرنے کی خواہش کریں گے، ہزار برس تک تو مالک داروغہ دوزخ سے اپنی موت کی دعا کرنے کی خواہش کریں گے ہزار برس تک تو مالک داروغہ دوزخ کی طرف سے ان کو کچھ جواب نہ ملے گا، ہزار برس کے بعد یہ جواب ملے گا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–113
[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔
[43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
منکرین کی محرومی وبدبختی :
حشمت و جاہ کے عارضی اور فانی ہونے پر خود دنیا میں اس قدر دلائل وبراہین موجود ہیں کہ علقمند انسان کے لئے مقام انکار نہیں ، ہو سکتا ہے کہ محض استدلال کی قوت سے صاحب بصیرت ایمان بالآخرۃ کی دولت گرانمایہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش ہے کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ، کتابیں نازل کرتا ہے اور معجزات وخوارق کے مطالعہ کا موقع دیتا ہے ۔ تاکہ ظلوم وجہول انسان اپنی زندگی کے مقصد اعلی کا سمجھے ۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ سارے مادی سازو سامان محض فانی ہیں ، مگر منکرین کی غفلت اور محرومی کا یہ عالم ہے کہ کہ باوجود اس اہتمام رشد وہدایت کے دنیا کے فنا ہونے کا…
Read the full tafseer →(108) اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا اسی آگ میں ذلیل اور پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو یعنی ہزاروں برس کے بعد یہ جواب دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–110
ف 4۔ یعنی وہ مومن ہوگا۔
Read the full tafseer →حکم دیا جائے گا دفعہ ہوجاؤ جہنم میں اور زبان مت کھولو :
108۔ یہ نہایت سخت جواب ان کو کیوں سنایا گیا ؟ اس لئے انہوں نے یہاں بھی فریب کرنے اور دھوکا دینے کی کوشش کی اس لئے کہ قانون الہی میں تبدیلی کے خواہش مند ہوئے ۔ (اخسوا) کا مادہ خ س ا ہے جس کے معنی ہیں پڑے رہو پھٹکارے ہوئے صیغہ جمع مذکر حاضر ، تم بہت ذلیل لوگ ہو پیچھے ہٹ جاؤ اور میرے ساتھ بات نہ کرو ۔ آج تمہارے ساتھ اس طرح کی بحث و تکرار کا دن نہیں بلکہ آج ان کا بدلہ دینے کا دن ہے جن کو تم نے اپنی دنیاوی زندگی میں دکھ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور تم دیکھ دے دے کر تھک گئے لیکن انہوں نے دکھ سہنے میں کبھی تنگی محسوس نہ کی بلکہ میری رضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
وَلَا تُكَلِّمُونِ (Do not speak to Me - 23:108). According to Hasan al-Basri (رح) these will be the last words of the people who are cast in hell and in reply Allah will say, "Do not speak to Me." After this they will not be able to speak like human beings, but will make animal sounds to each other. Baihaqi and others have quoted Muhammad Ibn Ka` b as saying that the Qur'an mentions five requests made by the people condemned to hell. Out of the five, replies were furnished to four, but in reply to the fifth Allah commanded them not to speak to Him. Thus these are the last words to be uttered…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
98.“Do not speak to Me”: Do not plead your case with Me. According to some traditions, these will be their last words and they shall never be allowed to speak again, but this is contradicted by the Quran itself in the succeeding verses. Therefore, it only means this that they will not be able to plead their case again.
Read the full tafseer →