معمہ حیات و موت
حضرت ابراہیم کے اس سوال کی بہت سی وجوہات تھیں، ایک تو یہ کہ چونکہ یہی دلیل آپ نے نمرود مردود کے سامنے پیش کی تھی تو آپ نے چاہا کہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل ہوجائے، جانتا تو ہوں ہی لیکن دیکھ بھی لیں، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کے موقع کی ایک حدیث ہے جس میں ہے کہ ہم شک کے حقدار بہ نسبت حضرت ابراہیم کے زیادہ ہیں جبکہ انہوں نے کہا آیت (وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُـحْيِ الْمَوْتٰى) 2۔ البقرۃ :260) ، تو اس سے کوئی جاہل یہ نہ سمجھے کہ حضرت خلیل اللہ کو اللہ کی اس صفت میں شک تھا، اس حدیث کے بہت سے جواب ہیں جن میں سے ایک یہ ہے۔ (شاید یہ ہوگا کہ ہم خلیل اللہ سے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 296
یعنی وہ اطمینان، جو مشاہدہ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔
سورة الْبَقَرَة 297
اس واقعے اور اوپر کے واقعے کی بعض لوگوں نے عجیب عجیب تاویلیں کی ہیں لیکن انبیا (علیہم السلام) کے ساتھ اللہ کا جو معاملہ ہے، اسے اگر اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے، تو کسی کھینچ تان کی ضرورت پیش نہیں آسکتی۔ عام اہل ایمان کو اس زندگی میں جو خدمت انجام دینی ہے، اس کے لیے تو محض ایمان بالغیب (بےدیکھے ماننا) کافی ہے۔ لیکن انبیا کو جو خدمت اللہ نے سپرد کی تھی اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ حقیقتیں دیکھ لیتے جن پر ایمان لانے کی دعوت انہیں دنیا کو دینی تھی۔ ان کو دنیا سے پورے زور کے ساتھ یہ کہنا تھا کہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اس وقت (کے واقعہ) کو یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے (حق تعالیٰ سے) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو (یہ) دکھلا دیجئے کہ آپ مردوں کو (قیامت میں مثلا) کس کیفیت سے زندہ کریں گے (یعنی زندہ کرنے کا یقین ہے لیکن زندہ کرنے کی مختلف صورتیں اور کیفیتیں ہوسکتی ہیں وہ معلوم نہیں اس لئے وہ معلوم کرنے کو دل چاہتا ہے اس سوال سے کسی کم سمجھ آدمی کو اس کا شبہ ہوسکتا تھا کہ معاذ اللہ ابراہیم ؑ کو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان و یقین نہیں اس لئے حق تعالیٰ نے خود یہ سوال قائم کرکے بات کھول دی۔ چناچہ ابراہیم ؑ سے اس سوال کے جواب میں اول) ارشاد فرمایا کہ کیا تم (اس پر) یقین نہیں لاتے انہوں نے (جواب…
Read the full tafseer →لفظ ‘ اطمینان ’ کی حقیقت :“ اطمینان ”کے معنی ہیں کسی چیز کا اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک ٹھیک ٹھیک اس طرح ٹک جانا کہ اس کے ادھر یا ادھر جھکنے یا لرھکنے کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے۔ برتن اگر اپنی جگہ پر ٹھیک جم کر بیٹھ گیا ہے تو کہیں گے اطمانَّ ، اگر چراغ کی لو بالکل سیدھی ہے، اس میں ہوا کے سبب سے کسی طرف کو جھکاؤ نہیں ہے تو اس کے لیے بھی یہی لفظ لائیں گے۔ یہیں سے یہ لفظ نفس یا دل کی حالت کی تعبیر کے لیے استعمال ہونے لگا۔ جو نفس اپنے عقائد اور اعمال میں بالکل پا بر جار ہے، حالات کے تغیر و تلون سے اس کے اطمینان اور اس کی دلجمعی میں کوئی فرق واقع نہ ہو، اس کو نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔ یہ اطمینان ایمان کے…
Read the full tafseer →260۔ 1 یہ احیائے موتی کا دوسرا واقعہ ہے جو ایک نہایت جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم ؑ کی خواہش اور ان کے اطمینان قلب کے لئے دکھایا گیا یہ چار پرندے کون کون سے تھے ؟ مفسرین نے مختلف نام ذکر کئے ہیں لیکن ناموں کی تعین کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے اللہ نے بھی ان کے نام ذکر نہیں کیے بس یہ چار مختلف پرندے تھے بس ان کو مانوس کرلے اور پہچان لے تاکہ پکارنے پر وہ دوبارہ زندہ ہو کر آپ کے پاس آجائیں اور پہچان سکے کہ یہ وہی پرندے ہیں ابراہیم ؑ نے احیائے موتیٰ کے مسئلے میں شک نہیں کیا اگر انہوں نے شک کا اظہار کیا ہوتا تو ہم یقینا شک کرنے میں ان سے زیادہ حقدار ہوتے (مزید وضاحت کے لئے دیکھئے (فتح القدیر)۔
Read the full tafseer →176: اس سوال و جواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ بات صاف کردی کہ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ فرمائش خدانخواستہ کسی شک کی وجہ سے نہیں تھی، انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر پورا یقین تھا ؛ لیکن آنکھوں سے دیکھنے کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے، اس سے نہ صرف مزید اطمینان حاصل ہوتا ہے، بلکہ اس کے بعد انسان دوسروں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں دلائل سے اس کا علم حاصل کرنے کے علاوہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔
177: یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہر وقت مردے کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کر اسکتی ہے، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر ایک کو یہ مشاہدہ نہ کرایا جائے۔ اور بات دراصل یہ ہے کہ یہ دنیا چونکہ…
Read the full tafseer →اس کے بعد حقیقت موت وحیات کے سلسلے میں ایک تیسرا تجربہ بیان کیا جاتا ہے۔ یہ تجربہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کرایا گیا ۔ جو امت مسلمہ کے ترنبی گزرے ہیں۔
یہ قدر الٰہیہ کی کاریگریوں تک رسائی کا ایک شوق ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور مطیع فرمان اولوالعزم نبی تھے ان کی جانب سے شوق اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ بعض اوقات اللہ کے برگزیدہ اور اقرب المقربین بندوں کے دل میں بھی یہ امنگ پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کاریگریوں کے راز ہائے پس پردہ تک رسائی حاصل کریں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے راضی برضا ، خشوع و خضوع کرنے والے اور عبادت گزار بندے کی جانب سے اس…
Read the full tafseer →5 خلاصہ یہ ہوا کہ یقین پورا تھا صرف عین الیقین کے خواستگار تھے جو مشاہدہ پر موقوف ہے۔
6 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حسب ارشاد الہٰی چار جانور لائے ایک مور ایک مرغ ایک کوا ایک کبوتر اور چاروں کو اپنے ساتھ ہلایا تاکہ پہچان رہے اور بلانے سے آنے لگیں پھر چاروں کو ذبح کیا پھر ایک پہاڑ پر چاروں کے سر رکھے ایک پر پَر رکھے ایک پر سب کے دھڑ رکھے ایک پر پاؤں رکھے پہلے بیچ میں کھڑے ہو کر ایک کو پکارا اس کا سر اٹھ کر ہوا میں کھڑا ہوا پھر دھڑ ملا پھر پَر لگے پھر پاؤں وہ دوڑتا چلا آیا پھر اسی طرح چاروں آگئے۔
7 یہاں دو خلجان گزرنے کا قوی احتمال ہے اول تو جسم بےجان متفرق الاجزاء کا زندہ ہونا قابل انکار دوسرے…
Read the full tafseer →آیت 260 وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ط قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ط قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَءِنَّ قَلْبِیْ ط
یہ تمام انبیاء کرام علیہ السلام کا معاملہ ہے کہ انہیں عین الیقین اور حق الیقین کے درجے کا ایمان عطا کیا جاتا ہے۔ انہیں چونکہ ایمان اور یقین کی ایک ایسی بھٹیّ furnace بنانا ہوتا ہے کہ جس سے ایمان اور یقین دوسروں میں سرایت کرے ‘ تو ان کے ایمان و یقین کے لیے ان کو ایسے مشاہدات کروا دیے جاتے ہیں کہ ایمان ان کے لیے صرف ایمان بالغیب نہیں رہتا بلکہ وہ ایمان بالشہادۃ بھی ہوجاتا ہے۔ سورة الانعام میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام…
Read the full tafseer →374 غیب پر انبیاء کا ایمان جس قدر پختہ ہوتا ہے دوسروں کا نہیں ہوسکتا مگر جس مشن کے لیے انہیں کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں عین الیقین حاصل ہو، تاکہ وہ دوسرے لوگوں کو آنکھوں دیکھی حقیقت کی بنیاد پر ایمان بالغیب کی پرزور دعوت دے سکیں اسی لیے اکثر انبیاء کو ملکوت السموت والارض کی سیر بھی کرا دی جاتی ہے اور کسی حد تک مافوق الفطری اسباب پر مطلع بھی کردیا جاتا ہے اور پچھلے واقعہ میں حضرت عزیر کو ایسے اسباب دکھلائے گئے۔ اب یہاں اسی نوعیت کا سوال حضرت ابراہیم اپنے پروردگار کے حضور پیش فرما رہے ہیں۔ اور اپنا دلی اطمینان چاہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو معراج کے دوران ملکوت…
Read the full tafseer →1016 ۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” یعنی کس خاص کیفیت کے ساتھ۔ کس متعین طریقہ پر فی ای حال اوعلی ای حال (ابوسعود) یہ وقوع تو اسے پوری طرح مسلم ہے اور سوال اس کی صرف کیفیت کے بارے میں کررہا ہے۔ الاستفھام بکیف انما ھو سوال عن حال شیء متقرر الوجود عند السائل والمسؤل فان الاستفھام ھھنا عن ھیءۃ الاحیاء المتقرر عند السائل (قرطبی) محققین نے کہا ہے کہ سوال کے الفاظ سے خود یہ ظاہر ہورہا ہے کہ سائل کو کوئی شبہ احیاء موتی کے نفس وقوع میں نہیں۔ صوفیہ اہل لطائف نے اس قصہ ابراہیمی سے ذیل کے نکات پیدا کیے ہیں :۔ ( 1) اللہ تعالیٰ سے کشف مقامات کا سوال موجب قبول ہے۔ (2) مقبولین کو جو مشاہدات ہوتے ہیں ان سے مراتب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 259–260
اَوْکَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ آیت کا عطف معنوی سابق آیت پر ہے اور تقدیر کلام اکثر نحویوں نے یہ نکالی ہے، ” اَرَیْتَ کَالَّذِیْ حَاجَّ اِبْرَاھِیْمَ اَوْ کالَّذِیْ مَرَّ علی قریۃٍ “ اور زمخشری، بیضاوی وغیرہ نے تقدیر ” اَرَیتَ مِثل الذی مَرَّ الخ “ نکالی ہے اور اسی کو ترجیح دی ہے۔
قرآن عزیز اور حضرت عزیر (علیہ السلام) : قرآن عزیز میں حضرت عزیر (علیہ السلام) کا نام صرف ایک جگہ سورة توبہ میں مذکور ہے، اور اس میں بھی صرف یہ کہا گیا ہے کہ یہود عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں جس طرح کہ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں، اس ایک جگہ کے سوا قرآن میں اور کسی مقام پر ان…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُـحْيِ الْمَوْتٰى (اور یاد کرو ( اس واقعہ کو) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا اے میرے رب مجھے دکھا دے کہ مردوں کو تو زندہ کس طرح کرتا ہے۔
(وجہ سوال) حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، عطا (رح) ، خراسانی (رح) اور ابن جریح (رح) نے سوال مذکور کی وجہ یہ بیان کی کہ گدھے کی ایک لاش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سمندر کے کنارے پر پڑی دیکھی جب سمندر 1 چڑھتا تھا تو دریائی (مردار خوار) جانور ( سمندر کے پانی کے ساتھ) آکر اس لاش کو کھاتے تھے اور پانی کے اتار کے بعد صحرائی درندے اور پرندے اس کو کھانے لگتے تھے حضرت ابراہیم کو یہ کیفیت دیکھ کر تعجب ہوا اور عرض کیا…
Read the full tafseer →(260) اور حضرت ابراہیم ؑ نے بھی عرض کیا تھا کہ پروردگار آپ کس طرح مرے ہوئے لوگوں کو زندہ کریں گے ارشاد باری ہوا کیا تم اس پر یقین نہیں لائے، عرض کیا میں کیوں نہ لاتا لیکن اس لیے گزارش ہے تاکہ (مشاہدہ کرکے) میرے دل کو اطمینان ہوجائے اور بطور مشاہدہ کے یہ چیز بھی واضح ہوجائے کہ میں آپ کا دوست مستجاب الدعوت ہوں، ارشاد ہوا کہ مختلف قسم کے چار پرندے لے لو یعنی مور، مرغا، کوا اور بطخ اور پھر ان سب کا اچھی طرح باریک قیمہ کرکے اور ان کو اچھی طرح ملا کر چار پہاڑوں پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دو پھر ان کا نام لے کر بلاؤ وہ سب زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔
اور ابراہیم ؑ کو کہا گیا کہ اس بات کا خوب…
Read the full tafseer →ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور احکام ان کے پاس آتے رہتے تھے، ان کو مردوں کے جی اٹھنے میں کوئی شک نہ تھا مگر انھوں نے آنکھوں سے دیکھ لینا چاہا، انسانی عادت ہے کہ وہ علم کے بعد آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے، چناچہ ابراہیم ؑ نے علم الیقین کے بعد عین الیقین کا مرتبہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ (ابن کثیر)
فَصُرْھُنَّ : یہ ”صَارَ یَصُوْرُ“ یا ”یَصِیْرُ“ (اجوف واوی یا یائی) سے ہے۔ اس لفظ کے معنی عموماً ”اَمِلْھُنَّ“ کیے گئے ہیں، یعنی ”ان کو ہلالے۔“ شاہ عبد القادر ؓ اپنے فائدے میں لکھتے ہیں : ”ابراہیم ؑ کو ہلانے کو اس لیے فرمایا گیا تاکہ وہ زندہ ہونے کے بعد خوب پہچانے…
Read the full tafseer →آیت ” 260۔
لوگوں نے اس سوال کے بارے میں اختلاف کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے یہ شک کہ سبب صادر ہوا یا نہیں ؟ تو جمہور نے کہا ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں کبھی شک لاحق نہیں ہوا۔ بلاشبہ آپ نے معائنہ کا مطالبہ کیا ِ اور اس لئے کہ نفوس ہر اس شے کو دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں جس کے بارے انہیں خبر دی جائے۔ اسی لئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : لیس الخبر کا لمعاینۃ (1) (المستدرک علی الصحیحین، کتاب التفسر، جلد 2، صفحہ 315، حدیث نمبر 3250) (خبر معائنہ کی طرح نہیں ہے)
اسے حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے آپ کے سوا کسی نے اسے روایت نہیں کیا،…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ایک مردہ آدمی پر گزرے کہتے ہیں کہ وہ حبشی تھا جو ساحل سمندر پر پڑا ہوا تھا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ سمندر کے جانور اسے نوچ رہے ہیں درندے اور پرندے بھی اسے کھا رہے ہیں، ابراہیم (علیہ السلام) نے اس (میت) کے پاس (کھڑے ہو کر) عرض کیا اے میرے رب یہ سمندر، جانور درندے، پرندے کہ انسان کو کھا رہے ہیں پھر یہ بھی مرجائیں گے اور چھپ جائیں گے۔ پھر آپ ان کو زندہ فرمائیں گے۔ مجھے دکھائیے کس طرح آپ مردوں کو زندہ فرمائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم کیا تجھے یقین نہیں ہے کہ میں مردوں کو زندہ کروں گا ؟ عرض…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ] [ اِبْرٰہٖمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ! ] [اَرِنِیْ : تو دکھامجھ کو ] [کَیْفَ : کیسے ] [تُحْیِ : تو زندہ کرے گا ] [الْمَوْتٰی : مردوں کو ] [قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [اَوَ : تو کیا ] [لَمْ تُؤْمِنْ : تو ایمان ہی نہیں لایا ؟] [قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [بَلٰی : کیوں نہیں ] [وَلٰـکِنْ : اور لیکن ] [لِّیَطْمَئِنَّ : (میں پوچھتا ہوں) تاکہ پرسکون ہوجائے ] [قَلْبِیْ : میرا دل ] [قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے ) کہا ] [فَخُذْ : پس تو پکڑ ] [اَرْبَعَۃً : چار ] [مِّنَ الطَّیْرِ : پرندوں میں سے ] [فَصُرْ : پھر تو مائل کر ] [ہُنَّ : ان…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال پر پرندوں کا زندہ ہونا
اس آیت شریفہ میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا ایک سوال اور پھر خداوند قدوس کی طرف سے عینی مشاہدہ کرا کر ان کے سوال کا جواب ذکر فرمایا ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بہت بڑے موحد تھے حشر و نشربعث بعد الموت کے قائل تھے پھر بھی انہوں نے نظروں سے دیکھنے کے لیے اللہ جل شانہ سے سوال کیا کہ آپ مجھے دکھا دیجیے کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کیا تمہیں اس کا یقین نہیں ہے کہ میں مردوں کو زندہ کردونگا انہوں نے عرض کیا کہ یقین ضرور ہے پھر بھی میں چاہتا ہوں کہ علم الیقین سے آگے مجھے عین الیقین…
Read the full tafseer →قصہ سوم۔ نیز برائے اثبات حشر ونشر۔
قال تعالی، واذ قال ابراہیم رب ارنی۔۔ الی۔۔ حکیم۔
اور اسی گزرنے والے شخص کے قصہ کے مانند حضرت ابراہیم کا قصہ ذکر کیجئے جس وقت کہ ابراہیم نے کہا اے پروردگار آپ مجھ کو یہ دکھلا دیجئے کہ آپ کس طرح مردوں کو زندہ کرتے ہیں تاکہ مجھ کو معلوم ہوجائے کہ آپ قیامت کے دن کس طرح اور کس کیفیت کے ساتھ چاہیں مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں آپ کے زندہ کرنے کی عقلا بیشمار کیفیتیں ممکن ہیں معلوم نہیں کہ قیامت کے دن مردوں کے زندہ کرنے کی کیا کیفیت ہوگی اس لیے اس کی تعیین چاہتا ہوں کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں کہ کس کیفیت کے ساتھ مردے زندہ ہوں گے کیونکہ کیف کے ذریعہ سے جو سوال کیا جاتا…
Read the full tafseer →516 یہ واقعہ بھی پہلے قاعدہ پر متفرع ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اگرچہ اللہ کی قدرت علی الحیاء کا پورا پورا یقین تھا۔ وہ اس کی کیفیت کا مشاہدہ کر کے مزید اطمینانِ قلب حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا۔ کیونکہ جو علم مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے وہ بدیہی اور ضروری ہوتا ہے اور علم استدلالی سے زیادہ محکم اور پائیدار ہوتا ہے۔ معناہ بلی امنت ولکن لازید سکرنا وطمانیۃ ببضاعۃ علم المقدرۃ علم الاستدلال وتظاھرالادلۃ اسکن للقلوب وازید للبصیرۃ (مدارک ص 103 ج 1) لم یکن ابراہیم علیہ اسلام شاکا احیاء اللہ الموتی قط وانما طلب المعاینۃ (قرطبی ص 297 ج 3) ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ سوال کہ کیا…
Read the full tafseer →تمہید
توحید باری تعالیٰ ، اس کی کمال قدرت اور بعثت بعد الموت کے متعلق اس رکوع میں دو واقعات آچکے ہیں ، گزشتہ سے پیوستہ درس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کے مناظرے کی تفصیلات بیان ہوئی تھیں اور گزشتہ درس میں حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ آیا تھا جس میں انہوں نے موت وحیات کے منظر کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے اطمینان قلب حاصل کیا ۔ آج کے درس میں اسی قسم کا تیسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ اس میں بھی بعث بعد الموت کا بیان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خو د اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ انہیں مردوں کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرایا جائے تا کہ ان کا ایمان عین الیقین کے درجے تک پہنچ جائے۔…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُـحْيِ الْمَوْتٰى 0 ۭ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ 0 ۭ قَالَ بَلٰي وَلٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِىْ 0 ۭ قَالَ فَخُـذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْھُنَّ اِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰي كُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُہُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا 0 ۭ وَاعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 260 ۧ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون…
Read the full tafseer →ترکیب : اذ کا عامل محذوف ہے تقدیرہ اذکر پس یہ مفعول بہ ہے نہ مفعول فیہ قال فعل ابراھیم فاعل رب ارنی الخ جملہ مقولہ کیف تحی الموتی جملہ مفعول ہے ارنی کا ای کیفیۃ احیاء الموتی لیطمئن کالام محذوف سے متعلق ہے تقدیرہ و سلتک لیطمئن من الطیر صفۃ ہے اربعۃ کی منہن حال ہے جزء سے سعیا مصدر موضع حال میں اور مفعول مطلق بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : یہ تیسرا واقعہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ملک بابل سے ہجرت کرکے ملک شام میں آنے کے بعد گزرا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہرچند خدا کے فرمانے کی وجہ سے یقین تھا کہ آدمی مر کر گو اس کے اجزاء مخلوط ہوجائیں۔ ہوا میں ہوا اور خاک میں خاک اور پانی میں پانی آگ میں…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ط قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ط قَالَ بَلٰی وَلٰـکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ ط قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃَ مِنَ الطَّیْرِفَصُرْہُنَّ اِلَیْـکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْئً ا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاْ تِیْنَـکَ سَعْیًا ط وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔ ع
(اور یاد کرو جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے دکھا دے تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ فرمایا کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے ہو ؟ بولا ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے۔ فرمایا چار پرندے لے لو اور انھیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ مردہ کو زندہ کرنے کی ایک اور مثال۔
اللہ تعالیٰ نے سورة التّکاثر میں انسانی علم کے تین مدارج ذکر فرمائے ہیں۔ علم، علم الیقین اور عین الیقین۔ عین الیقین ایسا علم ہے جو تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہوجائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو عین الیقین کے تناظر میں سمجھنا چاہیے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حیات بعد الممات کے بارے میں کبھی بھی تشکیک کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کے بارے میں دو ٹوک انداز میں الانعام 57 میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے روز سے ہی رشد و ہدایت سے نوازا تھا۔ انبیاء کرام نبوت سے پہلے…
Read the full tafseer →آیت 260 :
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ (جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب تو مجھے دکھا )
کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی (تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے)
نحو : کیف یہ تحیی کی وجہ سے موضع نصب میں ہے۔
قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَپنَّ قَلْبِیْ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کیا تو یقین نہیں رکھتا۔ ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا کیوں نہیں ؟ مگر میرے دل کو اطمینان ہوجائے)
فائدئہ سوال :
اعتراض : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو فرمایا اولم تؤمن۔ کیا تمہیں یقین نہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ وہ ایمان میں تمام لوگوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔
جواب : یہ سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–261
(تفسیر) 260۔:
(واذ قال ۔۔۔۔۔ تحی الموتی) اور یاد کرو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا اے میرے رب مجھے دکھا دے کہ مردوں کو تو زندہ کس طرح کرتا ہے) حضرت حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، عطاء الخراسانی (رح) ضحاک (رح) ابن جریج (رح) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سوال پوچھنے کا سبب یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک مردار جانور کے پاس سے گزرے ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ گدھے کی لاش سمندر کے کنارے پڑی دیکھی ، حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں وہ سمندر بحیرہ طبریہ کا تھا وہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کا پانی اوپر آتا تو دریائی جانور اس مردار کو کھاتے اور جب پانی نیچے چلا جاتا تو خشکی کے جانور اس کو کھاتے اور جو حصہ…
Read the full tafseer →جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود سے یہ کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ شوق ہوا کہ حشر سے پہلے ہی خدا کی اس قدرت کا تماشا دیکھا جاوے۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں کچھ شک نہیں تھا کہ ایک دن حشر ہونے والا ہے اور اس دن اللہ تعالیٰ سب اگلے پچھلے مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ حشر پر ایمان لانا سب انبیاء کا ایک اجماعی مسئلہ ہے اسی واسطے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم (علیہ السلام) سے پوچھا اَوَلَمْ تُؤْمِنْ تو انہوں نے لفظ بَلٰی سے جواب ادا کیا لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ خواہش حضرت ابراہیم نے فقط اس لئے کی تھی کہ مرنے کے بعد…
Read the full tafseer →آیت 260
یہ بھی ایک عظیم اور محسوس دلیل ہے، جس سے اللہ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ فوت شدہ لوگوں کو جزا و سزا دینے کے لئے زندہ فرمائے گا۔ اللہ نے اپنے خلیل ابراہیم کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں مردوں کو زندہ ہوتا آنکھوں سے دکھا دیا جائے۔ آپ کو اللہ کے بتانے سے اس کا یقین تو حاصل ہوچکا تھا، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ اس کا بچشم سر مشاہدہ فرما لیں تاکہ انہیں حق الیقین کا مقام حاصل ہوجائے۔ اس لئے اللہ نے انہیں فرمایا : (اولم تو من قال بلی ولکن لیطمئن قلبی) ” کیا تمہیں ایمان نہیں ؟ جواب دیا : ایمان تو ہے، لیکن میرے دل کی تسکین ہوجائے گی۔ “ اس کی وجہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–262
صدقہ دے کر احسان جتلانا
قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ ثم لایتبعون ما انفقوا منا ولا اذی لھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون، (a) جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر احسان نہیں جتاتے نہ دکھ دیتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لئے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں) ۔
اسی طرح قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذیٰ کالذی ینفق مالہ رئا الناس ولایومن باللہ والیوم الاٰخر، (a) اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان…
Read the full tafseer →751 حضرت ابراہیم کی درخواست اطمینان مزید کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ کیا تم ایمان نہیں رکھتے ؟ تو انہوں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ ہاں کیوں نہیں۔ لیکن میں نے ایسا اس لیے عرض کیا کہ تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے۔ اور اس طرح مجھے علم الیقین سے عین الیقین کی طرف ترقی نصیب ہوجائے، کیونکہ سننے اور دیکھنے میں تو بہرحال فرق ہوتا ہی ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ " لَیْسَ الْخَبَرُ کَالْمُعَایَنَۃ " کہ " خبر دیکھنے اور معائنہ کرنے کے برابر نہیں ہوتی "۔ " کَیْفَ " کے لفظ سے جو سوال کیا جاتا ہے وہ بالعموم کیفیت کے بارے میں ہوتا ہے۔ سو حضرت ابراہیم کا یہ سوال اس…
Read the full tafseer →مُردوں کو زندہ کرنا
تشریح : اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو عملی طور پر مردوں کو زندہ کرنے کا طریقہ دکھایا گیا جس سے اللہ کی قدرت کاملہ واضح ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے تمام علما، سائنس دان اور فقہاء اس بات کو نہیں بتا سکتے کہ اصل طریقہ یا اصل قانون کون سا ہے جس سے اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے یا کرے گا۔ سوائے اس کے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ یہ اس کی قدرت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی بھی کام کے کرنے میں اسباب کا محتاج نہیں اور نہ ہی کام کرنے کے لئے اس کو اسباب کی ضرورت ہے۔ انسان کے لئے ہر کام میں کوئی نہ کوئی سبب ضروری ہے اور یہ سبب بھی اللہ تعالیٰ کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ان کو کم کر دے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 258–260
آیات 258- 260
اسرارو معارف
الم ترالی الذی حآج ابراھیم…………واللہ لا یھدی القوم الظلمین۔
ایمان مسلط اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو اللہ کی طرف سے دل پر وارد ہوتی ہے اور جس کا درود کا سبب وہ خواہش ہے جسے کتاب اللہ نے انابت کا نام دیا ہے اگر کسی دل میں انابت ہی نہ ہو تو لاکھ کوشش اور ہزار حجت کے بعد بھی اسے ایمان نصیب نہیں ہوتا۔ پھر یہاں زبردستی کیسی ؟
اس ضمن میں بطور مثال ارشاد ہے کہ……ذرا اسی شخص کے حالات دیکھئے جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا اور وہ بھی ربوبیت باری میں۔ حالانکہ اللہ نے ہی اسے ملک عطا کیا تھا یعنی خود اس کی ذات اور اس کی بہت بڑی سلطنت…
Read the full tafseer →ف 6 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور حکم ان کے پاس آتے رہتے تھے ان کو مردوں کے جی آٹھنے میں کوئی شک نہ تھا لیکن آنکھ سے دیکھ لیا چاہنا انسانی عادت ہے کہ وہ علم کے بعد عینی مشاہدہ چاہتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے علم الیقین کے بعد عین الیقین کا مرتبہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ (وحیدی۔ ابن کثیر)3 فصرھن کے معنی عموما املھن کئے گئے ہیں یعنی ان کو ہلالے شاہ صاحب اپنے فائدے میں لکھتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہلانے کو اس لیے فرمایا گیا تاکہ زندہ ہونے کے بعد وہ خوب پہچانے جاسکیں کہ واقعی وہی ہیں جو ذبح کر کے پہاڑ پر رکھے گئے تھے…
Read the full tafseer →(2:260) واذ قال ابراہیم میں اذ سے قبل عبارت مقدر ہے ای اذکر الوقت اذ یا واذکر الواقعۃ اذ۔ اور وہ وقت یاد کرو جب۔ یا وہ واقعہ یاد کرو جب۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی واؤ آیا ہے وہاں لفظ اذکر محذوف ہے۔ یعنی آپ ان سے ذکر کیجئے یا آپ ازخود یاد کیجئے اذ اسم ظرف ہے۔ قال فعل ابراہیم فاعل۔
رب ارنی کیف تحی الموتی۔ یہ جملہ مقولہ ہے اور کیف تحی الموتی جملہ مفعول ہے ارنی کا۔ ترجمہ ہوگا : اور (اے نبی) اس واقعہ کو یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے کہا اے میرے رب ! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا ؟ ارنی میں ار امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم کی۔
قال اولم نؤمن۔ قال۔ ای قال…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 260
رب (میرے پروردگار (اصل میں ربی تھا یا گر گئی اور رب رہ گیا) ۔ ارنی (مجھے دکھا دیجئے (ار، دکھائے، ن وقایہ ، ی، مجھے) ۔ تحی (تو زندہ کرتا ہے) ۔ اولم تؤمن (کیا تجھے یقین نہیں ہے (ا، و، لم، تومن) ۔ لیطمئن (تا کہ اطمینان ہوجائے) ۔ خذ (پکڑ لے) ۔ الطیر (پرندہ) صرھن (ان کو مانوس کرلے (صر، امر، ھن، ضمیر) ۔ جبل (پہاڑ) جزء (حصے، ٹکڑے) ۔ ادع (پکار (صیغہ امر) ۔ سعی (دوڑ، دوڑتے ہوئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 260
نبی سے زیادہ اللہ کی ذات وصفات اور قدرت کا کس کو یقین ہو سکتا ہے وہ تو پیکر ایمان و یقین ہوا کرتا ہے ، حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے محض کیفیت کے بارے میں پوچھا ہے کہ…
Read the full tafseer →نمونہ حشر اور قدرت کا کرشمہ
جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود سے اللہ تعالیٰ کی صفت، زندوں کا مارنا اور مردوں کا زندہ کرنا بیان کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بارگاہ ایزدی میں یہ التجا فقط اس لئے کی تھی کہ مرنے کے بعد متفرق اجزا مردہ کیونکر جمع ہوتے ہیں، اور پیشان اجزاء کے جمع ہوجانے اور ان سے جسم کے تیار ہوجانے کے بعد اس جسم سے کیونکر روح کا تعلق ہوتا ہے۔ اس سب کیفیت کو آنکھوں سے دیکھ کر حشر سے پہلے اس کیفیت پر اطمینان حاصل کرلیویں، اور حشر پر ایمان لانا تو سب انبیاء کا ایک اجماعی مسئلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو التجا کی تھی وہ علم الیقین سے عین الیقین کے درجہ تک ترقی کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 260–265
[179] مطلب یہ ہے کہ ایمان کے درجے تک تو یقین اب بھی حاصل ہے۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاہدے کے بعد اطمینان اور زیادہ ہوجائے۔ اس چیز کو اصطلاح میں عین الیقین کہتے ہیں یعنی وہ یقین جو مشاہدہ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ولکن لیطمئن قلبی :
(ف 1) انبیاء (علیہم السلام) ایک مضبوط ومحکم عقیدہ لے کر مبعوث ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں قوت تاثیر نسبتا دوسرے لوگوں کے بہت زیادہ ہوتی ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اسے یقین واثق کی توثیق چاہی جو مشاہدات پر مبنی ہو اور جو قطعی محسوس اور غیر مشکوک ہو ، تاکہ جب وہ نظام آخرت کی طرف لوگوں کو دعوت دیں تو دل کی گہرائیوں کے ساتھ خود بھی اس پر ایمان رکھتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کیا اس حقیقت پر ایمان نہیں رکھتے کہ مزید مشاہدہ کی ضرورت پڑے ؟ آپ (علیہ السلام) نے جوابا عرض کیا ، ایمان تو موجود ہے ، اطمینان خاطر مطلوب ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ایمان مشہود…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ۔ اے میرے پروردگار ! مجھ کو یہ چیز دکھا دیجئے کہ آپ قیامت میں مردوں کو کس کیفیت سے زندہ کریں گے اور مرنے کے بعد تمام اجسام کو کس طرح جمع کر کے زندہ کردیں گے۔
حضرت حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ابراہیم ! کیا تم مردوں کے زندہ ہونے پر یقین نہیں لائے انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں بیشک میں مردوں کے زندہ ہونے پر یقین رکھتا ہوں لیکن یہ گزارش اس لئے کررہا ہوں تا کہ زندہ ہونے کی کیفیت کو مشاہدہ اور معائنہ کرنے سے میرے قلب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوجائے اور جس چیز کو علم الیقین کا مرتبہ حاصل ہے اس عین الیقن کا درجہ حاصل…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی زندہ کرنے کا تو یقین ہے مگر عقلا اس کی مختلف کیفیتیں ممکن ہیں ان میں سے معلوم نہیں کون سی کیفیت ہوگی۔
1۔ اس واقعہ کو دکھلا کر اللہ نے کیفیت احیاء یوم قیامت کی بتلادی کہ اس طرح اول اجزاء جمع ہو کر اجسار تیار ہوں گے پھر ان میں روح پڑجائے گی
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک رؤیا کا ذکر :
449: جس طرح پچھلی آیت کے سیاق کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا قصہ ایک رویا کا واقعہ تھا اسی طرح اس قصہ کا بھی رویا میں واقع ہونا پایا جاتا ہے اول تو اس وجہ سے کہ سب سے اول جو قصہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا نمرود کے ساتھ بیان ہوا وہ ظاہر صورت میں ایک واقعہ تھا اس سے ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو علیحدہ کر کے اس قصہ کے بعد بیان کیا ہے جو رویا میں واقع ہوا تھا ۔ دوسرے یہ کہ کیفیت احیائے موتی امر مشاہد بالعین نہیں ہے اور اس لفظ ” اَرِنِیْ “ سے کسی ایسے امر سے مراد نہیں ہے جو وقوع فی المشاہدہ ہو بلکہ ارادت قلبی مراد ہے پس گویا حضرت…
Read the full tafseer →Commentary
This is the third story taken up in the above verse (260). The gist of the story is that Sayyidna Ibrahim (Abraham) (علیہ السلام) sought from Allah Almighty the favour of being shown as to how He would bring the dead back to life. Allah Almighty asked him why he had made such a request. Was it because he did not believe in His perfect power which controls everything? Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) explained his true state of mind. In fact, there was no question of his being suspicious about the Resurrection, because the infinite power of Allah is manifest every moment to every…
Read the full tafseer →296. That is, the rest and inner peace that one attains as a result of direct personal observation.
297. People have subjected this incident and the one above to very strange interpretations. If one bears in mind, however, God's dealings with the Prophets, one will not feel any need to strain one's energies in hammering out such artificially-contrived interpretations. The truth of the matter is that the kind of function that ordinary believers are required to perform requires of them no more than believing in certain truths without perceiving them through their senses. The function entrusted…
Read the full tafseer →