Explained with ayahs 92–96
یاجوج ماجوج۔
اپنے شرقی سفر کو ختم کرکے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں انہیں قتل کرتے ہیں کھیت باغات تباہ کرتے ہیں بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد بربا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث سے ثابت ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل حضرت آدم ؑ سے فرمائے گا کہ اے آدم ! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہوگا آگ کا حصہ الگ کر۔ پوچھیں گے کتنا حصہ ؟ حکم ہوگا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
سورة الْكَهْف 70
یعنی فرمانروا ہونے کی حیثیت سے میرا یہ فرض ہے کہ اپنی رعایا کو غارت گروں کے حملے سے بچاؤں۔ اس ملک کے لیے تم پر کوئی الگ ٹیکس لگانا میرے لیے جائز نہیں ہے۔ ملک کا جو خزانہ اللہ تعالیٰ نے میرے حوالے کیا ہے وہ اس خدمت کے لیے کافی ہے۔ البتہ ہاتھ پاؤں کی محنت سے تم کو میری مدد کرنی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
یاجوج و ماجوج کون ہیں اور کہاں ہیں، سد ذوالقرنین کس جگہ ہے ؟
ان کے متعلق اسرائیلی روایات اور تاریخی کہانیوں میں بہت بےسروپا عجیب و غریب باتیں مشہور ہیں جن کو بعض حضرات مفسرین نے بھی تاریخی حیثت سے نقل کردیا ہے مگر وہ خود ان کے نزدیک بھی قابل اعتماد نہیں قرآن کریم نے ان کا مختصر ساحال اجمالاً بیان کیا اور رسول کریم ﷺ نے بقدر ضرورت تفصیلات سے بھی امت کو آگاہ کردیا ایمان لانے اور اعتقاد رکھنے کی چیز صرف اتنی ہی ہے جو قرآن اور احادیث صحیحہ میں آگئی ہے اس سے زائد تاریخی اور جغرافیائی حالات جو مفسرین محدثین اور مؤ رخین نے ذکر کئے ہیں اور صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ان میں جو اہل تاریخ کے اقوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
تفسیر آیات 92 تا 98:۔ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (92) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلا (93) قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا (94) قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا (95) آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (96) فَمَا…
Read the full tafseer →95۔ 1 قوت سے مراد یعنی تم مجھے تعمیراتی سامان اور رجال کار مہیا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
48: یا جوج ماجوج دو وحشی قبیلے تھے جو ان پہاڑوں کے پیچھے رہتے تھے اور تھوڑے تھوڑے وقفوں سے وہ پہاڑوں کے درمیان درے سے اس علاقے میں آکر قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیتے تھے، علاقے کے لوگ ان سے پریشان تھے، اس لئے انہوں نے ذوالقرنین کو دیکھا کہ وہ بڑے وسائل کے مالک ہیں تو ان سے درخواست کی کہ پہاڑوں کے درمیان جو درہ ہے اسے ایک دیوار بناکر بند کردیں ؛ تاکہ یاجوج ماجوج کا راستہ بند ہوجائے، اور وہ یہاں آکر فساد نہ پھیلا سکیں، اس کام کے لئے انہوں نے کچھ مال کی بھی پیش کش کی۔ لیکن حضرت ذو القرنین نے کوئی معاوضہ لینے سے انکار کردیا، البتہ یہ کہا کہ تم اپنی افرادی طاقت سے میری مدد کرو تو میں یہ دیوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
” تم بس محنت سے میری مدد کرو ، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لاکر دو “ چناچہ انہوں نے لوہے کے ٹکڑے جمع کئے اور دونوں قدرتی رکاوٹوں کے درمیان دیوار بنا دی اور جب یہ دیوار ان پہاڑوں کے برابر ہوگئی تو انہوں نے حکم دیا کہ اس لوہے کو گرم کرنے کے لئے اسے ہوا دو ، یہ لوہا اس قدر گرم ہوگیا کہ آگ نظر آنے لگی۔ پھر انہوں نے کہا اچھا اس پر میں اب پگھلا ہوا تانبا ڈلاوں گا۔ یہ پگھلا ہوا تانبا لوہے سے مل جائے گا اور یہ ل ہے کی دیوار اور مضبوط ہوجائے گی۔
دور جدید میں اس طریقے کو لوہے کی قوت اور مضبوطی میں اضافہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ۔ کیونکہ لوہے کے اندر ایک خاص…
Read the full tafseer →3 یعنی مال میرے پاس بہت ہے مگر ہاتھ پاؤں سے ہمارے ساتھ تم بھی محنت کرو۔
Read the full tafseer →آیت 95 قَالَ مَا مَكَّــنِّيْ فِيْهِ رَبِّيْ خَيْرٌ
کہ مجھے تمہارے خراج وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس سے بہتر مال تو میرے رب نے مجھے پہلے ہی عطا کر رکھا ہے۔ بہرحال تمہارے اس مسئلے کو میں حل کیے دیتا ہوں۔ اس جملے سے ذوالقرنین کے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔
فَاَعِيْنُوْنِيْ بِقُــوَّةٍ اَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا
دیوار بنانے کے لیے جو مادی اسباب و وسائل درکار ہیں وہ میں مہیا کرلوں گا۔ آپ لوگ اس سلسلے میں محنت و مشقت اور افرادی قوت man power کے ذریعے میرا ہاتھ بٹاؤ۔
Read the full tafseer →77 چناچہ ذوالقرنین نے ان کی اس درخواست کو منظور کرلیا اور کہا تمہاری مالی امداد کی مجھے ضرورت نہیں اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ موجود ہے البتہ لیبر یا مزدور تم مہیا کردو تو میں ایسی دیوار بنوادوں گا۔ علاوہ ازیں مجھے کچھ لوہے کی چادریں اور دوسرا سامان تعمیر مہیا کرنا تمہاری ذمہ داری ہوگی۔
Read the full tafseer →144۔ ذوالقرنین نے ان لوگوں کی درخواست کے جواب میں کہا کہ مال وخزانہ تو میرے پاس خدا کا دیا ہو اخود ہی بہت کافی ہے۔ مجھے تمہاری مالی مدد کی ضرورت نہیں البتہ تم ہاتھ پیر سے میری مدد کرو۔ مجھے ضرورت مزدوروں اور کاریگروں کی ہے۔ ماجعلنی فیہ مسکینا من المال والملک خیر مما تبذلون لی من الخراج ولا حاجۃ لی الیہ (بیضاوی) اے مابسط اللہ لی من القدرۃ والملک خیر من خرجکم (بحر) فقہاء نے یہاں دو مسئلہ مستنبط کئے ہیں ایک یہ کہ بادشاہ کو جائز ہے کہ رعایا کی درخواست پر اس کی رفاہ عام و تحفظ کے سامان بہ معاوضہ واجرت درست کردے۔ دوسرے یہ کہ معاوضہ اجرت جس طرح مال سے صحیح ہے محنت یا کام سے بھی صحیح ہے چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
آیت نمبر 92 تا 98
ترجمہ : پھر اس نے ایک اور سفر کی تیاری شروع کی یہاں تک کہ جب وہ ایسے مقام پر پہنچا کہ جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا سین کا فتح اور ضمہ دونوں ہیں، یہاں بھی اور بعد میں بھی، بلاد ترک کے اختتام پر دو پہاڑ ہیں سکندر نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو بند کردیا تھا جیسا کہ عنقریب (اس کا ذکر) آرہا ہے، تو ان دونوں پہاڑوں کے اس پار یعنی ان کے سامنے ایک ایسی قوم کو پایا جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی یعنی بڑی دیر کے بعد (اشارہ وغیرہ سے) ایک قرأت میں ضمہ ی اور کسرہ کاف کے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یأجوج ومأجوج ہمزہ اور بدون ہمزہ دونوں قرأتیں ہیں یہ دو عجمی قبیلوں…
Read the full tafseer →قال ما مکنی فیہ ربی خیر فاعینونی بقوۃ اجعل بینکم وبینہم ردما۔ ذوالقرنین نے کہا جس مال میں میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے وہ بہت کچھ ہے (سو مال کی تو مجھے ضرورت نہیں) البتہ ہاتھ پاؤں سے تم لوگ میری مدد کرو ‘ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ،
چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ،
ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…
Read the full tafseer →قَالَ مَا مَكَّــنِّيْ فِيْهِ رَبِّيْ خَيْرٌ : ذوالقرنین نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ میری دسترس میں دیا ہے وہ تمہارے دیے ہوئے اخراجات سے کہیں بہتر ہے، سو تم خرچ کی فکر مت کرو۔ ہاں، تم عملی طور پر آدمیوں اور محنت کے ساتھ میری مدد کرو، تاکہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔ اس سے ذوالقرنین کی سیر چشمی، فراخ دلی اور سخاوت نفس کے ساتھ ساتھ رعایا کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط ترین دفاع کا بندوبست کرنا واضح ہوتا ہے۔ سلیمان ؑ نے بھی ملکہ سبا کو ہدیے بھیجنے پر ایسا ہی جواب بھیجا تھا : (فَمَآ اٰتٰىـنِۦ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّآ اٰتٰىكُمْ) [ النمل : 36 ] ”جو کچھ اللہ نے مجھے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال ما مکنی فیہ ربی خیر اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قال ما مکنی فیہ ربی خیر یہ ذوالقرنین نے ان لوگوں کو کہا : جو اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت اور ملک عطا فرمایا وہ تمہارے خراج اور مال سے بہتر ہے لیکن تم بدنی قوت سے میری مدد کرو، یعنی مردوں کے ساتھ اور ببدنی عمل کے ساتھ اور اس آلہ کے ساتھ میری مدد کرو جس کے ساتھ میں وہ دیوار تیار کروں۔ اس کلام میں ذی القرنین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید ہے کیونکہ اگر لوگ خراج جمع کرتے تو کوئی اس کی مدد نہ کرتا اور وہ دیوار کی تعمیر اس کے سپرد کردیتے اور ان کا اپنے جسموں سے مدد کرنا اس عمل کو جلدی مکمل کر کے اور خوبصورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–100
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔
2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں نے کہا ] [مَا : وہ ] [مَكَّــنِّيْ : اختیار دیا مجھ کو ] [فِيْهِ : جس میں ] [رَبِيْ : میرے رب نے ] [خَيْرٌ: بہتر ہے ] [فَاَعِيْنُوْنِيْ : تو تم لوگ اعانت کرو میری ] [بِقُــوَّةٍ : قوت کے ساتھ ] [اَجْعَلْ : تو میں بنائوں ] [بَيْنَكُمْ : تمہارے درمیان ] [وَبَيْنَهُمْ : اور ان کے درمیان ] [رَدْمًا : ایک رکاوٹ ]
ر د م
[رَدْمًا : (ض) ] کسی رخنہ یا دروازہ کو بند کرنا۔
رَدْمٌ رکاوٹ۔ بندش۔ زیر مطالعہ آیت۔ 95
نوٹ۔ 1: ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد دیوار چین ہے۔ حالانکہ دراصل یہ دیوار قفقاز کے علاقہ داغستان میں دربند اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–97
تیسرا سفر
(ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) جانب مشرق میں (مَطْلِعَ الشَّمْس) میں رہنے والی قوم سے فارغ ہو کر ذوالقرنین آگے بڑھے، چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا۔ (یہ بین السدین کا ترجمہ ہے۔ اور سدین سے دو پہاڑ مراد ہیں ان کے درمیان خالی جگہ تھی۔ ان دونوں کے درمیان درہ سے جہاں یاجوج ماجوج حملہ آور ہوئے تھے۔ )
ان پہاڑوں سے ورے ایک ایسی قوم کو دیکھا جو کوئی بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔ (ذوالقرنین کی زبان تو کیا سمجھتے یہ تو لغت جاننے کی بات ہے سمجھ بوجھ بھی بس یونہی تھوڑی بہت تھی لیکن دشمنوں کی وجہ سے پریشان بہت زیادہ تھے۔ )
یاجوج ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار کی تعمیر
ذوالقرنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
سفر سوم
ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ بین السدین۔۔۔ الیٰ ۔۔ وکانوا لا یستطیعون سمعا۔
ذکر تعمیر سد آہنی برائے انسداد خروج یا جوج و ماجوج
پھر مشرق و مغرب کے سفر سے فارغ ہو کر مشرق و مغرب کے درمیان جنوب سے شمال کی طرف ایک تیسری راہ کے پیچھے ہو لیا۔ یہاں تک کہ جب وہ چلتا چلتا دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا جس کی پشت پر یاجوج ماجوج کی زمین تھی تو ان پہاڑوں کے پیچھے اس نے عجیب و غریب قوم پائی جو کم عقلی کی وجہ سے کسی بات کے سمجھنے کے قریب بھی نہ پہنچے تھے یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات نہیں سمجھتے تھے اور وحشی اور کم عقل ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے تھے ورنہ عاقل آدمی قرائن سے کچھ نہ…
Read the full tafseer →81:۔ ذو القرنین نے جواب دیا کہ مجھے دولت کی ضرورت نہیں جو دولت اللہ نے مجھے عطا فرمائی ہے، وہی کافی ہے تم لوگ صرف قوت بازو اور کام سے میری مدد کرو، میں اپنے خرچ سے ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔ ” ردما “ بہت بڑی اور مضبوط دیوار۔ ای حاجزا حصینا و حجابا متینا (روح ج 16 ص 40) ۔ بعض لوگ کہتے ہیں۔ اس سے دیوار چین مراد ہے۔ جو بارہ کوس لمبی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–101
(بند باندھنے کی پیش کش)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب سکندر ذوالقرنین انتہائی شمال میں ایک قوم کے ایک قوم کے پاس پہنچے تو ان لوگوں نے شکایت کی کہ اس پہاڑی درے سے اس طرف یاجوج وماجوج کی اقوام ہیں جو اس درے سے گذر کر ہمیں تنگ کرتے ہیں ، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان اس درے میں دیوار کھڑی کردیں تاکہ وہ ادھر نہ آسکیں ، انہوں نے اس کام کے لیے معاوضے کی پیشکش بھی کی ، اب آج کی آیات میں ذوالقرنین کا جواب آرہا ہے (آیت) ” قال مامکنی فیہ ربی خیر “۔ کہا کہ میرے لیے اللہ کی عطا کردہ قدرت بہتر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے حکومت دی ہے ، مال واسباب عطا فرمائے ہیں لہذا مجھے تمہارے مال کی…
Read the full tafseer →قَالَ مَا مَكَّــنِّيْ فِيْہِ رَبِّيْ خَيْرٌ فَاَعِيْنُوْنِيْ بِقُــوَّۃٍ اَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَہُمْ رَدْمًا 95ۙ
مكن
المَكَان عند أهل اللّغة : الموضع الحاوي للشیء، قال : وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10]
( م ک ن ) المکان
اہل لغت کے نزدیک مکان اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی جسم پر حاوی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔
وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] اور ہم نے زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا ۔
خير
الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه :
الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔
تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمَا قَوْمًا لا لاَّ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ قَوْلاً ۔ قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ قَالَ مَامَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌفَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا۔ اٰ تُوْنِیْ زُبَرَالْحَدِیْدِ ط حَتّٰیٓ اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ط حَتّٰیٓ اِذَا جَعَلَـہٗ نَارًا لا قَالَ اٰ تُوْنِٓیْ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا۔ فَمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–98
فہم القرآن
ربط کلام : ذوالقرنین کی تیسری عسکری مہم۔
مفسرین کا خیال ہے کہ مشرق و مغرب کو فتح کرنے کے بعد ذوالقرنین اپنے ملک سے ملحقہ اس زمانے کی موجود دنیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچا جسے بعض مؤرخ ترکستان کے قریب کا علاقہ شمار کرتے ہیں۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد آباد تھی۔ جہاں بحرقرز اور بحر اسود کے درمیان پہاڑی سلسلہ ہے یہاں کے لوگوں کو مؤرخ منگول قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ قریب قریب وہی علاقے ہیں جہاں چائینہ کا ملک ہے۔ کیونکہ یہاں کوہ قفقاز کے دامن میں آہنی دیوار موجود ہے۔
ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشہور دیوار چین…
Read the full tafseer →95: قَالَ مَامَکَنِّیْ (اس نے کہا جس مال میں مجھے اختیار دیا)
قراءت : یہ ادغام کے ساتھ ہے۔ مکی نے فکِ ادغام سے پڑھا ہے۔ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌ (میرے رب نے وہ بہت بہتر ہے) جس مال میں مجھے ذمہ دار بنایا ہے۔ اور جو وسعت مالی اس نے دے رکھی ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو تم مجھے بطور خراج دو گے مجھے اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ ( تم افراد قوت سے میری اعانت کرو) عمل اور کاریگروں سے جو اچھی تعمیر کرسکتے ہوں۔ اور کام اور آلات۔ اَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ رَدْمًا (میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک دیوار قائم کردیتا ہوں) ۔ ردمؔ دیوار نمبر 2۔ ایسی روک جو پختہ اور مضبوط ہو۔ الردمؔ…
Read the full tafseer →تفسیر (95)” قال “ ان کو ذوالقرنین نے کہا ہے۔” مامکنی فیہ “ ابن کثیر نے ” مکننی “ پڑھا ہے دونوں کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ایک نون کے ساتھ پڑھا ہے ادغام کرکے، وہ چیزیں جو مجھے اس بارے میں قوت دے دیں۔ ” ربی خیر “ جو میرے لیے اس نے بنایا ہے۔ ” فاعینونی بقوۃ “ میری مدد کرو۔ مال کے علاوہ اپنے ہاتھ پائوں کے ساتھ اور اپنی قوت کے ساتھ۔ ” اجعل بینکم وبینھم ردما “ تاکہ میں ایک دیوار بناسکوں۔ وہ کہنے لگے کون سی قوت آپ کو چاہیے ؟ فرمایا معمار، مزدور ، کارکن جو تعمیر میں اچھا ک اگر ثابت ہوں اور اس قسم کے آلات۔ انہوں نے کہا کہ کون سے آلات فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–95
90۔ 93:۔ مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا ان پہاڑوں کی پرلی طرف ایک جنگلی قوم رہتی تھی جس کے لوگ نہ دوسری کسی قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی ان لوگوں نے ذوالقرنین سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کے پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ورلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ہم لوگ چندہ کرکے روپیہ دیتے ہیں اس روپے کے خرچ سے ہمارے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–98
آیت 89
یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
139 سدِّ سکندری کی تعمیر اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ذو القرنین نے اس کے جواب میں ان لوگوں سے کہا کہ " تم لوگ اپنی محنت اور مشقت کے ذریعے میری مدد کرو "۔ تاکہ میں تمہارے لیے تمہاری طلب اور درخواست کے مطابق ایسی ایک دیوار بنادوں یعنی تم لوگ جسمانی قوت و محنت اور رجال کار کے ذریعے۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے استعانت بغیر اللہ کے اپنے شرکیہ عقیدے کے لئے اپنی تحریفانہ ذہنیت سے کام لیتے ہوئے اس ارشاد ربانی ۔ { اَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ } ۔ سے استدلال کی ناکام کوشش کی ہے ۔ { فَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ چناچہ موصوف اس مقام پر اپنے حواشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین
ذوالقرنین کا واقعہ
تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔
خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–101
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔
(ذوالقرنین کون تھا)
ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ف 4 یعنی پتھر اور اینٹ کی بجائے میں تمہیں لوہے کی دیوار بنا کر دوں گا میرے لئے لوہے کے تختے مہیا کردو۔5 تانبا اس لئے پگھلا کر ڈالا کہ درزوں میں بیٹھ جائے اور ساری دیوار جم کر ایک پہاڑ کی مانند ہوجائے۔ صاز موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(18:95) مکنی۔ اصل میں مکننی تھا۔ مکن واحد مذکر غائب ماضی۔ تمکین تفعیلمصدر۔ نون وقایہ یضمیر مفعول واحد متکلم۔ اس نے مجھے جگہ دی۔ اس نے مجھے با اقتدار بنایا۔ اس نے مجھے اختیار دیا۔ اس نے مجھے (جس سلطنت، مال و دولت و دیگر اسباب پر) قدرت دی ہے۔ ما مکنی فیہ ربی۔ وہ دولت و اقتدار ومال و اسباب جس پر میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے۔
اعینونی۔ اعانۃ مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ یضمیر واحد متکلم۔ بقوۃ۔ جسمانی مشقت۔ سخت۔
اجعل مضارع مجزوم واحد متکلم۔ مجزوم بوجہ جواب امر کے ہے۔ ردما۔ موٹی دیوار۔ سد محکم۔ ردم یردم (ضرب) کا مصدر ہے جس کا معنی رخنہ کو پتھروں سے بند کردینا ہے۔ یہاں مصدر بمعنی اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–101
لغات القرآن آیت نمبر 92 تا 101
السدین دو دیواریں، دو پہاڑ۔ لایکادون قریب نہ تھے۔ یفقھون وہ سمجھتے ہیں۔ خرج کچھ مال۔ سد دیوار۔ مکنی مجھے اختیار دیا۔ اعینوا مدد کرو۔ ردماً آڑ، رکاوٹ۔ زبر الحدید لوہے کے تختے۔ ساوی برابر کردیا۔ صدفین دونوں پہاڑ۔ انفخوا دھونکو، پھونکو۔ افرغ ڈال دو ۔ قطر پگھلا ہوا تانبہ ۔ ان یظھروا یہ کہ وہ چڑھیں۔ نقب سوراخ۔ دکاء برابر کیا۔ عرض سامن۔ غطاء پردہ۔ سمع سننا
تشریح : آیت نمبر 92 تا 101
مشرق و مغرب کے سفروں کے بعد ذوالقرنین نے تیسری سمت بھی سفر کیا۔ اکثر مفسرین اور مورخین کے ارشاد کے مطابق یہ سفر شمال کی طرف تھا۔ چلتے چلتے ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کے لوگ نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–97
سد یا جو ماجوج کا ذکر
مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف کے سفر سے فارغ ہوکر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا۔ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا۔ ان پہاڑوں کی دوسری طرف قوم رہتی تھی، جس کے لوگ نہ دوسری قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی، مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی۔ اور ان لوگوں نے حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کی پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے۔ اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ارلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
[33] یا جوج ماجوج سے مراد وہ منگول قبائل ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر حملہ کرتے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–99
معیار حکمرانی :
(ف 1) مغرب میں فتوحات کے بعد جب ذوالقرنین نے مشرق کا رخ کیا تو وہاں ایک خانہ بدوش قوم پائی یہ اقصائے مشرق کے رہنے والے تھے ، اس کے بعد وہ دوسری جانب بڑھا یہاں دونوں طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں ایک درہ تھا ، یہاں کچھ لوگ آباد تھے ، انہوں نے اپنی زبان میں کہا ، جسے ذوالقرنین نہیں سمجھتے تھے ، کہ یا جوج وماجوج کی قومیں ہماری ہاں آکر لوٹ مار کرتی ہیں ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیاں ایک دیوار کھینچ دیں ؟ تاکہ ہم ان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں ، ہم اس کام کے مصارف بھی آپ کو ادا کرنے لئے تیار ہیں ، ذوالقرنین نے کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے ، تمہارے روپے پیسے کی…
Read the full tafseer →-95 ذوالقرنین نے کہا کہ میرے پروردگار نے مجھے جس مال پر اقتدار اور اختیار دیا وہ بہتر اور کافی ہے یعنی چندہ جمع کرنے اور بچھ کا مال اکٹھا کرنے کی ضرورت نہیں البتہ تم اتنا کرو کہ ہاتھ پائوں سے میری امداد کروتو میں تمہارے اور … یاجوج ماجوج کے مابین ایک مضبوط دیوار بنا دوں اور اس درے کو بند کر دوں۔ یعنی میرے پروردگار نے مجھے جس مال پر تصرف کا اختیار دے رکھا ہے وہ کافی ہے مجھے تو ہاتھ بٹانے والوں کی ضرورت ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مال میرے پاس بہت ہے مگر ہاتھ پائوں سے ہمارے ساتھ تم بھی محنت کرو۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
ف 2۔ یعنی غیر زبان ہونے کی وجہ سے تو بات سمجھتے اور وحشی اور قلیل الفہم ہونے کی وجہ سے سمجھنے کے لگ بھگ بھی نہیں پہنچتے، ورنہ عاقل آدمی رموز و قرائن سے کچھ قریب قریب سمجھ لیتا ہے۔
Read the full tafseer →ذوالقرنین کی طرف سے اس غیر معروف قوم کو جواب :
101۔ ذوالقرنین نے ان لوگوں کی اپیل سنی اور اسی وقت دیوار کی منظوری دے دی اور ان کو کہا کہ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا مال بحمد للہ بہت ہے آپ میرا مالی تعاون نہ کریں نہ مجھے تمہارے اس تعاون کی ضرورت ہے ہاں ! آپ مالی تعاون کی بجائے اپنی طاقت وقوت کا تعاون مجھے دیں اس لئے کہ میرے یہ سپاہی اتنا کام سرانجام نہیں دے سکتے اور افرادی قوت کی اس سلسلہ میں زیادہ ضرورت ہے میں تمہارے درمیان اور اس قوم یاجوج ماجوج کے درمیان دیوار کھڑی کروں گا اور انشاء اللہ العزیز وہ اس دیوار کے مکمل ہوجانے کے بعد آپ پر حملہ آور نہیں ہوسکیں گے ، اس سلسلہ میں اس نے اس جگہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
Commentary
The Identity of Ya'juj Ma'juj and the Location of the Wall of Dhul-Qarnain
A lot of absurd and strange things disseminated through Isra'ili narratives and historical stories have found currency to the extent that some commentators have also reported them in terms of their historical status, though they themselves do not find them trustworthy. The truth of the matter is that the Qur'an has mentioned it briefly and the Holy Prophet ﷺ has informed his community also about the details as and where necessary. What has to be believed in as part of one's faith is limited to what has been…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
70. That is, as a ruler it is my duty to protect you from the ravages of your enemies: therefore it is not lawful for me to levy any extra taxes on you for this purpose. The treasury that Allah has placed in my custody suffices for this purpose. You shall, however, have to help me with your manual labor.
Read the full tafseer →