Explained with ayahs 92–96
یاجوج ماجوج۔
اپنے شرقی سفر کو ختم کرکے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں انہیں قتل کرتے ہیں کھیت باغات تباہ کرتے ہیں بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد بربا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث سے ثابت ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل حضرت آدم ؑ سے فرمائے گا کہ اے آدم ! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہوگا آگ کا حصہ الگ کر۔ پوچھیں گے کتنا حصہ ؟ حکم ہوگا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 69
یاجوج ماجوج سے مراد، جیسا کہ اوپر 62 میں اشارہ کیا جاچکا ہے، ایشیا کے شمالی مشرقی علاقے کی وہ قومیں ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر غارت گرانہ حملے کرتی رہی ہیں اور جن کے سیلاب وقتاً فوقتاً اٹھ کر ایشیا اور یورپ، دونوں طرف رخ کرتے رہے ہیں۔ بائیبل کی کتاب پیدائش (اب 10) میں ان کو حضرت نوح ؑ کے بیٹے یافث کی نسل میں شمار کیا گیا ہے، اور یہی بیان مسلمان مؤرخین کا بھی ہے۔ حزقی ایل کے صحیفے (باب 38 و 39) میں سے مراد سیتھین قوم لیتا ہے جس کا علاقہ بحر اسود کے شمال اور مشرق میں واقع تھا۔ جیروم کے بیان کے مطابق ماجوج کا کیشیا کے شمال میں بحر خَزَر کے قریب آباد تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
یاجوج و ماجوج کون ہیں اور کہاں ہیں، سد ذوالقرنین کس جگہ ہے ؟
ان کے متعلق اسرائیلی روایات اور تاریخی کہانیوں میں بہت بےسروپا عجیب و غریب باتیں مشہور ہیں جن کو بعض حضرات مفسرین نے بھی تاریخی حیثت سے نقل کردیا ہے مگر وہ خود ان کے نزدیک بھی قابل اعتماد نہیں قرآن کریم نے ان کا مختصر ساحال اجمالاً بیان کیا اور رسول کریم ﷺ نے بقدر ضرورت تفصیلات سے بھی امت کو آگاہ کردیا ایمان لانے اور اعتقاد رکھنے کی چیز صرف اتنی ہی ہے جو قرآن اور احادیث صحیحہ میں آگئی ہے اس سے زائد تاریخی اور جغرافیائی حالات جو مفسرین محدثین اور مؤ رخین نے ذکر کئے ہیں اور صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ان میں جو اہل تاریخ کے اقوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
تفسیر آیات 92 تا 98:۔ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (92) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلا (93) قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا (94) قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا (95) آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (96) فَمَا…
Read the full tafseer →94۔ 1 ذو القرنین سے یہ خطاب یا تو کسی ترجمان کے ذریعے ہوا ہوگا یا اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو جو خصوصی اسباب و وسائل مہیا فرمائے تھے، انہی میں مختلف زبانوں کا علم بھی ہوسکتا ہے اور یوں یہ خطاب براہ راست بھی ہوسکتا ہے۔
94۔ 2 یاجوج و ماجوج یہ دو قومیں ہیں اور حدیث صحیح کے مطابق نسل انسانی میں سے ہیں اور ان کی تعداد، دوسری انسانی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی اور انہی سے جہنم زیادہ بھرے گی (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
48: یا جوج ماجوج دو وحشی قبیلے تھے جو ان پہاڑوں کے پیچھے رہتے تھے اور تھوڑے تھوڑے وقفوں سے وہ پہاڑوں کے درمیان درے سے اس علاقے میں آکر قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیتے تھے، علاقے کے لوگ ان سے پریشان تھے، اس لئے انہوں نے ذوالقرنین کو دیکھا کہ وہ بڑے وسائل کے مالک ہیں تو ان سے درخواست کی کہ پہاڑوں کے درمیان جو درہ ہے اسے ایک دیوار بناکر بند کردیں ؛ تاکہ یاجوج ماجوج کا راستہ بند ہوجائے، اور وہ یہاں آکر فساد نہ پھیلا سکیں، اس کام کے لئے انہوں نے کچھ مال کی بھی پیش کش کی۔ لیکن حضرت ذو القرنین نے کوئی معاوضہ لینے سے انکار کردیا، البتہ یہ کہا کہ تم اپنی افرادی طاقت سے میری مدد کرو تو میں یہ دیوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
اب ذوالقرنین نے تیسری مہم شروع کی۔ وہ دو پہاڑوں یا دو بندوں کے درمیان پہنچا۔ ہم اس مقام کا تعین بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہم ان دو بندوں کا تعین کرسکتے ہیں کہ یہ بند کہاں تھے۔ مفہوم یہی ہو سکتا ہے ” قدرتی پہاڑوں کی شکل میں بند یا رکاوٹیں تھیں ای دو مصنوعی رکاوٹیں تھیں اور ان کے دریمان ایک کھلی جگہ تھی جو گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یہاں کوئی نہایت ہی پہاڑی پسماندہ قوم آباد تھی۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ لایکادون یفقھون قولاً (81 : 39) ” جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتے تھے۔ “
اس قوم نے جب دیکھا کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح ہے اور قوت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے تو انہوں نے اس کے سامنے درخواست پیش کی کہ قوم…
Read the full tafseer →2 ذوالقرنین کے غیر معمولی اسباب و وسائل اور قوت و حشمت کو دیکھ کر انھیں یہ خیال ہوا کہ ہماری تکالیف و مصائب کا سدباب اس سے ہو سکے گا۔ اس لیے گذارش کی کہ " یاجوج ماجوج " نے ہمارے ملک میں اودھم مچا رکھی ہے۔ یہاں آکر قتل و غارت اور لوٹ مار کرتے رہتے ہیں۔ آپ اگر ہمارے اور ان کے درمیان کوئی مضبوط روک تھام کردیں جس سے ہماری حفاظت ہوجائے تو جو کچھ اس پر خرچ آئے ہم ادا کرنے کو تیار ہیں۔ چاہے آپ ٹیکس لگا کر ہم سے وصول کرلیں۔ (تنبیہ) " یاجوج ماجوج " کون ہیں ؟ کس ملک میں رہتے ہیں ؟ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی سد (آہنی دیوار) کہاں ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے متعلق مفسرین و مؤرخین کے اقوال مختلف رہے ہیں۔ میرا…
Read the full tafseer →فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًاعَلٰٓي اَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا
یعنی آپ ان پہاڑوں کے درمیان واقع اس واحد قدرتی گزر گاہ کو بند کردیں تاکہ یاجوج و ماجوج ہم پر حملہ آور نہ ہو سکیں۔ یہ وہی تصور یا اصول تھا جس کے تحت آج کل دریاؤں پر ڈیم تعمیر کیے جاتے ہیں۔ یعنی دو متوازی پہاڑی سلسلوں کے درمیان اگر دریا کی گزرگاہ ہے تو کسی کو مناسب مقام پر مضبوط دیوار بنا کر پانی کا راستہ روک دیا جائے تاکہ دریا ایک بہت بڑی جھیل کی شکل اختیار کرلے۔
یہ یاجوج ماجوج کون ہیں ؟ ان کے بارے میں جاننے کے لیے نسل انسانی کی قدیم تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ قدیم روایات کے مطابق حضرت نوح کے بعد نسل انسانی آپ کے تین…
Read the full tafseer →76 ذوالقرنین کی تیسری مہم شمال کو۔ یاجوج ماجوج کون ہیں ؟ ذوالقرنین کے تیسرے سفر کی سمت کا قرآن میں ذکر نہیں ہے تاہم قیاس یہی ہے کہ یہ شمالی جانب تھا اور شمالی جانب وہ قفقاز (کاکیشیا) کے پہاڑی علاقہ تک چلا گیا۔ ذوالقرنین اور اس کے ساتھی ان لوگوں کی زبان نہیں سمجھتے تھے اور وہ ان کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ ایسی صورتوں میں کسی ترجمان کی وساطت سے ہی بات چیت ہوئی ہوگی یا بسا اوقات اشاروں سے بھی مطلب سمجھایا جاسکتا ہے اور مسلم مؤرخین کے بیان کے مطابق یاجوج ماجوج سے مراد وہ انتہائی شمال مشرقی علاقہ کی وحشی اقوام ہیں جو انہی دروں کے راستوں سے یورپ اور ایشیا کی مہذب اقوام پر حملہ آور ہوتی رہی ہیں اور…
Read the full tafseer →143۔ (تاکہ وہ پھر ہمارے ملک میں نہ آنے پائیں) (آیت) ” یاجوج وما جوج “۔ ب ظاہر یہ وہ منگولی قبیلے معلوم ہوتے ہیں، جو پہاڑوں کی دوسری طرف آباد تھے، اور کبھی کبھی موقع پاکر یلغار کرتے ہوئے ترکوں کے درمیان گھس آتے تھے۔ یاجوج اور جاجوج کا اشتقاق اہل لغت نے مادہ اج سے کیا ہے۔ جس کے معنی آگ کے شعلہ مارنے اور پانی کے تموج وتلاطم کے ہیں۔ ان کے یہ نام ان کی شدت شورش کی بنا پر پڑے۔ شبھوا بالنار المضطربۃ والمیاہ المضمرجۃ لکثرۃ اضطرابھم (راغب) بعض نے انہیں اسماء عجمی بھی کہا ہے اسمان اعجمیاں بدلیل منع الصرف (کشاف) بائبل کی کتاب خرقی ایل کے باب 38، 39 میں یاجوج وماجوج کا ذکر بار بار آیا ہے۔ اور پیشگوئیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
آیت نمبر 92 تا 98
ترجمہ : پھر اس نے ایک اور سفر کی تیاری شروع کی یہاں تک کہ جب وہ ایسے مقام پر پہنچا کہ جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا سین کا فتح اور ضمہ دونوں ہیں، یہاں بھی اور بعد میں بھی، بلاد ترک کے اختتام پر دو پہاڑ ہیں سکندر نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو بند کردیا تھا جیسا کہ عنقریب (اس کا ذکر) آرہا ہے، تو ان دونوں پہاڑوں کے اس پار یعنی ان کے سامنے ایک ایسی قوم کو پایا جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی یعنی بڑی دیر کے بعد (اشارہ وغیرہ سے) ایک قرأت میں ضمہ ی اور کسرہ کاف کے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یأجوج ومأجوج ہمزہ اور بدون ہمزہ دونوں قرأتیں ہیں یہ دو عجمی قبیلوں…
Read the full tafseer →قالوا یذالقرنین ان یاجوج وماجوج مفسدون فی الارض انہوں نے کہا اے ذوالقرنین
یاجوج و ماجوج ہمارے ملک میں آکر تباہی مچاتے ہیں۔ یعنی قتل و غارت کرتے اور ہماری کھیتیوں کو اجاڑ دیتے ہیں۔ کلبی نے کہا موسم بہار میں یاجوج و ماجوج گھس آتے تھے۔ تمام سبز چیزوں (سرسبز کھیتیوں اور پھلوں ترکاریوں) کو تو کھالیتے تھے اور خشک چیزوں کو اٹھا کر اپنے ملک میں لے جاتے تھے ‘ ان لوگوں کو ان سے بڑا دکھ پہنچتا تھا ‘ بعض نے کہا وہ آدم خور تھے آدمیوں کو کھا جاتے تھے۔
یاجوج و ماجوج عجمی لفظ ہیں ‘ بعض کے نزدیک عربی ہیں عرب بولتے ہیں آج الظلم یعنی اَسْرَعَ بغوی نے لکھا ہے یہ دونوں لفظ اجیج النار ( آگ کا شعلہ ‘ بھڑک ‘ شرارہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ،
چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ،
ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ۔۔ : جب وہ قریب نہ تھے کہ کوئی بات سمجھیں تو ذوالقرنین سے ان کی گفتگو کیسے ہوئی ؟ جواب یہ ہے کہ اشاروں کی زبان میں، جو بین الاقوامی زبان ہے، یا ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان کی زبان سمجھا دی ہوگی، جیسا کہ داؤد و سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولی سکھا دی تھی۔
فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا۔۔ : اس قوم اور یاجوج ماجوج کے درمیان دو پہاڑ تھے جن کے درمیان ایک درہ تھا، جہاں سے آ کر وہ لوگ لوٹ مار کر کے چلے جاتے تھے۔ دو پہاڑوں کے درمیان ان کے برابر ایک بلند دیوار کوئی اولو العزم بادشاہ ہی بنا سکتا تھا، جس کے پاس ہر قسم کے وسائل ہوں۔ کوئی قوم کتنی بھی مال…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا یذا القرنین۔ یعنی ایک صالح قوم نے اسے کہا : ان یاجوج وماجوج مفسدون فی الارض اخفش نے کہا : یاجوج ہمزہ کے ساتھ ہے اور دونوں الفوں کو اصل سے بنایا ہے انہوں نے کہا : یاجوج کا وزن یفعول ہے اور ماجوج کا وزن مفعول ہے گویا یہ اجیج النار سے مشتق ہیں اور جو مہموز نہیں بناتے وہ دونوں الفوں کو زائد بناتے ہیں وہ کہتے ہیں : یاجوج یججت سے ہے اور ماجوج مججت سے ہے اور یہ دونوں غیر منصرف ہیں۔ روبہ نے کہا :
لوان یاجوج وماجوج معا وعاد عاد واستجاشوا تبعا
یہ جوہری نے ذکر کیا ہے۔ بعض علمائء نے فرمایا : دونوں غیر منصرف ہیں کیونکہ دونوں اسم عجمی ہیں جیسے طالوت اور جالوت، غیر مشتق ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–100
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔
2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [يٰذَا الْقَرْنَيْنِ : اے ذوالقرنین ] [ان : بیشک ] [يَاْجوجَ : یاجوج ] [وَمَاجوجَ : اور ماجوج ] [مُفْسِدُوْنَ : فساد پھیلانے والے ہیں ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [فَهَلْ : تو کیا ] [نَجْعَلُ : ہم مقرر کریں ] [لَكَ : آپ کے لئے ] [خَرْجًا : کوئی ٹیکس ] [عَلٰٓي ان : اس پر کہ ] [تَجْعَلَ : آپ بنادیں ] [بَيْنَنَا : ہمارے درمیان ] [وَبَيْنَهُمْ : اور ان کے درمیان ] [سَدًّا : ایک دیوار ]
نوٹ۔ 1: ذوالقرنین نے مشرق کی جانب جو قوم آباد پائی اس کا یہ حال تو قرآن کریم نے ذکر فرمایا کہ وہ دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی سامان، مکان، خیمہ، لباس وغیرہ کے ذریعہ نہ کرتے تھے، لیکن ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–97
تیسرا سفر
(ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) جانب مشرق میں (مَطْلِعَ الشَّمْس) میں رہنے والی قوم سے فارغ ہو کر ذوالقرنین آگے بڑھے، چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا۔ (یہ بین السدین کا ترجمہ ہے۔ اور سدین سے دو پہاڑ مراد ہیں ان کے درمیان خالی جگہ تھی۔ ان دونوں کے درمیان درہ سے جہاں یاجوج ماجوج حملہ آور ہوئے تھے۔ )
ان پہاڑوں سے ورے ایک ایسی قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔ (ذوالقرنین کی زبان تو کیا سمجھتے یہ تو لغت جاننے کی بات ہے سمجھ بوجھ بھی بس یونہی تھوڑی بہت تھی لیکن دشمنوں کی وجہ سے پریشان بہت زیادہ تھے۔ )
یاجوج ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار کی تعمیر
ذوالقرنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
سفر سوم
ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ بین السدین۔۔۔ الیٰ ۔۔ وکانوا لا یستطیعون سمعا۔
ذکر تعمیر سد آہنی برائے انسداد خروج یا جوج و ماجوج
پھر مشرق و مغرب کے سفر سے فارغ ہو کر مشرق و مغرب کے درمیان جنوب سے شمال کی طرف ایک تیسری راہ کے پیچھے ہو لیا۔ یہاں تک کہ جب وہ چلتا چلتا دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا جس کی پشت پر یاجوج ماجوج کی زمین تھی تو ان پہاڑوں کے پیچھے اس نے عجیب و غریب قوم پائی جو کم عقلی کی وجہ سے کسی بات کے سمجھنے کے قریب بھی نہ پہنچے تھے یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات نہیں سمجھتے تھے اور وحشی اور کم عقل ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے تھے ورنہ عاقل آدمی قرائن سے کچھ نہ…
Read the full tafseer →80:۔ یہ گفتگو ترجمان کے ذریعہ ہوئی۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین سے یاجوج ماجوج کی شکایت کی کہ یہ ان پہاڑوں کی دوسری جانب رہتے ہیں اور اس درے سے اس طرف نکل آتے ہیں اور فساد مچاتے ہیں، قتل و غارت گری کرتے ہیں اور سر سبز و شاداب کھیتوں اور باغوں کو تباہ و برباد کرجاتے ہیں۔ ہم ساری قوم سے چندہ لے کر ایک کثیر رقم جمع کر کے آپ کے حوالے کرتے ہیں۔ آپ ایک مضبوط آہنی دیوار بنا کر اس درے کو بند کردیں تاکہ یہ فسادی قوم اس طرف آنے نہ پائے۔ خرجا ای جعلا من اموالنا (روح ج 16 ص 39) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
(ذوالقرنین کا مشرقی سفر)
ذوالقرنین کے تین سفروں میں مغربی سفر کا حال گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں مشرقی اور شمالی سفر کا حال بیان ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ثم اتبع سببا “۔ پھر وہ ایک راستے پر چلا جو کہ مشرق کی طرف تھا تفسیری روایات کے مطابق یہ سفر بارہ سال میں مکمل ہوا ۔ واللہ اعلم کم وبیش عرصہ بھی ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو خاص فضیلت بخشی تھی اور خصوصی قوت بھی عطا فرمائی آپ سے بعض امور معجزانہ طور پر بھی سرزد ہوئے ، اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ سفر کم ترعرصہ میں طے ہوگیا ہو اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق اپنی قدرت اور حکمت کے مطابق بخشی تھی بہرحال انہوں نے مشرق کی…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اِنَّ يَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ فَہَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰٓي اَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَہُمْ سَدًّا 94
ذو
ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251]
والثاني في لفظ ذو :
لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد
( ذ و ) ذو
( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے
( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف
کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔
تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمَا قَوْمًا لا لاَّ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ قَوْلاً ۔ قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ قَالَ مَامَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌفَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا۔ اٰ تُوْنِیْ زُبَرَالْحَدِیْدِ ط حَتّٰیٓ اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ط حَتّٰیٓ اِذَا جَعَلَـہٗ نَارًا لا قَالَ اٰ تُوْنِٓیْ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا۔ فَمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
فہم القرآن
ربط کلام : ذوالقرنین کی تیسری عسکری مہم۔
مفسرین کا خیال ہے کہ مشرق و مغرب کو فتح کرنے کے بعد ذوالقرنین اپنے ملک سے ملحقہ اس زمانے کی موجود دنیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچا جسے بعض مؤرخ ترکستان کے قریب کا علاقہ شمار کرتے ہیں۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد آباد تھی۔ جہاں بحرقرز اور بحر اسود کے درمیان پہاڑی سلسلہ ہے یہاں کے لوگوں کو مؤرخ منگول قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ قریب قریب وہی علاقے ہیں جہاں چائینہ کا ملک ہے۔ کیونکہ یہاں کوہ قفقاز کے دامن میں آہنی دیوار موجود ہے۔
ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشہور دیوار چین…
Read the full tafseer →تذکرہ یاجوج ماجوج :
94: قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْ جُوْجَ (کہنے لگے اے ذوالقرنین بیشک یا جوج اور ماجوج) ۔
نحو و قراءت : یہ دو عجمی نام ہیں۔ کیونکہ غیر منصرف استعمال ہوتے ہیں۔ فقط عاصم نے ان کو ہمزہ سے پڑھا ہے۔ نمبر 1۔ یہ دونوں اولاد یا فث سے ہیں۔ نمبر 2۔ یاجوج ترکوں سے ہیں اور ماجوج، جیل اور دیلم سے ہیں۔ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ (وہ زمین میں فساد پیدا کرنے والے ہیں۔ ) ایک قول یہ ہے کہ انسانوں کو کھاتے تھے۔ دوسرا قول یہ موسم ربیع میں نکلتے کوئی سبزہ پاتے اس کو کھا جاتے اور خشک کو اٹھا کرلے جاتے اور انکا کوئی آدمی اسوقت تک نہ مرتا جب تک اپنی پشت میں سے ایک ہزار…
Read the full tafseer →(94)” قالو یا ذوالقرنین “ سوال وہ تو کچھ بات سمجھتے نہیں تو پھر ان کو کیسے کہا ؟
جواب : ان کے ساتھ کلام کیا ترجمان کے ساتھ۔ اس پر دلیل حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت ہے کہ وہ کسی کی بات سمجھتے نہیں تھے، آپ نے ان کے علاوہ لوگوں کو کہا اے ذوالقرنین ” ان یاجوج وماجوج “ عاصم نے ان دونوں کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے بغیر ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دو لغتیں ہیں۔ یہ اصل میں ” اجیج النار “ ہے ۔ آگ کا شعلہ، بھڑک شرارہ کثرت تعداد کی وجہ سے ان کو آگے کے شعلوں اور چنگاریوں سے تشبیہ دی۔
یاجوج ماجوج کس نسل سے ہیں
بعض نے کہا کہ یہ ہمزہ کے ساتھ یاجوج و ماجوج ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ عجمی ہیں۔ ہاروت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–95
90۔ 93:۔ مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا ان پہاڑوں کی پرلی طرف ایک جنگلی قوم رہتی تھی جس کے لوگ نہ دوسری کسی قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی ان لوگوں نے ذوالقرنین سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کے پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ورلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ہم لوگ چندہ کرکے روپیہ دیتے ہیں اس روپے کے خرچ سے ہمارے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
آیت 89
یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
137 ذو القرنین کا ایک اور وحشی قوم سے واسطہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو پایا جو کسی بات کو سمجھنے کے قریب بھی نہ لگی تھی "۔ کہ ان کی اپنی زبان کچھ اور تھی۔ اور دوسری قوموں کے ساتھ ان کا کوئی ربط وتعلق تھا نہیں کہ ان کی زبان سمجھتے۔ اور اتنی سمجھ بوجھ کے مالک بھی وہ لوگ نہ تھے کہ اشاروں کنایوں سے بات سمجھ سکتے۔ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر، المحاسن وغیرہ) ۔ یعنی وہ لوگ بالکل وحشی اور کم عقل لوگ تھے۔ ورنہ عقل کی روشنی سے انسان اشاروں کنایوں سے بھی سمجھ لیتا ہے۔ بہرکیف انہوں نے کسی ترجمان وغیرہ کے ذریعے اپنی بات ذوالقرنین کے سامنے پیش کردی۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین
ذوالقرنین کا واقعہ
تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔
خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–101
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔
(ذوالقرنین کون تھا)
ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…
Read the full tafseer →ف 1 یہاں سے ذوالقرنین اور ان لوگوں کی جو گفتگو نقل کی جا رہی ہے وہ غالباً کسی ترجمان کے ذریعے ہوئی ہوگی اور ترجمان کسی درمیانی قوم کا ہوگا جو دونوں کی زبان سمجھتا ہوگا اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ ذوالقرنین کو دوسرے اسباب کی طرح یہ توفیق بھی حاصل ہو کہ وہ ان کی زبن سمجھتا ہو۔2 یاجوج و ماجوج انسانی نسل ہی کی دو قومیں ہیں جیسا کہ ایک حدیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا، اے آدم اپنی اولاد میں سے جہنم میں جانے والی فوج تیار کرو۔ آدم پوچھیں گے وہ فوج کتین ہے ؟ اللہ فرمائے گا۔ ہر ہزار میں سے ایک جنت میں جائے گا … یہ سن کر مسلمان پریشان ہوئے تو آنحضرت نے فرمایا گھبرائو…
Read the full tafseer →(18:94) خرجا۔ خراج، محصول۔ باج ۔ مال۔ اخراج جمع۔ ھل نجعل لک خرجا۔ کیا ہم تمہارے لئے کچھ مال اکٹھا کردیں
علی ان۔ یہاں بشرطیکہ کے معنی میں آیا ہے۔ یا ۔ تاکہ۔ عربی میں کہتے ہیں احدثک علی ان تسترہ۔ میں تم کو بتاتا ہوں بشرطیکہ ۔ تم اسے راز میں رکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101
السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا
تشریح : آیت نمبر 92 تا 101
مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–97
سد یا جو ماجوج کا ذکر
مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف کے سفر سے فارغ ہوکر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا۔ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا۔ ان پہاڑوں کی دوسری طرف قوم رہتی تھی، جس کے لوگ نہ دوسری قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی، مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی۔ اور ان لوگوں نے حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کی پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے۔ اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ارلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
[33] یا جوج ماجوج سے مراد وہ منگول قبائل ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر حملہ کرتے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–99
معیار حکمرانی :
(ف 1) مغرب میں فتوحات کے بعد جب ذوالقرنین نے مشرق کا رخ کیا تو وہاں ایک خانہ بدوش قوم پائی یہ اقصائے مشرق کے رہنے والے تھے ، اس کے بعد وہ دوسری جانب بڑھا یہاں دونوں طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں ایک درہ تھا ، یہاں کچھ لوگ آباد تھے ، انہوں نے اپنی زبان میں کہا ، جسے ذوالقرنین نہیں سمجھتے تھے ، کہ یا جوج وماجوج کی قومیں ہماری ہاں آکر لوٹ مار کرتی ہیں ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیاں ایک دیوار کھینچ دیں ؟ تاکہ ہم ان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں ، ہم اس کام کے مصارف بھی آپ کو ادا کرنے لئے تیار ہیں ، ذوالقرنین نے کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے ، تمہارے روپے پیسے کی…
Read the full tafseer →-94 اس قوم کے افراد نے عرض کیا شاید کسی ترجمان کے ذریعے سے گفتگو ہوئی ہوگی ۔ اے ذوالقرانین یاجوج ماجوج کی قوم کے لوگ اس سر زمین میں بہت فساد برپا کرتے ہیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم تیرے لئے بطور امداد کچھ روپیہ اور مال جمع کردیں تاکہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک آڑ اور دیوار بنا دے۔ یاجوج ماجوج کوئی قوم غیر معمولی طاقت کی مالک ہوگی۔ اگرچہ اس وقت تک اس قوم کا پتہ اور اس دیوار کا سراغ نہیں مل سکا لیکن کیا عجب ہے کہ مستقل قریب میں یا بعید میں پتہ لگ جائے جس طرح بعض بر اعظم اب سے پہلے معلوم نہ تھے اور بعد میں معلوم ہوئے یہ قوم ان کی مدافعت کی طاقت نہ رکھتی تھی اس لئے ذوالقرنین کو بڑا بادشاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
ف 2۔ یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات سمجھتے اور وحشی اور قلیل الفہم ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے لگ بھگ بھی نہیں پہنچتے، ورنہ عاقل آدمی رموز و قرائن سے کچھ قریب قریب سمجھ لیتا ہے۔
Read the full tafseer →غیر معروف قوم کی اپیل ذوالقرنین کی خدمت میں اور اسی ملاقات پر فیصلہ کا حکم :
100۔ اس تیسری مہم میں ذوالقرنین کا کیشیا تک پہنچ گیا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا پھر وہاں اس کو جس قوم سے واسطہ پڑا وہ غیر متمدن قوم تھی یعنی اس وقت کے حالات کے مطابق لیکن اس کے باوجود وہ کسی ایسی قوم سے زخم خوردہ تھے جس کے بار بار حملوں کی وہ تاب نہیں رکھتے تھے اس لئے انہوں نے ذوالقرنین سے اپیل کی کہ ہمارے اس قریب کے درہ سے ہم پر ایک قوم حملہ آور ہوتی ہے اور اس نے ہم کو بہت تنگ کر رکھا ہے ہمارے ساتھ کچھ نیکی کرسکتے ہو تو یہ کریں کہ اس درہ کو بند کرا دیں تاکہ ان لوگوں سے ہماری جانیں بچ جائیں اس سلسلہ میں ہم آپ کو مالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
Commentary
The Identity of Ya'juj Ma'juj and the Location of the Wall of Dhul-Qarnain
A lot of absurd and strange things disseminated through Isra'ili narratives and historical stories have found currency to the extent that some commentators have also reported them in terms of their historical status, though they themselves do not find them trustworthy. The truth of the matter is that the Qur'an has mentioned it briefly and the Holy Prophet ﷺ has informed his community also about the details as and where necessary. What has to be believed in as part of one's faith is limited to what has been…
Read the full tafseer →69. As has already been pointed out in (E.N. 62), Gog and Magog were the wild tribes of North Eastern Asia which, from the very early times had been making inroads on settled kingdoms and empires in Asia and Europe and ravaging them. According to Genesis (Chapter 10), they were the descendants of Japheth, the son of Noah, and the Muslim historians have also accepted this. And according to the book of Ezekiel (Chapters 38, 39), they inhabited the territories of Meshech (Moscow) and Tubal (Tubalsek). According to the Israelite historian Josephus, they were the Scythians and their territory…
Read the full tafseer →