Explained with ayahs 100–102
جہنم کو دیکھ کر۔
کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے غم ورنج ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کے بیکار کئے بیٹھے رہے، نہ حق دیکھا، نہ حق سنا نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
سورة الْكَهْف 73
یعنی قیامت کے روز۔ ذو القرنین نے جو اشارہ قیامت کے وعدۂ بر حق کی طرف کیا تھا اسی کی مناسبت سے یہ فقرے اس کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
خلاصہ تفسیر
اور ہم اس روز (یعنی جب اس دیوار کے انہدام کا یوم موعود آئے گا اور یاجوج و ماجوج کا خروج ہوگا تو اس روز ہم) ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ کیونکہ یہ کثرت سے ہوں گے اور بیک وقت نکل پڑیں گے اور سب ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں ہوں گے) اور (یہ قیامت کے قریب زمانہ میں ہوگا پھر بعد چندے قیامت کا سامان شروع ہوگا ایک بار اول صور پھونکا جائے گا جس سے تمام عالم فنا ہوجائے گا پھر) صور (دوبارہ) پھونکا جائے گا (جس سے سب زندہ ہوجائیں گے) پھر ہم سب کو ایک ایک کرکے (میدان حشر میں) جمع کرلیں گے اور دوزخ کو اس روز کافروں کے سامنے پیش کردیں گے جن کی آنکھوں پر (دنیا میں)…
Read the full tafseer →الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِي وَكَانُوا لا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا۔
جہنم کا مشاہدہ : یہ ان کافروں کی صفت بیان ہوئی ہے کہ ان کی عقل اس طرح ماری گئی تھی کہ پیغمبر کی کوئی یاد دہانی بھی ان کی آنکھیں کھولنے میں کامیاب نہ ہوسکی اور جب ہماری تنبیہات ان کو سنائی جاتی تھیں تو وہ ان کے سننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
98۔ 1 یعنی یہ دیوار اگرچہ بڑی مضبوط بنادی گئی جس کے اوپر چڑھ کر اس میں سوراخ کر کے یاجوج ماجوج کا ادھر آنا ممکن نہیں ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا، تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا ظہور ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ مثلًا ایک حدیث میں نبی ﷺ نے اس دیوار کے تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا (صحیح بخاری، نمبر 3346 و مسلم، نمبر 228) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جب اللہ کی مشیت ان کے باہر نکلنے کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل انشا اللہ اسکو کھو دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
51: اس سے مراد یاجوج ماجوج کا وہ ریلا بھی ہوسکتا ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ قیامت کے قریب نکلیں گے تو ایک غیر منظم بھیڑ کی شکل میں نکلیں گے اور موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قیامت کے وقت عام لوگوں کی بد حواسی کا بیان ہو کہ قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بدحواسی میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔
کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔
انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلاً (81 :…
Read the full tafseer →8 یعنی خود اپنی عقل کی آنکھ برابر نہ تھی کہ قدرت کے نشان دیکھ کر یقین لاتے اور خدا کو یاد کرتے۔ اور ضد سے کسی کی بات نہ سنی جو دوسرے کے سمجھائے سمجھ لیتے۔
Read the full tafseer →آیت 101 الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ فِيْ غِطَاۗءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَمْعًا
وہ لوگ جو اندھے اور بہرے ہو کر دنیا سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے حقیقی مسبب الاسباب کو بالکل فراموش کرچکے تھے صرف دنیوی اسباب و وسائل پر بھروسا کرتے تھے اور دنیا میں ان کی ساری تگ و دو مادی منفعت کے حصول کے لیے تھی۔ یہی مضمون اگلے آخری رکوع میں بہت تیکھے انداز میں آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →83 یعنی جس مقصد حقیقی کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں آنکھیں اور کان عطا کیے تھے۔ اس کے لیے ان لوگوں نے ان اعضاء سے کوئی کام نہ لیا اور وہ مقصد یہ تھا کہ آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کریں اور حق بات سننے کے لیے ان کے کان ہر وقت آمادہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
153۔ (اب بعض وعناد کی بنا پر جو انہیں اسلام و رسول اسلام سے تھا) یہ ذکر دنیا کا ہے کہ جب کافر دنیا میں تھے تو نہ دین حق کو دیکھتے تھے نہ دعوت حق کو سنتے تھے۔ (آیت) ” ذکری “۔ کے لفظی معنی تو ” میری یاد “ کے ہیں مراد اللہ کی توحید اور اللہ کی کتاب سے لی گئی ہے۔ اے عن توحیدی وکتابی (ابن عباس ؓ یعنی عن الایمان والقران وقیل عن رؤیۃ الدلائل (معالم) (آیت) ” کانوا لایستطیعون سمعا “۔ اس عدم استطاعت سے مراد کوئی اضطرار یا معذوری نہیں۔ بلکہ کافروں کے عناد ارادی ہی کی جانب اشارہ ہے۔ قال القاضی المراد منہ نفرتھم عن سماع ذلک الکلام واشتغالھم ایاہ (کبیر) اے سمع القبول والا یمان لغلبۃ الشقاوۃ علیھم (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
آیت نمبر 99 تا 110
ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…
Read the full tafseer →الذین کانت اعینہم فی غطآء عن ذکری جن کی آنکھوں پر میری یاد کی طرف سے پردہ پڑا ہوا
تھا۔ غطآء کسی چیز کو چھپانے والا پردہ۔ ذکر سے مراد ہے ان دلائل وبراہین کو دیکھنا جن سے اللہ کی ذات وصفات کا ثبوت ہو رہا ہے (یعنی ان کی آنکھوں پر غفلت اور ضد اور جہالت کے پردے پڑے ہوئے تھے ان کو اللہ کی ذات وصفات کی توحید و عظمت دکھائی نہیں دیتی تھی) ۔
وکانوا لا یستطعیون سمعا۔ اور (ان کے کانوں میں ڈاٹیں تھیں) وہ سن نہیں سکتے تھے یعنی میری توحید
الوہیت اور ربوبیت کو یاد دلانے والے دلائل اور میرے کلام اور ہدایت آفریں بات کو سن بھی نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے لئے شقاوت لکھ دی تھی اور رسول اللہ ﷺ : کی اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
(100۔ 101) اور قیامت کے دن دوزخ کو کافروں کے سامنے ان کے داخل کرنے سے پہلے پیش کردیں گے جو ہماری توحید اور ہماری کتاب قرآن سے اندھے تھے اور وہ رسول اکرم ﷺ سے دشمنی کی وجہ سے قرآن کریم سن بھی نہیں سکتے تھے۔
Read the full tafseer →ۙالَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ۔۔ : ”غِطَاۗءٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، معنی ہے سخت گاڑھا پردہ، یعنی اپنی عقل کی آنکھ نہ تھی کہ قدرتیں دیکھ کر یقین لاتے اور ضد کی وجہ سے کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے کہ سمجھانے سے سمجھ جاتے۔ مزید دیکھیے سورة ملک (10)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–106
(تفسیر آیت 99-110) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔ ترکنا من ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یعنی ہم جن و انس کو قیامت کے روز واگزار کردیں گے وہ (تند موجوں کی طرح) ایک دوسروں میں گھس جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہم یاجوج وماجوج کو واگزار کردیں گے۔ یومئذ اس دیوار کے کمال کے وقت وہ ایک دوسرے میں گھس جائیں گے۔ ان کے موج کا استعارہ حیرت سے عببارت ہے اور ان کے تردد سے عبارت ہے جیسے غم اور خوف کی وجہ سے نڈھال لوگ ہوتے ہیں انہیں دریا کی موج سے تشبیہ دی ہے جس کی موجیں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم یاجوج و ماجوج کو دیوار کے کھلنے کے دن دنیا میں دریا کی موجوں…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے (آیت) ” الذین کانت اعینہم فی غطآء عن ذکری وکانوا لا یستطیعون سمعا “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حق بات سے اندھے ہیں وہ اس کو نہیں دیکھ پاتے اور اس سے بہرے ہیں کہ وہ اس کو نہیں سن پاتے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” لا یستطیعون سمعا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ حق بات سمجھتے ہی نہیں (واللہ اعلم )
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : وہ لوگ ] [كَانتْ : نہیں ] [اَعْيُنُهُمْ : جن کی آنکھیں ] [فِيْ غِطَاۗءٍ : ایک پردے میں ] [عَنْ ذِكْرِيْ : میری یاد سے ] [وَكَانوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : اور وہ لوگ استطاعت نہیں رکھتے تھے ] [سَمْعًا : سننے کی ]
غ ط و
[غَطْوًا : (ن) ] کسی چیز کو چھپانا۔ ڈھانکنا۔
غِطَائً پردہ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 101 ۔
Read the full tafseer →(الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِکْرِیْ ) (جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا) (وَ کَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا) (اور وہ سن بھی نہ سکتے تھے)
چونکہ ذوالقرنین کا واقعہ قریش مکہ کے سوال پر بیان کیا گیا تھا اور یہ سوال انہیں یہودیوں نے سمجھایا تھا اور جواب ملنے پر بھی نہ مشرکین مکہ نے اسلام قبول کیا اور نہ یہود مدینہ نے اس لیے آخر میں ان کو قیامت کا دن یاد دلایا اور بتایا کہ ہم سب کو ایک ایک کرکے جمع کرلیں گے اور کوئی بچ کر نہ نکل سکے گا، کافر دوزخ میں جائیں گے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اور حق سننے کو تیار نہ تھے اپنی قوت سامعہ اور باصرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
تتمہ قصۂ ذوالقرنین
و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور
قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔
اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…
Read the full tafseer →86:۔ یہ مشرکین کے اللہ کی توحید سے شدت اعراض سے کنایہ ہے۔ والمراد منہ شدۃ انصرافھم عن قبول الحق (کبیر ج 5 ص 758) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–101
(بند باندھنے کی پیش کش)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب سکندر ذوالقرنین انتہائی شمال میں ایک قوم کے ایک قوم کے پاس پہنچے تو ان لوگوں نے شکایت کی کہ اس پہاڑی درے سے اس طرف یاجوج وماجوج کی اقوام ہیں جو اس درے سے گذر کر ہمیں تنگ کرتے ہیں ، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان اس درے میں دیوار کھڑی کردیں تاکہ وہ ادھر نہ آسکیں ، انہوں نے اس کام کے لیے معاوضے کی پیشکش بھی کی ، اب آج کی آیات میں ذوالقرنین کا جواب آرہا ہے (آیت) ” قال مامکنی فیہ ربی خیر “۔ کہا کہ میرے لیے اللہ کی عطا کردہ قدرت بہتر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے حکومت دی ہے ، مال واسباب عطا فرمائے ہیں لہذا مجھے تمہارے مال کی…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُہُمْ فِيْ غِطَاۗءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَمْعًا 101ۧ
عين
العَيْنُ الجارحة . قال تعالی: وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [ المائدة/ 45]
( ع ی ن ) العین
کے معنی آنکھ کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [ المائدة/ 45] آنکھ کے بدلے آنکھ ۔ لَطَمَسْنا عَلى أَعْيُنِهِمْ [يس/ 66] ان کی آنکھوں کو مٹا ( کر اندھا ) کردیں ۔
غطا
الغِطَاءُ : ما يجعل فوق الشیء من طبق ونحوه، كما أنّ الغشاء ما يجعل فوق الشیء من لباس ونحوه، وقد استعیر للجهالة . قال تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ
[ ق/ 22] .
( غ ط و ) الغطآ ء
کے اصل معنی طباق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
ترکیب : بعضہم مفعول اول ترکنا بمعنی جعلنا کا یموج جملہ مفعول ثانی وترکنا جملہ مستانفہ ہے یومئذ یموج سے متعلق سے۔ کانوا معطوف ہے کانت اعینہم پر حیزصلہ میں داخل ہے معطوف اور معطوف علیہ کا مجموعہ صلہ ہے الذین کا یہ موصول اپنے صلہ سے مل کر الکافرون کی صفت یا نعت ہے۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے ذوالقرنین کے قصہ کا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز یعنی وقت موعود پر جبکہ دیوار ٹوٹے گی اور قوم یاجوج و ماجوج اس میں سے ادھر کے ملکوں میں آئے گی تو یہ اژدھام ہوگا کہ دھکم دھکا ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ٹڈی دل کی طرح امڈے چلے آئیں گے آ کر زمین میں فساد کریں گے، قتل کریں گے، کھیتیاں اجاڑیں گے، چونکہ دیوار کا ٹوٹنا یاجوج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰـہُمْ جَمْعًا۔ وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکٰـفِرِیْنَ عَرْضَانِ ۔ الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَـآئٍ عَنْ ذِکْرِیْ وَکَانُوْا لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۔ (الکہف : 99 تا 101)
(اور ہم واگزار کردیں گے بعض کو اس دن وہ تند موجوں کی طرح دوسروں سے ٹکرائیں گے اور صور پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ ہم اس دن جہنم کو کافروں کے سامنے پیش کریں گے۔ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا رہا اور وہ کلمہ حق سننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔ )
آیات کے مختلف مفاہیم
ان آیات کا حقیقی مفہوم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
فہم القرآن
ربط کلام : یاجوج ماجوج اور اللہ کے منکروں کا انجام۔
جب قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہوں گی تو اسرافیل کو پہلا صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ جس سے تمام مخلوق مرجائے گی صرف رب ذوالجلال کی ذات باقی رہے گی نہ معلوم کتنے عرصہ تک لوگ مرے رہیں گے۔ اس عرصہ میں پوری کائنات بدل دی جائے گی۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے اسرافیل زندہ ہوگا اور پھر دوسری مرتبہ صور پھونکے گا۔ جس سے تمام لوگ حتیٰ کہ بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ جانور بھی زندہ کردیے جائیں گے جنہیں ایک دوسرے سے بدلہ کا دلوایا جائے گا۔ یہاں تک سینگ والی بکری جس نے دوسری کو مارا ہوگا وہ اس سے بدلہ لے گی۔ لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا…
Read the full tafseer →101: اَلَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآ ئٍ عَنْ ذِکْرِیْ (وہ لوگ جن کی آنکھوں پر میری یاد کی طرف سے پردہ پڑا ہوا تھا) نمبر 1۔ میری وہ آیات جن کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے لئے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا۔ نمبر 2۔ قرآن کہ اس کا تذکرہ تعظیم سے کرتے نمبر 3۔ قرآن کے متعلق کہ وہ اس کے معانی پر غور کرتے۔ وَکَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا (وہ سننے کی طاقت نہ رکھتے تھے) یعنی وہ بہرے تھے۔ یہ الفاظ اصمؔ کی بجائے زیادہ بلیغ ہیں کیونکہ بہرے کو زور سے آواز دیں تو وہ سن پاتا ہے۔ اور یہ لوگ تو اس طرح تھے کہ گویا ان کے کان بہرے کردیئے گئے ان میں سرے سے سننے کی قوت مفقود ہوچکی۔
Read the full tafseer →(101)” الذین کانت اعینھم فی غطائ “ غطاء کسی چیز کو چھپانے والا پردہ۔ ” عن ذکری “ ذکر سے مراد ایمان اور قرآن ہے۔ ہدایت اور بیان ہے۔ بعض نے کہا کہ ذکر سے مراد دلائل وبراہین کو دیکھنا ہے۔ ” وکانوا لا یستطیعون سمعا “ قبولیت والا سماع نہیں سن سکتے اور ایمان اس وجہ سے نہیں لاسکتے کہ ان پر بدبختی غالب آئی ہوئی ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ شعور نہیں رکھتے اور بعض نے کہا کہ وہ اس بات پر قادر نہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ پڑھتے ہیں اس کو اچھی طرح سمجھ سکیں، یہ ان کی شدت عداوت کی وجہ سے ہے۔ جیسا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں شخص کی بات دشمنی کی وجہ سے نہیں سن سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
99۔ 102 یہ ہر ایک ایماندار آدمی کا اعتقاد ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں اسی اعتقاد کے موافق ذوالقرنین نے وقت مقررہ پر اس دیوار کے گر جانے کا ذکر کیا اب اس دیوار کے گرجانے کے بعد جو کچھ ہوگا وہ ایک غیب کی بات تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اس دیوار کے گرتے ہی یاجوج ماجوج اپنی کثرت کے سبب سے دریا کہ موج کی طرح تمام زمین پر پھیل جائیں گے صحیح مسلم کی نواس بن سمعان کی جس روایت 1 ؎ کا تذکرہ اوپر گزرا اس میں یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے لے کر پہلے صور تک کا حال یوں ہے۔
کہ یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
آیت 99
(وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض) ” اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے “ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج و ماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم ہوں گے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حتی اذا فتحت یا جوج و ماجوج وھم من کل حدب ینسلون) (الانبیاء : 12 /69) ” یہاں تک کہ یا جوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔ “ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →147 کفر وعناد کا نتیجہ دائمی دوزخ ۔ والعیاذ باللہ -: سو منکرین کے کفر وعناد کا نتیجہ دائمی دوزخ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جبکہ کفر و انکار کے اپنے اختیاری پردے کی بناء پر وہ لوگ حق کو دیکھنے سے بھی محروم تھے اور سننے سے بھی۔ تو پھر ان کو راہ حق و ہدایت اور اس کا نور میسر آتا تو کس طرح ؟ اس لئے انجام کار ان کو ہمیشہ کے لئے دوزخ کی اس آتش سوزاں کا ایندھن بننا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار اور عناد و ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور دائمی ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے۔ اور اس کا نتیجہ و انجام دوزخ کی ہولناک آگ اور ہمیشہ کا عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–106
قیامت کی خبر اور کفار کا ٹھکانا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–101
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔
(ذوالقرنین کون تھا)
ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی وہ میری نشانیاں دیکھ کر بھی ان سے کوئی نصیحت حاصل نہ کرتے تھے۔11 (شدت نفرت کی وجہ سے) یعنی وہ اس قدر ضد اور ہٹ دھرمی میں پڑے ہوئے تھے کہ ہمارا کلام سننے کو تیار نہ تھے۔
Read the full tafseer →(18:101) غطائ۔ ڈھکنا۔ سرپوش۔ جو طباق کی قسم میں سے ہو۔ کپڑے وغیرہ کا نہ ہو۔ مراد غفلت ۔ موٹا پردہ ۔ لباس وغیرہ قسم کی چیز کو غطائکہتے ہیں بطور استعارہ غطاء (پردہ) کا لفظ جہالت وغیرہ پر بولا جاتا ہے قرآن مجید میں اور جگہ ہے فکشفنا عنک غطاء ک فبصرک الیوم حدید (50:22) ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔ کانت اعینہم فی غطاء عن ذکری۔ جن کی آنکھوں پر پردے پڑے تھے میری یاد سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101
السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا
تشریح : آیت نمبر 92 تا 101
مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ارشاد ہوتا ہے کہ جس روز وہ دیوار ٹوٹے گی، یہ نقشہ ہوگا ایک دوسرے پو اژدہام کی وجہ سے گریں گے، ٹڈی دل کی طرح امڈ آویں گے۔ پھر اس کے بعد صور پھونکا جاوے گا، اہل دنیا نیست و نابود ہو کر دوبارہ زندہ ہوں گے، اور سب جمع کئے جاویں گے۔ اور اس روز کافروں کے سامنے جہنم کو لاویں گے تاکہ اس میں وہ ڈالے جاویں۔ وہ کافر لوگ ہیں جن کی آنکھوں پر دنیا میں پردے پڑے ہوئے ہیں، اور قرآن کی نصیحت سننے سے ان کے کان گویا بہرے ہیں۔ اس سبب سے ایسے لوگ مرتے دم تک اسی حالت پر رہ کر آخر کو مرجاویں گے اور قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
[37] یعنی دنیا میں کافر نہ تو دین حق کو دیکھتے تھے نہ دعوت حق کو سنتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
(ف 1) ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج کی تفصیلات کے بعد عرصہ حشر کی جانب توجہ مبذول فرمائی ہے ، اور بنایا ہے کہ اصل حکمرانی اللہ کے لئے مختص ہے ، قیامت کا وعدہ سچا ہے ، ایک دن ایسا آئے گا ، جب سب لوگ خدا کے حضور میں جمع ہوں گے ، اور مکافات عمل کی بنا پر ہر شخص اپنے افعال کا جواب وہ ہوگا ، اس وقت منکرین حق جن کی آنکھیں حقائق سے بےنور ہیں جہنم میں پھینکنے جائیں گے ، آج جو اللہ کی یاد سے غافل ہیں ، اس کا ہم سننا جن کو بار گوش معلوم ہوتا ہے ، اور وہ بصیرت سے محروم ہیں ، اس دن پچھتائیں گے ، (آیت) ” ولات حین مناص “۔
Read the full tafseer →- 10 1 وہ کافر جن کی آنکھیں ہمارے ذکر یعنی قرآن کریم سے پر دئہ غفلت میں تھیں اور وہ ہمارے کلا مکو سن بھی نہ سکتے تھے۔ یعنی آنکھوں پر غفلت کے پردے اور کانوں میں ثقل پھر ایمان کس طرح نصیب ہوتا ۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنی آنکھ نہ تھی کہ قدرتیں دیکھ کر یقین لا دیں اور کسی کی بات نہ سنتے ضد سے کہ سمجھائے سمجھیں 12 ذوالقرنین بادشاہ کے سلسلے میں متقدمین مفسرین کے باہمی اقوال مختلف ہیں۔ حضرات متاخرین نے اپنی تحقیق سے اس میں کچھ اور اضافہ کیا لیکن مسئلہ کو اور بھی الجھا دیا اور ہمارے زمانہ کے لوگوں نے تو یا جوج ماجوج اور سد اور ذوالقرنین کے واقعات میں ایسی ایسی تاویلات بعیدہ سے کام لیا کہ…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی امر حق کا ذرا ادراک کرنا نہ چاہتے تھے۔
Read the full tafseer →یہ مریض کس مرض میں مبتلا تھے ؟ فرمایا وہی جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے تھے :
107۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا وہی جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لئے تیار ہی نہ تھے ، ان کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار نصیحت یاد دلائی جاتی رہی لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا تھا کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود کچھ نہیں دیکھتے تھے دنیوی زندگی نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہوا تھا اور اب ان سے کہا جا رہا ہے کہ ” اس چیز کی طرف سے تم غفلت میں تھے آج ہم نے تمہارا پردہ ہٹا دیا جو تمہارے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تمہاری نگاہ خوب تیز ہے یعنی آج تم کو خوب نظر آرہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
Commentary
As for the pronoun of the word: بَعْضَهُمْ (ba` dahum) in بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ (And on that day, We will leave them [ Ya’ juj and Ma'juj ] surging over one another - 99), it is obvious that it reverts back to Ya'juj Ma juj. Then, as for their condition described therein - 'surging over one another' - it is also obvious that this will be their state when the passage lies open for them and they will be hastening their way from the hilly heights down to the ground. Commentators have suggested other probabilities as well.
The pronoun in: فَجَمَعْنَاهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
73.“That Day”:“The Day of Resurrection”. As if to continue the theme of life after death to which Zul-Qarnain referred as the time of my Lord’s promise, the Quran has added (verses 99-101) to it.
Read the full tafseer →