Al-Kahf 18:9

Al-Kahf · from ayah 9

18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِیْمِ ۙ— كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا ۟اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡـكَهۡفِ وَالرَّقِيۡمِۙ كَانُوۡا مِنۡ اٰيٰتِنَا عَجَبًا

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہمارے نشانیوں میں سے عجیب تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or have you thought that the companions of the cave and the inscription were, among Our signs, a wonder?

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:9

کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہمارے نشانیوں میں سے عجیب تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تو اپنے خیال میں غار اور کتبے والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کوئی بہت عجیب نشانی سمجھ رہا ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ غار اور رقیم والے لوگ ہماری نشانیوں میں سے کچھ (زیادہ) عجیب چیز تھے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے یہ خیال کیا ہے کہ کہف و رقیم (یعنی غار اور لوحِ غار یا وادئ رقیم) والے ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں سے (کتنی) عجیب نشانی تھے؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تو نے خیال کیا کہ غار اور کتبے والے ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب چیز تھے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ غار والوں اور کتبہ والوں کا معاملہ ہماری نشانیوں میں سے کوئی بڑی عجیب نشانی تھا ؟۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم نے کہف و رقیم والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کچھ بہت عجیب خیال کیا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم نے (اے مخاطب) یہ سمجھ رکھا ہے کہ غار اور رقیم والے ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں سے کچھ زیادہ تعجب کی چیز تھے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور کتبہ والے ہماری نشانیوں میں کچھ تعجب کی چیز تھے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم (تختی) والے اصحاب ہماری بہت عجیب نشانیوں میں سے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار اور لوح والے ہماری نشانیوں سے عجیب تھے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you think that the people of the Cave and the Inscription were one of Our wondrous signs?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you think that the People of Kahf (the Cave) and Raqim (inscription) were unusual out of Our signs?

— Muhammad Taqi Usmani

Do you think that the People of Kahf (the Cave) and Raqim (inscription) were unusual out of Our signs?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do you think that the people of Al-Kahf and Ar-Raqim were a wonder among Our signs

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or deemest thou that the People of the Cave and the Inscription are a wonder among Our portents?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or have you thought that the companions of the cave and the inscription were, among Our signs, a wonder?

— Saheeh International

Do you not think that the story of the Companions of the Cave and the Inscription was one of Our marvelous miracles?

— Muhammad Sarwar

Or, do you think that the Fellows of the Cave and the Inscription were of Our wonderful signs?

— Muhammad Habib Shakir

Deemest thou that the people of the cave and the inscription were of Our signs a wonder?

— Abdul Majid Daryabadi

Or dost thou reflect that the Companions of the Cave and of the Inscription were wonders among Our Sign?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–12

اصحاف کہف اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہوگا فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بیشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں آسمان زمین کی پیدائش رات دن کا آنا جانا سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلایا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بےانداز ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس پر کوئی مشکل نہیں اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–12

سورة الْكَهْف 6 عربی زبان میں " کہف " وسیع غار کو کہتے ہیں اور " غار " کا لفظ تنگ کھوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مگر اردو میں غار کہف کا ہم معنی ہے۔ سورة الْكَهْف 7 الرقیم کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض صحابہ وتابعین سے منقول ہے کہ یہ اس بستی کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا، اور وہ ایلہ (یعنی عَقَبہ) اور فلسطین کے درمیان واقع تھی۔ اور بعض قدیم مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ کتبہ ہے جو اس غار پر اصحاب کہف کی یادگار میں لگایا گیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تفسیر " ترجمان القرآن " میں پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ مقام وہی ہے جسے بائیبل کی کتاب یشوع (باب 18۔ آیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

تشریح اللغات کہف، پہاڑی غار جو وسیع ہو اس کو کہف کہتے ہیں، جو وسیع نہ ہو اس کو غار کہا جاتا ہے، رقیم، لفظی اعتبار سے بمعنے المرقوم ہے، یعنی لکھی ہوئی چیز اس مقام پر اس سے کیا مراد ہے، اس میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں، ضحاک اور سدی اور ابن جبیر ؓ بروایت ابن عباس ؓ اس کے معنی ایک لکھی ہوئی تختی کے قرار دیتے ہیں، جس پر بادشاہ وقت نے اصحاب کہف کے نام کندہ کر کے غار کے دروازہ پر لگا دیا تھا، اسی وجہ سے اصحاب کہف کو اصحاب الرقیم بھی کہا جاتا ہے، قتادہ، عطیہ، عوفی، مجاہد کا قول یہ ہے کہ رقیم اس پہاڑ کے نیچے کی وادی کا نام ہے جس میں اصحاب کہف کا غار تھا، بعض نے خود اس پہاڑ کو رقیم کہا ہے، حضرت عکرمہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 9 تا 26: اہل کتاب کے القا کیے ہوئے سوالات : قریش جس انداز سے قرآن اور نبی ﷺ کی مخالفت کر رہے تھے اس کا ذکر اوپر کی آیات میں گزرا۔ اسی مخالفت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس دور میں آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لیے اہل کتاب جو مختلف قسم کے اینڈے بینڈے سوالات القا کرتے قریش ان کو بھی اٹھا لیتے اور آپ سے ان کے جواب کا مطالبہ کرتے۔ توح کے متعلق، ذوالقرنین کے متعلق اور اس نوع کے بعض دوسرے سوالات، جن کا قرآن نے حوالہ دیا ہے، اہل کتاب کے اٹھائے ہوئے سوالات تھے۔ اسی نوع کا ایک سوال اصحاب کہف سے متعلق اہل کتاب نے اٹھایا اور ان کے اشارے سے قریش نے اس کو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ یہ غیر متعلق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 یعنی یہ واحد بڑی اور عجیب نشانی نہیں ہے۔ بلکہ ہماری ہر نشانی ہی عجیب ہے۔ یہ آسمان و زمین کی پیدائش اور اس کا نظام، شمس و قمر اور کواکب کی تسخیر، رات اور دن کا آنا جانا اور دیگر بیشمار نشانیاں، کیا تعجب انگیز نہیں ہیں۔ کَھْف اس غار کو کہتے ہیں جو پہاڑ میں ہوتا ہے۔ رقیم، بعض کے نزدیک اس بستی کا نام ہے جہاں سے یہ نوجوان گئے تھے، بعض کہتے ہیں اس پہاڑ کا نام ہے جس میں غار واقع تھا بعض کہتے ہیں رَقِیْم بمعنی مَرْقُوْم ہے اور یہ ایک تختی ہے لوہے یا سیسے کی، جس میں اصحاب کہف کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ اسے رقیم اس لئے کہا گیا ہے کہ اس پر نام تحریر ہیں۔ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ پہلی بات زیادہ صحیح…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

3: ان حضرات کے واقعے کا خلاصہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ یہ کچھ نوجوان تھے جو ایک مشرک بادشاہ کے عہد حکومت میں توحید کے قائل تھے۔ بادشاہ نے ان کو توحید پر ایمان رکھنے کی بنا پر پریشان کیا تو یہ حضرات شہر سے نکل کر ایک غار میں چھپ گئے تھے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر گہری نیند طاری فرمادی، اور یہ تین سو نو سال تک اسی غار میں پڑے سوتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نیند کے دوران اپنی قدرت کاملہ سے ان کی زندگی کو بھی سلامت رکھا، اور ان کے جسم بھی گلنے سڑنے سے محفوظ رہے، تین سو نو سال بعد ان کی آنکھ کھلی تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی لمبی مدت تک سوتے رہے ہیں۔ لہذا ان کو بھوک محسوس ہوئی تو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ اس قصے کی تلخیص ہے اور اس کی روٹ لائن اس میں دی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ تھا۔ تعداد معلوم نہیں ہے۔ یہ اہل ایمان تھے۔ انہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی تھی یعنی سو گئے تھے ، کئی سال تک سالوں کی تعداد معلوم نہیں اس طویل نیند سے وہ اٹھائے گئے۔ ان کی میعاد کہف کے بارے ان میں دو گروہ ہوگئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کس کا اندازہ زیادہ درست ہے اور یہ کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہونے کے باوجود عجیب نہیں ہے۔ اس کائنات میں اس سے بھی زیادہ عجوبے ہیں اور اصحاف کہف اور اصحاب رقمی سے زیادہ عجیب تر۔ یہ پرکشش تلخیص دینے کے بعد اب اس قصے کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ تفصیلات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی حق تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کے لحاظ سے اصحاب کہف کا قصہ جو آگے مذکور ہے کوئی اچنبھا نہیں جسے حد سے زیادہ عجیب سمجھا جائے۔ زمین، آسمان، چاند، سورج وغیرہ کا پیدا کرنا، ان کا محکم نظام قائم رکھنا، انسان ضعیف البنیان کو سب پر فضیلت دینا، انسانوں میں انبیاء کا بھیجنا، ان کی قلیل و بےسروسامان جماعتوں کو بڑے بڑے متکبرین کے مقابلہ میں کامیاب بنانا، خاتم الانبیاء اور رفیق غار حضرت ابوبکر صدیق کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال کر " غار ثور " میں تین روز ٹھہرانا، کفار کا غار کے منہ تک تعاقب کرنا پھر انکو بےنیل و مرام واپس لوٹانا آخر گھر بار چھوڑنے والے مٹھی بھر بےسروسامانوں کو تمام جزیرۃ العرب بلکہ مشرق و…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ ۙ كَانُوْا مِنْ اٰيٰتِنَا عَجَبًا اب اصحاب کہف کے متعلق اس سوال کے جواب کا آغاز ہو رہا ہے جو یہود مدینہ نے قریش مکہ کے ذریعے حضور سے پوچھا تھا۔ کہف کے معنی غار کے ہیں اور رقیم سے مراد وہ تختی ہے جس پر اصحاب کہف کے حالات لکھ کر اسے غار کے دہانے پر لگا دیا گیا تھا۔ اس نسبت سے انہیں اصحاب کہف بھی کہا جاتا ہے اور اصحاب الرقیم بھی۔ مراد یہ ہے کہ تم لوگ شاید اصحاب کہف کے واقعہ کو ایک بہت غیر معمولی واقعہ اور ہماری ایک بڑی عجیب نشانی سمجھتے ہو مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری تخلیق اور صناعی میں تو اس سے بھی بڑے بڑے عجائبات موجود ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 قریش مکہ کے تین تاریخی سوال :۔ اس تمہید کے بعد اب کفار مکہ کے ان سوالوں کے جوابات کا آغاز ہو رہا ہے جو انہوں نے اہل کتاب سے پوچھ کر اور ان کے مشورہ سے آپ سے پوچھے تھے کفار مکہ دراصل یہ چاہتے تھے کہ وہ آپ سے قرون گذشتہ کے متعلق کچھ ایسے تاریخی سوال کریں جن کا کم از کم مشرکین مکہ اور عام اہل عرب کو کچھ علم نہ تھا۔ چناچہ انہوں نے اس معاملہ میں اہل کتاب کے عالموں سے مدد لی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ سے ایسے سوال کرنے سے پتہ چل جائے گا کہ آیا یہ شخص فی الواقع نبی ہے یا نہیں۔ اگر یہ جواب نہ دے سکے تو اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے گا اور اگر درست جواب دے دے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس کے پاس واقعی کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ قریش نے یہود کے اشارہ سے آنحضور ﷺ سے جو چند سوالات کیے تھے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ اصحاب کہف کون اور کیا تھے ؟ قرآن مجید اس کے جواب میں ان کا صحیح قصہ بیان کرتا ہے۔ ، (آیت) ” الکھف “۔ کھف کے لفظی معنی وسیع پہاڑی غار کے ہیں۔ الکھف الغار الواسع فی الجبل (کبیر) (آیت) ” اصحب الکھف “۔ کے کھلے ہوئے معنی ہیں غار والے۔ عام اس سے کہ وہ غار کہیں کا ہو۔ (آیت) ” الرقیم “۔ رقیم سے مراد کتبہ یا لوح مزار ہے۔ اصحاب کہف کے مزار پر ایک برنجی تختی لگا دی گئی تھی، جس پر ان کے نام، نسب اور مختصر حکایت درج تھی، اور اسی مناسبت سے یہ اصحاب الرقیم بھی کہلائے۔ لوح وصاص نقش فیہ تسبھم واسماءھم وقصصھم ودینھم لامم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–12

آیت نمبر 9 تا 12 ترجمہ : کیا آپ خیال کرتے ہیں یعنی گمان کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے کہف پہاڑ کے غار کو کہتے ہیں اور رقیم وہ تختی تھی جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کے اسماء کندہ تھے، اور رسول اللہ ﷺ سے ان کا قصہ معلوم کیا گیا تھا، کہ وہ اپنے قصہ کے اعتبار سے ہماری آیات (قدرت) میں کچھ زیادہ عجیب تھے عجبًا کان کی خبر ہے اور اس کا ماقبل (یعنی من آیاتنا) کانوا کی ضمیر سے حال ہے یعنی وہ آیات قدرت میں عجیب تھے نہ کہ باقی آیات، یا عجائبات میں زیادہ عجیب تھے۔ حقیقت حال ایسی نہیں ہے، اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب چند نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لی تھی فِتیۃً فَتِیٌّ کی جمع ہے یعنی کامل نوجوان جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ ۙ كَانُوْا مِنْ اٰيٰتِنَا عَجَبًا کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ کہف و رقیم والے ہماری عجائبات میں سے کوئی عجیب چیز تھے۔ استفہام تقریری ہے یعنی کیا تم کو معلوم ہے کہ کہف و رقیم والے منجملہ آیات خداوندی کے ایک عظیم الشان الشانی تھے۔ مطلب یہ ہے کہ تم کو معلوم ہوجانا چاہئے کہ اصحاب کہف و رقیم اللہ کی قدرتی کی عجیب نشانی تھے یا استفہام انکاری ہے یعنی کیا تم یہ سمجھے ہوئے ہو کہ کہف و رقیم والے کوئی عجیب نشانی تھے ‘ ایسا نہیں ہے ‘ زمین اس کی مختلف الانواع متعدد الاجناس موجودات کی کوئی گنتی نہیں اور اللہ نے ان کو زمین کی زینت بنایا ہے کہیں زیادہ تعجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(9) اے محمد ﷺ کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور پہاڑ والے ہماری عجائبات قدرت چاند، سورج آسمان و زمین ستارے اور سمندر وغیرہ میں سے کوئی تعجب کی چیز ہیں۔ کہف اس پہاڑ کا نام ہے جس میں وہ غار تھا اور رقیم وہ پیتل کی تختی ہے جس پر ان نوجوانوں کے نام اور ان کا واقعہ مرقوم تھا یا یہ کہ اس وادی کا نام ہے جس میں کہف پہاڑ تھا یا یہ کہ رقیم ایک شہر کا نام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۭاَمْ حَسِبْتَ۔۔ :”الْكَهْفِ“ پہاڑ میں وسیع غار۔ ”الرَّقِيْمِ“ بمعنی ”مَرْقُوْمٌ“ یعنی لکھی ہوئی تختی یا سل یا کتاب والے۔ ان لوگوں کو ”اصحاب الرقیم“ اس لیے کہتے ہیں کہ جب وہ اچانک غائب ہوگئے اور بہت تلاش کے باوجود نہ ملے تو ان کے نام ایک تختی یا سل پر لکھ کر خزانے میں محفوظ کردیے گئے، یا یہ کہ ان کے پاس شریعت کے احکام پر مشتمل لکھی ہوئی کتاب تھی۔ (شنقیطی) یا یہ کہ ان کے جاگنے کے بعد لوگوں نے غار پر ایک تختی نصب کردی جس پر ان کے نام لکھے ہوئے تھے۔ rnۭاَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ۔۔ : اس آیت کی تفسیر جو اکثر مفسرین، مثلاً طبری، ابن کثیر، شنقیطی ؒ نے کی ہے، یہ ہے کہ ”اَمْ“ منقطعہ انکار…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

فلعلک باخع نفسک علی اٰثارھم ان لم یومنوبھذا الحدیث اسفاً “ تو کیا آپ (فرط غم سے) تلف کردیں گے اپنی جان کو ان کے پیچھے اگر وہ ایمان نہ لائے اس قرآن کریم پر افسوس کرتے ہوئے۔” قولہ تعالیٰ : فلعلک باخع نفسک علیٰ اٰثارھم باخع اس کا معنی ہے ہلاک کرنے والا اور قتل کرنے والا اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اٰثارھم یہ اثر کی جمع ہے، اور کہا جاتا ہے : اثر ـ(پیچھے) اور اس کا معنی ہے آپ سے ان کے اعراض کرنے اور ان کے پیٹھ پھیرنے کے پیچھے (کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے) ۔ ان لم یومنو بھذا الحدیث اگر وہ اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے۔ اسفًا یعنی ان کے کفر پر افسوس اور غصہ کرتے ہوئے اور یہ تفسیر کی بنا پر منصوب ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–12

1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الکھف “ سے مراد ہے وہ غار جو وادی میں ہوتی ہے۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ سے مراد ہے۔ 3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ ایک وادی ہے جو فلسطین اور ایلہ کے قریب ہے۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ رقیم کیا ہے کتاب ہے یا عمارت ہے۔ رقیم کی مختلف تفسیریں : 5:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ کے بارے میں ان میں بعض کہتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَمْ : کیا ] [حَسِبْتَ : آپ ﷺ نے گمان کیا ] [ان : کہ ] [اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ : غار اور لوح والے ] [كَانوْا : تھے ] [مِنْ اٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں میں سے ] [عَجبا : کوئی عجیب چیز ] ک ھـ ثلاثی مجرد سے مفعل نہیں آتا۔ (تفعل) تَکَفُّھًا پہاڑ میں غار ہونا۔ کَھْفٌ پہاڑ میں کھدا ہوا وسیع غار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9 ۔ رق م [رَقْمًا : (ن) ] جلی حروف میں لکھنا۔ نقش بنانا۔ مَرْقُوْمٌ اسم المفعول ہے۔ لکھا ہوا۔ کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ (وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے) 83:9 رَقِیْمٌ فَعِیْلٌ کا وزن ہے اسم المفعول کے معنی میں۔ نقش کی ہوئی یا الفاظ کندہ کی ہوئی لوح۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9 ۔ نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–12

اصحاب کہف اور اصحاب رقیم کون تھے یہاں سے اصحاب کہف کا قصہ شروع ہو رہا ہے کہف غار کو کہتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، چند نوجوان اپنے زمانہ کے بادشاہ اور دیگر کافرین سے اپنی جان اور دین و ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے اس لیے انہیں اصحاب کہف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ان کا واقعہ انشاء اللہ آئندہ آنے والے دو رکوع میں بیان کیا جائے گا لیکن چونکہ مذکورہ آیت میں (اَصْحَابُ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ ) فرمایا ہے اس لیے رقیم کا معنی بھی جاننا چاہیے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اصحاب کہف کے کتے کا نام ہے یہ حضرت انس صحابی ؓ اور حضرت شعبی تابعی ؓ سے منقول ہے اور حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–12

ذکر اجمالی قصہ اصحاب کہف قال اللہ تعالیٰ ام حسبت ان اصحب الکھف والرقیم .... الیٰ .... لما لبثوا امدا۔ (ربط) اوپر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا ذکر تھا اب اصحاب کہف کا قصہ بیان کرتے ہیں جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی بھی دلیل ہے اور قیامت کی بھی دلیل ہے۔ چنون کہ قریش نے یہود کے سکھلانے سے آپ ﷺ کی آزمائش کے لیے آپ سے تین سوال کئے تھے ایک روح کے متعلق جس کا جواب پہلی سورت میں گزر چکا ہے اب دوسرے سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا قصہ کر کرتے ہیں کہ صدہا سال کے ماقبل کے واقعات کا صحیح صحیح علم بدون اللہ کے وحی کے ناممکن ہے اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا واقعہ نہ کسی سے سنا اور نہ کسی کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–12

11:۔ پہلے شبہ کا جواب :۔ یہاں سے لے کر احصی لما لبثوا امدا تک پہلے شبہ کا اجمالی رد ہے۔ شبہہ یہ تھا کہ اصحاب کہف عرصہ دراز تک غار میں سوئے رہے اس دوران میں انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچی۔ یہاں تک کہ اس عرصہ میں دھوپ بھی ان پر نہیں پڑی۔ سورج جب غار کے سامنے آتا تو رخ بدل لیتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ متصرف فی الامور اور مختار تھے۔ اس بنا پر لوگوں نے ان کو کارساز اور غیب داں سمجھ کر پکارنا اور ان کے نام کی نذریں نیازیں دینا شروع کردیا۔ چناچہ وہ سات روٹیاں ان کے نام پر اور ایک ان کے کتے کے نام پر دیتے ہیں۔ ان آیتوں میں کئی طریقوں سے مذکورہ شبہہ کا جواب دیا گیا ہے۔ اول و دوم ” کانوا من…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

ربط آیات : سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت وصداقت کو بیان کیا اور پھر اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے کا حکم دیا ، ایک عام تخویف ہے کہ سارے کے سارے لوگ اللہ کے آنے والے عذاب سے ڈر جائیں اور دوسری تخویف ان لوگوں کے لیے خاص ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر کو تسلی دی کہ جو لوگ گمراہی کو ترک کرکے ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ، آپ ان کے لیے زیادہ فکر مند نہ ہوں ، بلکہ فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں باقی معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اس کے بعد اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اس نے زمین بھر کی چیزوں کو باعث رونق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَہْفِ وَالرَّقِيْمِ۝ 0ۙ كَانُوْا مِنْ اٰيٰتِنَا عَجَــبًا۝ 9 حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : ام منقطعہ مقدر ہے بل کے ساتھ جو ایک بات سے دوسری بات کی طرف انتقال کے لیے آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہمزہ استفہام اوروں کے نزدیک صرف بل مقدر ہے ای بل احسبت عجبا خبر ہے کانوا کی ومن آیاتنا حال ہے اس سے۔ اذا متعلق ہے اذکر مخدوف سے فضربنا کا مفعول حجابا محذوف، عددا منصوب ہے سنین کی لغت ہو کر المعنی سنین ذات العدد ھذا قول الفرار اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو والمعنی تعد عددا ای مرفوع ہے مبتدا ہونے کے سبب اور احصٰی اس کی خبر ہے اور یہ سب جملہ متعلق ہے نعلم سے۔ تفسیر : زینت دنیا جس میں منہمک ہو کر انسان عقبیٰ کو کھو بیٹھتا ہے اور خدا پرستوں کو اپنا ہم خیال نہ سمجھ کر برا جانتا بلکہ ان کو ستاتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْـکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ لا کَانُوْا مِنْ اٰیٰـتِنَا عَجَبًا۔ (الکہف : 9) (کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں تھے۔ ) مخاطب کون ہے ؟ اس آیت کریمہ کا پہلا لفظاَمْ حَسِبْتَ کا مخاطب کون ہے ؟ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس کے مخاطب آنحضرت ﷺ ہیں۔ لیکن اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نبوت کے بعد سے مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں دیکھیں اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ سورت سورة بنی اسرائیل کے بعد نازل ہوئی ہے جیسا کہ بعض اہل علم کا خیال ہے تو پھر تو آپ ﷺ معراج شریف کے سفر میں جو کچھ دیکھ چکے ہیں اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–12

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ دنیا کی بدولت رسول معظم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی مخالفت کررہے تھے۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا ہے۔ جس میں اہل کفر کو یہ بتلایا ہے کہ اس طرح کا سلوک اصحاب کہف کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بالآخر ان کی دعوت کو شہرت عام اور دوام بخشا۔ اصحاب کہف کے واقعہ میں سب سے بڑی تعجب خیز بات یہ ہے کہ چند نوجوان اپنی جان اور ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سونو سال تک سلائے رکھا۔ جو انسانی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ایک سو سال تک موت کی آغوش میں رکھا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مختصر واقعہ اصحاب کہف : 9: جب کلی آیات کا تذکرہ تزیین ارض اور اس کے اوپر جو قسم قسم کے اشیاء بےحساب پیدا کیں۔ اور پھر ان تمام کے ازالہ کہ گویا انکا وجود ہی نہ تھا سے کیا جاچکا تو فرمایا۔ اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ (کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ کہف و رقیم والے) یہ آیات اصحاب کہف کے واقعہ اور مدت دراز تک ان کی زندگی کے بقاء سے زیادہ عجیب تر ہیں۔ الکہفؔ پہاڑ میں وسیع غار کو کہتے ہیں۔ الرقیمؔ نمبر 1۔ ان کے کتے کا نام ہے۔ نمبر 2۔ ان کی بستی کا نام ہے نمبر 3۔ اس کتاب اور تختی کا نام ہے جو ان کے حالات کے سلسلہ میں لکھی گئی ہے۔ نمبر 4۔ اس پہاڑ کا نام ہے جس میں وہ غارواقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 9۔” ام حسبت ان اصحاب الکہف والرقیم کانوا من ایاتنا عجباً “ اے محمد ! کیا آپ گمان کرتے ہیں کہ کہف ورقیم والے ہماری عجائبات میں سے کوئی عجیب چیز تھے۔ بعض نے کہا کہ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کہف و رقیم والے کوئی عجیب نشانی تھے ایسا نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان اور اس میں جو کچھ ہم نے پیدا کیا وہ اس سے بھی زیاد تعجب خیز ہیں ۔ کہف پہاڑی میں کشادہ غا ر کو کہتے ہیں۔ الرقیم کی مختلف تفاسیر رقیم کے معنی میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ وہ ایک پتھر کی تختی تھی جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کا قصہ لکھا ہوا تھا۔ یہ تمام قولوں میں اظہر قول ہے ، پھر اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–12

9۔ 12:۔ ان آیتوں میں اصحاب کہف کے قصہ کی بابت پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لیے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی عجیب ہیں سیرۃ محمد بن اسحاق تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ان آیتوں کی تفسیر کے متعلق جس قدر قصہ مجاہد سے ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کہف کے معنے غار کے ہیں اور جو لوگ غار میں پہنچے عیسائی تھے روم کے بت پرست دقیانوس بادشاہ نے ان لوگوں کو عیسائی مذہب کی حفاظت کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا مانگی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان کی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–12

(آیت نمبر (9 یہ استفہام ‘ نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات ‘ اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بیشمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–9

صعید (مٹی) کے بارے میں احکام قول باری ہے (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً ، وانا لجاعلون ما علیھا صعیداً جرزاً ۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخر کار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں) اس میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نباتات و حیوانات وغیرہ سے زمین کی زینت کا جو سامان کیا ہے اسے ایک چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔ صعید، زمین کو کہتے ہیں اور مٹی کو بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر قائم کی ہوئی زینت کو چٹیل میدان بنا دینے کا جو ذکر کیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11۔ رقیم کا معنی ومطلب ؟:۔ رقیم کے بارے میں علماء کرام کے کئی اقوال ہیں۔ زیادہ مشہور یہ ہے کہ اس سے مراد وہ تختی ہے جس میں اصحاب کہف کے نام کندہ تھے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر، زاد المسیر وغیرہ) سو رقیم اصل میں رقم سے ماخوذ ہے جس کے معنی لکھنے کے ہوتے ہیں اور ان لوگوں نے چونکہ ان کے نام ایک تختی میں کندا کر اس کو اس غار کے دروازے پر آویزاں کردیا تھا، اس لئے ان کو اصحاب رقیم یعنی تختی والے بھی کہا گیا ہے اور اصحاب کہف بھی ، (المعارف، المراغی وغیرہ) اور بعض حضرات اہل علم کے نزدیک رقیم اسی بستی کا نام ہے جس سے نکل کر اصحاب کہف نے اس غار میں پناہ لی تھی۔ یہ قول عکرمہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–16

اصحاب کہف کا قصہ تشریح : قرآن پاک قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے حکمت و دانش، دانائی اور ہدایت کا سبق ملتا ہے اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ توحید، ایمان، توکل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے، ، ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ صبر، دعا اور ایمان کی مضبوطی کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ ہوا اس طرح کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی علماء ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ تیار ہوگیا مگر اللہ نے ان کو زندہ اوپر اٹھا لیا۔ قرآن میں اسی طرح بتایا گیا ہے۔ تو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–12

سورة الکہف : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی ہماری قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں کے سامنے ان لوگوں کا قصہ جو آگے آرہا ہے کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر حد سے زیادہ حیرت کا اظہار کیا جائے بلکہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ قریش نے یہود کے مشورے سے آنحضرت سے بطور آزمئاش جن اموال کہے۔ روح کیا ہے ؟ اصحاب کہف کا قصہ کیا ہے ؟ اور ذوالقرنین کی سرگزشت کیا ہے ؟ اور انہوں نے اصحاب کہف کے قصے کو خاص اہمیت دی۔ ان کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ کہف عربی زبان میں وسیع غار کو کہتے ہیں اور رقم (تختی) سے مراد پتھر یا شیشے کا وہ کتبہ جس پر انہی اصحاب کہف کے نام لکھے تھے بعض قدیم مفسرین نے اس سے مراد وہ بستی لی ہے جہاں یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:9) أم۔ أم حرف عطف ہے اس کی دو قسمیں ہیں متصل۔ منقطع۔ متصل وہ ہے جس کے پہلے ہمزہ تسویہ (سواء کا ہمزہ) آئے جیسے سواء علیہم انذرتہم ام لم تنذرہم (2:6) یا اس سے پہلے ہمزہ استفہام ایسا آئے جس کو أم کے ساتھ ملانے سے تعیین و تخصیص مطلوب ہو مثلاً : أزید عندک أم عمرو یا جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے أ الذکرین حرم ام الانثیین (6:143) اس کو متصل اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا ماقبل اور مابعد دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔ منقطعہ جو متصل کے خلاف ہو۔ جیسے ام جعلوا للہ شرکاء (13:16) ام منقطعہ کے وہ معنی جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتے ” اضراب “ ہے (اضراب یعنی پہلی بات سے اعراض کرنا) ۔ ام۔ کئی معنوں میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–12

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 12 حسبت تو نے گمان کیا۔ اصحب ساتھی۔ الکھف لمبا چوڑا غار۔ الرقیم کوہ، غار کا دوسرا نام۔ اویٰ ٹھکانہ بنا یا۔ الفتیۃ (فتی) جوان، نوجوان، نوعمر۔ ھیء بتا دے۔ مہیا کردے۔ رشد صحیح راستہ۔ نجات کا راستہ ہے۔ ضربنا ہم نے مارا۔ پردہ ڈالدیا۔ اذان (اذن) کان۔ سنین (سنۃ) سال ، کئی برس۔ عدد گنتی۔ الحزبین (حزب) دو جماعتیں۔ دو گروہ۔ احصی زیادہ واقف۔ لبثوا وہ ٹھہرے، رکے رہے۔ امد مدت۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 12 بعض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف کے واقعہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہوئے پوچھا تھا اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ ان کے اس سوال کا جواب نہ دے سکیں گے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–10

اوپر والی آیت میں دنیا کی زیب وزینت کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ ہم اس کو زینت ورونق کے بعد ایسا تباہ وبرباد کردیں گے کہ ساری زمین بنجر بےگھاس اور چٹیل میدان ہوجاوے گی یعنی یہ زمین فنا ہو کر حشر کے لئے دوسری نئی زمین پیدا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[2] مشرکین مکہ نے یہود کے اشارے سے نبی ﷺ سے چند سوالات کئے تھے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ اصحاب کہف کون اور کیا تھے۔ قرآن ان کے جواب میں صحیح قصہ بیان کرتا ہے۔ یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے اپنا ایمان بچانے کے لئے ایک غار میں پناہ لی تھی بعد میں لوگوں نے اس غار پر ایک تختی لگا دی تھی جن پر ان کے نام و نسبت اور مختصر حکایت درج تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–12

سورة کہف کی دس آیتیں : (ف 1) ابتدا کی ان دس آیتوں میں جو معارف بیان فرمائے ہیں ان کو سمجھ لینے کے بعد گمراہی کا کوئی احتمال نہیں رہتا ، اور قلب و دماغ انواروصداقت سے مستنیر ہوجاتے ہیں ذلیل میں یہ معارف درج ہیں ۔ 1۔ قرآن حکیم اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کسی قسم کا الجھاؤ نہیں مطالب واضح اور صاف ہیں ۔ 2۔ یہ ہماری تمام ضروریات دینی کی کفیل ہے ، اس صحیفہ قیم کے بعد مزید تجدید وبعثت کی ضرورت نہیں ۔ 3۔ توحید کی راہ استقامت اور سلامت روی کی راہ ہے ، مسلمان کا نصب العین ہمیشہ یہی رہے گا کہ ایک خدا کے سامنے جھکے ، 4۔ عقیدہ شرک کی تمام صورتیں اور شکلیں غیر علمی اور غیر یقینی ہیں اور اللہ کی تقدیس پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-9 آگے اصحاب کہف کے قصہ کی تمہید ہے یہود کے مشورے سے کافر عرب نے حضور ﷺ سیت ین سوال کئے تیھ ایک روح کی حققیت دوسرے اصحاب کہف کا حال تیسرے ذوالقرنین چناچہ روح کا جواب گزر چکا۔ ذوالقرنین کا حال سورت کے آخر میں آئے گا اور اصحاب کہف کا بیان یہاں ہوتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور کھو والے ہماری قدرت کے نشانات میں سے کچھ تعجب اور اچنبھے کی چیز تھے۔ شاید یہود نے کہا تھا کہ اصحاب کہف کا حال عجیب و غریب ہے اس لئے فرمایا ہو کہ اصحاب کہف کے واقعہ سے زیادہ تو تم روزمرہ اس کے نشانات دیکھتے ہو ان کے مقابلے میں تو کہف والوں کا حال کچھ زیادہ تعجب انگیز نہیں ہے۔ آسمان…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا آپ کا خیال ہے کہ اصحاب کہف ورقیم ہماری عجیب نشانیوں میں سے تھے : 9۔ اس جگہ بظاہر خطاب نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہے لیکن مقصود وہی لوگ ہیں جنہوں نے سوال کیا تھا ، رہی یہ بات کہ وہ سوال کرنے والے کون تھے ؟ تو ہم ان آیات کے نوٹ کے بعد اس پورے واقعہ کو ذرا تفصیل سے بیان کریں گے تو یہ بات واضح ہوجائے گی ‘ تھوڑا سا توقف کریں گے چناچہ فرمایا کہ آپ کو کیا خیال ہے کہ کہف ورقیم والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب نشانی تھے ؟ یعنی جو لوگ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے بہت بڑی نشانی سمجھ رہے ہیں ان پر ظاہر ہوجانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ویسے تو کائنات انسانی کے لئے بلاشبہ عجیب ہیں لیکن اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

Lexical Explanation Kahf is a large mountainous cave or cavern. If not large, it will be a ghar. The word: الرَّ‌قِيمِ (al-Raqim) literally denotes: اَلمَرقُوم (al-marqum) that is, something written. What does it mean at this place? The sayings of commentators differ about it. Dahhak, Sudiyy and Ibn Jubayr following the authority of Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ declare it to mean a written tablet on which the ruler of the time had inscribed the names of the People of Kahf and had it fixed on the entrance to the Cave. For this reason, the People of Kahf are also called the People of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–12

6. The Arabic word Kahf literally means a vast cave. 7. There is a difference of opinion about the meaning of arraqim. Some companions and their followers opined that it was the name of that habitation where this event took place and that it was situated somewhere between Aylah and Palestine. There are other commentators who take it to mean the inscription that had been set up at the cave as a memorial to the sleepers of the cave. Abul Kalam Azad, in his commentary, Tarjmanul-Quran, has preferred the first meaning and opined that it is the same place which has been called Rekem in the Bible…

Read the full tafseer →