Al-Kahf 18:91

Al-Kahf · from ayah 91

18:91

كَذٰلِكَ ؕ— وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا ۟كَذٰلِكَؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا

(حقیقت حال) یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Thus. And We had encompassed [all] that he had in knowledge.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:91

یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(حقیقت حال) یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

واقعہ ایسا ہی ہے اور ہم نے اس کے پاس کی کل خبروں کا احاطہ کر رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

واقعہ اسی طرح ہوا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ (سازوسامان) تھا، ہمیں اس کی پوری پوری خبر تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بات یہی ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

واقعہ اسی طرح ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم نے اپنے علم سے اس کا احاطہ کر لیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایسے ہی تھا اور یقینا ہم نے جو کچھ اس کے پاس تھا اس کا علم کی رو سے احاطہ کر رکھا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

واقعہ ایسا ہی تھا اور ذوالقرنین کو جو حالات پیش آئے اسے ہم خوب جانتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ایسا ہی ہم نے کیا اور ہم اس کے احوال سے خوب باخبر تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ قصہ اسی طرح ہے کہ اس کے پاس جو کچھ بھی تھا ہمیں اس کی پوری خبر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اسی طرح ہے اور جو کچھ ان کے پاس تھا اس کی ہم کو پوری خبر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(پھر) ایسا ہی ہوا اور ہم پوری طرح باخبر تھے اس کے احوال سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

حقیقت الحال یوں تھی اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus was the state of those people, and We encompassed in knowledge all concerning Dhu al- Qarnayn.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus it was, and Our knowledge fully comprehends whatever (wealth and equipment) he had with him.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus it was, and Our knowledge fully comprehends whatever (wealth and equipment) he had with him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So (it was)! And We knew all about him (Dhul-Qarnayn).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So (it was). And We knew all concerning him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Thus. And We had encompassed [all] that he had in knowledge.

— Saheeh International

This indeed was true. We knew all that he did there.

— Muhammad Sarwar

Even so! and We had a full knowledge of what he had.

— Muhammad Habib Shakir

Thus it was. And surely We have encompassed all that was with him, in knowledge

— Abdul Majid Daryabadi

(He left them) as they were: We completely understood what was before him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 89–91

ایک وحشی بستی۔ ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کرلیتے تو بہت اچھا ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الہٰی کی تبلیغ میں رہے ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہے۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے سورج کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 90–92

سورة الْكَهْف 66 یعنی وہ ممالک فتح کرتا ہوا مشرق کی جانب ایسے علاقے تک پہنچ گیا جہاں مہذب دنیا کی سرحد ختم ہوگئی تھی اور آگے ایسی وحشی قوموں کا علاقہ تھا جو عمارتیں بنانا تو درکنار خیمے بنانا تک نہ جانتی تھیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–91

خلاصہ تفسیر پھر (ممالک مغربیہ فتح کرکے مشرقی ممالک فتح کرنے کے ارادہ سے مشرق کی طرف) ایک راہ پر ہو لئے یہاں تک کہ جب طلوع آفتاب کے موقع پر (یعنی جانب مشرق میں منتہائی آبادی پر) پہنچے تو آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لئے ہم نے آفتاب کے ادھر کوئی آڑ نہیں رکھی تھی (یعنی اس جگہ ایک ایسی قوم آباد تھی جو دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی مکان یا خیمہ وغیرہ بنانے کے عادی نہ تھے بلکہ شاید لباس بھی نہ پہنتے ہوں جانوروں کی طرح کھلے میدان میں رہتے تھے) یہ قصہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ (سامان وغیرہ) تھا ہم کو اس کی پوری خبر ہے (اس میں امتحان نبوت کے لئے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

كَذَلِكَ وَقَدْ أَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا۔ ذوالقرنین اعلی صفات سے متصف تھے : یہ آیت بالکل اسی موقع و محل میں ہے۔ جس موقع و محل میں سورة انبیاء کی آیت " ولقد اتینا ابراہیم رشدہ من قبل و کنا بہ عٰلمین " ہے۔ وہاں حضرت ابراہیم کے منصب امامت و ہدایت پر سرفراز کیے جانے کی حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ یعنی ہم نے اگر اس کو یہ سرفرازی بخشی تو یوں ہی نہیں بخش دی بلکہ اس کی ان صلاحیتوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ جو اس کو اس منصب کا اہل ثابت کرتی تھیں۔ اسی طرح یہاں ذوالقرنین کی ان فتوحات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو اللہ کی عنایات سے ان کو حاصل ہویں، فرمایا کہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

91۔ 1 یعنی ذوالقرنین کی بابت ہم نے جو بیان کیا ہے وہ اسی طرح ہے کہ پہلے وہ انتہائی مغرب اور پھر انتہائی مشرق میں پہنچا اور ہمیں اس کی تمام صلاحیتوں، اسباب و وسائل اور دیگر تمام باتوں کا پورا علم ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 90–92

46: یہ ذوالقرنین کے دوسرے سفر کا ذکر ہے، اس سفر میں وہ دنیا کی انتہائی مشرقی آبادی تک جا پہنچے تھے، یہاں کچھ غیر متمدن لوگ رہتے تھے، ان میں مکان بنانے اور چھتیں ڈالنے کا دستور نہیں تھا، سب کھلے میدان میں رہتے تھے، اس لئے دھوپ سے بچاؤ کے لئے کوئی اوٹ نہیں تھی، بلکہ سورج کی کرنیں ان پر براہ راست پڑتی تھیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 91–94

اب ذوالقرنین نے تیسری مہم شروع کی۔ وہ دو پہاڑوں یا دو بندوں کے درمیان پہنچا۔ ہم اس مقام کا تعین بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہم ان دو بندوں کا تعین کرسکتے ہیں کہ یہ بند کہاں تھے۔ مفہوم یہی ہو سکتا ہے ” قدرتی پہاڑوں کی شکل میں بند یا رکاوٹیں تھیں ای دو مصنوعی رکاوٹیں تھیں اور ان کے دریمان ایک کھلی جگہ تھی جو گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یہاں کوئی نہایت ہی پہاڑی پسماندہ قوم آباد تھی۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ لایکادون یفقھون قولاً (81 : 39) ” جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتے تھے۔ “ اس قوم نے جب دیکھا کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح ہے اور قوت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے تو انہوں نے اس کے سامنے درخواست پیش کی کہ قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی ذوالقرنین کے سفر مشرق و مغرب کی جو کیفیت بیان کی گئی واقعہ میں اسی طرح ہے جو وسائل اس کے پاس تھے اور جو حالات وہاں پیش آئے ان سب پر ہمارا علم محیط ہے۔ تاریخ والے شاید اس جگہ کچھ اور کہتے ہوں گے اور فی الحقیقت اتنا ہے جو فرما دیا بعض مفسرین نے " کذلک " کا مطلب یہ لیا ہے کہ ذوالقرنین نے مغربی قوم کے متعلق جو روش اختیار کی تھی ویسی ہی اس مشرقی قوم کے ساتھ اختیار کی۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 91–92

آیت 91 كَذٰلِكَ پھر یہاں بھی ویسا ہی معاملہ ہوا جیسا کہ پہلی مہم کے سلسلے میں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مکمل فتح عطا فرمائی اور علاقے میں آباد قبائل کے معاملات میں نرمی یا سختی کرنے کا پورا اختیار دیا۔ یہاں بھی ذوالقرنین نے ظالم اور شریر لوگوں کے ساتھ سختی جبکہ نیک اور شریف لوگوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا جو کچھ ذوالقرنین کے پاس تھا اور جن حالات سے اس کو سابقہ پیش آیا ہم اس سے پوری طرح باخبر تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 91–93

75 ذوالقرنین کی دوسری مہم مشرق کو :۔ لفظ کذلک کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ دوسرے لوگ یا مؤرخ خواہ ذوالقرنین کے کیسے حالات بتائیں اصل واقعہ یہی ہے جو ہم بیان کر رہے ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ذوالقرنین کو کیا کیا حالات پیش آئے اور اس کے پاس کیا کچھ موجود تھا اور کذلک کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین نے اس قوم سے بھی اسی طرح کا سلوک کیا جیسا مغربی قوم سے کیا تھا یعنی انھیں اسلام کی تعلیم اور دعوت دی جن لوگوں نے سرکشی کی ان کے ساتھ سختی کی گئی اور جنہوں نے فرماں برداری کی راہ اختیار کی ان سے نرمی کا سلوک کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

140۔ (آیت) ” کذلک “۔ تحقیق وتاکید کے لئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ ہم بیان کررہے ہیں یہی اصل حقیقت اور واقعہ ہے اور ہم کو ذوالقرنین اور اس کے سازوسامان کی پوری اطلاع ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–91

آیت نمبر 83 تا 91 ترجمہ : یہود آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کرتے ہیں اس کا نام اسکندر ہے اور وہ نبی نہیں تھا آپ کہہ دیجئے میں تم کو اس کا کچھ حال سناتا ہوں زمین میں سفر آسان کر کے ہم نے اس کو زمین میں قدرت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے وسائل جن کی (بادشاہوں) کو ضرورت ہوتی ہے بخشے تھے ایسے وسائل کہ جن کے ذریعہ اس کو اپنے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، چناچہ وہ مغرب کی جانب ایک راستہ پر ہو لیا، یہاں تک کہ جب وہ انتہائے مغرب میں پہنچ گیا، تو اس کو آفتاب ایک گدلے چشمہ میں ڈوبتا ہوا نظر آیا، کالی مٹی والے چشمہ میں، حمأۃ کالی مٹی اور آفتاب کا چشمہ میں غروب ہونا یہ دیکھنے والے کی نظر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقد احطنا بما لدیہ خبرا۔ اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ سامان تھا ہم کو اس کی پوری خبر تھی۔ یعنی ذوالقرنین کے پاس کتنی فوج تھی کتنا مال و اسباب تھا اور کتنے آلات جنگ اور علمی ذرائع تھے۔ غرض اس کی ساری بیرونی اور اندرونی طاقت و سروسامان سے ہم واقف ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس اتنا لشکر اور سامان اور مال و اسباب تھا کہ کسی کو معلوم نہیں ہم ہی اس سے واقف ہیں۔ احطنا کے لفظ سے فوج کی کثرت اور سامان و حکومت کی وسعت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 83–98

(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ، چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ، ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۙكَذٰلِكَ ۭ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا۔۔ : یعنی اہل مشرق سے اس کا سلوک بھی اہل مغرب جیسا تھا، یا مطلب یہ ہے کہ کوئی اس کے مغرب و مشرق اور اس کے درمیان تمام علاقوں کے پامال کرنے کو ناممکن نہ سمجھے، یقیناً ایسے ہی ہوا اور اس مقصد کے لیے اس نے جو افواج اور سازو سامان مہیا کیا اور اپنا عیش و آرام ترک کرکے مسلسل سفر اور جنگوں کی جو تکالیف برداشت کیں اس کی پوری خبر ہم ہی کو ہے، کسی دوسرے کو کیا خبر ؟ 3 ذوالقرنین کی زندگی سے جو سبق حاصل ہوتے ہیں ان میں سے پہلا سبق یہ ہے کہ اقتدار حاصل ہوتے ہی بلند ہمت مسلم حکمران نو عمری ہی میں تمام دنیا کو فتح کرنے کا عزم کرلیتے ہیں، کیونکہ ذوالقرنین…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 90–91

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لم نجعل لھم من دونھا شترا۔ یعنی ایسا حجاب جس کے ساتھ وہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت چھپتے۔ قتادہ نے کہا : ان کے اور سورج کے درمیان کوئی پردہ نہ تھا وہ ایسی جگہ میں تھے جہاں کوئی عمارت ٹھہرتی نہیں تھی وہ سرنگوں میں رہتے تھے حتیٰ کہ جب سورج ڈھل جاتا تھا تو وہ اپنے مال، مویشی اور کھیتوں کی طرف لوٹتے تھے یعنی وہ سورج سے نہ کسی پہاڑ کی غار میں چھپ سکتے تھے اور نہ کسی گھر میں چھپ سکتے تھے۔ امیہ نے کہا : میں نے کچھ لوگوں کو سمرقند میں پایا ہے جو ان لوگوں کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ بعض نے کہا : میں چین کی طرف چلا تو مجھے کہا گیا تیرے اور ان کے درمیان ایک دن اور ایک رات کی مسافت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–100

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَذٰلِكَ : اس طرح ہے ] [وَقَدْ اَحَطْنَا : اور ہم احاطہ کرچکے ہیں ] [بِمَا : اس کا جو ] [لَدَيْهِ : ان (ذوالقرنین) کے پاس ہے ] [خُبْرًا : بلحاظ علم کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 90–97

تیسرا سفر (ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) جانب مشرق میں (مَطْلِعَ الشَّمْس) میں رہنے والی قوم سے فارغ ہو کر ذوالقرنین آگے بڑھے، چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا۔ (یہ بین السدین کا ترجمہ ہے۔ اور سدین سے دو پہاڑ مراد ہیں ان کے درمیان خالی جگہ تھی۔ ان دونوں کے درمیان درہ سے جہاں یاجوج ماجوج حملہ آور ہوئے تھے۔ ) ان پہاڑوں سے ورے ایک ایسی قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔ (ذوالقرنین کی زبان تو کیا سمجھتے یہ تو لغت جاننے کی بات ہے سمجھ بوجھ بھی بس یونہی تھوڑی بہت تھی لیکن دشمنوں کی وجہ سے پریشان بہت زیادہ تھے۔ ) یاجوج ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار کی تعمیر ذوالقرنین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–91

سفر دوم قال اللہ تعالیٰ ۔ ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ مطلع الشمس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ بما لدیہ خبرا۔ پھر اس سفر سے فارغ ہو کر اور مغربی ممالک کو فتح کرلینے کے بعد ایک دوسری راہ چلا یعنی مغرب الشمس سے مطلع الشمس کی راہ لی تاکہ مشرقی ممالک کو بھی فتح کرے اور ان کو دین حق کی دعوت دے اور جو اس سے سرتابی کرے اس کو ذلیل و کو ار کرے پس برابر چلتا رہا۔ یہاں تک کہ جب مسافت قطع کر کے زمین کے اس مقام پر پہنچا جہاں اول طلوع آفتاب سے دھوپ پڑتی ہے۔ یعنی جہت مشرق میں منتہائے آبادی پر پہنچا تو اس نے آفتاب کو ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لیے ہم نے سورج سے درے کوئی پردہ اور بچاؤ نہیں رکھا تھا۔ یعنی وہ لوگ جنگلی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 90–92

78:۔ یہ مشرقی مہم کا بیان ہے جب ذوالقرنین منتہائے مشرق میں پہنچ گیا جس سے آگے جانا ممکن نہ تھا، وہاں اس نے ایک ایسی قوم دیکھی جو تہذیب و تمدن سے کوسوں دور تھی اور ان میں لباس پہننے اور مکان بنانے کا دستور نہ تھا۔ سردی اور گرمی سے بچنے کے لیے غاروں میں پناہ لیتے ہوں گے ” و قد احطنا الخ “۔ ذوالقرنین کے پاس جو لشکر اور ساز و سامان اور آلات جنگ تھے، ہمارا علم ان تمام چیزوں پر حاوی ہے، یہ سب کچھ ہم نے اسے دیا تھا، جو کچھ ہم نے اس کو دیا اس کے پاس صرف وہی کچھ تھا اور اسی میں وہ متصرف تھا اس کے علاوہ اسے کوئی تصرف یا قدرت حاصل نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 89–94

(ذوالقرنین کا مشرقی سفر) ذوالقرنین کے تین سفروں میں مغربی سفر کا حال گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں مشرقی اور شمالی سفر کا حال بیان ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ثم اتبع سببا “۔ پھر وہ ایک راستے پر چلا جو کہ مشرق کی طرف تھا تفسیری روایات کے مطابق یہ سفر بارہ سال میں مکمل ہوا ۔ واللہ اعلم کم وبیش عرصہ بھی ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو خاص فضیلت بخشی تھی اور خصوصی قوت بھی عطا فرمائی آپ سے بعض امور معجزانہ طور پر بھی سرزد ہوئے ، اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ سفر کم ترعرصہ میں طے ہوگیا ہو اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق اپنی قدرت اور حکمت کے مطابق بخشی تھی بہرحال انہوں نے مشرق کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذٰلِكَ ۝ 0ۭ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْہِ خُبْرًا۝ 91 حيط الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين : أحدهما : في الأجسام نحو : أَحَطْتُ بمکان کذا، أو تستعمل في الحفظ نحو : إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] ، والثاني : في العلم نحو قوله : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] ( ح و ط ) الحائط ۔ دیوار جو کسی چیز کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو اور احاطۃ ( افعال ) کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) اجسام کے متعلق جیسے ۔ احطت بمکان کذا یہ کبھی بمعنی حفاظت کے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 89–98

ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔ تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 89–91

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَذَھَا تَطْلُعُ عَلٰی قُوْمٍ لَّـم نَجْعَلْ لَّھُمْ مِّنْ دُوْنِھَا سِتْرًا۔ کَذٰلِکَ ط وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْہِ خُبْرًا۔ (الکہف : 89 تا 91) ( پھر اس نے ایک اور مہم کی تیاری کی۔ یہاں تک کہ جب وہ طلوع آفتاب کے مقام پر پہنچا تو اس نے سورج کو پایا ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے ہوئے جس کے لیے دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی آڑ ہم نے نہیں بنائی تھی۔ ایسا ہی ہم نے کیا اور ہم اس کے احوال سے خوب باخبر تھے۔ ) ذوالقرنین کی دوسری مہم اس آیت کریمہ میں ذوالقرنین کی دوسری مہم کا ذکر ہے۔ پہلا سفر اس کا مغرب کی جانب تھا۔ یہ سفر اس کا مشرقی سمت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 89–91

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ذوالقرنین کی مشرق کی جانب دوسری فوجی مہم۔ ذوالقرنین نے دوسری فوجی مہم کے لیے بھی پہلے کی طرح ٹھیک ٹھیک منصوبہ بندی کرتے ہوئے فوج کو اپنے ملک کے مشرقی علاقوں پر یلغار کرنے کا حکم دیا اور پہلے کی طرح فوج کی خود کمان سنبھالی۔ وہ ملک پر ملک زیر نگیں کرتا ہوا زمین کی اس حد تک پہنچا کہ جہاں سے آگے کوئی ملک باقی نہ رہا۔ گویا کہ سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان اس کی فرمانروائی کا پرچم لہرانے لگا۔ زمین کی مشرقی سرحد پر اس کا واسطہ ایسی قوم کے ساتھ پڑا جو اس قدر غیر ترقی یافتہ اور غیر مہذب تھی کہ انھیں بودوباش اور رہن سہن کا بھی علم نہیں تھا۔ جس طرح آج بھی افریقہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

91: کَذٰلِکَ (ذوالقرنین کا معاملہ اسی طرح رہا) جیسا ہم نے اس کے معاملے کو بڑا کر کے بیان کیا ہے۔ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْہِ خَبْرًا (اس طرح ہم ذوالقرنین کے پاس جو سامان تھا اس کی پوری خبر رکھتے تھے) مَالَدَیْہِ سے لشکر کے آلات حرب و ضرب، اسباب مملکت مراد ہیں۔ نحو : خُبْرًا پر نصب مصدر ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ اَحَطْنَا کا معنی خَبَرْنَاہے ای خَبَرْنَا خَبْرًا۔ نمبر 2۔ طلوع شمس تک پہنچنا اسی طرح ہے جیسا مغرب میں پہنچنا۔ نمبر 3۔ وہ سورج ایک قوم پر اسی طرح طلوع ہوتا تھا جیسا کہ وہ قوم جن پر غروب ہوتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بھی کافر تھے۔ اور انکا حکم بھی تعذیب وبقاء میں پہلے کفار والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 91–92

(91) ” کذلک “ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے جس طرح سورج مغرب والوں کے لیے پہنچایا اسی طرح مشرق والوں کے لیے طلوع ہونے کی جگہ بنایا۔ صحیح مطلب یہ ہے کہ جس طرح ذوالقرنین نے سورج کو دلدلی چشمہ میں ڈوبتا محسوس کیا تھا اسی طرح دلدل سے برآمد ہوتے پایا تھا۔ ” وقد احطنا بما لدیہ خبرا “ جو ان کے پاس تھا اور جوان کے پاس لشکر تھا اور جنگی آلات ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 90–95

90۔ 93:۔ مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا ان پہاڑوں کی پرلی طرف ایک جنگلی قوم رہتی تھی جس کے لوگ نہ دوسری کسی قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی ان لوگوں نے ذوالقرنین سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کے پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ورلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ہم لوگ چندہ کرکے روپیہ دیتے ہیں اس روپے کے خرچ سے ہمارے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–98

آیت 89 یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

135 ہمیں اس کے تمام حالات کی پوری خبر تھی : کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں ۔ { لا یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلا فِی السَّمَائِ } ۔ پس جو کچھ ہم نے بیان کیا وہی سچا اور مطابق واقعہ ہے۔ سو اس تذییل میں اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ ذوالقرنین کے پاس اسباب و وسائل اور ساز و سامان وغیرہ کا بہت کچھ ذخیرہ موجود تھا۔ اتنا کہ اسکا احاطہ ہمارے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ نیز اس ارشاد میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ ذو القرنین کو جو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں وہ سب اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اور اسی کے انعام و احسان سے حاصل ہوئیں۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–98

نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین ذوالقرنین کا واقعہ تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔ خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–101

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 91–93

ف 8 یعنی اس مقام پر جہاں مشرق میں اس زمانہ کی مہذب آبادی کی انتہا تھی۔9 یعنی وہاں ایسے لوگ بستے تھے جو رہنے کے لئے گھر یا خیمے تک بنانا نہیں جانتے تھے اور نہ لباس اسعتمال کرتے تھے بلکہ کھلے میدان میں ننگے رہتے تھے۔ (شوکانی) 10 یعنی ذولاقرنین کا قصہ ایسا ہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسائل و اسباب سے کام لیکر مغرب اور پھر مشرق تک پہنچا۔ یا جو معاملہ اس نے مغرب دلوں سے کیا وہی معاملہ اس نے مشرق والوں سے کیا اور وہ یہ کہ ایمانداروں کے لئے آسانی کی اور شریروں کافروں کو سزا دی۔ (کذا فی شوکانی)11 یعنی ہمیں اس کی صلاحیتوں اسباب و وسائل اور حالات سے بخوبی آگاہی ہے جو کچھ ہم بیان کرتے ہیں وہی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 91–92

(18:91) کذلک۔ خبر۔ اس کا مبتدا محذوف ۔ ای امر ذی القرنین کذلک۔ یوں ہے ذی القرنین کا حال۔ ذلک کا اشارہ ذوالقرنین کا وہ ذکر جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ قد احطنا۔ تحقیق ہم احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ بما لدیہ جو اس کے پاس تھا۔ خبرا۔ ای علما۔ یعنی جو کچھ اس کے پاس تھا اس کی ہمیں پوری خبر تھی۔ یعنی جو سازوسامان آلات و اسباب۔ قد ماضی پر آئے تو تحقیق کے معنی دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–91

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 91 یسئلون وہ سوال کرتے ہیں۔ ذوالقرنین بہت طاقتور۔ ساتلوا بہت جلد میں بتاؤں گا۔ مکنا ہم نے جمایا، اقتدار دیا تھا۔ سبب سامان۔ اتبع وہ پیچھے گیا۔ اس نے تیاری کی۔ حمئۃ دلدل، کیچڑ، سیاہ۔ یرد لوٹایا جائے گا۔ الحسنی بہترین، بھلا۔ یسر آسان۔ ستر پردہ، رکاوٹ، احطنا ہم نے گھیر لیا۔ لدیہ اس کے پاس ۔ خبر علم، خبر۔ تشریح :- آیت نمبر 83 تا 91 تاریخ انسانی کے ہر دور میں اچھے اور برے کردار کے لوگ گذرتے رہتے ہیں۔ بہترین کردار کے لوگوں کی زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ، نمونہ عمل اور نشان راہ ہوتی ہے۔ جب کہ برے اور بدکردار لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ یوں تو ہر قوم اور اس کے افراد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–91

حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کے سفر کا نتیجہ پھر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے مشرق کی طرف کا سفر کیا، اور ایسی سرزمین پر پہنچا جہاں پہلے پہل سورج نکلتا معلوم ہوتا ہے۔ اور وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو دیکھا جن کے لئے سورج کی دھوپ سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی آڑ نہیں بنائی۔ یعنی اس سرزمین پر نہ قدرتی کچھ پہاڑ درخت ایسے ہیں کہ ان کی آڑ سے وہ لوگ دھوپ سے بچ سکیں۔ اور وحشی پن کے سبب سے نہ اتنی عقل ان لوگوں میں ہے کہ وہ مکان بنادیں۔ زمین میں سرنگیں کھود رکھی ہیں، دھوپ کے وقت ان میں گھس جاتے ہیں، اور ٹھنڈے وقت میں ان سرنگوں سے نکل کر دنیا کا کچھ کام دھندا کرلیتے ہیں۔ آگے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–93

[31] یعنی مشرق کی انتہائی سرحد تک۔ [32] یعنی وہ لوگ مکان وغیرہ بنانا نہ جانتے تھے کہ دھوپ سے بچاؤ کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 84–91

(ف 1) قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہودیون کے تعلقات مشرکین مکہ سے بہت زیادہ تھے ، بنا برین مشرکین مکہ ان سے اسلام کے متعلق اعتراضات پوچھتے رہتے ، انہوں نے کہا ہوگا پیغمبر اسلام سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کرو ، تاکہ معلوم ہو کہ اس کا مبلغ علم کیا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا ، یہ آیات جواب میں نازل ہوئیں ۔ قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے ، کہ وہ غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے اور قصے کے صرف اس حصہ کو بیان کرتا ہے جس کا تعلق انسانی رشد وہدایت سے ہے ، چنانچہ قرآن حکیم نے بتایا ، کہ خدائے تعالیٰ نے اسے وسیع اقتدار دے رکھا تھا ، وہ بہت بڑا فاتح تھا ، اس کا شوق فتحیابی اسے سمندر کے کنارے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-9 1 یہ واقعہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کے پاس جو ساز و سامان تھا اس کا ہم کو پورا پورا علم تھا اور ہم نے ازروئے علم و خبر اس کا احاطہ کر رکھا تھا۔ یعنی مشرق و مغرب کی جو تفصیل بیان کی گئی یہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کی فتوحات اور اس کے ساز و سامان کا سب کا ہم کو پورا پورا علم تھا ہوسکتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو سلوک اہل مغرب سے کیا تھا وہی اہل مشرق سے کیا ہو اور کذالک سے ادھر ہی اشارہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں تاریخ والے شاید اس جگہ کچھ اور کہتے ہوں گے۔ فی الحقیقت اتنا ہے جو فرمایا۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 90–92

ف 4۔ یعنی جہت مشرق میں منتہائے آبادی پر۔ 5۔ یعنی وہاں ایک ایسی قوم آبادی تھی۔ 1۔ ظاہرا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مکان وغیرہ بنانا نہ جانتے تھے کہ آفتاب کی گرمی سے پناہ لے سکیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مشرقی سرحد کے قبائل کی حالت اور ذوالقرنین کی شخصیت : 97۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا لاؤ لشکر اور مال واسباب اور افواج وغیرہ وہ ہم سے کچھ پوشیدہ نہ تھے گویا کہ اس کے پاس اس مہم کے سر کرنے کے لئے یہ سب کچھ وافر تھا ہم اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ وہ ہمارا ہی دیا ہوا تھا اور جہاں تک وہ پہنچا تھا وہاں تک مہذب دنیا کی سرحد ختم ہوگئی تھی جو اس کے علاقہ کے متعلق تھی اور اس کے آگے ایسی وحشی قوموں کا علاقہ تھا جو عمارتیں بنانا تو درکنار خیمہ لگانا بھی نہیں جانتے تھے گویا اس وقت تک ابھی اس سے آگے کے لوگ جنگلوں میں رہنے والے لوگ ہی تھے اور آج بھی ان کی حالت اس بات کی زندہ وجاوید دلیل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–92

Commentary The Holy Qur'an does describe this state of the people Dhul-Qarnain found living towards the East meaning thereby that they were not accustomed to the use of ways and means like houses, tents and dresses to seek protection against the Sun. But, it does not mention anything about their faith and deeds, nor does it say what Dhul-Qarnain did to them. However, it is obvious that these people too were infidels and Dhul-Qarnain handled them the way he had handled the people he had found in the West as mentioned earlier. But, describing it again at this place was not considered necessary…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–92

66. That is, when he advanced towards the east, conquering one country after the other, he reached a territory where the limits of the civilized world had come to an end and beyond which was the territory of barbaric people, who had no shelter at all of tents or buildings.”

Read the full tafseer →