ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا ۟ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا
پھر اس نے ایک اور سامان کیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then he followed a way
— Saheeh International
Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا ۟ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا
پھر اس نے ایک اور سامان کیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then he followed a way
— Saheeh International
Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Kahf
پھر اس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا
پھر اس نے ایک اور سامان کیا
وه پھر ایک سفر کے سامان میں لگا
اس کے بعد وہ ایک اور راستے کے پیچھے چل پڑے۔
پھر ایک ساما ن کے پیچھے چلا
(مشرق میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد) پھر وہ (ایک اور) راستہ پر چل پڑا،
پھر وہ کچھ اور سامان ساتھ لے کر چلا۔
پھر وہ ایک اور راہ (تیسری مہم) پر نکلا۔
اس نے پھر ایک اور مہم کی تیاری کی
پھر اس نے ایک اور مہم کا سامان کیا۔
پھر وہ ایک (اور) راہ پر ہولئے۔
پھر اس نے ایک (اور مہم کا) سروسامان کیا
پھر وہ ایک راستہ پر چل نکلا۔
Then he set out on another expedition
Thereafter he followed a course
Thereafter he followed a course
Then he followed (another) way,
Then he followed a road
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then he followed a way
He travelled
Then he followed (another) course.
Thereafter he followed a way.
Then followed he (another) way,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 92–96
یاجوج ماجوج۔ اپنے شرقی سفر کو ختم کرکے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں انہیں قتل کرتے ہیں کھیت باغات تباہ کرتے ہیں بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد بربا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث سے ثابت ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل حضرت آدم ؑ سے فرمائے گا کہ اے آدم ! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہوگا آگ کا حصہ الگ کر۔ پوچھیں گے کتنا حصہ ؟ حکم ہوگا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
سورة الْكَهْف 66 یعنی وہ ممالک فتح کرتا ہوا مشرق کی جانب ایسے علاقے تک پہنچ گیا جہاں مہذب دنیا کی سرحد ختم ہوگئی تھی اور آگے ایسی وحشی قوموں کا علاقہ تھا جو عمارتیں بنانا تو درکنار خیمے بنانا تک نہ جانتی تھیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر پھر (مغرب و مشرق فتح کرکے) ایک اور راہ پر ہو لئے (قرآن میں اس سمت کا نام نہیں لیا مگر آبادی زیادہ جانب شمال ہی ہے اس لئے مفسرین نے اس سفر کو شمالی ممالک کا سفر قرار دیا تاریخی شہادتیں بھی اس کی مؤ ید ہیں) یہاں تک کہ جب ایسے مقام پر جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا پہنچے تو ان پہاڑوں سے اس طرح ایک قوم کو دیکھا جو (زبان اور لغت سے ناواقف وحشیانہ زندگی کی وجہ سے) کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے تھے (ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف زبان سے ناواقفیت نہ تھی کیونکہ سمجھ بوجھ ہو تو غیر زبان والے کی باتیں بھی کچھ اشارے کنائے سے سمجھی جاسکتی ہیں بلکہ وحشیانہ زندگی نے سمجھ بوجھ سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
تفسیر آیات 92 تا 98:۔ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (92) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلا (93) قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا (94) قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا (95) آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (96) فَمَا…
Read the full tafseer →92۔ 2 یعنی اب اس کا رخ کسی اور طرف ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
46: یہ ذوالقرنین کے دوسرے سفر کا ذکر ہے، اس سفر میں وہ دنیا کی انتہائی مشرقی آبادی تک جا پہنچے تھے، یہاں کچھ غیر متمدن لوگ رہتے تھے، ان میں مکان بنانے اور چھتیں ڈالنے کا دستور نہیں تھا، سب کھلے میدان میں رہتے تھے، اس لئے دھوپ سے بچاؤ کے لئے کوئی اوٹ نہیں تھی، بلکہ سورج کی کرنیں ان پر براہ راست پڑتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
اب ذوالقرنین نے تیسری مہم شروع کی۔ وہ دو پہاڑوں یا دو بندوں کے درمیان پہنچا۔ ہم اس مقام کا تعین بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہم ان دو بندوں کا تعین کرسکتے ہیں کہ یہ بند کہاں تھے۔ مفہوم یہی ہو سکتا ہے ” قدرتی پہاڑوں کی شکل میں بند یا رکاوٹیں تھیں ای دو مصنوعی رکاوٹیں تھیں اور ان کے دریمان ایک کھلی جگہ تھی جو گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یہاں کوئی نہایت ہی پہاڑی پسماندہ قوم آباد تھی۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ لایکادون یفقھون قولاً (81 : 39) ” جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتے تھے۔ “ اس قوم نے جب دیکھا کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح ہے اور قوت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے تو انہوں نے اس کے سامنے درخواست پیش کی کہ قوم…
Read the full tafseer →11 یہ تیسرا سفر مشرق و مغرب کے سوا کسی تیسری جہت میں تھا مفسرین عموماً اس کو شمالی سفر کہتے ہیں قرآن و حدیث میں یہ تصریح نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
آیت 91 كَذٰلِكَ پھر یہاں بھی ویسا ہی معاملہ ہوا جیسا کہ پہلی مہم کے سلسلے میں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مکمل فتح عطا فرمائی اور علاقے میں آباد قبائل کے معاملات میں نرمی یا سختی کرنے کا پورا اختیار دیا۔ یہاں بھی ذوالقرنین نے ظالم اور شریر لوگوں کے ساتھ سختی جبکہ نیک اور شریف لوگوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا جو کچھ ذوالقرنین کے پاس تھا اور جن حالات سے اس کو سابقہ پیش آیا ہم اس سے پوری طرح باخبر تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
75 ذوالقرنین کی دوسری مہم مشرق کو :۔ لفظ کذلک کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ دوسرے لوگ یا مؤرخ خواہ ذوالقرنین کے کیسے حالات بتائیں اصل واقعہ یہی ہے جو ہم بیان کر رہے ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ذوالقرنین کو کیا کیا حالات پیش آئے اور اس کے پاس کیا کچھ موجود تھا اور کذلک کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین نے اس قوم سے بھی اسی طرح کا سلوک کیا جیسا مغربی قوم سے کیا تھا یعنی انھیں اسلام کی تعلیم اور دعوت دی جن لوگوں نے سرکشی کی ان کے ساتھ سختی کی گئی اور جنہوں نے فرماں برداری کی راہ اختیار کی ان سے نرمی کا سلوک کیا گیا۔
Read the full tafseer →141۔ (اور اب کی بھی سمت مشرق ہی میں) قرآن مجید میں اس سمت کی بابت کوئی اشارہ نہیں۔ قدیم مفسرین نے اپنے وقت کی جغرافیائی معلومات پر اعتماد کرکے لکھ دیا ہے کہ سمت شمال مراد ہے۔ لیکن اس پر کوئی دلیل نقلی یا عقلی قائم نہیں کی ہے۔ ان کے قیاس کی بنیاد تمامتریہ ہے کہ قدیم جغرافیہ میں انسانی آبادی عموما شمال ہی کے سمت میں دکھائی گئی ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اس تیسرے جنگی سفر کی سمت بھی مشرق ہی تھی۔ اور چونکہ سمت مشرقی کا ذکر ابھی اوپر آچکا ہے۔ اس لئے اب کسی مزید تصریح وتعیین کی ضرورت نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
آیت نمبر 92 تا 98 ترجمہ : پھر اس نے ایک اور سفر کی تیاری شروع کی یہاں تک کہ جب وہ ایسے مقام پر پہنچا کہ جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا سین کا فتح اور ضمہ دونوں ہیں، یہاں بھی اور بعد میں بھی، بلاد ترک کے اختتام پر دو پہاڑ ہیں سکندر نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو بند کردیا تھا جیسا کہ عنقریب (اس کا ذکر) آرہا ہے، تو ان دونوں پہاڑوں کے اس پار یعنی ان کے سامنے ایک ایسی قوم کو پایا جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی یعنی بڑی دیر کے بعد (اشارہ وغیرہ سے) ایک قرأت میں ضمہ ی اور کسرہ کاف کے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یأجوج ومأجوج ہمزہ اور بدون ہمزہ دونوں قرأتیں ہیں یہ دو عجمی قبیلوں…
Read the full tafseer →ثم اتبع سبباً پھر ذوالقرنین (ایک تیسرے) راستہ پر چل دیا۔ یعنی مغرب و مشرق کے درمیان جنوب سے شمال کی طرف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ، چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ، ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔۔ : مغرب و مشرق کے سفر کے بعد ذوالقرنین کا یہ تیسرا سفر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی جہت بیان نہیں فرمائی کہ وہ شمال ہے یا جنوب یا چاروں جہتوں کا کوئی کونا۔ معلوم ہوتا ہے اسے پوشیدہ رکھنے ہی میں اللہ کی حکمت ہے۔ چناچہ مدت دراز سے لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی دو پہاڑوں کے درمیان اس جیسی بلندی والی یہ دیوار کسی نے نہیں دیکھی۔ دیوار چین یا داغستان میں دربند اور خوزامہ کے درمیان کسی زمانے میں پائی جانے والی دیوار یا کسی اور دیوار کی نہ یہ ہیئت ہے، نہ ان کے پار رہنے والوں میں کہیں یاجوج ماجوج کا وجود ہے۔ 3 بہت سے مفسرین نے ذوالقرنین کا یہ سفر شمال کی طرف قرار دیا ہے، کوئی اسے روس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتبع سببا۔ حتیٰ اذا بلغ بین السدین یہ ارمینہ اور آذربائیجان کی طرف سے دو پہاڑ ہیں۔ عطا خراسانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : بین السدین سے مراد ارمینہ اور اذربیجان کے پہاڑ ہیں (1) ۔ وجد من دونھما۔ یعنی ان پہاڑوں کے پیچھے قوما لا یکادون یفقھون قولا۔ ایسی قوم پائی جو نہیں سمجھ سکتی تھی (ان کی) کوئی بات۔ حمزہ اور کسائی نے یفقہون کو یاء کے ضمہ اور قاف کے کسرہ کے ساتھ افقہ سے مشتق کر کے پڑھا ہے جس کا معنی ہے ظاہر کرنا یعنی وہ دوسروں کو کلام نہیں سمجھا سکتے تھے اور باقی قراء نے یاء اور قاف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ نہیں جانتے تھے۔ دونوں قراتیں صحیح ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–100
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر ] [اَتْبَعَ : وہ پیچھے لگا ] [سَبَبًا : ایک (سفر کے) سامان کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–97
تیسرا سفر (ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) جانب مشرق میں (مَطْلِعَ الشَّمْس) میں رہنے والی قوم سے فارغ ہو کر ذوالقرنین آگے بڑھے، چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا۔ (یہ بین السدین کا ترجمہ ہے۔ اور سدین سے دو پہاڑ مراد ہیں ان کے درمیان خالی جگہ تھی۔ ان دونوں کے درمیان درہ سے جہاں یاجوج ماجوج حملہ آور ہوئے تھے۔ ) ان پہاڑوں سے ورے ایک ایسی قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔ (ذوالقرنین کی زبان تو کیا سمجھتے یہ تو لغت جاننے کی بات ہے سمجھ بوجھ بھی بس یونہی تھوڑی بہت تھی لیکن دشمنوں کی وجہ سے پریشان بہت زیادہ تھے۔ ) یاجوج ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار کی تعمیر ذوالقرنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
سفر سوم ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ بین السدین۔۔۔ الیٰ ۔۔ وکانوا لا یستطیعون سمعا۔ ذکر تعمیر سد آہنی برائے انسداد خروج یا جوج و ماجوج پھر مشرق و مغرب کے سفر سے فارغ ہو کر مشرق و مغرب کے درمیان جنوب سے شمال کی طرف ایک تیسری راہ کے پیچھے ہو لیا۔ یہاں تک کہ جب وہ چلتا چلتا دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا جس کی پشت پر یاجوج ماجوج کی زمین تھی تو ان پہاڑوں کے پیچھے اس نے عجیب و غریب قوم پائی جو کم عقلی کی وجہ سے کسی بات کے سمجھنے کے قریب بھی نہ پہنچے تھے یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات نہیں سمجھتے تھے اور وحشی اور کم عقل ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے تھے ورنہ عاقل آدمی قرائن سے کچھ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
78:۔ یہ مشرقی مہم کا بیان ہے جب ذوالقرنین منتہائے مشرق میں پہنچ گیا جس سے آگے جانا ممکن نہ تھا، وہاں اس نے ایک ایسی قوم دیکھی جو تہذیب و تمدن سے کوسوں دور تھی اور ان میں لباس پہننے اور مکان بنانے کا دستور نہ تھا۔ سردی اور گرمی سے بچنے کے لیے غاروں میں پناہ لیتے ہوں گے ” و قد احطنا الخ “۔ ذوالقرنین کے پاس جو لشکر اور ساز و سامان اور آلات جنگ تھے، ہمارا علم ان تمام چیزوں پر حاوی ہے، یہ سب کچھ ہم نے اسے دیا تھا، جو کچھ ہم نے اس کو دیا اس کے پاس صرف وہی کچھ تھا اور اسی میں وہ متصرف تھا اس کے علاوہ اسے کوئی تصرف یا قدرت حاصل نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
(ذوالقرنین کا مشرقی سفر) ذوالقرنین کے تین سفروں میں مغربی سفر کا حال گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں مشرقی اور شمالی سفر کا حال بیان ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ثم اتبع سببا “۔ پھر وہ ایک راستے پر چلا جو کہ مشرق کی طرف تھا تفسیری روایات کے مطابق یہ سفر بارہ سال میں مکمل ہوا ۔ واللہ اعلم کم وبیش عرصہ بھی ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو خاص فضیلت بخشی تھی اور خصوصی قوت بھی عطا فرمائی آپ سے بعض امور معجزانہ طور پر بھی سرزد ہوئے ، اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ سفر کم ترعرصہ میں طے ہوگیا ہو اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق اپنی قدرت اور حکمت کے مطابق بخشی تھی بہرحال انہوں نے مشرق کی…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا 92 تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔ تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمَا قَوْمًا لا لاَّ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ قَوْلاً ۔ قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ قَالَ مَامَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌفَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا۔ اٰ تُوْنِیْ زُبَرَالْحَدِیْدِ ط حَتّٰیٓ اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ط حَتّٰیٓ اِذَا جَعَلَـہٗ نَارًا لا قَالَ اٰ تُوْنِٓیْ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا۔ فَمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
فہم القرآن ربط کلام : ذوالقرنین کی تیسری عسکری مہم۔ مفسرین کا خیال ہے کہ مشرق و مغرب کو فتح کرنے کے بعد ذوالقرنین اپنے ملک سے ملحقہ اس زمانے کی موجود دنیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچا جسے بعض مؤرخ ترکستان کے قریب کا علاقہ شمار کرتے ہیں۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد آباد تھی۔ جہاں بحرقرز اور بحر اسود کے درمیان پہاڑی سلسلہ ہے یہاں کے لوگوں کو مؤرخ منگول قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ قریب قریب وہی علاقے ہیں جہاں چائینہ کا ملک ہے۔ کیونکہ یہاں کوہ قفقاز کے دامن میں آہنی دیوار موجود ہے۔ ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشہور دیوار چین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
تیسرا سفر بجانب شمال اور اس کے احوال : 92، 93: ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًاحَتّٰی اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ (پھر وہ اسباب کے پیچھے لگا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا) سَدَّیْن سے دو پہاڑ مراد ہیں۔ یہ وہ دو پہاڑ ہیں جن کے درمیان سَدِّ ذوالقرنین ہے۔ قراءت : مکی، ابو عمرو اور حفص نے السَّدِیْن سَدًا پڑھا ہے۔ جبکہ حمزہ، علی نے السدین سُدًا پڑھا ہے۔ دیگر قراء نے دونوں ضموں کے ساتھ پڑھا ہے۔ بعض نے کہا جو خلقۃً مسدود ہو وہ مضموم ہوتا ہے۔ اور جس کو بندے بند کردیں وہ مفتوح ہوتا ہے۔ نحو : بینؔ بلغ کا مفعول بہٖ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ جیسا کہ یہ : ھٰذا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِکََ میں اضافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
(91) ” کذلک “ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے جس طرح سورج مغرب والوں کے لیے پہنچایا اسی طرح مشرق والوں کے لیے طلوع ہونے کی جگہ بنایا۔ صحیح مطلب یہ ہے کہ جس طرح ذوالقرنین نے سورج کو دلدلی چشمہ میں ڈوبتا محسوس کیا تھا اسی طرح دلدل سے برآمد ہوتے پایا تھا۔ ” وقد احطنا بما لدیہ خبرا “ جو ان کے پاس تھا اور جوان کے پاس لشکر تھا اور جنگی آلات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–95
90۔ 93:۔ مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا ان پہاڑوں کی پرلی طرف ایک جنگلی قوم رہتی تھی جس کے لوگ نہ دوسری کسی قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی ان لوگوں نے ذوالقرنین سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کے پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ورلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ہم لوگ چندہ کرکے روپیہ دیتے ہیں اس روپے کے خرچ سے ہمارے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
آیت 89 یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →136 ذوالقرنین کی تیسری مہم کا ذکر : سو اس سے ذو القرنین کی تیسری مہم کا ذکر فرمایا گیا جو کہ شمال مشرق کی جانب تھی۔ اور اس سے غالباً کا کیشیا کے وہ پہاڑی سلسلے مراد ہیں جو کہ بحیرئہ کیسپین اور بحیرئہ اسود کے درمیان واقع ہیں۔ کہ انہی کے اس طرف یاجوج ماجوج کی آبادی تھی۔ (جامع البیان، فتح القدیر، المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ ذوالقرنین کا تیسرا بڑا سفر اور ایک نئی مہم تھی جس کا ذکر یہاں فرمایا جارہا ہے۔ اور بعض تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مہم جو شخص کا آخری بڑا سفر تھا اور اسی کے دوران وہ کسی کھڈ میں گر کر ہلاک ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین ذوالقرنین کا واقعہ تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔ خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–101
(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
ف 8 یعنی اس مقام پر جہاں مشرق میں اس زمانہ کی مہذب آبادی کی انتہا تھی۔9 یعنی وہاں ایسے لوگ بستے تھے جو رہنے کے لئے گھر یا خیمے تک بنانا نہیں جانتے تھے اور نہ لباس اسعتمال کرتے تھے بلکہ کھلے میدان میں ننگے رہتے تھے۔ (شوکانی) 10 یعنی ذولاقرنین کا قصہ ایسا ہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسائل و اسباب سے کام لیکر مغرب اور پھر مشرق تک پہنچا۔ یا جو معاملہ اس نے مغرب دلوں سے کیا وہی معاملہ اس نے مشرق والوں سے کیا اور وہ یہ کہ ایمانداروں کے لئے آسانی کی اور شریروں کافروں کو سزا دی۔ (کذا فی شوکانی)11 یعنی ہمیں اس کی صلاحیتوں اسباب و وسائل اور حالات سے بخوبی آگاہی ہے جو کچھ ہم بیان کرتے ہیں وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
(18:91) کذلک۔ خبر۔ اس کا مبتدا محذوف ۔ ای امر ذی القرنین کذلک۔ یوں ہے ذی القرنین کا حال۔ ذلک کا اشارہ ذوالقرنین کا وہ ذکر جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ قد احطنا۔ تحقیق ہم احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ بما لدیہ جو اس کے پاس تھا۔ خبرا۔ ای علما۔ یعنی جو کچھ اس کے پاس تھا اس کی ہمیں پوری خبر تھی۔ یعنی جو سازوسامان آلات و اسباب۔ قد ماضی پر آئے تو تحقیق کے معنی دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101 السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا تشریح : آیت نمبر 92 تا 101 مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–97
سد یا جو ماجوج کا ذکر مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف کے سفر سے فارغ ہوکر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا۔ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا۔ ان پہاڑوں کی دوسری طرف قوم رہتی تھی، جس کے لوگ نہ دوسری قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی، مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی۔ اور ان لوگوں نے حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کی پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے۔ اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ارلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
[31] یعنی مشرق کی انتہائی سرحد تک۔ [32] یعنی وہ لوگ مکان وغیرہ بنانا نہ جانتے تھے کہ دھوپ سے بچاؤ کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–99
معیار حکمرانی : (ف 1) مغرب میں فتوحات کے بعد جب ذوالقرنین نے مشرق کا رخ کیا تو وہاں ایک خانہ بدوش قوم پائی یہ اقصائے مشرق کے رہنے والے تھے ، اس کے بعد وہ دوسری جانب بڑھا یہاں دونوں طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں ایک درہ تھا ، یہاں کچھ لوگ آباد تھے ، انہوں نے اپنی زبان میں کہا ، جسے ذوالقرنین نہیں سمجھتے تھے ، کہ یا جوج وماجوج کی قومیں ہماری ہاں آکر لوٹ مار کرتی ہیں ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیاں ایک دیوار کھینچ دیں ؟ تاکہ ہم ان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں ، ہم اس کام کے مصارف بھی آپ کو ادا کرنے لئے تیار ہیں ، ذوالقرنین نے کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے ، تمہارے روپے پیسے کی…
Read the full tafseer →-92 پھر وہ ایک اور سفر کے ساز و سامان کے پیچھے لگا اور ایک راہ ہو لیا۔ یعنی پھر مشرق کے سفر سے فارغ ہو کر اور ایک سفر کا ساز و سامان کرنے لگا اور ساز و سامان مہیا کر کے ایک تیسرا سفر اختیار کیا یہ سفر غالباً شمال کی جانب ہوگا جیسا کہ عام مفسرین کا خیال ہے لیکن قرآن کریم میں کوئی تصریح اس سفر کے سمت کی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
ف 4۔ یعنی جہت مشرق میں منتہائے آبادی پر۔ 5۔ یعنی وہاں ایک ایسی قوم آبادی تھی۔ 1۔ ظاہرا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مکان وغیرہ بنانا نہ جانتے تھے کہ آفتاب کی گرمی سے پناہ لے سکیں۔
Read the full tafseer →ذوالقرنین کی تیسری مہم جو شمالی مہم کے نام سے معروف ہے : 98۔ تیسری لشکر کشی اس نے ایسے علاقہ تک کی جہاں یاجوج ماجوج کے حملے ہوا کرتے تھے ، یہ یقینا اس کی شمالی مہم تھی جس میں وہ بحر خزر (کاسپین) کو داہنی طرف چھوڑا ہوا کا کیشیا کے سلسلہ کوہ تک پہنچ گیا تھا اور وہاں اس کو ایک درہ ملا تھا جو دو پہاڑوں دیواروں کے درمیان تھا اسی راہ سے یاجوج ماجوج آکر اس طرح کے علاقہ میں تاخت وتارج کیا کرتے تھے اور یہیں اس نے سد تعمیر کی تھی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
Commentary The Holy Qur'an does describe this state of the people Dhul-Qarnain found living towards the East meaning thereby that they were not accustomed to the use of ways and means like houses, tents and dresses to seek protection against the Sun. But, it does not mention anything about their faith and deeds, nor does it say what Dhul-Qarnain did to them. However, it is obvious that these people too were infidels and Dhul-Qarnain handled them the way he had handled the people he had found in the West as mentioned earlier. But, describing it again at this place was not considered necessary…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
66. That is, when he advanced towards the east, conquering one country after the other, he reached a territory where the limits of the civilized world had come to an end and beyond which was the territory of barbaric people, who had no shelter at all of tents or buildings.”
Read the full tafseer →