Al-Kahf 18:99

Al-Kahf · from ayah 99

18:99

وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا ۟ۙوَتَرَكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَئِذٍ يَّمُوۡجُ فِىۡ بَعۡضٍ‌ وَّنُفِخَ فِى الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًا

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We will leave them that day surging over each other, and [then] the Horn will be blown, and We will assemble them in [one] assembly.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:99

اور اُس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دُوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پھُونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن ہم انہیں آپس میں ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے اور صور پھونک دیا جائے گا پس سب کو اکٹھا کرکے ہم جمع کر لیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس دن ہم ان کی یہ حالت کردیں گے کہ وہ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے، اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو ایک ساتھ جمع کرلیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس دن ہم انہیں چھوڑ دیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر ریلا (سیلاب کی طرح) آوے گا اور صُور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو اکٹھا کر لائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم اس وقت (جملہ مخلوقات یا یاجوج اور ماجوج کو) آزاد کر دیں گے وہ (تیز و تند موجوں کی طرح) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو (میدانِ حشر میں) جمع کرلیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس دن ہم ان کے بعض کو چھوڑیں گے کہ بعض میں ریلا مارتے ہوں گے اور صور میں پھونکا جائے گا تو ہم ان کو جمع کریں گے، پوری طرح جمع کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس دن ہم لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں گے کہ وہ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوجائیں اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب لوگوں کو اکٹھا کردیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس دن ہم چھوڑ دیں گے وہ ایک دوسرے سے موجوں کی طرح ٹکرائیں گے اور صور پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس روز ہم ان کو اس حال میں چھوڑ دیں گے کہ وہ سمندر کی موجوں کی طرح ایک دوسرے میں موجیں مار رہے ہوں گے اور پھونک مار دی جائے گی صور میں، پھر اکٹھا کر لائیں گے ہم ان سب کو چن چن کر

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم اس روز انہیں ایک دوسرے سے گڈمڈ کردیں گے۔ اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب کو جمع کرلیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم چھوڑ دیں گے ان کو اس دن وہ ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوجائیں گے اور صور میں پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو جمع کرلیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ روئے زمین پر پھیل کر ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And on that Day We shall let some of them surge like waves against others, and the Trumpet shall be blown. Then We shall gather them all together.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And on that day, (i.e. the Doomsday) We will leave them (all the people including Ya‘juj and Ma‘juj) surging over one another. And the Horn shall be blown, then We shall gather them together.

— Muhammad Taqi Usmani

And on that day, (i.e. the Doomsday) We will leave them (all the people including Ya‘juj and Ma‘juj) surging over one another. And the Horn shall be blown, then We shall gather them together.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And on that Day, We shall leave some of them to surge like waves on one another; and the Trumpet will be blown, and We shall collect them (the creatures) all together.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And on that day we shall let some of them surge against others, and the Trumpet will be blown. Then We shall gather them together in one gathering.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We will leave them that day surging over each other, and [then] the Horn will be blown, and We will assemble them in [one] assembly.

— Saheeh International

On the day when the barrier is demolished, We will leave human beings in chaos. We will leave them like the waves of the sea striking against each other. Then the trumpet will be sounded and We will bring them all together.

— Muhammad Sarwar

And on that day We will leave a part of them in conflict with another part, and the trumpet will be blown, so We will gather them all together;

— Muhammad Habib Shakir

And We shall leave them on that day surging one against anot her and the trumpet shall be blown, and then We shall assemble them together.

— Abdul Majid Daryabadi

On that day We shall leave them to surge like waves on one another: the trumpet will be blown, and We shall collect them all together.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:99

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 97–99

دیوار بنادی گئی۔ اس دیوار پر نہ تو چڑھنے کی طاقت یاجوج ماجوج کو ہے، نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کرسکتے ہیں کہ وہاں سے نکل آئیں۔ چونکہ چڑھنا بہ نسبت توڑنے کے زیادہ آسان ہے اسی لئے چڑھنے میں ما اسطاعوا کا لفظ لائے اور توڑنے میں ما استطاعوا کا لفظ لائے۔ غرض نہ تو وہ چڑھ کر آسکتے ہیں نہ سوراخ کر کے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہر روز یاجوج ماجوج اس دیوار کو کھودتے ہیں یہاں تک کے قریب ہوتا ہے کہ سورج کی شعاع ان کو نظر آجائیں چونکہ دن گزر جاتا ہے، اس لئے ان کے سردار کا حکم ہوتا ہے کہ اب بس کرو کل آکر توڑ دیں گے لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں، تو اسے پہلے دن سے زیادہ مضبوط پاتے ہیں۔ قیامت کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 99–101

سورة الْكَهْف 73 یعنی قیامت کے روز۔ ذو القرنین نے جو اشارہ قیامت کے وعدۂ بر حق کی طرف کیا تھا اسی کی مناسبت سے یہ فقرے اس کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–101

خلاصہ تفسیر اور ہم اس روز (یعنی جب اس دیوار کے انہدام کا یوم موعود آئے گا اور یاجوج و ماجوج کا خروج ہوگا تو اس روز ہم) ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ کیونکہ یہ کثرت سے ہوں گے اور بیک وقت نکل پڑیں گے اور سب ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں ہوں گے) اور (یہ قیامت کے قریب زمانہ میں ہوگا پھر بعد چندے قیامت کا سامان شروع ہوگا ایک بار اول صور پھونکا جائے گا جس سے تمام عالم فنا ہوجائے گا پھر) صور (دوبارہ) پھونکا جائے گا (جس سے سب زندہ ہوجائیں گے) پھر ہم سب کو ایک ایک کرکے (میدان حشر میں) جمع کرلیں گے اور دوزخ کو اس روز کافروں کے سامنے پیش کردیں گے جن کی آنکھوں پر (دنیا میں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 99 تا 110:۔ اب آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ یہ خاتمہ نہایت بلیغ گریز سے شروع ہوا ہے۔ ذوالقرنین نے اپنے عظیم بند کو دیکھ کر یہ جو فرمایا کہ جب میرے رب کے شدنی وعدہ قیامت کے ظہور کا وقت آئے گا تو یہ ساری بلندیاں پست اور یہ تمام تعمیرات مسمار ہوجائیں گی، اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ قیامت کی یاد دہانی اور سرگشتان دنیا کی تنبیہ کا ذریعہ بنا لیا اور انذار کا وہ مضمون جس سے سورة کا آغاز ہو تھا ایک نئے اسلوب سے پھر سامنے آگیا۔ ہم نظم قرآن کی اس خصوصیت کی طرف متعدد مقامات میں اشارہ کرچکے ہیں کہ سورتیں بالعموم اسی مضمون پر ختم ہوتی ہیں۔ جس مضمون سے ان کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سورة کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 98–101

98۔ 1 یعنی یہ دیوار اگرچہ بڑی مضبوط بنادی گئی جس کے اوپر چڑھ کر اس میں سوراخ کر کے یاجوج ماجوج کا ادھر آنا ممکن نہیں ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا، تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ مثلًا ایک حدیث میں نبی ﷺ نے اس دیوار کے تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا (صحیح بخاری، نمبر 3346 و مسلم، نمبر 228) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جب اللہ کی مشیت ان کے باہر نکلنے کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل انشا اللہ اسکو کھو دیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 99–103

51: اس سے مراد یاجوج ماجوج کا وہ ریلا بھی ہوسکتا ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ قیامت کے قریب نکلیں گے تو ایک غیر منظم بھیڑ کی شکل میں نکلیں گے اور موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قیامت کے وقت عام لوگوں کی بد حواسی کا بیان ہو کہ قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بدحواسی میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔ ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 99–100

7 یعنی یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بیشمار تعداد میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے نکلیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ شدت ہول و اضطراب سے ساری مخلوق رَل گڈھ ہوجائے گی۔ جن و انس ایک دوسرے میں گھسنے لگیں گے پھر قیامت کا بگل ہوگا یعنی صور پھونکا جائے گا۔ اس کے بعد سب خدا کے سامنے میدان حشر میں اکٹھے کیے جائیں گے اور دوزخ کافروں کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ شاید کافروں کی تخصیص اس لیے کی کہ اصل میں دوزخ ان ہی کے لیے تیار کیا گیا ہے اور ان کی آنکھوں پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اب وہ پردہ اٹھ گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 99 وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ یہ قیامت سے پہلے رونما ہونے والے جنگی واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ قرب قیامت کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ یاجوج و ماجوج کا ظہور بھی ہے۔ احادیث میں ان کے بارے میں ایسی خبریں ہیں کہ وہ دریاؤں اور سمندروں کا پانی پی جائیں گے اور ہرچیز کو ہڑپ کر جائیں گے۔ عین ممکن ہے وہ آدم خور بھی ہوں اور ضرورت پڑنے پر انسانوں کو بھی کھا جائیں۔ جیسے آج ہم چینی قوم کو دیکھتے ہیں کہ وہ سانپ بچھو کتا بلی ہرچیز کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ کثرت آبادی کے لحاظ سے بھی یاجوج و ماجوج کی بیشتر علامات کا تطابق چینی قوم پر ہوتا نظر آتا ہے۔ یاجوج و ماجوج کی یلغار کا نقشہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 99–100

82 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب دیوار ذوالقرنین پیوند خاک ہوجائے گی تو یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بیشمار تعداد میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے نکلیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن نفخہ صور ثانی ہوگا تو لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر موجوں کی طرح ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اس کے بعد سب اللہ کے سامنے میدان حشر میں اکٹھے کیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

151۔ یہ کس روز ؟ (آیت) ” یومئذ “۔ سے کس روز کی طرف اشارہ ہے ؟ ظاہرا مراد اس دیوار کے عدم کے دن سے ہے یا اس وقت کے قرب سے ہے، الاقرب ان المراد الوقت الذی جعل اللہ ذلک السد دکاء (کبیر) اے یوم اذا جاء الوعد بمجئی بعض مبادیہ (روح) اے یوم یدک ھذا السد (ابن کثیر) قیل ھذا عند فتح السد (معالم) لیکن بعض نے اس سے یوم قیامت مراد لی ہے۔ اور یہ مفہوم بھی سیاق قرآنی سے کچھ زیادہ بعید نہیں۔ اس صورت میں (آیت) ” بعضھم اے بعض الخلق (کشاف) ” یومئذ “ کی جو دونوں تعبیریں نقل ہوئیں۔ ان میں باہم کوئی منافات نہیں۔ ہدم دیوار کا وقوع عین قرب قیامت ہی میں تو ہوگا۔ (آیت) ” ترکنا “۔ یہاں جعلنا کے مرادف ہے۔ (کشاف۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 99–110

آیت نمبر 99 تا 110 ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض اور ہم اس روز ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈمڈ ہو جائیں گے۔ بعض علماء نے کہا یہ واقعہ اس وقت ہوگا جب یاجوج وماجوج سد کو توڑ چکے ہوں گے ‘ یعنی دیوار توڑ کر یاجوج و ماجوج پانی کی طرح لہریں مارتے داخل ہوں گے کثرت اور ریل پیل کی وجہ سے ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہے گا اور آپس میں گڈمڈ ہوجائیں گے ‘ بعض کا قول ہے کہ ایسا واقعہ اس وقت ہوگا کہ قیامت بپا ہوجائے گی اور لوگ قبروں سے باہر آجائیں گے اور جنات بھی انسانوں کے ساتھ گڈمڈ ہوجائیں گے اور سب حیرت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ اس تفسیر کی تائید آئندہ آیت سے ہو رہی ہے۔ ونفخ فی الصور اور (قبروں سے مردوں کو زندہ کر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(99) اور ان کے نکلنے کے دن یا روم سے واپسی کے دن جب کہ یاجوج ماجوج اس سے نہیں نکل سکیں گے ہم ان کی یہ حالت کردیں گے کہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجائیں گے اور صور پھونکے جانے کے بعد ہم سب کو جمع کرلیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ : اس دن سے مراد یہ ہے کہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار کے مسمار ہونے کے وقت یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بےحساب تعداد میں یلغار کرتے ہوئے نکلیں گے۔ اسی کیفیت کو (وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ) [ الأنبیاء : 96 ] میں بیان کیا گیا ہے۔ وَّنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَـجَـمَعْنٰهُمْ جَمْعًا :”الصُّوْرِ“ سے مراد وہ سینگ ہے جس میں فرشتہ پھونک مارے گا تو حشر برپا ہوجائے گا۔ یہ تفسیر خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلصُّوْرُ قَرْنٌ یُنْفَخُ فِیْہِ) [ أبوداوٗد، السنۃ، باب في ذکر البعث والصور : 4742۔ الصحیحۃ : 1080 ]…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 99–106

(تفسیر آیت 99-110) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔ ترکنا من ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یعنی ہم جن و انس کو قیامت کے روز واگزار کردیں گے وہ (تند موجوں کی طرح) ایک دوسروں میں گھس جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہم یاجوج وماجوج کو واگزار کردیں گے۔ یومئذ اس دیوار کے کمال کے وقت وہ ایک دوسرے میں گھس جائیں گے۔ ان کے موج کا استعارہ حیرت سے عببارت ہے اور ان کے تردد سے عبارت ہے جیسے غم اور خوف کی وجہ سے نڈھال لوگ ہوتے ہیں انہیں دریا کی موج سے تشبیہ دی ہے جس کی موجیں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم یاجوج و ماجوج کو دیوار کے کھلنے کے دن دنیا میں دریا کی موجوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–100

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَتَرَكْنَا : اور ہم چھوڑ دیں گے ] [بَعْضَهُمْ : ان کے بعض کو ] [يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [يَّمُوْجُ : وہ ریلا ماریں گے ] [فِيْ بَعْضٍ : بعض میں ] [وَّنُفِخَ : اور پھونک ماری جائے گی ] [فِي الصُّوْرِ : صور میں ] [فَـجَـمَعْنٰهُمْ : پھر ہم جمع کریں گے ] [جَمْعًا : جیسا جمع کرنے کا حق ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ تَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَءِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ ) اور ہم اس دن ان کو اس حال میں چھوڑ دیں گے کہ ایک دوسرے میں گھستے رہیں گے۔ (یعنی قیامت سے پہلے جب یاجوج ماجوج نکلیں گے تو ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجائیں گے اور اسی طرح دنیا میں پھیل پڑیں گے۔ ھذا علی احدالقولین وروی عن ابن عباس ؓ انہ اراد بہ الذین تقوم علیھم الساعۃ ای یضطربون اضطراب البحر یختلط انسھم وجنھم من شدۃ الھول ذکرہ صاحب الروح۔ (صفحہ 62 ج 16) (وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰھُمْ جَمْعًا) اور صور پھونک دیا جائے گا سو ہم ان سب کو جمع کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–110

تتمہ قصۂ ذوالقرنین و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔ اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 99–100

84:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین کے چاروں شبہات کا جواب دینے کے بعد ان مشرکین کے لیے تخویف اخروی کا ذکر کیا گیا۔ جنہوں نے دنیا میں اللہ کے ذکر اور اس کی توحید سے آنکھیں بند کرلیں۔ اور اللہ کی توحید سننے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو یاجوج ماجوج سے متعلق کیا ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو محققین نے بیان کیا ہے کہ بعضھم کی ضمیر سے لوگ مراد ہیں اور یموج، موج سے ہے اور اس سے بےچینی اور اضطراب مراد ہے، یعنی جب دوسری بار صورت پھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور شدت ہول کی وجہ سے بےچین و مضطرب ہوں گے۔ والموج مجاز عن الاضطراب ای یضطربون اضطراب البحر یختلط انسھم وجنھم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 95–101

(بند باندھنے کی پیش کش) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب سکندر ذوالقرنین انتہائی شمال میں ایک قوم کے ایک قوم کے پاس پہنچے تو ان لوگوں نے شکایت کی کہ اس پہاڑی درے سے اس طرف یاجوج وماجوج کی اقوام ہیں جو اس درے سے گذر کر ہمیں تنگ کرتے ہیں ، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان اس درے میں دیوار کھڑی کردیں تاکہ وہ ادھر نہ آسکیں ، انہوں نے اس کام کے لیے معاوضے کی پیشکش بھی کی ، اب آج کی آیات میں ذوالقرنین کا جواب آرہا ہے (آیت) ” قال مامکنی فیہ ربی خیر “۔ کہا کہ میرے لیے اللہ کی عطا کردہ قدرت بہتر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے حکومت دی ہے ، مال واسباب عطا فرمائے ہیں لہذا مجھے تمہارے مال کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَرَكْنَا بَعْضَہُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَـجَـمَعْنٰہُمْ جَمْعًا۝ 99ۙ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 99–101

ترکیب : بعضہم مفعول اول ترکنا بمعنی جعلنا کا یموج جملہ مفعول ثانی وترکنا جملہ مستانفہ ہے یومئذ یموج سے متعلق سے۔ کانوا معطوف ہے کانت اعینہم پر حیزصلہ میں داخل ہے معطوف اور معطوف علیہ کا مجموعہ صلہ ہے الذین کا یہ موصول اپنے صلہ سے مل کر الکافرون کی صفت یا نعت ہے۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے ذوالقرنین کے قصہ کا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز یعنی وقت موعود پر جبکہ دیوار ٹوٹے گی اور قوم یاجوج و ماجوج اس میں سے ادھر کے ملکوں میں آئے گی تو یہ اژدھام ہوگا کہ دھکم دھکا ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ٹڈی دل کی طرح امڈے چلے آئیں گے آ کر زمین میں فساد کریں گے، قتل کریں گے، کھیتیاں اجاڑیں گے، چونکہ دیوار کا ٹوٹنا یاجوج…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 99–101

وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰـہُمْ جَمْعًا۔ وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکٰـفِرِیْنَ عَرْضَانِ ۔ الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَـآئٍ عَنْ ذِکْرِیْ وَکَانُوْا لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۔ (الکہف : 99 تا 101) (اور ہم واگزار کردیں گے بعض کو اس دن وہ تند موجوں کی طرح دوسروں سے ٹکرائیں گے اور صور پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ ہم اس دن جہنم کو کافروں کے سامنے پیش کریں گے۔ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا رہا اور وہ کلمہ حق سننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔ ) آیات کے مختلف مفاہیم ان آیات کا حقیقی مفہوم تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ مفسرین نے یاجوج ماجوج کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد ہیں۔ ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ ماضی اور موجودہ زمانے میں اس کا کون سی قوم کے ساتھ تعلق بنتا ہے اور یہ قوم کس ملک اور علاقے میں پائی جاتی تھی بہرحال اللہ “ کا حکم نافذ ہوگا تو نہ صرف سدِّ ذوالقرنین ٹوٹ جائی گی بلکہ پوری دنیا الٹ پلٹ ہوجائے گی، اس دن تمام لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرلیا جائے گا۔ یاجوج ماجوج سے مراد ایشیا کے شمالی مشرقی علاقے کی وہ قومیں ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر غارت گرانہ حملے کرتی رہی ہیں اور جن کے سیلاب وقتاً فوقتاً اٹھ کر ایشیاء…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مرحلہ قیامت کی ابتداء : 99: وَتَرَکْنَا (اور ہم نے کردیا) بَعْضَھُمْ (بعض مخلوق کو) یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ (کہ وہ گڈ مڈ ہوجائیں گے) فِیْ بَعْضٍ (ایک دوسرے میں) یعنی وہ مضطرب ہونگے اور انسان اور جنات حیرانی سے گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ نمبر 2۔ یہ بھی جائز ہے کہ ضمیریا جوج ماجوج کی طرف ہو کہ وہ اس وقت موجیں مارنے والے ہونگے۔ جب دیوار کے پیچھے سے نکلیں گے شہروں میں ہجوم کردیں گے۔ روایت تفسیر میں ہے کہ وہ سمندر پر آئیں گے تو اس کے پانی کو پی جائیں گے اور اس کے جانداروں کو کھا جائیں گے پھر درختوں کو اور جو انسان ان کے ہاتھ آئے۔ مگر وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ اور اسی طرح بیت المقدس میں۔ پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(99)” وترکنا بعضھم یومذ یموج فی بعض “ بعض علماء نے کہا یہ واقعہ اس وقت ہوگا جب یاجوج و ماجوج سد کو توڑ چکے ہوں گے یعنی دیوارتوڑ کر یاجوج و ماجوج پانی کی طرح لہریں مارتے داخل ہوں گے، کثرت اور ریل پیل کی وجہ سے ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہے گا اور آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ بعض کا قول ہے کہ ایسا واقعہ اس وقت ہوگا کہ قیامت بپا ہوجائے گی اور لوگ قبروں سے باہر آجائیں گے اور جنات بھی انسانوں کے ساتھ گڈ مڈ ہوجائیں گے اور سب حیرت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ ” وانفخ فی الصور “ یاجوج ماجوج کا خروج قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے اور یہ قرب قیامت ظاہر ہوں گے۔ ” فجمعناھم جمعاً “ ایک میدان میں جمع کریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 99–102

99۔ 102 یہ ہر ایک ایماندار آدمی کا اعتقاد ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں اسی اعتقاد کے موافق ذوالقرنین نے وقت مقررہ پر اس دیوار کے گر جانے کا ذکر کیا اب اس دیوار کے گرجانے کے بعد جو کچھ ہوگا وہ ایک غیب کی بات تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اس دیوار کے گرتے ہی یاجوج ماجوج اپنی کثرت کے سبب سے دریا کہ موج کی طرح تمام زمین پر پھیل جائیں گے صحیح مسلم کی نواس بن سمعان کی جس روایت 1 ؎ کا تذکرہ اوپر گزرا اس میں یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے لے کر پہلے صور تک کا حال یوں ہے۔ کہ یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 99–101

آیت 99 (وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض) ” اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے “ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج و ماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم ہوں گے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حتی اذا فتحت یا جوج و ماجوج وھم من کل حدب ینسلون) (الانبیاء : 12 /69) ” یہاں تک کہ یا جوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔ “ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

143 فتنہ یاجوج و ماجوج کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ان کو اس دن اس طرح چھوڑ دیں گے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے میں موجیں مار رہے ہوں گے "۔ اپنی خوفناک کثرت کی بناء پر۔ جس کی تفصیلات احادیث و روایات میں مذکور و موجود ہیں۔ سو اس کا پورا ظہور تو قرب قیامت کے موقع پر ہی ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { حَتّٰی اِذَا فُتِحَتْ یَاجُوْجُ وَ مَاجُوْجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ } ۔ ( الانبیائ : 96) ۔ مگر اس سے پہلے جو مختلف فتنے مختلف ادوار میں ظاہر ہوتے رہے ان کو ان کا نمونہ قرار دیا جائے تو یہ کچھ بعید نہیں۔ جیسا کہ کچھ مفسرین کرام نے ان وحشی اور جنگجو قوموں اور قبائل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–101

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی وہ دیوار توڑ کر بیشمار تعداد میں سمندر کی موجوں کی طرح یلغار کرتے نکلیں گے یہ آخری زمانہ میں ہوگا۔ اس کے بعد جلد ہی قیامت آجائے گی۔ دیکھیے انبیاء آیت 97-96) حضرت خدیجہ سے روایت ہے کہ قیامت نہ آئے گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپ نے یہ نشانیاں شمار فرمائیں جن میں سے ایک یاجوج ماجوج کی یورش تھی۔ (مسلم) آیت کا یہ مفہوم کے لئے قرار دی جائے۔ اور ونفخ فی الصور کے یہ معنی کئے جائیں کہ اس کے بعد صور پھونکا جائے گا اور گار یہ لوگوں کے لئے قرار دی جائے تو آیت کا ترجمہ یوں ہوگا ” اس دن قیامت کے دن ہم لوگوں کو شدت خوف و ہراس سے ایک دوسرے میں موجود کی طرح باہم در آتے چھوڑ دیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:99) ترکنا۔ ماضی جمع متکلم بمعنی مستقبل ہم چھوڑیں گے۔ یہاں جعلنا کے مرادف استعمال ہوا ہے۔ یعنی کردیں گے۔ یموج۔ مضارع واحد مذکر غائب موجمصدر ( باب نصر) لہریں مارتے ہوں گے : (1) اگر وعد ربی سے مراد یوم قیامت ہے تو یہاں بعضہم کی ضمیر الناس کے لئے ہے کہ خلقت جن وانس اس روز کی ہولناکی اور شدت اضطراب سے طوفانی سمندر کی لہروں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر گڈ مڈ ہو رہے ہوں گے۔ (2) اگر وعد ربی سے مراد سد ذوالقرنین کا انہدام ہے اور یاجوج ماجوج کے خروج کا دن ہے تو ضمیر اگر (الف) الناسکے لئے ہے تو مطلب یہ ہے کہ یاجوج ماجوج باہر نکل پڑیں گے تو لوگ خوف وہراس سے متلاطم سمندر کی موجوں کی طرح ایک دوسرے سے گڈ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 92–101

لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101 السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا تشریح : آیت نمبر 92 تا 101 مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 98–101

ارشاد ہوتا ہے کہ جس روز وہ دیوار ٹوٹے گی، یہ نقشہ ہوگا ایک دوسرے پو اژدہام کی وجہ سے گریں گے، ٹڈی دل کی طرح امڈ آویں گے۔ پھر اس کے بعد صور پھونکا جاوے گا، اہل دنیا نیست و نابود ہو کر دوبارہ زندہ ہوں گے، اور سب جمع کئے جاویں گے۔ اور اس روز کافروں کے سامنے جہنم کو لاویں گے تاکہ اس میں وہ ڈالے جاویں۔ وہ کافر لوگ ہیں جن کی آنکھوں پر دنیا میں پردے پڑے ہوئے ہیں، اور قرآن کی نصیحت سننے سے ان کے کان گویا بہرے ہیں۔ اس سبب سے ایسے لوگ مرتے دم تک اسی حالت پر رہ کر آخر کو مرجاویں گے اور قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 99–100

[35] جب اس دیوار کے انہدام کا وقت آجائے گا تو یاجوج ماجوج ایک دم سے نکل پڑیں گے اور ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ [36] صور کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طٰہ حاشیہ 45 صفحہ 740۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 92–99

معیار حکمرانی : (ف 1) مغرب میں فتوحات کے بعد جب ذوالقرنین نے مشرق کا رخ کیا تو وہاں ایک خانہ بدوش قوم پائی یہ اقصائے مشرق کے رہنے والے تھے ، اس کے بعد وہ دوسری جانب بڑھا یہاں دونوں طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں ایک درہ تھا ، یہاں کچھ لوگ آباد تھے ، انہوں نے اپنی زبان میں کہا ، جسے ذوالقرنین نہیں سمجھتے تھے ، کہ یا جوج وماجوج کی قومیں ہماری ہاں آکر لوٹ مار کرتی ہیں ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیاں ایک دیوار کھینچ دیں ؟ تاکہ ہم ان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں ، ہم اس کام کے مصارف بھی آپ کو ادا کرنے لئے تیار ہیں ، ذوالقرنین نے کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے ، تمہارے روپے پیسے کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-99 اور ہم اس دن ان کی ایسی حالت کردیں گے کہ وہ ایک دوسرے میں موجوں کی طرح گھس رہے ہوں گے اور صور پھونکا جائے تو ہم سب کو یکجا جمع کرلیں گے۔ یا تو یہ مطلب ہے کہ وہ اس دن اس کثرت سے نکلیں گے کہ ان کا اژدھام ایسا ہوگا کہ ایک دوسرے میں موجوں کی مانند گھسے جاتے ہوں گے یعنی بیشمار ہوں گے یا پہلے نفخہ صور کی طرف اشارہ ہوگا کہ اس وقت اس کی خوفناک آواز کا یہ اثر ہوگا کہ سب گڈ مڈ ہوجائیں گے حتیٰ کہ درندے بھی آبادیوں میں بھاگ آئیں گے اور سب ختم ہوجانے کے بعد دوسری بار جب صور پھونکا جائے گا تو پھر ایک ایک کر کے سب کو جمع کرلیا جائے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ قیامت کے دن ہوگا جو رب کا وعدہ ہے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 99–100

ف 3۔ یعنی جب اس دیوار کے انہدام کا وقت موعود آوے گا اور یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا تو اس روز ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈ مڈ ہوجاویں گے بوجہ اس کے کہ کثرت سے ہوں گے اور ایک دم سے نکل پڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دن آئے گا تو ہم قوموں کو سمندر کے پانیوں کی طرح چلادیں گے ۔ 105۔ گزشتہ آیت میں ” ذوالقرنین “ نے جو اشارہ قیامت کے وعدہ برحق کی طرف کیا تھا اس کی مزید تشریح فرما دی اور فرمایا کہ جب مقررہ وقت آئے گا تو یہ ساری قومیں نکلیں گی اور وہ سمندر کی موجوں کی طرح ایک دوسرے پر آپڑیں گی پھر ایک وقت آئے گا جب سب کو اکٹھا ہوجانا ہے اور اس وقت منکرین حق دیکھ لیں گے کہ دوزخ ان کے سامنے ہے ، اس وقت جب لوگوں کو جمع کرنا مقصود ہوتا تھا تو نرسنگھا پھونکا جاتا تھا اور اس کی آواز سنتے ہی ہر گوشہ سے لوگ نکل آتے تھے فرمایا ایک ایسی ہی بات اس روز بھی ہونے والی ہے ۔ ‘ نرسنگھا پھونکا جائے گا کہ سب لوگ نکل آئیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 99–101

Commentary As for the pronoun of the word: بَعْضَهُمْ (ba` dahum) in بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ (And on that day, We will leave them [ Ya’ juj and Ma'juj ] surging over one another - 99), it is obvious that it reverts back to Ya'juj Ma juj. Then, as for their condition described therein - 'surging over one another' - it is also obvious that this will be their state when the passage lies open for them and they will be hastening their way from the hilly heights down to the ground. Commentators have suggested other probabilities as well. The pronoun in: فَجَمَعْنَاهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 99–101

73.“That Day”:“The Day of Resurrection”. As if to continue the theme of life after death to which Zul-Qarnain referred as the time of my Lord’s promise, the Quran has added (verses 99-101) to it.

Read the full tafseer →