Explained with ayahs 100–102
جہنم کو دیکھ کر۔
کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے غم ورنج ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کے بیکار کئے بیٹھے رہے، نہ حق دیکھا، نہ حق سنا نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
سورة الْكَهْف 73
یعنی قیامت کے روز۔ ذو القرنین نے جو اشارہ قیامت کے وعدۂ بر حق کی طرف کیا تھا اسی کی مناسبت سے یہ فقرے اس کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
خلاصہ تفسیر
اور ہم اس روز (یعنی جب اس دیوار کے انہدام کا یوم موعود آئے گا اور یاجوج و ماجوج کا خروج ہوگا تو اس روز ہم) ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ کیونکہ یہ کثرت سے ہوں گے اور بیک وقت نکل پڑیں گے اور سب ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں ہوں گے) اور (یہ قیامت کے قریب زمانہ میں ہوگا پھر بعد چندے قیامت کا سامان شروع ہوگا ایک بار اول صور پھونکا جائے گا جس سے تمام عالم فنا ہوجائے گا پھر) صور (دوبارہ) پھونکا جائے گا (جس سے سب زندہ ہوجائیں گے) پھر ہم سب کو ایک ایک کرکے (میدان حشر میں) جمع کرلیں گے اور دوزخ کو اس روز کافروں کے سامنے پیش کردیں گے جن کی آنکھوں پر (دنیا میں)…
Read the full tafseer →وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا۔
جہنم کا مشاہدہ : یعنی آج تو عقل و دل کے اندھوں کو جہنم نظر نہیں آرہی ہے لیکن اس دن ہم پر یہ جہنم ان کی آنکھوں کے سامنے کھڑی کردیں گے کہ لو جس چیز کو عقل کی آنکھوں سے نہ دیکھ سکے اب اس کو تجربہ کی آنکھوں سے دیکھ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
98۔ 1 یعنی یہ دیوار اگرچہ بڑی مضبوط بنادی گئی جس کے اوپر چڑھ کر اس میں سوراخ کر کے یاجوج ماجوج کا ادھر آنا ممکن نہیں ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا، تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ مثلًا ایک حدیث میں نبی ﷺ نے اس دیوار کے تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا (صحیح بخاری، نمبر 3346 و مسلم، نمبر 228) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جب اللہ کی مشیت ان کے باہر نکلنے کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل انشا اللہ اسکو کھو دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
51: اس سے مراد یاجوج ماجوج کا وہ ریلا بھی ہوسکتا ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ قیامت کے قریب نکلیں گے تو ایک غیر منظم بھیڑ کی شکل میں نکلیں گے اور موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قیامت کے وقت عام لوگوں کی بد حواسی کا بیان ہو کہ قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بدحواسی میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔
کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔
انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلاً (81 :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
7 یعنی یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بیشمار تعداد میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے نکلیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ شدت ہول و اضطراب سے ساری مخلوق رَل گڈھ ہوجائے گی۔ جن و انس ایک دوسرے میں گھسنے لگیں گے پھر قیامت کا بگل ہوگا یعنی صور پھونکا جائے گا۔ اس کے بعد سب خدا کے سامنے میدان حشر میں اکٹھے کیے جائیں گے اور دوزخ کافروں کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ شاید کافروں کی تخصیص اس لیے کی کہ اصل میں دوزخ ان ہی کے لیے تیار کیا گیا ہے اور ان کی آنکھوں پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اب وہ پردہ اٹھ گیا۔
Read the full tafseer →آیت 100 وَّعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَىِٕذٍ لِّلْكٰفِرِيْنَ عَرْضَۨا
کہ دیکھ لو اپنی آنکھوں سے اسے ہم نے تمہارے انجام کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
82 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب دیوار ذوالقرنین پیوند خاک ہوجائے گی تو یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بیشمار تعداد میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے نکلیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن نفخہ صور ثانی ہوگا تو لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر موجوں کی طرح ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اس کے بعد سب اللہ کے سامنے میدان حشر میں اکٹھے کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
153۔ (اب بعض وعناد کی بنا پر جو انہیں اسلام و رسول اسلام سے تھا) یہ ذکر دنیا کا ہے کہ جب کافر دنیا میں تھے تو نہ دین حق کو دیکھتے تھے نہ دعوت حق کو سنتے تھے۔ (آیت) ” ذکری “۔ کے لفظی معنی تو ” میری یاد “ کے ہیں مراد اللہ کی توحید اور اللہ کی کتاب سے لی گئی ہے۔ اے عن توحیدی وکتابی (ابن عباس ؓ یعنی عن الایمان والقران وقیل عن رؤیۃ الدلائل (معالم) (آیت) ” کانوا لایستطیعون سمعا “۔ اس عدم استطاعت سے مراد کوئی اضطرار یا معذوری نہیں۔ بلکہ کافروں کے عناد ارادی ہی کی جانب اشارہ ہے۔ قال القاضی المراد منہ نفرتھم عن سماع ذلک الکلام واشتغالھم ایاہ (کبیر) اے سمع القبول والا یمان لغلبۃ الشقاوۃ علیھم (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
آیت نمبر 99 تا 110
ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…
Read the full tafseer →وعرضنا جہنم یومئذ للکفرین عرضا اور اس روز جہنم کو ہم کافروں کے بالکل سامنے لے
آئیں گے کہ وہ اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
(100۔ 101) اور قیامت کے دن دوزخ کو کافروں کے سامنے ان کے داخل کرنے سے پہلے پیش کردیں گے جو ہماری توحید اور ہماری کتاب قرآن سے اندھے تھے اور وہ رسول اکرم ﷺ سے دشمنی کی وجہ سے قرآن کریم سن بھی نہیں سکتے تھے۔
Read the full tafseer →ۙوَّعَرَضْنَا جَهَنَّمَ۔۔ : یہ پیش کرنا بھی عذاب سے پہلے عذاب ہوگا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (53) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–106
(تفسیر آیت 99-110) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔ ترکنا من ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یعنی ہم جن و انس کو قیامت کے روز واگزار کردیں گے وہ (تند موجوں کی طرح) ایک دوسروں میں گھس جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہم یاجوج وماجوج کو واگزار کردیں گے۔ یومئذ اس دیوار کے کمال کے وقت وہ ایک دوسرے میں گھس جائیں گے۔ ان کے موج کا استعارہ حیرت سے عببارت ہے اور ان کے تردد سے عبارت ہے جیسے غم اور خوف کی وجہ سے نڈھال لوگ ہوتے ہیں انہیں دریا کی موج سے تشبیہ دی ہے جس کی موجیں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم یاجوج و ماجوج کو دیوار کے کھلنے کے دن دنیا میں دریا کی موجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–100
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔
2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[وَّعَرَضْنَا : اور ہم سامنے لائیں گے ] [جَهَنَّمَ : جہنم کو ] [يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے ] [عَرْضَۨا : جیسا سامنے لانے کا حق ہے ]
Read the full tafseer →(وَّ عَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لِّلْکٰفِرِیْنَ عَرْضًا) (اور اس دن ہم کافروں کے سامنے دوزخ پیش کریں گے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
تتمہ قصۂ ذوالقرنین
و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور
قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔
اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
84:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین کے چاروں شبہات کا جواب دینے کے بعد ان مشرکین کے لیے تخویف اخروی کا ذکر کیا گیا۔ جنہوں نے دنیا میں اللہ کے ذکر اور اس کی توحید سے آنکھیں بند کرلیں۔ اور اللہ کی توحید سننے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو یاجوج ماجوج سے متعلق کیا ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو محققین نے بیان کیا ہے کہ بعضھم کی ضمیر سے لوگ مراد ہیں اور یموج، موج سے ہے اور اس سے بےچینی اور اضطراب مراد ہے، یعنی جب دوسری بار صورت پھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور شدت ہول کی وجہ سے بےچین و مضطرب ہوں گے۔ والموج مجاز عن الاضطراب ای یضطربون اضطراب البحر یختلط انسھم وجنھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–101
(بند باندھنے کی پیش کش)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب سکندر ذوالقرنین انتہائی شمال میں ایک قوم کے ایک قوم کے پاس پہنچے تو ان لوگوں نے شکایت کی کہ اس پہاڑی درے سے اس طرف یاجوج وماجوج کی اقوام ہیں جو اس درے سے گذر کر ہمیں تنگ کرتے ہیں ، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان اس درے میں دیوار کھڑی کردیں تاکہ وہ ادھر نہ آسکیں ، انہوں نے اس کام کے لیے معاوضے کی پیشکش بھی کی ، اب آج کی آیات میں ذوالقرنین کا جواب آرہا ہے (آیت) ” قال مامکنی فیہ ربی خیر “۔ کہا کہ میرے لیے اللہ کی عطا کردہ قدرت بہتر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے حکومت دی ہے ، مال واسباب عطا فرمائے ہیں لہذا مجھے تمہارے مال کی…
Read the full tafseer →وَّعَرَضْنَا جَہَنَّمَ يَوْمَىِٕذٍ لِّلْكٰفِرِيْنَ عَرْضَۨا 100ۙ
عرض
أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ،
( ع ر ض ) العرض
اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
ترکیب : بعضہم مفعول اول ترکنا بمعنی جعلنا کا یموج جملہ مفعول ثانی وترکنا جملہ مستانفہ ہے یومئذ یموج سے متعلق سے۔ کانوا معطوف ہے کانت اعینہم پر حیزصلہ میں داخل ہے معطوف اور معطوف علیہ کا مجموعہ صلہ ہے الذین کا یہ موصول اپنے صلہ سے مل کر الکافرون کی صفت یا نعت ہے۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے ذوالقرنین کے قصہ کا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز یعنی وقت موعود پر جبکہ دیوار ٹوٹے گی اور قوم یاجوج و ماجوج اس میں سے ادھر کے ملکوں میں آئے گی تو یہ اژدھام ہوگا کہ دھکم دھکا ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ٹڈی دل کی طرح امڈے چلے آئیں گے آ کر زمین میں فساد کریں گے، قتل کریں گے، کھیتیاں اجاڑیں گے، چونکہ دیوار کا ٹوٹنا یاجوج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰـہُمْ جَمْعًا۔ وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکٰـفِرِیْنَ عَرْضَانِ ۔ الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَـآئٍ عَنْ ذِکْرِیْ وَکَانُوْا لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۔ (الکہف : 99 تا 101)
(اور ہم واگزار کردیں گے بعض کو اس دن وہ تند موجوں کی طرح دوسروں سے ٹکرائیں گے اور صور پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ ہم اس دن جہنم کو کافروں کے سامنے پیش کریں گے۔ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا رہا اور وہ کلمہ حق سننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔ )
آیات کے مختلف مفاہیم
ان آیات کا حقیقی مفہوم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
فہم القرآن
ربط کلام : یاجوج ماجوج اور اللہ کے منکروں کا انجام۔
جب قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہوں گی تو اسرافیل کو پہلا صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ جس سے تمام مخلوق مرجائے گی صرف رب ذوالجلال کی ذات باقی رہے گی نہ معلوم کتنے عرصہ تک لوگ مرے رہیں گے۔ اس عرصہ میں پوری کائنات بدل دی جائے گی۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے اسرافیل زندہ ہوگا اور پھر دوسری مرتبہ صور پھونکے گا۔ جس سے تمام لوگ حتیٰ کہ بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ جانور بھی زندہ کردیے جائیں گے جنہیں ایک دوسرے سے بدلہ کا دلوایا جائے گا۔ یہاں تک سینگ والی بکری جس نے دوسری کو مارا ہوگا وہ اس سے بدلہ لے گی۔ لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا…
Read the full tafseer →جہنم سامنے :
100: وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکٰفِرِیْنَ عَرْضًا (اور اس دن جہنم کو کافروں کے بالکل سامنے کردیا جائے گا) ان کے سامنے ظاہر کردیں گے وہ اس کو دیکھیں گے اور اس کا مشاہدہ کریں گے۔
Read the full tafseer →تفسیر (100)” وعرضنا “ اس دن ہم سامنے لے آئیں گے۔ ” جھنم یومذ للکافرین عرضا “ یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
99۔ 102 یہ ہر ایک ایماندار آدمی کا اعتقاد ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں اسی اعتقاد کے موافق ذوالقرنین نے وقت مقررہ پر اس دیوار کے گر جانے کا ذکر کیا اب اس دیوار کے گرجانے کے بعد جو کچھ ہوگا وہ ایک غیب کی بات تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اس دیوار کے گرتے ہی یاجوج ماجوج اپنی کثرت کے سبب سے دریا کہ موج کی طرح تمام زمین پر پھیل جائیں گے صحیح مسلم کی نواس بن سمعان کی جس روایت 1 ؎ کا تذکرہ اوپر گزرا اس میں یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے لے کر پہلے صور تک کا حال یوں ہے۔
کہ یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
آیت 99
(وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض) ” اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے “ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج و ماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم ہوں گے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حتی اذا فتحت یا جوج و ماجوج وھم من کل حدب ینسلون) (الانبیاء : 12 /69) ” یہاں تک کہ یا جوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔ “ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →145 دوزخ کی پیشی کافروں کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور پیش کردیں گے ہم اس روز دوزخ کو ان کافروں کے سامنے "۔ یعنی { عَرَضْنَا } کا ماضی کا صیغہ یہاں پر مضارع کے معنیٰ میں ہے۔ اور یہ بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے کہ مستقبل میں ہونے والی کسی شیء کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جائے۔ چناچہ یہاں پر دوزخ کی اس عرض اور پیشی کو " نعرض " وغیرہ جیسے مضارع کے کسی صیغے سے تعبیر کرنے کی بجائے " عرضنا " ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس کو بلاغت میں تحقق وقوع سے تعبیر کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ حقیقت اس قدر قطعی اور ایسی یقینی ہے کہ گویا کہ یہ واقع ہوگئی ہے۔ اور یہ اسلوب دنیا بھر کی ہر زندہ زبان میں پایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–106
قیامت کی خبر اور کفار کا ٹھکانا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–101
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔
(ذوالقرنین کون تھا)
ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…
Read the full tafseer →ف 9 تاکہ وہ اپنا ٹھکانہ دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →(18:100) عرضنا عرضا۔ عرضنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ عرضا۔ مصدر تاکید کے لئے لائی گئی ہے۔ ہم بالکل سامنے پیش کردیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101
السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا
تشریح : آیت نمبر 92 تا 101
مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ارشاد ہوتا ہے کہ جس روز وہ دیوار ٹوٹے گی، یہ نقشہ ہوگا ایک دوسرے پو اژدہام کی وجہ سے گریں گے، ٹڈی دل کی طرح امڈ آویں گے۔ پھر اس کے بعد صور پھونکا جاوے گا، اہل دنیا نیست و نابود ہو کر دوبارہ زندہ ہوں گے، اور سب جمع کئے جاویں گے۔ اور اس روز کافروں کے سامنے جہنم کو لاویں گے تاکہ اس میں وہ ڈالے جاویں۔ وہ کافر لوگ ہیں جن کی آنکھوں پر دنیا میں پردے پڑے ہوئے ہیں، اور قرآن کی نصیحت سننے سے ان کے کان گویا بہرے ہیں۔ اس سبب سے ایسے لوگ مرتے دم تک اسی حالت پر رہ کر آخر کو مرجاویں گے اور قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
[35] جب اس دیوار کے انہدام کا وقت آجائے گا تو یاجوج ماجوج ایک دم سے نکل پڑیں گے اور ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجائیں گے۔
[36] صور کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طٰہ حاشیہ 45 صفحہ 740۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
(ف 1) ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج کی تفصیلات کے بعد عرصہ حشر کی جانب توجہ مبذول فرمائی ہے ، اور بنایا ہے کہ اصل حکمرانی اللہ کے لئے مختص ہے ، قیامت کا وعدہ سچا ہے ، ایک دن ایسا آئے گا ، جب سب لوگ خدا کے حضور میں جمع ہوں گے ، اور مکافات عمل کی بنا پر ہر شخص اپنے افعال کا جواب وہ ہوگا ، اس وقت منکرین حق جن کی آنکھیں حقائق سے بےنور ہیں جہنم میں پھینکنے جائیں گے ، آج جو اللہ کی یاد سے غافل ہیں ، اس کا ہم سننا جن کو بار گوش معلوم ہوتا ہے ، اور وہ بصیرت سے محروم ہیں ، اس دن پچھتائیں گے ، (آیت) ” ولات حین مناص “۔
Read the full tafseer →- 100 اور ہم جہنم کو اس دن کافروں کے سامنے لے آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
ف 3۔ یعنی جب اس دیوار کے انہدام کا وقت موعود آوے گا اور یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا تو اس روز ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈ مڈ ہوجاویں گے بوجہ اس کے کہ کثرت سے ہوں گے اور ایک دم سے نکل پڑیں گے۔
Read the full tafseer →دوزخ کو منکرین کے سامنے پیش کیا جائے گا :
106۔ انسان جب عدم حفظ صحت کی غلط کاریوں کے سبب بیماری ہوجاتا ہے تو اکثر یہی سمجھا جاتا ہے کہ فطرت نے اس کو ان کے معاوضہ میں بیماری میں بیماری کی تکالیف کی سزائیں دی ہیں مگر واقعہ یہ نہیں ہے کہ ان غلط کاریوں کے جو برے نتائج انسان کے جسم کے اندر پیدا ہوگئے ہیں ان کو دور کرنے کے لئے جسم جدوجہد کرتا ہے بس اس لڑائی کا نام بیماری اور اس لڑائی کی کشمکش کا نام بیماری کی تکالیف وآلام ہے جن کو ہم درد سر ‘ درد شکم ‘ اعضا شکنی اور بےخوابی وغیرہ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں یہی روحانی بیماریوں کا حال ہے جن کو ہم اصطلاح شرعی میں گناہ اور جن کے نتائج بد کو ” عذاب “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
Commentary
As for the pronoun of the word: بَعْضَهُمْ (ba` dahum) in بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ (And on that day, We will leave them [ Ya’ juj and Ma'juj ] surging over one another - 99), it is obvious that it reverts back to Ya'juj Ma juj. Then, as for their condition described therein - 'surging over one another' - it is also obvious that this will be their state when the passage lies open for them and they will be hastening their way from the hilly heights down to the ground. Commentators have suggested other probabilities as well.
The pronoun in: فَجَمَعْنَاهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
73.“That Day”:“The Day of Resurrection”. As if to continue the theme of life after death to which Zul-Qarnain referred as the time of my Lord’s promise, the Quran has added (verses 99-101) to it.
Read the full tafseer →