Al-Kahf 18:97

Al-Kahf · from ayah 97

18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا ۟فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَـقۡبًا

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So Gog and Magog were unable to pass over it, nor were they able [to effect] in it any penetration.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:97

(یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تو ان میں اس دیوار کے اوپر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ ان میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ (وہ دیوار ایسی بن گئی کہ) یاجوج ماجوج نہ اس پر چڑھنے کی طاقت رکھتے تھے، اور نہ اس میں کوئی سوراخ بنا سکتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ان (یاجوج اور ماجوج) میں نہ اتنی طاقت تھی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ اتنی قدرت پا سکے کہ اس میں سوراخ کر دیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر نہ ان میں یہ طاقت رہی کہ اس پر چڑھ جائیں اور نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کرسکے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اس طرح یہ بند ایسا بن گیا کہ) یاجوج ماجوج نہ تو اس کے اوپر چڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی سوراخ کرسکتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس نہ تو وہ اس پر چڑھ ہی سکتے تھے اور نہ اس میں نقب ہی لگا سکتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اس طرح یہ ایسی عظیم الشان دیوار تیار ہوگئی کہ یاجوج ماجوج نہ تو اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اس میں نقب لگانا ان کے بس میں تھا۔

— مولانا اسحاق مدنی

سو وہ (قوم یاجوج وماجو ج) نہ اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب ہی لگا سکتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب نہ تو وہ (یاجوج ماجوج) اس کے اوپر چڑ ھ سکیں گے اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Such was the rampart that Gog and Magog could not scale, nor could they pierce it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So they (Ya‘juj and Ma‘juj) were not able to climb it, nor were they able to make a hole in it.

— Muhammad Taqi Usmani

So they (Ya‘juj and Ma‘juj) were not able to climb it, nor were they able to make a hole in it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So they could not scale it or dig through it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (Gog and Magog) were not able to surmount, nor could they pierce (it).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So Gog and Magog were unable to pass over it, nor were they able [to effect] in it any penetration.

— Saheeh International

(Thus he constructed the barrier which) neither Gog nor Magog were able to climb nor were they able to dig a tunnel through the iron and brass barrier.

— Muhammad Sarwar

So they were not able to scale it nor could they make a hole in it.

— Muhammad Habib Shakir

Thus they Were not able to mount it, nor Were they able to burrow through it.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus were they made powerless to scale it or to dig through it.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:97

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 97–99

دیوار بنادی گئی۔ اس دیوار پر نہ تو چڑھنے کی طاقت یاجوج ماجوج کو ہے، نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کرسکتے ہیں کہ وہاں سے نکل آئیں۔ چونکہ چڑھنا بہ نسبت توڑنے کے زیادہ آسان ہے اسی لئے چڑھنے میں ما اسطاعوا کا لفظ لائے اور توڑنے میں ما استطاعوا کا لفظ لائے۔ غرض نہ تو وہ چڑھ کر آسکتے ہیں نہ سوراخ کر کے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہر روز یاجوج ماجوج اس دیوار کو کھودتے ہیں یہاں تک کے قریب ہوتا ہے کہ سورج کی شعاع ان کو نظر آجائیں چونکہ دن گزر جاتا ہے، اس لئے ان کے سردار کا حکم ہوتا ہے کہ اب بس کرو کل آکر توڑ دیں گے لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں، تو اسے پہلے دن سے زیادہ مضبوط پاتے ہیں۔ قیامت کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 95–97

سورة الْكَهْف 70 یعنی فرمانروا ہونے کی حیثیت سے میرا یہ فرض ہے کہ اپنی رعایا کو غارت گروں کے حملے سے بچاؤں۔ اس ملک کے لیے تم پر کوئی الگ ٹیکس لگانا میرے لیے جائز نہیں ہے۔ ملک کا جو خزانہ اللہ تعالیٰ نے میرے حوالے کیا ہے وہ اس خدمت کے لیے کافی ہے۔ البتہ ہاتھ پاؤں کی محنت سے تم کو میری مدد کرنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–98

یاجوج و ماجوج کون ہیں اور کہاں ہیں، سد ذوالقرنین کس جگہ ہے ؟ ان کے متعلق اسرائیلی روایات اور تاریخی کہانیوں میں بہت بےسروپا عجیب و غریب باتیں مشہور ہیں جن کو بعض حضرات مفسرین نے بھی تاریخی حیثت سے نقل کردیا ہے مگر وہ خود ان کے نزدیک بھی قابل اعتماد نہیں قرآن کریم نے ان کا مختصر ساحال اجمالاً بیان کیا اور رسول کریم ﷺ نے بقدر ضرورت تفصیلات سے بھی امت کو آگاہ کردیا ایمان لانے اور اعتقاد رکھنے کی چیز صرف اتنی ہی ہے جو قرآن اور احادیث صحیحہ میں آگئی ہے اس سے زائد تاریخی اور جغرافیائی حالات جو مفسرین محدثین اور مؤ رخین نے ذکر کئے ہیں اور صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ان میں جو اہل تاریخ کے اقوال…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 92–98

تفسیر آیات 92 تا 98:۔ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (92) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلا (93) قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا (94) قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا (95) آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (96) فَمَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 96–97

96۔ 1 یعنی دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان جو خلا تھا، اسے لوہے کی چھوٹی چھوٹی چادروں سے پر کردیا۔ 96۔ 2 پگھلا ہوا سیسہ، یا لوہا یا تانبا۔ یعنی لوہے کی چادروں کو خوب گرم کر کے ان پر پگھلا ہوا لوہا، تانبا یا سیسہ ڈالنے سے وہ پہاڑی درہ یا راستہ ایسا مضبوط ہوگیا کہ اسے عبور کر کے یا توڑ کر یاجوج ماجوج کا ادھر دوسری طرف انسانی آبادیوں میں آنا ناممکن ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 96–97

49: ذوالقرنین نے پہلے لوہے کی بڑی بڑی چادریں پہاڑوں کے درمیان رکھ کر درے کو پاٹ دیا، پھر ان چادروں کو آگ سے گرم کرکے ان پر پگھلا ہوا تانبہ ڈالا، تاکہ وہ چادروں کی درمیانی درازوں میں جاکر بیٹھ جائے اور اس طرح یہ دیوار نہایت مضبوط بن گئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فما اسطاعوا ان یظھروہ (81 : 89) ” یہ اس پر غالب بھی نہ آسکتے تھے۔ “ اس کے اوپر بھی نہ چڑھ سکتے تھے اور وما استطاعوالہ نقباً (81 : 89) ” اور اس میں نقب لگانا بھی ان کے لئے مشکل تھا۔ “ اس لئے وہ اس بندے آگے بڑھ ہی نہ سکتے تھے چناچہ ان کے لئے اس ضعیف اور پسماندہ قوم پر حملہ آور ہونا ممکن ہی نہیں رہا اس لئے وہ امن میں ہوگئے اور اطمینان سے رہنے لگے۔ اب ذوالقرنین دیکھ رہا تھا کہ اس نے کس قدر عظیم مفید عوامی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا دیا ہے۔ تاہم اس پر اس نے کبرو غرور نہ کیا۔ علم اور ٹیکنالوجی کی قوت نے اسے مدہوش نہ کیا بلکہ اس نے اللہ کو یاد کیا اور وہ شکر بجالایا۔ اللہ نے اسے جس عمل صالح کی توفیق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی حق تعالیٰ نے یاجوج ماجوج کو فی الحال یہ قدرت نہیں دی کی دیوار پھاند کر یا توڑ کر ادھر نکل آئیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 96–97

حَتّٰى اِذَا سَاوٰى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ جب لوہے کے تختوں کو جوڑ کر انہوں نے دونوں پہاڑوں کے درمیانی درّے میں دیوار کھڑی کردی تو : قَالَ انْفُخُوْا اس نے بڑے پیمانے پر آگ جلا کر ان تختوں کو گرم کرنے کا حکم دیا۔ حَتّٰى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا جب لوہے کے وہ تختے گرم ہو کر سرخ ہوگئے تو : قَالَ اٰتُوْنِيْٓ اُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا اور یوں ذوالقرنین نے لوہے کے تختوں اور پگھلے ہوئے تانبے کے ذریعے سے ایک انتہائی مضبوط دیوار بنا دی۔ اس دیوار کے آثار بحیرۂ کیسپین کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ دار یال اور دربند کے درمیان اب بھی موجود ہیں۔ یہ دیوار پچاس میل لمبی انتیس فٹ اونچی اور دس فٹ چوڑی تھی۔ آج سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

79 بعض روایات کے مطابق یہ دیوار پچاس میل لمبی 29 فٹ اونچی اور 10 فٹ چوڑی تھی اور اس دیوار کا فائدہ تو اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ اس کی بلندی بھی کم از کم دونوں اطراف کی بلندی کے برابر تو ہو۔ اتنی بلندی کی وجہ سے اس کے اوپر چڑھا بھی نہیں جاسکتا تھا اور لوہے کی موٹی تعمیر شدہ دیوار ہونے کی وجہ سے اس میں شگاف بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

148۔ (اور اس دیوار کی بلندی و استحکام کے باعث ان وحشی وجنگجو قوموں کی تاخت و تاراج سے امن ہوگیا) (آیت) ” ان یظھروہ “ کے لفظی معنی یہ ہیں کہ اس پر غالب نہ آسکے، اور اس پر غالب آنے سے مراد یہاں اس پر چڑھ سکنا ہے۔ ان یظھروہ اے ان یعلوہ (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 92–98

آیت نمبر 92 تا 98 ترجمہ : پھر اس نے ایک اور سفر کی تیاری شروع کی یہاں تک کہ جب وہ ایسے مقام پر پہنچا کہ جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا سین کا فتح اور ضمہ دونوں ہیں، یہاں بھی اور بعد میں بھی، بلاد ترک کے اختتام پر دو پہاڑ ہیں سکندر نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو بند کردیا تھا جیسا کہ عنقریب (اس کا ذکر) آرہا ہے، تو ان دونوں پہاڑوں کے اس پار یعنی ان کے سامنے ایک ایسی قوم کو پایا جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی یعنی بڑی دیر کے بعد (اشارہ وغیرہ سے) ایک قرأت میں ضمہ ی اور کسرہ کاف کے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یأجوج ومأجوج ہمزہ اور بدون ہمزہ دونوں قرأتیں ہیں یہ دو عجمی قبیلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فما اسطاعوا ان یظہروہ وما استطاعوا لہ نقبا۔ اس کے بعد یاجوج و ماجوج (دیوار اونچی اور چکنی ہونے کی وجہ سے) اس پر چڑھ نہ سکے اور نہ (سخت مضبوط آہنی ہونے کی وجہ سے) اس میں سوراخ کرسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 83–98

(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ، چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ، ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ۔۔ : ”اسْطَاعُوْٓا“ بھی اصل میں ”اسْتَطَاعُوْا“ تھا، تخفیف کے لیے تاء حذف کردی۔ چڑھنے کے لیے ہلکا لفظ ”اسْطَاعُوْٓا“ اور نقب کے لیے بھاری لفظ ”اسْتَطَاعُوْا“ استعمال فرمایا، کیونکہ ایسی دیوار پر چڑھنا اس میں نقب کی بہ نسبت آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فما اسطاعوا طاء کی تخفیف کے ساتھ جمہور کی قرأت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ لغت استطاعوا کے معنی میں ہے۔ بعض نے فرمایا : بلکہ یہ استطاعواہی تھا عربوں کے کلام میں کثرت سے موجود ہے حتیٰ کہ بعض نے اس سے تاء حذف کردی اور انہوں نے کہا : اسطاعوا۔ اور بعض نے طاء حذف کردی اور کہا : استاع یستیع بمعنی استطاع یستطیع یہ مشہور لغت ہے۔ صرف حمزہ نے اسے فما اسطاعوا یعنی طاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے گویا اس نے استطلاعوا کا ارادہ کیا پھر تاء کو طاء میں ادغام کردیا ہے اور اسے مشدد کردیا۔ یہ ضعیف قرأت ہے۔ ابو علی نے کہا : یہ جائز نہیں ہے۔ اعمش نے فما استطاعو ان یظھروہ وما استطلاعولہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–100

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَمَا اسْطَاعُوْٓا : پھر وہ لوگ (یعنی یاجوج ماجوج کی قوم) استطاعت نہیں رکھیں گے ] [ان : کہ ] [يَّظْهَرُوْهُ : وہ چڑھ سکیں اس پر ] [وَمَا اسْتَطَاعُوْا : اور نہ وہ استطاعت رکھینگے ] [لَهٗ : اس میں ] [نَقْبًا : نقب لگانے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 90–97

تیسرا سفر (ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) جانب مشرق میں (مَطْلِعَ الشَّمْس) میں رہنے والی قوم سے فارغ ہو کر ذوالقرنین آگے بڑھے، چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا۔ (یہ بین السدین کا ترجمہ ہے۔ اور سدین سے دو پہاڑ مراد ہیں ان کے درمیان خالی جگہ تھی۔ ان دونوں کے درمیان درہ سے جہاں یاجوج ماجوج حملہ آور ہوئے تھے۔ ) ان پہاڑوں سے ورے ایک ایسی قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔ (ذوالقرنین کی زبان تو کیا سمجھتے یہ تو لغت جاننے کی بات ہے سمجھ بوجھ بھی بس یونہی تھوڑی بہت تھی لیکن دشمنوں کی وجہ سے پریشان بہت زیادہ تھے۔ ) یاجوج ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار کی تعمیر ذوالقرنین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 92–98

سفر سوم ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ بین السدین۔۔۔ الیٰ ۔۔ وکانوا لا یستطیعون سمعا۔ ذکر تعمیر سد آہنی برائے انسداد خروج یا جوج و ماجوج پھر مشرق و مغرب کے سفر سے فارغ ہو کر مشرق و مغرب کے درمیان جنوب سے شمال کی طرف ایک تیسری راہ کے پیچھے ہو لیا۔ یہاں تک کہ جب وہ چلتا چلتا دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا جس کی پشت پر یاجوج ماجوج کی زمین تھی تو ان پہاڑوں کے پیچھے اس نے عجیب و غریب قوم پائی جو کم عقلی کی وجہ سے کسی بات کے سمجھنے کے قریب بھی نہ پہنچے تھے یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات نہیں سمجھتے تھے اور وحشی اور کم عقل ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے تھے ورنہ عاقل آدمی قرائن سے کچھ نہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 97–98

83:۔ جب لوہے اور تانبے سے دونوں دیواروں کا درمیانی حصہ پر کردیا گیا۔ تو ذو القرنین نے کہا کہ یہ دیوار اس قدر مضبوط ہوگئی ہے کہ اب یاجوج ماجوج نہ تو اس کو پھاند سکتے ہیں اور اور نہ اس میں سوراخ کر کے تمہارے علاقے میں داخل ہوسکیں گے۔ ” فاذا جاء وعد ربی الخ “ لیکن جب میرے پروردگار کے وعدے کے مطابق قیامت آگئی۔ تو پہاڑوں کی طرح یہ دیوار بھی ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں مفسرین اور مؤرخین نے مختلف باتیں لکھی ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج چند ایسے قبائل کا مجموعہ ہے جو جسمانی اور معاشرتی لحاظ سے عجیب و غریب زندگی کے حامل تھے۔ مثلا بالشت ڈیڑھ بالشت یا زیادہ سے زیادہ ایک ذراع کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 95–101

(بند باندھنے کی پیش کش) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب سکندر ذوالقرنین انتہائی شمال میں ایک قوم کے ایک قوم کے پاس پہنچے تو ان لوگوں نے شکایت کی کہ اس پہاڑی درے سے اس طرف یاجوج وماجوج کی اقوام ہیں جو اس درے سے گذر کر ہمیں تنگ کرتے ہیں ، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان اس درے میں دیوار کھڑی کردیں تاکہ وہ ادھر نہ آسکیں ، انہوں نے اس کام کے لیے معاوضے کی پیشکش بھی کی ، اب آج کی آیات میں ذوالقرنین کا جواب آرہا ہے (آیت) ” قال مامکنی فیہ ربی خیر “۔ کہا کہ میرے لیے اللہ کی عطا کردہ قدرت بہتر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے حکومت دی ہے ، مال واسباب عطا فرمائے ہیں لہذا مجھے تمہارے مال کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ يَّظْہَرُوْہُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَہٗ نَقْبًا۝ 97 الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ ظھیر ، وَما لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 89–98

ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔ تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 92–98

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمَا قَوْمًا لا لاَّ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ قَوْلاً ۔ قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ قَالَ مَامَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌفَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا۔ اٰ تُوْنِیْ زُبَرَالْحَدِیْدِ ط حَتّٰیٓ اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ط حَتّٰیٓ اِذَا جَعَلَـہٗ نَارًا لا قَالَ اٰ تُوْنِٓیْ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا۔ فَمَا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 92–98

فہم القرآن ربط کلام : ذوالقرنین کی تیسری عسکری مہم۔ مفسرین کا خیال ہے کہ مشرق و مغرب کو فتح کرنے کے بعد ذوالقرنین اپنے ملک سے ملحقہ اس زمانے کی موجود دنیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچا جسے بعض مؤرخ ترکستان کے قریب کا علاقہ شمار کرتے ہیں۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد آباد تھی۔ جہاں بحرقرز اور بحر اسود کے درمیان پہاڑی سلسلہ ہے یہاں کے لوگوں کو مؤرخ منگول قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ قریب قریب وہی علاقے ہیں جہاں چائینہ کا ملک ہے۔ کیونکہ یہاں کوہ قفقاز کے دامن میں آہنی دیوار موجود ہے۔ ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشہور دیوار چین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

97: فَمَا اسْطَاعُوْا (پس نہ ان کو طاقت رہی) تاءؔ کو تخفیف کیلئے حذف کردیا کیونکہ تاءؔ اور طاءؔ کا مخرج قریب ہے۔ اَنْ یَّظْھَرُوْہُ (کہ وہ اس پر چڑھ سکیں) وہ دیوار کی بلندی پر چڑھیں۔ وَ مَااسْتَطَاعُوْا لَہٗ نَقْبًا ( اور نہ اس میں نقب لگا سکیں) اس پر چڑھنے کیلئے ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اور نہ اس میں سوراخ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ انتہائی مضبوط ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(97)” فما اسطاعو ا ان یظھروہ “ وہ دیوار بلند ہونے اور چکنی ہونے کی وجہ سے وہ اس پر نہیں چڑھ سکتے۔ ” وما استطاعو ا لہ نقباً “ اس دیوار کے سخت ہونے کی وجہ سے اس میں سوراخ نہیں کرسکیں گے۔ حمزہ نے ” فما استطاعوا “ پڑھا ہے طاء کی تشدید کے ساتھ اور تاء کے ادغام کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–98

96۔ 98۔ یہ قصہ کے بیچ میں اللہ تعالیٰ نے ایک غیب کی بات فرمائی کہ قیامت کے قریب تک نہ یاجوج ماجوج اس دیوار پر چڑھ کر گھاٹی کی ورلی طرف آسکیں گے صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت کے حوالہ سے اوپر یہ جو گزرا کہ اللہ کے رسول ﷺ کے وقت میں روپیہ برابر سوراخ اس دیوار میں ہوگیا تھا 1 ؎ آیت کے اس ٹکڑے اور اس حدیث میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ حدیث میں جس سوراخ کا ذکر ہے وہ یاجوج ماجوج کے نقب لگانے سے نہیں پڑا اور نہ وہ سوراخ ایسا ہے جس میں سے آیت کے مضمون کے برخلاف وقت مقررہ سے پہلے یاجوج ماجوج گھاٹی کی ورلی طرف آسکتے ہیں بلکہ یہ سوراخ تو اللہ کے حکم سے اس لیے پڑا ہے کہ وقت مقررہ تک رفتہ رفتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–98

آیت 89 یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 95–97

139 سدِّ سکندری کی تعمیر اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ذو القرنین نے اس کے جواب میں ان لوگوں سے کہا کہ " تم لوگ اپنی محنت اور مشقت کے ذریعے میری مدد کرو "۔ تاکہ میں تمہارے لیے تمہاری طلب اور درخواست کے مطابق ایسی ایک دیوار بنادوں یعنی تم لوگ جسمانی قوت و محنت اور رجال کار کے ذریعے۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے استعانت بغیر اللہ کے اپنے شرکیہ عقیدے کے لئے اپنی تحریفانہ ذہنیت سے کام لیتے ہوئے اس ارشاد ربانی ۔ { اَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ } ۔ سے استدلال کی ناکام کوشش کی ہے ۔ { فَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ چناچہ موصوف اس مقام پر اپنے حواشی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–98

نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین ذوالقرنین کا واقعہ تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔ خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–101

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 97–98

ف 6 یعنی یہ دیوار گو انتہائی مضبوط ہے مگر یہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک میرے مالک کی مرضی ہے اور جب وہ وقت آئے گا جو میرے مالک نے اس کی تباہی کے لئے مقدر فرمایا ہے تو کوئی چیز اسے پیوند خاک ہونے سے نہیں بچا سکے گی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : ذوالقرنین ایسی محکم دیوار پر بھی منتظر تھا کہ آخر یہ بھی فنا ہوگی نہ جیسے وہ باغ والا اپنے باغ پر مغرور (موضح) بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیوار آنحضرت کے زمانہ تک قائم تھی۔ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے ایک دائرہ بنا کر بتایا کہ آج یاجوج ماجوج کے بند میں سے اتنا کھل گیا ہے۔ بخاری مسلم یہاں ولہ سے مراد دیوار کے ختامہ اور تباہی کا وقت ہے اور وہ قیامت یا اس سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:97) اسطاعوا۔ اصل میں استطاعوا تھا۔ ت اور ط قریب المخرج جمع ہوئے ت حذف ہوگئی (نیز دیکھو 18:82) ماضی جمع مذکر غائب وہ نہ کرسکیں۔ ان میں استطاعت نہ ہوئی۔ یظھروہ۔ کہ اس پر غالب آسکیں۔ مطلب یہ کہ اس پر چڑھ سکیں۔ فما اسطاعوا ان یظھروہ وما استطاعوا لہ نقبا۔ سو وہ اس پر نہ چڑھ سکیں گے اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 92–101

لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101 السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا تشریح : آیت نمبر 92 تا 101 مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 92–97

سد یا جو ماجوج کا ذکر مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف کے سفر سے فارغ ہوکر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا۔ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا۔ ان پہاڑوں کی دوسری طرف قوم رہتی تھی، جس کے لوگ نہ دوسری قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی، مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی۔ اور ان لوگوں نے حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کی پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے۔ اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ارلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 94–97

[33] یا جوج ماجوج سے مراد وہ منگول قبائل ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر حملہ کرتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 92–99

معیار حکمرانی : (ف 1) مغرب میں فتوحات کے بعد جب ذوالقرنین نے مشرق کا رخ کیا تو وہاں ایک خانہ بدوش قوم پائی یہ اقصائے مشرق کے رہنے والے تھے ، اس کے بعد وہ دوسری جانب بڑھا یہاں دونوں طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں ایک درہ تھا ، یہاں کچھ لوگ آباد تھے ، انہوں نے اپنی زبان میں کہا ، جسے ذوالقرنین نہیں سمجھتے تھے ، کہ یا جوج وماجوج کی قومیں ہماری ہاں آکر لوٹ مار کرتی ہیں ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیاں ایک دیوار کھینچ دیں ؟ تاکہ ہم ان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں ، ہم اس کام کے مصارف بھی آپ کو ادا کرنے لئے تیار ہیں ، ذوالقرنین نے کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے ، تمہارے روپے پیسے کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-97 لہٰذا وہ یاجوج ماجوج نہ تو اس لوہے کی دیوار پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں نقب لگانے کی قات رکھتے ہیں۔ یعنی باوجود کوشش کے دونوں باتوں کی قدرت نہیں رکھتے اگرچہ کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ان میں ایسا بادشاہ صاحب عزم اور صاحب حکومت اس کام پر لگا نہیں اور تھوڑے لوگوں سے ہو نہیں سکتا۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 93–98

ف 2۔ یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات سمجھتے اور وحشی اور قلیل الفہم ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے لگ بھگ بھی نہیں پہنچتے، ورنہ عاقل آدمی رموز و قرائن سے کچھ قریب قریب سمجھ لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سدذوالقرنین کے متعلق قرآن کریم کا بیان : 103۔ یہی وہ دیوار ہے جس سے میتھین قوم یعنی یاجوج ماجوج کے حملے رک گئے ، اس پر چڑھنا بھی ان کے لئے ممکن نہیں ہے اور اس دیوار کا توڑنا بھی آسان نہیں ہے کہ اس میں سرنگ لگا کر نکل آئیں اس لئے کہ اینٹ گارا اس طرح کی دوسری اشیاء سے نہیں بنائی گئی حتی کہ یہ پتھر بھی نہیں کہ اس کو کاٹ لیا جائے بلکہ اس اس میں لوہے کی بڑی بڑی سلوں سے کام لیا گیا ہیں اور پھر سلوں کے شگافوں کو پگھلے ہوئے تانبے سے جوڑ دیا گیا ہے اس طرح اس کے جوڑ اس کی سلوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوگئے ہیں ، مورخین نے چونکہ اس طرف تین چار دیواروں کو ڈھونڈ نکالا ہے اور پھر ان دیواروں کو اپنے علم کے مطابق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 94–98

Commentary The Identity of Ya'juj Ma'juj and the Location of the Wall of Dhul-Qarnain A lot of absurd and strange things disseminated through Isra'ili narratives and historical stories have found currency to the extent that some commentators have also reported them in terms of their historical status, though they themselves do not find them trustworthy. The truth of the matter is that the Qur'an has mentioned it briefly and the Holy Prophet ﷺ has informed his community also about the details as and where necessary. What has to be believed in as part of one's faith is limited to what has been…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 95–97

70. That is, as a ruler it is my duty to protect you from the ravages of your enemies: therefore it is not lawful for me to levy any extra taxes on you for this purpose. The treasury that Allah has placed in my custody suffices for this purpose. You shall, however, have to help me with your manual labor.

Read the full tafseer →