سو گنا زیادہ ثواب
اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنے مال کو خرچ کرے، اسے بڑی برکتیں اور بہت بڑے ثواب ملتے ہیں اور نیکیاں سات سو گنا کرکے دی جاتی ہیں، تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں یعنی اللہ کی فرمانبرداری میں جہاد کے گھوڑوں کو پالنے میں، ہتھیار خریدنے میں، حج کرنے کرانے میں خرچ کرتے ہیں۔ اللہ کے نام دئیے ہوئے کی مثال کس پاکیزگی سے بیان ہو رہی ہے جو آنکھوں میں کھپ جائے اور دل میں گھر کر جائے، ایک دم یوں فرما دیتا ہے کہ ایک کے بدلے سات سو ملیں گے اس سے بہت زیادہ لطافت اس کلام اور اس کی مثال میں ہے اور پھر اس میں اشارہ ہے کہ اعمال صالحہ اللہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 298
”اب پھر سلسلہ کلام اسی مضمون کی طرف عود کرتا ہے، جو رکوع 32 میں چھیڑا گیا تھا۔ اس تقریر کی ابتدا میں اہل ایمان کو دعوت دی گئی تھی کہ جس مقصد عظیم پر تم ایمان لائے ہو، اس کی خاطر جان و مال کی قربانیاں برداشت کرو۔ مگر کوئی گروہ جب تک کہ اس کا معاشی نقطہ نظر بالکل ہی تبدیل نہ ہوجائے، اس بات پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنی ذاتی یا قومی اغراض سے بالاتر ہو کر محض ایک اعلیٰ درجے کے اخلاقی مقصد کی خاطر اپنا مال بےدریغ صرف کرنے لگے۔ مادہ پرست لوگ، جو پیسہ کمانے کے لیے جیتے ہوں اور پیسے پیسے پر جان دیتے ہوں اور جن کی نگاہ ہر وقت نفع و نقصان کی میزان ہی پر جمی رہتی ہو، کبھی اس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جو لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی امور خیر میں) اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کئے ہوئے مالوں کی حالت (عنداللہ) ایسی ہے جیسے ایک دانہ کی حالت جس سے (فرض کرو) سات بالیں جن میں (اور) ہر بالی کے اندر سو دانے ہوں (اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کا ثواب سات سو حصہ تک بڑھاتا ہے) اور یہ افزونی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے (بقدر اس کے اخلاص اور مشقت کے) عطا فرماتا ہے اور خدا تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں (ان کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں وہ سب کو یہ افزونی دے سکتے ہیں مگر ساتھ ہی) جاننے والے (بھی) ہیں (اس لئے اخلاص نیت وغیرہ کو دیکھ کر عطا فرماتے ہیں) جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ…
Read the full tafseer →‘ فی سبیل اللہ کا مفہوم ’: فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس کے تحت وہ سارے کام آتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جائیں۔ حالات کے اعتبار سے کوئی کام زیادہ اہم ہوسکتا ہے، کوئی کم، لیکن جو کام بھی رضائے الٰہی کے لیے اور شریعت کی ہدایات کے تحت کیا جائے وہ فی سبیل اللہ ہے۔
انفاق فی سبیل اللہ کی تمثیل : یہ اس بڑھوتری کی تمثیل ہے جو راہ خدا میں خرچ کیے ہوئے مال کے اجر وثواب میں ہوگی۔ فرمایا کہ جس طرح ایک دانے سے ساتھ بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اسی طرح ایک نیکی کا صلہ سات سو گنے تک بندے کو آخرت میں ملے گا۔ اس مضمون کی وضاحت احادیث میں بھی ہوئی ہے۔…
Read the full tafseer →261۔ 1 یہ نفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت ہے اس سے مراد اگر جہاد ہے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ جہاد میں خرچ کی گئی رقم کا یہ ثواب ہوگا اور اگر اس سے مراد تمام مصارف خیر ہیں تو یہ فضیلت نفقات و صدقات نافلہ کی ہوگی اور دیگر نیکیوں کی۔ اور ایک نیکی کا اجر دس گنا کی ذیل میں آئے گا۔ (فتح القدیر) گویا نفقات و صدقات کا عام اجر وثواب دیگر امور خیر سے زیادہ ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کی اس اہمیت و فضیلت کی وجہ بھی واضح ہے کہ جب تک سامان و اسلحہ جنگ کا انتظام نہیں ہوگا فوج کی کارکردگی بھی صفر ہوگی اور سامان اور اسلحہ رقم کے بغیر مہیا نہیں کیے جاسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–262
178: اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے سات سوگنا ثواب ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کا ثواب چاہیں اور بڑھا سکتے ہیں، واضح رہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جائے اس میں زکوٰۃ صدقات اور خیرات سب داخل ہیں۔
Read the full tafseer →درس نمبر 19 ایک نظر میں
اس پارے میں سابقہ تینوں سبق مجموعی طور پر بعض اساسی ایمانی تصورات کے بارے میں تھے ۔ اور ان میں اس تصور حیات کے بارے میں بعض وضاحتیں کی گئی تھیں ۔ اور مختلف پہلوؤں سے اس کی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ یہ اس طویل سورت کی اس لائن کا ایک مرحلہ تھا ، جس پر یہ پوری سورت جارہی ہے یعنی انسانیت کی قیادت کے نصب العین کی راہ میں امت مسلمہ پر جو فرائض عائد ہوتے ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے امت کو تیار کرنا جیسا کہ اس سے قبل ہم بات کی تشریح کرچکے ہیں۔
یہاں سے لے کر تقریباً اس سورت کے اختتام تک اب بیان کا رخ ان اساسی معاشی اصولوں کے بیان کی طرف ہے جن پر امت مسلمہ کے…
Read the full tafseer →1 یعنی اللہ کی راہ میں تھوڑے مال کا بھی ثواب بہت ہے جیسا ایک دانہ سے سات سو دانے پیدا ہوں اور اللہ تعالیٰ بڑھائے جس کے واسطے چاہے اور سات سو سے سات ہزار اور اس سے بھی زیادہ کر دے اور اللہ بہت بخشش کرنے والا اور ہر ایک خرچ کرنے والے کی نیت اور اس کے خرچ کی مقدار اور مال کی کیفیت کو خوب جانتا ہے یعنی ہر ایک سے اسکے مناسب معاملہ فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →اب جو دو رکوع آ رہے ہیں ‘ ان کا موضوع انفاق فی سبیل اللہ ہے ‘ اور اس موضوع پر یہ قرآن مجید کا ذروۃ السنام climax ہے۔ ان کے مطالعہ سے پہلے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے کے لیے دین میں کئی اصطلاحات ہیں۔ سب سے پہلی اطعام الطّعام کھانا کھلانا ہے : وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا الدھر دوسری اصطلاح ایتائے مال ہے : وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ۔۔ الخ البقرۃ : 177 پھر اس سے آگے صدقہ ‘ زکوٰۃ ‘ انفاق اور قرض حسنہ جیسی اصطلاحات آتی ہیں۔ یہ پانچ چھ اصطلاحات terms ہیں ‘…
Read the full tafseer →376 اسی سورة کی آیت نمبر 254 میں اہل ایمان کو انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی تھی کہ قیامت کے دن یہی چیز کام آنے والی ہے۔ درمیان میں اللہ کی معرفت اور تصرف فی الامور کے چند واقعات کا ذکر کرنے کے بعد اب اسی مضمون کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے اور بتلایا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کس طرح ان صدقات کو سینکڑوں گنا بڑھا کر اس کا اجر عطا فرمائے گا اسی اضافے کو اللہ تعالیٰ یہاں ایک ایسی مثال سے واضح فرما رہے ہیں جسے سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں یعنی اگر اللہ چاہے تو سات سے زیادہ بالیاں بھی اگ سکتی ہیں اور ایک بالی میں سو سے زیادہ دانے بھی ہوسکتے ہیں۔ اس طرح صدقہ کا اجر وثواب سات سو…
Read the full tafseer →1023 ۔ (اللہ کی نظر میں اور اپنی برکت وافزایش اجر کے لحاظ سے) (آیت) ” فی سبیل اللہ۔ یعنی احکام شریعت کے مطابق نیک کاموں میں۔ (آیت) ” اموالھم “۔ اور (آیت) ” فی سبیل اللہ “ دونوں عام ہیں، تمام مصارف خیران میں آجاتے ہیں۔
1024 ۔ (تو جس طرح غلہ کے ایک دانہ سے سات سو دانے پیدا ہوگئے۔ اسی طرح اللہ کار خیر میں صرف کرنے والوں کو ان کے حسن عمل کا اجر سات سو گنا دیتا ہے) ایک عام فہم مادی مثال دے کر یہ سمجھا دیا کہ اس تکثیر اجر پر اتنی حیرت کیوں کی جائے ایسی مثالیں تو مادیات میں روزہ مرہ مل جاتی ہیں۔ تجارتی اور کاروباری تلمیحیں تو قرآن مجید میں بکثرت ملتی ہیں۔ زرعی اور کاشتکارانہ تلمیحیں بھی مفقود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–262
آیت نمبر 261 تا 266
ترجمہ : جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کے راستہ میں یعنی اس کی اطاعت میں صرف کرتے ہیں ان کے مال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ کہ اس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں، اسی طرح ان کا (راہ خدا) میں صرف کیا ہوا مال سات سو گنا افزوں ہوتا ہے، اور اللہ جسے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ دیتا ہے اور اللہ کا فضل بڑا وسیع ہے (اور) وہ اس بات سے واقف بھی ہے کہ افزونی کا کون مستحق ہے ؟ جو لوگ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد جس پر خرچ کیا ہے مثلاً یہ کہہ کر احسان نہیں جتاتے کہ میں نے اس کے ساتھ احسان کیا اور میں نے اس کی (خستہ) حالت سدھا ردی اور نہ اس کو تکلیف…
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (فی سبیل اللہ خرچ سے مراد ہے جہاد میں یا ہر راہ خیر میں خرچ کرنا۔ اس عبارت میں مضاف محذوف ہے خواہ مبتدا کی جانب حذف مانا جائے یا خبر کی جانب یعنی جو لوگ راہ خدا میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے۔
كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ (جیسے غلہ کا کوئی ایک دانہ جس میں سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں (اس طرح ایک دانہ کے سات سو دانے ہوجائیں) یا یوں کہا جائے کہ راہ خدا میں اپنا مال خرچ کرنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بونے والا جس میں سات بالیں…
Read the full tafseer →(261) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے مالوں کی مثال جو اپنے اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ایک دانہ کی مثال ہے کہ اس سے سات بالیاں اگتی ہیں اور ہر بالی میں ایک سو دانے ہوتے ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے اموال کو سات سو گنا تک بڑھاتا ہے اور جو اس کا اہل ہو یا جس کا صدقہ قبول کیا جائے اسے اس سے زیادہ ثواب عطا کرتا ہے۔
اور ثواب دینے میں اللہ تعالیٰ بڑی وسعت اور فراخی والے ہیں اور مسلمانوں کے خرچ کرنے اور ان کی نیتوں کو جاننے والے ہیں۔
Read the full tafseer →فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : قرآن مجید میں ”ْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ کا لفظ عام یعنی اسلام کے معنی میں بھی آیا ہے، جیسے فرمایا : (اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) [ التوبۃ : 34 ] ”بیشک بہت سے عالم اور درویش یقیناً لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔“ اس صورت میں اسلام کے ہر کام میں خرچ کرنا فی سبیل اللہ خرچ کرنا ہے اور خاص معنوں میں بھی آیا ہے، جیسا کہ سورة توبہ (60) میں صدقات خرچ کرنے کی جگہوں میں ایک ”فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ ہے۔ وہاں ”فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ سے خاص جہاد…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 261۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) جب اللہ تعالیٰ نے وہ قصے بیان کردیئے جن میں دلائل ہیں تو اس نے جہاد پر برانگیختہ کیا اور تو جان لے کہ جس نے اس برہان اور دلیل کے بعد جہاد کیا جسے نبی کے بغیر کوئی نہیں لاسکتا تو اس کے لئے اس جہاد میں ثواب عظیم ہے۔
البستی نے اپنی صحیح مسند میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کی : ” اے رب ! میری امت کے لئے اور اضافہ فرما۔ “ تو پھر یہ آیت نازل ہوئی،
(آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ “۔ ) (البقرۃ : 245)
ترجمہ : کون ہے جو دے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن، تو…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ “ سے مراد ہے کہ ایک نیکی سات سو نیکی کے برابر کردی جاتی ہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے گا اس کے لئے اس کا اجر سات سو مرتبہ ہے۔
(3) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” واللہ واسع علیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” واسع “ سے مراد ہے کہ وہ اور زیادہ کرے گا اپنی وسعت میں اور عالم سے مراد ہے کہ وہ جاننے والا ہے اس شخص کو جس کے لئے زیادتی کرتے ہیں۔
(4) ابن جریر ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[ مَثَلُ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کی مثال جو ] [یُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں ] [اَمْوَالَہُمْ : اپنے مالوں کو ] [فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [کَمَثَلِ حَبَّۃٍ : ایک ایسے دانے کی مثال کی طرح ہے ] [اَنْبَتَتْ : جس نے اگائے ] [سَبْعَ سَنَابِلَ : سات خوشے ] [فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ : ہر ایک خوشے میں ] [مِّائَۃُ حَبَّۃٍ : ایک سو دانے ہیں ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [یُضٰعِفُ : ضرب دیتا ہے (انفاق کو) ] [لِمَنْ : اس کے لیے جس کے لیے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [وَاسِعٌ : وسعت دینے والا ہے ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]
س ب ع
سَبَعَ (ف) سَبْعًا : ساتواں حصہ لینا (کسی چیز…
Read the full tafseer →فی سبیل اللہ خرچ کرنے والوں کا اجر وثواب
آیت شریفہ میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی فضیلت بیان فرمائی۔ اللہ کی رضا کے لیے جو بھی مال خرچ کیا جائے وہ سب فی سبیل اللہ ہے۔ اور عام طور سے یہ لفظ جہاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بہر صورت جہاد میں خرچ کرے یا غیر جہاد میں خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی فضیلت بہت ہے اور یہ تو عام قانون ہے کہ (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) (جو کوئی شخص ایک نیکی کرے اس کے لیے اس کا دس گنا ہے) ایک نیکی کی دس نیکی یہ تو کم سے کم ہے اور اس کے علاوہ اللہ جل شانہٗ اس سے زیادہ جتنا جس کو بڑھا چڑھا کر عنایت فرمائے وہ مزید انعام و اکرام ہے۔ اس آیت شریفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–264
فضیلت انفاق فی سبیل اللہ وزکر بعض شرائط قبول۔
قال تعالی، مثل الذین ینفقون۔۔۔۔ الی۔۔۔ القوم الکافرین۔
ان آیات میں عالم آخرت کے لیے سازوسامان تیار کرنے کی ترغیب کے لیے ایک مثال بیان فرماتے ہیں جو ضمنا اثبات قیامت کی بھی دلیل ہے اس لیے کہ جو ذات پاک زمین ایک دانہ ڈالنے اور سات سودانے اگانے پر قادر ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے چناچہ فرماتے ہیں جو لوگ اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک دانہ زمین میں ڈالاجائے جو کہ سات بالیں اگائے اور ہر بال میں سودانے ہوں اسی طرح صدقہ دینے والا بمنزلہ مزارع کے ہے اور مال بمنزلہ تخم اور دانہ کے ہے اور سبیل اللہ بمنزلہ…
Read the full tafseer →519 یہ اخلاص نیت کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ جسے ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے یعنی جو لوگ اخلاص کے ساتھ محض اللہ کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے۔ جیسے ایک آدمی زمین میں ایک دانہ بو دیتا ہے۔ اس ایک دانہ سے سات شاخوں والا پودا پھوٹ نکلتا ہے۔ اور ہر شاخ پر ایک ایک خوشہ ہوتا ہے اور ہر خوشہ میں ایک سودانہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک دانہ سے سات سو دانہ حاصل ہوا۔ تو جس طرح ایک دانہ زمین میں کاشت کرنے سے ساتھ سو گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح خدا کی راہ میں خرچ کی ہوئی دولت کی ایک اکائی (پیسہ، آنہ، روپیہ وغیرہ) خدا کے یہاں سات سو گنا بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً ایک روپیہ خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–263
ربط آیات انفاق فی سبیل اللہ
آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان تھا ، جو دین کا اصل الاصول اور بنیاد ہے اس آیت میں اللہ کی صفات کا ذکر بھی آ چکا ہے۔ گزشتہ رکوع کی تین آیات میں تین واقعات بیان ہوئے ہیں ، جن کو جان لینے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے اس سے محروم رکھتا ہے ، زندگی اور موت بھی اللہ جل جلالہٗ کے دست قدرت میں ہے کسی اور کے اختیار میں نہیں ۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے جہاد کا واقعہ بھی بیان ہوا کہ کس طرح ان لوگوں نے جہاد سے گریز کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا میں مبتلا کردیا اللہ…
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ كَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ 0 ۭ وَاللہُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 261
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–263
ترکیب : مثل الذین الخ جملہ مبتدا ای مثل انفاق الذین الخ کمثل حبۃ الخ خبر۔ انبتت سبع الخ جملہ موضع جر میں صفت ہے حبۃ کی مائۃ حبۃ مبتداء فی کل سنبلۃ خبر یہ جملہ صفت ہے سنابل کی الذین ینفقون صلہ وموصول مبتدا لہم اجرھم الخ خبر قول معروف موصوف و صفت مبتدا خیر الخ خبر یتبعہا اذی جملہ صفت ہے صدقۃ کی۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور عالم آخرت کا ثبوت قطعی کرچکا تو اب عالم آخرت کے لیے ساز و سامان کی ترغیب دیتا ہے کہ وہاں کے لیے کچھ دیا کرو ٗ وہ ضائع نہیں جاتا۔ وہ خدائے قادر کہ جو مردہ کو زندہ کرتا ہے اور جس کے اوصاف مذکور ہوئے اس خیرات کے اجر کو عالم مثالی میں قائم کرتا ہے جس طرح کوئی یہاں…
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْـبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْـبُلَۃٍ مِّائْـۃُ حَبَّۃٍ ط وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔
مثال ان لوگوں کے انفاق کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کے راستے میں اس دانے کی مانند ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے ہیں۔ اور اللہ افزونی عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اللہ بڑی گنجائش والا ہے اور علم والا ہے) (261)
ربط کلام
اصل سلسلہ بیان جہاد اور انفاق سے متعلق تھا۔ پھر درمیان میں ” لا اکراہ فی الدین “ سے ایک ضمنی بحث پیدا ہوگئی ‘ پروردگار نے اس کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہاں سے صدقات کے بارے میں خطاب شروع ہوتا ہے۔ سابقہ آیات میں صدقہ کرنے کا حکم تھا اور صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اب صدقہ کی فضیلت ‘ اس کی قبولیت کے اصول اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے گئے صدقات کے دنیا اور آخرت میں ثمرات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید کی ابتداء میں ایمان کے مرکزی اور بنیادی اصولوں میں تیسرا اصول یہ بیان ہوا ہے کہ صاحب ایمان لوگوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اب اسی بنیادی رکن کی مختلف زاویوں سے وضاحت شروع ہوتی ہے جس میں فضیلت، فرضیت اور احتیاطی ہدایات…
Read the full tafseer →آیت 261:
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (مثال ان لوگوں کی جو اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں) یعنی ان کے خرچ کرنے کی مثال۔ یہاں مضاف کا محذوف جاننا ضروری ہے۔
کَمَثَلِ حَبَّۃٍ (ایک دانے کی مثال ہے) یا ان کی مثال غلہ بونے والے کی ہے۔
انبات کی صورت :
اَنـچْـبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنچْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ (جو سات بالیں اگائے ہر بال میں سو دانے ہوں) اگانے والے اللہ تعالیٰ ہیں۔ دانہ چونکہ ظاہری سبب ہے اس کی طرف اگانے کی نسبت کردی جس طرح زمین اور پانی کی طرف کی جاتی ہے۔
اور سات بالیں اگانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا پودہ نکلے جس سے سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–261
(تفسیر) 260۔:
(واذ قال ۔۔۔۔۔ تحی الموتی) اور یاد کرو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا اے میرے رب مجھے دکھا دے کہ مردوں کو تو زندہ کس طرح کرتا ہے) حضرت حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، عطاء الخراسانی (رح) ضحاک (رح) ابن جریج (رح) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سوال پوچھنے کا سبب یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک مردار جانور کے پاس سے گزرے ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ گدھے کی لاش سمندر کے کنارے پڑی دیکھی ، حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں وہ سمندر بحیرہ طبریہ کا تھا وہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کا پانی اوپر آتا تو دریائی جانور اس مردار کو کھاتے اور جب پانی نیچے چلا جاتا تو خشکی کے جانور اس کو کھاتے اور جو حصہ…
Read the full tafseer →اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب اور اس خرچ کے اجر کے بڑھنے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مال خرچ کیا جائے بارہ گاہ الہی میں اس کی شرطیں ہیں بڑی شرط تو یہ ہے کہ جس مال میں اللہ کے نام پر کچھ خیرات کی جاوے وہ مال نیک کمائی کا ہو وے۔ چناچہ صحیح بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ذات ہے بغیر نیک کمائی ناجائز کمائی کے مال کی خیرات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہی ہوتی 1۔ اب نیک کمائی کے مال میں سے خیرات ہونے کی صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ خیرات کر کے کسی پر اس کا احسان نہ جتلانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–262
آیت 261
اس آیت میں اللہ کے اس ارشاد کی تشریح ہوتی ہے : (من ذا الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضعفہ لہ اصعافاً کثیرۃ) (البقرہ :28/2) ” کون شخص ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے تو اللہ اس کے قرض کو اس کے لئے کئی گنا بڑھا دے گا یہاں فرمایا : (مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ) ” مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی اس کی اطاعت میں اور اس کی خوشنودی کے کاموں میں۔ ان میں سب سے اہم جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنا ہے۔ : (کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ ماءۃ حبۃ) ” مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں، اور ہر بالی میں سودانے ہوں۔ “ اس مثال کے ذریعے عمل کے ثواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–262
صدقہ دے کر احسان جتلانا
قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ ثم لایتبعون ما انفقوا منا ولا اذی لھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون، (a) جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر احسان نہیں جتاتے نہ دکھ دیتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لئے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں) ۔
اسی طرح قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذیٰ کالذی ینفق مالہ رئا الناس ولایومن باللہ والیوم الاٰخر، (a) اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان…
Read the full tafseer →753 انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب و تلقین : سو انفاق فی سبیل اللہ کی تحریک و ترغیب کی طور پر ایسے لوگوں کے لیے ایک عظیم الشان مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ہر ایسے موقع و مقام پر خرچ کرتے ہیں جہاں مقصود اسی وحدہ لا شریک کی رضاء و خوشنودی ہوتی ہے۔ دوسرا کوئی مقصد اس میں شامل نہیں ہوتا، تاکہ اس طرح وہ آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی زندگی کیلئے تیاری اور اس کیلئے سامان کرسکیں، کیونکہ آج جو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے دیا جائے گا وہی جمع ہو کر محفوظ ہوجائے گا اور وہاں کام آئے گا۔ جو کام بھی اسلام اور مسلمانوں کی بہتری اور ان کی خدمت کے لئے کیا جائے وہ " فی سبیل اللہ " کے زمرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–262
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال
تشریح : یہاں مال خرچ کرنے کا طریقہ اور ثواب بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ چاہے مال تم اپنے بچوں، بیوی، والدین، رشتہ داروں یا غریبوں محتاجوں یا رفاہی کاموں کے لئے خرچ کرو تو اس میں نیت صاف رکھو اور یہی سمجھو کہ یہ سب تم اللہ کی راہ میں خلوص اور طریقہ سلیقہ سے خرچ کر رہے ہو تو اس کا ثواب تمہیں کئی گنا زیادہ کرکے دیا جائے گا اس کی مثال یوں بیان کی گئی ہے کہ جس طرح ایک دانہ سات سو دانے دیتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک دانہ زمین میں بویا جائے تو اس ایک دانے سے سات بالیں نکلتی ہیں اور ہر بالی میں سودانے ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ خلوص، محبت، طریقہ، سلیقہ سے خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–266
آیات 261- 266
اسرارو معارف
مثل الذین ینفقون اموالھم……………واللہ غنی حلیم
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مومن کے لئے ایسے ہے جیسے کاشتکار کہ وہ کھیتی بوتا ہے تو بظاہر کھیتی تیار کرنے کی مشقت اٹھاتا ہے پھر اپنی محنت سے کمائے ہوئے غلے کو اس میں بکھیردیتا ہے جو بظاہر محنت اور اثاثہ دونوں کا ضیاع نظر آتا ہے لیکن صرف اس شخص کو جو اس سارے کام کے انجام سے بیخبر ہے جو انجام کی اطلاع رکھتا ہے وہ پھر اس کی رکھوالی کرتا ہے حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے جب ایک ایک دانے سے سات سات خوشے نکلتے ہیں یعنی خوب اعلیٰ پودا اگتا ہے جس پر اس قدر خوشے لگتے ایسے صحتمند کہ ہر خوشے میں سو سو دانا ہوتا ہے وہ تھوڑا سا غلہ جو اس نے بیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–262
ف 1 یعنی یہ ثواب صر ان لوگوں کو حاصل ہوگا جو رضائے الہی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرنے کے بعد نہ کسی پر احسان جتلاتے ہیں اور نہ زبان وعمل سے کوئی تکلیف دیتے ہیں کسی کو کچھ دے کر احسان جتلا نا گناہ کبیرہ ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ احسان جتلانے والا ان تین شخصوں میں سے ایک ہوگا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے دیکھے گا نہ ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ( فتح البیان)
Read the full tafseer →(2:261) مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ۔
مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ۔ یہ جملہ مبتدا ہے۔ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل۔ خبر۔ انبتت سبع سنابل صفت ہے حبۃ کی۔
مائۃ حبۃ …… مبتدائ صفت ہے سنابل کی۔
فی کل سنبلۃ … خبر
اس عبارت میں مضاف محذوف ہے خواہ مبتداء کی طرف حذف مانا جائے یا خبر کی جانب۔
پہلی صورت میں عبارت ہوگی مثل (انفاق) الذین ۔۔ کمثل حبۃ۔ ترجمہ ہوگا : جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بونے والا جس دانے سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔
دوسری صورت میں عبارت ہوگی مثل الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–265
لغات القرآن : آیت نمبر 261 تا 265
ینفقون (خرچ کرتے ہیں) ۔ حبۃ (دانہ) ۔ انبتت (اگتا ہے۔ (پیدا ہوتی ہے) ۔ سبع (سات) سنابل (بالیں ۔ (سنبلۃ) بال جس میں دانے ہوتے ہیں) ۔ یضعف (دوگنا کرتا ہے) ۔ لا یتبعون (وہ پیچھے نہیں لگتے) ۔ منا (احسان (احسان جتانا) ۔ اذی (تکلیف) ۔ قول معروف (قاعدے کی بات (اچھی بات) ۔ مغفرۃ (معاف کرنا، درگذر کرنا) ۔ غنی (بےپرواہ، بےنیاز) ۔ لا تبطلوا (ضائع نہ کرو۔ (باطل نہ کرو) ۔ رئاء الناس (لوگوں کو دکھانا) ۔ صفوان (صاف پتھر) ۔ تراب (مٹی، (ریت) ۔ وابل (بارش) صلد (صاف (پتھر) ۔ لا یقدرون (وہ قدرت و طاقت نہیں رکھتے) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ مرضات اللہ (اللہ کی مرضی و خوشنودی) ۔ تثبیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 261–264
آداب صدقہ
شان نزول : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب اور اس خرچ کے اجر کے بڑھنے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں کہ جس مال میں سے اللہ کے نام پر کچھ خیرات کی جائے وہ مال نیک کمائی کا ہو وے۔ خیرات کر کے کسی پر احسان نہ جتائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–265
[179] مطلب یہ ہے کہ ایمان کے درجے تک تو یقین اب بھی حاصل ہے۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاہدے کے بعد اطمینان اور زیادہ ہوجائے۔ اس چیز کو اصطلاح میں عین الیقین کہتے ہیں یعنی وہ یقین جو مشاہدہ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ جس طرح فطرت کا قانون ہر دانے کو جو بویا جانے ، کمیت وکیفیت میں بڑھاتا رہتا ہے ، اسی طرح ہمارے اعمال میں بھی ثمر جاری رہتا ہے اور یہ نمود واضافہ اللہ کی رحمت بےپایاں پر موقوف ہے ، ورنہ ہمارے اعمال ہرگز اس درجہ کے نہیں ہوتے کہ انہیں قبول بھی کیا جائے ۔
حل لغات :
صر : اصل صیر بمعنی قطع کرنا ، مگر جب اس کا صلہ نفی ہو تو اس کے معنی ہلانے اور مانوس کرنے کے ہوتے ہیں ۔
Read the full tafseer →ف 3 جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان لوگوں کے خرچ کی مثال اور ان کے خیرات کیے ہوئے مالوں کی حالت ایسی ہے جیسے ایک دن کی حالت جس نے سال بالیں اگائیں ۔ یعنی اس سے سال بالیں نکلیں ہر بال میں سو سو دانے ہوئے اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے اس سات سو کی تعداد سے بھی اور بڑھا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت ، بڑا فیاض اور بڑا صاحب علم ہے۔ (تیسیر)
اوپر جو قرض حسنہ کا ذکر کیا تھا اسی کی تفصیل ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضلیت کا بیان ہے۔ فی سبیل اللہ سے مراد یا تو جہاد ہے یا ہر کار خیر میں خرچ کرنے کی فضلیت مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں…
Read the full tafseer →ف 2۔ نیک کام میں خرچ کرنا باعتبار نیت کے تین قسم کا ہے ایک نمائش کے ساتھ اس کا کچھ ثواب نہیں دوسرے ادنی درجہ کے اخلاص کے ساتھ اس کا ثواب دس حصہ ملتا ہے تیسرے زیادہ اخلاص یعنی اس کے اوسط یا اعلی درجہ کے ساتھ اس کے لیے اس آیت میں وعدہ ہے دس سے زیادہ سات سو تک علی حسب تفاوت المراتب اور من ذالذی الخ میں سات سو کے وعدہ کے بعد اور زیادہ کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کی راہ میں خرچ کرنا زمین میں غلّہ ہونے کے مترادف ہے :
452: خلیفہ اسلام کو سلطنت کے بقاء و استحکام ، قوم کی تعلیم و تربیت ، مجاہدین کے لشکروں کی تیاری ، سامان حرب کی خریداری اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے روپیہ کی ضرورت ہوگی جو شخص ایسی ضرورت کے موقعہ پر مال صرف کرے گا اس کے خرچ کی مثال اس بیج کی سی ہے جو
ایک دانہ سے سات سو بن جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس قسم کے صدقات کی خیر و برکت بیان کرتے رہے۔
” اور جو اچھی زمین میں بویا گیا یہ وہ ہے جو کلام کو سنتا اور سمجھتا ہے اور پھل بھی لاتا ہے ، کوئی سو گنا پھلتا ہے ، کوئی ساٹھ گنا اور کوئی تیس گنا۔ “ (متی 13 : 32)
” اور جو کچھ اچھی…
Read the full tafseer →Commentary
This is the thirty-sixth section of Surah Al-Baqarah which begins from verse 262. Left now are five sections of Surah Al-Baqarah out of which the last section carries some basic principles. The earlier four sections, from 262 to 283, have a total of 21 verses which present special instructions and points of guidance concerning financial transactions. If these were to be followed in toto, the problem of an ideal economic order which the whole world is worrying about will be automatically solved. Right now we see capitalism, socialism and communism (despite its fall in U.S.S.R)…
Read the full tafseer →298. Here the discourse turns to the subject touched upon in verses 244 ff. above. Believers were urged to sacrifice life and property for the sake of the great cause in which they believed. It is difficult, however, to persuade those whose standard of judgement in respect of economic matters has not completely changed, to rise above either personal or narrow group interests and dispense their wealth wholeheartedly for the sake of a righteous cause. People who have a materialistic outlook and whose life constitutes an uninterrupted pursuit of money, who adore every single penny they have, and…
Read the full tafseer →