Explained with ayahs 100–102
جہنم کو دیکھ کر۔
کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے غم ورنج ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کے بیکار کئے بیٹھے رہے، نہ حق دیکھا، نہ حق سنا نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
سورة الْكَهْف 74
یہ پوری سورت کا خاتمۂ کلام ہے، اس لیے اس کی مناسبت ذو القرنین کے قصے میں نہیں بلکہ سورة کے مجموعی مضمون میں تلاش کرنی چاہیے۔ سورة کا مجموعی مضمون یہ ہے کہ نبی ﷺ اپنی قوم کو شرک چھوڑ کر توحید اختیار کرنے اور دنیا پرستی چھوڑ کر آخرت پر یقین لانے کی دعوت دے رہے تھے۔ مگر قوم کے بڑے بڑے سردار اپنی دولت اور شوکت و حشمت کے زعم میں نہ صرف آپ کی اس دعوت کو رد کر رہے تھے، بلکہ ان چند راستی پسند انسانوں کو بھی، جنہوں نے یہ دعوت قبول کرلی تھی، ظلم و ستم اور تحقیر و تذلیل کا نشانہ بنا رہے تھے۔ اور پھر وہ ساری تقریر کی گئی جو شروع سورة سے یہاں تک چلی آ رہی ہے، اور اسی تقریر کے دوران میں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
کیا پھر بھی ان کافروں کا خیال ہے کہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو (یعنی جو میرے مملوک و محکوم ہیں اختیاراً یا اضطراراً ان کو) اپنا کار ساز (یعنی معبود اور حاجت روا) قرار دیں (جو شرک اور کفر کھلا ہوا ہے) ہم نے کافروں کی دعوت کے لئے دوزخ کو تیار کر رکھا ہے (دعوت بطور تحقیر و تحکم کے فرمایا) اور اگر (ان کو اپنے ان اعمال پر ناز ہو جن کو وہ حسنہ اور نیکی سمجھتے ہوں اور اس کے سبب وہ اپنے آپ کو نجات یافتہ عذاب سے محفوظ سمجھتے ہوں تو) آپ (ان سے) کہئے کہ کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بالکل خسارے میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں کری کرائی محنت (جو اعمال حسنہ میں کی…
Read the full tafseer →أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِنْ دُونِي أَوْلِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلا۔
شرکاء کی تردید : یہ مخاطبوں کو متنبہ کیا ہے کہ کیا ان بدبختوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ یہ ہمارے بندوں میں سے کچھ کو اپنا مددگار و کارساز بنا لیں گے جو قیامت کے دن ہم سے ان کی سفارش کرکے ان کو چھڑا لیں گے۔ یہ محض ان کی خوش فہمی ہے۔ ایسے تمام کافروں کے لیے ہمارے پاس جہنم بطور ضیافت تیار ہے جس سے کسی کی سعی و سفارش بھی ان کو چھڑا نہ سکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
12۔ 1 حسب، بمعنی ظن ہے اور عبادی (میرے بندوں) سے مراد ملائکہ، مسیح ؑ اور دیگر صالحین ہیں، جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح شیاطین و جنات ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے اور استفہام زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ یعنی غیر اللہ کے یہ پجاری کیا یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر اور میرے بندوں کی عبادت کر کے ان کی حمایت سے میرے عذاب سے بچ جائیں گے ؟ یہ ناممکن ہے، ہم نے تو ان کافروں کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں جانے سے ان کو وہ بندے نہیں روک سکیں گے جن کی یہ عبادت کرتے اور ان کو اپنا حمایتی سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
51: اس سے مراد یاجوج ماجوج کا وہ ریلا بھی ہوسکتا ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ قیامت کے قریب نکلیں گے تو ایک غیر منظم بھیڑ کی شکل میں نکلیں گے اور موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قیامت کے وقت عام لوگوں کی بد حواسی کا بیان ہو کہ قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر لوگ بدحواسی میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔
کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔
انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلاً (81 :…
Read the full tafseer →1 یعنی کیا منکرین یہ گمان کرتے ہیں کہ میرے خاص بندوں (مسیح، عزیر، روح القدس، فرشتوں) کی پرستش کر کے اپنی حمایت میں کھڑا کرلیں گے۔ (كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا) 19 ۔ مریم :82) (ہرگز نہیں ! وہ خود تمہاری حرکات سے بیزاری کا اظہار فرمائیں گے اور تمہارے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہوں گے)
2 یعنی اس دھوکہ میں مت رہنا ! وہاں تم کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ ہاں ہم تمہاری مہمانی کریں گے۔ دوزخ کی آگ اور قسم قسم کے عذاب سے (اعاذنا اللّٰہ منہا)
Read the full tafseer →اس آخری رکوع میں بہت واضح الفاظ میں بتادیا گیا ہے کہ اللہ کی نظر میں کون لوگ حقیقی گمراہی اور کفر و دجل میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ قرب قیامت کے زمانے میں ایک شخص معینّ ”دجال اکبر“ کا فتنہ اور اس کا ظہور اپنی جگہ ایک حقیقت ہے یہ اس کی تفصیل کا موقع نہیں مگر عمومی طور پر دجالیت کا فتنہ یہی ہے کہ انسان حصول دنیا میں مشغول ہو کر اس حد تک غافل ہوجائے کہ اسے نہ تو اپنے دار آخرت کی کوئی فکر رہے اور نہ ہی اپنے خالق ومالک کی مرضی و منشا کا کچھ ہوش رہے۔ وہ اس ”عروس ہزار داماد“ کی زلف گرہ گیر کا ایسا اسیر ہو کہ اس کی ظاہری دل فریبیوں اور چمک دمک ہی میں کھو کر رہ جائے۔
آیت 102 اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
84 یہاں کچھ عبارت مخذوف ہے جسے مخاطب کے فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے یعنی کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کارساز بنالیں تو وہ انھیں اللہ کی گرفت سے بچا سکیں گے بات یوں نہیں بلکہ ہم ایسے کافروں کی جہنم کی آگ سے مہمانی کریں گے جو ان کے وہاں پہنچتے ہی انھیں مل جائے گی۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے اس آیت میں عبادی کے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ایسے کارساز مراد ہیں جو ذوی العقول ہوں جیسے فرشتے، جن، نیک یا بد ارواح، فوت شدہ انسان، پیغمبر یا پیران طریقت اور اصطلاحی اولیاء اللہ وغیرہم۔ کیونکہ بےجان اشیاء مثلاً بتوں اور حجرو شجر وغیرہ پر لفظ عبد کا اطلاق نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →154۔ (اور جو ہر طرح میرے مملوک و محکوم ہیں، انہیں معبود و حاجت روا سمجھنے لگیں) عبادی اے الذین ھم تحت ملکی وسلطانی (روح)
1۔ ف۔ یعنی جب کفر اتنی شدید وعید کا مستحق بنا دیتا ہے۔ استفہام بطور زجر وملامت کے ہے وھو استفھام علی سبیل التوبیخ (کبیر) (آیت) ” اولیآء “۔ کا لفظ بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اور اسی کے اظہار کے لئے یہاں آلہہ کے بجائے اولیاء لایا گیا ہے۔ تجارت میں، زراعت میں، بیماری سے صحت دینے میں، اولاد بخشنے میں، مقدمات میں کامیاب کرنے میں، غرض زندگی کی کے کسی شعبہ میں بھی جب اصلی تکیہ بندوں پر اور بندوں کی بنائی ہوئی تدبیروں پر کیا جانے لگے تو یہ سب غیر اللہ کو کار ساز ہی ٹھہرالینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
آیت نمبر 99 تا 110
ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…
Read the full tafseer →افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیآء سو کیا پھر بھی ان کافروں کا
خیال ہے کہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز (یعنی معبود و حاجت روا) قرار دیں۔
عِبَادِیْسے مراد ہیں فرشتے ‘ مسیح ( علیہ السلام) ‘ عزیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ شیطان مراد ہیں جن کی اطاعت اللہ کے سوا کفار کرتے ہیں مقاتل کے نزدیک بت مراد ہیں بتوں کو اس جگہ اصنام کہا گیا ہے اسی طرح جس طرح آیت اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌا اَمْثَالَکُمْمیں بتوں کو اصنام کہا گیا ہے۔ اَوْلِیَآء یعنی کارساز رب یا سفارشی ‘ شفاعت کرنے والے۔ استفہام انکاری ہے یعنی کافر جیسا خیال کرتے ہیں واقعہ ایسا نہیں…
Read the full tafseer →(102) کیا پھر بھی ان لوگوں کو جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں خیال ہے کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کی عبادت کریں اور دنیوی واخروی نفع میں ان کا اپنا کارساز سمجھیں یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کو میری اطاعت وفرمانبرداری کے علاوہ میرے بندوں کی عبادت اور ان کو کار ساز سمجھنا کفایت کرجائے گا۔ ہم نے ان کی دعوت اور ٹھکانے کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
ۧاَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بتانے والوں کو ڈرانے اور اصحاب کہف کے اعلان توحید کے ذکر سے ہوئی تھی، آخر میں پھر وہی بات دہرائی، یعنی کیا ان کفار نے میرے خاص بندوں، جیسے مسیح، عزیر، روح القدس اور فرشتوں وغیرہ کو اپنا معبود بنا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ انھیں میرے مقابلے میں لا کھڑا کریں گے اور اپنا حمایتی بنالیں گے۔ استفہام انکاری ہے، یعنی یہ گمان سراسر غلط ہے، بلکہ وہ سب ان کی عبادت سے بےزاری کا اعلان کریں گے اور ان کے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہوں گے۔ دیکھیے سورة مریم (82) اور احقاف (5، 6) اگرچہ ”عِبَادِیْ“ سے نیک و بد سبھی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–106
(تفسیر آیت 99-110) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔ ترکنا من ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یعنی ہم جن و انس کو قیامت کے روز واگزار کردیں گے وہ (تند موجوں کی طرح) ایک دوسروں میں گھس جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہم یاجوج وماجوج کو واگزار کردیں گے۔ یومئذ اس دیوار کے کمال کے وقت وہ ایک دوسرے میں گھس جائیں گے۔ ان کے موج کا استعارہ حیرت سے عببارت ہے اور ان کے تردد سے عبارت ہے جیسے غم اور خوف کی وجہ سے نڈھال لوگ ہوتے ہیں انہیں دریا کی موج سے تشبیہ دی ہے جس کی موجیں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم یاجوج و ماجوج کو دیوار کے کھلنے کے دن دنیا میں دریا کی موجوں…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیآء “ کے بارے میں روایت کیا کہ بنوآدم کے کافروں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ فرشتوں کو اپنا حمایتی بنالیں گے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر۔
2:۔ ابوعبید، سعید بن منصور اور ابن منذر نے علی، ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا۔ (آیت) ” افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیآء “ ابوعبید نے فرمایا کہ سین کے جزم اور باء کے ضمہ کے ساتھ۔
3:۔ ابوعبید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت) ” افحسب الذین کفروا “ اور فرمایا کیا انہوں نے ایسا گمان کیا۔
Read the full tafseer →[اَفَحَسِبَ : تو کیا گمان کیا ] [الَّذِينَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ان : کہ ] [يَّتَّخِذُوْا : وہ بنالیں گے ] [عِبَادِيْ : میرے بندوں کو ] [مِنْ دُوْنِيْٓ: میرے علاوہ ] [اَوْلِيَاۗءَ : (اپنا) کارساز ] [انآ : بیشک ] [اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا ] [جَهَنَّمَ : جہنم کو ] [لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے ] [نُزُلًا : بطور ابتدائی ضیافت ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
کافر سب سے بڑے خسارہ میں ہیں، ان کی سعی بیکار ہے، اعمال حبط ہیں اور بےوزن
سورة کہف ختم ہونے کے قریب ہے آیات بالا میں اولاً کافروں کو ان کے کفریہ اعمال پر تنبیہ فرمائی اور آخرت میں ان کے عذاب سے باخبر کیا۔ پھر اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرمایا۔
کافروں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں پہلے سے بتادیا گیا ہے کہ کفر کا انجام برا ہے، ان کے لیے دوزخ ہے پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں اور شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔ میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے اور اس کو اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ کفر اور شرک کو بہتر سمجھنا حماقت اور جہالت ہے۔ کافروں کے لیے ہم نے جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔ اسی سے ان کی مہمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
تتمہ قصۂ ذوالقرنین
و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور
قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔
اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…
Read the full tafseer →87:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ یہاں سے آخر تک مذکورہ بالا چاروں شبہات پر متفرع ہے۔ ” ان یتخزوا عبادی من دونی اولیاء “ یہ شبہہ اولیٰ کے جواب پر متفرع ہے۔ بالذات، اور شبہہ ثانیہ کے جواب پر بالتبع بطور لف و نشر مرتب یعنی اللہ کے نیک بندے اور اولیاء اللہ متصرف و کارساز نہیں ہیں، تو شیاطین میں بطریق اولی یہ صلاحیت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–108
(خدا کی رحمت کا ذکر)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اولیاء کا ذکر فرما کر ان کے ایک مشترکہ نظریہ کو بیان کیا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار تھے اور انہوں نے اپنی ہر کارگزاری کو رحمت خداوندی پر محمول کیا اس سورة میں پہلا واقعہ اصحاب کہف کا بیان ہوا ہے ، وہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور اس کے دوست تھے جنہوں نے عقیدہ توحید پر قائم رہنے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر غار میں پناہ لی ، انہوں نے اپنی قوم سے علیحدہ ہوتے وقت یہی کہا تھا کہ ہمارا تعلق صرف اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ ہے (آیت) ” ینشرلکم ربکم من رحمتہ “۔ وہ تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملہ میں تمہارے…
Read the full tafseer →اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ 0ۭ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ نُزُلًا 102
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214]
( ح س ب ) الحساب
اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–109
تفسیر : ذوالقرنین کے قصہ کے خاتمے پر فرمایا تھا کہ کافر قابل جہنم وہ ہیں کہ جن کی آنکھوں پر اور کانوں پر غفلت کے پردے پڑے ہیں نہ خدا تعالیٰ کو اس کے آیات قدرت دیکھ کر یاد کرتے ہیں نہ حق بات سنتے ہیں۔ اب یہاں سے ان پردوں کا اثر بیان فرماتا ہے فقال افحسب الذین الخ کہ کیا ان کافروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مجھے چھوڑ کر میری مخلوق کو کارساز ‘ حاجت روا بنانا ان کے لیے بس کرتا ہے حالانکہ یہ بڑی نادانی ہے اوّل تو یوں کہ مالک کے مقابلہ میں اس کے بندے اور مخلوق جنہیں حاجت روا سمجھ بیٹھے ہیں ان کے کام آئیں گے وہ کیا کام آسکتے ہیں جبکہ وہ خود ہی ہمارے محتاج اور دست نگر ہیں۔ دوم بڑا کام آنا اس جہاں کے لیے…
Read the full tafseer →اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ یَّـتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِٓیْ اَوْلِیَآئَ ط اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰـفِرِیْنَ نُزُلاً ۔ (الکہف : 102)
(کیا ان کافروں نے گمان کیا کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کارساز بنالیں گے، ہم نے ایسے کافروں کے لیے جہنم بطور ضیافت تیار کر رکھی ہے۔ )
خاتمہ سورت کی آیات
یہاں سے سورة کے اختتام تک کی آیات خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کا ربط ذوالقرنین کے واقعہ میں تلاش کرنے کی بجائے پوری سورت کے مجموعی مضامین میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا عمومی اسلوب یہ ہے کہ وہ جس مضمون سے سورت کا آغاز کرتا ہے انسانی زندگی کی رہنمائی کے لیے مختلف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور اللہ تعالیٰ کو بھول جانے والوں کا انجام۔
جس طرح پہلے بھی عرض کیا ہے کہ یہ سورت اہل مکہ کے سوالات کے جواب میں نازل ہوئی تھی۔ اہل مکہ کے سوالات کا جواب دینے کے بعد سورة کے اختتام میں انھیں براہ راست مخاطب کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے بندوں کو حاجت روا، اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جہنم کو مہمان نوازی کے طور پر تیار کر رکھا ہے۔ اس مختصر فرمان میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1۔ شرک کرنے والوں کو کافر کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے۔
2۔ جن فوت شدگان کو یہ لوگ حاجت روا، اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں۔ ان کے لیے قرآن مجید میں…
Read the full tafseer →بندوں کو کارساز بنانے والے کافر ہیں :
102: اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْ اَوْلِیَآ ئَ (کیا پھر بھی ان کافروں کا خیال ہے کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں) یعنی کفار نے میرے بندوں کو گمان کرلیا۔ یعنی عبادی سے عیسیٰ (علیہ السلام) اور کفار مراد ہیں۔ کارساز بنانا جو ان کو فائدہ دیگا ؟ یہ بدترین گمان ہے جو انہوں نے کیا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے اَنْؔ اپنے صلہ کے ساتھ مل کر افحسب کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ اور عِبَادِیْ اَوْلِیَاء یہ دونوں اَنْ یَتَّخِذُوْا ؔ کے مفعول ہیں۔ اور یہ وجہ بہت اعلیٰ ہے مطلب یہ ہے وہ بندے ان کے کارساز نہیں ہیں۔…
Read the full tafseer →(102)” افحسب “ ان کافروں کا گمان ہے۔ ” الذین کفروا ان یتخذو ا عبادی من ذونی اولیائ “ اس سے مراد ارباب ہیں۔ عبادی سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور فرشتے ہیں بلکہ یہ معبودان باطلہ جن کو اپنا معبود بنا تے ہیں اور دوست رکھتے ہیں، یہ ان کے دشمن ہیں اور قیامت کے دن ان سے برأت کرلیں گے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شیطان ہیں جن کی اطاعت اللہ کے سوا کفار کرتے ہیں۔ مقاتل (رح) کے نزدیک بت مراد ہیں، بتوں کو اس جگہ اصنام کہا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ان الذین تدعون من دون اللہ عباداً امثالکم “ اس استفہام کا جواب مخذوف ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد کہ ان کو چاہیے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
99۔ 102 یہ ہر ایک ایماندار آدمی کا اعتقاد ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں اسی اعتقاد کے موافق ذوالقرنین نے وقت مقررہ پر اس دیوار کے گر جانے کا ذکر کیا اب اس دیوار کے گرجانے کے بعد جو کچھ ہوگا وہ ایک غیب کی بات تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اس دیوار کے گرتے ہی یاجوج ماجوج اپنی کثرت کے سبب سے دریا کہ موج کی طرح تمام زمین پر پھیل جائیں گے صحیح مسلم کی نواس بن سمعان کی جس روایت 1 ؎ کا تذکرہ اوپر گزرا اس میں یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے لے کر پہلے صور تک کا حال یوں ہے۔
کہ یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا…
Read the full tafseer →آیت 102
یہ مشرکین اور کافروں کے دعوے کے بطلان کی دلیل ہے جنہوں نے بعض انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنادیا، وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اولیائے کرام ان کے مددگار ہوں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائیں گے اور ثواب عطا کریں گے، حالانکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے کفر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ استفہام اور انکار کے پیرائے میں، جس سے ان کے اس عقیدے کا عقلی طور پر بطلان متحقق ہوتا ہے۔۔۔. فرماتا ہے : (افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیاء) ” کیا سمجھتے ہیں کافر لوگ کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا دوست “ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
148 مشرکوں کی مشرکانہ ذہنیت کی بیخ کنی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا کافر لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں گے ؟ "۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے حضرت عزیر و مسیح کے ساتھ کیا۔ اور مشرکین عرب فرشتوں کے بارے میں ایسا کہتے اور کرتے تھے۔ اور افسوس کہ اس امت مرحومہ کے کلمہ گو مشرک کا بھی آج اپنے بڑوں بزرگوں کے بارے میں یہی کچھ کہنا کرنا ہے۔ وہ ان کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر غائبانہ بلاتا پکارتا، ان کے نام کی نذریں مانتا، نیازیں دیتا، چڑھاوے چڑھاتا، بکرے دنبے کاٹتا اور ان کے پھیرے لگاتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور استفہام یہاں پر انکار و توبیخ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–106
قیامت کی خبر اور کفار کا ٹھکانا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–110
(رکوع نمبر 13)
اسرارومعارف
یہ سب حالات وواقعات تو عظمت الہی پر دلالت کرتے ہیں یہ سب بھی سن اور جان کر کفار اللہ جل جلالہ کے سوا دوسروں ہی کی عبادت پہ اصرار کرتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں تو پھر یہ بھی جان لو کہ ایسے کفار کی مہمانی کے لیے جہنم دہک رہا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ ان لوگوں کے حال سے مطلع نہ کر دوں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں تو وہ لوگ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دنیا کی سب محنت اکارت گئی اور وہ خود کو بہت کامیاب تصور کرتے رہے ۔
(خلاف شریعت عمل خسارہ ہے)
یعنی زندگی بھر محنت دولت کمائی اقتدار حاصل کیا یا شان و شوکت سے رہے اور سمجھا کہ ہم کامیاب ہیں ، مگر…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی میرے خاص بندوں جیسے مسیح عزیز روح قدس اور فرشتوں کو اپنا معبود بنا کر یہ چاہیں گے کہ انہیں میرے مقابلہ لا کھڑا کریں مگر وہ خود ان کی عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور ان کے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہونگے۔ (مریم :82)یعنی کوئی حمایت نہ ملے گا البتہ دوزخ کی آگ سے ان کی مہماندازی ضرور کی جائیگی۔
Read the full tafseer →(18:102) نزلا۔ اسم۔ نزل سے مادہ۔ نزل ینزل (ضرب) نزول مصدر۔ اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنے کے ہیں۔ النزل وہ کھانا جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جاوے طعام مہمانی۔ طعام ضیافت۔ یہاں جہنم کو کافروں کے لئے مہمانی طنزا کہا گیا ہے اور جگہ قرآن میں ہے فلہم جنت الماوی نزلا (32:19) ان کے لئے باغ ہیں بطور مہمان کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–108
لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 108
اولیاء دوست، کام بنانے والے۔ نزل مہمان داری۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ صنع کام۔ حبطت ضائع ہوگئی۔ لانقیم ہم قائم نہ کریں گے۔ ھزو مذاق۔ الفردوس جنت ، بہشت۔ لایبغون وہ نہ چاہیں گے۔ حول تبدیل کرنا۔
تشریح :- آیت نمبر 102 تا 108
اللہ تعالیٰ نے کہف میں اصحاب کہف، حضرت موسیٰ خضر اور ذوالقرنین کے واقعات سنانے کے بعد فرمایا ہے کہ اتنا کچھ بتانے اور سنانے کے باوجود کیا اس بات کی ذرا بھی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسری بےحقیقت چیزوں کو اپنا حمایتی، مددگار اور رب بنا لیا جائے۔ فرمایا کہ یہ بات بنیادی طور پر غلط سوچ کا نتیجہ ہے کہ قیامت کے ہولناک دن یہ جھوٹے معبود ان…
Read the full tafseer →قیامت میں عقائد پر جزا و سزا
اس آیت میں فرمایا ایسے لوگ شیطان کے بہکا نے سے یہ سمجھتے ہیں کہ جن نیک لوگوں کی مورتوں (مجسموں) کی پوجا دنیا میں کرتے ہیں، عقبیٰ میں بھی نیک لوگ ان بت پرستوں کے کام آویں گے۔ پھر فرمایا یہ سمجھ ان لوگوں کی بڑی نادانی کی بات ہے۔ عقبیٰ میں وہ نیک لوگ ان کی بت پرستی سے بیزاری ظاہر کریں گے، اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ آخرت میں مشرک کی کسی طرح بخشش نہیں۔ اس واسطے ایسے لوگوں کی مہمانی کے واسطے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
[37] یعنی دنیا میں کافر نہ تو دین حق کو دیکھتے تھے نہ دعوت حق کو سنتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
(ف 2) یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ مشرک ان لوگوں کی پوجا کرتے ہیں جو میرے بندے ہیں ، اور جنہیں اپنی بندگی پر ناز ہے ، کیا ان سے یہ لوگ ان کی خاطر طوق عبودیت اتار پھینکیں گے ، اور مسند الوہیت پر بیٹھ جائیں گے فرمایا ان کا یہ خیال محض وہم ہے ، مخلص بندے ان کی مشرکانہ حرکات سے یکسر ہزار ہیں ۔
حل لغات :
نزلا : ضیافت ، مہمانی ، بطور طنز وتحکم کے ہے ۔
Read the full tafseer →- 102 کیا اب بھی منکرین دین حق کا یہ خیال ہے کہ وہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کار ساز اور اپنا حمایتی بنائیں اور میرے سوا میرے بندوں کو اپنا معبود و حاجت روا مقرر کریں۔
بلاشبہ ! ہم نے ان منکروں کی مہمانی کو دوزختیار کر رکھی ہے۔ یعنی میرے بندے مثلاً مسیح (علیہ السلام) اور فرشتہ وغیرہ جو میرے مملوک اور محکوم ہیں میرے مقابلہ میں ان کو اپنا معبود اور حمایتی پکڑیں۔ اس توقع پر کہ یہ قیامت میں ہم کو عذاب سے بچائیں گے تو یہ بات بالکل غلط ہے وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں اور وہ اس جہنم سے بچانے والے نہیں جو بطور مہمانی ان منکروں کیلئے ہم نے تیار کر رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–108
ف 5۔ دعوت بطور تہکم کے فرمایا۔
Read the full tafseer →فرمان الہی کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو دوست بنانے والے ہی تو کافر ہیں :
108۔ (عبادی) سے مراد کیا ہے ؟ (عبادی) سے مراد فرشتے ‘ عزیر ‘ مسیح ‘ قبریں اور بت سب مراد ہیں ۔ پہلی تین چیزیں یعنی فرشتے عزیر اور مسیح کی بات تو لوگوں کی سمجھ میں آجاتی ہے لیکن قبریں اور بت لوگوں کو اضافہ لگتا ہے اور بعض کے نزدیک تو یہ تفسیر ہی تفسیر بالرائے ہے جس سے انسان کا ٹھکانہ سیدھا جہنم ٹھہرتا ہے لیکن ذرا غور کرنے سے بات سمجھ میں آجائے گی کہ یہ بات صحیح نہیں ہے ، غور کرو کہ یہ قبریں جو بنتی ہیں اور روضے اور مقبرے تیار کئے جاتے ہیں ان کے اندر کیا ہوتا ہے ؟ آپ اگر غور کریں گے تو پورے ایمان ویقین سے اس نتیجہ پر…
Read the full tafseer →Commentary
According to Tafsir al-Bahr al-Muhit, in the first verse (102): أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاءَ (Do, then, the disbelievers deem that they take My servants as patrons beside Me?), there is an elision (حذف hadhf) in the text at this place, that is: فیجد بھم وینتفعون بذلک الاتخاذ As such, it would mean: 'Do these disbelieving people who have taken My servants - instead of Me - as the objects of their worship and the dispensers of their matters and problems think that this make-shift arrangement made by them would bring them some benefit…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
74. This is the conclusion of the whole Surah and is not connected with the story of Zul-Qarnain only but with the subject matter of this Surah as a whole. That theme was enunciated at the beginning of the (Surah Ayats 1-8): The Prophet (peace be upon him) invited his people. (1) To give up shirk and adopt the doctrine of Tauhid instead. (2) To give up the worship of the world and to believe in the life of the Hereafter. But the chiefs of his people, who were puffed up with their wealth and grandeur, not only rejected his invitation but also persecuted and insulted those righteous people who…
Read the full tafseer →