Explained with ayahs 97–99
دیوار بنادی گئی۔
اس دیوار پر نہ تو چڑھنے کی طاقت یاجوج ماجوج کو ہے، نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کرسکتے ہیں کہ وہاں سے نکل آئیں۔ چونکہ چڑھنا بہ نسبت توڑنے کے زیادہ آسان ہے اسی لئے چڑھنے میں ما اسطاعوا کا لفظ لائے اور توڑنے میں ما استطاعوا کا لفظ لائے۔ غرض نہ تو وہ چڑھ کر آسکتے ہیں نہ سوراخ کر کے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہر روز یاجوج ماجوج اس دیوار کو کھودتے ہیں یہاں تک کے قریب ہوتا ہے کہ سورج کی شعاع ان کو نظر آجائیں چونکہ دن گزر جاتا ہے، اس لئے ان کے سردار کا حکم ہوتا ہے کہ اب بس کرو کل آکر توڑ دیں گے لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں، تو اسے پہلے دن سے زیادہ مضبوط پاتے ہیں۔ قیامت کے…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 71
یعنی اگرچہ میں نے اپنی حد تک انتہائی مستحکم دیوار تعمیر کی ہے، مگر یہ لازوال نہیں ہے۔ جب تک اللہ کی مرضی ہے، یہ قائم رہے گی، اور جب وہ وقت آئے گا جو اللہ نے اس کی تباہی کے لیے مقدر کر رکھا ہے تو پھر اس کو پارہ پارہ ہونے سے کوئی چیز نہ بچا سکے گی۔ " وعدے کا وقت " ذو معنی لفظ ہے۔ اس سے مراد اس دیوار کی تباہی کا وقت بھی ہے اور وہ ساعت بھی جو اللہ نے ہر چیز کی موت اور فنا کے لیے مقرر فرما دی ہے، یعنی قیامت۔ (اس دیوار کے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر۔ 2)
سورة الْكَهْف 72
یہاں پہنچ کر ذو القرنین کا قصہ ختم ہوجاتا ہے۔ یہ قصہ اگرچہ کفار مکہ کے امتحانی سوال پر سنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
یاجوج و ماجوج کون ہیں اور کہاں ہیں، سد ذوالقرنین کس جگہ ہے ؟
ان کے متعلق اسرائیلی روایات اور تاریخی کہانیوں میں بہت بےسروپا عجیب و غریب باتیں مشہور ہیں جن کو بعض حضرات مفسرین نے بھی تاریخی حیثت سے نقل کردیا ہے مگر وہ خود ان کے نزدیک بھی قابل اعتماد نہیں قرآن کریم نے ان کا مختصر ساحال اجمالاً بیان کیا اور رسول کریم ﷺ نے بقدر ضرورت تفصیلات سے بھی امت کو آگاہ کردیا ایمان لانے اور اعتقاد رکھنے کی چیز صرف اتنی ہی ہے جو قرآن اور احادیث صحیحہ میں آگئی ہے اس سے زائد تاریخی اور جغرافیائی حالات جو مفسرین محدثین اور مؤ رخین نے ذکر کئے ہیں اور صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ان میں جو اہل تاریخ کے اقوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
تفسیر آیات 92 تا 98:۔ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (92) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلا (93) قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا (94) قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا (95) آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (96) فَمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
98۔ 1 یعنی یہ دیوار اگرچہ بڑی مضبوط بنادی گئی جس کے اوپر چڑھ کر اس میں سوراخ کر کے یاجوج ماجوج کا ادھر آنا ممکن نہیں ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا، تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ مثلًا ایک حدیث میں نبی ﷺ نے اس دیوار کے تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا (صحیح بخاری، نمبر 3346 و مسلم، نمبر 228) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جب اللہ کی مشیت ان کے باہر نکلنے کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل انشا اللہ اسکو کھو دیں…
Read the full tafseer →50: ذوالقرنین نے اتنا بڑا کارنامہ انجام دینے کے بعد دو حقیقتوں کو واضح کیا، ایک یہ کہ یہ سارا کارنامہ میرے قوت بازو کا کرشمہ نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مجھے اس کی توفیق ہوئی ہے، اور دوسرے یہ کہ اگرچہ اس وقت یہ دیوار بہت مستحکم بن گئی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے اسے توڑنا کچھ مشکل نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا یہ قائم رہے گی، اور جب وہ وقت آجائے گا جس میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ٹوٹنا مقرر کر رکھا ہے تو یہ ٹوٹ کر زمین کے برابر ہوجائے گی، اس طرح قرآن کریم سے یہ بات یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتی کہ یہ دیوار قیامت تک قائم رہے گی، بلکہ اس کا قیامت سے پہلے ٹوٹنا بھی ممکن ہے، چنانچہ…
Read the full tafseer →قال ھذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” یہ میرے رب کی رحمت ہے مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اسے پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ یوں سیرت ذوالقرنین کا یہ حلقہ ختم ہوتا ہے۔ ذوالقرنین ایک اچھے حکمران کا نمونہ تھے جسے اللہ نے تمکین فی الارض عطا کی۔ ترقی اور قوت کے اسباب فراہم کئے۔ اس نے زمین کے شرق و غرب کو روند ڈالا۔ لیکن اس نے کبر و غرور کو اپنے قریب آنے نہ دیا ، نہ اس نے سرکشی اور نافرمانی کی۔ نہ اس نے اپنے مفتوحہ علاقوں کے اندر لوٹ مار مچائی۔ نہ افراد ، نہ علاقوں اور ملکوں کا استحصال کیا۔ اپنے مفتوجہ علاقوں کو غلام بھی نہ…
Read the full tafseer →6 یعنی محض خدا کی مہربانی سے یہ روک قائم ہوگئی اور میعاد معین تک قائم رہے گی۔ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے نزول اور قتل دجال کے بعد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وعدہ ہے اس وقت یہ روک ہٹا دی جائے گی۔ دیوار توڑ کر اتنی کثیر تعداد میں نکل پڑیں گے جس کا شمار اللّٰہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ دنیا ان کے مقابلے میں عاجز ہوگی۔ حضرت مسیح کو حکم ہوگا کہ میرے خاص بندوں کو لے کر " طور " پر چلے جائیں۔ آنحضرت مسیح (علیہ السلام) بارگاہ احدیت کی طرف دست دعا دراز کریں گے۔ اس کے بعد یاجوج ماجوج پر ایک غیبی وبا مسلط ہوگی۔ سب ایک دم مرجائیں گے۔ مزید تفصیل کتب حدیث باب " امارات…
Read the full tafseer →آیت 98 قَالَ ھٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّيْ
اتنا بڑا کارنامہ سر انجام دینے کے بعد بھی ذوالقرنین کوئی کلمہ فخر زبان پر نہیں لائے بلکہ یہی کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ سب اللہ کی مہربانی سے ہی ممکن ہوا ہے۔
فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّاۗءَ
چنانچہ امتداد زمانہ کے سبب یہ دیوار اب ختم ہوچکی ہے صرف اس کے آثار موجود ہیں جن سے اس کے مقام اور سائز وغیرہ کا پتا چلتا ہے۔
Read the full tafseer →80 جب یہ دیوار تعمیر ہوگئی تو ذوالقرنین نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ جس نے یہ دیوار بنانے اور لوگوں کو آئے دن کی پریشانیوں سے نجات دلانے کی توفیق بخشی مگر ساتھ ہی لوگوں کو یہ بھی بتادیا کہ یہ دیوار اگرچہ بہت مضبوط اور مستحکم ہے مگر یہ لازوال نہیں جو چیز بھی بنی ہے بالآخر فنا ہونے والی ہے جب تک اللہ کو منظور ہے قائم رہے گی اور وعدے کے وقت سے مراد یا تو اس دیوار کی تباہی کا وقت ہے یا اس سے مراد قیامت ہے جب کہ ہر چیز ہی فنا ہوجائے گی جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے اسی دوسرے مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔
81 ذوالقرنین کے خصائل :۔ اس آیت پر ذوالقرنین کا ان لوگوں سے خطاب بھی ختم ہوجاتا ہے اور قصہ…
Read the full tafseer →149۔ (کہ میرے ہاتھوں سے ایسا مہتم بالشان کام انجام دلا دیا) ذوالقرنین نے یہ بات بہ طور شکر وتحدیث نعمت کے کی جو شیوہ ہے اہل حق کا۔ (آیت) ” ھذا “۔ میں اشارہ اس سد کی تعمیر کی جانب ہے یا اس تعمیر پر اقتدار وقوت کی جانب۔ اشارۃ الی السد او ھذا الاقتدار والتمکین من تسویتہ (کشاف)
150۔ (جو بہر نوع وبہر صورت پورا ہو کر ہی رہتا ہے) ذوالقرنین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ سردست تو میں نے ان موذیوں کے شر سے تم کو محفوظ کردیا ہے۔ باقی جب اس کے فنا کا وقت آئے گا تو یہ دیوار سنگ وآہن بھی باوجود اس استحکام کے زمین دوز ہو کر نیست ونابود ہوجائے گی۔ اور جس طرح ہر شے فانی ہے یہ بھی اپنے وقت پر فنا ہو کر رہے۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
آیت نمبر 92 تا 98
ترجمہ : پھر اس نے ایک اور سفر کی تیاری شروع کی یہاں تک کہ جب وہ ایسے مقام پر پہنچا کہ جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا سین کا فتح اور ضمہ دونوں ہیں، یہاں بھی اور بعد میں بھی، بلاد ترک کے اختتام پر دو پہاڑ ہیں سکندر نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو بند کردیا تھا جیسا کہ عنقریب (اس کا ذکر) آرہا ہے، تو ان دونوں پہاڑوں کے اس پار یعنی ان کے سامنے ایک ایسی قوم کو پایا جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی یعنی بڑی دیر کے بعد (اشارہ وغیرہ سے) ایک قرأت میں ضمہ ی اور کسرہ کاف کے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یأجوج ومأجوج ہمزہ اور بدون ہمزہ دونوں قرأتیں ہیں یہ دو عجمی قبیلوں…
Read the full tafseer →قال ہذا رحمۃ من ربی ذوالقرنین نے کہا یہ (یعنی دیوار اور اس کو بنانے کی قدرت دینا) میرے رب کی (اپنے
بندوں پر) رحمت ہے۔
فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء پھر جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا تو اس دیوار کو وہ زمین کے ساتھ ہموار
کر دے گا۔ وعدۂ رب سے مراد ہے یاجوج و ماجوج کے خروج کا وقت یا قرب قیامت۔ دک مصدر ہے بمعنی مدکوک یعنی زمین پر پھیلا کر اس کو ہموار کر دے گا۔
وکان وعد ربی حقا۔ اور میرے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ذوالقرنین کے قصہ میں یہ
بھی بیان کیا گیا ہے کہ ذوالقرنین ظلمات میں گھس گیا پھر لوٹ کر آیا تو شہر زور میں اس کی وفات ہوگئی۔
بعض کا قول ہے کہ ذوالقرنین کی عمر کچھ اوپر تیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ،
چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ،
ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…
Read the full tafseer →قَالَ ھٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّيْ : ذوالقرنین نے دیوار بنا کر اسے اپنا کارنامہ قرار دینے کے بجائے اپنے رب کی رحمت قرار دیا، جس کی بدولت وہ لوگ یاجوج ماجوج کے حملوں سے محفوظ ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی مضبوطی کے باوجود اسے لازوال قرار دینے کے بجائے فرمایا کہ جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سے سچا ہے۔ ذوالقرنین کی بات اور دو باغوں والے بےایمان کی بات کا موازنہ کریں، جو اپنے باغوں کو کبھی برباد نہ ہونے والا کہہ رہا تھا، تو مومن و کافر کی سوچ کا فرق صاف واضح ہوجاتا ہے۔
فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّاۗءَ۔۔ : ذوالقرنین کی اس بات سے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال ھذا رحمۃ من ربی اس کا قائل ذوالقرنین ہے ھذا کے ساتھ اس دیوار کی طرف اور اس پر قوت اور یاجوج وماجوج کے ضرر کو دفع کرنے میں اس سے انتفاع کی طرف اشارہ کیا۔ ابن ابی عبلہ نے ھذہ رحمۃ من ربی پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فاذا جآء وعدربی۔ یعنی قیامت کا دن آئے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : جب یاجوج وماجوج کے خروج کا دن آئے گا جعلہ دکآء تو اسے زمین کے برابر کر دے گا اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا دکت الارض دکا (الفجر) ابن عرفہ نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ اس طرح برابر کردی جائے گی کہ اس میں کوئی ٹیلہ نہ ہوگا، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جعلہ دک ’ آئ۔ ایسی اونٹنی جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–100
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔
2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں نے کہا ] [ھٰذَا : یہ ] [رَحْمَةٌ: ایک رحمت ہے ] [مِّنْ رَّبِيْ : میرے رب (کی طرف) سے ] [فَاِذَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آئے گا ] [وَعْدُ رَبِيْ : میرے رب کا وعدہ ] [جَعَلَهٗ : تو وہ بنا دے گا اس کو ] [دَكَّاۗءَ : ایک نرم مٹی کا ٹلہ ] [وَكَان : اور ہے ] [وَعْدُ رَبِيْ : میرے رب کا وعدہ ] [حَقًّا : سچا ]
Read the full tafseer →(فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَہٗ دَکَّآءَ ) (سو جب میرے رب کا وعدہ آپہنچے گا) یعنی جب اس کے فنا ہونے کا وقت موعود آجائے گا تو میرا رب اسے چورا چورا بنا دے گا۔ (وَ کَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّا) (اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے یعنی اس نے جو کچھ وعدے فرمائے ہیں اور اپنی مخلوق کے بارے میں خبریں دی ہیں وہ سب سچی ہیں۔ ان کا وقوع ہونا ہی ہونا ہے۔ )
اس وعدہ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے وقوع قیامت مراد ہے اور بعض نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج کا نکلنا مراد ہے جب وہ نکلیں گے تو یہ دیوار ختم ہوجائے گی اور چورا چورا ہو کر زمین کے برابر ہوجائے گی یہ قول اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
سفر سوم
ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ بین السدین۔۔۔ الیٰ ۔۔ وکانوا لا یستطیعون سمعا۔
ذکر تعمیر سد آہنی برائے انسداد خروج یا جوج و ماجوج
پھر مشرق و مغرب کے سفر سے فارغ ہو کر مشرق و مغرب کے درمیان جنوب سے شمال کی طرف ایک تیسری راہ کے پیچھے ہو لیا۔ یہاں تک کہ جب وہ چلتا چلتا دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا جس کی پشت پر یاجوج ماجوج کی زمین تھی تو ان پہاڑوں کے پیچھے اس نے عجیب و غریب قوم پائی جو کم عقلی کی وجہ سے کسی بات کے سمجھنے کے قریب بھی نہ پہنچے تھے یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات نہیں سمجھتے تھے اور وحشی اور کم عقل ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے تھے ورنہ عاقل آدمی قرائن سے کچھ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
83:۔ جب لوہے اور تانبے سے دونوں دیواروں کا درمیانی حصہ پر کردیا گیا۔ تو ذو القرنین نے کہا کہ یہ دیوار اس قدر مضبوط ہوگئی ہے کہ اب یاجوج ماجوج نہ تو اس کو پھاند سکتے ہیں اور اور نہ اس میں سوراخ کر کے تمہارے علاقے میں داخل ہوسکیں گے۔ ” فاذا جاء وعد ربی الخ “ لیکن جب میرے پروردگار کے وعدے کے مطابق قیامت آگئی۔ تو پہاڑوں کی طرح یہ دیوار بھی ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں مفسرین اور مؤرخین نے مختلف باتیں لکھی ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج چند ایسے قبائل کا مجموعہ ہے جو جسمانی اور معاشرتی لحاظ سے عجیب و غریب زندگی کے حامل تھے۔ مثلا بالشت ڈیڑھ بالشت یا زیادہ سے زیادہ ایک ذراع کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–101
(بند باندھنے کی پیش کش)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب سکندر ذوالقرنین انتہائی شمال میں ایک قوم کے ایک قوم کے پاس پہنچے تو ان لوگوں نے شکایت کی کہ اس پہاڑی درے سے اس طرف یاجوج وماجوج کی اقوام ہیں جو اس درے سے گذر کر ہمیں تنگ کرتے ہیں ، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان اس درے میں دیوار کھڑی کردیں تاکہ وہ ادھر نہ آسکیں ، انہوں نے اس کام کے لیے معاوضے کی پیشکش بھی کی ، اب آج کی آیات میں ذوالقرنین کا جواب آرہا ہے (آیت) ” قال مامکنی فیہ ربی خیر “۔ کہا کہ میرے لیے اللہ کی عطا کردہ قدرت بہتر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے حکومت دی ہے ، مال واسباب عطا فرمائے ہیں لہذا مجھے تمہارے مال کی…
Read the full tafseer →قَالَ ھٰذَا رَحْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّيْ 0ۚ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَہٗ دَكَّاۗءَ 0ۚ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّيْ حَقًّا 98ۭ
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه»
( ر ح م ) الرحم ۔
الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔
تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمَا قَوْمًا لا لاَّ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ قَوْلاً ۔ قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ قَالَ مَامَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌفَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا۔ اٰ تُوْنِیْ زُبَرَالْحَدِیْدِ ط حَتّٰیٓ اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ط حَتّٰیٓ اِذَا جَعَلَـہٗ نَارًا لا قَالَ اٰ تُوْنِٓیْ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا۔ فَمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
فہم القرآن
ربط کلام : ذوالقرنین کی تیسری عسکری مہم۔
مفسرین کا خیال ہے کہ مشرق و مغرب کو فتح کرنے کے بعد ذوالقرنین اپنے ملک سے ملحقہ اس زمانے کی موجود دنیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچا جسے بعض مؤرخ ترکستان کے قریب کا علاقہ شمار کرتے ہیں۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد آباد تھی۔ جہاں بحرقرز اور بحر اسود کے درمیان پہاڑی سلسلہ ہے یہاں کے لوگوں کو مؤرخ منگول قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ قریب قریب وہی علاقے ہیں جہاں چائینہ کا ملک ہے۔ کیونکہ یہاں کوہ قفقاز کے دامن میں آہنی دیوار موجود ہے۔
ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشہور دیوار چین…
Read the full tafseer →98: قَالَ ھٰذَا رَحْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّیْ (اس نے کہا یہ میرے رب کی مہربانی ہے) یہ دیوار میرے اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور اس کے بندوں پر رحمت ہے۔ نمبر 2۔ یہ برابر دیوار بنانے کی قدرت و طاقت یہ میرے رب کی مہربانی ہے۔ فَاِذَا جَآ ئَ وَعْدُ رَبِّیْ (جب میرے رب کا وعدہ آئے گا) جب قیامت کا دن آئے گا اور آنے کے قریب ہوگا۔ جَعَلَہٗ (وہ اس کو کر دے گا) اس دیوار کو دَکًّا (گرنے والا) زمین بوس، کوٹ کر زمین پر پھیلا ہوا۔ ہر وہ چیز جو بلندی کے بعد پھیل جائے اس کو عرب اندک سے تعبیر کرتے ہیں۔
قراءت : دکاء کوفی نے پڑھا یعنی برابر زمین۔
وَکَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّا (اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے) یہ سکندر کی آخری…
Read the full tafseer →(98)” قال “ ذی القرنین نے کہا ” ھذا “ یہ دیوار ” رحمۃ “ نعمت ہے۔ ” من ربی فاذا وعد ربی “ اس سے مراد قیامت کا دن ہے اور بعض نے کہا کہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت مراد ہے۔
” جعلہ دکائ “ اہل کوفہ نے ” دکائ “ مد کے ساتھ پڑھا ہے اور ہمرہ کے ساتھ۔ یعنی زمین پر پھیلا کر اس کو ہموار کردے گا اور دوسرے قراء نے اس کو مد کے بغیر پڑھا ہے۔ اس کو زمین کے ساتھ ہموار کردے گا۔ ” وکان وعد ربی حقا “
یاجوج ماجوج کا خروج قرب قیامت میں ہوگا
حضرت ابوہریرہ ؓ کا مرفوع بیان نقل کیا ہے کہ یاجوج و ماجوج روز دیوار کو کاٹتے ہیں اور اتنا کھودتے ہیں کہ سورج کی کرنیں ( دوسری طرف کی) چمکنے کے قریب ہوجاتی ہیں تو ان کا سردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
96۔ 98۔ یہ قصہ کے بیچ میں اللہ تعالیٰ نے ایک غیب کی بات فرمائی کہ قیامت کے قریب تک نہ یاجوج ماجوج اس دیوار پر چڑھ کر گھاٹی کی ورلی طرف آسکیں گے صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت کے حوالہ سے اوپر یہ جو گزرا کہ اللہ کے رسول ﷺ کے وقت میں روپیہ برابر سوراخ اس دیوار میں ہوگیا تھا 1 ؎ آیت کے اس ٹکڑے اور اس حدیث میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ حدیث میں جس سوراخ کا ذکر ہے وہ یاجوج ماجوج کے نقب لگانے سے نہیں پڑا اور نہ وہ سوراخ ایسا ہے جس میں سے آیت کے مضمون کے برخلاف وقت مقررہ سے پہلے یاجوج ماجوج گھاٹی کی ورلی طرف آسکتے ہیں بلکہ یہ سوراخ تو اللہ کے حکم سے اس لیے پڑا ہے کہ وقت مقررہ تک رفتہ رفتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
آیت 89
یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →141 ذوالقرنین کا جذبہ شکر و تواضع : سو اتنی بڑی اور اس قدر عظیم الشان دیوار بنانے پر تنگ ظرف لوگوں کی طرح ذو القرنین نے اپنے لیے کسی طرح کی تعلّی یا کسی عجب و غرور اور بڑائی کا کوئی اظہار نہیں کیا بلکہ اپنی عاجزی و فروتنی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو اپنے رب کی رحمت و عنایت قرار دیا۔ چناچہ ذو القرنین نے کہا کہ " یہ میرے رب کی رحمت ہے "۔ جو اس نے میرے ذریعے اپنے بندوں پر فرمائی ہے۔ اور وہ یاجوج ماجوج کی لوٹ مار سے محفوظ ہوگئے۔ اور اس طرح ذوالقرنین نے اپنے قول وقرار اور اپنی للہیت کا ایک اور ثبوت فراہم کردیا۔ سو اس میں انہوں نے نہ کسی تعلّی کا اظہار کیا اور نہ ہی کسی طرح کی بڑائی کا کوئی دعویٰ کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین
ذوالقرنین کا واقعہ
تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔
خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–101
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔
(ذوالقرنین کون تھا)
ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
ف 6 یعنی یہ دیوار گو انتہائی مضبوط ہے مگر یہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک میرے مالک کی مرضی ہے اور جب وہ وقت آئے گا جو میرے مالک نے اس کی تباہی کے لئے مقدر فرمایا ہے تو کوئی چیز اسے پیوند خاک ہونے سے نہیں بچا سکے گی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ذوالقرنین ایسی محکم دیوار پر بھی منتظر تھا کہ آخر یہ بھی فنا ہوگی نہ جیسے وہ باغ والا اپنے باغ پر مغرور (موضح) بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیوار آنحضرت کے زمانہ تک قائم تھی۔ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے ایک دائرہ بنا کر بتایا کہ آج یاجوج ماجوج کے بند میں سے اتنا کھل گیا ہے۔ بخاری مسلم یہاں ولہ سے مراد دیوار کے ختامہ اور تباہی کا وقت ہے اور وہ قیامت یا اس سے…
Read the full tafseer →(18:98) ھذا۔ سدّ کی طرف اشارہ ہے۔ وہ دیوار جو اس نے آڑ کے لئے بنائی تھی۔ وکائ۔ واحد دکاوات جمع۔ نرم پہاڑ۔ مٹی کا پشتہ۔ ہموار شدہ سطح۔ دک یدک (نصر) کو ٹنا۔ ریزہ ریزہ کرنا۔ ہموار کرنا۔ مدکوک۔ کوٹ کوٹ کور ریزہ کیا ہوا۔ وہ اسے ریزہ ریزہ کر دے گا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ۔ اذا دکت الارض دکا دکا (89:21) جب زمین توڑ توڑ کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔
فاذا جاء وعد ربی۔ ای فاذا جاء وقت وعد ربی۔ وقت وعدہ سے مراد یوم قیام بھی ہوسکتا ہے ۔ اور یاجوج ماجوج کا یوم خروج بھی۔ سیاق قرآن کے مطابق دونوں صورتیں مراد ہوسکتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101
السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا
تشریح : آیت نمبر 92 تا 101
مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ارشاد ہوتا ہے کہ جس روز وہ دیوار ٹوٹے گی، یہ نقشہ ہوگا ایک دوسرے پو اژدہام کی وجہ سے گریں گے، ٹڈی دل کی طرح امڈ آویں گے۔ پھر اس کے بعد صور پھونکا جاوے گا، اہل دنیا نیست و نابود ہو کر دوبارہ زندہ ہوں گے، اور سب جمع کئے جاویں گے۔ اور اس روز کافروں کے سامنے جہنم کو لاویں گے تاکہ اس میں وہ ڈالے جاویں۔ وہ کافر لوگ ہیں جن کی آنکھوں پر دنیا میں پردے پڑے ہوئے ہیں، اور قرآن کی نصیحت سننے سے ان کے کان گویا بہرے ہیں۔ اس سبب سے ایسے لوگ مرتے دم تک اسی حالت پر رہ کر آخر کو مرجاویں گے اور قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
Read the full tafseer →[34] '' وعدے کا وقت '' ذومعنی ہے۔ اس سے مراد اس دیوار کی تباہی کا وقت بھی ہے اور وہ گھڑی بھی جو اللہ نے ہر چیز کی موت اور فنا کے لئے ٹھہرا دی ہے، یعنی قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–99
معیار حکمرانی :
(ف 1) مغرب میں فتوحات کے بعد جب ذوالقرنین نے مشرق کا رخ کیا تو وہاں ایک خانہ بدوش قوم پائی یہ اقصائے مشرق کے رہنے والے تھے ، اس کے بعد وہ دوسری جانب بڑھا یہاں دونوں طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں ایک درہ تھا ، یہاں کچھ لوگ آباد تھے ، انہوں نے اپنی زبان میں کہا ، جسے ذوالقرنین نہیں سمجھتے تھے ، کہ یا جوج وماجوج کی قومیں ہماری ہاں آکر لوٹ مار کرتی ہیں ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیاں ایک دیوار کھینچ دیں ؟ تاکہ ہم ان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں ، ہم اس کام کے مصارف بھی آپ کو ادا کرنے لئے تیار ہیں ، ذوالقرنین نے کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے ، تمہارے روپے پیسے کی…
Read the full tafseer →-98 دیوار کی تکمیل کے بعد ذوالقرنین نے کہا یہ دیوار میرے پروردگار کی مہربانی ہے پھر جس وقت میرے پروردگار کا وعدہ آجائے گا تو وہ اس دیوار کو برابر کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ برحق اور سچا ہے جو یقینا پورا ہوگا۔ یعنی اس وقت تو یاجوج ماجوج کے شر سے محفوظ کردیئے گئے ہیں لیکن جب فنا کا وقت آئے گا تو حق تعالیٰ اس کو گرا کر زمین کے برابر کر دے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت کے وقت میں روپیہ برابر سوراخ اس میں پڑگیا اور حضرت عیسیٰ کے وقت ان کے نکلنے کا وعدہ ہے سب دنیا کو لڑائی سے عاجز کردیں گے آسمان پر تیر چلا دیں گے وہ لہو بھرے آویں گے۔ آخر حضرت عیسیٰ کی بد دعا سے ایک بار سارے مر رہیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
ف 2۔ یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات سمجھتے اور وحشی اور قلیل الفہم ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے لگ بھگ بھی نہیں پہنچتے، ورنہ عاقل آدمی رموز و قرائن سے کچھ قریب قریب سمجھ لیتا ہے۔
Read the full tafseer →ذوالقرنین کے عقائد کا اظہار اس کی اپنی زبان سے :
104۔ اس دیوار کی تکمیل کے بعد ذوالقرنین کا جو بیان قرآن کریم نے درج کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ذوالقرنین اللہ تعالیٰ اور روز قیامت کا قائل تھا کہ اس نے اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دے کر بھی اپنا کوئی کمال تسلیم نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ ” میرے پروردگار کی فرمائی ہوئی بات پوری ہوئی اور وہی جب چاہے گا اس کو منہدم کردے گا اور میرے پروردگار کی فرمائی ہوئی بات بالکل سچ ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ بات بالکل واضح ہوگئی کہ ذوالقرنین ایک بہت بڑا فاتح ہونے کے باوجود اپنے سارے کاموں کا انحصار اپنی ذات پر نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر رکھتا ہے اور جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
Commentary
The Identity of Ya'juj Ma'juj and the Location of the Wall of Dhul-Qarnain
A lot of absurd and strange things disseminated through Isra'ili narratives and historical stories have found currency to the extent that some commentators have also reported them in terms of their historical status, though they themselves do not find them trustworthy. The truth of the matter is that the Qur'an has mentioned it briefly and the Holy Prophet ﷺ has informed his community also about the details as and where necessary. What has to be believed in as part of one's faith is limited to what has been…
Read the full tafseer →71. That is, though I have built a very strong iron wall, as far as it was possible for me, it is not ever lasting, for it will last only as long as Allah wills, and will fall down to pieces when the time of my Lord’s promise shall come. Then no power in the world shall be able to keep it safe and secure.
As regards to the time of Allah’s promise, it has two meanings. (1) It may mean the time of the destruction of the wall. (2) It may also mean the time of the death and destruction of everything destined by Allah at the end of the world i.e. the Hour of Resurrection.
Some people have…
Read the full tafseer →