Al-Kahf 18:93

Al-Kahf · from ayah 93

18:93

حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا ۙ— لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا ۟حَتّٰٓى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمَا قَوۡمًا ۙ لَّا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ قَوۡلًا

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Until, when he reached [a pass] between two mountains, he found beside them a people who could hardly understand [his] speech.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:93

یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہاں تک کہ جب دو دیواروں کے درمیان پہنچا ان دونوں کے پرے اس نے ایک ایسی قوم پائی جو بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو انہیں ان پہاڑوں سے پہلے کچھ لوگ ملے جن کے بارے میں ایسا لگتا تھا کہ وہ کوئی بات نہیں سمجھتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے بیچ پہنچا ان سے ادھر کچھ ایسے لوگ پائے کہ کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہاں تک کہ وہ (ایک مقام پر) دو پہاڑوں کے درمیان جا پہنچا اس نے ان پہاڑوں کے پیچھے ایک ایسی قوم کو آباد پایا جو (کسی کی) بات نہیں سمجھ سکتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو ان کے اس طرف کچھ لوگوں کو پایا جو قریب نہ تھے کہ کوئی بات سمجھیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاآنکہ وہ دو بلند گھاٹیوں کے درمیان پہنچا وہاں ان کے پاس اس نے ایسی قوم دیکھی جو بات بھی نہ سمجھ سکتی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہاں تک کہ دو پہاڑوں کے درمیان کے درے تک جا پہنچا۔ ان دونوں پہاڑوں کے درے اس کو ایسے لوگ ملے جو کوئی بات سمجھ نہیں پاتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہاں تک کہ جب وہ پہنچ گیا دو پہاڑوں کے درمیان تو اسے کچھ ایسے لوگ ملے جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ لگتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو ان کے ادھر ایک قوم کو پایا جو گویا کوئی بات ہی نہیں سمجھتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہاں تک کہ جب وہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا اس نے پایا ان دونوں سے ورے ایک قوم (کے افراد) کو جو کوئی بات سمجھ نہیں سکتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

until when he reached a place between the two mountains, he found beside the mountains a people who scarcely understood anything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

until when he reached between the two mountains, he found by them a people who were almost unable to understand anything said.

— Muhammad Taqi Usmani

until when he reached between the two mountains, he found by them a people who were almost unable to understand anything said.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Until, when he reached between two mountains, he found before them a people who scarcely understood a word.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Till, when he came between the two mountains, he found upon their hither side a folk that scarce could understand a saying.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Until, when he reached [a pass] between two mountains, he found beside them a people who could hardly understand [his] speech.

— Saheeh International

after this to the middle of two mountains where he found a people who could hardly understand a single word.

— Muhammad Sarwar

Until when he reached (a place) between the two mountains, he found on that side of them a people who could hardly understand a word.

— Muhammad Habib Shakir

Until when he arrived between the two mountains, he found beside them a people who well-nigh understood not a word.

— Abdul Majid Daryabadi

Until, when he reached (a tract) between two mountains, he found, beneath them, a people who scarcely understood a word.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 92–96

یاجوج ماجوج۔ اپنے شرقی سفر کو ختم کرکے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں انہیں قتل کرتے ہیں کھیت باغات تباہ کرتے ہیں بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد بربا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث سے ثابت ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل حضرت آدم ؑ سے فرمائے گا کہ اے آدم ! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہوگا آگ کا حصہ الگ کر۔ پوچھیں گے کتنا حصہ ؟ حکم ہوگا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 67 چونکہ آگے یہ ذکر آ رہا ہے کہ ان دونوں پہاڑوں کے اس طرف یاجوج ماجوج کا علاقہ تھا، اس لیے لامحالہ ان پہاڑوں سے مراد کا کیشیا کے وہ پہاڑی سلسلے ہی ہو سکتے ہیں جو بحر خزر (کیسپین) اور بحر اسود کے درمیان واقع ہیں۔ سورة الْكَهْف 68 یعنی اس کی زبان ذوالقرنین اور اس کے ساتھیوں کے لیے قریب قریب بالکل اجنبی تھی۔ سخت وحشی ہونے کے سبب سے نہ کوئی ان کی زبان سے واقف تھا اور نہ وہ کسی غیر زبان سے واقف تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل لغات مشکلہ کا حل بَيْنَ السَّدَّيْنِ لفظ سد عربی زبان میں ہر اس چیز کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی چیز کے لئے رکاوٹ بن جائے خواہ دیوار ہو یا پہاڑ اور قدرتی ہو یا مصنوعی یہاں سدین سے دو پہاڑ مراد ہیں جو یاجوج و ماجوج کے راستہ میں رکاوٹ تھے لیکن ان دونوں کے درمیانی درے سے وہ حملہ آور ہوتے تھے جس کو ذوالقرنین نے بند کیا۔ زُبَرَ الْحَدِيْدِ زبر زبرہ کی جمع ہے جس کے معنی تختی یا چادر کے ہیں مراد لوہے کے ٹکڑے ہیں جن کو اس درہ کو بند کرنے والی دیوار میں اینٹ پتھر کے بجائے استعمال کرنا تھا۔ الصَّدَفَيْنِ دو پہاڑوں کی دو جانبیں جو ایک دوسرے کے بالمقابل ہوں۔ قِطْرًا قطر کے معنی اکثر مفسرین کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 92–98

تفسیر آیات 92 تا 98:۔ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (92) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلا (93) قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا (94) قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا (95) آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (96) فَمَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

93۔ 1 اس سے مراد دو پہاڑ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل تھے، ان کے درمیان کھائی تھی، جس سے یاجوج و ماجوج ادھر آبادی میں آجاتے اور اودھم مچاتے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے۔ 93۔ 2 یعنی اپنی زبان کے سوا کسی اور کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

47: یہ ذوالقرنین کا تیسرا سفر ہے، قرآن کریم نے اس سفر کی سمت متعین نہیں فرمائی، لیکن بیشتر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ یہ سفر شمال میں دنیا کی انتہائی آبادی کی طرف ہوا تھا، یہاں کے لوگوں کی زبان بالکل مختلف تھی، اور شاید حلیہ بھی ایسا ہو کہ ان میں سمجھ کے آثار نظر نہ آتے ہوں، اور آگے ان سے جو گفتگو ہوئی ہے وہ یا تو کسی ترجمان کے ذریعے ہوئی ہوگی یا اشاروں سے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 91–94

اب ذوالقرنین نے تیسری مہم شروع کی۔ وہ دو پہاڑوں یا دو بندوں کے درمیان پہنچا۔ ہم اس مقام کا تعین بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہم ان دو بندوں کا تعین کرسکتے ہیں کہ یہ بند کہاں تھے۔ مفہوم یہی ہو سکتا ہے ” قدرتی پہاڑوں کی شکل میں بند یا رکاوٹیں تھیں ای دو مصنوعی رکاوٹیں تھیں اور ان کے دریمان ایک کھلی جگہ تھی جو گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یہاں کوئی نہایت ہی پہاڑی پسماندہ قوم آباد تھی۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ لایکادون یفقھون قولاً (81 : 39) ” جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتے تھے۔ “ اس قوم نے جب دیکھا کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح ہے اور قوت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے تو انہوں نے اس کے سامنے درخواست پیش کی کہ قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ذوالقرنین اور اس کے ساتھیوں کی بولی وہ لوگ نہیں سمجھتے تھے۔ آگے جو گفتگو نقل کی گئی ہے غالباً کسی ترجمان کے ذریعہ سے ہوئی ہوگی۔ اور ترجمان کسی درمیانی قوم کا ہوگا جو دونوں کی زبان قدرے سمجھتا ہو (تنبیہ) اس قوم اور " یاجوج ماجوج " کے ملک میں یہ دو پہاڑ حائل تھے جن پر چڑھائی ممکن نہ تھی البتہ دونوں پہاڑوں کے بیچ میں ایک درہ کھلا ہوا تھا اسی سے " یاجوج ماجوج " آتے اور ان لوگوں کو لوٹ مار کر چلے جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 93 حَتّٰٓي اِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ ”سد“ دیوار کو کہتے ہیں۔ دو دیواروں سے مراد یہاں دو پہاڑی سلسلے ہیں۔ داہنی طرف مشرق میں بحیرۂ کیسپین تھا اور دوسری طرف بحیرۂ اسود۔ ان دونوں سمندروں کے ساحلوں کے ساتھ ساتھ دو پہاڑی سلسلے متوازی چلتے ہیں۔ اور ان پہاڑی سلسلوں کی درمیانی گزر گاہ سے شمالی علاقوں کے وحشی قبائل یاجوج ماجوج اس علاقے پر حملہ آور ہوتے تھے۔ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا ۙ لَّا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ قَوْلًا گویا یہ بھی ایک غیر متمدن قوم تھی۔ اس قوم کے افراد ذوالقرنین اور ان کے ساتھیوں کی زبان سے قطعاً ناآشنا تھے اور حملہ آور لشکر کے لوگ بھی اس مفتوحہ قوم کی زبان نہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 91–93

75 ذوالقرنین کی دوسری مہم مشرق کو :۔ لفظ کذلک کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ دوسرے لوگ یا مؤرخ خواہ ذوالقرنین کے کیسے حالات بتائیں اصل واقعہ یہی ہے جو ہم بیان کر رہے ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ذوالقرنین کو کیا کیا حالات پیش آئے اور اس کے پاس کیا کچھ موجود تھا اور کذلک کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین نے اس قوم سے بھی اسی طرح کا سلوک کیا جیسا مغربی قوم سے کیا تھا یعنی انھیں اسلام کی تعلیم اور دعوت دی جن لوگوں نے سرکشی کی ان کے ساتھ سختی کی گئی اور جنہوں نے فرماں برداری کی راہ اختیار کی ان سے نرمی کا سلوک کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

142۔ یعنی ذوالقرنین اور اس کے لشکروں کی زبان ان کے لئے بالکل اجنبی تھی۔ ماکانوا یفھمون اللسان الذی یتکلم بہ ذوالقرنین (کبیر) عجب نہیں جو یہ ترکستانی قبائل ہوں، جن کی زبان، تلفظ، لب و لہجہ سب یونانیوں کے لئے اجنبی تھا۔ (آیت) ” بین السدین “۔ سد کے اصلی معنی دو چیزوں کے درمیان اوٹ یا رکاوٹ کے ہیں۔ الحاجزبین الشیئین (ابن جریر) اور اس کے عموم میں پہاڑ درہ وغیرہ سب شامل ہیں، یہاں مراد پہاڑ لی گئی ہے۔ السدین الجبلین (ابن عباس ؓ یعنی بین جبلین (ابن جریر۔ عن ضحاک) وھما جبلان (ابن جریر۔ عن قتادۃ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 92–98

آیت نمبر 92 تا 98 ترجمہ : پھر اس نے ایک اور سفر کی تیاری شروع کی یہاں تک کہ جب وہ ایسے مقام پر پہنچا کہ جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا سین کا فتح اور ضمہ دونوں ہیں، یہاں بھی اور بعد میں بھی، بلاد ترک کے اختتام پر دو پہاڑ ہیں سکندر نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو بند کردیا تھا جیسا کہ عنقریب (اس کا ذکر) آرہا ہے، تو ان دونوں پہاڑوں کے اس پار یعنی ان کے سامنے ایک ایسی قوم کو پایا جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی یعنی بڑی دیر کے بعد (اشارہ وغیرہ سے) ایک قرأت میں ضمہ ی اور کسرہ کاف کے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یأجوج ومأجوج ہمزہ اور بدون ہمزہ دونوں قرأتیں ہیں یہ دو عجمی قبیلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حتی اذا بلغ بین السدین وجد من دونہما قوما لا یکادون یفقہون قولا۔ . یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو دونوں پہاڑوں سے ورے اس کو ایک ایسی قوم ملی جو تقریباً کوئی بات بھی سمجھتی نہ تھی۔ سد اور سد ہم معنی ہیں ‘ عکرمہ نے کہا انسان کی بنائی بندش کو سد کہتے ہیں اور قدرتی رکاوٹ و آڑ کو سد 1 ؂۔ سدین سے مراد اس جگہ وہ دو پہاڑ ہیں جن کے درمیان ذوالقرنین نے ایک دیوار بنا دی تھی تاکہ یاجوج و ماجوج پرے سے دیوار کے ورے نہ آسکیں۔ بیچ میں دیوار حائل ہوجائے۔ یہ دونوں پہاڑ آرمینیا اور آذربائیجان کے تھے۔ ابن المنذر نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے بعض اہل علم کا قول ہے کہ ترکوں کی حدود جہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 83–98

(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ، چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ، ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 92–93

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔۔ : مغرب و مشرق کے سفر کے بعد ذوالقرنین کا یہ تیسرا سفر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی جہت بیان نہیں فرمائی کہ وہ شمال ہے یا جنوب یا چاروں جہتوں کا کوئی کونا۔ معلوم ہوتا ہے اسے پوشیدہ رکھنے ہی میں اللہ کی حکمت ہے۔ چناچہ مدت دراز سے لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی دو پہاڑوں کے درمیان اس جیسی بلندی والی یہ دیوار کسی نے نہیں دیکھی۔ دیوار چین یا داغستان میں دربند اور خوزامہ کے درمیان کسی زمانے میں پائی جانے والی دیوار یا کسی اور دیوار کی نہ یہ ہیئت ہے، نہ ان کے پار رہنے والوں میں کہیں یاجوج ماجوج کا وجود ہے۔ 3 بہت سے مفسرین نے ذوالقرنین کا یہ سفر شمال کی طرف قرار دیا ہے، کوئی اسے روس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 92–93

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتبع سببا۔ حتیٰ اذا بلغ بین السدین یہ ارمینہ اور آذربائیجان کی طرف سے دو پہاڑ ہیں۔ عطا خراسانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : بین السدین سے مراد ارمینہ اور اذربیجان کے پہاڑ ہیں (1) ۔ وجد من دونھما۔ یعنی ان پہاڑوں کے پیچھے قوما لا یکادون یفقھون قولا۔ ایسی قوم پائی جو نہیں سمجھ سکتی تھی (ان کی) کوئی بات۔ حمزہ اور کسائی نے یفقہون کو یاء کے ضمہ اور قاف کے کسرہ کے ساتھ افقہ سے مشتق کر کے پڑھا ہے جس کا معنی ہے ظاہر کرنا یعنی وہ دوسروں کو کلام نہیں سمجھا سکتے تھے اور باقی قراء نے یاء اور قاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ نہیں جانتے تھے۔ دونوں قراتیں صحیح ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–100

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [بَلَغَ : وہ پہنچا ] [بَيْنَ السَّدَّيْنِ : دو دیواروں (یعنی پہاڑوں) کے درمیان ] [وَجَدَ : تو اس نے پایا ] [مِنْ دُوْنِهِمَا : ان دونوں کے ] [قَوْمًا : ایک ایسی قوم کو جو ] [لَّا يَكَادُوْنَ : لگتا نہیں تھا کہ ] [يَفْقَهُوْنَ : وہ لوگ سمجھیں گے ] [قَوْلًا : کوئی بات ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 90–97

تیسرا سفر (ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) جانب مشرق میں (مَطْلِعَ الشَّمْس) میں رہنے والی قوم سے فارغ ہو کر ذوالقرنین آگے بڑھے، چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا۔ (یہ بین السدین کا ترجمہ ہے۔ اور سدین سے دو پہاڑ مراد ہیں ان کے درمیان خالی جگہ تھی۔ ان دونوں کے درمیان درہ سے جہاں یاجوج ماجوج حملہ آور ہوئے تھے۔ ) ان پہاڑوں سے ورے ایک ایسی قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔ (ذوالقرنین کی زبان تو کیا سمجھتے یہ تو لغت جاننے کی بات ہے سمجھ بوجھ بھی بس یونہی تھوڑی بہت تھی لیکن دشمنوں کی وجہ سے پریشان بہت زیادہ تھے۔ ) یاجوج ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار کی تعمیر ذوالقرنین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 92–98

سفر سوم ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ بین السدین۔۔۔ الیٰ ۔۔ وکانوا لا یستطیعون سمعا۔ ذکر تعمیر سد آہنی برائے انسداد خروج یا جوج و ماجوج پھر مشرق و مغرب کے سفر سے فارغ ہو کر مشرق و مغرب کے درمیان جنوب سے شمال کی طرف ایک تیسری راہ کے پیچھے ہو لیا۔ یہاں تک کہ جب وہ چلتا چلتا دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا جس کی پشت پر یاجوج ماجوج کی زمین تھی تو ان پہاڑوں کے پیچھے اس نے عجیب و غریب قوم پائی جو کم عقلی کی وجہ سے کسی بات کے سمجھنے کے قریب بھی نہ پہنچے تھے یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات نہیں سمجھتے تھے اور وحشی اور کم عقل ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے تھے ورنہ عاقل آدمی قرائن سے کچھ نہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

79:۔ یہ ذوالقرنین کی تیسری مہم کا بیان ہے، اس کے متعلق عام مفسرین کی رائے یہی ہے کہ یہ سفر شمال کی جانب تھا۔ ” السدین “ (دو دیواروں) سے مراد وہ پہاڑ ہیں جن کے درمیان درہ تھا اور جس سے یاجوج ماجوج بیرونی علاقے میں آکر فساد کرتے تھے۔ ” من دونھما “ ان دونوں پہاڑوں سے ورے ایک قوم آباد تھی جن کی زبان بالکل علیحدہ تھی۔ وہ ذوالقرنین کی کوئی بات سمجھ نہیں سکتے تھے۔ نہ ذوالقرنین ان کی زبان سے آشنا تھے۔ قال ابن عباس لا یفہمون کلام احد ولا یفھم الناس کلامھم (خازن ج 4 ص 187) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 89–94

(ذوالقرنین کا مشرقی سفر) ذوالقرنین کے تین سفروں میں مغربی سفر کا حال گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں مشرقی اور شمالی سفر کا حال بیان ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ثم اتبع سببا “۔ پھر وہ ایک راستے پر چلا جو کہ مشرق کی طرف تھا تفسیری روایات کے مطابق یہ سفر بارہ سال میں مکمل ہوا ۔ واللہ اعلم کم وبیش عرصہ بھی ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو خاص فضیلت بخشی تھی اور خصوصی قوت بھی عطا فرمائی آپ سے بعض امور معجزانہ طور پر بھی سرزد ہوئے ، اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ سفر کم ترعرصہ میں طے ہوگیا ہو اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق اپنی قدرت اور حکمت کے مطابق بخشی تھی بہرحال انہوں نے مشرق کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حَتّٰٓي اِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا۝ 0ۙ لَّا يَكَادُوْنَ يَفْقَہُوْنَ قَوْلًا۝ 93 بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 89–98

ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔ تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 92–98

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمَا قَوْمًا لا لاَّ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ قَوْلاً ۔ قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ قَالَ مَامَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌفَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا۔ اٰ تُوْنِیْ زُبَرَالْحَدِیْدِ ط حَتّٰیٓ اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ط حَتّٰیٓ اِذَا جَعَلَـہٗ نَارًا لا قَالَ اٰ تُوْنِٓیْ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا۔ فَمَا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 92–98

فہم القرآن ربط کلام : ذوالقرنین کی تیسری عسکری مہم۔ مفسرین کا خیال ہے کہ مشرق و مغرب کو فتح کرنے کے بعد ذوالقرنین اپنے ملک سے ملحقہ اس زمانے کی موجود دنیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچا جسے بعض مؤرخ ترکستان کے قریب کا علاقہ شمار کرتے ہیں۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد آباد تھی۔ جہاں بحرقرز اور بحر اسود کے درمیان پہاڑی سلسلہ ہے یہاں کے لوگوں کو مؤرخ منگول قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ قریب قریب وہی علاقے ہیں جہاں چائینہ کا ملک ہے۔ کیونکہ یہاں کوہ قفقاز کے دامن میں آہنی دیوار موجود ہے۔ ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشہور دیوار چین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 92–93

تیسرا سفر بجانب شمال اور اس کے احوال : 92، 93: ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًاحَتّٰی اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ (پھر وہ اسباب کے پیچھے لگا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا) سَدَّیْن سے دو پہاڑ مراد ہیں۔ یہ وہ دو پہاڑ ہیں جن کے درمیان سَدِّ ذوالقرنین ہے۔ قراءت : مکی، ابو عمرو اور حفص نے السَّدِیْن سَدًا پڑھا ہے۔ جبکہ حمزہ، علی نے السدین سُدًا پڑھا ہے۔ دیگر قراء نے دونوں ضموں کے ساتھ پڑھا ہے۔ بعض نے کہا جو خلقۃً مسدود ہو وہ مضموم ہوتا ہے۔ اور جس کو بندے بند کردیں وہ مفتوح ہوتا ہے۔ نحو : بینؔ بلغ کا مفعول بہٖ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ جیسا کہ یہ : ھٰذا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِکََ میں اضافت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (93)” حتیٰ اذا بلغ بین السدین “ ابن کثیر، ابو عمر، حفص نے السدین اور ” سدا “ پڑھا ہے۔ سین کے فتحہ کے ساتھ اور دوسرے قراء نے سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة یٰسین میں فتحہ کے ساتھ ہے اور وہاں پر باقی قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان میں سے بعض قراء کا قول ہے کہ ان دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی بندش کو سد کہتے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ” سد “ سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ یہی ابو عمر و کا قول ہے۔ بعض نے کہا کہ ” سد “ فتحہ کے ساتھ ہے، مصدر ہے اور ضمہ کے ساتھ نام ہے۔ سدین سے مراد اس جگہ وہ دو پہاڑ ہیں جن کے درمیان ذوالقرنین نے ایک دیوار بنادی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 90–95

90۔ 93:۔ مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا ان پہاڑوں کی پرلی طرف ایک جنگلی قوم رہتی تھی جس کے لوگ نہ دوسری کسی قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی ان لوگوں نے ذوالقرنین سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کے پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ورلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ہم لوگ چندہ کرکے روپیہ دیتے ہیں اس روپے کے خرچ سے ہمارے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–98

آیت 89 یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 93–94

137 ذو القرنین کا ایک اور وحشی قوم سے واسطہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو پایا جو کسی بات کو سمجھنے کے قریب بھی نہ لگی تھی "۔ کہ ان کی اپنی زبان کچھ اور تھی۔ اور دوسری قوموں کے ساتھ ان کا کوئی ربط وتعلق تھا نہیں کہ ان کی زبان سمجھتے۔ اور اتنی سمجھ بوجھ کے مالک بھی وہ لوگ نہ تھے کہ اشاروں کنایوں سے بات سمجھ سکتے۔ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر، المحاسن وغیرہ) ۔ یعنی وہ لوگ بالکل وحشی اور کم عقل لوگ تھے۔ ورنہ عقل کی روشنی سے انسان اشاروں کنایوں سے بھی سمجھ لیتا ہے۔ بہرکیف انہوں نے کسی ترجمان وغیرہ کے ذریعے اپنی بات ذوالقرنین کے سامنے پیش کردی۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–98

نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین ذوالقرنین کا واقعہ تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔ خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–101

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 91–93

ف 8 یعنی اس مقام پر جہاں مشرق میں اس زمانہ کی مہذب آبادی کی انتہا تھی۔9 یعنی وہاں ایسے لوگ بستے تھے جو رہنے کے لئے گھر یا خیمے تک بنانا نہیں جانتے تھے اور نہ لباس اسعتمال کرتے تھے بلکہ کھلے میدان میں ننگے رہتے تھے۔ (شوکانی) 10 یعنی ذولاقرنین کا قصہ ایسا ہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسائل و اسباب سے کام لیکر مغرب اور پھر مشرق تک پہنچا۔ یا جو معاملہ اس نے مغرب دلوں سے کیا وہی معاملہ اس نے مشرق والوں سے کیا اور وہ یہ کہ ایمانداروں کے لئے آسانی کی اور شریروں کافروں کو سزا دی۔ (کذا فی شوکانی)11 یعنی ہمیں اس کی صلاحیتوں اسباب و وسائل اور حالات سے بخوبی آگاہی ہے جو کچھ ہم بیان کرتے ہیں وہی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:93) السدین۔ دو پہاڑ ۔ دو آڑ۔ سد کا تثنیہ ہے۔ لا یکادون یفقھون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ کوئی بات آسانی سے نہیں سمجھ سکتے تھے۔ کاد یکاد۔ افعال مقاربہ میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 92–101

لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101 السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا تشریح : آیت نمبر 92 تا 101 مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 92–97

سد یا جو ماجوج کا ذکر مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف کے سفر سے فارغ ہوکر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا۔ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا۔ ان پہاڑوں کی دوسری طرف قوم رہتی تھی، جس کے لوگ نہ دوسری قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی، مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی۔ اور ان لوگوں نے حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کی پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے۔ اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ارلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–93

[31] یعنی مشرق کی انتہائی سرحد تک۔ [32] یعنی وہ لوگ مکان وغیرہ بنانا نہ جانتے تھے کہ دھوپ سے بچاؤ کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 92–99

معیار حکمرانی : (ف 1) مغرب میں فتوحات کے بعد جب ذوالقرنین نے مشرق کا رخ کیا تو وہاں ایک خانہ بدوش قوم پائی یہ اقصائے مشرق کے رہنے والے تھے ، اس کے بعد وہ دوسری جانب بڑھا یہاں دونوں طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں ایک درہ تھا ، یہاں کچھ لوگ آباد تھے ، انہوں نے اپنی زبان میں کہا ، جسے ذوالقرنین نہیں سمجھتے تھے ، کہ یا جوج وماجوج کی قومیں ہماری ہاں آکر لوٹ مار کرتی ہیں ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیاں ایک دیوار کھینچ دیں ؟ تاکہ ہم ان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں ، ہم اس کام کے مصارف بھی آپ کو ادا کرنے لئے تیار ہیں ، ذوالقرنین نے کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے ، تمہارے روپے پیسے کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-93 یہاں تک کہ جب وہ چلتے چلتے دو پہاڑوں کے درمیان پہونچا تو اس نے ان پہاڑوں سے درے ایک ایسی قوم کو پایا جو کسی بات کو سمجھنے کے بالکل قریب نہ تھی۔ یعنی دو پہاڑ تھے اور ان کے قریب ہی ایک قوم ایسی آباد تھی جو ذوالقرنین اور اس کی فوج کی بات اور بولی سمجھتی دو پہاڑ شاید اس درے کو فرمایا جو پہاڑ میں واقع تھا پہاڑ کے درے اور گھاٹی کے دو سمت پہاڑ ہوتے ہیں اور بیچ میں راستہ ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کسی کی بولی ان سے نہ ملتی تھی اور دو آڑ دو پہاڑ تھے اس ملک میں اور یاجوج ماجوج کے ملک میں وہی اٹکائو تھی ان پر چڑھائی نہ تھی مگر بیچ میں کھلا تھا ایک گھاٹا اس راہ سے یاجوج ماجوج آتے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 93–98

ف 2۔ یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات سمجھتے اور وحشی اور قلیل الفہم ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے لگ بھگ بھی نہیں پہنچتے، ورنہ عاقل آدمی رموز و قرائن سے کچھ قریب قریب سمجھ لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دو پہاڑوں کے درمیان تک وہ پہنچ گیا اور قوم یاجوج ماجوج کی روک کی : 99۔ اس مہم کے متعلق قرآن کریم کے الفاظ اس طرح ہیں (آیت) ” حتی اذا بلغ بین السدین وجد من دونھما قوما لا یکادون یفقھون قولا “۔ یہاں تک کہ وہ دو دیواروں (پہاڑو) کے درمیان پہنچ گیا ان دیواروں کے اس طرف سے ایک قوم ملی جو کوئی بات بھی سمجھ نہیں سکتی تھی ، بات بالکل صاف اور واضح ہوگئی کہ ” بین سدین “ سے مقصود کا کیشیا کا پہاڑی درہ ہے کیونکہ اس کی داہنی طرف بحر خزر ہے جس نے شمال اور مشرق کی راہ روک رکھی ہے اور بائیں جانب بحراسود ہے جو شمال مغرب کے لئے قدرتی روک ہے درمیانی علاقے میں اس کا سربفلک سلسلہ کوہ ایک قدرتی دیوار کا کام دے رہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explanation of Difficult Words 1. The word السَّدَّ used in the expression: بَيْنَ السَّدَّيْنِ denotes what be-comes a barrier against something. It may be a wall or mountain and it may be natural or artificial. At this place, the word: السَّدَّيْنِ (as-saddain) means two mountains that stood as a barrier against the intrusion of Ya'juj and Ma'juj. But, they still attacked through the pass in between the two mountains and which was closed by Dhul-Qarnain. 2. The word: زُبَرَ‌ (zubar) in: زُبَرَ‌ الْحَدِيدِ (zubar al-hadid - 96) is the plural of: زُبرہ (zubrah) which means sheets in the sense…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

67. The“two mountains”must have been parts of that mountain range which runs between the Caspian Sea and the Black Sea as stated in (Ayat 96). This must be so because beyond them was the territory of Gog and Magog. 68. That is, it was difficult to communicate with them: their language was almost foreign to Zul-Qarnain and his companions, and, as they were quite barbaric, none could understand their language, nor were they acquainted with any foreign language.

Read the full tafseer →